ٹیکنالوجی سے محرومی یا ایمان سے محروم قیادتیں؟
نائن الیون کے خود ساختہ ڈرامہ کے بعد اُمتِ مسلمہ، خاص طور پر اہل پاکستان جس الم ناک صورت حال سے دوچار ہیں، اس پر دلِ حساس رکھنے والا ہر شخص یہ سوچتا ہے کہ آخر مسلمانوں کے اس زوال اور پستی کا اصل سبب کیا ہے؟
مارچ 2011ء کے ماہنامہ 'محدث' لاہور، شمارہ نمبر 345 میں ''عہد ِرسالت اور سائنس وٹیکنالوجی'' کے عنوان سے شائع ہونے والا مقالہ ایسے ہی دل درد مند کی ایک پکار ہے جس میں مقالہ نگار محترم ڈاکٹر نعمان ندوی نے قرآنی آیات اور سیرتِ طیبہ کے حوالہ سے یہ ثابت کیا ہے کہ موجودہ زوالِ اُمت ہمارے ضعفِ ایمان کا نتیجہ ہے۔
محترم ندوی صاحب کے مقالہ پر مدیر 'محدث' محترم حسن مدنی صاحب نے اپنے مختصر تبصرہ میں مقالہ نگار کے موقف کو 'قابل غور' قرار دیا ہے اور ساتھ یہ وضاحت فرمائی ہے:
''ذاتِ باری تعالیٰ پر اعتقاد اور اعتماد رکھنے کو شرط ِایمان ٹھہراتے ہوئے، دنیا کے دار الاسباب ہونے کے تحت اللہ تعالیٰ نے عملی رویہ کے طور پر اُمت ِمسلمہ کو دنیاوی اسباب کی جستجو کی تلقین کی ہے بطورِ مثال قرآنِ کریم ہمیں ﴿وَأَعِدّوا لَهُم مَا استَطَعتُم﴾ کی ہدایت دیتا ہے.... دورِ حاضر کے تناظر میں اُمتِ مسلمہ پر سائنس و ٹیکنالوجی کا حصول واجب ہو جاتا ہے۔ ''
نائن الیون کے مکر و فریب پر مبنی حادثہ کے فوراً بعد اس وقت کے صدر جنرل (ر) مشرف نے امریکہ کے مطالبہ پر سب کچھ اس کے حوالے کر دیا، تب سے مشرف کے حواریوں اور امریکہ کے نمک خواروں نے بڑے زور شور سے یہ بحث شروع کرر کھی ہے کہ ہم ٹیکنالوجی میں امریکہ سے بہت پیچھے ہیں، ہم کسی صورت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ لہٰذا ہمارے لئے اس کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن نہیں کہ ہم بلا چوں و چراں امریکہ کی ہر بات تسلیم کریں، ورنہ وہ ہمیں پتھر کے دور میں پہنچا دے گا۔
جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ اُمتِ مسلمہ پر سائنس اور ٹیکنالوجی حاصل کرنا یا اس میں ترقی کرنا واجب ہے یا نہیں؟ ہماری ناقص رائے میں یہ بحث عوام الناس کو اُلجھانے اور اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کے لئے کی جا رہی ہے۔ غور فرمائیے کہ اگر کسی شخص پر کتا حملہ آور ہو تو کیا اسے یہ بتانے یا سمجھانے کی ضرورت ہے کہ وہ ہاتھ میں ڈنڈا پکڑے اور کتے کو مار بھگائے؟ یہ بات اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے انسان کی فطرت میں رکھی ہے کہ وہ دشمن سے اپنا دفاع کرنے کے لئے ہاتھ پاؤں مارے اور پھر اس کا حکم بھی دیا ہے ﴿وَأَعِدّوا لَهُم مَا استَطَعتُم﴾ اپنی جان یا اپنے وطن کے دفاع کے لئے ٹیکنالوجی کا حصول یا اس میں ترقی کے لئے کوشش کرنا تو ایک قطعی اورطے شدہ امر ہے جس سے کسی بھی ہوش مند انسان کو انکار نہیں ہو سکتا۔ اصل اور ہمارے پیش نظر سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کے پاس کم از کم اپنا دفاع کرنے کے لئے ٹیکنالوجی ہے یا نہیں؟
ہم زمینی حقائق کی بنا پر پورے وثوق سے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ پاکستان کے پاس اپنے دفاع کے لئے الحمد للہ بھرپور قوت اور ٹیکنالوجی موجود ہے۔ آج پاکستان کی سلامتی اور خود مختاری کے لئے جو بات سوالیہ نشان بن چکی ہے اور جس وجہ سے وطن عزیز کا باشعور طبقہ دن رات آگ کے انگاروں پر لوٹ رہا ہے، وہ ہمارے ملک کے قبائلی علاقوں میں دشمن کے ڈرون حملے ہیں جن کی وجہ سے بے گناہ مرد، عورتیں اور بچے آئے روز شہید ہو رہے ہیں۔ ہماری عسکری قیادت کا یہ بیان پہلے شائع ہو چکا ہے کہ ہم ڈرون حملوں کو روکنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں اور اب روزنامہ 'جنگ' کے معروف کالم نگار عرفان صدیقی نے لکھا ہے کہ میں نے ایک ملاقات میں براہِ راست فضائیہ کے سربراہ چیف مارشل راؤ قمر سلیمان سے ڈرون حملوں کے بارے میں پوچھا تو اُنہوں نے مسکراتے ہوئے کہا: ''سیاسی حکومت فیصلہ کر لے، ہمیں حکم دے ہم ان ڈرونز کو چڑیوں کی طرح مار گرائیں گے؟''(روزنامہ جنگگ21مارچ2011ء)
سوال یہ ہے کہ ٹیکنالوجی اورکس بلا کا نام ہے؟ اپنے دفاع کےلئے ہمیں اور کس نوعیت کی ٹیکنالوجی چاہئے؟ کیا ہندوستان کے آخری کونے تک مار کرنے والے میزائلوں کی ٹیکنالوجی پاکستان کے پاس موجود نہیں؟ جس ملک کے سائنس دانوں کے پاس ایٹم بم بنانے کی ٹیکنالوجی موجود ہے، کیا وہ ہائیڈروجن بم یا مدربم بنانے کی صلاحیت نہیں رکھتے؟
1. حال ہی میں پاکستان نے 'ملٹی ٹیوب بیلسٹک میزائل حتف 9 نصر' کا کامیاب تجربہ کیا ہے جو ایٹمی وار ہیڈ کے ساتھ 60 کلومیٹر تک زمین سے زمین تک مار کرتے ہوئے دشمن کو نشانہ(روز نامہ جنگ20اپریل2011ء) بنا سکتا ہے۔ ٹیکنالوجی کی رٹ لگانے والوں سے ہم یہ پوچھتے ہیں کیا یہ ٹیکنالوجی نہیں...؟
2. امریکی ویب سائٹ 'دی ہوفنگ ٹاؤن پوسٹ' نے پاکستانی سائنس دانوں کی ٹیکنالوجی میں کامیابیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ
''پاکستان رواں دہائی کے آخر تک دنیا کی چوتھی بڑی جوہری طاقت بن جائے گا۔ پاکستان نے ایٹمی وار ہیڈز لے جانے کے لئے کروز اور دیگر میزائلوں کے ساتھ ساتھ آبدوزوں کے بھی کامیاب تجربے کئے ہیں۔ پاکستان کے پاس 70 سے 90؍ایٹمی وار ہیڈز ہیں جو اس کے حریف سے بھی زیادہ ہیں۔ جس سے اسی بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ایٹمی صلاحیت کا حامل یہ ملک حملہ کرنے والے کو بھرپور جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔''روزنامہ ’اردو نیوز‘ جد:یکم اپریل2001ء
3. پاکستان اور سعودی عرب میں اپنی چالیس بیالیس سالہ ملازمت کے دوران مجھے الحمد للہ سعودی، ترکی، مصری، سوڈان، ملائی، امریکی اور یورپی سائنس دانوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا ہے۔ اپنے ذاتی تجربے اورمشاہدے کی بنا پر میں یہ بات پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ مسلم ممالک کے سائنس دان کسی طرح بھی صلاحیت کے اعتبار سے یورپ اور امریکہ کے سائنس دانوں سے کم نہیں۔
4. آپ نے یہ خبر ضرور پڑھی ہو گی کہ 2009ء میں ایک امریکی بینک کی اے ٹی ایم مشین کے نیٹ ورک میں خرابی پیدا ہو گئی جس کی وجہ سے مختلف ممالک میں اس کی سینکڑوں برانچوں کو کروڑوں ڈالر کا نقصان ہوا۔ امریکہ میں ٹیکنالوجی کے بڑے بڑے ماہرین سر جوڑ کر بیٹھے لیکن حل تلاش کرنے میں ناکام رہے۔ بینک نے امریکہ کے علاوہ برطانیہ میں متعدد یونیورسٹیوں سے رابطہ کیا لیکن تمام ماہرین وہ خرابی دور کرنے میں ناکام ہو گئے۔ اس دوران مانچسٹر یونیورسٹی کے چانسلر نے اپنے سیکرٹری کو پاکستان میں 15 سالہ طالب علم عمار سے رابطہ کرنے کا حکم دیا۔ رابطہ کرنے پر چانسلر نے خود عمار سے بات کی۔ عمار نے چانسلر سے سافٹ ویئر کا کوڈ طلب کیا اور چند منٹوں میں ٹھیک کر کے واپس بھیج دیا۔ جس پر عمار کو بینک نے 25 ہزار ڈالر انعام دیا۔ یاد رہے کہ عمار اس واقعے سے قبل مانچسٹر یونیورسٹی سے کمپیوٹر کے مشکل ترین امتحان اوریکل نائن آئی (ORACLE) میں سب سے زیادہ نمبر لے کر ورلڈ ریکارڈ قائم کر چکا تھا۔روزنامہ ،ایکسپریس‘ لاہور5/جولائی2009ء
5. 2007ء میں پاکستان کی ایک 9 سالہ ذہین و فطین طالبہ ارفع کمپیوٹر کے عالمی امتحان 'مائیکرو سافٹ سرٹیفکیشن' میں کامیاب ہو کر ورلڈ ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ جس ملک کے 15 سالہ اور ۹ سالہ بچے ٹیکنالوجی میں ورلڈ ریکارڈ قائم کر سکتے ہیں، اس ملک کے پختہ کار سائنس دانوں کا کوئی ثانی ہو سکتا ہے؟(تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، اردو ڈائجسٹ اپریل2007ء.....’پاکستان کی ونڈر گرل)
6. شاید آپ جانتے ہوں گے برطانیہ اور جرمنی سے بر آمد ہونے والے بعض کیمیکلز پاکستان میں تیار ہوتے ہیں۔ عالمی معیار کے مطابق ہونے کی وجہ سے برطانیہ اور جرمنی پاکستان سے اپنے ہاں در آمد کر کے اپنی کمپنیوں کے نام سے خوبصورت پیکنگ کر کے کئی گنا زیادہ منافع پر بر آمد کرتے ہیں۔
7. سرجری کے سامان کے بارے میں پاکستان کا ہر ہنر مند جانتا ہے کہ برسوں سے یہ سامان سیالکوٹ میں عام کاریگر یا ہنرمند تیار کرتے ہیں جہاں سے برطانیہ اور جرمنی درآمد کر کے اس سامان پرMade in England اور Made in Germanyکی لہریں لگا کر بر آمد کرتے ہیں۔
8. چار پانچ سال قبل مجھے اپنے بھائی صاحب سے ملاقات کیلئے تربیلا ڈیم جانا تھا۔ راستے میں واہ کینٹ کے قریب بعض دوستوں نے اپنے ہاں آنے کی دعوت دے رکھی تھی۔ دوستوں سے ملاقات کے بعد اُنہوں نے مجھے اپنی ورکشاپ دکھائی، جہاں وہ سپیئر پارٹس تیار کر رہے تھے۔ میرے استفسار پر انہوں نے بتایا کہ یہ سپیئر پارٹس ہم واہ آرڈیننس فیکٹری کے لئے تیار کر رہے ہیں۔
عرض کرنے کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کا المیہ ٹیکنالوجی ہرگز نہیں، اصل المیہ ایمان سے محروم نالائق عیاش اور بزدل قیادتیں ہیں، جن میں ٹیکنالوجی اور قوت کے باوجود اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان اور توکل نہیں کہ سر اُٹھا کر دشمنوں سے بات کرنے کا حوصلہ کر پائیں۔
9. بدر و حنین اور موتہ و تبوک کی مثالیں تو جانے دیجئے کہ مادہ پرست اور ٹیکنالوجی کے ثنا خواں کہہ سکتے ہیں کہ وہ تو خیر القرون کی باتیں ہیں، اب کہاں؟ آج سے دو عشرے قبل جب روس جیسی سفاک سپر پاور نے افغانستان پر حملہ کیا، تب امریکہ بھی روس سے خوف زدہ تھا اور پاکستان کو نصیحت کر رہا تھا کہ روس کی مزاحمت نہ کرو۔ روس جہاں جاتا ہے وہاں سے واپس نہیں لوٹتا۔ امریکی امداد شروع ہونے سے کم از کم ڈیڑھ دو سال پہلے تک آکر وہ کونسی قوت اور ٹیکنالوجی تھی جس نے ضیاء الحق اور افواجِ پاکستان کو روس کے مد مقابل لا کھڑا کیا؟
چلئے لمحہ بھر کے لئے ہم تسلیم کر لیتے ہیں کہ کفار کے مقابلہ میں ہمارے زوال اور پستی کا سبب ٹیکنالوجی کی قلت یا محرومی ہے، لیکن اس سوال کا جواب کیا ہے کہ ملک کے اندر معیشت کی تباہی، بد امنی، دہشت گردی، ڈاکے، اغوا، چوریاں، ٹارگٹ کلنگ، کرپشن، اسٹیل مل سکینڈل، پنجاب بینک سکینڈل، انشورنس کارپوریشن سکینڈل، نیشنل پاور کمپنیز سکینڈل اور اب حج سکینڈل، اوپر سے لے کر نیچے تک جرائم کی بھرمار۔ ساری دنیا کی نظروں میں یہ جگ ہنسائی اور ذلت بھی کسی ٹیکنالوجی کی قلت کے سبب ہے؟
آخر اس ذلت اور رسوائی کا ذمہ دار کون ہے؟
جس اسلامی جمہوریہ کا صدر قوم سے خطاب میں کلمہ طیبہ صحیح نہ پڑھ سکے، وزیر اعظم تعددِ ازدواج کا سرعام مذاق اڑائے اور شراب پینے کا اعتراف کرے، جس ملک کی وزیر اعظم حدود قوانین کو ظالمانہ سزائیں قرار دے اور جس کا مبلغ علم اتنا ہی ہو کہ اسے اذان بجنے اور کہنے کا فرق تک معلوم نہ ہو۔ جس ملک کا صدر بین الاقوامی پلیٹ فارم پر داڑھی، حجاب اور قانونِ حدود کا مذاق اُڑائے، ڈالروں کے لالچ میں مجاہدین، محب ِوطن افراد اور قوم کی بیٹیوں کو بیچ ڈالے، جس ملک کا وزیر تعلیم قرآن مجید کے چالیس پارے بتائے، جس ملک کا وزیر اعظم خود ڈرون حملوں کی اجازت دے اور قوم کے سامنے ان کی مذمت کرے،جس ملک کے وزیر داخلہ کو سورۂ اخلاص تک پڑھنی نہ آئے۔ جس ملک کے ایک صوبہ کا گورنر قانون توہین رسالت کو کالا قانون کہے، جس ملک کے وزیر اعظم کے ایک مشیر صاحب نے حضرت موسیٰؑ کی لکھی ہوئی تفسیر پڑھ کر وفاق کا امتحان پاس کیا ہو، جس ملک کی اسمبلی کے بیشتر ارکان نہ صرف اَن پڑھ ہوں بلکہ جعلی ڈگریوں کی دھوکہ دہی میں ملوث ہوں، جس ملک کے کلیدی عہدوں پر خائن اور مجرم قابض ہوں۔ عدالت اُنہیں سزا دے اور حکومت خود ان کا تحفظ فرما رہی ہو، وہاں ایمان اور ٹیکنالوجی کی بحث چہ معنی دارد؟ ....کونسا ایمان اور کیسا ایمان؟
ہمیں معلوم نہیں کہ حسین نصر اور اس کا گروپ کون لوگ ہیں لیکن آپ یقین کریں امریکہ اور یورپ کے نمک خواروں کے بہت سے گروپ آج تمام اسلامی ممالک میں سرگرم عمل ہیں، جن کے پیش نظر درج ذیل دو مقاصد ہیں:
اوّلاً: مسلمانوں کو یہ باور کرایا جائے کہ وہ ٹیکنالوجی میں امریکہ سے صدیوں پیچھے ہیں، لہٰذا عافیت اسی میں ہے کہ بلا چوں و چراں امریکہ کی غلامی اختیار کر لی جائے اور اسے اپنا آقا اور اَن داتا تسلیم کر لیا جائے۔
ثانیاً: عوام الناس کو یہ یقین دلایا جائے کہ موجودہ زوال اور پستی کا سبب ایمان سے محروم بزدل اور عیاش حکمران نہیں بلکہ ٹیکنالوجی کی قلت یا اس سے محرومی ہے تاکہ امریکہ کے ان پسندیدہ حکمرانوں کی حکومتیں قائم دائم رہیں اور عوام اُن سے تعرض نہ کریں۔
پس حاصل گفتگو یہ ہے کہ آج ملتِ اسلامیہ خصوصاً اہل پاکستان کے زوال اور پستی کا اصل سبب ٹیکنالوجی سے محرومی یا قلب نہیں بلکہ ایمان سے محروم قیادتیں ہیں، لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ اہل ایمان و دانشور ٹیکنالوجی کی اس بحث سے ہرگز متاثر نہ ہوں اور واضح الفاظ میں کھل کر اصل سبب یعنی ضعفِ ایمان کی نشاندہی کریں۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے مسلمانوں کے ساتھ غلبہ کا وعدہ ایمان کی شرط کے ساتھ فرمایا ہے۔ ٹیکنالوجی کی شرط کے ساتھ نہیں فرمایا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿وَلا تَهِنوا وَلا تَحزَنوا وَأَنتُمُ الأَعلَونَ إِن كُنتُم مُؤمِنينَ ١٣٩ ﴾.... سورة آل عمران
''کمزوری نہ دکھاؤ اور غم نہ کرو، تمہی غالب ہو اگر مؤمن ہو۔''
یہاں ہم اس بات کی وضاحت کرنا بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ ٹیکنالوجی میں خود کفیل ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم غیر ضروری طور پر بڑی طاقتوں سے اُلجھیں اور اپنے لئے مسائل پیدا کر لیں۔ مسلمان اپنے مزاج کے اعتبار سے ایک امن پسند قوم ہے لیکن ٹیکنالوجی میں خود کفیل ہونے کی وجہ کم از کم اتنا تو ضرور ہونا چاہئے کہ دنیا ہمیں ایک باوقار اور خود مختار قوم کی حیثیت سے جانے اور پہچانے۔
آخر میں مدیر محترم کی خدمت میں یہ گزارش ہے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کوئی ایسی مقدس اور متبرک شے نہیں جس کی تنقیص پر کبیرہ گناہ واجب ہوتا ہو، اپنے مختصر تبصرہ میں آپ نے سائنس کے بعض فوائدتو گنوائے ہیں، لیکن انفرادی زندگی میں اس کی تباہ کاریوں اور اجتماعی زندگی میں اس کی ہلاکت خیزیوں سے قطعی طور پر صرفِ نظر فرمایا ہے، معلوم نہیں کیوں؟ میری ناقص راےمیں انسانیت کےلئے سائنس کی خدمات کم اور اس کی تباہ کاریاں کہیں زیادہ ہیں۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے قرآن مجید میں جو بات جوا اور شراب کے بارے میں ارشاد فرمائی ہے وہ صدفی صد سائنس پر سچ ثابت ہوتی ہے:﴿إِثمُهُما أَكبَرُ‌ مِن نَفعِهِما﴾ان کا گناہ ان کے فائدے سے بڑا ہے۔ تاہم وطن کے دفاع کے لئے اس کا حصول یقیناً واجب ہے !! وَصَلَی اللهُ عَلَى نَبِیْنَا مُحمد وَاٰله وَأصحابه أجمعین
وضاحت از مُدیر : فاضل مضمون نگار کے موقف سے ہمیں اتفاق ہے کہ جذبۂایمانی اور توکل واعتقاد کسی قوم کے عروج وزوال میں سائنس وٹیکنالوجی سے کہیں زیادہ اہم کردار ادا کرتے ہیں، بالخصوص پاکستان کے معاملے میں۔جن سطور کے نیچے لائن لگائی گئی ہے، ان سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ اُن کے نزدیک بھی اُصولی طورپر اسلام میں سائنس وٹیکنالوجی کی نفی نہیں ہے۔میرا ڈاکٹر ندوی کے موقف کو 'قابل غور' قرار دینے سے اس کی افادیت کی طرف متوجہ کرنا ہی مقصود تھا۔سائنس کا حکم تو حالات وضروریات کے تابع ہے اور اس کی تعلیم بعض اوقات حرام ہوتی ہے، بعض اوقات مستحب اور کبھی واجب،جس کے لئے راقم کی تحریر 'اسلامی اور سائنسی علوم میں ایک تقابل' کو دیکھنا مناسب ہوگا۔ (محدث ، شمارہ ستمبر 2010ء)