قارئین کرام! ہماری اسلامی تاریخ بیدار مغز اور روشن ضمیر خلفا،اُمرا، فقہا وصلحا کے ایمان آفریں تذکروں سے معمور ہے۔ لیکن عبیدیوں، قرامطیوں 1نے جو بااتفاقِ اہل علم یہودی اور مجوسی النسل تھے، اپنے بنی فاطمہ علیہا صلوات اللّٰہ وسلامہ کی اولاد ہونے کا جھوٹا پروپیگنڈا کروا کر مغربِ اقصیٰ کی مسلم مملکتوں پر قبضہ کر لیا اور پھر اپنے بڑوں کی خیبر اور قادسیہ میں شکستوں کا بدلہ چکانے کے لیے اہل السنّہ مسلمانوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑ دیےاور پھر اپنی سیاہ ترین کرتوتوں پر پردہ ڈالنے کے لیے اپنے مُتـشیّعین(ہم نواؤں)سےمسلمان خلفاوسلاطین کی ایسی تاریخ لکھوائی جو اُن کے دین اور تقویٰ اور روشن کردار کےبالکل برعکس تھی۔ ان کے سیاہ نویسوں نے اپنی تصانیف میں قرامطیوں کے ظلم وستم اور اسماعیلی باطنیوں کے خبثِ باطن اور عبیدیوں کے سبّ وشتم اور سلب ونہب کا تذکرہ آٹے میں نمک برابر بھی نہیں کیا، لیکن خلفاے راشدین اور سلاطینِ اسلام بشمول بنواُمیہ اور بنوعباس کی وقتی مصلحتوں اور اجتہادی لغزشوں کو پہاڑ بنا کر مسلمان نوجوان مردوں اور عورتوں کو اُن کے بزرگوں سے بدگمان کر دیا۔ حالانکہ ان مسلمان نوجوانوں کے روحانی اور نسلی آبا و اجداد اپنی بشری لغزشوں کے باوجود ان دشمنانِ اسلام سے ہزار درجہ بہتر تھے ،کیونکہ ان کے جہاد کی برکت سے مملکتِ اسلامیہ کی حدود مشرق کی طرف چین اور مغرب کی طرف فرانس تک وسیع ہو گئی تھیں، جبکہ ان مسلم نما یہودیوں اور مجوسیوں کی سازشوں سے مسلم خلفا کمزور ہو گئے اور یہود ومجوس طاقتور ہو گئے اور اُنھوں نے مسلمانوں کی وحدت کو پارہ پارہ کر دیا اور پھر ان کی شہ پر ہلاکو خان نے سلطنتِ اسلامیہ کو خون میں نہلا دیا۔ ان مسلم نما عبیدیوں، قرامطیوں اور باطنیوں نے اپنی صُلبی اور معنوی ذرّیت کو تحفظ دیا اور اُمتِ محمدیہ کے افراد کی زندہ کھالیں اُتروا کر اپنی آتش غضب اور اسلام دشمنی کو ٹھنڈا کیا۔

ہم نے اسلامی غیرت اور حمیت کی بنا پر اپنے اس مضمون میں ہاشمی خانوادے کے مشہور خلیفہ ہارون الرشید کی زندگی کے تابندہ نقوش پیش کیے ہیں تاکہ مسلمان نوجوان اپنے نیک فطرت خلفا وسلاطین کے جہادِ اسلامی اور غیرتِ ایمانی سے آگاہ ہو کر اپنا سر بلند کریں اور اپنی عظمتِ رفتہ کو لوٹا کر دکھا دیں۔ وما ذلك علىٰ الله بعزيز!

موجودہ دور کی تقریباً پچاس مملکتوں کا واحد حکمران خلیفۃ المسلمین ہارون الرشید148ھ میں پیدا ہوا اور 170ھ میں منصبِ خلافت پر فائز ہوا اورتقریباً 23سال منصبی ذمہ داریاں بخوبی سرانجام دے کر 193ھ میں جہانِ فانی سے رحلت فرما کر جہانِ جاوِدانی میں فروکش ہو گیا۔ بوقتِ رحلت اس کی کل عمر پینتالیس تھی، اللّٰہ تعالیٰ اس پر رحمتوں کی بارش برسائے اور اسے اپنے اہل وعیال کے ساتھ اعلیٰ علیین میں جگہ نصیب فرمائے۔

جب آپ نے خلافت کی باگ ڈور سنبھالی تو اس وقت آپ کی عمر بائیس سال تھی۔ سنِ شعور سے لے کر سنِ شباب تک آپ اپنی قیادت میں رومیوں سے جہاد کرتے رہے اور اُنھیں کئی مرتبہ شکست دے کر غنائم سے اسلامی بیت المال کو معمور کرتے رہے۔ جب آپ اپنے برادرِ اکبر امیر المؤمنین موسیٰ ہادی کی وفات کے بعد منصبِ خلافت پر فائز ہوئے تو ایک سال حج پر جاتے اور دوسرے سال رومیوں کے خلاف جہاد کرنے کے لیے میدان جنگ میں اُترجاتے۔ آپ کے مسلسل جہاد کی برکت سے مملکتِ اسلامیہ کی حدود مشرق میں چین اور مغرب میں مراکش تک وسیع ہو گئیں اور یورپ کی بازنطینی(رومی) حکومت آپ کے جہاد سے مرعوب ہو کر جزیہ کی ادائیگی کی شرط پر اُن کے سامنے سرنگوں ہو گئی۔

آپ کے دور خلافت میں بازنطینی ملکہ فوت ہو گئی اور نقفور بازنطینی سلطنت کا حکمران بن گیا۔اس نے تختِ حکومت پر براجمان ہوتے ہی پہلا کام یہ کیا کہ مملکت ِاسلامیہ سے سابق حکومت کا معاہدہ توڑ دیا اور آپ کی طرف درج ذیل خط ارسال کر دیا :

سلطنتِ روما کے بادشاہ نقفور کی طرف سےعرب کے بادشاہ ہارون الرشید کی طرف

''مجھ سے قبل سلطنتِ روما (بازنطینی حکومت) کی ملکہ نے تجھے رُخ (بلند ترین چوٹی) پر کھڑا کر دیا تھا اور خود بیدق (نشیبی مقام) پر کھڑی ہو گئی تھی اور وہ تجھے مملکتِ عظمیٰ کی طرف سے سالانہ جزیہ بھیجا کرتی تھی اور یہ سب کچھ عورتوں کی کم عقلی اور فطری کمزوری کی وجہ سے ہوتا رہا۔ لہٰذا جب تو میرا یہ خط پڑھے تو گذشتہ سالوں کا ادا کیا ہوا جزیہ واپس کر دے اور اپنی جان کا فدیہ بھی ادا کر ، ورنہ تیرے اور میرے درمیان تلوار فیصلہ کرے گی۔ ''

جب امیر المؤمنین نےیہ خط پڑھا تو ہاشمی رگِ حمیّت بھڑک اٹھی اور آپ نے غیرتِ ایمانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کے خط کی پشت پردرج ذیل جواب لکھ کر خط واپس بھیج دیا :

بسم الله الرحمٰن الرحيم... من هارون الرشيد أمير المؤمنين إلى نقفور كلب الروم. أما بعد! قد قرأت كتابك يابن الكافرة والجواب ما تراه دون ما تسمعه. والسلام2

''امیر المومنین ہارون الرشید کی طرف سے روم کے کتے نقفور کی طرف...

اے کافرہ کے بیٹے! میں نے تیرا خط پڑھ لیا اور اس کا جواب تو کانوں سے سننے کی بجائے آنکھوں سے دیکھے گا۔ والسلام''

اس کے بعد آپ نے افواجِ اسلامیہ کو رومیوں سے جہاد کا حکم دیا اور اپنی قیادت میں افواجِ روم پر حملہ آور ہوا اور اسے شکست دیتا ہوا ہرقلیہ تک جا پہنچا اور رومی افواج کے کشتوں کے پشتے لگاتا ہوا نقفور کے محل تک جا پہنچا اور اس کی بیٹی کو قید کر کے اپنی باندی بنا لیا۔ جب نقفور نے اپنی افواج کی ذلت آمیز شکست دیکھی تو اس نے اموالِ غنیمت سے بھی دست برداری مان لی اور سالانہ جزیہ ادا کر کے صلح کا پیغام بھیج دیا۔ امیر المؤمنین نےاس کا غرور خاک میں ملا کر اس سےصلح منظور فرمائی اور سابقہ معاہدہ بحال کروایا اور پھر اپنی افواج اپنی چھاؤنیوں پر لے آئے۔

عمر بھرمسیحی قیصروں اور مجوسی منافقوں کو ناکوں چنے چبوانے والے امیر المؤمنین جس قدر کفار کے مقابلے میں فولاد تھے، اس قدر ہی آپ علما، فقہا اور صلحاے اُمت کے سامنے بریشم کی طرح نرم تھے۔

امیر المومنین ہارون کی نرم خوئی اور سخاوت کے واقعات

امیر المومنین ہارون الرشید قابل رشک کردار کے حامل تھے۔ یہ اپنے دورِ خلافت میں ایک سال جہاد کرتے اور اگلے سال ایک 100 محدثین وفقہاے کرام کو ساتھ لے کر حج کرتے اور جس سال خود جہاد پر چلے جاتے تو اس سال تین صد محدثین وفقہا کو زادِ حج دے کرجاتے۔

حاملینِ علوم نبوت کی تعظیم وتوقیر تو وراثتاً اُن کے خمیر میں گندھی ہوئی تھی، ان کے جد امجد سیدنا عبد اللّٰہ بن عباسؓ بذاتِ خود ہاشمی سید ہونے کی وجہ سے اپنے اُستاد کا بے حد احترام کرتے تھے اور اس احترام کی برکت سے ان کو اطرافِ عالم میں ایسی شہرت حاصل ہوئی کہ دنیا اس ہاشمی شہزادے سے حصولِ علم و ادب کی خاطر شہد کے چھتے پر شہد کی مکھیوں کی طرح جمع رہتی تھی۔ امیر المؤمنین سیدنا علی بن ابی طالب اپنے اس بھائی کے بارے میں فرماتے تھے:

لله در ابن عباس كأنه ينظر إلىٰ الغيب من ستر رقيق3

''عبد اللّٰہ بن عباس کوکمال بخشنے والی ذات کس قدر ستودہ صفات ہے۔ وہ تو گویا غیب کی طرف باریک پردے سے دیکھ لیتے ہیں۔''

امیر المؤمنین کو محدثین کرام کی طرح متصل اسناد کے ساتھ حضرت رسولِ کریمﷺ سے روایات بیان کرنے کا بڑا شوق تھا۔ چنانچہ وہ جمعۃ المبارک کے خطبے میں کئی مرتبہ متصل سند کے ساتھ حضرت رسول کریمﷺ کی یہ حدیث روایت کرتے تھے کہ آپﷺ نے فرمایا:

«اتقوا النار ولو بشق تمرة»4

''لوگو! دوزخ کی آگ سے بچو، اگرچہ آدھی کھجور صدقہ کر کے بچنا پڑے۔''

اور بذات ِخود اس کا عملی ثبوت بھی دیتے اور روزانہ ایک ہزار صدقہ کرتے اور نمازِ پنجگانہ کی باجماعت ادائیگی کے ساتھ ساتھ روزانہ 100 رکعت نوافل ادا کرتے۔ امیر المؤمنین محدثین کرام کو وقتاً فوقتاً دعوتِ طعام دیتے اور ان کے اِکرام کو اپنے لیے بڑی سعادت سمجھتے۔ ایک دفعہ آپ نے ایک نابینے عالم محمد بن حازم ابو معاویہ الضریر سے احادیثِ نبویؐہ سننے کا شوق ظاہر کیا۔ جب اُنھوں نے احادیث سنانا شروع کیں تو جہاں بھی حضرت رسول اللّٰہﷺ کا نام نامی اسم گرامی آتا، آپ فوراً ﷺ علیٰ سید ی پڑھ لیتے اور جس حدیث میں کوئی نصیحت آموزبات ہوتی تو آپ اسے سن کر رو پڑتے حتیٰ کہ آپ کے آنسوؤں سے مٹی تر ہو جاتی ۔

ابو معاویہ الضریر فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے آپ کے گھر میں کھانا کھایا پھر جب میں ہاتھ دھونے کے لیے اُٹھا تو آپ نے میرے ہاتھوں پر پانی بہایا اور میں نابینا ہونے کی وجہ سے اُنھیں دیکھ نہ سکا، جب میں ہاتھ دھو کر واپس آیا تو آپ نے مجھ سے پوچھا۔ اے ابو معاویہ! آپ کو پتہ ہے کہ آپ کے ہاتھ دھلوانے کی سعادت کس نے حاصل کی؟ میں نے جواب دیا کہ مجھ نابینے کو کیا پتہ کہ وہ کون تھا؟ آپ نے فرمایا: یہ سعادت خود امیر المؤمنین نے حاصل کی ہے۔ تو میں نے اُن کے لیے دعا کی تو آپ نے فرمایا: میں نے علم کی تعظیم کی خاطر ایسا کیا ہے۔ امیر المؤمنین کا علماے کرام کے ساتھ ایسا برتاؤ ان کی فرزانگی عقل اور شرافتِ ذاتی کی زبردست دلیل ہے۔ ایک دفعہ آپ حج پر گئے اور اپنے ساتھ اپنے بیٹوں کو بھی لے گئے تاکہ وہ علماے ربانیین کے ساتھ اپنے باپ کے برتاؤ سے سبق حاصل کریں۔

جب آپ حج سے فارغ ہو کر مدینہ منورہ گئے تو آپ نے امام مالک بن انس سے ان کی تصنیف موطأ کی مرویات سننے کا شوق ظاہر کیا اور ان کی طرف پیغام بھجوایا کہ وہ آئیں اور ہمیں احادیثِ نبویؐہ سنا جائیں۔ انھوں نے جواب دیا کہ علم کے پاس چل کر آیا جاتا ہے وہ خود کسی کے پاس چل کر نہیں جاتا۔ یہ جواب سن کر ہارون الرشید اپنے بیٹوں سمیت خود اُن کے دروازے پر آیا اور وہاں بیٹھ کر آپ کے نکلنے کا انتظار کرنے لگا، جب آپ باہر آئے تو ہارون الرشید نے کہا: اے ابو عبد اللّٰہ! ایک تو آپ ہمارے بلانے پر بھی نہیں آتے اور جب ہم آتے ہیں تو آپ ہمیں دروازے پر بٹھائے رکھتے ہیں اور باہر ہی نہیں آتے ۔

امام مالک نے فرمایا: اے امیر المؤمنین! آپ جس علم کو سننے آئے ہیں، وہ آپ کے گھرانے سے حاصل کیا گیا ہے اور آپ ہی اس کی عزت و آبرو رکھنے کے زیادہ حق دار ہیں ، میں آپ ہی کے گھرانے کے علم کی شان کے پیش نظر اس کی تیاری میں مصروف تھا ،اس لیے دیر ہو گئی۔

جب آپ احادیثِ نبویہ سنانے کے لیے مسجدِنبوی میں تشریف لائے تو امیر المومنین کرسی پر بیٹھ کر احادیث سننے لگے۔ امام مالک بن انس نے یہ دیکھ کر اپنی سند سے حدیث روایت کی :

«من تواضع لله رفعه الله ومن تكبّر وضعه الله»5

''جو اللّٰہ کے لیے تواضع کرے گا اللّٰہ اسے سربلند کر دے گا اور جو کوئی تکبر کرے گا اللّٰہ اسے ذلیل وخوار کر دے گا۔''

یہ سن کر امیر المؤمنین امام مالک کے برابر دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئے تو امام مالک نے حدیث رسولﷺ بیان کی: «إن من إجلال الله إكرام ذى الشيبة المسلم»

''یقیناً ایک بزرگ مسلمان کی عزت کرنا اللّٰہ کی جلالت بیان کرنے جیسا ہے۔''6

تو امیر المومنین سامنے صف پر بیٹھ گئے۔ کچھ عرصہ بعد پھر آپ کی امام مالک سے ملاقات ہوئی تو خلیفہ نے فرمایا کہ ''ہم نے آپ کے علم کی تواضع کی تو ہم نے نفع حاصل کیا، جبکہ سفیان بن عیینہ کا علم ہمارے سامنے متواضع ہو گیا تو ہمیں کوئی نفع حاصل نہ ہوا۔''

ایک سال آپ حج پر آئے اور صفا مروہ کے درمیان سعی کر رہے تھے کہ آپ کو فاروقی النسل عبد اللّٰہ بن عبد العزیز العمری نے صفا پہاڑ پر روک لیا اور پوچھا: امیر المومنین! تجھے پتا ہے کہ اس وقت کتنی مخلوق بیت اللّٰہ کے گرد طواف کر رہی ہے ؟آپ نے فرمایا کہ ان کی صحیح تعداد اللّٰہ کے سوا کون جانتا ہے۔

عبد اللّٰہ العمری نے کہا: اے ہارون! ان سب نے قیامت کے دن اپنا اپنا حساب دینا ہے اور تم نے ان سب کا حساب دینا ہے، یہ سن کر امیر المؤمنین اتنے روئے کہ اُن کے آنسو آنکھوں سے بہہ کر رخساروں پر تیرنے لگے اور اُنھیں صاف کرنے کے لیے یکے بعد دیگرے کئی رومال منگوانے پڑے۔ عبد اللّٰہ العمری نے اپنے وعظ کے دوران یہ بھی کہا کہ امیر المؤمنین جو شخص اپنے باپ کے خون پسینے کی کمائی فضول قسم کے شوق پورے کرنے میں ضائع کر رہا ہو تو اس پر شرعی قانون 'حجر' نافذ ہو جاتا ہے اور اس کے اختیارات محدود کر دیے جاتے ہیں، تو اس شخص کا کیا حال ہو گا جو مسلمانوں کے بیت المال کے پیسے کو اپنا صواب دیدی فنڈ قرار دے کر اپنے منظورِ نظر افراد کو نوازتا رہے!!یہ بات سن کر وہ چل دیے اور امیر المومنین کو روتا چھوڑ گئے۔ امیر المومنین ہارون الرشید اپنے اوپر تنقید کو بڑے حوصلے اورتحمل سے سنتے اور اپنے قصور کا اعتراف کرتے اور اللّٰہ کے سامنے رو رو کر اپنے گناہوں کی معافی مانگتے۔

ایک دفعہ آپ نے امام ابن سماک کو قصر خلافت میں پندونصیحت کے لیے بلایا تو اس نے بڑا پُر تاثیر وعظ کیا اور اپنے وعظ میں کہا: اے امیر المومنین! آپ اکیلے پیدا ہوئے اور اکیلے ہی مریں گے اور اکیلے ہی قبر میں داخل کیے جائیں گے اور وہاں سے اکیلے ہی اُٹھیں گے، لہٰذا جنت اور دوزخ کے درمیان کھڑا ہونے کے وقت سے ڈرو ،کیونکہ وہاں قدم پھسل جائیں گے اور وہاں ایسے لوگ بھی پکڑے جائیں گے جو گناہ کا پکا منصوبہ بنا چکے تھے اور اسے پایۂ تکمیل تک پہنچانے سے پہلے مر گئے ہوں گے۔یہ سن کر امیر المومنین پر رقت طاری ہو گئی اور وہ زار وقطار رونے لگے۔ اسی دوران آپ کے سامنے پانی بھرا پیالہ پیش گیا تو ابن سماک نے پوچھا: اے امیر المؤمنین! اگر آپ کی جان لبوں پر آئی ہو اور پیاس کی شدت بجھانے کے لیے پانی نہ مل رہا ہو تو آپ اس کے حصول کے لیے کتنا معاوضہ دینا پسند کرو گے؟ آپ نے فرمایا: میں اپنی آدھی سلطنت دینے کو تیار ہو جاؤں گا۔ اس نے کہا :اگر آپ وہ پانی پی لیں اور پیشاب کا راستہ بند ہو جائے تو کیا کرو گے؟ آپ نے فرمایا: باقی سلطنت بھی دے دوں گا تاکہ میری جان بچ جائے۔ اس نے کہا :امیر المؤمنین! تیری سلطنت اللّٰہ کے ہاں ایک پانی کے پیالے سے بھی کم تر ہے ،لہٰذا اللّٰہ سے ڈرو اور ایمان کے بعد صحت کو غنیمت سمجھو اور اپنی رعایا پر شفقت کرو۔

ایک دفعہ آپ عمائدین سلطنت کے ہمراہ گھوڑے پر سوار ہو کر کہیں جا رہے تھے کہ ایک آدمی نے آپ کو آپ کی کسی کوتاہی پر متنبہ کرتے ہوئے کہہ دیا: اے امیر المؤمنین! اللّٰہ سے خوف کھایے تو آپ فوراً گھوڑے سے اُترے اور اپنا سر ننگی زمین پر سجدے میں رکھ دیا۔ جب سجدے سے سر اُٹھایا تو ساتھیوں نے کہا: امیر المؤمنین! آپ نے اس جملے کو بڑی سنجیدگی سے لیا اور گھوڑے سے اتر کر اللّٰہ کو سجدہ کیا۔ حالانکہ یہ بات تمام لوگ عموماً ایک دوسرے سے کہتے رہتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: اس آدمی کے منہ سے اتق الله کا مبارک کلمہ سن کر اس منافق کا حال یاد کر کے سجدے میں گر گیا کہ جسے یہی کلمہ کہا جاتا ہے تو وہ ناک لبوں تک چڑھا لیتا ہے اور اپنے آپ کو بالا تر سمجھ کر ظلم وفساد پر اَڑ جاتا ہے۔ جہنم کا ایندھن بننے سے نہیں ڈرتا۔ یہ تو ان کے خوفِ الٰہی کا حال تھا، ذرا یہی بات آج کسی مولانا اور شیخ المشائخ کو کہہ کر دیکھ لیجیےکہ وہ آپ کو اس کے جواب میں کتنی صلواتیں سنائے گا۔

امام ابن کثیر﷫ ابن عساکر کے حوالے سے ابراہیم المہدی سے بیان کرتے ہیں کہ امیر المومنین ہارون نے اپنے خانساماں سے پوچھا کہ آج کے کھانے میں اونٹ کے گوشت کا سالن ہے؟ اس نے کہا: ہاں موجود ہے، شوربے والا بھی اور روسٹ کیا ہوا بھی۔

آپ نے فرمایا: کھانے کے ساتھ وہ بھی پیش کیجیے۔ جب اس نے آپ کے سامنے کھانا رکھا تو آپ نے اپنے منہ میں ڈالنے کے لیے گوشت کا لقمہ اُٹھایا تو جعفر برمکی مسکرایا۔ ہارون نے لقمہ رکھ دیا اور جعفر سے مسکرانے کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا: امیر المؤمنین! مجھے کوئی بات یاد آ گئی جو میرے اور میری باندی کے درمیان ہوئی تھی ،اس کا آپ کی ذات سے کوئی تعلق نہیں، آپ نے فرمایا: تجھے قسم ہے اس حق کی جو میرا تیرے اوپر ہے، مجھے بتایے وہ کیا بات تھی؟ جعفر برمکی نے کہا: امیر المومنین پہلے یہ لقمہ تناول فرما لیجیے، پھر آپ کو بتاؤں گا۔ آپ نے گوشت کا لقمہ پلیٹ میں رکھ دیا اور کہا مجھے ابھی بتایے؟ جعفر نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ اندازہ لگا سکتے ہیں جس اونٹ کا گوشت آپ کے مطبخ میں پکا ہے، وہ کتنے کا ہو گا؟ آپ نے فرمایا: یہی کوئی چار ہزار درہم کا۔ اس نے کہا: نہیں اےامیر المومنین وہ چار لاکھ درہم کا سمجھ لیجیے۔ آپ نے پوچھا: وہ کیسے...؟

اس نے کہا کہ آپ نے طویل عرصہ قبل مطبخ میں پکے ہوئے اونٹ کے گوشت کی فرمائش کی تھی جو اس دن اونٹ ذبح نہ ہونے کی وجہ سے پوری نہ ہوسکی تھی تو آپ نے فرمایا تھا کہ آج کے بعد مطبخ میں اونٹ کا گوشت ضرور پکنا چاہیے تو اس دن سے ہم آپ کے لیے بازار سے گوشت نہیں خرید تے تھے، بلکہ اونٹ خرید کر خود ذبح کرواتے اور اپنی نگرانی میں پکواتے تھے اور اس دن سے لے کر آج کے دن تک چار لاکھ درہم کے اونٹ ذبح ہو چکے ہیں، لیکن آپ نے اس دن کے بعد آج ہی اونٹ کا گوشت طلب کیا ہے جو آپ کے سامنے پڑا ہے۔ میں اس لیے مسکرا پڑا کہ یہ لقمہ جو امیر المومنین نے کھانے کے لیے منہ میں ڈالا تھا وہ امیر المومنین کو چار لاکھ درہم میں ملا ہے۔

یہ سن کر ہارون الرشید روئے اور دستر خوان اٹھانے کا حکم دیا اور اپنے آپ کو کوسنے لگے کہ هَلكتَ والله يا هارون! اور اذانِ ظہر تک روتے رہے ،پھر باہر نکل کر لوگوں کو نماز پڑھائی اور پھر واپس آ کر رونے لگے حتیٰ کہ عصر کی اذان ہو گئی اور اس دوران آپ نے حرمین شریفین کے فقرا میں دو لاکھ درہم اور بغداد کے مشرقی حصے اور مغربی حصے کے فقرا میں دو لاکھ درہم اور کوفہ اور بصرہ کے فقرا میں دو لاکھ درہم صدقہ کرنے کا حکم دیا، پھر آپ نے عصر کی نماز پڑھائی اور واپس آ کر نمازِ مغرب تک بارگاہِ الٰہی میں اپنی کوتاہی پر آہ وزاری کرتے رہے۔ جب آپ نماز مغرب پڑھا کر فارغ ہوئے تو قاضی ابو یوسف بھی آ گئے اور سارا دن بھوکا پیاسا اور رو دھو کر گزارنے کی وجہ پوچھی ، آپ نے سارا قصہ سنا کر کہا کہ بیت المال کا اتنا پیسہ محض میری خواہش کی تکمیل میں بے جا صرف ہوا جس سے میرے حصہ میں صرف ایک لقمہ آیا۔ قاضی ابو یوسف نے جعفر برمکی سے پوچھا کہ جو اونٹ آپ ذبح کر کے پکاتے رہے وہ خراب ہو جاتا تھا یا اسےلوگ کھا لیتے تھے ؟ اس نے بتایا کہ لوگ کھا لیا کرتے تھے۔ ابو یوسف نے کہا: امیر المومنین! اللّٰہ سے ثواب کی بشارت حاصل کیجیے کہ آپ کی وجہ سے اتنا عرصہ مخلوقِ خدا شاہی کھانا کھاتی رہی اور اللّٰہ نے آپ کو صدقہ کی توفیق عطا فرمائی جو آپ کی بھول کا کفارہ بن گئی اور پھر اللّٰہ تعالیٰ نے اس نادانستہ کوتاہی پر آپ کو اپنا خوف عطا فرمایا اور آپ سارا دن روتے رہے اور اللّٰہ نے فرمایا: ﴿وَلِمَن خافَ مَقامَ رَ‌بِّهِ جَنَّتانِ ﴿٤٦﴾... سورۃ الرحمٰن

اپنے دورِ خلافت میں ہارون الرشید نے بڑا وسیع وعریض اور خوش نما محل تعمیر کروایا اور اس میں فر وکش ہو کر عمایدین سلطنت کو دعوتِ طعام دی اور ایک شاعر کو اس پُرمَسرت موقع پر خوش کن اشعار پڑھنے کے لیے بلایا تو اس نے بھری محفل میں جو اشعار پڑھے انھوں نے ہارون الرشید کو چونکا دیا اور وہ سب کے سامنے رونے لگا ،وہ اَشعار یہ تھے:
عِشْ ما بَــدَا لكَ سالمــاً في ظِــلّ شاهقَــة ِ القُصورِ
يسْعَى عليكَ بِمَا اشتهيْتَ لــدَى الـرَّوَاح أوِ البُــكُورِ
فإذا النّــفوسُ تَقعقَـعَتْ عن ضیق حَشرجَة ِ الصّدورِ
فَهُنــاكَ تَعــلَم، مُوقِــناً مَــا كُـنْــتَ إلاَّ فِي غُـــرُورِ7

''اے امیر المومنین! بلند وبالا محلات کے سائے میں اپنی من پسند زندگی بسر کرلے۔ تیری چاہتیں شام سے صبح تک تیری طرف لپک لپک کر آ رہی ہیں۔ جب بوقت نزع سینے کی تنگی کی وجہ سے سانس اُکھڑنے لگیں گے تو اس وقت تجھے علم الیقین ہو جائے گا کہ تو دھوکے اور فریب میں مبتلا تھا۔''

ساری محفل والے شاعر کو کوسنے لگے کہ امیر المومنین نے موقع کی مناسبت سے خوش کن اشعار پڑھنے کے لیے تجھے بلایا تھا، لیکن تو نے اُلٹا انھیں رلا دیا۔ ہارون الرشید نے حاضرین محفل کو روک دیا اور فرمایا:اسے کچھ نہ کہو، اس نے ہمیں تاریکی میں غرق دیکھا تو مزید غرق کرنا مناسب نہ سمجھنا۔

آخر میں ہم یہ ذکر کرنا مناسب سمجھتے ہیں کہ باوجود اتنے کمالات رکھنے کے ہارون الرشید کوئی فرشتہ نہ تھے کہ ان میں کوئی بشری کمزوری نہ ہو، البتہ اتنا ضرور ہے کہ ہمارے خلفا وسلاطین متشیعین کے مسلم نما قرمطیوں اور باطنی یہودیوں اور مجوسیوں سے ہزار درجہ بہتر تھے، جنھوں نے بنی فاطمہ علیہا صلوٰۃ اللّٰہ وسلامہ کی نسل سے ہونے کا جھوٹا پروپیگنڈا کر کے مغر بِ اقصیٰ پر حکومت قائم کر لی اور مفسدین کی تائید کر کے ان سے طوافِ بیت اللّٰہ کرتے ہوئے سات ہزار حاجیوں کو قتل کروا کر بئر زمزم میں پھنکوایا اور حجر اًسود اُکھڑوایا۔ اپنی کالی کرتوتوں اور اِباحتوں پر تنقید کرنے والے امام اہل سنّت عبد الغنی نابلسی کی زندہ کھال اُتروائی اور ہزاروں اہل اسلام کو شہید کر کے یہود ومجوس اور نصاریٰ کو خوش کیا اور وہ آ ج کل اپنے آپ کو مؤمن کہلا کر ملک شام وعراق اور ایران میں مذہبی مخالفین کو امریکی اور اسرائیلی ہتھیاروں سے نیست ونابود کر رہے ہیں۔

اللهم اجعل ثأرنا على من ظلمنا واجعل كيد المنافقين في نحرهم
حوالہ جات

1.عبیدیوں سے مراد عبید اللّٰہ بن میمون یہودی النسل کے متبعین ہیں جنہوں نے بنی فاطمہ ہونے کاجھوٹا دعویٰ کر کے افریقیوں کو ساتھ ملا کر مصر وشام پر حکومت حاصل کرلی تھی۔ یہ باطنی یہودی اسلام اورمسلمانوں کی کھالیں اُتروا دیتے تھے۔ جبکہ قرامطہ سے مراد قرمط بن حمدان کے معتقدین ہیں جو شریعت کے ظاہر ی مفہوم کے منکرہیں اور اپنی باطنی فرقے کے امام کی تشریح کو ہی مانتے ہیں۔ان بدبختوں نے طاہر قرمطی کی قیادت میں حجر اسود کو اُکھاڑکر سات ہزار حاجیوں کو مطافِ کعبہ میں قتل کردیا تھا۔

2.البدایۃ والنہایۃ از حافظ ابن کثیر:٤؍٢٤

3.الآداب الشرعیۃ از علامہ ابن مفلح: 1؍77

4.صحیح بخاری:1417

5.المعجم الاوسط للطبرانی:۵؍۱۳۹

6.سنن ابوداود:۴۸۴۳

7.المجالسة وجواهر العلم از ابو بکر احمد بن مروان مالکی:1621