قسط نمبر:1

فروری 1972 میں عالم اسلامن کےسیاسی رہنما اور حکمران پاکستان میں تشریف لائے تو ملک کے اطراف واکناف سے ان کے نام پیغامات تہنیت کے ہدیے پیش کیے گئے تھے۔

لیکن ہم نے سچی خیرخواہی کے جذبے سے ان کی خدمت میں اس کی بجائے رسول رب العالمین محمد رسول ﷺ کے ان پیغامات عالیہ کا ہدیہ پیش کیا تھا جو عالم اسلام کے ان سربراہان مملکت کو دعوت مطالعہ دیتے ہیں ۔کیونکہ ہمارے نزدیک اس سے بڑھ کر ان کےلیے اور کوئی نذرانہ عقیدت نہیں تھا۔

ماہنامہ محدث کے مدیر شہیر جناب مولانا عبدالرحمن مدنی کی خواہش پر آج پر ہم ان کو معمولی سی ترمیم اورحک واضافہ کےساتھ مکرربہ ترجمہ پیش کرنے کی سعادت حاصل کرہے ہیں ۔یہ ترجمہ ترجمہ کے بجائے ترجمانی تصور فرمائیں ۔یہاں ہرحدیث کے ذیل میں ہم نے مختصر سی تشریح نوٹ بھی دے دیے ہیں..... اللہ تعالیٰ قبول فرمائے!
عزیز زبیدی ۔زاربرٹن

وقت کے خلفاء اور سلاطین کے نام

رسول ﷺ کی چالیس حدیثوں کا پیام

ہم نے اپنے معزز مہمانوں یعنی عالم اسلام کے سلاطین اور بادشاہوں کے لیے رسول ﷺ کے ارشاد میں سے چالیس حدیثوں جمع کی ہیں یہ ان کے لیے حجت اور دلائل وبراہین ہیں جو سیدھی راہ چلنا چاہتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ سے ہمارے درخواست ہے کہ وہ ہمیں اور ان سے استفادہ کرنے کی تافیق دے بے شک وہ رؤف اوررحیم ہے۔

(1) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَقْبِضُ اللَّهُ الأَرْضَ يَوْمَ القِيَامَةِ، وَيَطْوِي السَّمَاءَ بِيَمِينِهِ، ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا المَلِكُ أَيْنَ مُلُوكُ الأَرْضِ(صحیح البخاری :حدیث7382)

حضرت ابوہریر سے روایت ہے کہ:

میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے سنا کہ:

قیامت کے دن اللہ تعالیٰ زمین کو اپنی مٹھی میں لے گا اور اپنے داہنے ہاتھ میں آسمانوں کو لیپٹے گا پھر فرمائے گا:بادشاہوں میں ہو دنیاکے بادشاہ کہاں ہیں؟

اس سےمفصل روایت حضرت عبداللہ بن عمرکی روایت ہے فرماتے ہیں حضور کا ارشاد ہے :

قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سب آسمانوں کو لپیٹ کراپنے داہنے ہاتھ میں لے گاپھر فرمائے گا:

میں بادشاہ ہوں کہاں ہیں جبابرہ کہاں ہیں تکبر کرنے والے ؟ پھر ساری زمینوں کو لیپٹ (کر)اپنے بائیں ہاتھ میں (لےگا)پھر فرمائےکا:

بادشاہ میں ہوں جبابرہ اورمتکبر لوگ کہاں ہیں؟

کہنا یہ ہے کہ:

سچابادشاہ وہ ہے جس کی مٹھی میں یہ سب کچھ ہے وہ بادشاہ کیسا جو چارالٹے سیدھے اورغلط سلط چنڈ ووٹوں اور چند بندوں کے رحم وکرم اور تعاون کا نتیجہ ہو؟یاوہ بادشاہی کا ہے کی باشاہی جس کی اپنی قسمت بھی اس کےہاتھ میں نہ ہو۔کوئی بنائے تو بادشاہ ورنہ گدا........یہ تو چام کے دام چلانے والی بات ہوئی بادشاہ ہی کیسی؟بہرحال یہ سب مجبور بندے ہیں چلو پھر پانی میں یوں !بھر کر نہ چلیں کہ دیکھنے والے کو ہنسی آجائے۔ہاں اگر حقیقی بادشاہ اورسچی باشاہی کا نظارہ کرنا ہوتو سچے خدادیکھو جس کی مٹھی میں زمین وآسمان اور مافیہا کی ہرشے ہے اس لیے ایک روایت میں ہے کہ آپ نے اس کے آخر میں فرمایا:۔

وماقدروالله حق قدره

انہوں نے اللہ کی قدر نہ جانی!

(2) عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" أخنى الأسماء يوم القيامة عند الله رجل تسمى ملك الأملاك".(الصیح البخاری )

وفي رواية مسلم

«أَغْيَظُ رَجُلٍ عَلَى اللهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَأَخْبَثُهُ وَأَغْيَظُهُ عَلَيْهِ، رَجُلٍ كَانَ يُسَمَّى مَلِكَ الْأَمْلَاكِ، لَا مَلِكَ إِلَّا اللهُ»

فرمایا: حضور کا ارشاد ہے کہ: قیامت میں اللہ کےنزدیک سب سے زیادہ قابل شرم وہ شحص ہوگا جس کانام شہنشاہ ہوگا۔

اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ :۔

قیامت میں اللہ تعالیٰ اللہ تعالیٰ کو جس شخص پر سب سے زیادہ غصہ آئےگا اور جو(اس کےحضور ) سب سے بڑھ کر ناپسند یدہ شخص قرار پائے گا وہ شخص ہوگا جو شہنشاہ کہلائے گا حالانکہ سچی شاہی تو صرف خدا کے لیے ہے۔

جو بادشاہ کہلاتے ہیں وہ بھی ع

برعکس نام نہندزنگی کافور

کے مصداق اس کا اہل نہیں ہیں چہ جائے کہ وہ بادشاہ ہوں کے بادشاہ بھی کہلائیں ۔لیکن اس عظیم حقیقت کے باوجود جو شخص پھر کہلائے ہوئے شرم محسوس نہیں کرتے اس سے بڑھ کی قیامت میں قابل شرم اور کوئی نہیں ہوگا۔

(3) حدثنا الربيع بن نافع عن يزيد يعني ابن المقدام بن شريح عن ابيه عن جده شريح عن ابيه هانئ " أنه لما وفد إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم مع قومه سمعهم يكنونه بابي الحكم فدعاه رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال : إن الله هو الحكم, قال : فأنت أبو شريح

'' ابوشریح ہانی کندی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنی قوم کے ساتھ وفد میں آئے، تو آپ نے ان لوگوں کو سنا کہ وہ انہیں ابوالحکم کی کنیت سے پکار رہے تھے، آپ نے انہیں بلایا، اور فرمایا: "حکم تو اللہ ہے، اور حکم اسی کا ہے تو تمہاری کنیت ابوالحکم کیوں ہے؟" انہوں نے کہا: میری قوم کے لوگوں کا جب کسی معاملے میں اختلاف ہوتا ہے تو وہ میرے پاس آتے ہیں اور میں ہی ان کے درمیان فیصلہ کرتا ہوں اور دونوں فریق اس پر راضی ہو جاتے ہیں، آپ نے فرمایا: "یہ تو اچھی بات ہے، تو کیا تمہارے کچھ لڑکے بھی ہیں؟ انہوں نے کہا: شریح، مسلم اور عبداللہ میرے بیٹے ہیں" آپ نے پوچھا: ان میں بڑا کون ہے؟ میں نے عرض کیا: "شریح" آپ نے فرمایا: تو تم "ابوشریح ہو"۔ ابوداؤد کہتے ہیں: شریح ہی وہ شخص ہیں جس نے زنجیر توڑی تھی اور یہ ان لوگوں میں سے تھے جو تستر میں فاتحانہ داخل ہوئے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے یہ خبر پہنچی ہے کی شریح نے ہی تستر کا دروازہ توڑا تھا اور وہی نالے کے راستے سے اس میں داخل ہوئے تھے۔

اس تفصیل سے معلوم ہوتا ہے ہے کہ اس کا فیصلہ آخری سمجھاجاتا تھا۔ گویاکہ اس کی رائے کو قانونی درجہ حاصل تھا اورلوگ اسے احکام کا ماخذ تصورکرے تھے لیکن اسلام میں یہ پوزیشن صرف خدا کی ہے اور کسی کی نہیں رسول کا مقام بھی تبین ہے تشریع نہیں ہےگواتباع کی حدتک اس فرق کو ملحوظ رکھنا ہمارا کام نہیں ہےتاہم عقیدے کی حد تک ہمیں اجمالا یہ یقین رکھنا ہوگا کہ:

حضور کا فریضہ تشریح ہے تشریع نہیں ہے۔اس لیے رسولﷺ نے ان کی اس ذہنیت کی اصلاح فرماکر اس کی کنیت بدل دی۔ اتفاق سے جوبات تھی کنیت بھی ویسے بن گئی' یعنی اب اس کی پوزیشن میں فتوے دینا ہے اوربس !

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی فردیا اسمبلیوں کو قانون سازی کا حق حاصل نہیں ہے اورنہ ہی ان کوقانون سازادارہ یادستور ساز اسمبلی کہنا جائز ہے۔کیونکہ ان کےذمے صرف تبین اور تشریح ہے تشریع نہیں ہے۔

(4)وفي الآثار ان آخر الأنبياء عليهم السلام دخولا في الجنة سليمان عليه السلام لملكه۔

روایات میں آیا ہےکہ:۔

بہشت میں سب نبیوں کے بعد حضرت سلیمان (علیہ السلام) داخل ہوں گے کیونکہ انھوں نے بادشاہی کی تھی۔

گو انبیاء علیہم السلام بادشاہت کے باوجود خدا کے عبد اوربے داغ فقیر ہوتے ہیں تاہم یہ جھولا جھولنے کو ان کو مل ہی گیا ۔بس اتنی سی ارزانی کا یہ نتیجہ ہے کہ : بہشت میں وہ سب سے آخر میں جائیں گے۔اس کے علاوہ ان کو حساب بھی دینا ہوگا اوروہ سارے ملک او رساری ملت کا دینا ہوگا او روہ کافی لمبا ہوگا۔ اس سے فارغ ہوتو بہشت میں بھی جائیں ۔اس لیے دیر ہوجائے گی۔ یہ اس بادشاہ کا حال ہے جو شایانہ دلچسپیوں اور ٹھاٹھ باٹھ جیسے خمارسے پاک اور منزہ تھے لیکن جو بادشاہ اور حکمران اقتدار کے نشے میں چور ہوکر خدا کو بھبی بھول بیٹھے ہیں ان کا کیا حال ہوگا اس کا اندازہ آپ خود فرمالیں۔

(5)وقال ﷺ يوما لعبدالرحمن بن عوف ما لطأبك عني يا عبدالرحمن ؟قال وماذاك يارسول الله ؟فقال

إنك آخر صحابي لحوقابي يوم القيمة فاقول ماحبك عني فيقول

المال كنت محاسبا محبوسا حتي الات(رواه محمدفي الاكتساب في الزرق المستطاب) وفي مسند احمد يدخل عبدالرحمن بن عوف ن الجنة زحفا۔

ایک دن رسول ﷺ نے حضرت عبدالرحمن بن عوف سےفرمایا اے عبدالرحمن !آپ کو مجھ سےپیچھے کس چیز نےرکھا ہے؟

وہ بولے :کیا بات ہےحضور!

آپ نے فرمایا: قیامت میں سب سے بعد مجھ سے آکر ملیں گے تو میں تو کہوں گا کہ آپ کو مجھ تک پہنچنےسے کس چیز نے روکےرکھا ہے؟ آپ جواب دیں گے حضور مال نے!

اب تک اس کے حساب کتاب میں گرفتار رہا ہوں۔

(اسےامام محمد نے اپنی کتاب الاکتساب فی الرزق المستطاب میں روایت کیا ہے)

مسند احمد میں یہ بھی روایت آئی ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف گھٹنوں کےبل چل کربہشت میں داخل ہوں گے۔

حضرت عبدالرحمن بن عوف عظیم صحابی ہیں جن کاتعلق عشرہ مبشرہ سےہے۔اورمیری میں فقیر کی تھی۔لیکن مال دار تھے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سب کےبعد سب آپ حضور ﷺ سےجاملیں کیونکہ حساب لمبا دینا پڑجائے گا۔

جو لوگ مالدار ہونے کےساتھ بے خدا بھی جیتے ہیں ان کا کیا حشر ہوگا؟بتانےکی ضرورت نہیں ہواضح ہے۔

یہی وجہ ہےکہ حضرت عمر جائز لطف وآرام سے بھی کتراتے تھے ۔چنانچہ

ایک روایت میں آیا ہےکہ:۔

ایک جن حضرت عمر نےپینےکاپانی مانگاتو آپ کوشہد کاشربت پیش کیا گیا تو شربت تو بڑا مزادار ہے لیکن میرےکانوںمیں آواز آرہی ہے کہ اللہ میاں نےایک ایسے گروہ کےکرتوں کا ماتم کیا ہے جو اپنےنفس کا غلام تھا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نےفرمایا ہےکہ(ان سےکہا جائے گا)

تم اپنی دنیا کی زندگی میں اپنےمزے اڑاچکے اور ان سے پوری طرح لطف اندورز ہوچکے (تو آج تم کو ذلت کی سزادی جائے گی)

اس لیے مجھے اندیشہ ہے کہ ہماری نیکیوں کابدلہ بھی جلدی جلدی کہیں دنیا ہی میں نہ چکایا جارہا ہو چنانچہ اسےنہ ہی پیا۔

گویاکہ مالدار اورحکمران کو عیش وآرام کےجو مسائل مہیا ہوتے ہیں وہ بالآخر ان کےلیے اخروی لحاظ سےبڑا فتنہ ثابت ہوسکتے ہیں خاص کر جو حکمران قومی خزانہ اوروسائل سےکھیلتےرہتے ہیں ان کو ضرور سوچنا چاہیے ان کا کیا حشر ہوگا؟

فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى رِمَالِ حَصِيرٍ، لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ فِرَاشٌ، قَدْ أَثَّرَ الرِّمَالُ بِجَنْبِهِ، مُتَّكِئًا عَلَى وِسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ،

فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ فَلْيُوَسِّعْ عَلَى أُمَّتِكَ، فَإِنَّ فَارِسَ وَالرُّومَ قَدْ وُسِّعَ عَلَيْهِمْ وَأُعْطُوا الدُّنْيَا، وَهُمْ لاَ يَعْبُدُونَ اللَّهَ

فَقَالَ: «أَوَفِي هَذَا أَنْتَ يَا ابْنَ الخَطَّابِ، إِنَّ أُولَئِكَ قَوْمٌ عُجِّلُوا طَيِّبَاتِهِمْ فِي الحَيَاةِ الدُّنْيَا»

(صحیح البخاری حدیث:5191)

حضرت عمر فرماتے ہیں کہ : میں حضور کی خدمت میں ایسےوقت حاضر ہوا جب آپ کجھور کےبوریے پر لیٹے ہوئے تھے آپ کےجسم اطہر او رکھردرےبورے کےدرمیان بچھونا کپڑا تک نہ تھا۔(چنانچہ) بورئیے کےنقش دونگار کےنشان آپ پر پڑگے تھے جبکہ آپ ایک ایسے چمڑے کےسرہانے کا تکیہ کیے ہوئے تھے جس میں کجھور کا حال بھرا ہوا تھا۔میں نے عرض کیا :حضور آپ اللہ سےدعا فرمائیں کہ آپ کی امت پر فراخی کرے(دیکھئےجناب) فارس اور روم باوجویکہ وہ وغیرہ اللہ کےپجاری ہیں ان پر خوب فراخی کردی گئی ہے۔اس پر آپ ﷺنے فرمایا:

اےعمر !کیا آپ ابھی تک اسی مقام میں ہیں؟یہ تو وہ لوگ ہیں جن کو ان کی نیکیوں کابدلہ دنیا کی زندگی میں ہی چکا دیاگیا ہے۔(بخاری مسلم)

مقصدیہ ہے کہ جن بے خدا لوگوں کو کروفرار عیش وآرام حاصل ہے وہ لوگ قابل رشک نہیں محل عبرت ہیں۔