قرآن حکیم انسان کےلیے مکمل ہدایت ربانی ہونے کی وجہ سے اس کی اخلاقی دردحانی ترقیوں کا ضامن ہے اور بلاشبہ اس کی جملہ مادی اور جسمانی ضرورتوں کا کفیل بھی اس لیے یہ کہنا بجا ہےکہ اگرچہ سائنس میں قرآن نہیں لیکن قرآن میں سائنس ضرور موجود ہے کیونکہ موجودہ سائنس نےمادہ کا گہرا مشاہدہ اور اس پر غوروفکر کرکے ظاہری طور پر خیرت انگیز ترقی کی ہےلیکن اس کےگمراہ کن نظریات نےروحانی اور اخلاقی انحطاط کی پریشان کن صورت حال پیدا کررہی ہےجس سے یہ خیال عام ہوگیا ہے کہ مذہب اور سائنس باہم متضاد ہیں حالانکہ نظریاتی اختلاف صرف اس وجہ سے ہےکہ سائنسی نظریات عام کرتے وقت خدائی ہدایت قرآن حکیم اور سنت رسول سے بے نیازی برتی جاتی ہےجس کےنتیجہ میں لادین فلسفہ علمی ترقی کےنام پر سامنے آتا ہے حالانکہ افکار ونظریات کے باب میں آخری رہنما صرف وحی الہی ہی ہوسکتی ہے۔

مدیر

معاشرتی زندگی کےارتقاء کے ساتھ ساتھ انسانی ضروریات اور مسائل میں بتدریج اضافہ رہا۔ ان کی ضروریات کی تکمیل اور مسائل کےحل کےلیے مختلف علوم وفنون وجود میں آئے۔اس کی ایک عام فہم مثال یوں دی جاسکتی ہے کہ انسان کی ایک بنیادی ضرورت خوراک تھی۔اسے اس کی ضرورت کی تسکین پودوں سےحاصل ہوتی ہے۔اس نے شدت سے محسوس کیا کہ جب تک وہ پودوں میں موجود خوراک سے پورا استفادہ نہیں کرتا اس کی یہ بنیادی ضرورت پوری نہیں ہوسکتی۔چنانچہ اس نے مختلف فصلیں اگائیں۔آبادی کے بڑھنے کےساتھ ساتھ اس کی امر کی ضرورت پیش آئی کہ فصلوں کوزیادہ اور بہتر طور اگایا جائے اوریہ اسی صورت میں ممکن تھا کہ پودوں کی زندگی کا مربوط اور منظم مطالعہ کیا جاتا ۔چنانچہ انسان نےنباتات کی زندگی کا منظم اورمربوط طریق پر مطالعہ شروع کردیا اوراس طرح ایک علم وجود میں آیا جسےعلم نباتات (botany) کہتے ہیں۔

ایسے ہی اسی نے محسوس کیا کہ کھانے کےساتھ ساتھ اسے لباس کی ضروت ہے ۔چنانچہ اس نےفصلوں اور پودوں کوبطور خوراک استعمال کرنے پراکتفانہیں کیا۔اس کی عقل سلیم نے اسے بتایا کہ کپاس سے کپڑا تیار کیا جاتا ہے اور اس طرح انسان کی بنیادی ضرورت بھی پوری ہوسکتی ہے ۔اب مسئلہ یہ پیدا ہواکہ کپاس سےکپڑا کیسےبنایاجائے؟اس مسئلے کا حل انسان نےکھڈی سےکیامگر یہ کھڈیاں روز افزوں آبادی کا ساتھ نہ دے سکیں اور انسان کےلباس کی ضروریات سےعہدہ برآنہ ہوسکیں۔چنانچہ ٹیکسٹائل ملوں کا وجود عمل میں آیا۔ٹیکسٹائل مل کیسےلگائی جائے؟

اس میں کون کون سی معدنیات استعمال ہوسکتی ہیں اورکون سی دھات سب سےزیادہ کارآمدثابت ہوسکتی ہے ؟اس کامتجس ذہن مختلف تجربات ومشاہدات کےبعد اس کےنتیجے پر پہنچا کہ لوہا اورفولاد اس سلسلےمیں سب سے زیادہ کارآمد ثابت ہوسکتا ہے ظاہر ہے جب انسان لوہے سے اتنی بڑی خدمت لینا چاہتا تھا اس کےلیے اس کی ترکیب ماہیت اورطبعی وکیمیائی خصوصیات سےآگاہ ہونا ضروری تھا۔ ایسے ہی دیگر ضروریات کی تکمیل اور مسائل کےحل کےلیے ایک ایسے علم کی ضرورت پیش آئی جومادہ کی ترکیب ماہیت اورخواص سے بحث کرے اسے کیمیا(chemistry) کانام دے دیا گیا جو سائنس کی اہم شاخ ہے۔

گویا انسانی ضروریات اورمسائل میں وقت کی رفتار کےساتھ ساتھ جوبتدریج اضافے ہوئے رہے۔ان کو تسکین وتکمیل اروحل کےلیے مختلف علوم علم نباتات 'علم حیوانات' علم کیمیا' علم نجوم' علم طبیعات'علم تاریخ'علم شہریت'اور تمام دیگر معاشرتی وعمرانی علوم انسانی ضروریات کی تکمیل کے لیے انسان کوشش وکاوش کانتیجہ ہیں۔لیکن علوم کی اس قدر بہتات اورفروانی کے باوجود تکمیل کے لیے انسانی کوشش وکاوش کانتیجہ ہیں۔لیکن علوم کی اس قدر بہتات اور فروانی کے باوجود انسانی کی تکمیل کےلیے انسانی مسائل بدستور جنم لیتے رہے ارولیتے رہیں گے۔ اور ایسے علوم معرض وجود میں آئے اورآتے رہیں گئےمگر یہاں ہمارے مدنظر وہ علوم ہیں حو سائنسی علوم گردانےجاتے ہیں۔اور سائنس کی ہی شاخیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جب انسان کو اس قدر ضرورت مند بنادیا کہ اس کی ضروریات نئی ضروریات کواور اس کےمسائل نئے مسائل کوجنم دیں تو اس قادر مطلق نے ساتھ ہی ایک ایسی کتاب بھی بھیجی جو انسان ضروریات کی تکمیل اور ہردور میں پید اہونے والے مسائل کے حل کرنےمیں رہنمائی کرسکے اور اس کتاب کو الکتاب کانام دیا قرآن میں ہے:

الم (1) ذَلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ (سورۃ البقرہ:آیت 2)

یہ ایک فطری تقاضا تھا کہ جس خالق کوطبعا وفطرتا(مختلف ضروریات وحاجات کا) حاجت مند اورضرورت مند پیداکیا اور اس کےلیے گوناگوں مسائل بھی پیدا کردیے۔اس کے ساتھ ہی اس نےتمام انسانی مسائل کا حل اورتمام انسانی ضروریات وحاجات کی تسکین وتکمیل کےلیے رہنمائی کابندوبست بھی خود کردیا۔بالفاظ دیگر تمام ممکنہ علوم اس کتاب مبین میں رکھ دیے۔

''لارطب ولایابس إلافی کتب مبین '' کی فضلیت صرف اسی کتاب کے حصہ میں آئی۔

اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے مسلمان مختلف ادوار میں اسلامی اس الہامی کتاب سےاستفادہ کرتا رہا۔اور اسی سے اپنے روحانی مادی جسمانی طبعی ہرقسم کےانسانی مسائل کا حل تلاش کرتا رہا۔لیکن دوسری طرف ایک وہ طبقہ تھا جومذہب کےنام پر صرف روحانی اور اخلاقی علوم میں منہمک ہوگیا۔ مختلف سائنسی علوم پر نہ صرف خود نظرنہ کی بلکہ اسے دین و مذہب سے متصادم قرار کے کر مذہب اورسائنس کو برسرپیکار کردیا گویا اس طرح سے دین ودنیا کی تفریق کردی۔ان کے پراپیگنڈا کےنتیجے میں قرآن کریم صرف اخلاقی اورروحانی علوم کی قرارپائی۔اگربنظر غائر دیکھا جائے تو اس کےپس پشت ایک ایسا ہاتھ آتا ہے جوابتدسے ہی قرآن مجید کی عالمی صداقت کو ماننے سے انکار کرچکاتھا۔اس کے زہریلے پروپیگنڈے نے چندخام ذہن اروسادہ لوح مسلمانوں پربھی اثر کیا چنانچہ انھوں نےبھی اپنی سادہ لوحی اورکم علمی کی بنا پر درس خواندہ کو دہرانا شروع کردیا۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ آج کے نام نہاد وترقی یافتہ سائنسدان خود انھیں مسلمان سائنسدانوں اور فلاسفروں کے خوشتہ چین اورشاگرج ہیں جن کی سائنسی ترقی میں بڑا ہاتھ خودقرآن تعلیمات کا ہے۔انھوں نے قرآن سے استفادہ کی بنیاد پر انسانی تجربات اروتحقیقات کےنتیجہ میں بے مثل اصول پیش کرکے اہل دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ۔البتہ غیر مسلم سائنسدانوں کی توجہ صرف مادہ کی ظاہری شکل وصورت بناوٹ ترکیب اورپررہی اور یوں غیر مسلم انسان کےتصویر کے خدوخال کی عمدگی اورحسن وجمال میں کھوکر خودتصویر بن گیا۔مگر مصور حقیقی کے فن مصوری کو داد تحسین پیش کرکے خود کو اس کا بندہ وغلام نہ بناسکا۔ کہ اس نے مادہ سےمتعلق علوم میں تو کافی حدتک دسترس حاصل کرلی مگر اخلاقی روحانی علوم سےبےبہرہ رہا۔اسی خالص مادیت کے نتیجے میں بے خداترقی کودومرتبہ دوعظیم جنگوں کی ہولناکیاں اورفتنہ سامانیوں کا سامنا ہوالیکن اس کے باوجود سامراج اپنی مادیت کوفکری محاذپر مسلط رکھنے کے لیے اس کوشش میں ہے کہ مسلمانوں کے اذہان سے اس کتاب کی عظمت وافادیت محوکردی جائے۔تاکہ مسلمان ایک رہنمااورمنظم قوم کی صورت میں نہ ابھرسکیں۔ان کے اذہان میں یہ زہر بھی گھولنے کی کوشش کرتارہتا ہے کہ یہ کتاب مادی وسائل کا حل پیش نہیں کرتی بلکہ صرف اخلاقی اور روحانی مسائل سےبحث کرتی ہے۔چنانچہ وہ خام ذہن جس میں ابھی اس حدتک مبین کی حقیقی اہمیت اورافادیت راسخ نہیں ہوئی تھی اس نے اس مقدس کتاب کو اس حد تک تو ضرور اہمیت دی کہ اسے اپنے گھروں میں بطور خیر وبرکت کی جگہ دی مگر اس سے عملی فائدہ نہ اٹھاسکا۔ستم بالائے ستم یہ کہ ا س نے مادی پہلو تو بجائے خود چھوڑا لیکن صحیح روحانی اور اخلاقی اقدار کوبھی نہ رکھ سکا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جہاں وہ مادی ترقی کردوڑ میں پیچھے رہ گیا وہاں ایمان ویقین کی دولت سے بھی تہی دامن ہوگیا۔

یہ ایک مسلمہ امر ہےکہ جس قوم کو میت ونابود کرنا ہوا اس کی ماضی کی تاریخ کو اس کی نظروں سےاوجھل کردو۔وہ قوم خودبخود صفحہ ہستی سے مٹ جائے گی۔دشمن سیاستدانوں نے یہی اصول مسلمانوں پر آزمایا۔وہ جانتےتھے کہ مسلمانوں کی ماضی اس کتاب سے وابستہ ہے۔ماضی میں جو فتوحات علمی واقتصادی ترقی ہوتی رہی اورجس بنا پر مسلمان دنیا کی فاتح اورکیمیا گرقوم بن گئے وہ دراصل اسی مقدس کتاب کی تعلیم وتدریس ہی کی بدولت تھی۔چنانچہ مکاردشمن نےسب سے زیادہ جوکوشش کی یہی تھی کہ قرآن مجید جامع افادیت مسلمانوں کےذہن سے ہمیشہ کےلیے محوکردی جائے۔اگر آج بھی اس مقدس کتاب کی صحیح تعلیم وتدریس کاتسلی بخش اہتمام کیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ اب بھی مسلمانون میں جابر بن حیان الخوارزمی البیرونی اورغزالی جیسے مفکر اور کیمیا دان پیدانہ نہ ہوں۔

دین ومذہب کےاس ناقص تصور کی وجہ سے جدید دور کےمسلمان نوجوانوں کے اذہان میں کچھ اس طرح کےسوالات پیداہوتے ہیں کہ:۔

(1)کیا قرآن مجید صرف اخلاقیات کی کتاب ہے؟

(2)کیا قرآن مجید میں سائنسی علوم بھی موجودہیں؟

(3)اگر قرآن مجید میں سائنسی علوم موجود ہیں تو دوسری اقوام کی نسبت مسلمانوں میں سب سے زیادہ سائنس دان کیوں نہیں؟

ایسے ہی دیگر سوالات آج کا کے پڑھے طبقے کےاذہان میں اٹھ رہے ہیں اوربدقسمتی سے ان سوالات کےجوابات معقول صورت میں مسلمان قائدین اوردینی علماء سے بہت کم حاصل ہورہے ہیں چنانچہ اسی موضوع پر ہی کہ کیا قرآن مجید صرف اخلاقی کتاب ہےیا اس میں سائنسی علوم بھی موجود ہیں کچھ لکھناموزوں ہوگا۔

یہ ایک ناقابل تردیدحقیقت ہے کہ قرآن مجید جب تمام انسانی ضرویات کا خود کفیل ہے اور اس سلسلہ میں مکمل رہنمائی پیش کرتا ہے تولامحالہ تمام علوم خواہ مادی ہوں یا روحانی غیر سائنسی ہوں یا سائنسی کامرجع ومنبع یہی ہے۔نوجوان نسل کےذہنی انتشار کا ایک بڑا باعث یہ ہے کہ وہ لادین سائنس میں قرآن دیکھناچاہتی ہے۔لیکن اس کاذہن اس بات سے غافل ہےکہ اگرچہ سائنس میں قرآن نہیں لیکن قرآن میں سائنس ضرور موجود ہے۔سائنس تو دراصل انسانی مشاہدات تجربات سےحاصل شدہ نتائج کا نام ہےجس کامبحث مادہ ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مادہ کاوجود پہلے عمل آیایا سائنس کا؟ ظاہر ہےمادہ پہلے بنا۔بعد میں انسان کےمتجسس ذہن نے مشاہدات وتجربات کی روشنی میں قوانین اخذ کرکے جمع کیے اور اسے سائنس کانام دیا ۔ گویا علم سائنس ایک ایسا علم ہے جوانسانی ذہن کی ایجاد ہےاور یہ مادہ سےبحث کرتا ہے۔ظاہر ہے کہ انسان مادہ کا خالق نہیں بلکہ اسی کا خالق ہونے کی حیثیت سے اللہ تعالیٰ مادے کی ترکیب ماہیت اورخواص سےبخوبی واقف ہے اس لیے اپنے آپ کو علیم کےوصفی نام سے یاد فرماتا ہے۔یہ تسلیم کرلینے کےبعد کہ مادہ پہلے وجود میں آیا اورسائنس بعد میں۔مادے کاخالق اللہ تعالیٰ ہےاور علم سائنس انسانی ذہن کی تخلیق ہے۔قرآن مجید جانب اللہ حضرت محمدﷺعربی پر نازل ہوا۔یہ سوال کرنا کہ کیا قرآن مجید میں سائنسی علوم بھی موجود ہیں ایسے ہی ہےجیساکہ کوئی پوچھے کیا اللہ تعالیٰ وہ علوم بھی جانتا ہے جوانسان جانتا ہے؟

اس سےزیادہ حماقت اور کیا ہوسکتی ہےکہ انسان اپنے ذہن کےتخلیق مضامین وعلوم کو اس قدر اہمیت دے جب کہ اس کا ذہن خالق حقیقی کی تخلیق ہے ۔بہ الفاظ دیگر انسانی ذہن کے تخلیق کردہ وہ مضامین اورعلوم کو قرآن مجید ترجیح دینا ایسے ہی جیسے انسان خالق پر مخلوق کو افضل قرار دے۔

اللہ تعالیٰ نے تو قرآن مجید میں وہ اور دائمی اصول پیش کیے ہیں جن بنیاد بناکر انسان تحقیق وتدقیق کاکام بطرز احسن انجام دے سکتا ہے۔موجودہ دور میں ذہنی انتشار کا ایک باعث یہ بھی ہےکہ وہ سائنسدانوں بنائے گئے نظریات وقوانین پر قرآن مجید کی آیات کو منطبق کرکے دیکھنا چاہتا ہے اور جب کبھی اسے سائنسی قوانین اورقرآنی حقائق میں اختلاف نظر آتا ہےتونتیجتا وہ ذہنی انتشار شکار ہوجاجاتا ہے۔تقابل وانطباق کی یہ عادت خام ذہن کے لیے مضر ثابت ہوتی ہے۔سائنسی قوانین اور قرآنی حقائق کےدرمیان تقابل توجبھی ممکن ہے کہ تقابل کرنے والا دونوں علوم پر دسترس رکھتا ہو۔ مگر بصد افسوس اس تلخ حقیقت کا اعتراف کرنا پڑنا ہےکہ وہ جدید دور میں جنم لینےوالے ذہن قرآن مجید کے مطالعہ کرنےکی نعمت سے محروم ہے جب وہ سائنس کی کسی شاخ میں کوئی اعلی ٰڈگری حاصل کرلیتا ہےتو وہ اپنے آپ کو پڑھالکھا انسان تصور کرنےلگتا ہے۔اس طرح ایک عجیب صورت حال پیدا ہوجاتی ہے کہ وہ سائنسی مضمون میں اعلیٰ ڈگری حاصل کرنے کےبعد قرآن مجیدسےبےبہرہ رہتا ہے جوکہ صحیح معنوں میں تمام تر علوم کامخزن ہے۔

موجودہ دور میں قرآن مجید کےحقائق کوجو چیز سب سے زیادہ واضح کررہی ہےوہ سائنس ہے اور سائنس کوجوچیز سب سے زیادہ ناقص ثابت کررہی ہے وہ بھی سائنس ہی ہے سائنس کاتعلق تجربات اور مشاہدات یے ہے۔قانون بقائےمادہ۔

Yation of mass law sf conseoاس وقت تک تو صحیح ہےجب تک ایٹم ناقابل تقسیم ذرہ نہیں بلکہ اسے توانائی میں تبدیل کیاجاسکتا ہے۔اس مشاہدے اورتجربےکےبعدقانون بقائے مادہ کی کوئی اہمیت نہیں رہتی۔وقت کی رفتار اورذہنی ارتقاء کےساتھ ذہنی کلیات بھی بدلتے رہتے ہیں۔ایک سائنسی نظریہ ایک مقررہ مدت تک تو ایک اٹل حقیقت اورمسلمہ قانون مانا جاتا ہے۔مگربعدمیں آنے والے سائنس دان اپنے تجربات ومشاہدات کی بنا پر اسے حرف غلط کی طرح مٹادیتے ہیں۔مگر الہامی اورقرآنی قوانین وہ قوانین ہیں جن کی صداقت عظمت اورابدیت میں رفتار اورذہنی ارتقاء کےساتھ ساتھ یقین محکم سے محکم تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ کلیہ بقائے مادہ آئن سٹائن اورڈاٹس اٹامک تھیوریز اورجدید ترین ایٹمی نظریات سے وہ الہامی صداقت اورقرآنی قانون کس قدر اعلیٰ وافع ہےجس میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں۔

الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ(سورۃ آل عمران:آیت 191)

'' جو اللہ تعالیٰ کا ذکر کھڑے اور بیٹھے اور اپنی کروٹوں پر لیٹے ہوئے کرتے ہیں اور آسمانوں وزمین کی پیدائش میں غوروفکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں اے ہمارے پروردگار! تو نے یہ بے فائده نہیں بنایا، تو پاک ہے پس ہمیں آگ کے عذاب سے بچا لے ''

اللہ تعالیٰ نے قرآن مقدس میںرَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا(اے ہمارے رب!تو نےکوئی چیز عبث پیدانہیں کی) فرماکر ہردور میں جنم لینے والے کیمیا دانوں جغرافیہ دانوں ماہرین نباتات ماہرین علم حیوانات ماہرین طبیعات اوردیگر تمام سائنسی علوم کےماہرین کےلیے تحقیق وتدقیق کے دروازےکھول دیے ہیں۔ آج سےایک صدی پیشتر اگر کوئی شخص کہتاہےکہ مادہ حقیر ترین ذرے یعنی ایٹم میں ایک مربوط اورمنظم نظام کام کررہا ہےتو اسے اس ایک صدی پہلے کےلوگ احمق خیال کرتے۔مگر خالق حقیقی نے اسی حقیقت کوکچھ اس انداز میں پیش کیا عرب بدو بھی ماننے پر مجبور ہوگئےاورموجودہ دور میں جنم لینے والا انسان تو اس حقیقت سے انحراف کرہی نہیں سکتا کیونکہ وہ اس امر سےبخوبی واقف ہےکہ دنیا کاحقیر ترین ذرہ ایٹم اپنے اندر بروٹان نیوٹران اورالیکٹران کا ایک وسیع نظام لیے ہوئے ہے۔اسے اس حقیقت کابھی علم ہےکہ ایٹم کو توانائی میں تبدیل کرنےسےہیروشیما اورناگاساکی جیسےگنجان آباد شہر تباہ وبرباد ہوسکتےہیں یہ تو معلومات ہیں جوعام انسان بھی حاصل کرچکا ہے جب کہ سائنسدان نت نئے تجربات کررہے ہیں جن کےنتیجے میں حیران کن ایجادات ہورہی ہیں ۔عین ممکن ہے کہ مستقبل قریب مین ایٹم کےمتعلق ان حاصل کردہ معلومات سےکہیں زیادہ حیران کن اطلاعات حاصل ہوں اور یہی سائنسی انکشافات ہیں جو اس حقیقت کو ماننےپرمجبور کردیتےہیں کہ خداوند کریم نے دنیا میں کوئی چیز عبث پیدانہیں کہ۔ایٹم تو کائنات کاچھوٹے سے چھوٹاذرہ ہےجس کےمتعلق ابھی انسانوں کی معلومات ناکافی ہیں۔ اس صورت حال میں انسان کائنات اوراس میں موجود بڑے بڑے نظاموں کی عظمت زمین اورآسمان میں موجود اشیاء کی تخلیق کےبارے میں سوچ کر خالق حقیقی کی حمدثنا کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔جوں جوں سائنس ترقی کی منازل طے کرے گی۔حقائق کو بےنقاب کرےگی۔اسی قدر انسان کا یقین محکم ہوجائےگا اور اسے اعتراف کرناپڑگا کہواقعی دنیامیں خداوند کریم نےکوئی چیز بھی عبث پیدانہیں کی۔

یہ امتیاز صرف اور قرآن مجید کو حاصل ہےکہ اس میں بیان کردہ قوانین نظریات اور اصول ہردور ہرذہن اور ہرمکتبہ فکر کےلیے ہدایت ہیں۔قرآنی آیات کی اہمیت افادیت اور عظمت واضح سے واضح تر ہوتی جائیں گی۔جب انسان کائنات کےتمام سربستہ رازوں سےپردہ اٹھاتارہے گا۔ جب اس کی بینانظر قرآن مجید میں موجود اورپنہاں موتیوں کی شناحت کرگی۔کارواں دواں ہے مگرابھی آغاز سفر ہے۔ جوں جوں فاصلہ طے ہورہا ہے سفر طویل ہورہا ہے۔تسخیر قمر کےبعد ہی انسان کو سیاروں ستاروں اور کہکشاں کے فاصلوں کا ایک ہلکہ سا اندازہ ہوا۔ان فاصلوں کو ماپنے کےلیے اس نے نوری سال کی اکائی دریافت کی جو325*24*20*182000میل کے برابر ہے۔ان کا تمام تر سائنسی انکشافات اور ایجادات نےہمیں خبردار کیا ہے کہ سنبھل جاؤ!ابھی آغاز سفر ہے۔قافلہ رواں دواں ہےاختتام کاانتہا کا تصور ایک حسین خواب ہے۔سائنس نے آج ہمیں تصورات تغیرات اورایجادات کا علم دیا ہے وہ حقائق او رنظریات تو آج چودہ سوسال پہلے قرآن مجید بدرجہ اتم او ربطریق احسن پیش کرچکا ہے۔اگر کوئی نظر ان رموزتک نہیں پہنچ سکتی توبینائی کی کمی ہے۔

گرنہ بیند بروزشیرہ چشم

چشمہ آفتاب راجہ گناہ

اگرچمگا دڑ کودن میں کچھ نظرنہ آئے تو اس میں سورج کا کیاقصور ہے؟

دنیاکی ہرکتاب اس خطرے میں مبتلا ہےکہ کس وقت سائنس دانوں کی تازہ ترین معلومات اورتجربات اس میں پیش کردہ نظریات کو حرف غلط کی مٹادیں ؟دنیا میں صرف الکتب ہی ہے جو سائنسدانوں کےتازہ ترین تجربات مشاہدات اورمعلومات کے انتظار میں ہےکہ کسی وقت انسانی ذہن خود تجربات ومشاہدہ کرکے اس میں موجود قوانین نظریات کی حقانیت اور صداقت سےواقف ہو؟

اگر قرآن مجید کے ایٹم کے متعلق ہی صرف معلومات مہیا کرتاتو کیمیا دانوں کی ذہنی تشفی کاسامان تو ضرور ہوتاہے مگر بیسوسں صدی اوربعد میں آنے والے ماہرین نباتات کےلیے اعتراض کایہ پہلو ضرور نکل آتا کہ قرآن مجید میں سیل جو ہر زندہ جسم کی اکائی ہےکے متعلق کچھ معلومات نہیں ۔ مگر اللہ تعالیٰ نےقرآن مجید میں اتنا فرماکرکہ:۔

میںرَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا کسی بھی انسان کےلیے خواہ علم نباتات کام ماہر ہویا کیمیادان۔اعتراض کی گنجائش نہیں چھوڑی۔اس کی اہمیت کااندازہ یاتو اس کیمیادان کو ہوسکتا ہے جس نےایٹم کےاندر موجود پروٹانوں نیوٹرانوں الیکٹرانوں اور ایٹم کےدیگر اجزا پر مشتمل نظام کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا ہو۔یااس عظمت وصداقت کا احساس اس ماہر علم نباتات وحیوانات (ماہر حیاتیات) کوہوسکتا ہےجس نےحیاتیاتی خلیہ اور اس میں موجود نیوکلس بروٹو پلازم سائیٹو پلازم ارودیوار خلیہ اوردیگر اجزائے خلیہ کا بنظر غائر مشاہدہ اورمطالعہ کیا ہو۔ اگر کیمیادان ایٹم اور ماہر حیاتیات خلیے کےبارے میں جس وقت غور کررہے ہوں اور اول الذکر کوبے جان جسم کی اکائی اور موخرالذکر جاندار جسم کی اکائی خلیہ ایک کارخانہ قدرت نظر آرہا ہوتو ہردوخالق حقیقی کی مدوثنا اور تسبیح واستغفار کرنےپر مجبور ہوجائیں گے بشرطیکہ ان کو تقویٰ کی نعمت حاصل ہو۔

بایں ہمہ یہ انسانی ذہن کے ابتدائی مراحل ہیں اور اب یہ سائنسی علوم اس قدر ترقی کررہے ہیں کہ ایک دن آج کی کہی ہوئی بات بالکل افسانہ معلوم ہوگی جس طرف کل کی بات کاآج ہم مذاق اڑاتے ہیں نامعلوم آج ہمیں چاند میں بڑھیا نظر کیوں نہیں آتی جو ہمارے آباواجداد کےزمانےمیں چرخہ کاتا کرتی تھی۔لیکن یہ بات آج بھی وثوق سےکہی جاسکتی ہے کہ جوں جوں ایٹم سیل اوردیگر مادی وغیرہ مادی اشیا ءاورموضوعات کےمتعلق شخصیات اور تجربات کا دائرہ وسیع ہوگا اسی قدر انسان کو اس حقیقت کازیادہ پختگی اور یقین محکم سے اعتراف کرناپڑے گا کہ واقعی خداوند عزوجل نےکوئی چیز عبث پیدا نہیں کی۔

دنیا کی ہرکتاب کاایک خاص دائرہ کار ہے اور وہ اپنے مخصوص دائرے سےہٹ کر کوئی بات نہیں کہ سکتی۔ اگر وہ نباتات سے متعلق لکھی گئی ہےتواس میں علم کیمیا مفقود ہے۔اگر علم کیمیا سےبحث کرتی ہےتو علم نباتات کےبارے میں خاموش ہے۔ گویاکہ دنیا کی ہرکتاب ایک مخصوص اورمحدور دائرہ کا رکھتی ہےلیکن قرآن مجید کےاس فرمان کوکسی بھی کتاب خواہ وہ نباتات سے متعلق ہویا حیوانات سےعلم کیمیا سے متعلق ہویا علم طبیعات سے کا موضوع بنایا جاسکتا ہےاورتحقیق کاکام کیا جاسکتا ہے۔

کاش کہ آج بھی انسان اس حقیقت کااعتراف کرلے کہ قرآن مجید نہ صرف اخلاقی مذہبی اور رحانی علوم پربحث کرتا ہے بلکہ عام قسم کےعلوم جن سائنسی علوم بھی شامل ہیں کےلیے بہتر سے بہتر مواد مہیاکرکے اس کے لیے تعلیم تحقیق تدقیق اور جستجو کے دروازے کھول دیتا ہے۔قرآن مجید سےغائر مطالعہ کےبعدایمرسن کا افلاطون کی تصنیف جمہوریت کےبارے میں یہ کہتا کہ دنیا کےتمام کتب خانوں کو جلادو۔

کیونکہ ان کےاندر جتنی کام کی باتیں ہیں وہ صرف ایک کتاب جمہوریت میں موجود ہیں۔ مہمل اور احمقانہ فقرہ معلوم ہوتا ہے۔اگرچہ یہ فقرہ پڑھےلکھے جہلا کےلیے ایک ضرب المثل ہی کیوں نہ بن چکا ہو۔

تمام اقوام اورخصوصا مسلمان قوم کےلیے مادی اورغیر مادی ترقی کاصرف اورصرف ایک راستہ ہے کہ اس کےافراد تمام ممکنہ علوم حاصل کریں مگر مرکزیت صرف قرآں مجید ہی کو حاصل ہو۔