ویسے تو اس وقت پورا مشرقِ وسطیٰ بارود کا ڈھیر بنا ہوا ہے اور اُردن،شام، یمن، بحرین سمیت تقریباً پورے مشرقِ وسطیٰ اور شمال افریقی ممالک میں پُرتشدد مظاہرے جاری ہیں لیکن لیبیا کی صورتِ حال خاصی مخدوش ہے جہاں عوامی مظاہروں اور مخالفین کے کئی اہم شہروں پر قبضے کے بعد کرنل قذافی کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان خونریز تصادم شروع ہوا۔ اس خونریزی کو جواز بناتے ہوئے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی رسمی اجازت کے بعد امریکا اور ناٹو افواج نے لیبیا پر حملہ کردیا ہے جس کی وجہ سے بحران کی شدت میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے۔ دوسری جانب بحرین میں حکومت مخالف مظاہرین کوکچلنے کے لیے سعودی افواج کے بحرین میں داخل ہوکر کارروائی کرنے پر مغربی منصوبہ سازوں نے چپ سادھ لی۔ اِس سے قبل مصر میں امریکا نے خصوصی دلچسپی لیتے ہوئے حسنی مبارک کی جگہ فوج کے اقتدار سنبھالنے پر بھی کوئی اعتراض نہیں کیا جبکہ مراکش اور اُردن کے معاملے میں بھی خاموشی اختیار کیےرکھی۔ اب محسوس ہورہا ہے کہ شام میں ہونے والے پُرتشدد مظاہروں کے بعد مغرب ایک بار پھر بشرالاسد کی حکومت گرانے کے لیےمتحرک ہوگا اور وہاں بھی اپنی پسند کی حکومت قائم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
چونکہ شام کامعاملہ ابھی دور ہے اس لیے لیبیا کی صورت حال کے مطالعے سے پورے مشرقِ وسطیٰ میں شروع ہونے والے سیاسی کھیل کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے کیونکہ اب مغربی تجزیہ نگار یہ خیال ظاہر کررہے ہیں کہ لیبیا میں کرنل قذافی کی فوجوں کی طرف سے مزاحمت کی وجہ سے مغرب کے فوجی آپریشن کو مکمل ہونے میں کئی مہینےلگ سکتے ہیں حالانکہ امریکی صدر بارک اوباما اوراسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ یہ آپریشن جلد ہی بند کردیا جائے گا جس کی اُمید کم ہی ہے۔
سب سے پہلی بات یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاسی صورتِ حال پر گفتگو کرتے ہوئے ہمیں یہ بات مدنظر رکھنا ہوگی کہ جدید مغربی ریاستی تصور کی رو سے کسی ملک کے عوام کو یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ اپنی حکومت کی تبدیلی کریں، اس مقصد کے لیے وہ کوئی بھی راستہ اختیارکرسکتے ہیں۔ اگر ملک میں کثیر الجماعتی جمہوریت ہے تو پھر انتخابات تبدیلی کا ذریعہ ہوتے ہیں لیکن اگر شخصی یا فوجی آمریت مسلط ہو تو عوام کو احتجاج اور پُرتشدد مظاہروں کا طریقہ بھی اپنانا پڑتا ہے مگریہ خالصتاً اندرونی معاملہ ہوتا ہے جس میں بیرونی مداخلت پیچیدگیاں پیدا کرنے کا سبب بن سکتی ہے لیکن جدید دنیا میں ایک دلیل یہ بھی دی جاتی ہے کہ جب دنیا ایک گلوبل ویلیج کی شکل اختیار کرچکی ہے تو کسی ایک ملک میں ہونے والی صورت حال دیگر ممالک پر بھی براہِ راست اثر انداز ہوسکتی ہے، اس لیے آج کسی ملک میں رونما ہونے والے واقعات سے دوسرے ممالک لاتعلق نہیں رہ سکتے۔ خاص طور پر جب عوام پر ریاستی تشدد اپنی انتہا کو پہنچ جائے تو معاملہ کسی بھی طور اندرونی نہیں رہتا بلکہ حقوقِ انسانی کاعالمی مسئلہ بن جاتاہےمگر اس سلسلے میں دوہرا معیار نہیں ہونا چاہیے۔ جیسا کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں نےمشرقِ وسطیٰ کے مختلف ممالک میں ہونے والی بے چینی پر ظاہر کیا ہے یعنی لیبیا پر تو سلامتی کونسل کی اجازت سے براہِ راست حملہ کردیا جبکہ بحرین میں سعودی عرب کی فوجی مداخلت پر خاموشی اختیارکرلی۔ جس کی وجہ سے صورتِ حال مزید پیچیدہ اور گنجلک ہوچکی ہے۔
مسلم دنیا میں امریکا او راس کے حلیف ممالک کے خلاف پہلی عراق جنگ 1991ء کے بعد سے شدید غم و غصّہ موجود ہے جس میں 11؍9 کے بعد افغانستان اور عراق پر حملوں کے بعد شدت آئی ہے۔ اس صورتِ حال میں مجاہدین مسلمانوں سے ہم دردانہ جذبات وصول کررہے ہیں اور اس کے نتیجے میں مسلم Mindsetٹکراؤ کی طرف رجحان اختیار کررہا ہے جس کا فوری فائدہ بھی بہرحال مغربی استعماری قوتوں ہی کو پہنچے گا۔
اگر اس پوری صورتِ حال کا عالمی مسابقتی سوچ کے تناظر میں جائزہ لیا جائے تو بات بہت آسانی کے ساتھ سمجھ میں آجاتی ہے۔ بحرین میں اس مفروضے کی بنیاد پر عوامی خواہشات کے برخلاف موجودہ حکمرانوں کی سرپرستی کا فیصلہ کیا گیا ہے کہ شیعہ اکثریت اقتدار میں آکر لازمی طور پر ایران کی طرف جھکاؤ کا مظاہرہ کرے گی جس سے امریکی مفادات کو نقصان پہنچ سکتا ہے، اس لیے شورش کو طاقت سے کچلے جانے پر کوئی ردّ عمل ظاہرنہ کرو جبکہ لیبیا پر حملہ کرنے کا مقصد لیبیائی عوام کو جمہوریت سے فیض یاب کرنے سے زیادہ اس حکمران سے چھٹکارا حاصل کرنے کی خواہش شامل ہے جو نہ صرف مغربی ممالک بلکہ بیشتر عرب ممالک کےلیے گذشتہ 42 برس سے دردِ سر بنا ہوا ہے۔ اس لیے مشرقِ وسطیٰ میں کارروائیاں جمہوریت کے عظیم تر مفاد کی بجائے مغرب کے معاشی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے کی جارہی ہیں۔ اس کے علاوہ امریکا ان ممالک کے دانت بھی نکالنا چاہتا ہے جو اس خطے میں اسرائیل کے لیے کسی قسم کا چیلنج بن سکتے ہیں۔
عراق کے بعد شام اور لیبیا گو کہ فوجی اعتبار سے چیلنج نہیں ہیں لیکن وہاں کی حکومتیں اسرائیل مخالف جذبات کو اُبھارنے او ران قوتوں کی مالی امداد کرنے کی پوزیشن میں ہیں جو اسرائیل کے وجود کے لیے کسی بھی وقت خطرہ بن سکتی ہیں۔ خاص طور پر لیبیا جو اقتصادی طور پر اس قدر مضبوط اور مستحکم ہے کہ وہ مختلف جنگجو گروپوں کی کئی برس تک مالی امداد کرسکتا ہے جو اسرائیل کے وجود کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ لیکن سب سے بڑا ہدف تیل کے ذخائر پر قبضہ جمانا اور اس خطے کو اپنی ضروریات کے مطابق Restructure کرنا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ لیبیا میں عوامی بے چینی کا سبب مصر اور تیونس کی طرح معاشی بدحالی نہیں ہے بلکہ شخصی آزادی ہے۔ لیبیا سعودی عرب اور کویت کےبعد خطے کا وہ تیسرا ملک ہے جہاں مغربی تصورِ اظہارِ رائے کے مطابق شدید قدغنیں عائد ہیں اور عوام کو حکومتی پالیسیوں سے اختلاف کا حق نہیں ۔ عام طور پر یہ تصور ہے کہ 42 برس سے ایک متلوّن مزاج فوج آمر ملک کے سپیدہ و سیاہ کا مالک ہے جو موروثی حکمرانی قائم کرنےکی کوشش میں مصروف ہے۔ لیبیا کے عوام بندشوں اور پابندی سے اکتاہٹ کا شکار ہوکر تبدیلی کے لیے میدانِ عمل میں کودے ہیں۔ لیکن بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ لیبیا میں ہونے والے فسادات کے پیچھے مغربی منصوبہ سازوں کی ریشہ دوانیوں کا بھی ہاتھ ہے جو اس ملک کو عدم استحکام کا نشانہ بناکر اس کے تیل کے ذخائر کو اپنے کنٹرول میں کرنے کی خواہش مند ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ لیبیا، جو دنیا کا تیل پیدا کرنے والا 12 واں بڑا ملک ہے اور جو روزانہ اوسطاً 41.5Gbbخام تیل نکالتا ہے،اس کے تیل کے ذخائر قومی ملکیت ہیں اور تیل نکالنے والی سب سے بڑی کمپنی نیشنل آئل کارپوریشن ہے جو تیل کی کل پیداوارکا 72 فیصد حصہ نکالتی ہے ۔ اس طرح غیر ملکی کمپنیوں کو صرف 28 فیصد تیل تک رسائی حاصل ہے۔ نتیجتاً تیل سے ہونے والی 95 فیصد آمدنی سیدھی خزانے میں جاتی ہے جو مغربی سرمایہ کاروں کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ 1980ء اور 1990ء کے عشرے میں جب اقوام متحدہ نے لیبیا پر پابندیاں عائد کی تھیں تو اس کی شرح نمو میں 42 فیصد کمی آگئی تھی۔ لیکن 2006ء میں امریکا کی جانب سے لیبیا کو دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والے ممالک کی فہرست سے خارج کرنے کے بعد یہاں بہت تیزی کے ساتھ بیرونی سرمایہ کاری ہوئی اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھا جس کے نتیجے میں آج شرح نمو10.6 فیصد تک جا پہنچی ہے۔ امریکا اور مغربی ممالک اس کی اس ترقی سے بھی خائف ہیں۔
اب دوسری طرف آئیے، لیبیا میں شہری آبادی 84 فیصد ہے جبکہ 16 فیصد دیہی آبادی بڑی شاہراہوں کے ذریعے شہروں سے جڑی ہونے کے سبب خاصی خوشحال ہے۔ چونکہ لیبیا میں اُجرتیں بھی دیگر شمالی افریقی ممالک کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہیں، اس لیے دنیا کے بیشتر ممالک سے افرادی قوت لیبیا کی طرف کھنچی چلی آتی ہے، جس کی وجہ سے شرحِ نمو میں اضافہ او رمعیشت میں استحکام آرہا ہے۔ ایک اور نقطہ نظر یہ بھی سامنے آیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں ہونے والی شورش بےشک عوامی رد عمل کانتیجہ ہے لیکن اس کے پش پشت تیل کی عالمی کمپنیوں کی دولت بھی کارفرما ہے۔ خاص طور پر لیبیا کے معاملے میں یہ ہاتھ صاف نظر آتا ہے کیونکہ جب سے مشرقِ وسطیٰ میں بحران شروع ہوا،تیل کی قیمتوں میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہورہا تھا لیکن لیبیا میں اتحادی فوجوں کی کارروائی کے ساتھ ہی اضافہ کی شرح میں تیزی کا رجحان کم ہوگیا۔ لہٰذا جو تجزیہ نگار لیبیا میں ہونے والی شورش کے پیچھے مغربی ایجنسیوں کا ہاتھ دیکھ رہے ہیں ، وہ خاصی حد تک صحیح معلوم ہوتے ہیں۔
ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت پرعوامی اعتماد ہر ملک کے عوام کا اسلامی حق ہے۔ آمریت اور پشتینی بادشاہت کی مذمت کی جانی چاہیے، چاہے وہ لیبیا میں ہو یا کسی او رملک میں۔ لیکن ساتھ ہی عالمی استعمار کی ترقی پذیر ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی مخالفت بھی جمہوریت پسند حلقوں کی ذمہ داری ہے۔عوام میں پائی جانے والی بے چینی کے نام پر کسی گماشتہ گروہ کو ان پر مسلط کرنے کی کوشش کی بھی شدومد سے مخالفت کی جانی چاہیے۔ ہمیں ایسا محسوس ہورہا ہے کہ 1990ء میں جس نیوورلڈآرڈر کا تصور جارج بش سینئر نے پیش کیا تھا، اب اوباما انتظامیہ اسے عملی جامہ پہنانے کے لیے سرگرم ہوچکی ہے۔ لہٰذا اس عمل کی بہر حال مذمت اور مخالفت کی جانی چاہیے۔ (بہ شکریہ روزنامہ 'ایکسپریس' لاہور: 31 مارچ 2011ء)