ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

آن لائن مطالعہ
  • جون
1976
ادارہ
دنیا شروع سے دو انتہاؤں کی طرف چلی گئی ہے۔ایک نےزندگی کےاخلاق اورباطنی پہلو کی اصلاع اور روشنی پر نظر مرکوز رکھی جیسے عیسائیت اور بدھت مدمت اور اجتماعی زندگی کو جمہور کی خواہشات کےتابع بناکر رکھ دیا ۔ دوسرے نےاخلاقی نظام اورباطنی پہلو سے آزادرہ کرزندگی کے خارجی پہلو گنےچنے امور کو سامنے رکھا جیسے مغربی اقوام کا حال ہے یہی وجہ ہےکہ دونوں کےہاں فرداور جماعت یافرد اورحکومت کےتعلقات متعین نہیں ہیں اورجتنے ہیں بس یک طرفہ ہیں۔
  • جون
1976
عزیز زبیدی
(قسط18)

﴿وَآمِنُوا بِمَا أَنزَلْتُ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ وَلَا تَكُونُوا أَوَّلَ كَافِرٍ‌ بِهِ ۖ وَلَا تَشْتَرُ‌وا بِآيَاتِي ثَمَنًا قَلِيلًا وَإِيَّايَ فَاتَّقُونِ ﴿٤١﴾ وَلَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُوا الْحَقَّ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ ﴿٤٢﴾ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَارْ‌كَعُوا مَعَ الرَّ‌اكِعِينَ ﴿٤٣﴾... سورةالبقرة
  • جون
1976
ادارہ
دعوت اسلام

(12) عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَتَبَ إِلَى قَيْصَرَ يَدْعُوهُ إِلَى الإِسْلاَمِ، وَبَعَثَ بِكِتَابِهِ إِلَيْهِ مَعَ دِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ.......... فَقَرَأَهُ فَإِذَا فِيهِ " بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، مِنْ مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ إِلَى هِرَقْلَ عَظِيمِ الرُّومِ: سَلاَمٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الهُدَى،أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّي أَدْعُوكَ بِدِعَايَةِ الإِسْلاَمِ، أَسْلِمْ تَسْلَمْ، يُؤْتِكَ اللَّهُ أَجْرَكَ مَرَّتَيْنِ، فَإِنْ تَوَلَّيْتَ فَإِنَّ عَلَيْكَ إِثْمَ الأَرِيسِيِّينَ(صحیح البخاری:حدیث7)
  • جون
1976
عبدالرحمن عاجز
ہرایک ذکر سے ذکر خدا معظم ہے
ہرایک فکر سے فکر عدم مقدم ہے
تراہی ذکر ہے وجہ سکون قلب ونظر
  • جون
1976
عزیز زبیدی
محترم جناب!

السلام علیکم ۔گاہےگاہے آپ کا رسالہ محدث نظروں سے گزرنا ہے جس میں باب الاستفتاء پر مفصل روشنی ڈالی جاتی ہے۔کافی عرصہ سے ان دوسوالوں نےدل ودماغ میں خلجان پیدا کررکھا ہے میں امید کرتا ہوں کہ آپ بواپسی ڈاک مطلع کریں جوابی لفافہ ارسال خدمت ہے۔
  • جون
1976
ادارہ
حرمین شریفین کےاماموں کے دورہ پاکستان سے فی الواقع نہایت خوشگوار اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ دونوں اماموں نے ﷾ ۔واپس آکر وطن عزیز کے متعلق انتہائی اچھے جذبات کا اظہار کیا اور ان شاء اللہ یہ رویہ پاک سعودی روابگ کے ضمن میں خصوصا ااور اتحاد عالم اسلامی کے مطابق تنگ نظر اور ناعاقب اندیش عناصر نے ان مقدس ومعزز مہانوں کےبارے میں یہ ہتک آمیز فتویٰ جاری کیا ہے کہ ان کی اقتداء میں نماز ناجائز ہے اور جن لوگوں نے ان کے پیچھے نماز پڑھی ہے ان پر اعادہ واجب ہے۔
  • جون
1976
سلیم تابانی
مولانا ابوبکر غزنوی کا شمار موجودہ دور کے ان علما اور دانشوروں میں ہوتا تھا جن کی نظر مسائل کےفطری پہلو کےساتھ عملی پہلو پر بھی ہوتی ہے اور جو دینی مصلحتوں سے آگاہ ہیں۔ہر چند اس دور میں علماء کی کمی نہیں اور جدید اصطلاحی دانشوروں کی قلت کا احساس بھی نہیں ہوتا لیکن ایسے حضرات کی ہمیشہ کمی رہی ہے اور اب تو قحط کی سی کیفیت ہے جو علم وفضل کے ساتھ نکتہ رس طبیعت بھی رکھتے ہوں