ایران کے بلند پایہ شیعہ عالم اورمفکر کی طرف سےچند تجاویز

شیعہ سنی نزاع جتنا گہرا ہے حقائق کےاعتبار سے اتنا ہی سطحی ہے کیونکہ شیعہ دوستو ں نے اپنے مزعومات کی بنیاد جن امور پر رکھی ہے وہ علمی جذباتی زیادہ ہیں اس لیے اگر حقیقت پسندی سے کام لیا جائے تو نزاع کی سطحی بھول بھلیوں سے چھٹکارا مل سکتا ہے۔

اس موضوع پر ایران کے ایک اہل علم شیعہ فاضل نے ایک رسالہ تحریر فرمایا ہے جوقابل مطالعہ ہے جناب منظور احسن عباسی مدظلہ کو اللہ تعالیٰ جزائے خیر دےکہ انھوں نےاردو میں اس کی تلخیص پیش کرکے ملی وحدت کےمتلاشیوں کےلیے چند تجاویز مہیا فرمائی ہیں جس کےلیے ادارہ موصوف کا شکرگزار ہے۔

ادارہ

ملت اسلامیہ کےدومشہور فرقوں سنی اور شیعہ کےدرمیان جوباہمی مناقشات ہیں ان کودور کرنےکی ایک عام خواہش ہر فرد مسلم کے دل موجزن ہے ۔دونوں فرقوں کازعماء نے اس کے لیے جو کوششیں کی ہیں ان میں تہران کےمشہور شیعہ عالم ڈاکٹر صادق تقوی کا ایک مختصر رسالہ موسومہ موازین مذہب حقہ جعفری جو چند سال بیشتر ایران سے شائع ہوا ہے راقم الحروق کےخیال میں نہایت قابل غور ہے۔

شیعہ سنی اختلاف:

انھوں نے اس رسالے میں دونوں فرقوں کےدرمیان اختلاف کا ذمہ دار صرف سنیوں کو نہیں بلکہ دونوں فرقوں کے علماء کوٹھہرایا ہے۔چنانچہ ان کی تحریر بغور مطالعہ کہاجائے توظاہر ہوگا کہ انھوں نےشیعہ علماء پر زیادہ الزام عائد کیا ہے اورباہمی اتحاد واتفاق کےلیے جو تجاویز پیش فرمائی ہیں ان کا روئے سخن بیشتر علمائے شیعہ کی جانب ہے۔

مذہب جعفری:

آغاز کتاب میں انھوں نےاتباع کتاب وسنت کو مذہب اسلام کی اساس قرار دیا ہے اور بتایا ہےکہ مذہب جعفری حق ہے کیونکہ اس کی بنیاد بھی کتاب وسنت پر ہے اس کے ثبوت میں انہوں نےانحضرت ﷺ کی یہ حدیث پیش کی ہے کہ:

لوگو! میں تم دو چیزیں چھور کر جارہا ہوں جب تک تم اسے تاپنائے رہو گے گمراہ نہ ہوگے ۔ایک چیز کتاب اللہ اور دوسری سنت رسول اللہ ۔ترجمہ

اس کے بعد رسول اللہﷺ کا یہ ارشاد ہے کہ:

میں دوبیش بہا جواہر تم چھوڑ کر جارہا ہوں ایک کتاب اللہ اور دوسری میری عزت ''

لیکن اس حدیث میں لفظ عزت کے جو معنی شیعہ سمجھتے۔بلکہ ان کے خیال میں یہ حدیث یاتو موضوع ہے اوریا پھر عزت کا مفہوم حضور کی سنت یا حقیقی معنوں میں قرآن کی تبلیغ کرنےوالے ہیں جس میں جضرت علی حضور اکرمﷺ کی اورلاد ان کی اصحاب اور صالح اہل قبیلہ سب شامل ہیں۔اس کی دلیل یہ ہے کہ پیغمبر اسلام کی اولاد نرینہ نہ تھی اور ان کی صاحبزادی حضرت فاطمہ کی اور حضرت علی کی اولاد پر منحصر نہیں پھر یہ بھی ہے کہ کتاب وسنت کےدو معیاروں کو اسلام کےجملہ مسلکوں نے تسلیم کیا ہے۔لہذا یہی باہمی اتحاد کا وسیلہ اولین ہے۔

کتاب وسنت کےمطالب:

مطالب کتاب وسنت کی تعیین وتخقیق کےبارے میں ان کی رائے مختصرا یہ ہے کہ قرآن حکیم میں کچھ مطالب مفصل ہیں اورکچھ مجمل ہیں جوباتیں تفیصل کےساتھ مذکور ہیں وہ اعتقادی مسائل ہیں۔ تمام مسلمانوں کو اس پر قائم رہنا چاہیے۔اور جن مسائل فکرنظر کی ضرورت ہے ایسے فکری مسائل کواحادیث صحیحہ کی روشنی میں متعین کرنا چاہیے۔ نیز ایسے عقائد جن کا ثبوت قرآن حکیم کی قطعی دلیلوں سے نہ ہوا ان کو نظر انداز کردینا چاہیے(اس سے شاید ان کا مطلب یہ ہےکہ فریقین کوایسے مسائل سےتعرض نہ کرنا چاہیے) تاکہ مسلمانوں کا ذہنی بوجھ ہلکا ہوجائے۔

سنت کی تین قسمیں:

تحقیق وتعین سنت کے باب میں انھوں نے بتایا ہے کہ اس کی تین قسمیں ہیں ۔ایک عرفی کہ قرآن میں اس کاذکر نہیں ہے لیکن عام طور پر لوگ اس پر عمل پیرا تھے۔مثلا وہ نجاستیں جن کا ذکر قرآ ن میں نہیں ہےچنانچہ خون اورنشہ آور شراب کےسوا تمام نجاستیں عرفی ہیں ۔اس باب میں اہل اسلام کےدرمیان بہت کم اختلاف ہے۔

دوسری قسم وہ ہےجو مسلمانوں کا دستور عمل ہے۔ان میں جوا ختلاف بعد میں ہوئے ہیں ان کوتاریخ کی روسے تحقیق کرکے دو کیا جاسکتا ہے۔(1)

تیسر قسم میں ایسے مسائل ہیں جن کی ضروت برسوں مہینوں میں کبھی کبھی پڑتی ہے۔ مثلا زکوۃ اورخوں بہا کی مقدار میں تعین ان امورمیں جواختلاف ہیں وہ بےحقیقت ہیں اور باآسانی دور کیےجاسکتے ہیں۔

ان کےعلاوہ تحقیق وتثتبیت سنت کے لیے ڈاکٹر صاحب نےعقل وفراست سےکام لینے کی اہمیت پر بھی زور دیا ہے۔لیکن چونکہ ہر شخص اپنے آپ کو عقلمند تصور کرتا ہےاور دینی معاملات میں خودرائی سے خرابی پیدا ہوتی ہے اس لیے انھوں نےقرآن ارشادات کی مطابق ارباب عقل فہم کو باہمی مشورہ سےتصفیہ(2) معاملات کی تاکید کی ہے اور اس پر اظہار افسوس کیا ہےکہ ملت اسلامیہ کےمختلف المسالک علماء نے اس طرف خاطر خواہ توجہ مبذول نہیں فرمائی۔

شیعی سنی روایات:

اس سلسلہ میں خصوصیت کےساتھ شیعی علماء کی توجہ حضرت ممدوح نے غیر یقینی محض خیال اورخود ساختہ(یاموضوع) روایات پروثوق کرنے سےمنع فرمایا ہے۔یہی مضمون بعینہ اصول کافی میں امام جعفر سےمنقول ہے۔

اس کے بعد ڈاکٹر موصوف علماء شیعہ پر الزام لگایا ہےکہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی اتباع کادعوٰی کرنےکےلیے باوجود انھوں نےسنیوں کس طرح ظنی غیر یقینی اورخود ساختہ روایات پر بھروسہ کیا جوصریحا قرآن اورتصریحات ائمہ شیعہ کےخلاف ہے۔انھوں نےتاریخی پس منظر میں محدثین اہل سنت والجماعت زہری مالک بن انس ابو حنیفہ محمد بن ادریس شافعی دارمی ابوداؤد فارسی احمد بن حنبل مسلم نیشاپوری بخاری ابن ماجہ قزوینی ترمذی اور نسائی خراسانی کےمجموعہ احادیث پر تنقید کی ہے اوربتایا ہے کا ان ہزاورں احادیث قرآن کےخلاف ہیں لیکن مسلک یا مذہب کی بنیاد قرار دیا ہے۔ اس کےبر خلاف علمائے شیعہ کےاس طرز عمل پر افسوس کااظہار کیا ہےکہ انھوں نےسنیوں کےمندرجہ بالا بارہ مجموعوں سے قرآن کےخلاف ناقابل یقین روایات کواختیار کرکے ان روایوں کےنام بدل دیئے اورایسے اشخاص کےنام شامل کردئیے جن کاوجود ہی یاتو ان سر ے سے معلوم نہیں ہے اوریا ان کی ثقاہت مجہول ہےتاکہ اگر کوئی سنی اس سے انکار کرےتو وہ کہ سکیں کہ یہ روایات تمہاری کتابوں میں موجودہے

شعیہ کتب روایات پرتنقید

ان کتابوں میں ایک مموعہ اصول وفروع کافی ہےشخص کلینی متوفی328ہجری کی تالیف اورموجود مذہب کاسبب سے پہلا مجموعہ روایات حدیث ہے۔

اس کے باب میں علامہ تقی کر رائے یہ ہےکہ اس کتاب میں واضح طور پر قرآن کےخلاف اورغلط مسائل درج ہیں اوردونوں کتابیں (اصول وفروع) حضرت علی اورامام جعفر صادق کی رہنمائی سےمتصادم اوراہل سنت کی کتب احادیث کی طرح مشکوک ہیں۔اس کتاب کی بابت کہا جاتا ہےکہ اس کےمسائل امام جعفر صادق کےچار سوشاگردوں نےامام موصوف سےسن کر محفوظ کیے ہیں۔ اوربعض کہتے ہیں کہ یہ مسائل چار سوائمہ شیعہ کےارشادات کامجموعہ ہیں علامہ تقی نےدونوں خیالات کی تردید کی ہے۔

دوسری کتاب من الایحضرہ الفقیہ ہے جوشیخ صادق ابو جعفر محمد المتوفی 281ہجری کی کتاب ہے ۔ جناب تقی نے اس کتاب کو بھی فروع کافی کی طرح متناقص روایات کا مجموعہ قرار دیا ہے اوربتایا ہےکہ ان جھوٹی روایتوں کو ائمہ شیعہ کی طرف منسوب کیاگیا ہے۔اور لکھا ہے کہ یہ باب بڑی دلچسپ ہےکہ عہد میں ایک نیا فرقہ جو مفوضہ کےنام سے معروف تھا ۔جنھوں نےاصول کافی کی ایک روایت کی بنا پر ائمہ شیعہ کےبارے میں حد سے زیادہ مبالغہ کام لیا ہے اوراذان اوراقامت کے الفاظ میں ولایت وامامت علی کی شہادت کااضافہ کر دیا تھا۔شیخ صدوق نےجنھوں نےکلینی سےاسلام اورقرآن کاعلم حاصل کیا فرقہ مفوضہ کوان کےاس عمل پر لعنت کا حق دار قراردیا ہے۔

ان دو کتابوں کے علاوہ علامہ تقی نےشیخ طوسی المتوفی 460ہجری کی کتابوں تہذیب وابصار کےباہمی اختلاف کاذکر بھی کیا ہےا ور بتایا ہے کہ علمائے شیعہ کہتے ہیں کہ آنکھ بند کرکے ان کتابوں کی پیروی نہ کرنی چاہیے بلکہ لازم ہے ہر عہد کےزندہ مجتہد مثلا شیخ طوسی وصدوق و کلینی کی پیروی کی جائے۔

جن کتابوں پرمذہب شیعہ کی بنیاد ہے جناب تقی نے ان کی اور ان کےمصنفین کے خیالات کی تصنیف کےبعد موجود دنیائے شیعہ میں مختلف مسالک شیعی کی کیفیت بھی بتائی ہے اورلکھا ہے کہ پیروی مسالک مختلفہ کو لازم تھا کہ کتاب وسنت کےمعیار کے مطابق باہمی مشورہ سے اختلاف کو دور کرتے لیکن وہ اس بات پر تیار ہی نہیں ہیں کہ علی اورآل علی کی پیروی کریں جن کو جھوٹ موٹ کووہ تفصیل یہ بتائی ہے کہ:

مختلف مسالک شیعہ:

موجود شیعی مذاہب میں سے پہلا مسلک زیدی ہےجوزیدی بن علی بن حسین کےنام سےمشہور اور مسلک اہل سنت سے قریب تر ہے۔

دوسرا مذہب اسماعیلی ہےجن کہنا ہے کہ امام جعفر صادق کےبعد ان کا فرزند اسماعیل امام تھا(نہ کہ امام موسیٰ کاظم)

تیسرا مسلک شیعہ ہشت امامی ہےجوامام ہشتم امارضا تک ائمہ کومانتے ہیں ان کا عقیدہ یہ ہےکہ امام موصوف کے بعد ان کےاقطاب اصحاب وحی ہیں اوراب شریعت پیغمبر کی پیروی لازمی نہیں ہے۔

چوتھا مسلک شیعہ یازوہ امامی یا نصریہ ہے اور امام حسن عسکری تک کےاماموں کو مانتے ہیں ۔ ان کےمسلک کی بنیاد امام حسن عسکری کےوکیل ابن فصر کی رہنمائی پر ہے۔

پانچواںشیعہ اثنا عشری ہیں جن کا عقیدہ ہے کہ ان آخری اما حسن عسکری کافرزند ہےجن کی کوئی منکوحہ بیوی نہ تھی بلکہ ان کی کنیز نرگس یامریم قیصرروم کی بیٹی تھی جس کےبطن سےبارھویں امام پیدا ہوئے اور اتنی سال غائب ہوگئے اوراخیر زمانہ میں پھر ظاہر ہوں گے۔(ان سےمراد امام مہدی ہیں)

فرقہ اثناء عشریہ کی شاخیں ۔

پھریہ فرقہ اثنا عشریہ کی بھی مختلف شاخیں ہیں ۔مجملہ ان کے ایک اخبار ہےجو کہتے ہیں کہ امام کےہرقول کوتسلیم کرنا واجب ہے۔خواہ وہ اقوال متضاد ہوں۔علامہ تقی کا کہناکہ شیخ کلینی شیخ صدوق اور شیخ طوسی کا یہی مسلک ہے۔

دوسرا فرقہ اصول ہےجن کاعقیدہ یہ ہےکہ روایات کوقبول کرنےکےچند اصول ہیں۔ یہ اصول تقریبا دس ہیں جواہل سنت کےنزدیک معتبر ہیں جن کےقبول کرنےکے چند اصول ہیں۔یہ اصول تقریبا دس ہیں جو اہل سنت کےنزدیک معتبر ہیں جن کوقواعد اصول کہا جاتا ہے۔

تیسرافرقہ شیخی ہے ۔ان کاعقیدہ ہےکہ ہر عہد میں بارھویں امام کی طرف سےایک سربارہ دینی متعین ہوجاتاہےجوکچھ وہ کہے اس کے تسلیم کرنے میں چون وچرا کی گنجائش نہیں یہاں تک کہ اگر خلافت قرآن بھی کچھ کہےتو اس کورد نہیں کیا جاسکتا۔

موجودہ مذہب شیعہ: عہد حاضر میں شیعہ اثنا عشریہ کےبیشتر علماء بالخصوص ایران کےشیعہ خود کواصولی کہتے ہیں ۔لیکن جناب تقی کے کوئی شیعہ پورے طور اصولی نہیں نہیں ہے بلکہ ایک حدتک یہ اخباری اورتصوف دونوں کاملعوبہ ہے۔چنانچہ اگر کسی مجلس وعظ میں مسلک اخباری یا صوفیانہ یاشیخی مسلک کےمطابق مبالغہ آمیز تقریر ہورہی ہوتو ان کوئی اعتراض نہین ہوتا۔

فرقہ مفوضہ: اس سلسلہ میں جناب تقی کےایک اورفرقہ کاذکر کیا ہےجسے مفوضہ یا علات کہتے ہیں جس کا ظہور شیخ صدوق کےزمانے (یعنی چوتھی صدی ہجری) ہوا ۔ ان لوگوں کاعقیدہ یہ تھا کہ خدانے اماموں کےبعد امور خلائق کوانھیں تفویض کردیا ہے۔ انھوں نےاذان اوراقامت میں اشهد ان محمد رسول الله كےبعد أشهد أن عليا ولي الله ياأشهد أن عليا أمير المومنين حقاوغيره الفاظ کا اضافہ کردیا ہے۔ جس کےباعث شیخ صدوق نےان اشخاص کولعنت کامستحق قرار دیا ہے(جیساکہ پہلے عرض کیا گیا)

اس تفصیل کےبعد ڈاکٹر صادق تقوی نےاس امر بر اظہار افسوس کیا ہےکہ اگرچہ اس وقت دنیائے شیعی میں فرقہ مفوضہ یاغلات کاوجود نہیں ہےلیکن اس وقت شیعوں کے تمام فرقے خواہ وہ اخباری ہوں یااصولی شیخی ہوں یاصوفی عقیدہ اورعمل میں کم وبیش سب کےسب مفوضہ ہیں اورمذہب جعفری یعنی اسلام سےکوسوں دور ہیں ۔اگراحیانا علمائے شیعہ میں کوئی حق پسند ہوبھی تواکثریت سےمرعوب ہوکر زبان کشائی کی جرات نہیں کرتا اورتقیہ سےکام لیتاہے۔البتہ گیارھویں صدی ھجری میں علامہ شیخ حرعاملی نے اپنی کتاب وسائل الشیعہ میں اس کاذکر کیا ہے لیکن ۔مقام افسوس ہے کہ علماء کےسوا کسی کو اس کی خبر نہیں ہے۔علماء شیعہ نےاس حقیقت کو مخفی رکھا ہے۔ایسی صورت میں بہتر یہی ہےکہ ہم ان علماء کوقطعی طور پر بیشتر شیعہ کو بالعموم مفوضہ قرار دیں۔

فرقہ شیعہ کی بدعات ۔تبصرہ :ہر چند کہ علامہ صادق تقی کایہ قول تلخ شیعہ اصحاب کوناگوار ہو لیکن اس کی حقیقت وصداقت سےانکار نہیں کیا جاسکتا۔اس کاثبوت یہ ہےکہ حال میں پاکستان کےشیعی علماء وزعما نے شیعہ بچوں کےلیےجونصاب دینی پسند فرمایا ہےاس میں خصوصیت کےساتھ مفوضین کی سردی کی گئی ہے اوروہی الفاظ اذان واقامت بلکہ کلمہ طیبہ میں اضافہ کیےگئے ہیں ۔جن کی مخالفت شیخ صدوق وغیرہ شیعی فقہاء محدثین نے کی ہے اور اس کی قسم کی بدعات کو مستوجب لعنت قرار دیا ہے۔

جناب صادق تقی نےاپنے اس رسالہ میں خصوصیت کےساتھ ان بدعتوں کی نشاندہی فرمائی ہےجوشیعہ مذہب کےعلماء نےکتاب وسنت کےخلاف دین اسلام میں داخل کرائے ہیں انھوں نےبجاطور پر تمام علمائے اسلام سےقطع نظر اس کے کہ وہ شیعہ ہوں یاسنی یہ مطالبہ کیا ہےکہ موجب ارشاد حضرت علی وجملہ اصحاب پیغمبر علیہ السلام بالخصوص امام جعفر صادق ﷫ محض کتاب وسنت کی پیروی پر کاربند ہوں اورعلمائے حق پسند کےباہمی مشورہ سے ایک دینی دستور العمل تیار کریں جوسب کےلیے قابل قبول ہو۔تاکہ ہرقسم کےخطرات سیاسی واجتماعی وعلمی سے محفوظ رہیں۔

اصول استنباط مسائل:

کتاب وسنت سےاستنباط مسائل کےلیے انھوں نےایک درجن اصول پیش کیے ہیں ۔جن میں نہایت ضروری امریہ ہےکہ اہل تحقیق قرآن حکیم کی زبان سے پورے طور پر واقف ہوں اور محض ایک آیت کے پیچھے پڑ کر اپنا مطلب نہ نکالیں بلکہ بحیثیت مجموعی قرآن پر نظر رکھیں ۔اورخود رائی سے ہرگز کام نہ لیں۔مجموعہ احادیث میں سے ان کےنزدیک موطا امام مالک کو سب سےزیادہ اہمیت حاصل ہے۔اس کامطلب انھوں نےیہ بتایا ہے کہ امام جعفر صادق ﷫ اور دوسرے تمام ائمہ شیعہ کوئی دینی کتاب چھوڑ کرنہیں گئے اور مبارزوں مذہب تراشوں ن متفرق اجتہادوں کےسوا اور کوئی کام اپنے عہد میں نہیں کیا۔ البتہ خود کتاب وسنت کےحامی رہےہیں۔

مؤلف نے اپنے اس رسالہ میں صرف ان بدعات سیئات کاذکر کیا ہےجو کتاب وسنت کے منافی اور ارشادات علی وائمہ کےقطعا خلاف ہیں حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کےدو فرقوں شیعہ سنی کےدرمیان اختلاف وشقاق کی بنیاد یہی بدعات ہیں۔

مسئلہ خلافت:

ڈاکٹر تقی نے اس خیال کی تردید کی ہے کہ سنی وشیعہ کےدرمیان جو اختلاف ہے اس کی بنیاد خلافت کا معاملہ ہے۔ان کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کےدرمیان خلافت کےبارے میں یہ اختلاف آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد دوسری صدی ہجری میں پیدا ہوا جب کہ خود غرضوں نےائمہ شیعہ کو دربار خلفائے عباسیہ میں بدنام کرنے کےلیے یہ فتنہ اٹھایا۔اس سے پہلے خلفاء کےدرمیان کوئی نہ تھا۔چنانچہ حضرت علی نےخود اپنےمکتوب (ششم نہج البلاغۃ) میں اعتراف فرمایا ہےکہ وہ چوتھے خلیفہ تھےاور ان کاانتخاب بھی دوسرےتین خلفاء راشدین کی طرح قرآنی احکام کےعین مطابق ہوا۔ڈاکٹر صاحب نےنہج البلاغہ کی اصل عبارت نقل فرما کر اس کا ترجمہ فارسی زبان میں کیا ہے۔ اس کااردو ترجمہ یہ ہے۔

ان ہی اصحاب نے مجھے بیعت کی ہے جنھوں نےابوبکر عمر اورعثمان سےبیعت کی اور ان ہی شرائط پربیعت کی جن شرائط پر بیعت ان تینوں سےبیعت کوموجود نہ تھے۔یہ مناسب تھا کہ اس کورد کردیتے۔کیونکہ منصب خلافت پرمتمکن کرنے کاطریقہ یہ تھاکہ مہاجرین اور انصار کےمشورہ سےفیصلہ سےبد گوئی یا گمراہی کےباعث منہ موڑ لے تو چاہیے کہ اسے ایسا کرنے سےباز رکھا جائےاور انکار کرے تو اس کےخلاف جنگ لازم ہے کیونکہ اس نے اسلامی قانون سےسرتابی کی اور خدا بھی اس کےپاداشع عمل میں اسے سزادے گا پس اے معاویہ تم اپنی عقل سےکام لو اورحرص وہوا کوترک کردو۔میرا طرز عمل گواہ ہےکہ میں تمام انسانوں میں سب سےزیادہ خون عثمان سے بری الذمہ ہوں اوریہ تمھیں خود بھی معلوم ہےکہ میں اس معاملہ میں الگ تھلگ رہا تھا یہ اوربات ہے کہ تم حقیقت پوشی کرو اورجوکچھ تمھیں علم ہے اس کےبرخلاف ظاہر کرتے رہو۔اس مکتوب کو نقل کرنےکےبعد لکھاہےکہ۔

اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ علامہ رضی نے جوشیعوں کے عظیم المرتبت علماء میں سے ہیں اس امر کی وضاحت کی ہے اوریہ عبادت خود حضرت علی کے مراسلات کا ایک حصہ ہےاوربایں لحاظ قابل اعتبار ہےکہ یہ خط عوام کےلیے نہیں تھا بلکہ معاویہ کےنام بھیجا گیا تھا۔ لہذا یہ خط نہج البلاغہ کےدوسرے مکتوبات کی طرح نہیں ہے جن میں بیشتر الحاقی ہیں ایسی صورت میں شیعہ سنی کےدرمیان امر خلافت موجب اختلاف قرار دینا کس طر ح ممکن ہے؟

خلافت علی کےبارے میں ایک دلچسپ انکشاف:

مسئلہ خلافت کےباب میں شیعہ سنی اختلاف کے متعلق جناب ڈاکٹر صاق تقی کی تحقیق نہایت دلچسپ ہے۔ ان کی رائے یہ ہےکہ خلافت کی بنا پر اختلاف کی بنیاد دراصل خود مذہب اہل سنت کےپیرووں نےرکھی اور اس کا الزام ان لوگوں پر لگایا دیا جوصیحح معنوں میں شیعہ تھے۔ ورنہ ائمہ شیعہ کےنزدیک خلافت کےمسئلہ کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ان کی کوشش یہی رہی ہےکہ دین اسلام میں اختلاف پیدا نہ ہونے دیں۔اس کی تفصیل یہ بتائی ہےکہ بنی عباس کےعہد میں جب سنیوں کےچار مکاتب فکر معرض وجود میں آگئے اور انھوں نے چاہا کہ صیحح ومستند کتابو ں کوپراگندہ کردیا ہے جائے تو امام جعفر صادق اور دوسرے اماموں نے اس کی مخالفت کی۔اس پر سنیوں نےاماموں کو خلیفہ عہد کادشمن ثابت کرنےکےلیے یہ اڑا دی کہ یہ امام خلیفہ کے بعداس کاجانشین بننے کاداعیہ رکھتے ہیں۔ان سنیوں کایہ عقیدہ ہے...........کہ تین خلفاء راشدین کی خلافت بھی غضبی خلافت تھی یعنی ان کاحق نہ تھا حضرت علی کو خلیفہ اول ہوناچاہیے تھا۔

موجودہ شیعہ مذہب خود ساختہ ہے۔ پھربتایا ہےکہ ائمہ شیعہ نے ان مذہبی اختلافات سےنجات پائے کی ہرچند کوشش کی لیکن فتنہ پرواز اپنا کام کرتے رہے جنھوں نےقرآن کےخلاف ہزاروں جھوٹی روایتیں پیغمبر اسلام کے نام سےگھڑ کر سنیو ں کی کتابوں میں شامل کردیں اوربالآخر ایک خود ساختہ مذہب شیعہ بنالیا کہ یہ لوگ حضرت علی کی خلافت بلاوصل کےقائل ہیں جس کے ثبوت میں اسی من گھڑت روایات کودلیل کےطور پیش کرکے مسلمانوں کےمعاشرے میں ایک فتنہ برپا کریں ۔ جس کا نتیجہ یہ ہواکہ اس نو پید مذہب شیعہ نے سنیوں کےمذہب (یعنی خلافت علی بلافصل) کو اپنے مذہب کی بنیاد قراردیا۔اور اہل سنت کےاس پرانے مذہب کوشیعہ جعفری کے﷫نام سےاختیار کیا اور طریق اجتہاد کو اپنایا جس سےائمہ شیعہ اصولا بیزار تھے۔انھوں نے سنیوں کےمسلک چہارگانہ پیروی میں چار کی بجائے ہرشہر میں دس گنا مجتہدوں ہونا لازم قرار دیا تاکہ مذہبی اختلاف کادامن زیادہ پھیل جائے۔ان کا کہنا ہےکہ بدقسمتی سے اس وقت دنیائے شیعہ کی اکثریت اس مصنوعی شیعیت کی پیرو ہے اوربجز چند بے نام ونشان مسلمانوں کےکوئی شخص بھی سچے مذہب جعفری کاپیرو نہیں ہےاس کےبعد انھوں نےبتایا ہےکہ سنی اورشیعہ دونوں کی کتب روایات میں حضرت علی کی خلافت بلافصل کےثبوت میں آیات قرآنی کوبیش کیا گیا ہےلیکن ان آیات کو مسئلہ خلافت سےکونسبت نہیں ہے۔

ہرچہار خلفائے راشدین خلیفہ برحق تھے:

بالآخر علامہ تقی موصوف نے چہار خلفائےراشدین کی خلافت کا برحق ہوناقرآن حدیث اوراصول کی رو سےثابت کیا ہےاور ان لوگوں کی مذمت کی ہےجو کتاب وسنت کی بجائے خود ساختہ اورجھوٹی روایات کتب کی بنا پر اپنے اپنے بزرگان دین کےحق میں وشنام طرازی کے مرتکب ہوتے ہیں۔

تبصرہ:

اب ظاہر ہےکہ اگر ہردو فریق شیعہ وسنی جناب صادق تقی کےارشادات پر کان دھریں اور کتاب وسنت کی روشنی میں مسائل اختلافی کوطے کرلیں تو باہمی نزاع ایک قلم مفقود ہوجائے اور ایک بار ملت اسلامیہ اتحاد ویگانت کی برکتوں سےبہرہ یات ہو۔

تمام سنی حقیقی مذہب جعفریہ سے متفق ہیں ۔جہاں تک اہل سنت کاتعلق ہےیہ عاجز راقم الحروف پورے اغان کےساتھ کہہ سکتا ہےکہ گو اہل سنت کو ڈاکٹر موصوف کےبعض خیالات سے اتفاق نہ ہو لیکن وہ ان تمام امور کو تسلیم کرلینے کے لیے تیار ہیں جن کومؤلف رسالہ نے حقیقی مذہب جعفریہ کی بنیاد قرار دیا ہے ۔مثلا:

(1)کتاب وسنت کی روشنی میں دینی مسائل کاحل۔

(2)خلفائے اربعہ راشدین کی خلافت کابرحق ہونا۔

(3)حضرت علی کی خلافت بلافصل سےانکار۔

(4)بزگان دین کےحق بدگوئی وشنام طرٰزی سےمکمل احتراز۔

(5)اپنی کتابوں ایسی تمام جھوٹی یا موضوعی روایات کااخراج جوبقول ڈاکٹر صادق تقی غیرحقیقی شیعوں نے داخل کردی ہیں۔

(6)مفوضین یاغلات سےبیزاری جنھوں نےکلمہ اسلام اوراذان واقامت میں سنت کےخلاف اضافہ کیا۔

اس اعلان کے ساتھ تمام اہل سنت اپنا ہاتھ محبت واجلاص اور اتحاد واتفاق کےلیے اہل تشیع کے سامنے وراز کرتے ہیں اور ان کےرد عمل کا انتظار کرہے ہیں۔

جناب مولانا محمدبن عبداللّٰہ المعروف بہ جیون بن نورالدین پکھلوی

آپ 1482 ہجری کےقریب نورالدین صاحب کے گھر پکھلی تحصیل مانسہرہ ہزار میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم اپنےعلاقے کےعلماء سےحاصل کی تکمیل علامہ حسین بن محسن انصاری یمانی سےکی۔فراغت کےبعد حیدرآباد دکو اپنامسکن بنایا اور علمی خدمات سرانجام دینے لگے ۔وہیں80سال کی عمر 1322ہجری میں آپ کاوصال ہوا۔

وہاں آپ کی اولاد اورپوتے وغیرہ موجود ہیں جن کی تفصیل معلوم نہیں ہوسکی۔

تصنیفی خدمات:

آپ صاحب تصنیف عالم ہوگزرے ہیں مولانا محمد صدیق بن عبدالعزیز آپ کی لکھی ہوئی ابن ماجہ کی شرح مفتاح الحاجه (مطبوعہ لاہور باہتمام ادارہ احیا ءالسنۃ النبویہ)ڈی بلاک سیٹلائٹ ٹاؤن سرگودہا) کے مقدمہ میں آپ کایوں تعارف کرواتےہیں۔

كنية أبوا الفضل واسمه محمدبن عبدالله المعروف بجيون بن نو الدين القنجاني وكان أصله من بلاد بكلي من بلاد هزاره وكان رجلا صالحا عالما متبحر وفاضلا معققا قدعاش في حيدرآباد دكن وعمر عمر طويلا حتى قريب ثمانين سنة اور جاوزها ويعمل بيده ويصرف أكثر اورقاته تصنيف كتب الدينة وإشاعتها ومات به في حدودسنة ست وستين بعد الألف وثلاث مائة تقريبا وله به أولادواحفاد-

وأخذعن المحدث الشهير حين بن محن أنصاري اليماني كماذكر المحثي في مقدمة مفتاح الحاجة وذكر سند الكتاب بطريقه إلى ابن ماجه

ومن تصانيفه ترجمه مسند الإمام أحمدبا لهندية ووعجائب البيان في الغات القران مع تفسير المنان ونجوم الفرقان في سيرة النبي آخرالزمان والسيف الحلول في إثبات خط الرسول ومفتاح الحاجه شرح ابن ماجه طبع هذا الشرح علي هومش الكتاب باصح المطابع بلكهنؤ من بلادالهندي في سنة خمس عشر ثلاث مائة وألف من الهجرة اولا في حياة المحثي وثانيا في الجمادي الاولي 1394 هجري من ادارة احياة السنة النبوية دي بلاك سيتلايت تاؤن سرجودها :

آپ بڑے صالح متبحر عالم اور فاضل محقق تھے........ آپ کی تصنیف میں سے چند ایک درج ذیل ہیں (خط کشیدہ عربی قابل توجہ ہیں ۔ مدیر

(1)ترجمه اردو مسند الامام احمد

(2)عجائب البيان في لغات القران مع تفسير المنان ونجوم الفرقان

(3)عربی زبان اور اس کا اردو ترجمہ

(4)عون الودودشرح ابي داؤد

(5)عثمان البيان في سيرة النبي آخرالزمان

(6)مفتاح الحاجة شرح ابن ماجه

آخری کتاب کی تصنیف سے 12جمادی الاولیٰ 1312ہجری کوفراغت پائی جواصح المطالع لکھنو سے1915ہجری کو پہلی بار طبع ہوئی اب 1394 میں دوسری بار سرگودھا والوں نے اسے لاہور سے شائع کیا ہے۔