﴿يـٰبَنى إِسرٰ‌ءيلَ اذكُر‌وا نِعمَتِىَ الَّتى أَنعَمتُ عَلَيكُم... ٤٠... سورة البقرة

'' اے بنی اسرائیل! میری اس نعمت کو یاد کرو جو میں نے تم پر انعام کی ''

(1)يـٰبَنى إِسرٰ‌ءيلَ(اے بنی اسرائیل)اسرائیل دولفظوں سے مرکب ہے اوریہ دونوں عبرانی الفاظ ہیں اسراًکےمعنی عبد(بندہ)اورصفوۃ(منتخب اوربرگزیدہ)کے ہیں اورایل کے معنی اللہ ہیں یعنی عبداللہ۔

ايل هوالله واسراهمالعبد(ابن جريرطبري 248ص)قال ابن عباس ان إسراءيل كقولك عبدالله-أيضا)

اور اس سےمرادحضرت یعقوب علیہ السلام ہیں جو حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ والسلام کے پوتے اور حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کے والد محترم اورپوری نسل کے بنی اسرائیل کے جدامجد ہیں ایک طویل حدیث میں ہے

ابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ: حَضَرَتْ عِصَابَةٌ مِنَ الْيَهُودِ يَوْمًا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُهم هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ إِسْرَائِيلَ يَعْقُوبَ مَرِضَ مَرَضًا شَدِيدً قالو الهم نعم!فقال النبي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الهم أشد(ابوداؤدطیالسی ص357شہربن حوشب عن ابن عباس)

قرآن حکیم سے بھی اس کےتائید ہوتی ہے:

وَمِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوحٍ وَمِنْ ذُرِّيَّةِ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْرَائِيلَ(سورۃ مریم :آیت58)

اسرائیل کے ایک معنی رات کو اللہ تعالیٰ کی طرف بڑھنےاور چلنے کے بھی ہیں یوں معلوم ہوتا ہےکہ حضرت یعقوب علیہ الصلوۃ والسلام شب زندہ دار تہجدخواں اوررات کو جب دنیا غفلت میں محو خواب ہوتی وہ حق تعالیٰ کےحضور سجدہ ریزاورمحورازنیاز ہوتے تھے۔اس لیے ان کواسرائیل کے لقب سے نواز گیا ہے۔

حضرت یعقوب کے علیہ السلام کےبارہ بیٹے تھے۔

إِذْ قَالَ يُوسُفُ لِأَبِيهِ يَا أَبَتِ إِنِّي رَأَيْتُ أَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رَأَيْتُهُمْ لِي سَاجِدِينَ(سورۃ یوسف:آیت4)

وَقَطَّعْنَاهُمُ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ أَسْبَاطًا أُمَمًا(سورۃالاعراف :آیت103)

فَانْبَجَسَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَيْنًا(سورۃالاعراف :آیت160)

ضْرِبْ بِعَصَاكَ الْحَجَرَ فَانْفَجَرَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَيْنًا(سورۃ بقرۃ:آیت60)

ان سےبارہ اسرئیلی قبائل بنے جن ہر قبیلے کا اپناسردار حکمران ہوتا تھا

وَبَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَيْ عَشَرَ نَقِيبًا(سورۃالمائدۃ:آیت12)

حضرت یعقوب علیہ وعلی نبینا الصلوۃ والسلام نے کنعان(فلسطین)میں بسیرا کیا۔کچھ عرصہ کے بعد حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کے عہد میں پورا خاندان مصر جابسا۔گوپہلے یہ خاندان حکمران کی حیثیت سے داخل ہوالیکن بعد میں کئی سوسال بدترین غلامی کی زندگی گزاری اور یہ لوگ خوئے غلامی میں اس قدر پختہ ہوگئے کہ جب حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کے مبارک عہد میں وہاں سے نجات ملی تو ان کوتیہ کے صحراؤں میں مدتوں رکھ کرپوڑھے غلاموں کے بوجھ سےانھین بلکا کیا گیا اورنئی نسل کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے لیے مواقع مہیا کیے گئے۔تب جا کر کہیں ان خوئے غلامی کا علاج ہوا۔حضور علیہ الصلون والسلام جب مدینہ منورہ کو ہجرت فرما ہوئے تو اسرائیلیوں کے کچھ خاندان مدینہ منورہ کے آس پاس آباد تھے جن کی بڑی بڑی آبادیاں خیبر میں آباد تھیں۔

(2)اذكرو(يادكرو)تفكر بالاءالله اور تذكير بايام الله قرآن کریم کا خاص اسلوب ہے اس کی پوری تفصیل کے لیے حضرت شاہ ولی اللہ ﷫ (وفات1172؁)کی کتاب الفوز الکبیر فی اصول التفسیر کا مطالعہ بڑامفید رہے گا۔اس سے غرض عبرت وموعظت ہوتی ہے یا امتنان وتشکر کے جذبات کو انگیخت کرنا ۔

یہاں پر یہی مؤخرالذکر پہلو ملحوظ ہے کہ وہ ان نعمتوں اورنوازشون کویادکریں جوحق تعالیٰ نے ان پر اور ان کے آباؤاجداد پر کی تھیں اورسوچیں کہ ان کا تقاضا کیا ہے:انکار اورحجودیا احساس ممنونیت کے اطاعت اورشکرگزاری؟

عقبهابذكر الانعامات الخاصة على أسلاف اليهود كسرالعنادهم لجاجهم بتذكيرالنعم السالفة واستمالت لقلوبهم بسبها(تفسير كبير315ص)

(3)نعمتی (میرااحسان نوازش انعام واکراماورافضل وکرم) ان نوازشات کی لسٹ کافی طویل ہے جو حق تعالیٰ نےبنی اسرائیل پرکی تھیں۔

غلام تھےصاحب اقتدار بنادے گئے۔ہر سمت سے ان بر غلامی مسلط تھی ذہنی بھی اور سیاسی بھی اقتصادی بھی اورمعاشرتی بھی الغرض :جومکھی غلامی نے ان کا کچومر نکال کررکھ دیا تھا مگررب نے فضل کیا اور ان کو ایسی سرزمین کا وارث بنادیا جو مادی اورروحانی برکتوں کا سرچشمہ ہے۔

وَأَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِينَ كَانُوا يُسْتَضْعَفُونَ مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا(سورۃ ا الاعراف:137)

ان کی ہدایت کےلیے انبیاء بھیجھے ۔ان کی روحانی اور مادی فلاحی وبہبود کے لیے انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کا خصوصی اہتمام فرمایا۔

وَجَعَلْنَاهُ هُدًى لِبَنِي إِسْرَائِيلَ(سورۃ السجد:آیت23)

وَرَسُولًا إِلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ (سورۃ آل عمران:آیت49)

اختلاف کومٹانے کا سامان۔جن امور میں تذبذب شکوک اور اختلاف رکھتے تھے خداتعالیٰ ان پر ان کی صحیح کیفیت واضح فرماتےرہےتاکہ وہ اندھیرےمیں نہ رہیں۔

هَذَا الْقُرْآنَ يَقُصُّ عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ أَكْثَرَ الَّذِي هُمْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ(سورۃ النمل :آیت76)

قدرت کے نمونے ان کو دکھائے۔قدرت کے نادر نمونے ان کو دکھائے تاکہ ان کو دولت یقین حاصل ہو۔

وَجَعَلْنَاهُ مَثَلًا لِبَنِي إِسْرَائِيلَ (سورۃ الزخرف:آیت59)

ان پر بادلوں کا سایہ کیا:

وَظَلَّلْنَا عَلَيْكُمُ الْغَمَامَ(سورۃ البقرہ:آیت57)

من سلویٰ کھانےکو عنایت کیا۔

وَأَنْزَلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوَى(سورۃ البقرہ:آیت57)

فرعون جیسی سیاسی طاقت سے ان کو کمزوروں کو نجات دےکر اپنی قدرت کانمونہ دکھایا۔

يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ قَدْ أَنْجَيْنَاكُمْ مِنْ عَدُوِّكُمْ(سورۃ طہ:آیت80)

''ان کےشکنجہ سے نکلنے تو دریا نے راستہ چھوڑ دیا۔''

فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقًا فِي الْبَحْرِ يَبَسًا(سورۃ طہ:آیت78)

راستہ بھی جیسے شاہراہ دونوں طرف سے پہاڑ:

فَانْفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِيمِ(سورۃالشعراء:آیت63)

چٹان پر لاٹھی ماری تو بارہ چشمے پھوٹ نکلے:

فَقُلْنَا اضْرِبْ بِعَصَاكَ الْحَجَرَ فَانْفَجَرَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَيْنًا قَدْ عَلِمَ كُلُّ أُنَاسٍ مَشْرَبَهُمْ(سورۃالبقرہ:آیت60)

قدرت کے نمونے کے یہ وہ شاہکارتھےجوصرف بنی اسرائیل نے اپنی آنکھوں سےدیکھے۔

بلکہ اس کے ساتھ اپنی آنکھوں سے فرعون کو غرق ہوتے دیکھا۔

وَإِذْ فَرَقْنَا بِكُمُ الْبَحْرَ فَأَنْجَيْنَاكُمْ وَأَغْرَقْنَا آلَ فِرْعَوْنَ وَأَنْتُمْ تَنْظُرُونَ(سورۃالبقرہ:آیت50)

وَنُرِيَ فِرْعَوْنَ وَهَامَانَ وَجُنُودَهُمَا مِنْهُمْ مَا كَانُوا يَحْذَرُونَ(سورۃالقصص:آیت6)

فَأَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ بِجُنُودِهِ فَغَشِيَهُمْ مِنَ الْيَمِّ مَا غَشِيَهُمْ (سورۃ طہ :آیت78)

یہ قدرت الہی کے وہ نمونے تھے جن کو مشاہدے کے بعد ان کو جذبہ امتنان وتشکر کےساتھ خدا کے حضور جھک جانا چاہیےتھا مگر افسوس !اس کی ان کوتوفیق نہ ہوئی تو قدرت نے عذاب کی شکل میں ان پر مینڈک ٹڈی دل جوئیں اورطوفان مسلط کردیے اوریہ سب کچھ انھوں نے اپنی انکھوں سےدیکھا۔

گویا عذاب کی شکلیں ہیں لیکن ان کے مشاہدہ کے بعد ان کی آنکھیں کھل جاتیں تویہ بھی خدائی انعام کی ایک شکل ہوتی۔

مقدس تابوت کو فرشتے اٹھاکر ان حاضر کرتےہیں جس میں دل جمعی کے سارے سامان اور مقدس یاد گاریں تھیں۔

وَقَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ إِنَّ آيَةَ مُلْكِهِ أَنْ يَأْتِيَكُمُ التَّابُوتُ فِيهِ سَكِينَةٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَبَقِيَّةٌ مِمَّا تَرَكَ آلُ مُوسَى وَآلُ هَارُونَ تَحْمِلُهُ الْمَلَائِكَةُ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ (سورۃالبقرہ:آیت48)

برباد ویرانوں کو انھوں نے اپنی آنکھوں سے معجزانہ طور پر آباد ہوتے دیکھا:

فَأَمَاتَهُ اللَّهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهُ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ قَالَ لَبِثْتُ يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ قَالَ بَلْ لَبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ فَانْظُرْ إِلَى طَعَامِكَ وَشَرَابِكَ لَمْ يَتَسَنَّهْ وَانْظُرْ إِلَى حِمَارِكَ وَلِنَجْعَلَكَ آيَةً لِلنَّاسِ وَانْظُرْ إِلَى الْعِظَامِ كَيْفَ نُنْشِزُهَا ثُمَّ نَكْسُوهَا لَحْمًا فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ قَالَ أَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ(سورۃالبقرہ:آیت259)

امتحانی پرچہ مشاہدہ کیاکہ شکار کے دن مچھلی آتی نہیں اگلے دن آتیں اوربڑے ٹھاٹھ سےآتیں۔

إِذْ يَعْدُونَ فِي السَّبْتِ إِذْ تَأْتِيهِمْ حِيتَانُهُمْ يَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًا وَيَوْمَ لَا يَسْبِتُونَ لَا تَأْتِيهِمْ كَذَلِكَ نَبْلُوهُمْ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ (سورۃ الا عراف:آیت 163)

ان کو مار کر زند ہ کیا پھر ایک دو کونہیں ہزاروں کو:

أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ خَرَجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَهُمْ أُلُوفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ فَقَالَ لَهُمُ اللَّهُ مُوتُوا ثُمَّ أَحْيَاهُمْ(سورۃ البقرہ:آیت243)

اور ان کوبندر بناڈالا تا کہ عبرت پکڑیں اورآنکھیں کھولیں:

وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِينَ اعْتَدَوْا مِنْكُمْ فِي السَّبْتِ فَقُلْنَا لَهُمْ كُونُوا قِرَدَةً خَاسِئِينَ (سورۃ البقرہ:آیت 65)

قلم کو دریا کے الٹےرخ بہتے دیکھا کہ :حضرت مریم کو کس کی سرپرستی میں دیا جائے چنانچہ وہ حضرت زکریا کے نام پر الٹا بہ نکلا۔

وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يُلْقُونَ أَقْلَامَهُمْ أَيُّهُمْ يَكْفُلُ مَرْيَمَ (سورۃ آل عمران:آیت44)

مہد (گہوارہ جھولے) میں ایک نوزائیدہ بچےکو تقریر کرتے دیکھا:

وَيُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَهْلًا(سورۃ آل عمران:آیت46)

قَالَ إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ آتَانِيَ الْكِتَابَ وَجَعَلَنِي نَبِيًّا (30) وَجَعَلَنِي مُبَارَكًا أَيْنَ مَا كُنْتُ وَأَوْصَانِي بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ مَا دُمْتُ حَيًّا (سورۃ مریم:آیت30)

ہم نے قدرت کے ان خوارق اورمعجزانہ نمونوں کی تفصیل اس لیے بیان کی ہے کہ اگر کوئی شخص ان سے استفادہ کرنا چاہے تو یہ بجائے خود خدا کا بڑا انعام ہیں جو بہرحال بنی اسرائیل نے بکثرت مشاہدہ کیے۔باقی رہا ان کا نتیجہ سوا اس کی تفصیل اپنے موقعہ پر آئے گی خلاصہ یہ کہ انھوں نے ان نعمائے الہیہ کو عموماً اپنے حق میں عذاب بنالیا ۔ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔

برتری۔اپنےعہد میں سارے دنیا پر ان کو برتری عنایت کی۔

وَأَنِّي فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ (سورۃ البقر:47)

وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ (سورۃ الجاثیہ:آیت16)

گویہ بھی ایک آزمائش تھی بہرحال یہ برتری ان کو ملی۔

وَلَقَدِ اخْتَرْنَاهُمْ عَلَى عِلْمٍ عَلَى الْعَالَمِينَ (32) وَآتَيْنَاهُمْ مِنَ الْآيَاتِ مَا فِيهِ بَلَاءٌ مُبِينٌ (سورۃ الدخان:آیت 32تا33)

ان کو کتاب حکومت اورپیغمبر ی دی ۔ اللہ تعالیٰ نےان کو کوکتاب عنایت کی اقتدار کی دولت سے نوازااور حضرت یعقوب علیہ الصلٰوۃ والسلام سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک نبوت کا سلسلہ ان میں قائم کیا۔

وَلَقَدْ آتَيْنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ(سورۃ الجاثیہ:آیت16)

وَأَوْرَثْنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ الْكِتَابَ(سورۃ غافر:آیت53)

يَا قَوْمِ اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنْبِيَاءَ وَجَعَلَكُمْ مُلُوكًا(سورۃ المائدہ:آیت20)

وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ( سورۃ القصص:آیت 5)

زرق فرازاں اورعزت ۔اقتصادی اورمعاشی خوشحالی اللہ کا بہت بڑاکرم ہے بشرطیکہ ایمان کے تابع رہے۔

وَرَزَقْنَاهُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ(سورۃ یونس:آیت93)

كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَلَا تَطْغَوْا فِيهِ فَيَحِلَّ عَلَيْكُمْ غَضَبِي(سورۃ طہ :آیت81)

فَانْفَجَرَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَيْنًا قَدْ عَلِمَ كُلُّ أُنَاسٍ مَشْرَبَهُمْ كُلُوا وَاشْرَبُوا مِنْ رِزْقِ اللَّهِ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ (سورۃ البقرہ:آیت60)

آل فراعنہ کے سارے طنطنوں اورنعمتوں کا ان کووارث بنادیا۔

فَأَخْرَجْنَاهُمْ مِنْ جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ (57) وَكُنُوزٍ وَمَقَامٍ كَرِيمٍ (58) كَذَلِكَ وَأَوْرَثْنَاهَا بَنِي إِسْرَائِيلَ(سورۃ الشعرا:57تا59)

كَمْ تَرَكُوا مِنْ جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ (25) وَزُرُوعٍ وَمَقَامٍ كَرِيمٍ (26) وَنَعْمَةٍ كَانُوا فِيهَا فَاكِهِينَ (27) كَذَلِكَ وَأَوْرَثْنَاهَا قَوْمًا آخَرِينَ (سورۃ الدخان:آیت25تا28)

وَقُلْنَا مِنْ بَعْدِهِ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ اسْكُنُوا الْأَرْضَ (سورۃ الاسراء:آیت104)

وَلَقَدْ بَوَّأْنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ مُبَوَّأَ صِدْقٍ(سورۃ یونس:آیت93)

اللہ کےنبی ان کی خوشحال کےلیے دعائیں کرتے رہے:

قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا أَنْزِلْ عَلَيْنَا مَائِدَةً مِنَ السَّمَاءِ تَكُونُ لَنَا عِيدًا لِأَوَّلِنَا وَآخِرِنَا وَآيَةً مِنْكَ وَارْزُقْنَا وَأَنْتَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ (114) قَالَ اللَّهُ إِنِّي مُنَزِّلُهَا عَلَيْكُمْ (سورۃ المائدۃ:114تا115)

ان کےجرموں سےدرگزر فرما کر پھر ان پر دادوہش کی آل اولاد سے نواز کہ ایک مؤثر جتھابن گیا۔

ثُمَّ رَدَدْنَا لَكُمُ الْكَرَّةَ عَلَيْهِمْ وَأَمْدَدْنَاكُمْ بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَجَعَلْنَاكُمْ أَكْثَرَ نَفِيرًا(سورۃ الاسراء:آیت6)

انبیاءبنی اسرائیل:انبیاء بنی اسرائیل علیہم الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے بعض خصوصیات ایسی بھی عطا کی تھیں جو دوسرے کے حصے میں کم آئی ہیں ۔مثلا مادرزاداندھوں کوڑھیوں وغیرہ کی شفا بخش مسیحائی:مردوں زندہ کرنا اور مٹی کے پتلوں میں باذنہ تعالیٰ جان ڈال دینا۔

وَإِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّينِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ بِإِذْنِي فَتَنْفُخُ فِيهَا فَتَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِي وَتُبْرِئُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ بِإِذْنِي وَإِذْ تُخْرِجُ الْمَوْتَى بِإِذْنِي(سورۃ المائدۃ:110)

حضرت داؤد علیہ الصلوٰۃ والسلام جب تسبیح وتقدیس کےنغمے گاتے تو پرند چرند اورپہاڑوں تک جھوم اٹھتے۔

اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهُ يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِيِّ وَالْإِشْرَاقِ (18) وَالطَّيْرَ مَحْشُورَةً كُلٌّ لَهُ أَوَّابٌ(سورۃ ص:18تا19)

يَا جِبَالُ أَوِّبِي مَعَهُ وَالطَّيْرَ(سورۃ سباء:آیت10)

حضرت سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام کے لیے ہوائیں مسخر کردی گئی تھیں۔

وَلِسُلَيْمَانَ الرِّيحَ غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَرَوَاحُهَا شَهْرٌ(سورۃ سباء:آیت12)

ان کو پرندوں کی زبان سکھادی گئی تھی۔

وَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّيْرِ(سورۃالنمل :آیت16)

مچھلی کے پیٹ میں ڈالنے کے بعد زندہ نکال لیا گئے تھے اور وہاں رب کوپکارتے رہے۔

فَالْتَقَمَهُ الْحُوتُ وَهُوَ مُلِيمٌ(سورۃ الصافات:آیت142)

فَنَادَى فِي الظُّلُمَاتِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ(سورۃ الانبیاء:آیت87)

تکمیل نعمت۔الغرض اللہ تعالیٰ نےبنی اسرائیل سے جوجو وعدے فرمائے ایک ایک کرکے وہ سب پورے ہوئے۔

وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنَى عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ(سورۃ الاعراف:آیت137)

خصوصا ان سے فرعون اس کی غلامی ارواستبدادی چیرہ دستیوں سے نجات دلانے امامت پرفائز کرنے اور جانشینی جیسے مقام رفیع کے وارث بنانے کا جووعدہ کیا گیا تھا اس نعمت کی بھی اب تکمیل ہوگئی:اس وعدے کا ذکر ذیل کی آیت میں آیا ہے:

وَنُرِيدُ أَنْ نَمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الْأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ (سورۃ القصص :آیت5)

خداکی ہربات اچھی ہوتی ہےوَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنَى میں بھی اچھی بات کا ذکر کیا گیا ہے۔

وَأَوْفُوا بِعَهْدِي أُوفِ بِعَهْدِكُمْ وَإِيَّايَ فَارْهَبُونِ (سورۃ البقرہ:آیت 40)

'' اور میرے عہد کو پورا کرو میں تمہارے عہد کو پورا کروں گا اور مجھ ہی سے ڈرو ''

وہ بنی اسرائیل کے سلسلے سے وہ بول اور فیصلے ہیں جو نبی اسرائیل کے مفاد اوراچھے مستقبل رکھتے ہیں ۔وہ امامت اور توحید کی امانت کی وارثت ہے جو بہرحال ایک دفعہ ان کو دے دی گئی۔ کہا ان کی یہ حالت کہ ان ہرنومولود بچہ چھری تلے رکھ دیا جائے ان کی بچیوں کو اپنی ضیافت طبع کے لیے زندہ رہنے دیا جائےبات افراد کی نہیں پوری قوم کی ہے کہ اسے غلامی کے شکنجے میں یوں کس کررکھ دیا گیا تھا کہ وہ حاکم قوم کے جانوروں کی بھی غلامی ہوکر رہ گئی تھی اوراب یہ حالت ہے کہ وہی فرعون ان کے سامنے ذلت کی موت مررہا ہےکنعان کی سلطنت ان کی راہ دیکھ رہی ہے نخرے یہ ہیں کہ جنگلوں میں بھی جہاں کچھ نہیں ملتا وہاں خدا ان کا میزبان ہے ۔پکا پکایا من سلوٰی اتررہا ہے اور رہنے کو خدائی سائبان سایہ فگن ہے الغرض غلامی کی ذہنیت اور کوفت دور کرنے کےلیے اب (1) غلامی کے بدلے شاہزدگی جیسے چونچلے ہیں(2)غلامانہ بیگارا او ر محنت کے بجائے ان میں مجاہدانہ اسپرٹ پیدا کرکے ان کو اپنی دنیا آپ بنانے کا خوگر بنایا جارہا ہے۔بس ان سے کہا جارہا ہے کہ: اے بنی اسرائیل :کچھ تو سوچو!میرے احسانوں کوہی یاد کروجو مین نے تم پر کیے تھے۔

(4) وَأَوْفُوا بِعَهْدِي(مجھ سے جو عہد اور اقرار ہے تم پورا کرو)وفیٰ کےمعنی پوراکیا ہیں اور اوفیٰ کے معنی ہیں پورا چکادیا )توفیٰ(روح کو قبض کیا اور مدت پوری کی) متوفی(پوری مدت کروں گا)الغرض: و'ف'ی' کے مادے میں پورا ہونا بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔حق تعالیٰ فرماتے ہیں: مجھ سےقول واقرار کیا ہے اسے پورا کرو کمی بیشی سے اس کی روح کو داغدارنہ کرو۔

عھد۔ عہد کے اصل معنی ذمہ ضمان وصیت پیمان میثاق شاہی فرمان اور دوستی کی پہیم نگداہشت کرنے کی ہیں۔یعنی وہ بات جو فریقین نے باہم طے کی ہے جس کا تصور ان کےذہنوں میں ہے ۔اس کس پوری پوری حفاظت کرنے کو کہتے ہیں ۔عہد اور میثاق کو مزید مؤکد کرنے کے لیے بعض اورقات حلف اٹھاتے ہین ۔اسے موکد عہد یامیثاق اورحلف یا محالفہ بھی کہتے ہیں۔علماء لکھتے ہیں کہ عہد سےمراد کبھی وہ صلاحیت اور استعداد ہوتی ہے جو اللہ نے عقلوں میں ودیعت فرمائی ہے کبھی وہ احکام ہوتےہیں کہ جو کتاب وسنت کی طرف سے عائد کیے جاتے ہیں بعض وہ ذمے ہوتے ہیں جو انسان خود اپنے اورپر لازم کرتے ہیں جیسے نذریں اور بعض وہ عہد ہوتے ہیں جو معاہدہ کی شکل میں اختیار کیے جاتے ہیں ۔ گویہاں یہ سب ممکن ہیں تاہم ہم مؤخر الذکر کی تفصیلات آپ کے سامنے رکھتے ہیں کہ یہ زیادہ معروف ہے۔

میثاق اور معاہدات

قرآن وحدیث میں ان معاہدات کی کچھ تفصیل آگئی ہے جونبی اسرائیل نے خدا سے کیے تھے۔

اللہ کی غلامی اورلوگوں سے حسن معاملہ ۔حق تعالیٰ نےبنی اسرائیل سے ایک یہ عہد لیا تھا کہ توحید پرقائم رہیں صرف اس کی عبادت اور غلامی کریں والدین اقربا یتیموں مسکینوں سےاچھا سلوک اورمعاملہ کریں لوگوں سےاچھی گفتگورین کہنا ہوتو ان سے اچھی بات کہیں نماز قائم کریں اورزکوٰۃ دیتے رہا کریں۔

وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَ بَنِي إِسْرَائِيلَ لَا تَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ(سورۃ البقرہ:آیت83)

انبیاء پر ایمان اوران سے تعاون ۔ ان کا یہ بھی معاہدہ تھا کہ وہ اللہ کے رسول پر ایمان لائیں گئے اوران سے تعاون کریں گے۔

وَآمَنْتُمْ بِرُسُلِي وَعَزَّرْتُمُوهُمْ(سورۃ المائدہ :آیت 12)

لَقَدْ أَخَذْنَا مِيثَاقَ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَأَرْسَلْنَا إِلَيْهِمْ رُسُلًا(سورۃ المائدہ :آیت 70)

وَمَا لَكُمْ لَا تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ لِتُؤْمِنُوا بِرَبِّكُمْ وَقَدْ أَخَذَ مِيثَاقَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ(سورۃ الحدید:آیت)

احکام الہی کی سچی پابندی ۔جو آسمان کتاب ان پر نازل ہوئی ہے عہد لیاگیاتھا کہ وہ اس کا دامن تھام کررکھیں گئے اور اس کے اسباق بھولیں گےنہیں۔

وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَكُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّورَ خُذُوا مَا آتَيْنَاكُمْ بِقُوَّةٍوَاذْكُرُوا مَا فِيهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُون(سورۃ البقرہ:آیت 63)

خدکی طرف صرف حق کی بات منسوب کریں۔ جیسے لوگوں کا طریقہ ہے کہ جوبات دل کواچھی لگی یا جس سے انسان اپنی غرض متعلق ہوئی اسے اللہ کی طرف منسوب کردیتے ہیں تاکہ اسےقبول عام حاصل ہو یا اپنا الوسیدھا ہو حق تعالیٰ فرماتے ہیں کہ آپ بھی ایسے کام نہ کیا کریں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف وہ بات منسوب کریں جوحق ہو اور صرف حق۔

أَلَمْ يُؤْخَذْ عَلَيْهِمْ مِيثَاقُ الْكِتَابِ أَنْ لَا يَقُولُوا عَلَى اللَّهِ إِلَّا الْحَقَّ(سورۃ الاعراف:169)

حق کی نشرواشاعت۔ اللہ کی طرف سے ان پر جو حق نازل ہوااور جو تورات انجیل میں موجود ہے اس کےبارے میں حکم ہوتا ہےکہ صرف اسےتھام کرنہیں چلنا بلکہ اسےکھول کھول کرلوگوں کو بتانا بھی ہے۔

وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُونَهُ(سورۃ آل عمران:آیت187)

خون ریزی اور جلاوطن کرنے سےپرہیز ۔ان سےیہ بھی عہد لیاگیا تھا کہ قتل ناحق اورلوگوں کو گھر سےبے گھر کرنے سےبھی پرہیز کریں گئے۔

وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَكُمْ لَا تَسْفِكُونَ دِمَاءَكُمْ وَلَا تُخْرِجُونَ أَنْفُسَكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ ثُمَّ أَقْرَرْتُمْ وَأَنْتُمْ تَشْهَدُونَ(سورۃ البقرہ:آیت 84)

سجدہ شکرفرمایا کہ جب شہر میں داخل ہوں تو سجدہ شکر کےساتھ داخل ہوں۔

وَقُلْنَا لَهُمُ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدً(سورۃ النساء:آیت 154)

حکم سےتجاوز نہ کریں۔فرمایا کہ ہفتے کے دن مچھلی کےشکار سےپرہیز کریں۔

لَا تَعْدُوا فِي السَّبْتِ وَأَخَذْنَا مِنْهُمْ مِيثَاقًا غَلِيظًا(سورۃ النساء:آیت 154)

خدا سےسودا۔یہ لوگ جان مال خداکی راہ میں لڑائیں گے خدا ان کو جنت عطا کرےگا ان کے لیے فوز وفلاح کی بشارت ہے:۔

إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْقُرْآنِ وَمَنْ أَوْفَى بِعَهْدِهِ مِنَ اللَّهِ فَاسْتَبْشِرُوا بِبَيْعِكُمُ الَّذِي بَايَعْتُمْ بِهِ وَذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ(سورۃ التوبہ:آیت111)

کان لگاکر سنو۔ان سے قول واقرار لیا گیا کہ خداکی باتیں غور سےسنیں گے یعنی سنیں گے تاکہ تعمیل کریں۔

خُذُوا مَا آتَيْنَاكُمْ بِقُوَّةٍ وَاسْمَعُوا(سورۃ البقرہ:آیت 93)

اپنا عہد پوراکرو۔بات کرلینا آسان ہے اس کا پورا کرنا کارداردہے اس لیے ان سےفرمایا کہ عہد کرکےپورا بھی کیاکرو۔

وَأَوْفُوا بِعَهْدِ اللَّهِ إِذَا عَاهَدْتُمْ وَلَا تَنْقُضُوا الْأَيْمَانَ بَعْدَ تَوْكِيدِهَا(سورۃ النحل :آیت91)

متاع قلیل اورعہد۔فرمایا :متاع قلیل کی خاطر رب کے معاہدے ضائع نہ کیا کرو۔

وَلَا تَشْتَرُوا بِآيَاتِي ثَمَنًا قَلِيلًا(سورۃ القرہ :آیت41)

سوت کات کر توڑونہیں۔معاہدہ کرکے خود ہی اس کے بخیے نہ ادھیڑو جیسے عورت سوت کات کرٹکڑے ٹکڑے کردے۔

لَا تَكُونُوا كَالَّتِي نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِنْ بَعْدِ قُوَّةٍ أَنْكَاثًا(سورۃ البقرہ:آیت92)

(5) أَوْفُوا بِعَهْدِكُمْ)جوقول اقرار میں نے کیا ہے میں پورا کروں گا)کیونکہ اللہ کے سب وعدے سچے ہیں اوروہ با ت کا ہمیشہ سچا ہے۔

وَعْدَ اللَّهِ حَقًّا وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا (سورۃ النساء :آیت122)

معاہدہ کافائدہ۔رب سے جو معاہدہ کیا جاتا ہے وہ خسارے کا سودا نہیں ہوتا منافع ہی منافع ہوتے ہیں کیونکہ اس کےصلے میں جوعطا ہوگا لازوال ہوگا۔

إِنَّمَا عِنْدَ اللَّهِ هُوَ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ (95) مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللَّهِ بَاقٍ(سورۃ النحل :آیت95تا96)

ثابت قدم رہے تو۔اگر معاہدہ پر ثابت قدم رہے تو صلہ پورا کے بجائے اورزیادہ ملے گا۔

وَلَنَجْزِيَنَّ الَّذِينَ صَبَرُوا أَجْرَهُمْ بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ(سورۃ النحل :آیت 96)

اچھی اور پاک زندگی ۔جس نے اس سلسلے میں بہتر کردار پیش کیا ان پاک او راچھی زندگی عطا کی جائے گی

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُمْ بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ(سورۃ النحل :آیت97)

گویاکہ آیات عام ہیں تاہم عہداللہ کے سیاق میں ذکر کی گئی ہیں اس لیے اس لحاظ سےیہ غیر متعلق بھی نہیں ہیں۔

جنت عطا کرگا۔ یہ عنایات الہی کا صرف دنیوی زندگی تک محدود نہیں بلکہ پچھلی غلطیوں سےدرگزر فرما کر جنت کا بھی وارث بنادےگا۔

لَأُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَلَأُدْخِلَنَّهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ (سور ۃ آل عمران :آیت 196)

اللہ کی معیت۔ حق تعالیٰ کی معیت ملاک الامر کی حیثیت رکھتی ہےجو لوگ معاہدہ کی پاندی کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کی معیت ان کو حاصل ہوجاتی ہے۔

وَقَالَ اللَّهُ إِنِّي مَعَكُمْ(سورۃ المائدہ :آیت 12)

(6) وَإِيَّايَ فَارْهَبُونِ(خاص مجھ سے ڈرو) مقصد یہ ہے کہ:ایفائے عہد کے سلسلے میں بظاہر جو مشکلات نظر آتی ہیں یابظاہر جن نقصانات کااندیشہ ہے اس کی پرواہ نہ کرواگر کوئی اندیشہ سودمند ہوسکتا ہے تو صرف خدا کا ڈر ہے۔