ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

آن لائن مطالعہ
  • اکتوبر
2014
قاری روح اللہ مدنی
پاکستان کو گذشتہ دنوں اپنی تاریخ کے بدترین سیلاب کا سامنا کرنا پڑا، بڑے پیمانے پرہلاکت وبربادی ہوئی اور بستیوں کی بستیاں صفحۂ ہستی سے مٹ گئیں۔انہی دنوں شمالی وزیر ستان میں اپنوں کی مسلط کردہ جنگ کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر اہل اسلام کو اپنے گھرچھوڑکر دربدر ٹھوکریں کھانا پڑیں۔ان اہم قومی مراحل پر ہمارے حکمرانوں کا کیا کردار رہا، اور اُنہوں نے اپنے فرائض کہاں تک نبھائے؟ ایسے مواقع پر اسلامی تاریخ اور خلافتِ راشدہ سے ہمیں کیا سبق ملتاہے؟
  • اکتوبر
2014
عتیق امجد
بیٹھ کر نماز پڑھانے والےامام کی امامت میں مقتدی نماز کیسے پڑھیں ،بیٹھ کر یا کھڑے ہو کر؟یہ مسئلہ اہل علم کے ہاں مختلف فیہ ہے۔ اختلاف کی وجہ ذخیرۂ احادیث میں بظاہر مختلف روایات کا موجود ہونا ہے۔ان روایات میں سےبعض ایسی ہیں جن میں رسولِ اکرمﷺ کابیٹھ کر جماعت کروانے کی بناپر صحابہ کرام کا آپ کی اقتدا میں بیٹھ کر نماز پڑھنا،آپ کاقاعد(بیٹھے) امام کی امامت میں بیٹھ کر نماز پڑھنے کاحکم دینا اور کچھ صحابہ کرام کاآپ کی وفات کے بعد بھی اس پر عمل کرنا ہے
  • اکتوبر
2014
صلاح الدین یوسف
پس نوشت

مضمون کی تکمیل کے بعد چند مزید چیزیں اور نظر سے گزریں یا علم میں آئیں، مناسب معلوم ہوتا ہے وہ بھی نذرِ قارئین کردی جائیں۔ ان میں سے ایک خود مولانا تقی عثمانی صاحب کا فرمودہ ہے کہ حیلے سے حکم میں کوئی تبدیلی نہیں آتی، جب کہ حلالۂ ملعونہ کے جواز کی ساری بنیاد ہی حیلے پر ہے، تعجب ہے کہ محولہ فتوے کے باوجود موصوف حلالۂ ملعونہ کو حیلوں اور باطل تاویلوں سے حلال کرکے دین کو کیوں بازیچۂاطفال بنا رہے ہیں؟
  • اکتوبر
2014
ڈاکٹر محمد زبیر

پیدائش اور ابتدائی تعلیم


مولانا وحید الدین خان یکم جنوری ۱۹۲۵ء کو پیدا ہوئے۔ ان کی پیدائش اُتر پردیش، بھارت کے ایک قصبہ اعظم گڑھ میں ہوئی۔ چار یا چھ سال کی عمر میں ہی اِن کے والد محترم فریدالدین خان وفات پا گئے ۔ اِن کی والدہ زیب النساء خاتون نے اِن کی پرورش کی اور اِن کے چچاصوفی عبد الحمید خان نے اِن کی تعلیم کی ذمہ داری اُٹھائی۔
  • اکتوبر
2014
زاہد الراشدی
اسلام آبادکے دھرنوں کے اثرات پاکستان اور اس خطے پر کیا مرتب ہوتے ہیں، یہ جاننے کے لیے ابھی مزید انتظار کرنا ہو گا، لیکن یمن کے دار الحکومت صنعا کے گرد حوثی قبائل کا ایک ماہ سے زیادہ جاری رہنے والا دھرنا کامیاب ہو گیا ہے اور 17؍اگست سے شروع ہونے والے دھرنے کو 21؍ستمبرکے روز اقوامِ متحدہ کے ایلچی جمال بن عمر کی نگرانی میں ہونے والے اس معاہدے نے تکمیل تک پہنچا دیا ہے کہ حکومت مستعفی ہو جائے گی اور اس کی جگہ ٹیکنوکریٹ حکومت قائم ہوگی۔