کسی قوم کے لئے اس سے بڑی موت کیا ہوگی کہ تعلیم وتعلّم کے میدان میں قوم کے روحانی باپ اس سے چھین لئے جائیں۔ اس قوم کا مستقبل بڑا ہی تاریک ہے جو علم سے یوں تہی دامن ہو جائے کہ وہاں علم کو پڑھانے اور کتابوں کے سمجھانے والے ذہین دماغ ہی نہ رہیں۔ عالم کی موت دنیا بھر کی موت ہے اور فرمانِ نبویﷺ کے مطابق : ''قربِِ قیامت علما کے اُٹھالئے جانے سے دنیا سے علم اُٹھا لیا جائے گا۔پھر دنیا میں بچ رہنے والے خود بھی گمراہ ہوں گے او ردوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔''
آج کی مہذب دنیا میں ایسا ظلم کرنے والوں نے قرونِ وسطیٰ کے چنگیز وہلاکو کے مظالم کو بھی مات کردیا ہے،جنہوں نے سقوطِ بغداد کے بعد اتنی کتب جلائی تھی کہ کئی روز دجلہ وفرات کے دریاؤں کی رنگت تبدیل رہی۔ایک طرف امریکہ اہل اسلام سے یہ ظلم روا رکھتا ہے تو دوسری طرف اپنے فکر ونظریہ کو فروغ دینے کے لئے پاکستان میں مغرب نواز این جی اوز کو اربوں روپے کی امداد سے نوازتا ہے۔ حالیہ کیری لوگر بل کے ذریعے پاکستان میں نام نہاد خواتین حقوق کے لئے سرگرم'عورت فاؤنڈیشن' کو پونے چار ارب روپے کی امداد عطا کی گئی ہے تاکہ وہ اس طرح پاکستان کے ذہین دماغوں کی خدمات مغربی مفادات اور عالمی ایجنڈے کے فروغ کے لئے حاصل کرسکے۔
مغربی اہداف کی اس تکون کا تیسرا سرا امریکی حکومت کے وہ عالمی اقدامات بھی ہیں جن کے ذریعے آئے روز اسلام کی حقیقی تصویرپیش کرنے اور راسخ العقیدہ مسلمانوں کو مختلف میدانوں میں خدمات مہیا کرنےوالی ملکی اور عالمی اسلامی تنظیموں کو دہشت گردی کا الزام لگا کر ان کے اکاؤنٹس کو منجمد اورخدمات کو منقطع کردیا جاتا ہے۔ حقائق سے ثابت ہوتا ہے کہ دہشت گرد قرار دی جانے والی بہت سی تنظیموں کا اسلام کی خدمت کے سوا کوئی جرم نہ تھا۔ بہرحال اُمت ِاسلامیہ کو درپیش اس افسوسناک صورتحال کو سمجھنے کے لئے درج ذیل روح فرسا مضمون کا مطالعہ کیجئے جو روزنامہ 'جنگ' کی 10 جنوری 2011ءکی اشاعت میں چھپا ہے۔ ح م
جاہل اور وحشی کہلانے والے چنگیزی لشکروں نے اگر آج سے صدیوں پہلے بغداد کے کتب خانوں کو جلا کر راکھ کردیا تھا تو دنیا میں علم و ہنر کی روشنی پھیلانے کے دعویدار تہذیب جدید کے امام بھی ان سے پیچھے نہیں بلکہ دو قدم آگے ہی ہیں۔ عراق پر امریکا اور اس کے اتحادی مغربی ملکوں کے قبضے کے فوراً بعد ، کتابوں ہی کو نہیں، کتابیں لکھنے اور کتابیں پڑھانے والوں کو بھی صفحۂ ہستی سےمٹانے کا ایک نہایت منظم سلسلہ شروع ہوا جو اب تک جاری ہے۔پچھلے سات سالوں میں عراقی یونیورسٹیوں کے سینکڑوں پروفیسر صاحبان اس کا نشانہ بن چکے ہیں او رہزاروں خوف زدہ ہوکر بیرونِ ملک جاچکے ہیں، مگر اس علم دشمن مہم کی تفصیلات بہت کم ہی سامنے آئی ہیں۔
'بروسلز ٹریبونل' نامی ادارے کی ویب سائٹ پر دنیائے دانش کے ان ڈبو دیئے جانے والے ستاروں کی ایک فہرست موجود ہے جسے حتمی تو نہیں کہا جاسکتا مگر اس میں پچھلے سال کے اَواخر تک تمام دستیاب معلومات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ گزشتہ سال یعنی 2010ء میں بھی مختلف عراقی یونیورسٹیوں کے گیارہ پروفیسر نامعلوم قاتلوں کانشانہ بنے۔اس قتل عام کو فرقہ واریت سے نہیں جوڑا جاسکتا۔عراق پرغاصبانہ قبضہ کرنے والی استعماری طاقتوں کی جانب سے ان واقعات کی روک تھام کی کوئی کوشش کی گئی، نہ ان کے ذمہ داروں کو سامنے لانے کی۔ عراق کی اصل مقتدر قوتوں کا یہ رویہ اس شبہ کی پوری گنجائش فراہم کرتا ہے کہ علم دشمنی کی یہ مہم ان کی مرضی اور منشا کے مطابق بلکہ ممکنہ طور پر ان ہی کی خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھوں چل رہی ہے۔
مغرب کے مین اسٹریم میڈیا میں تو اہل علم و دانش کے اس قتلِ عام کا کوئی خاص ذکر نہیں ہوا کیونکہ اس کا رویہ عموماً سرکاری پالیسیوں کے تابع ہوتا ہے تاہم مغرب کے باضمیر اور انصاف پسند اہل قلم نے جس طرح نائن الیون کی حقیقت سمیت افغانستان اور عراق کے خلاف جھوٹے الزامات کی بنیاد پر سراسر ناجائز فوجی کارروائی کے بہت سےگوشے بےنقاب کئے ہیں، اسی طرح وہ عراق میں ہونے والے اہل علم کے اس قتل عام کے حقائق کو بھی منظر عام پر لانے کے لئے کوشاں ہیں۔ وِکی لیکس کے حالیہ انکشافات نے بھی اس موضوع کو ازسرنو گرم کردیا ہے۔
'فارن پالیسی اِن فوکس' نامی ایک آزاد اور ممتاز امریکی تحقیقی ادارے کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق اعلیٰ تعلیمی اداروں کے اساتذہ کے اس قتل عام کے بارے میں سب سے پہلے اپریل 2004ء میں 'عراقی ایسوسی ایشن آف یونیورسٹی ٹیچرز' کی جانب سے یہ انکشاف کیا گیا کہ امریکی حملے کے بعد سے ایک سال کی مدت میں متعدد جامعات کی مختلف فیکلٹیوں کےسربراہوں سمیت ڈھائی سو سے زیادہ اساتذہ قتل کئے جاچکے ہیں۔
برطانیہ کی 'ٹائمز ہائرایجوکیشن' نامی تنطیم کی ویب سائٹ پر 10 ستمبر 2004ء کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ''عراق کےلوگ قتل کی ان وارداتوں کے محرکات واضح نہیں کرسکتے جن میں بڑا تناسب عمرانی علوم کی فیکلٹیوں کے ارکان کا ہے۔''
بغداد یونیورسٹی میں جیالوجی کے ایک سابق اُستاذ ساحل السنوی نے حیرت کااظہار کرتے ہوئے کہ ''عراقی سائنس دانوں کو تو دھمکیاں ملا کرتی تھیں مگر سمجھ میں نہیں آتا کہ لسانیات کے اساتذہ کو کیوں قتل کیا جارہا ہے؟''
ممتاز برطانوی صحافی رابرٹ فسک نے2004ء کے اوائل ہی میں عراقی اساتذہ کے قتل عام کی جانب توجہ دلائی تھی مگر مغربی خصوصاً امریکی میڈیا نے اس کا کوئی قابل ذکر نوٹس نہیں لیا۔ تاہم 7دسمبر 2006ء کو ایک معروف برطانوی روزنامے نے"Iraq's universities are in meltdown" کے عنوان سے شائع کی گئی رپورٹ میں بتایا کہ امریکی حملے کے بعد ساڑھے تین سال کی مدت میں 470 یونیورسٹی اساتذہ قتل کئے جاچکے ہیں۔ جبکہ برطانیہ ہی کے ایک اور ممتاز اخبار نے12 دسمبر 2006ء کو "Professors in penury" کےعنوان سے اسی موضوع پر رپورٹ شائع کی۔اس کی ذیلی سرخی کے الفاظ تھے:''اساتذہ عراق میں یقینی موت سے بچنے کے لئے فرار پر مجبور ہیں مگر برطانیہ میں انہیں انتہائی غیر یقینی زندگی کا سامنا ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ صرف بغداد اور بصرہ کی یونیورسٹیوں کے پانچ سو کے قریب اساتذہ قتل کئے جاچکے ہیں۔''
'عراق میں ثقافتی صفایا'(Cultural Cleansing in Iraq) نامی کتاب کے مطابق (جس میں عراقی لائبریریوں کے نذرِ آتش کئے جانے، عجائب گھروں کے لوٹے جانے اور اہل علم کے قتل کئے جانے کی روح فرسا تفصیلات بیان کی گئی ہیں) مقتول اساتذہ میں سے 57 فیصد کا تعلق بغداد یونیورسٹی اور 14 فیصد کا بصرہ یونیورسٹی سے تھا جبکہ 35 فیصد اساتذہ سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتار یا اغوا ہونے کے بعد دورانِ حراست ہلاک ہوئے۔ قتل ہونے والے اساتذہ میں سے 44 فیصد دستی بندوقوں یا خود کار ہتھیاروں کے ذریعے ٹارگٹ کلنگ کانشانہ بنائے گئے۔
'فارن پالیسی اِن فوکس' کی رپورٹ میں اس نہایت معنی خیز بات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ ''ان اساتذہ کے قتل کی نہ کسی نے ذمہ داری قبول کی، نہ اس سلسلے میں کوئی گرفتاری عمل میں آئی۔عراق کے لوگ مارے جانے والوں سے تو براہِ راست واقف ہیں مگر مارنے والوں کو کوئی نہیں جانتا۔'' رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اساتذہ کے قتل عام کی اس منظم مہم کے ساتھ ساتھ پوری اساتذہ برادری کو قتل کی دھمکیوں کی وجہ سے ہزاروں عراقی اساتذہ اپنا وطن چھوڑ چکے ہیں۔پوری دنیا کے لوگ یہ بھی جانتے ہیں کہ ایسی کوئی سنجیدہ اور شفاف تحقیقات کبھی نہیں کرائی جائے گی کیونکہ انسانیت کے خلاف اس جرم میں اگر عراق پر قابض غاصب قوتیں خود شریک نہ ہوتیں تو یہ سلسلہ یوں بے روک ٹوک جاری ہی کیوں رہتا، اور یقیناً یہی رویہ آج کے دور میں ہلاکو اور چنگیز کی یادتازہ کردینے والی طاقتوں کے انسانیت سوز جرائم کا سب سےبڑا او ریقینی ثبوت ہے!!