پیدائش اور ابتدائی تعلیم

مولانا وحید الدین خان یکم جنوری ۱۹۲۵ء کو پیدا ہوئے۔ ان کی پیدائش اُتر پردیش، بھارت کے ایک قصبہ اعظم گڑھ میں ہوئی۔ چار یا چھ سال کی عمر میں ہی اِن کے والد محترم فریدالدین خان وفات پا گئے ۔ اِن کی والدہ زیب النساء خاتون نے اِن کی پرورش کی اور اِن کے چچاصوفی عبد الحمید خان نے اِن کی تعلیم کی ذمہ داری اُٹھائی۔خان صاحب کا کہنا ہے کہ بچپن کی یتیمی نے اُن میں مسائل سے جان چھڑانے کی بجائے اُن کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ پیدا کیا ۔1

اُنہوں نے ابتدائی تعلیم مدرسۃ الاصلاح،سرائے میر،اعظم گڑھ سے ہی حاصل کی۔ ۱۹۳۸ء میں اِس مدرسہ میں داخلہ لیا اور ۱۹۴۴ء میں چھ سال بعد اُنہوں نے یہاں سے اپنی مذہبی تعلیم مکمل کر لی۔اِس کے بعد ان کے بڑے بھائی نے اُنہیں کاروبار میں شامل کرنے کی کوشش کی لیکن اُن کا خیال یہ تھا کہ اُنہیں ابھی انگریزی زبان کی تعلیم حاصل کرنی ہے۔ اِس مقصد کے لیے اُنہوں نے لائبریری جا کر سائنس اور جدید علوم کی کتب کا مطالعہ شروع کیا۔2

کچھ عرصہ بعد خان صاحب نے محسوس کیا کہ اُنہوں نے مدرسہ کی تعلیم کے ساتھ جدید علوم کا بھی کافی مطالعہ کر لیا ہے تو اُنہوں نے دینی علم کو زمانۂ حاضر کے تقاضوں کے مطابق پیش کرنے کا ارادہ کیا۔ اُن کی تحریروں میں بین المذاہب مکالمہ اور اَمن کا بہت زیادہ ذکر ملتا ہے۔ اور آخر عمر میں اُنہوں نے دین اسلام کا خلاصہ اِنہی دو لفظوں میں بیان کیا ہے۔

۱۹۵۵ء میں اُن کی پہلی کتاب'نئے عہد کے دروازے پر' شائع ہوئی۔ یہی کتاب بعد میں اُن کی معروف کتاب 'مذہب اور جدید چیلنج' کے لیے بنیاد بنی اور اِس کا عربی ترجمہ الإسلام یتحدّٰی کے نام سے مقبولِ عام ہوا جو کئی ایک عرب جامعات کے نصاب میں بھی شامل ہے۔ جارج ٹاؤن یونیورسٹی سے شائع شدہ ایک حالیہ کتاب "500 Most Influential Muslims of 2009" میں اُنہیں"Islam's Spiritual Ambassador to the World" قرار دیا گیا ہے۔ (ایضاً)

جماعتِ اسلامی اور تبلیغی جماعت میں شمولیت

خان صاحب شروع شروع میں مولانا مودودی کی تحریروں سے متاثر ہوئے اور ۱۹۴۹ء میں جماعتِ اسلامی، ہند میں شامل ہوئے۔ کچھ ہی عرصہ میں جماعتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن بھی بن گئے۔ جماعتِ اسلامی کے ترجمان رسالہ 'زندگی' میں باقاعدگی سے لکھتے رہے ۔جماعت اسلامی میں شمولیت کے بعد مولانا وحید الدین خان صاحب نے ۱۵ سال کے بعد جماعتِ اسلامی کو خیرباد کہا۔جماعت اسلامی سے علیحدگی کے بعد تبلیغی جماعت کے ساتھ وابستہ ہو گئے لیکن ۱۹۷۵ء میں اُسے بھی مکمل طور پر چھوڑ دیا۔

ذاتی دعوتی اور علمی کام کا آغاز

۱۹۶۷ء میں اپنے دعوتی کام کا آغاز کیا۔ ۱۹۷۰ء میں نئی دہلی میں ایک اسلامک سنٹرکی داغ بیل ڈالی اور ۱۹۷۶ء میں 'الرسالہ' کے نام سے ایک اُردو رسالہ کا اِجرا کیا۔ ۱۹۸۴ء میں ہندی اور ۱۹۹۰ء میں انگریزی میں بھی'الرسالہ'جاری کیا گیا۔اُردو میں اُن کا ترجمہ قرآن اور تشریحی نکات 'تذکیر القرآن'کے نام سے دو جلدوں میں شائع ہو چکے ہیں۔ یہی ترجمۂ قرآن بعد میں ہندی اور انگریزی میں بھی شائع ہوا۔انگریزی ترجمہ The Quran کے نام سے شائع ہوا حالانکہ ترجمہ قرآن کا یہ نام رکھناکسی طور درست نہیں۔ کوئی بھی ترجمہ قرآن، حقیقی قرآنِ مجید نہیں ہو سکتا۔ قرآن مجید فصیح عربی زبان میں ہے اور جب اُس کا ترجمہ کسی اور زبان میں کیا جاتا ہے تو وہ قرآنِ مجید کا ترجمہ تو کہلایا جا سکتاہے لیکن قرآن مجید نہیں۔ خان صاحب نے ۲۰۰۱ء میں اپنے نقطۂ نظر اور دعوت کے پھیلاؤ کے لیے 'سی پی ایس' یعنی 'سنٹر فار پیس اینڈ سپرچوئیلٹی' کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا جو اُن کے بقول 'دعوت' اور 'امن' دو بنیادوں پر قائم ہے۔

مولانا وحید الدین خان تقریباً دو سو کتب کے مصنف ہیں،جو اردو ،عربی اور انگریزی زبان میں ہیں۔ اُن کی معروف کتب میں تذکیر القرآن، اسلام دورِ جدید کا خالق، مذہب اور جدید چیلنج، تعبیر کی غلطی، رازِ حیات، دین کی سیاسی تعبیر، عقلیاتِ اسلام، پیغمبر ِانقلاب اور اللہ اکبر ہیں۔ انگریزی اور عربی کتابیں اکثر وبیشتر مولانا کی اُردو تحریروں ہی کے تراجم ہیں۔ (ایضاً)

فکر ی بنیادیں

مولانا وحید الدین خان صاحب کی تحریروں کے بالاستیعاب مطالعہ کے بعد اُن کے دعوتی اور علمی کام کو آسانی کی خاطر پانچ حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے :

تذکیرونصیحت: خان صاحب کی تحریروں میں تذکیر کا پہلو غالب اور نمایاں طور موجود ہے۔ چھوٹی اور عام سی بات سے بھی نصیحت کا پہلو نکال لینے میں اُنہیں کمال حاصل ہے۔خان صاحب لکھتے ہیں:

''ایک امریکی خاتون سیاحت کی غرض سے روس گئیں۔وہاں اُنھوں نے دیکھا کہ ہر جگہ کمیونسٹ پارٹی کے چیف کی تصویریں لگی ہوئی ہیں۔ یہ بات اُنھیں پسند نہیں آئی۔ ایک موقع پر وہ کچھ روسیوں سے اِس پر تنقید کرنے لگیں۔ خاتون کے ساتھی نے اُن کے کان میں چپکے سے کہا:''میڈم!آپ اِس وقت روس میں ہیں، امریکہ میں نہیں ہیں۔'' آدمی اپنے ملک میں اپنی مرضی کے مطابق رہ سکتا ہے ۔ لیکن اگر وہ کسی غیر ملک میں جائے تو وہاں اُس کو دوسرے ملک کے نظام کی پابندی کرنی پڑے گی۔ اگر وہ وہاں کے نظام کی خلاف ورزی کرے تو مجرم قرار پائے گا۔ ایسا ہی کچھ معاملہ وسیع تر معنوں میں دنیاکا ہے، انسان ایک ایسی دنیا میں پیدا ہوتا ہے جس کو اُس نے خود نہیں بنایا ہے۔ یہ مکمل طور پر خدا کی بنائی ہوئی دنیا ہے۔ گویا انسان یہاں اپنے ملک میں نہیں ہے بلکہ خدا کے ملک میں ہے۔''3

ردّ عمل کی نفسیات: خان صاحب کی فکر ردّ عمل کی نفسیات (Psychology of Reaction) پر قائم ہے اور یہ ردّعمل اسلام کے سیاسی تصور، معاصر اسلامی تحریکات اور متنوع مذہبی طبقات کا ہے۔خان صاحب لکھتے ہیں:

''کچھ لوگ اسلام کا جامع تصور پیش کر رہے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ اسلام ایک مکمل نظام ہے۔ اسلام میں صرف عقیدہ اور عبادت اور اخلاق شامل نہیں ہیں، بلکہ پولیٹکل سسٹم بھی اس کا لازمی جز ہے۔ پولیٹکل سسٹم کو قائم کیے بغیر اسلام ادھورا رہتا ہے، وہ مکمل نہیں ہوتا۔ یہ بظاہر اسلام کا جامع تصور ہے، لیکن حقیقت کے اعتبار سے وہ ایک تخریبی تصور ہے۔''4

ایک اور جگہ لکھتے ہیں:

'' جہاں تک زمین پر سیاسی غلبہ کا معاملہ ہے، اس کا تعلق تمام تر اللہ تعالیٰ سے ہے۔ قرآنِ مجید کے مطابق، زمین پر سیاسی غلبہ کا فیصلہ براہِ راست اللہ کی طرف سے ہوتا ہے،اور وہ اُسی کو ملتا ہے جس کے لیے اللہ نے اُس کا فیصلہ کیا ہو (۲۶:۳)۔ اِس سے معلوم ہوا کہ سیاسی نظم کے قیام کو نشانہ بنا کر عمل کرنا، ایک مبتدعانہ عمل ہے۔ وہ دین کے نام پر بے دینی ہے۔ وہ اسلام کے نام پر اسلام سے انحراف کرنا ہے۔ اِس قسم کی کوشش کو کبھی بھی خدا کی نصرت نہیں ملے گی، اِس لیے ایسی کوشش کبھی کامیاب ہونے والی نہیں۔''5

ایک اور جگہ لکھتے ہیں:

''موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی تمام بڑی بڑی تحریکیں حیرت انگیز طور پر انتہائی ناکامی کا شکار ہوئی ہیں۔مسلمان جب بھی کوئی تحریک اٹھاتے ہیں تو خدا اُن کے گھروندے کوٹھوکر مار کر گرا دیتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اُن کی یہ تمام سرگرمیاں خدا کی نظر میں بالکل نامطلوب ہیں۔ اِس بنا پر وہ اُن کو حرفِ غلط کی طرح مٹا رہا ہے۔''6

مذکورہ بالا عبارات بتا رہی ہیں کہ جذبات میں ٹھہراؤ اور اطمینان نہیں ہے اور اختلاف کے اظہار میں ردّعمل کی نفسیات واضح طور محسوس ہو رہی ہیں۔

تجدّد: خان صاحب کے افکار ونظریات میں تجدد پسندی (Modernity)کی طرف میلانات اور رجحانات بہت زیادہ پائے جاتے ہیں اور صحیح معنوں میں اُن پر لفظ 'متجدد' اس اعتبار سے صادق آتا ہے کہ اُنہوں نے دین کے بنیادی تصورات کی اَز سر نو ایسی تعبیر وتشریح پیش کی ہے جو اُن سے پہلے کسی نے نہیں کی اور وہ نہ صرف اِس بات کو تسلیم کرتے ہیں بلکہ اپنے لیے اِس میں فخر بھی محسوس کرتے ہیں۔خان صاحب لکھتے ہیں:

'' پچھلے ہزار سال میں مسلمانوں کے درمیان جو لٹریچر تیار ہوا، اُس میں سب کچھ تھا، مگر اُس میں جو چیز مکمل طور پر حذف تھی اور وہ ہے: دعوت اور اَمن کا تصور۔ اِس کے بعد جب مغربی طاقتوں نے مسلم ایمپائر کو توڑ دیا تو اِس کے خلاف رد عمل کی بنا پر یہ ذہن اور زیادہ پختہ ہو گیا۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بیسویں صدی عیسوی پوری کی پوری، منفی سوچ اور منفی سرگرمیوں کی نذر ہو گئی۔ اِس پوری صدی میں نہ دعوت کا پیغام لوگوں کے سامنے آیا اور نہ اَمن کا پیغام، جب کہ یہ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم وملزوم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ راقم الحروف پر اللہ تعالیٰ نے استثنائی طور پر دعوت اور اَمن کی اہمیت کھولی۔''7

اب اُن کے اِس تصورِدعوت اور اَمن کی بھی ذرا سی جھلک ملاحظہ فرمائیں جو اُن کے بقول مسلم دنیا کی ایک ہزار سالہ تاریخ میں نہیں ملتا ۔ خان صاحب لکھتے ہیں:

'' ۱۱ نومبر ۲۰۰۱ء میں نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر کو توڑنے کا مشہور واقعہ پیش آیا۔ اِس واقعے کے بعد امریکا غضب ناک ہو گیا۔ اُس نے عراق اور افغانستان کے خلاف براہِ راست طور پر اور پوری دنیا کے خلاف بالواسطہ طور پر ایک انتقامی جنگ چھیڑ دی۔ اِس جنگ میں نام نہاد جہاد کے اَکابر رہنما یا تو مارے گئے یا وہ خاموش ہو گئے۔ امریکا کا یہ آپریشن اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک خدائی آپریشن تھا۔ اِس نے اُن تمام طاقتوں کو زیر کر دیا جو اَمن اور دعوت کے مشن کے خلاف محاذ بنائے ہوئے تھے۔''8

تنقیص: خان صاحب نے اپنے ماسوا تقریباً ہر دوسرے بڑے عالمِ دین پر تنقید کی ہے اور ان کی نقد تعمیری(Constructive Criticism) نہیں ہے بلکہ تنقیص (reproach and denunciation) کی ایک صورت ہوتی ہے۔ خان صاحب لکھتے ہیں:

'' اگر میں یہ کہوں تو مبالغہ نہ ہو گا کہ میں پیدائشی طور پر ایک تنقید پسند آدمی ہوں۔''9

ایک ہے کہ ضرورت کے تحت تنقید کرنا اور یہ ایک ناگزیر اَمر اور معاشرتی ضرورت ہے۔ جبکہ 'تنقید پسند ہونا' ایک دوسری بات ہے جو ہمارے خیال میں بہرطور درست نہیں ہے جبکہ تنقید کا معنی بھی 'تنقیص' سے زائد نہ ہو۔ مولانا کی اِس ترکیب میں 'پسند' کا لفظ بھی قابل غور ہے۔ خان صاحب ایک اور جگہ علما کی عیب جوئی کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

''حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے علما مغربی افکار کو سرے سے جانتے ہی نہیں۔ علما اگر مغربی فکر کو گہرائی کے ساتھ سمجھتے تو اُس کو اپنے لیے عین مفید سمجھ کر اُس کااستقبال کرتے۔ مگر سطحی معلومات کی بنا پر وہ اِس کے مخالف بن گئے اور اِس کا مذاق اُڑانے لگے۔''10

ایک اور جگہ اہل علم پر الزام دھرتے ہوئے لکھتے ہیں:

''علما کی دورِ جدید سے بے خبری کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ایسا لٹریچر تیار نہ کر سکے جو جدید ذہن کو مطمئن کرنے والا ہو۔ شاہ ولی اللہ سے لے کر سید قطب تک، میرے علم کے مطابق، مسلم علما کوئی ایک کتاب بھی ایسی تیار نہ کر سکے جو آج کے مطلوبہ معیار پر پوری اُترتی ہو۔''11

ایک اور جگہ لکھتے ہیں:

''سو سال سے بھی زیادہ مدت سے یہ بات کہی جا رہی ہے کہ ہمیں دورِ جدید کے علما کی ضرورت ہےیعنی ایسے علما جو علوم دینیہ کی تحصیل کے علاوہ وقت کے علوم کی بھی تعلیم حاصل کریں۔ اِس طرح ایسے علما تیار ہوں جو قدیم و جدید دونوں سے واقف ہوں تاکہ وہ عصر حاضر کے مطابق، اسلام کی خدمت انجام دے سکیں۔ایسے لوگوں کی فہرست ہزاروں میں شمار کی جا سکتی ہے جو دونوں قسم کی تعلیم سے بہرہ ور ہوئے، مگر وہ ملت کی مطلوب ضرورت کو پورا نہ کر سکے۔ مثال کے طور پر چند نام یہاں لکھے جاتے ہیں: مولانا حمید الدین فراہی، مولانا سعید احمد اکبر آبادی، ڈاکٹر یوسف قرضاوی، پروفیسر مشیر الحق، ڈاکٹر عبد الحلیم عویس، ڈاکٹر عبد اللہ عباس ندوی، مولانا محمد تقی عثمانی، پروفیسر محمد یاسین مظہر صدیقی، پروفیسر محمد اجتبا ندوی، پروفیسر محسن عثمانی، پروفیسر ضیاء الحسن ندوی، ڈاکٹر عبد الحلیم ندوی، ڈاکٹر اشتیاق احمد ظلی، ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی، ڈاکٹر سعود عالم قاسمی وغیرہ... میں نے ذاتی طور پر اِس قسم کے علما کی تحریریں پڑھی ہیں، مگر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اُن سب کی تحریریں قدیم روایتی مسائل کی جدید تکرار کے سوا اور کچھ نہیں۔''12

اختیال: خان صاحب کی تحریروں سے یہ واضح طور محسوس ہوتا ہے کہ اُن کے خیالوں میں اُن کی اپنی عظمت اور بڑائی اِس قدر رَچ بس گئی ہے اور وہ نرگسیت (Narcissism) کا شکار ہیں۔خان صاحب لکھتے ہیں:

''اَصحابِِ رسول کی حیثیت ایک دعوتی ٹیم کی تھی۔ یہ ٹیم ڈھائی ہزار سالہ تاریخ کے نتیجے میں بنی۔ اِس کا آغاز اس وقت ہوا جب ہاجرہ اور اسماعیل کو خدا کے حکم سے صحرا میں بسا دیا گیا۔ سی پی ایس کی ٹیم کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ اَصحابِِ رسول کے بعد تاریخ میں ایک نیا عمل شروع ہوا۔ اِسی عمل کا کلمنیشن(culmination) سی پی ایس[مولانا وحید الدین خان] کی ٹیم ہے۔گویا اَصحابِِ رسول اگر قدیم زمانے میں ڈھائی ہزار سالہ تاریخی عمل کا کلمنیشن تھے توسی پی ایس[مولانا وحید الدین خان] کی ٹیم بعد کے تقریباً ڈیڑھ ہزار سالہ عمل کا کلمنیشن ہے۔ اَصحابِِ رسول کے بعد بننے والی طویل تاریخ کے تمام مثبت عناصر سی پی ایس[مولانا وحید الدین خان] کی ٹیم میں جمع ہو گئے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں پہلی بار اِس کو یہ حیثیت ملی ہے کہ وہ دورِ حاضر میں اَخوانِ رسول کا رول ادا کر سکے۔بعد کے زمانے میں اُٹھنے والی تمام تحریکوں میں صرف سی پی ایس[مولانا وحید الدین خان] انٹرنیشنل وہ تحریک یا گروپ ہے جو استثنائی طور پر اِس معیار پر پوری اُترتی ہے۔ قرآن اور حدیث کی صراحت کے مطابق، اَصحابِ رسول کی امتیازی صفت یہ تھی کہ وہ پورے معنوں میں ایک داعی گروہ بنے۔ مگر بعد کےبننے والے گروہوں میں کسی بھی گروہ کو حقیقی معنوں میں داعی گروہ کا درجہ نہیں دیا جا سکتا۔''13

ایک اور جگہ لکھتے ہیں:

'' غالباً یہ کہنا صحیح ہو گا کہ َاخوانِ رسول وہ اہلِ ایمان ہیں جو سائنسی دور میں پیدا ہوں گے،اور سائنسی دریافتوں سے ذہنی غذا لے کر اعلیٰ معرفت کا درجہ حاصل کریں گے، نیز یہی و ہ لوگ ہوں گے جو مہدی یا مسیح کا ساتھ دے کر آخری زمانے میں اعلیٰ دعوتی کارنامہ انجام دیں گے۔''14

ایک اور جگہ لکھتے ہیں:

''ماضی اور حال کے تمام قرائن تقریباً یقینی طور پر بتاتے ہیں کہ سی پی ایس[مولانا وحید الدین خان] کی ٹیم ہی وہ ٹیم ہے جس کی پیشین گوئی کرتے ہوئے پیغمبر اسلام نے اُس کو اَخوانِ رسول کا لقب دیا تھا۔''15

پہلے اقتباس کا خلاصہ ہے کہ مہدی ومسیح علیہما السلام کے ساتھ اَخوانِ رسول کی ٹیم ہو گی جبکہ دوسرے کا یہ ہے کہ اَخوانِ رسول کی ٹیم سی پی ایس کی ٹیم ہے۔اِن دونوں قضیوں کے صغریٰ وکبریٰ سے یہ نتیجہ نکلا کہ مہدی ومسیح کے ساتھ سی پی ایس کی ٹیم ہو گی۔

مولانا وحید الدین خان صاحب کی کسی بھی تحریر کو اٹھا کر دیکھ لیں، اُس میں اِن میں سے ایک،دو،تین یاچار بنیادیں ضرور مل جائیں گی۔ راقم نے اپنی کتاب 'مولانا وحید الدین خان: افکار ونظریات' میں اِن عوامل اور عناصر سے پروان چڑھنے والی خان صاحب کی فکر کا، اُن کے اپنے الفاظ ہی کی روشنی میں' ایک مفصل تحلیلی وتجزیاتی مطالعہ پیش کیا ہے۔

خاں صاحب کے بعض نظریات گمراہ کن بھی ہیں، جن میں بطور خاص ان کا یہ تصور کہ نبی کریم ﷺ فائنل ماڈل (اُسوہ ) نہیں ہیں۔ اقامتِ دین، نفاذِ شریعت اور جہاد اور امن وغیرہ کے حوالے سے دین کا جو مخصوص تصور رکھتے ہیں، اس کی رو سے ان کا کہنا یہ ہے کہ اللہ کے رسول کے اُسوہ میں چونکہ دعوت کے علاوہ جہاد وقتال بھی ہے، لہٰذا یہ اُسوہ ہمارے لیے کامل نمونہ نہیں ہے، کیونکہ آج کے دور میں جہاد وقتال ممکن نہیں رہا۔ آج کے دور میں اُمّت مسلمہ کے لیے حضرت مسیح کا اُسوہ قابل عمل اور نمونہ ہے، جو صرف دعوت وتبلیغ کے عمل پر مبنی تھا۔ چنانچہ آپ لکھتے ہیں:

''مسیح کے ماڈل میں آغاز میں بھی دعوت ہے، اور انجام میں بھی دعوت، مسیح کے دعوتی ماڈل میں، ہجرت اور جہاد (بمعنی قتال) کے واقعات موجود نہیں۔ محمدی ماڈل میں ہجرت اور جنگ اس کے واضح اجزا کے طور پر شامل ہیں۔ لیکن اب حالات نے ہجرت اور جنگ کو ناقابل عمل بنادیا ہے۔''16

ایک اور جگہ لکھتے ہیں کہ

''آپ ﷺ بلاشبہ آخری پیغمبر تھے، لیکن آپ ہرصورت حال کے لیے آخری نمونہ نہ تھے، چنانچہ قرآن میں آپ کے لیے اُسوہ حسنہ کا لفظ آیا ہے نہ کہ اُسوہ کاملہ کا۔کسی پیغمبر کو فائنل ماڈل سمجھنا خدا کے قائم کردہ قانونِ فطرت کی تنسیخ کے ہم معنی ہے۔''17

کچھ سطروں کےبعد لکھتے ہیں :

''بعد کے زمانے میں حالات کے اندر ایسی تبدیلیاں واقع ہوں گی، کہ حالات کے اعتبار سے حضرت مسیح کا عملی ماڈل زیادہ قابل انطباق (Applicable) بن جائے گا۔''

سلمان رشدی کی بدنام زمانہ کتاب جس میں رسالت مآبﷺ پر دشنام طرازی کی گئی، اس کے بارے میں بھی جناب وحید الدین خاں کا موقف مغالطہ آمیز بلکہ گمراہ کن ہے، جس پر تنقید کی جاتی رہی۔ اس کتاب پر مسلمانوں کے رد عمل کے بارے میں آپ لکھتے ہیں کہ

''ازواجِ مطہرات کے خلاف جو بے ہودہ باتیں سلمان رشدی نے لکھی ہیں، اس کا مصنفِ اوّل عبد اللہ بن ابی تھا، مگر پیغمبر اسلام ﷺ نے اصرار کے باوجود اس کو قتل کرنے سے منع کردیا۔'' 18''اینٹی رشدی ایجی ٹیشن(رشدی کے خلاف احتجاج) بلاشبہ لغویت کی حد تک غیر اسلامی تھا۔''(ص6)

''مسلمانوں کے جذبات مجروح ہونا اسلام کے قانون جرائم کی کوئی دفعہ نہیں ہے۔ مسلمان اس کے خلاف کوئی کاروائی کرنا چاہتے ہیں تو وہ اس کو قومی سرکشی کےنام پر کرسکتے ہیں۔ مگر اسلام کے نام پر انہیں ایسا کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔ ''(ص 53)

پھرجب ڈنمارک اور یورپ کے اخباروں میں رسالت مآب ﷺ کے توہین آمیز خاکے بنائے گئے اور حرمین سمیت پورے دنیا کے مسلمانوں نے اس پر احتجاج کیا تو خان صاحب نے عجیب مضحکہ خیزموقف اختیار کیا، لکھتے ہیں:

''مذکورہ کارٹون کی حیثیت تو ایک صحافتی جوک(لطیفہ) کی تھی۔ اس قسم کا جوک موجودہ صحافت میں عام ہے۔ لیکن مسلمانوں نے اس کے ردّعمل میں جس طرح نفرت اور تشدد کا مظاہرہ کیا، وہ بلاشبہ توہین رسالت کا ایک فعل تھا۔...

موجودہ زمانہ آزادی اظہار رائے کا زمانہ ہے۔ ایسے زمانے میں کارٹون جیسے مسئلہ پر ہنگانہ کھڑا کرنا، یقینی طور پر یہ تاثر پیدا کرے گا، کہ اسلام آزادی اظہار کے خلاف ہے۔19

'مولانا' وحید الدین خاں کا تصور جہاد بھی گمراہ کن ہے، لکھتے ہیں:

''اسلام میں صرف دفاعی جنگ جائز ہے اور اس کا اختیار بھی صرف حاکم وقت کو حاصل ہوتا ہے۔''20

''یہ کہنا صحیح ہوگا کہ آج کی دنیا میں وائلنٹ ایکٹوازم(پرتشدد حرکیت) منسوخ ہوگیا ہے، اور اس کی جگہ پیس فل ایکٹوازم (پرامن حرکیت)نے لے لی ہے۔اب پیس فلم ایکٹوازم کے تحت ہرقسم کی سرگرمیوں کا حق انسان کو مل چکا ہے۔''21

اسلام کے تصور امن کے بارے میں لکھتے ہیں:

''مثبت سوچ پر قائم رہنے کا ایک ہی فارمولا ہے اور وہ ہے یک طرفہ اخلاقیات، یعنی یک طرفہ طور پر دوسرے کے ساتھ اچھا سلوک کرنا۔ خواہ وہ اچھا سلوک کرتا ہو یا براسلوک۔''22

''مسلمانوں کی جوسیاسی تاریخ بنی، اور ان کے یہاں جو لٹریچر تیار ہوا، اس کے نتیجے میں مسلمانوں کا ذہن یہ بنا کہ دشمن سے لڑو۔ اس کے برعکس مسیحی لوگوں کا ذہن ان کی روایات کے مطابق یہ بنا کہ دشمن سے محبت کرو۔یہی نفسیات دونوں قوموں کے اندر عمومی طورپر پائی جاتی ہیں۔''23

''8 ؍اکتوبر2001ء کو امریکہ نے افغانستان کے خلاف جو کاروائی کی ، وہ انٹرنیشنل نارم(بین الاقوامی اخلاقیات) کے مطابق درست تھی۔ کیونکہ وہ ڈیفنس کے طور پر کی گئی تھی۔ اس کے باوجود ایسا ہوا کہ دنیا بھر میں امریکہ کو برا کہا جانے لگا۔''24

''امریکہ کا یہ آپریشن اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک خدائی آپریشن تھا۔ اس نے ان تمام طاقتوں کو زیر کردیا جو امن اور دعوت کے مشن کے خلاف محاذ بنائے ہوئےتھے۔''25

مذکورہ بالا اقتباسات سے جناب وحید الدین کی فکری گمراہیاں اور طرزِ فکر بخوبی واضح ہوجاتا ہے۔یہ اقتباسات اس کتاب میں مذکور تحقیقات کی ایک جھلک ہیں۔اس کتاب میں مولانا وحید الدین خان صاحب کی تحریروں کی روشنی میں ان کی شخصیت کا جو تجزیہ پیش کیا گیا ہے ،اس کا خلاصہ یہ ہے کہ خان صاحب بدنیت یا اسلام دشمن یا یہودی ایجنٹ تونہیں ہیں جیسا کہ اُن کے بعض ناقدین کی رائے ہے۔ تاہم اُن کے نفسیاتی پرابلم ہیں جنہوں نے اُنہیں تخیلات کی اِس دنیا (fantasy and delusion) تک پہنچایا ہے کہ وہ اپنے آپ کو دنیا میں ایک نہیں بلکہ دنیا کی ہزار سالہ تاریخ میں ایک شمار کر رہے ہیں۔ اِس تجزیے کے مطابق اُن کے غیر متوازن اور مسلم اُمّہ کے بارے عدم برداشت کے رویوں کے جواب میں غصّہ کرنے کی بجائے ان کی نفسیاتی کیفیت کو سمجھنا چاہیے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ مریض سے نفرت نہیں کی جاتی، تاہم اس سے رہنمائی بھی نہیں لی جاتی اور اس کو فکری قیادت کے حساس منصب پر بھی فائز نہیں کیا جاتا۔

نوٹ: مذکورہ بالا کتاب 'مولانا وحید الدین خان:افکار ونظریات' کی سافٹ کاپی

محدث آن لائن لائبریری میں موجودہے اور درج ذیل لنک سے ڈاؤن لوڈ کی جا سکتی ہے:

http://kitabosunnat.com/kutub-library/molana-

waheed-ud-deen-khan-afkar-w-nazriyat.html
حوالہ جات

1.http://www.cpsglobal.org/mwk

2.ایضاً

3.آخری سفر: ص۵

4.صبح کشمیر: ص۳۲

5.ایضاً: ص۳۳

6.راہ عمل: ص ۱۱۰

7.ماہنامہ الرسالہ: جولائی ۲۰۱۰ء' ص۲۳۔۲۴

8.ماہنامہ الرسالہ:جولائی ۲۰۱۰ء، ص۲۶

9.وحید الدین خان، علماء اور دورِجدید، ماہنامہ الرسالہ، نیو دہلی، ۱۹۹۲ء، ص۴۴

10.ایضاً: ص ۴۱۔۴۲

11.ایضاً: ص۴۵

12.ماہنامہ الرسالہ، نیودہلی:مارچ ۲۰۰۷ء' ص ۴۔۵

13.ماہنامہ الرسالہ : ستمبر ۲۰۰۶ء' ص۳۵

14.اہنامہ الرسالہ : مئی ۲۰۱۰ء' ص۴۴

15.ماہنامہ الرّسالہ : ستمبر ۲۰۰۶ء، ص۴۰

16.ماہ نامہ الرسالہ، جون 2007ء، ص 5،6

17.ایضاً: ص 4،5

18.'شتم رسول کا مسئلہ ' از وحید الدین خاں: ص36

19.ماہ نامہ الرسالہ، نئی دہلی: ستمبر2011ء، ص 44

20.ماہ نامہ الرسالہ : مارچ2008ء، ص4

21.ماہ نامہ الرسالہ : اکتوبر2007ء، ص15

22.ماہ نامہ الرسالہ :جون2011ء، ص24

23.ماہ نامہ الرسالہ : جنوری2010ء، ص29

24.ماہ نامہ الرسالہ : جولائی2007ء، ص30،31

25.ماہ نامہ الرسالہ : جولائی2010ء، ص26