اللہ تعالیٰ نے انسان کے ظاہروباطن دونوں کی اصلاح کے لیے شریعتِ اسلامیہ اور انبیاء ورسل کا سلسلہ جاری فرمایاہے۔ انسانی طبیعت کا یہ خاصہ ہے کہ وہ باطن کی نسبت ظاہر پر توجہ زیادہ دیتی ہے اور باطن کی اصلاح کی بجائے ظاہر شریعت پر عمل ہی کو کل دین سمجھ لیتی ہے۔ سابقہ مسلمان اقوام مثلاًیہود پر بھی ایک زمانہ ایسا آیا کہ وہ موسوی شریعت کے ظاہر میں اس قدر اُلجھے کہ اپنی باطنی اصلاح سے کلی طور پر غافل ہو گئے۔ اس زمانہ میں اُن میں تورات کے بڑے بڑے فقہا اور علما تو موجود تھے اور ظاہر شریعت پر عمل بھی خوب ہو رہاتھا لیکن منکسر مزاجی،تواضع، انکساری،نرم دلی، خدا خوفی، للہیت، خشیت، تقویٰ اور تقرب الیٰ اللہ جیسے اوصافِ حسنہ مفقود تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی باطنی اصلاح اور تزکیہ کے لیے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مبعوث فرمایا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معاصر انجیل میں موجود خطبات سے معلوم ہوتا ہے کہ اُنہوں نے علمائے یہود کو اپنے باطن کی اصلاح اور تزکیہ نہ کرنے کی وجہ سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
خیرُ القرون کے بعد اُمتِ مسلمہ کی اکثریت میں بھی باطن کی اصلاح یا تزکیۂ نفس کی نسبت ظاہر شریعت یعنی فقہی مسائل اور ان پر عمل کی طرف توجہ زیادہ رہی ہے جس کی وجہ سے دین کا یہ اہم گوشہ نظر انداز ہوتا رہا ہے۔ کچھ طبقات نے اگر ہر دور میں اصلاحِ باطن کی طرف 'تصوف'کے نام سے توجہ دی بھی تو اس میں اصلاح کے شرعی منہج اور طریقہ کار کو نظر انداز کیا گیااور اپنے ذاتی مشاہدات وتجربات کو اصلاحِ باطن اور تزکیہ کے نبوی طریق کار پر ترجیح دی گئی اور اس طرح تصوف ایک مستقل دین بن کر سامنے آگیا۔
اصلاحِ باطن اور تزکیۂ نفس کا ایک اہم موضوع رذائل سے اپنے نفس اور باطن کو پاک کرنا ہے۔ رذائلِ انسانیہ میں سے ایک اہم تروصف تکبر ہے۔تکبر سے ملتے جلتے کئی ایک رذائل کی کتاب و سنت میں نشاندہی کی گئی ہے جو درج ذیل ہیں:
کبر             عجب
حب جاہ       حب تفوق
ریا          تکبّر
تکبر کا معنیٰ اپنے آپ کو بڑا سمجھنا اور دوسرے کو حقیر جاننا ہے۔ کتاب وسنت میں تکبر کرنے والے کے لیے 'متکبر' کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔متکبرین کے بارے نصوص میں بہت شدید وعید آئی ہے ۔ ایک روایت کے الفاظ ہیں:
«لا یدخل الجنة من کان في قلبه مثقال ذرة من کبر »صحيح مسلم:91
''وہ شخص جنت میں داخل نہ ہو گا کہ جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی اپنی بڑائی ہو۔''
تکبر کے بارے اس مضمون میں ہم نے تکبر کی حرمت اور شناعت پر نصوص کی کثرت نقل كرنے کی بجائے صالحین اور اہل علم کےا قوال کی روشنی میں اس باطنی مرض کا ایک تجزیہ کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ اس مرض کی تشخیص اور پہچان عام ہو سکے۔
تکبر کی اقسام
اہل علم نے تکبر کی تین بڑی اقسام بیان کی ہیں جو درج ذیل ہیں:
1. اللہ پر تکبر کرنایعنی اللہ کے مقابلے میں اکڑنا جیسا کہ فرعون نے اس تکبر کا اظہار کیا تھا اور اپنے آپ کو اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى کا لقب دیا۔تکبر کی یہ قسم دہریت کا لازمہ ہے۔ دہریہ یعنی اللہ کا منکر تکبر کی اس قسم میں لازماً مبتلاہوتا ہے۔عموماً دہریوں کی زبان سے یہ الفاظ سننے میں آتے ہیں کہ ہم نے اہل مذہب کے خدا کواس دنیا سے نکال دیا ہے ۔ یہ تکبر کی بدترین صورت ہے۔جو مسلمان یا آسمانی مذاہب کے قائلین اللہ کے وجود کے بارے مشکوک ہو جاتے ہیں یا کسی وہم کا شکار ہو جاتے ہیں،وہ بھی اس تکبر میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور ایسے پریشان خیالوں کی زبان پر آپ اکثر یہ جملے نوٹ کریں گے کہ پتہ نہیں خدا ہے بھی یا نہیں؟ اگلی دنیا میں جزا وسزا ہے بھی یا نہیں؟ ہم نہ تو خدا کا اقرار کرتے ہیں اور نہ ہی انکار .... وغیرہ
2. اللہ کے رسول ﷺ پر تکبر کرنایعنی حق کے معاملہ میں اللہ کے رسول ﷺ کی اطاعت نہ کرنااور اکڑ جانا۔ایک روایت میں ہے کہ ایک صحابی نے آپ سے سوال کیا کہ کیا اچھے کپڑے یا نیاجوتا پہنا بھی تکبر میں داخل ہے تو آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جمیل ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے اور جہاں تکبر کا معاملہ ہے تو وہ یہ ہے:
«الکبر بطر الحق وغمط الناس»صحيح مسلم:91
'' تکبر تو حق بات کو جھٹلا دینا ہے اور لوگوں کو حقیر سمجھنا ہے۔''
تکبر کی اس قسم میں اعتقادی منافقین اور منکرین حدیث مبتلاہوتے ہیں۔ایسے حضرات کی زبانوں سے ایسے جملے بکثرت سننے کو ملیں گے کہ محمد ﷺ بھی تو ہمارے جیسے انسان ہیں تو ان کی اتباع واطاعت کیوں؟ یا ہم بھی اللہ کی کلام کو ایسے ہی سمجھ سکتے ہیں جیسا کہ محمد ﷺ نے سمجھا ہے یا محمد ﷺ کی قرآنی تفسیر و تشریحات تو عرب کے غیر متمدن معاشرے کے لیے تھیں نہ کہ ہماری آج کی متمدن اور مہذب دنیا کے لیے یا محمد ﷺ کو قرآن سمجھنے کا جتنا حق حاصل تھا، اتنا ہمیں بھی حاصل ہے ...وغیرہ
3. اللہ کے بندوں پر تکبر کرنایعنی کسی بھی وصف کے اعتبار سے دوسرے انسانوں کی نسبت اپنے آپ کو بڑا سمجھنا اور اُنہیں حقیر جاننا۔صحیح مسلم کی مذکورہ بالا روایت میں 'غمط الناس' کا معنی بعض اہل علم یہ بیان کیا ہے کہ اللہ کی دی ہوئی کسی نعمت میں اپنے آپ کو بڑا سمجھنا اور دوسروں کو اس نعمت میں حقیر جاننا غمط الناس ہے جسے آپ نے تکبر کہا ہے۔انسانوں میں تکبر کی سب سے عام قسم یہی ہے۔
اللہ کے بندوں پر تکبر کی صورتیں
اسلامی معاشروں میں تکبر کی اس قسم کی بے شمار صورتیں پائی جاتی ہیں جن میں چند ایک کی ہم نشاندہی کر رہے ہیں :
1. مال کے ذریعے تکبر کرنا جو بادشاہوں، تاجروں اور مالداروں میں ہوتا ہے۔اس صورت میں ایک مالدار شخص مال کی وجہ سے اپنے آپ کو بڑا اور دوسروں کو حقیر سمجھتا ہے۔ جو مالدار بھی غریب کو حقیر جانے یعنی اس کے پاس بیٹھنے یا اس کے ساتھ کھانے یا اس کے ساتھ چلنے یا اس سے گفتگو کرنے یا اس کے گھر جانے یا اس کے محلے میں جانے یا اس کے ساتھ دوستی کرنے میں ہچکچاہٹ اور حجاب محسوس کرے توبلاشبہ وہ اس تکبر میں مبتلا ہے۔عموماًمالدار دین دارگھرانوں میں بھی یہ بات دیکھنے میں آئی ہے کہ وہ اس تکبر میں مبتلا ہوتے ہیں ۔ ایک دینی ادارے میں حفظ کی کلاس سے ایک مالدار دینی رجحان رکھنے والے خاندان نے اپنے بچے اس لیے اُٹھا لیے کہ اس ادارے میں ان کے ملازمین کے بچے بھی ساتھ ہی حفظ کر رہے تھے۔ عام طور پر اس کا بہانا یہ بنایا جاتا ہے کہ غربا کے بچوں میں تہذیب نہیں ہوتی حالانکہ اُمرا کے بچے جس قدر مہذب ہوتے ہیں، اس کاایک جائزہ بھی انگلش میڈیم سکول کے بچوں کی چال چلن کی رپورٹوں سے خوب لگایا جا سکتا ہے۔ اصل میں یہ تکبر ہے جس کی وجہ سے اُمرا اپنے بچوں کو اپنے ملازمین یا غربا کے بچوں کے ساتھ پڑھانے میں حجاب محسوس کرتے ہیں ورنہ تو بچے سبھی فطرتِ سلیمہ پرہوتے ہیں جسے دینی ماحول مل جائے ،اس کی تربیت ہو جاتی ہے اور جسے نہ ملے وہ چاہے غریب کا بچہ ہو یا امیر کا ، بگڑ جاتا ہے ۔
2. جمال کے ذریعے تکبر کرنا جیسا کہ عموماً عورتوں میں ہوتا ہے۔جب کوئی خاتون اللہ کی طرف سے عطا کیے گئے حسن پر اِترائے اور دوسری خواتین کو اپنے سے کم تر سمجھے تو وہ تکبر کی اس قسم میں بلاشبہ مبتلا ہو چکی ہے۔اس صورت میں حسین خاتون دوسری خواتین کے خدوخال یا رنگت یا پہننے اوڑھنے کے سلیقہ پر منفی تبصرے کرتی نظر آتی ہے کہ فلاں کو تو پہنے کا ڈھنگ ہی نہیں ہے یا فلاں اپنی شکل و صورت میں بہت ہی سادی ہے یا فلاں کے چہرے پر تو مسکینی ہی چھائی رہتی ہے یا فلاں سٹائلش نہیں ہے ۔ ایسے تمام تبصروں سے اگر تو حسین عورت کا مقصود اپنے آپ کو دوسری خواتین کے بالمقابل برتر سمجھنا یاثابت کرنا ہو تو یہ تکبر ہے ۔ اور اگر اس کے دل میں ان تبصروں کے وقت اپنے حسن کی بڑائی موجود نہ ہوتو یہ غیبت ہے جو تکبر ہی کی طرح حرام ہے، اگرچہ حرمت میں اس کا گناہ تکبر سے کم ہے۔
3. اپنے پیروکاروں کی کثرت کے ذریعے تکبر کرناجیسا کہ علمایا صوفیا یاگدی نشینوں یاخطبا یا واعظین یا مذہبی و سیاسی جماعتوں یا انقلابی تحریکوں کے قائدین میں ہوتا ہے۔تکبر کی اس صورت میں ایک شخص اپنے متبعین یا متاثرین کی کثرت کی وجہ سے اپنے آپ کو بڑا اور دوسروں کو حقیر سمجھنا شروع کر دیتا ہے۔مثلاً جب کوئی بڑا خطیب یا مشہور واعظ دوسرے خطبا وواعظین پر یہ تبصرہ کرے کہ اُنہیں تو منبر پر کھڑا ہونا ہی نہیں آتا یا انہیں تو پتہ ہی نہیں تقریر کیسے کرتے ہیں؟ یا فلاں خطیب تو بس جمعہ ٹالنے کی کوشش کرتے ہیں وغیرہ تو یہ خطیب اور واعظ بھی بلاشبہ تکبر کے مرض میں مبتلا ہو چکا ہے۔
بعض اوقا ت متبعین اور متاثرین بھی اس تکبر میں مبتلا ہوتے ہیں مثلاً کسی جماعت یا تحریک سے وابستہ کارکنان اپنی جماعت یاتحریک کے ممبران کی کثرت پر اِتراتے نظر آتے ہیں یا علما،شیوخ ، اساتذہ، صوفیا اور مربیین کے پیروکارو اپنے عالم، پیر ،شیخ، مربی اور اُستاذکو دوسرے علما،صوفیا ، شیوخ ، مربیین اور اساتذہ کے مقابلے میں آسمان پر چڑھانے میں مصروف نظر آتے ہیں۔بنظر غائر جائزہ لیا جائے تو یہ حضرات اپنے شیخ ، اُستاذ ، پیر یا مربی کو دوسروں سے بالاتر قرار دیتے ہوئے دراصل یہ ثابت کرنا چاہ رہے ہوتے ہیں کہ جب ہمارے شیخ اور اُستاذ تمہارے شیخ اور استاذ سے بہتر ہیں تو ہم ان شیوخ و اساتذہ کے شاگرد دوسرے شیوخ واساتذہ کے شاگردوں سے بہتر ہیں۔
4. اپنے علم پر تکبر کرناجیسا کہ بعض علما میں یہ مرض پایا جاتا ہے۔ اس صورت میں ایک عالم دین اپنے علاوہ علما کو اپنے سے حقیر سمجھتا ہے اور اپنے آپ کو بڑا جانتا ہے۔ بعض شیوخ الحدیث ، مفتیانِ کرام ،کبار علما اور محققین کو آپ دیکھیں گے کہ سائلین کے ساتھ بیٹھنا اپنے وقار کے منافی سمجھتے ہیں یاطالبانِ دین اور نوجوان علما کے ساتھ علمی تبادلۂ خیال میں عار محسوس کرتے ہیں یا کسی دیہاتی مخلص سائل کی رہنمائی کو اپنے وقت کا ضیاع سمجھتے ہیں یادوسرے علماکے دلائل پر اس لیے توجہ نہیں دیتے یا ان کی تحقیقات سے استفادہ نہیں کرتے کہ وہ علم میں ان کو اپنے سے کم تر سمجھتے ہیں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ علمی تکبر کے اس دریا میں فقہی مسالک و مذاہب کے متبعین کی اکثریت سر تا پاؤں غرق ہے۔ ایک مسلک کے نمائندہ علمادوسرے مسالک و مذاہب کے علما کو حقیر جانتے ہیں اور انتہائی اخلاص سے یہ تکبر اپنے دل میں پالتے رہتے ہیں کہ علمی اعتبار سے اس جہاں میں ہمارا کوئی ثانی نہیں ہے۔ہمیں یہ کہنے میں کوئی عار نہیں ہے کہ اگرکسی بڑے عالم دین، شیخ الحدیث یا مفتی صاحب کو مذہبی جلسہ وتقریب کے دوران سٹیج پر جگہ نہ ملے اور وہ عوام الناس کے ساتھ نیچے فرش پر بیٹھنے میں حجاب محسوس کریں تو یہ عالم دین، شیخ الحدیث اورمفتی صاحب علمی تکبر میں مبتلا ہو چکے ہیں۔اسی طرح اگر کسی عالم دین یا شیخ الحدیث یا مفتی صاحب کو مخاطب کرتے وقت اِلقابات کا لحاظ نہ کیا جائے اور براہِ راست ان کا نام لے لیا جائے اور وہ اس کو برا جانیں توبلاشبہ یہ بھی تکبر ہی کی ایک قسم ہے۔
اس بحث سے مقصودِ کلام ہے کہ ہمارے ذہنوں میں عام طور پر تکبر کی یہ صورتیں نہیں ہوتی ہیں ۔ہم میں سے ہرشخص کو اپنے ہر ہر فعل اور عمل کا محاسبہ اور تجزیہ کرتے رہنا چاہیے کہ میرا یہ عمل کہیں میری باطنی نشوونما یا تزکیہ میں رکاوٹ تو نہیں بن رہا ہے۔
تکبر کے درجات
بعض اہل علم نے تکبر کے تین درجات بیان کیے ہیں:
1. دل میں اپنی بڑائی ہو اور ظاہر میں تواضع وانکساری ہو۔تکبر کا یہ درجہ انتہائی خطرناک ہے اوراس کا تجزیہ کرنا بھی انسان کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے۔اس درجہ میں تکبر صرف دل تک محدود رہتا ہے اور انسان کے عمل یا قول میں داخل نہیں ہوتا۔
2. تکبر کا دوسرا درجہ دل کے بعد اپنے افعال واعمال میں تکبر کا اظہار کرناہے ۔ مثلاً کوئی شخص مجالس،محافل، دوستوں،خاندان اورمعاشرے میں اپنے عمل وفعل کے ذریعے اپنی بڑائی چاہے جیسا کہ ہم نے سابقہ صفحات میں اس کی کئی ایک مثالیں بیان کی ہیں۔حدیث میں تہبند یا شلوار کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانا عملی تکبر میں شامل کیا گیا ہے۔گردن میں چادر ڈال کردونوں کندھوں سے نیچے لٹکانا بھی پنجاب کے چوہدریوں میں عملی تکبر کی ایک صورت ہے۔بعض اوقات جبوں اور قبوں کے ذریعے بھی عملاً اپنی بڑائی کا اظہار کیا جاتا ہے۔
3. تکبر کا تیسرا درجہ یہ ہے کہ انسان اپنے دل اور عمل سے بڑھ کر ا پنی زبان سے فخر کا اظہار کرے مثلاً اپنے تزکیۂ نفس یا نیک ہونے کے دعوے کرے۔بعض لوگوں کی یہ عادت ہوتی ہے وہ باتوں باتوں میں ہر کسی کو اپنے تہجد گزار ہونے یانیک ہونے یابڑا عالم دین ہونے یا تعلیمی اسناد کی تاریخ سنانے یا عظیم محقق ہونے یافل پروفیسر ہونے یا دین کا عظیم خادم بتلانے کے لیے بے چین ومضطرب ہوتے ہیں۔بلاشبہ اس قسم کے ا قوال میں تکبر قولی کی واضح صورت جھلکتی نظر آتی ہے اور اگر کسی شخص میں یہ عادت ہو تو اسے اپنے اپنی باطنی اصلاح کی طرف خصوصی توجہ دینی چاہیے۔
تکبر کے اسباب
تکبر کیوں پیدا ہوتا ہےیا اس کے اسباب کیا ہیں؟تکبر کے اسباب میں سے اہل علم نے حسد، بغض، کینہ ، عجب اور ریا کاتذکرہ کیا ہے۔ جب کوئی شخص مال، علم، حسن وجمال یا مقام ومرتبے میں دوسرے سے حسد محسوس کرتا ہے تو عموماً اس پر تکبر کے ذریعے بڑائی حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
اسی طرح جب کوئی شخص کسی دوسرے سے اپنے دل میں بغض اور کینہ رکھتا ہے تو یہ بھی اس کے تکبر کا سبب بن جاتے ہیں۔ اپنے نفس کے عشق میں مبتلا ہونا یعنی خود پسندی اور عجب بھی تکبر کے اسباب میں سے ایک اہم سبب ہے۔ اسی طرح ریاکاری بھی تکبر کے اسباب میں داخل ہے۔
تکبر کا علاج
اہل علم نے تکبر کے دو قسم کے علاج تجویز کیے ہیں جو ذیل میں بیان کیے جا رہے ہیں:
علمی علاج
تکبر کا علمی علاج یوں کیاجا سکتا ہے کہ انسان جب اللہ کی دی ہوئی کسی نعمت یا صفت یا کمال پر اپنے نفس میں بڑائی محسوس کرے تو یہ سوچ بار بار پیدا کرے:
1. میرے اندر کا یہ کمال حق سبحانہ وتعالیٰ کا پیدا کردہ ہے یعنی عطائی ہے اور اس کے حصول میں میرا کوئی ذاتی عمل دخل نہیں ہے۔
2. میں کسی ذاتی اہلیت کی بنا پر اس نعمت خداوندی کا مستحق نہیں تھا لیکن اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے یہ کمال عطا فرما کر مجھے اپنی رحمت سے مجھے نوازا ہے۔
3. اس کمال کے اللہ کی طرف سے عطا کیے جانے کے بعد اس کا بقا میرے اختیار اور بس میں نہیں ہے اور کسی بھی وقت اللہ سبحانہ وتعالیٰ اسے سلب کر سکتے ہیں۔
4. اگرچہ دوسرے شخص میں یہ کمال فی الحال نہیں ہے لیکن ممکن ہے مستقبل قریب یا بعید میں اسے یہ کمال مجھ سے بھی زائد درجہ میں حاصل ہو جائے۔
5. اس کا بھی غالب امکان ہے کہ دوسرے شخص میں کچھ ایسے کمالات ہوں جو میری نظر سے مخفی ہوں اور ان کی بنا پر اس کا رتبہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے ہاں مجھ سے زائد ہو۔
عملی علاج
تکبر کا علمی اور بہترین علاج یہ ہے کہ انسان جس کو اپنے نفس سے چھوٹا سمجھے، اس کے ساتھ بیٹھے، کھائے، پئے، گفتگو کرے، دوستی کرے،اس کا احترام کرے، اس کے بارے تحسین کے کلمات کہے اور اس کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئے۔مثلاً ایک امیر اپنے تکبر کو غربا میں بیٹھ کر اور ایک عالم دین اپنے تکبر کو طلبا میں بیٹھ کردور کر سکتا ہے۔
یہ بھی واضح رہے کہ اہل علم نے اس طرف توجہ دلائی ہے کہ شریعت میں ازالہ نہیں بلکہ اِمالہ ہے یعنی معصیت کا مادہ ہی انسان سے ختم ہو جائے تو یہ شریعت کا مطالعہ نہیں ہے بلکہ شریعت کا مطالبہ یہ ہے کہ انسان معصیت کے تقاضوں پر عمل نہ کرے اور ان کو کنٹرول کرے۔پس تکبر کا مادہ ختم کرنا مقصود نہیں ہے بلکہ تکبر کے تقاضوں پر عمل نہ کرنا اور اس بیماری کا علاج کرنا مقصود شرع ہے۔
تکبر سے متعلقہ بعض دوسری اصطلاحات
مضمون کے شروع میں ہم نے تکبر سے متعلق بعض دوسری اصطلاحات کا تذکرہ کیا تھا، ان کا ایک مختصرتعارف ہم ذیل میں پیش کر رہے ہیں تا کہ تکبر کے علاوہ ان باطنی بیماریوں کی پہچان بھی سالکین حق کے لیے آسان ہو۔
2. عُجب: اس سے مراد اپنے کو بڑا سمجھنا عجب ہے۔قرآن میں خو دپسند کے لیے 'مختال' کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔
3. حب جاہ: اپنے آپ کو دل ہی دل میں بڑا سمجھنا اور کوشش کرنا کہ دوسرے بھی مجھے بڑاسمجھیں۔
4. حب تفوق: دوسروں پر غالب آنے کی شدید خواہش رکھنا اور اس پر عمل کرنا۔
5. ریا : کسی دینی عمل کو لوگوں کی نظر میں بڑا بننے کا ذریعہ بنا نا ریاکاری کہلاتا ہے۔
تکبر سے متعلق ان اصطلاحات میں ہر ایک مستقل مضمون کی متقاضی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس موذی مرض سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!