Mohaddis-347-May2011

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

قرآنِ کریم اور احادیثِ طیبہ کی روشنی میں
تعلیم ایک ذریعہ ہے،اس کا مقصد اچھی سیرت سازی اور تربیت ہے۔علم ایک روشن چراغ ہے جو انسان کو عمل کی منزل تک پہنچاتا ہے۔اس لحاظ سے تعلیم وتربیت شیوۂ پیغمبری ہے۔ اُستاد اورشاگرد تعلیمی نظام کے دو نہایت اہم عنصر ہیں۔ معلّم کی ذمہ داری صرف سکھانا ہی نہیں، سکھانے کے ساتھ ساتھ تربیت دینا بھی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ کے بارے میں فرمایا: ﴿يُعَلِّمُهُمُ الكِتـٰبَ وَالحِكمَةَ وَيُزَكّيهِم ۚ.... ١٢٩ ﴾.... سورة البقرة
''اور نبیﷺان(لوگوں) کو کتاب وحکمت (سنت) کی تعلیم دیتے ہیں اور ان کا تزکیہ وتربیت کرتے ہیں۔''
اس بنا پر یہ نہایت اہم اور مقدس فریضہ ہے ،اسی اہمیت او ر تقدس کے پیش نظر اُستاد اور شاگرد دونوں کی اپنی اپنی جگہ جدا گانہ ذمہ داریاں ہیں۔ اُنہیں پورا کرنا ہر دو جانب کے فرائض میں شامل ہے۔ اگر ان ذمہ داریوں کو بطریق احسن پورا کیا جائے تو پھر تعلیم بلاشبہ ضامنِ ترقی ہوتی اور فوزوفلاح کے برگ و بار لاتی ہے۔
اس سلسلے میں کچھ حقوق استاد پر عائد ہوتے ہیں جبکہ بعض شاگرد پر ؛ جن کی تفصیل پیش کی جاتی ہے:
شاگرد پر اُستاد کے حقوق
1. سب سے پہلی اور اہم بات یہ ہے کہ طالب علم نبیٔ کریمﷺ کے اس ارشاد مبارک کو مدنظر رکھے کہ آپﷺ نے فرمایا:
«لَیْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ یَرْحَمْ صَغِیرَنَا وَلَمْ یُوَقِّرْ کَبِیرَنَا» جامع ترمذى:1919
''وہ ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر شفقت نہ کرے اور ہمارے بڑوں کی توقیر واحترام نہ کرے۔''
اس لیے شاگرد پر لازم ہے کہ وہ اُستاد کا احترام کرے اور اس کی ادنیٰ سی بے ادبی سے بھی اپنے آپ کو بچائے۔استاد معلّم و مربی ہونے کے لحاظ سے باپ کے درجے میں ہوتا ہے، آپﷺ نے فرمایا: «إنَّمَا أَنَا لَکُمْ بِمَنْزِلَةِ الْوَالِدِ،أُعَلِّمُکُمْ»سنن ابوداؤد:8
''میں تمہارے لیے بمنزلۂ والد ہوں، تمہیں تعلیم دیتا ہوں۔''
چنانچہ روحانی ماں باپ کی تکریم و تعظیم کیجیے۔ اُستاد سے آمرانہ اسلوبِ گفتار سے پرہیز کریں، اس کے سامنے اَدب اور شائستگی سے بیٹھیں، اس کے سامنے اپنی آواز بلند نہ کریں۔
2. طالب علم کو تکبر و بڑائی سے دوررہنا چاہیے، اپنے اندر عجز واِنکسارپیدا کرنا چاہیے۔اَمیر المؤمنین عمر بن خطاب فرماتے ہیں:
«تَعَلَّمُوا الْعِلْمَ، وَتَعَلَّمُوا لَهُ السَّکِینَةَ وَالْوَقَارَ، وَتَوَاضَعُوا لِمَنْ تَتَعَلَّمُونَ مِنْهُ وَلِمَنْ تُعَلِّمُونَه، وَلاَ تَکُونُوا جَبَابِرَة َالْعُلَمَاءِ» جامع بيان العلم وفضله:1/512
''علم حاصل کرو۔ اس کے لئے سکینت ووقار بھی سیکھو۔ جن سے علم حاصل کرتے ہو اور جنھیں سکھاتے ہو اُن کے لیے تواضع اورعاجزی اختیار کرو۔جبر کرنیوالے علما مت بنو۔''
اَساتذہ کے ساتھ اَدب واحترام کاایک سبق آموز واقعہ سیدنا عبداللہ بن عباس کا ہے، جسے امام ابن عبد البر نے اپنی کتاب جامع بیان العلم وفضلہ میں ذکر کیا ہے۔ نقل کرتے ہیں: ایک دفعہ سیدنا زید بن ثابت جو قرآن کے حافظ اور کتاب و سنت کے بہت بڑے عالم تھے، نے ایک جنازہ پڑھایا۔ واپسی کے لیے سواری لائی گئی تاکہ آپ اس پر سوار ہو جائیں، عبداللہ بن عباس آگے بڑھے اور سواری کی رکاب تھام لی،زید بن ثابت نے کہا: رسول اللہﷺ کے چچا زاد بھائی! آپ ایسا نہ کریں۔ ابن عباس نے فرمایا:
«هٰكَذَا یُفْعَلُ بِالْعُلَمَاء وَالْکُبَرَاء» جامع بيان العلم وفضله:1/ 514
''جی نہیں، میں یہ رکاب ضرور پکڑوں گا، کیونکہ علما اور بڑوں کا یہ حق ہے کہ ان سے ایساہی برتاؤ کیا جائے۔''
اُستاد کا کیا مقام ومرتبہ ہے؟ یہ امام شعبہ سے پوچھئے، فرماتے ہیں:
«کُلُّ مَنْ سَمِعْتُ مِنْهُ حَدِیثًا، فَأَنَا لَه عَبْد»جامع بيان العلم و فضله1/ 512
''جس سے میں نے ایک حدیث پڑھی ہے، وہ میرا آقا اور میں اس کا غلام ہوں۔''
پس جب طالب علم اپنے اُستاد کا حد درجہ احترام کرے گا، تب ہی اسے علم کی بیش قیمت دولت حاصل ہوگی۔ اگر طالب ِعلم بدخواہ اور بے ادب ہے تو علم سے محروم ہی رہے گا۔ ایک شاعر نے خوب کہا ہے:
إِنَّ الْمعَلِّمَ وَالطَّبِیبَ کِلَاهُمَا
لَا یَنْصَحَانِ إِذَا هُمَا لَمْ یُکْرَمَا
فَاصْبِرْ لِدَائِكَ إنْ أهَنْتَ طَبِیْبَه
وَاصْبِرْلِجَهْلِك إنْ جَفَوْتَ مُعَلِّمَا
                                                                                                                                                                ادب الدنيا والدين:1/ 75
''معلّم اور طبیب کی جب تک توقیر و تعظیم نہ کی جائے وہ خیر خواہی نہیں کرتے۔ بیمارنے اگر طبیب کی توہین کر دی تو وہ اپنی بیماری پر صبر کرے اور اگر شاگرد نے اپنے استاد کے ساتھ بدتمیزی کی ہے تو وہ ہمیشہ جاہل ہی رہے گا۔''
3. طالب ِعلم کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اسباق میں غیر حاضری سے اجتناب کرے، ناغہ کرنے سے اس کے علم واستعداد میں کمی آئے گی۔ نتیجتاًلوگ اس کے استاد ہی کو موردِ الزام ٹھہرائیں گے، چنانچہ اپنے اساتذہ کو الزام آنے سے بچانا بھی استاد کے حقوق میں سے ہے۔
4. پابندی سے حاضری کے علاوہ کلاس روم میں توجہ اور دھیان سے سبق سننا اور یاد کرنا طالب علم کی بڑی اہم ذمہ داری ہے۔ مزید برآں یہ اُس پر استاد کا حق ہے۔
5. اگر سبق سمجھ میں نہ آئے تو اُستاد سے پوچھ لینا طالبِ علم کی ذمہ داری ہے۔رسول اللہﷺنے فرمایا: «فَإِنَّمَا شِفَاءُ الْعِّيِ السُّؤَالُ»سنن ابو داؤد:336
''یقیناً (علم کی) محتاجی کا علاج سوال کرنے میں ہے۔ ''
6. یہ بھی طالب ِعلم کی ذمہ داری ہے کہ وہ محترم استاد کو عام انسانوں کی طرح انسان ہی سمجھے جس سے غلطی کا سرزد ہوناعین ممکن ہے۔ اسکی درشتی اور سختی کو برداشت کرے۔ اسکی برائی سے اجتناب کرے، اسکے عیبوں کی پردہ پوشی کرے اور خوبیوں کو اُجاگر کرے۔
7. فضول اور وقت ضائع کرنے والے سوالات سے پرہیز کرے۔
8. طالب ِعلم یہ بھی یاد رکھے کہ غلطی پر استاد کا خفا ہونا ایک فطری چیز ہے، لہٰذا طالب علم اُستاد کے غصے کو محسوس نہ کرے۔بلکہ یہ سمجھے کہ اُستادکا میری غلطی پر ناراض ہونا خود میرے ہی لیے مفید ہے۔
ایک دفعہ معلّم انسانیتﷺلوگوں کولمبی لمبی نماز یں پڑھانے کے باعث معاذ بن جبل پر شدید ناراض ہوئے۔ آپﷺنے اُنہیں تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا:
«أَفَتَّان یَا مُعَاذُ!»سنن نسائى:998
''اے معاذ! کیا تو لوگوں کو فتنے میں ڈالنے والا ہے؟''
اس حدیث پر امام بخارینے صحیح بخاری میں بَابُ الْغَضَبِ فِي الَمَوْعِظَةِ وَالتَّعْلِیم ِإذَا رَأَی مَا یَکْرَهُ ''وعظ و تعلیم میں ناپسندیدہ بات دیکھنے پر غصے ہونا'' کا باب قائم کیا ہے اورناپسندیدہ عمل پر تنبیہ کو صحیح عمل قرار دیا ہے۔ پس اگر معلّم شاگرد کی کسی غلطی پر غصے میں آجائے تو یہ کوئی انہونی بات نہیں۔ سعادت مند طالب علم کا فرض ہے کہ وہ اپنے مکرم اُستاد کی سخت باتیں بھی چپ چاپ ادب کے ساتھ سن لے اور اپنی اصلاح کی کوشش کرے۔
اُستاد پر شاگرد کے حقوق
1. نرمی و نوازش کا سلوک کیجیے: اُستاد کو چاہیے کہ وہ اپنے لیے نبیٔ کریمﷺکی سیرت کو اُسوہ بنا کر اپنے شاگردوں سے نرمی اور شفقت کا برتاؤ کرے۔ اللہ تعالیٰ نے نبیﷺکو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
﴿فَبِما رَ‌حمَةٍ مِنَ اللَّهِ لِنتَ لَهُم ۖ وَلَو كُنتَ فَظًّا غَليظَ القَلبِ لَانفَضّوا مِن حَولِكَ ۖ ....١٥٩﴾.... سورة آل عمران
''اللہ کی رحمت سے آپ ان کے لیے نرم ہوگئے اوراگر آپ درشت اور سخت دل ہوتے تو یہ لوگ آپ کے پاس سے بکھر جاتے۔''
لہٰذا اُستاد شاگردوں کے لیے نرمی کا پہلو اختیار کرے، اورنبیٔ کریمﷺ کے اس ارشاد مبارک کو بھی پیش نظر رکھے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:
«لَیْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ یَرْحَمْ صَغِیرَنَا وَلَمْ یُوَقِّرْ کَبِیرَنَا»جامع ترمذى:1919
'' وہ شخص ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر شفقت نہ کرے اور ہمارے بڑوں کی توقیر و تعظیم نہ کرے۔''
اس بنا پر اُستاد کو چاہیے کہ اپنے شاگردوں کے سر پر شفقت کاہاتھ رکھے، اگر ان سے کوئی نامناسب حرکت ہوجائے تو درگزر کر ے، ان سے وقار اور بردباری کے ساتھ پیش آئے۔
2. زبان کی حفاظت کیجیے: اُستاد کی ذمہ دار یوں میں سے ایک اہم ذمہ داری زبان کی حفاظت ہے۔زبان کی حفاظت نہایت ضروری ہے۔ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ زبان کی حفاظت کرے اور اسے ناجائز اورنامناسب باتوں سے بچائے رکھے۔ نبیٔ کریمﷺ نے فرمایا:
«مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاﷲِ وَالْیَوْمِ الاْخِرِ فَلْیَقُلْ خَیْرًا أَوْ لِیَصْمُتْ»صحيح بخارى:6018
''جو شخص اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے تو وہ بھلائی اور خیر کی بات کہے، ورنہ خاموش رہے۔''
چونکہ اُستاد اپنے شاگردوں کے لیے نمونہ ہوتاہے، اس لیے اسے چاہیے کہ اپنی گفتگو کو محتاط اور متوازن بنائے، لچرپن اوربے ہودگی سے بوجھل الفاظ سے پرہیز کرے۔ ایک حدیث میں نبیٔ کریمﷺ نے زبان کی بے اِعتدالی کے نقصانات کو واضح کرتے ہوئے فرمایا:
«إن العبد لَیَتَکَلَّمُ بِالْکَلِمَةِ مَا یَتَبَیَّنُ فِیهَا یَزِلُّ بِهَا فِي النَّارِ أَبْعَدَ مَا بَیْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ»ايضاً:6777/صحيح مسلم:2988
''یقینا بندہ ایک بات کرتا ہے، اس پر غور و فکر نہیں کرتا۔ وہ اس بات کی وجہ سے مشرق و مغرب کی درمیانی مسافت سے بھی زیادہ جہنم کی آگ کی طرف گر جاتاہے۔''
بعض دفعہ انسان کی زبان سے ایسا کلمۂ شر اَدا ہو جاتا ہے کہ اسے اس کی تباہ کاری کا اندازہ ہی نہیں ہوتا۔ کبھی اس کی کوئی بات کسی کی دل آزاری یا گمراہی یا ظلم و معصیت کا سبب بن جاتی ہے، جس کی وجہ سے یہ انسان تباہی کے گڑھے میں گر جاتاہے۔ لہٰذااُستاد وشاگرددونوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ زبان کی حفاظت کریں اور زبان کے ذریعے سے جن گناہوں کا ارتکاب کیا جاتاہے، ان سے اپنے دامنِ تعلیم و تعلّم کو بچائیں۔
3. سچ کی تعلیم دیجیے اور جھوٹ سے نفرت سکھائیے: جھوٹ ایسا معاشرتی ناسور ہے جو بہت سے گناہوں کا پیش خیمہ ہے،لہٰذا معلّم و متعلّم اس سے بچیں۔ سچائی کی صفت ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے، لیکن معلم کے لیے بے حد ضر و ری ہے۔ جس طرح زندہ انسان کے لیے غذا کے بغیر گزارہ مشکل ہے، اسی طرح استاد سچائی کے بغیر ایک لمحہ بھی اپنی جگہ قائم نہیں رہ سکتا۔اگر اُستاد جھوٹ کا سہارا لے گا تو سب سے بڑا نقصان تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ناراض ہوجائے گا۔ دوسرا نقصان یہ ہے کہ شاگردوں کے دلوں میں استاد اور اس کے بیان کردہ یا تحریر کردہ مضمون کی وقعت ختم یا کم ہو جائے گی۔ اس سے پوری اُمت کو اجتماعی نقصان پہنچتا ہے۔ بعض اوقات شاگرد کا دل اس طرح ٹوٹ جاتا ہے کہ وہ دوسرے اساتذہ سے بھی بدظن ہوجاتاہے۔
استاد کو بدزبانی سے بھی محتاط رہنا چاہیے۔ درس گاہ میں اور درس گاہ سے باہر بھی طالبانِ علم سے گفتگو کرتے ہوئے شائستہ لہجہ اختیارکرنا چاہیے۔ بعض اساتذہ اپنے شاگردوں کو او موٹے! اے چشمے والے! اے زلفوں والے اور اوئے کالے وغیرہ جیسے الفاظ سے پکارتے ہیں۔اس طرح اُس کا مذاق اڑاتے ہیں، یہ نہایت مذموم طریقہ ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے اس عمل سے منع فرمایا ہے۔
﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا يَسخَر‌ قَومٌ مِن قَومٍ عَسىٰ أَن يَكونوا خَيرً‌ا مِنهُم وَلا نِساءٌ مِن نِساءٍ عَسىٰ أَن يَكُنَّ خَيرً‌ا مِنهُنَّ ۖ وَلا تَلمِزوا أَنفُسَكُم وَلا تَنابَزوا بِالأَلقـٰبِ ۖ بِئسَ الِاسمُ الفُسوقُ بَعدَ الإيمـٰنِ ۚ وَمَن لَم يَتُب فَأُولـٰئِكَ هُمُ الظّـٰلِمونَ ﴿١١ ﴾.... سورة الحجرات
'' اے ایما ن والو! کوئی قوم کسی قوم کا تمسخر نہ اڑائے، ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔ اور نہ کوئی عورت دوسری عورت کا مذاق اُڑائے، ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔ اور اپنے آپ پر عیب نہ لگاؤ اور نہ ایک دوسرے کو برے ناموں سے پکارو۔ایمان کے بعد فسق کے نام سے ملقب کرنا برا ہے۔ اور جس نے توبہ نہ کی تو وہی لوگ ظالم ہیں۔''
اس سلسلے میں یہی طریقہ مفید ہے کہ پڑھائی کے دوران استاد اپنے شاگرد کو اس کے نام یا کنیت سے مخاطب کرے۔ طلبہ کو نام سے مخاطب کرنے سے ان میں سبق کی طرف توجہ بڑھ جاتی ہے۔ نبیٔ کریم ﷺ صحابۂ کرام کو جو آپ ﷺ کے اوّلین شاگرد تھے، نام لے کر مخاطب فرماتے تھے۔ ایک دفعہ نبیٔ کریمﷺ نے ابو سعید خدری کو مخاطب کرکے فرمایا:
«یَا أَبَا سَعِیدٍ! مَنْ رَضِيَ بِاللّٰهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِینًا، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِیًّا، وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ»صحيح مسلم:1884
'' اے ابو سعید ! جو شخص اللہ کے ربّ ہونے پر اور اسلام کے دین ہونے پر اور محمد(ﷺ) کے نبی ہونے پر راضی ہو تو اس کے لیے جنت واجب ہے۔''
اسی طرح غیبت اور زبان کے دوسرے گناہوں سے بھی اجتناب کیا جائے۔
4. علم سے آراستہ کرنے کا جذبہ پیدا کیجیے: استاد پر لازم ہے کہ وہ طالبانِ علم کو علم سے آگاہ کرنے میں بخل سے کام نہ لے، علم و دانائی کے بارے میں کچھ پوچھا جائے تو ضرور بتائے ورنہ گناہ گار ہوگا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
«مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ عَلِمَه ثُمَّ کَتَمَه أُلْجِمَ یَوْمَ الْقِیَامَةِ بِلِجَامٍ مِّنْ نَّارٍ»جامع ترمذى:2649
''جس سے اس علم کے بارے میں پوچھا جائے جو اسے حاصل ہے، پھر وہ اسے چھپائے (اور نہ بتائے) قیامت کے دن اسے آگ کی لگام پہنائی جائے گی۔''
علم رسانی کے سلسلے میں صرف جذبہ کافی نہیں بلکہ اس کے لیے چند مزید بنیادی باتیں ضروری ہیں۔ اُستاد کے لیے ضروری ہے کہ اسے جو سبق اور جو مضمون پڑھانا ہو، اس پر اسے کامل عبور حاصل ہو، اس کے بارے میں طالبِ علم کے ذہن میں جو بھی اشکال یا سوال آسکتا ہو، اس کا حل اس کے پاس موجود ہو۔ یہ تب ہی ہوسکتا ہے جب معلّم نے متعلقہ مضمون کا بھر پور مطالعہ اور تیاری کی ہو۔ طالب ِعلم استاد کے پاس امانت ہیں، لہٰذا مضمون کی بھر پور تیاری نہ کرنا امانت میں خیانت ہے۔ بخوبی مطالعہ کے بعد اُستاد کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ اسے اظہار مافی الضمیر اور مناسب اندازِ تعبیر پر قدرت حاصل ہو، یعنی جس مضمون کا اس نے مطالعہ کیا ہے، اُسے خوبصورت اسلوب اور دل نشین انداز میں طلبہ کے سامنے بیان کر سکے۔اظہار مافی الضمیر کی صلاحیت سے مراد خطیبانہ انداز قطعاً نہیں ہے جو وعظ کی محفلوں، جلسوں اور جمعہ کے خطبوں میں اختیار کیا جاتا ہے، نہ اس سے ادیبانہ اُسلوب مراد ہے جس میں مترادفات، تکرار اور تشبیہات کی بھر مار ہوتی ہے بلکہ اس سے مراد وہ عام فہم اُسلوب ہے جو علمی مضامین کی تفہیم میں بروئے کار آتا ہے۔ اسی طرح عمدہ تدریس کے لیے نظم و ترتیب بھی بہت ضروری ہے۔مطلب یہ کہ آپ اپنا حاصل مطالعہ کیسے مرتب اور متوازن انداز میں پیش کریں جس سے سامع اور شاگرد کو فائدہ پہنچے۔ علاوہ ازیں شاگردوں کے معیار اورذہنی سطح کی رعایت بھی بہت ضروری ہے۔
5. اُستاد کو چاہیے کہ سبق پڑھاتے وقت ایسی تقریر نہ کرے جو طالبِ علم کے فہم اور استعداد سے بالاتر ہو۔ سیدنا علی ؓفرماتے ہیں:
«حَدِّثُوا النَّاسَ بِمَا یَعْرِفُونَ، أَتُرِیدُونَ أَنْ یُّکَذَّبَ الله وَرَسُولُه؟»
''لوگوں سے ان کی سمجھ اوراستعداد کے مطابق حدیثیں بیان کرو، کیا تم چاہتے ہو کہ اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی تکذیب کردی جائے؟'' صحيح بخارى تعليقاً:127
6. طالب علم کی حوصلہ افزائی فرمائیے: اُستاد کو چاہیے کہ اچھی تعلیمی کارگزاری اور درست جوابات دینے پر اپنے شاگردوں کی حوصلہ افزائی کرے اور ان کی ہمت بڑھائے۔
ایک دفعہ نبیﷺ نے اُبی بن کعب سے پوچھا: کیا تجھے معلوم ہے کہ کتاب اللہ کی سب سے عظیم آیت کونسی ہے؟ اُبی بن کعب نے جواب دیا: آیت الکرسی۔ نبیﷺ نے خوش ہو کراُن کے سینے پر ہاتھ رکھا اور فرمایا: «لِیَهْنِكَ الْعِلْمُ، أَبَا الْمنْذِرِ»صحيح مسلم:810
''ابومنذر! تجھے علم مبارک ہو۔''
7. اُستاد کو طالب علم کے حق میں دعا کرنی چاہیے:اُستاد کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے شاگردوں کے حق میں خیروبرکت اور توفیق ودانائی کی دعا کرتا رہے۔
عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ نبیﷺ قضائے حاجت کے لیے بیت الخلاگئے۔میں نے آپﷺ کے لئے وضو کا پانی لا کر رکھ دیا۔جب آپﷺ واپس تشریف لائے تو دریافت فرمایا: پانی کس نے رکھا ہے؟ جب آپ کو بتایا گیا توآپ نے دعا فرمائی:
«اَللّٰهُمَّ فَقِّههُ فِي الدِّینِ، اَللّٰهُمَّ عَلِّمْهُ الْکِتَابَ»صحيح بخارى:143
''اے اللہ اسے دین کی گہری سمجھ دے۔ اللہ! اسے کتاب (قرآن) کا علم عطا کردے۔''
8. طالب علم جواب نہ دے سکے تو استادکو بتادینا چاہیے: جب اُستاد کلاس روم میں شاگردوں سے سوالات پوچھے اور طالب علم درست جوابات دیں تو ان کی حوصلہ افزائی کر ے اور شاباش دے۔ اگر وہ جواب نہ دے سکیں تو پھر اُستاد خودصحیح جواب بتادے۔
عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہﷺ نے صحابہ سے پوچھا کہ درختوں میں ایک ایسا درخت ہے جس کے پتے نہیں گرتے اور اس کی مثال مسلمان کی طرح ہے، وہ درخت کو نسا ہے؟ اس سوال پر لوگ جنگل کے مختلف درختوں(کی بحث) میں پڑگئے، جب کوئی جواب بن نہ پڑا توانہوں نے نبیﷺسے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ ہی ہمیں بتادیں۔ آپ نے فرمایا: ''وہ کھجورکا درخت ہے۔'' صحيح بخارى:131, 62
اس حدیث مبارکہ کی رو سے اساتذۂ کرام کو بھی طلبائے عزیز کے صحیح جواب نہ دینے کی صورت میں از خود صحیح بات بتا دینی چاہیے۔