Mohaddis-347-May2011

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

گذشتہ تین ماہ سے اسلامی عرب اور مشرقِ وسطیٰ عدیم النظیر شورشوں اور استعماری یورشوں کی زد میں ہے۔ مسلمانانِ عالم اس 'لحظہ لحظہ دگرگوں' صورت حال کے بارے میں سخت بھونچکائے ہوئے ہیں، ان کے لیے یہ بھونچال جیسی 'تبدیلی کی ہوائیں' ناقابل فہم ہیں۔ عوام تو رہےایک طرف، ہمارے عالی دماغ دانشور بھی اس ہنگامہ خیز صورت حال کے پسِ پشت محرکات کے حقیقی اِدراک کے بارے میں قاصر معلوم ہوتے ہیں۔ ایک سیاسی زلزلہ ہے کہ جس کی لہریں تیونس سے اُٹھیں، بالآخر مصر، لیبیا، یمن، بحرین، شام اور اُردن میں نظام ہائے حیات کو تلپٹ کرتی اور تخت ہائے دیرینہ کو تاراج کرتی نظر آتی ہیں۔حتیٰ کہ اس زلزلے کے جھٹکے مرکزِ اسلام 'سعودی عرب' کےمشرقی ساحلوں تک محسوس کئے جارہے ہیں۔کوئی اسے 'عالم عرب میں انگڑائی' کا نام دے رہےہیں،کسی کو عالم عرب میں 'عظیم جمہوری انقلاب' کی نوید صبح سنائی دے رہی ہے؛کسی کو عوام کی اُمنگوں کو زبان مل جانے کا گمان ہونے لگا ہے۔ کسی کے خیال میں عالم عرب میں تاریخ اپنا انتقام لے رہی ہے۔ کوئی آزادی کی ہوائیں چلتے محسوس کررہا ہے۔مگر ایسے بہت کم ہیں جو اس صورتِ حال کے پس پشت کارفرما حقیقی محرکات کی نشاندہی کررہے ہوں۔
ممکن ہے مذکورہ بالاآرا میں جزوی صداقت پائی جاتی ہو، مگر حالات کاگہرا تجزیہ کرنے والے صاحبانِ بصیرت ان 'بہارآفرین' مناظر کے پیچھے بادِ صرصر کے گرداب کی نشاندہی کررہے ہیں۔ وہ چیخ چیخ کر پکار رہے ہیں کہ یہ وہ سب کچھ نہیں ہے جوفریب خوردہ بصارتیں دیکھ رہیں اور یہ وہ بھی نہیں ہے جس کاڈھنڈورا امریکی استعمار کے پروردہ ذرائع ابلاغ پیٹ رہے ہیں۔
سطح بین نگاہیں جو چاہے، ان مناظر کی تعبیر کریں مگر استعماری عزائم چھپائے نہیں چھپ سکتے۔مغربی استعمار ایک دفعہ پھر عالم اسلام پر فریب کے پردوں میں حملہ آور ہے۔ اس دفعہ وہ کچھ پرانے اور زیادہ تر نئے ہتھیاروں سے مسلّح ہے۔جنگی جہازوں او رہلاکت خیز میزائلوں کےساتھ ساتھ اس دفعہ فیس بُک،ٹویٹر، یو ٹیوب کی صورت میں سوشل نیٹ ورک کےنہایت مؤثر ابلاغی ہتھیار مذکورہ عرب ممالک میں شورشوں کو ہوا دینے میں بے حد مؤثر کردارادا کررہے ہیں۔
ہمارےخیال میں تیونس، مصر،لیبیا اور یمن میں یہ آزادی کے ترانے گونجتے سنائی دیتے نہ آمر حکمرانوں کے تخت 'عوامی' شورشوں کے نتیجے میں لرزہ براندام نظر آتے، اگر امریکہ اور یورپی استعماری ریاستیں ان تحریکوں کی پشتیبان نہ ہوتیں اورعالمی استعمار ان تحریکوں کی سرپرستی کبھی نہ کرتا، اگر اس کے عظیم معاشی اور سیاسی مفادات ان سے وابستہ نہ ہوتے۔ اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں جو کچھ ہورہا ہے اسے'تہذیبوں کے تصادم' کے موضوع پر لکھے گئے استعماری ڈرامے کا پہلا ایکٹ کہا جاسکتا ہے۔
اس خوفناک ڈرامے کی تفصیلات ایک ضخیم کتاب کی متقاضی ہیں۔ تادمِ تحریر تازہ ترین صورت حال یہ ہے کہ امریکہ، فرانس، برطانیہ اور ان کی جارحانہ افواج کی لیبیا پر یورشوں کو پورا مہینہ گزر گیا ہے۔ 14 مارچ کو امریکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے لیبیا میں 'نوفلائی زون' کے قیام اور لیبیا کی عسکری قوت کونشانہ بنانے کی قرارداد منظور کرانے میں بآسانی کامیاب ہوگیا۔ 19 مارچ کو تمام دنیا کے ٹیلی ویژن نیٹ ورک ان استعماری اقوام کے بمبار جہازوں کو لیبیا میں غارت گری کرتے دکھا رہے تھے۔ پہلے ہی فضائی حملے میں لیبیا کے حکمران کرنل معمر قذافی کے شاہی محل کو تباہ کردیا گیا۔ اس جارحانہ دہشت گردی میں اُس کے ایک نوجوان بیٹے کی ہلاکت کی خبر بھی نشر ہوئی۔لیبیا کے شہروں بن غازی، مصراط، طرابلس وغیرہ کے ہوائی اڈوں پر بمباری کے ذریعے اُنہیں پروازوں کے لیے ناکارہ بنا دیا گیا۔ 6؍اپریل کو اخبارات میں خبر شائع ہوئی ہے کہ امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ معمر قذافی کی 25 فیصد فوجی طاقت کو تباہ کردیا گیا ہے۔
امریکہ او ریورپی استعماری ممالک نے لیبیا پرحملہ برپا کیوں کیا ہے؟ کیا وہ لیبیا کے شہروں کے انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے آئے ہیں، جیسا کہ اُن کا دعویٰ ہے؟ کیا اُنہیں کرنل قذافی کی آمرانہ حکومت کا خاتمہ مقصود ہے اور وہ لیبیا کے عوام کو جمہوریت کی 'برکتوں'سے مستفید ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں؟ کیا لیبیا میں ایسے حالات پیدا ہوگئے تھےکہ جن کی وجہ سے ایک آزاد اور خود مختار مسلمان ملک کی بین الاقوامی سرحدوں کو روندتے ہوئے اس پرحملہ کرنے کا جواز پیدا ہوگیا تھا؟ ان سب سوالات کا جواب نفی میں ہے۔
آئیے اس اہم سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کریں کہ عالمی استعمار نے لیبیا کو اپنی جارحیت کانشانہ کیوں بنایا ہے؟ انگریزی اخبارات کے توسط سے ہمیں اس طرح کے اہم موضوعات پر عالمی ضمیر کے حقیقی ترجمان دانشوروں اور صحافیوں کی آرا کا علم ہوتا ہے۔چند ایک نامور شخصیات اور عالمی اُمور کے ماہرین اورامریکی استعماری عزائم کے رازداں صحافیوں کی آرا اور تجزیے ملاحظہ فرمائیے:
1. فیڈل کاسترو عرصہ دراز سے کیوبا کےحکمران چلے آتے ہیں۔ وہ کمیونزم کےفلسفہ کی بنیادپر اقتدار میں آئے۔امریکی سیاستدان فیڈل کاسترو کی شخصیت سے ہمیشہ مرعوب رہے ہیں۔برطانیہ کے ایک مشہور اخبار Counter Punch میں ان کامفصل مضمون شائع ہوا ہے۔ فیڈل کاستر و کہتے ہیں:
The US concern in Libya has never been about human rights.
'' لیبیا میں انسانی حقوق کے بارے میں امریکہ کو کبھی تشویش نہیں رہی۔''
وہ مزید لکھتے ہیں:
''وہ فریبی جال جو سیکورٹی کونسل، جنیوا میں ہیومن رائٹس کونسل اور نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں لیبیا کے خلاف بُنا گیا ہے، یہ خالصتاً ایک تھیٹر (ڈرامہ) تھا۔''
''میں ان تضادات کے شکار سیاسی راہنماؤں کے ردّعمل کو بخوبی سمجھتا ہوں، وہ اپنے مخصوص مفادات کے چکر میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ہم بخوبی جانتے ہیں کہ سیکورٹی کونسل کے مستقل رکن کی حیثیت ، ویٹو کا اختیار، نیوکلیئر ہتھیاروں کی موجودگی اور اسی طرح کے دیگر ادارے اور ذرائع ہیں جنہیں یہ طاقت کے ذریعے انسانیت پرمسلط کرتے ہیں۔ ہم ان سے اتفاق کریں یا نہ کریں، مگر ان اقدامات کو اخلاقی اور عادلانہ ہرگز تسلیم نہیں کرسکتے۔''
''میرے خیال میں،جیسا کہ میں نے شروع ہی سے کہا ہے، ہمیں نیٹو (NATO) کے جنگی جنون پر مبنی تمام منصوبوں کی مذمت کرنی چاہیے۔''1
کیوبا کے عمر رسیدہ اشتراکی رہنما کے یہ خیالات امریکی استعمار کے خلاف عالمی ضمیر کی ترجمانی قرار دیئے جاسکتے ہیں۔ یاد رہے کہ فیڈل کاسترو کا یہ مضمون لیبیا پر نیٹو کے حملوں سے تقریباً ایک ہفتہ قبل شائع ہوا۔
گذشتہ چند صدیوں کے دوران جب سے یورپ کو عالم اسلام پر سیاسی، معاشی اور عسکری غلبہ ملا ہے، اس نے اسلامی ریاستوں کے وسائل پر قبضہ کرنے کے لیے بےحدمکروفریب اور شاطرانہ چال بازیوں سےکام لیاہے۔ آپ اٹھارہویں اور انیسویں صدی کی یورپی استعمار(Imperialism) کا مطالعہ کیجئے، آپ حیران ہوں گے کہ وہ ایشیا اور افریقہ کے لوگوں کو غلام بنانے کے لیے اُنہیں ' مہذب' بنانےکاجواز پیش کرتے تھے۔ یہ مکروفریب مغربی استعمار کی ڈپلومیسی کا مستقل عنصر رہا ہے۔ 2003ء میں امریکی صدر جارج بش نے عراق پرحملہ کرنے کے لیے صدر صدام حسین کے قبضے میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کو ختم کرنے کا فریب وضع کیا ،بعد میں امریکیوں نے اس کے ساتھ ساتھ عراقی عوام کو 'جمہوریت اور آزادی' سے ہم کنار کرنےکو اپنا مقصد بنا لیا اور آج تک نہایت ڈھٹائی سے یہی راگ الاپ رہے ہیں حالانکہ خود مغربی ذرائع ابلاغ نے ثابت کردیاکہ WMD(وسیع پیمانے پر تباہی کے ہتھیار) کا کوئی وجود نہیں تھا۔ کون نہیں جانتا کہ عراق پر قبضہ کرنےکے حقیقی عزائم اور مقاصد کیا تھے؟
2. معروف عرب صحافی اور دانشور اعصام الامین کے الفاظ ہیں:
But his real aim was to impose American hegemony and control over this strategic region with potential military bases.
''لیکن اس (جارج بش) کا حقیقی مقصد یہ تھا کہ اس تزویراتی اہمیت کےعلاقے میں امریکی اثرورسوخ اور کنٹرول قائم کیا جائے جہاں فوجی اڈّے قائم کئے جاسکتے ہیں۔''
عالمی ذرائع ابلاغ میں سینکڑوں مضامین او رکالم شائع ہوئے جس میں اس جنگ کو 'تیل کے لیے جنگ' (War for Oil)کا نام دیا گیا تھا۔
اعصام الامین مزید لکھتے ہیں:
''لیبیامیں جاری مہم جوئی بھی اس سے مختلف نہیں ہے۔ لیبیا اگرچہ 60 لاکھ آبادی کا ایک چھوٹا سا ملک ہے مگر اس میں42 بلین بیرل تیل (جو امریکہ میں ایسےذخائر کا دُگنا ہے) اور5ء1ٹریلین کیوبک میٹر قدرتی گیس کے ثابت شدہ ذخائر پائے جاتے ہیں۔اسی طرح سلفر(Sulfur) کولیجئے۔ دنیامیں اس کی صاف ترین اور سستی ترین سلفر لیبیا میں موجود ہے، اسے نکالنے کے لیے ایک ڈالر فی بیرل سےبھی کم خرچ آتاہے۔یورپ سے لیبیا کی جغرافیائی قربت کی وجہ سے اسے لے جانے کے اخراجات بھی سستے ترین ہیں۔''
مغربی استعمار نے لیبیا کے وسائل پر قبضہ کرنے کے لیے کس قدر سُرعت اور برق رفتاری سے چند دنوں میں سارے مراحل طے کرلیے۔ میں اس برق باشی کواعصام الدین کے الفاظ میں بیان کرنا چاہوں گا۔ وہ لکھتے ہیں:
''17 فروری کو لیبیا کے عوام کی طرف سے معمر قذافی کے 42 سالہ دورِ استبداد کے خلاف پُرامن احتجاج کے فوراً بعد امریکہ، برطانیہ اور فرانس کی قیادت میں مغربی ممالک نے قذافی کو تنقید کا نشانہ بنایا، چند ہی دنوں میں اقوام متحدہ نے کئی قرار دادیں منظور کرلیں، لیبیا کے آمر، اس کے بیٹوں اور دیگر قرابت داروں کے اکاؤنٹس کو منجمد کردیا گیا، نوفلائی زون قائم کردیئے گئے اور دیگر فوجی اقدامات کاان ممالک کو اختیار دے دیا گیا۔مزعومہ مقصد کیا تھا؟ شہریوں کا تحفظ''2
ہم جانتے ہیں کہ مصر، یمن، بحرین، شام ، مراکش اور تیونس میں بھی پُرتشدد احتجاج کرنے والوں پر گولیاں چلائی گئیں، ان ممالک میں بھی بہت سی اموات واقع ہوئی ہیں۔ بحرین میں تو امریکہ کا پانچواں بحری بیڑہ بھی موجود ہے، مگر وہاں امریکہ نے فوجی مداخلت نہیں کی۔ یمن میں صدر علی عبداللہ صالح کی فورسز نے عوام کو گولیوں کانشانہ بنایا مگر ان ممالک میں امریکہ اور مغربی ممالک کا جواب او رردّعمل بہت ہی کمزور رہا ہے تو پھر لیبیا کو اس 'خصوصی التفات'کا مستحق کیوں سمجھا گیا؟ اس کا سادہ سا جواب یہی ہوسکتا ہے کہ لیبیا کے تیل اور گیس کے وسیع ذخائر استعماری ریاستوں کی یلغار کا حقیقی سبب ہیں۔
گذشتہ چند دہائیوں میں بے حد تواتر سے یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ ویت نام سے ہزیمت اُٹھانے کے بعد اب امریکی حکومت جس ملک پر جنگ مسلط کرنا چاہتی ہے، اس کے لیے اقوام متحدہ کی منظوری کا پردہ(Cover)استعمال کرتی ہے اور اسے خالصتاً امریکی جنگ کی بجائے 'اقوام عالم کی جنگ' بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔اس کے لیے'انسانی حقوق' اور 'انسانیت کے تحفظ' کے بلند بانگ دعوؤں کا ڈھول بھی خوب پیٹا جاتا ہے۔ امریکی جانتے ہیں کہ عراق اور افغانستان پر جارحیت کے بعد مسلمانانِ عالم ان سے کتنی نفرت کرتے ہیں؟ یہی وجہ ہے کہ لیبیا میں اپنے خفیہ استعماری عزائم کی تکمیل کے لیے امریکہ کو کافی 'اخلاقی مسائل' کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔اس لیے وہ لیبیا پر حملے کے لیے ایک دفعہ پھر NATOکو گھسیٹ لائے ہیں اور اس جنگی تھیٹر میں رقصِ ابلیس کی قیادت کے لیے فرانس کو آگے لایا گیا ہے جہاں سرکوزی نام کا ایک انتہائی متعصّب شخص صدارت کنے منصب پربراجمان ہے۔ لیبیا میں نو فلائی زون کاشوشہ بھی سب سے پہلے فرانسیسی صدر کے منہ سے چھوڑا گیا۔
3. پیپ ایسکوبار(Pepe Escobar)بہت معروف امریکی دانشور ہیں۔ وہ گلوبلائزیشن کے موضوع پر متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔ ان کے حالیہ کالم کا عنوان ہے:
"Welcome to the new NATO quagmire"
''نیٹو کی نئی دلّالی کی طرف خوش آمدید!''
ایسکو بارنے اپنے کالم میں اپنے تئیں ایک خوبصورت لیکن درحقیقت دردناک جملہ تحریر کیا ہے۔ وہ لکھتا ہے:
"Libya now is official victim of the endless war club."
''اب لیبیا اس نہ ختم ہونے والے جنگی کلب کا سرکاری شکار ہے۔''
ایسکو بار نےنیٹو کے قیام کے مقاصد اور اس کی تازہ فوجی کارروائی پرتنقیدکرتے لکھا ہے:
''نیٹو کے بارے میں سب کا خیال تھا کہ اس کے قیام کامقصد یہ تھا کہ کمیونسٹوں کے حملوں کے خلاف یورپ کا دفاع کیا جائے مگر اب لیبیا اس جنگی ملک کا نیا شکار بنا ہے۔''
NATOنے لیبیا کے آپریشن کو Odyssey Dawn (صبح کی اُڑان) کانام دیا گیاہے۔ ایسکو بار نےلیبیا پر حملے کوCoup de theatre (قبضہ تھیٹر)قرار دیا ہے۔ یاد رہے جب کوئی فوجی جرنیل کسی حکومت کا تختہ الٹتا ہے اُسے Coup de etat (فوجی قبضہ)کہا جاتا ہے۔ اُس نے اس حملے کی حقیقت بیان کرتے ہوئے تبصرہ کیا ہے:
''نیٹو تھیٹر کے بظاہر اجماعی حملے سے اصل حقیقت تبدیل نہیں ہوسکتی کہ یہ'صبح کی اُڑان'درحقیقت ایک امریکی جنگ ہی ہے۔ ہاں وائٹ ہاؤس اسے'محدود وقتی، محدود فوجی ایکشن'کہہ رہا ہے۔ (Time limited scope, limited military action)
''فی الوقت تو یہ نیٹو کے جنرل کارٹر ہام(Carter Ham)کی قیادت میں ایک 'محدود وقتی' آپریشن ہے مگر کچھ دنوں میں یہ'محدود وقتی' حملہ امریکی ایڈمرل جیمس سٹاروڈز James Starvidis کی کمانڈ میں دے دیا جائے گا جونیٹو کے ٹاپ فوجی کمانڈر ہیں۔''
ایسکو بار نےفرانسیسی صدر کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اُسے 'نیا نپولین صدر' لکھا ہے۔یاد رہے کہ 1888ء میں نپولین بونا پارٹ نے لیبیا اور مصر پر حملہ کیا تھا۔ فرانسیسی صدر کی خواہش تھی کہ فرانس کے میراج طیارے لیبیا پر حملہ کرنے والے جنگی جہازوں کی قیادت کریں۔اُس کی اس 'نیک' خواہش کو نیٹو نے پذیرائی بخشی۔
4. مشرقِ وسطیٰ پرجب بھی حملہ کی بات ہوتی ہے، یورپی مسیحی اقوام میں اب بھی صلیبی جذبات جاگ اُٹھتے ہیں۔واضح رہے کہ لیبیا حالیہ استعماری یورش میں عرب لیگ کا کردار بھی افسوس ناک ہے۔ عرب لیگ نے لیبیا پر نو فلائی زون کی نہ صرف حمایت کی ہے بلکہ قطر نے تو اپنے جہازوں کا ایک بیڑہ اس مقصد کے لیے ارسال کرنے کاوعدہ بھی کیا ہے۔
ترکی ایک مسلم ملک ہونے کے ساتھ ساتھ NATOکا رُکن بھی ہے مگر پیرس کا وہ اہم اجلاس جس میں لیبیا پر حملوں کی حکمتِ عملی کو آخری شکل دی گئی، اس میں ترکی کو دعوت نہیں دی گئی، اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ ترکی کے وزیراعظم طیب اردگان نےلیبیا میں نو فلائی زون کے قیام کی مخالفت کی تھی۔طیب اردگان نے زور دیا کہ لیبیا میں نیٹو کے مشن کا واحدمقصد ''لوگوں کا تحفظ، اقوام متحدہ کی طرف سے ہتھیاروں پر پابندی اور انسانی امدادکی فراہمی'' ہونے پر زور دیا تھا۔ استنبول میں ایک بہت بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ترک وزیراعظم جناب طیب اردگان نے فرمایا:
''میری یہ خواہش ہے کہ وہ لوگ جو لیبیا میں صرف تیل، سونے کی کانیں اور زیر زمین قیمتی ذخائر کو ہی دیکھتے ہیں،وہ اس خطے کو ضمیر کے آئینے میں بھی ضرور دیکھیں۔''3
ایسکو بار نے ان مسلمان حکمرانوں کو "Clowns"(مسخرے) قرار دیا ہے جو کسی نہ کسی طریقے سے لیبیا پر نیٹو کی فوجی جارحیت کی حمایت کررہے ہیں یا اس کی کھل کر مذمت نہیں کررہے۔ حتیٰ کہ اُس نے ترکی کے وزیراعظم کوبھی استثنا عطا نہیں کیا۔
(محمد عطاء اللہ صدیقی)

حوالہ جات
1ڈیلی ٹائمز:13/مارچ2011ء
2روزنامہ Counter Punch بحوالہ ڈیلی ٹائمز26مارچ2011ء
3ڈیلی ٹائمز:26مارچ2011ء