دنیا شروع سے دو انتہاؤں کی طرف چلی گئی ہے۔ایک نےزندگی کےاخلاق اورباطنی پہلو کی اصلاع اور روشنی پر نظر مرکوز رکھی جیسے عیسائیت اور بدھت مدمت اور اجتماعی زندگی کو جمہور کی خواہشات کےتابع بناکر رکھ دیا ۔ دوسرے نےاخلاقی نظام اورباطنی پہلو سے آزادرہ کرزندگی کے خارجی پہلو گنےچنے امور کو سامنے رکھا جیسے مغربی اقوام کا حال ہے یہی وجہ ہےکہ دونوں کےہاں فرداور جماعت یافرد اورحکومت کےتعلقات متعین نہیں ہیں اورجتنے ہیں بس یک طرفہ ہیں۔

صرف اسلام ہی ایک ایسے مبارک نظام حیات کا حامل ہےجس میں دین اوردنیا کی ساری برکات خسارت اروصالح ملکات یکجا جمع ہیں......وہ خیر وشر کےسلسلےمیں مکمل ہدایت کرتا عطا کرتا ہے۔تمدن اورمعاشرت فرد اورجماعت کےلیے ایک ایسی جامع اساس مہیا فرماتا ہے جوان کودارین کی سعادت نیک بختی اورعافیتوں کی یقینی ضمانت پیش کرتی ہے......... مگر افسوس!کچھ عرصہ سے اس مبارک نظام کی وارثت جن کے ہاتھ میں آئی انھوں نےآپنے غلط تعامل کےذریعے اس کا حلیہ یوں بگاڑکررکھ دیا ہے کہ:اب وہ بھی انہی دو انتاؤںمیں سے ایک انتہا ہوکررہ گیا ہے جن کی خود اس نےاصلاح کی تھی۔عالم اسلام میں سے ایک آھ ریاست کوچھوڑکر باقی جتنے بھی مسلم ملک ہیں ان کاتعامل بھی اس پر گواہ ہےکہ اخلاقی اور روحانی اقدار کا احیاء اورتحفظ ان کے فرائض اوردائرہ کار کا حصہ نہیں ہیں ۔اس کہ وجہ صرف یہ ہےکہ موجود سیاسیین سیاسی امامت اور قیامت کےسلسے میں امام اوررہنما کاصالح اور کتاب وسنت کا عالم ہونا کچھ ضروری نہیں تصور کرتے۔اس لیے جیسی روح ویسے فرشتے۔مملکت کی ساری مشینریعنی وزارءحکام اور عمال کےلیے باخدا اور خداترس ہونا بھی غیر ضروری ہوگیا ہے۔آپ نےدیکھا ہوگا کہ مخرب اخلاق اوراسلام دشمن اعمال فحش اورمنکرات اوران کےسلسلے کی دوسری تحریکات ان ممالک کےاندر اگر دندناہی ہیں تو رساست کی پوری مشینری میں ایک پہلو بھی شخص آپ کو ایسا نظر نہیں آئے گا جو ان کا نوٹس لے بلکہ ان میں سے پہلو ایسے بھی آپ دیکھیں گے جن کو خود ان حکومتوں کی سرپرستی بھی حاصل ہے۔ریڈیو ٹیلی ویژفلمی رسالے وادارے ۔ٹرسٹ کےاخبار تعلیمی اور دوسرے اشاعتی ادارے جوکچھ کررہےہیں وہ آپ کے سامنے ہے۔

ان کوتتاہیوں کااصل سبب لادین قیادت ہےکیونکہ یہ قائدین نہیں جانتے کہ ملت اسلامیہ کسے کہتے ہیں اور اس کی قیادت اور امامت کے کیا معنی ہیں؟ورنہ یہ کیسے ممکن تھا کہ:حکمرآن اسلامی علم وعمل اورغیرت کے حامل ہوتے اور ان کےسامنے فحش لٹریچر کے انبار لگے رہتےفحش رسائل اور کتب کی درآمد جاری رہتی مخلوط تعلیم ہوتی اورعریاں چہروں کےساتھ کالجوں میں نوجوان لڑکیاں دندناتی پھرتیں۔معاشقہ خیز ڈراموں فلموں اورنغموں کےبازار گرم رہتے ۔ریڈیو ٹی وی حیاسوز پوز پیش کرسکتے ننگی فلموں کورواج ملتا اور ان کےذریعے سفلی جذبات کو بھڑکانے کےسامان کیے جاتے ہیں ۔دیواروں پر مخرب اخلاق اور یاسوز اشتہارات بھی دیکھنےمیں آتے۔مسجدیں ویران اورسینما آباد نظر آتے ۔شریف زاویوں کےلیے گھر کی چادر دریدہ دہنی کاثبوت دیتے۔
لوکرچکاصاقین ترک اسلام
خطاطی نہیں اب ہے بناتا اصنام
ماتھے پہ وہ اب کھینچ رہا ہےقشقہ
کل لوح پہ لکھتا تھاجو اللہ کانام

ایک معاصر کی رپورٹ کےمطابق ایک مملکت کےمصوروں کےشہ پاروں کی جونمائش ہوگی تھی اس میں ایک مصور نےجونادر شاہکار پیش کیے ان کی بعض تصویروں کے عنوان یہ تھے۔

حلاوت بوسہ نفاست بوسہ طہارت بوسہ نزاکت بوسہ

کیاکوئی شخص یہ تصور کرسکتا ہےکہ: ایسےحکمران اس قسم کی فحاشی دریدہ دہنی اورعریانی برداشت کرسکتے ہیں جن کوملت اسلامیہ کاایمان مملکت کااسلامی دستور اوراسلامی مستقبل عزیز ہو یا ان کے دل میں خدا اور رسول کی شرم اورخوف آخرت ہو؟ یا ان کی حکومت ان نوجوانوں کی پالجولاں کرکے جیل میں ڈال سکتی ہے جو ملکی فضا کی پاکیزگی طہارت اورملک کےاسلامی تقدس کےلیے استغاثہ لے کر گلی کوچوں میں نکل آئے ہوں۔ یقین کیجیئے!قرآن حکیم نےاس کے خلاف اپنی نفرت کا کھل کر اظہار کیا ہے۔فرمایا:اللہ میاں اس کا کبھی حکم نہیں دیتا۔

﴿إِنَّ اللَّـهَ لَا يَأْمُرُ‌ بِالْفَحْشَاءِ...﴿٢٨﴾... سورة الاعراف

بلکہ حق تعالیٰ فحاشی اور قبیح کاموں سےروکتا ہے

﴿وَيَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ‌ ... ﴿٩٠﴾... سورة النحل

اور وہ اللہ بے حیائی اورنائشتہ حرکتوں سےروکتا ہے۔

بے حیائی کے کام اور نائشتہ امور صرف وہ نہیں جن کو صرف موٹے عقل کے لوگ محسوس کرتے ہیں بلکہ وہ بھی فحاشی میں داخل ہیں دانشوروں اورثقافیتوں کےہاں لطیف تصور کیے جاتے ہیں اس لیے فرمایا:

﴿قُلْ إِنَّمَا حَرَّ‌مَ رَ‌بِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ‌ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالْإِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ‌ الْحَقِّ وَأَن تُشْرِ‌كُوا بِاللَّـهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا وَأَن تَقُولُوا عَلَى اللَّـهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ ﴿٣٣﴾... سورة الاعراف

'' آپ فرمائیے کہ البتہ میرے رب نے صرف حرام کیا ہے ان تمام فحش باتوں کو جو علانیہ ہیں اور جو پوشیده ہیں اور ہر گناه کی بات کو اور ناحق کسی پر ﻇلم کرنے کو اور اس بات کو کہ تم اللہ کے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک ٹھہراؤ جس کی اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی اور اس بات کو کہ تم لوگ اللہ کے ذمے ایسی بات لگادو جس کو تم جانتے نہیں ''

ظاہر سے مراد تو وہی ہیں جومعروف ہیں اورسب جانتے پہچانتے ہیں باطنی سے مراد تمام وہ امور ہیں جو ادبی ثقافتی سیاسی اوررومانوی روپ میں کیے اور پھیلائے جاتے ہیں اور ان کو اختیار کرنے کےبعد ناشائستہ اور بے حیائی کی راہیں بھی نامانوس نہیں رہتیں۔

حمید بن ثور کے تذکرہ میں آیا ہے کہ حضرت عمر نے شعراء کو تشبیب(نام لے کر معاشقہ کا طہار)کرنے سے منع کردیا تھا اور فرمایا تھا ورنہ درے لگائے جائیں گے۔

لايشبب احدبامراة الاجلدة(اسد الغابه)

يہ وہ باطنی فحاشی ہے جواب ادب اورثقافت کا حصہ بن گئی ہے۔

بھڑکیلا اور باریک لباس بھی باطنی فحاشی ہے۔حضرت حفصہ کی اورڑھنی(دوپٹہ)باریک تھی۔

حضرت عائشہ نے دیکھ کر اسے چاک کرڈالا اور موٹے کپڑے کی اوڑھنی ان کوپہنائی۔

علي حفصه خمار دقيق فشقه عائشة وكستها خماراكثيقا(موطا مالك)

نساء كاسيات عاريات (موطاامام مالك موقوفا ومسلم مرفوعا)

عورت کامہک چہک کرنکلنا بھ فحاشی ہے۔

كُلُّ عَيْنٍ زَانِيَةٌ، وَالمَرْأَةُ إِذَا اسْتَعْطَرَتْ فَمَرَّتْ بِالمَجْلِسِ فَهِيَ كَذَا وَكَذَا يَعْنِي زَانِيَةً (جامع الترمذی)

«أَيُّمَا امْرَأَةٍ اسْتَعْطَرَتْ، فَمَرَّتْ عَلَى قَوْمٍ لِيَجِدُوا رِيحَهَا فَهِيَ زَانِيَةٌ»(النسائی)

عورت کاسخت ضرورت کے بغیر گھر سے نکلنا بھی فحاشی ہے۔

ليس للنساء نصليب في الخروج الامضطرة(طبراني)

فاذا خرجت استشرفها الشيطان(ترمذي –ابن مسعود)

«إِنَّ الْمَرْأَةَ تُقْبِلُ فِي صُورَةِ شَيْطَانٍ، وَتُدْبِرُ فِي صُورَةِ شَيْطَانٍ، فَإِذَا أَبْصَرَ أَحَدُكُمُ امْرَأَةً فَلْيَأْتِ أَهْلَهُ، فَإِنَّ ذَلِكَ يَرُدُّ مَا فِي نَفْسِهِ»،(صحيح مسلم)

شراب كاكاروبار بھی فحاشی اورناشائستہ کام ہے۔حضرت عمر نے وہ کان پھونک دی تھی۔

ان عمرحرق بيت رويشد التقفي لانه كان يبيع الخمر وقال له انت فويسق حلت بروشيد(الطوق الحكمية)

اما م مالک اس کو جلانے کو پسند کرتے تھے۔(ایضا)

وہ سائل کتب اور اخبارات جو گمراہ کن اور حیا سوز مواد پیش کرتے ہیں ائمہ نے ان کوپھاڑ ڈالنے اورجلادینے کا حکم دیا ہےجیساکہ حضرت عمر نے حضور ﷺ کی ناراضگی محسوس فرما کرتوریت کو جلا ڈالا تھا۔

وَكَذَلِكَ لَا ضَمَانَ فِي تَحْرِيقِ الْكُتُبِ الْمُضِلَّةِ وَإِتْلَافِهَا.

قَالَ الْمَرُّوذِيُّ: قُلْت لِأَحْمَدَ: اسْتَعَرْت كِتَابًا فِيهِ أَشْيَاءُ رَدِيئَةٌ، تَرَى أَنْ أَخْرِقَهُ أَوْ أَحْرِقَهُ؟ قَالَ: نَعَمْ.

وَقَدْ «رَأَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَدِ عُمَرَ كِتَابًا اكْتَتَبَهُ مِنْ التَّوْرَاةِ، وَأَعْجَبَهُ مُوَافَقَتُهُ لِلْقُرْآنِ، فَتَمَعَّرَ وَجْهُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى ذَهَبَ بِهِ عُمَرُ إلَى التَّنُّورِ فَأَلْقَاهُ فِيهِ»الطرق الحکميه ص254)

امام ابن قیم فرماتے ہیں جو بھی کتاب خلا سنت مواد پر مشتمل ہو اس کے تلف کرنے کی اجازت ہے۔

وَكُلُّ هَذِهِ الْكُتُبِ الْمُتَضَمَّنَةِ لِمُخَالَفَةِ السُّنَّةِ: غَيْرُ مَأْذُونٍ فِيهَا، بَلْ مَأْذُونٌ فِي مَحْقِهَا وَإِتْلَافِهَا، وَمَا عَلَى الْأُمَّةِ أَضَرُّ مِنْهَا(ایضا)

حضرت امام ابن قیم ﷫ حکمرانوں کے فرائض کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یہ ان کا سرکاری فریضہ ہے کہ

غیر محرم مردوں اورعورتوں کو اختلاط سے روکیں۔

مِنْ ذَلِكَ: أَنَّ وَلِيَّ الْأَمْرِ يَجِبُ عَلَيْهِ أَنْ يَمْنَعَ اخْتِلَاطَ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ فِي الْأَسْوَاقِ، وَالْفُرَجِ، وَمَجَامِعِ الرِّجَالِ(الطرق ایضا)

حضرت عمر فرمایا کرتے تھے کہ عورتوں کوحسین اورافر لباس نہ دیا کرو ورنہ ان کا دل باہر نکلنے کوچاہنے لگتا ہے:۔

استعينو علي النساء بالعري ان احد اهن اذا كثرت ثيابها وحسنت زينتها اعجبيها الخروج(لاابن ابي شيبه)

شرعی طور پر آلات او رتصاویر کا حکم یہ ہے کہ انھیں ضائع کردینا چاہیے ۔لیکن یہ باتیں اس صورت میں ہے جب کوئی شخص اس پر قادر ہویا قانون اس کا مزاحم نہ ہو ورنہ ان کے انسداد کےلیے جوجائز اورممکن طریقے ہوسکتے ہیں وہ اختیار کیے جائیں اور حکومت کو مجبور کردیا جائے کہ :وہ اپنے فرضی منصبی کا احساس کرے اور ارباب اقتدار کو بتایا جائے کہ عریانی فحاشی منکرات اور بے حیائی کی روک تھام حکومت کے بنیادی فرائض میں داخل ہے کیونکہ مجرموں کے ساتھ باز پرس تماشائیوں سےبھی ہوگی جیسے اصحاب السبت کا حشر ہوا۔

﴿فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُ‌وا بِهِ أَنجَيْنَا الَّذِينَ يَنْهَوْنَ عَنِ السُّوءِ وَأَخَذْنَا الَّذِينَ ظَلَمُوا بِعَذَابٍ بَئِيسٍ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ ﴿١٦٥﴾... سورة الاعراف

فحاشی کا ارتکاب یا اس کےلیے راہیں ہموار کرنا شیطان کا کام ہے۔

﴿فَإِنَّهُ يَأْمُرُ‌ بِالْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ‌..٢١﴾... سورة النور

تمہیں ان کے نقش قدم پر نہیں چلنا جاہیے۔ِ

ان کی تباہ کاریوں کا نظارہ کرنا ہوتو بنی اسرائیل کو دیکھو۔

﴿كَانُوا لَا يَتَنَاهَوْنَ عَن مُّنكَرٍ‌ فَعَلُوهُ ۚ لَبِئْسَ مَا كَانُوا يَفْعَلُونَ ﴿٧٩﴾... سورة المائدة

﴿وَتَأْتُونَ فِي نَادِيكُمُ الْمُنكَرَ‌...٢٩﴾... سورة العنكبوت

اللہ تعالیٰ کوکھلے بندوں برائیوں کا چرچا توبالکل پسند نہیں۔

﴿لَّا يُحِبُّ اللَّـهُ الْجَهْرَ‌ بِالسُّوءِ...١٤٨﴾... سورةالنساء

جب کھلم کھلا برائی اورفحاشی کی باتیں ہوں تو اس کے معنی ہوں گے کہ حق شرافت نیکی دب گئی ہے بدی بدکار اورسماج دشمن افراد کاغلبہ ہے جوبہرحال کسی قوم کےلیے یہ نیک شگون نہیں تصور کی جاسکتی۔