اللہ تعالیٰ نے وہ شریعت نازل فرمائی اور وہ حدود مقرر کی ہیں جن میں انسان کے لیے دنیا و آخرت کی سعادتیں  پنہاں ہیں۔اللہ کی حدود پابندی کرنے اور ان سے تجاوز نہ کرنے ہی میں انسان کی فضیلت وطہارت،پاکبازی وپاکدامنی ،نفس انسانی کی عالی منصبی ،ذلیل ورذیل افعال سے بالامقام نیز برائیوں،فتنہ وفساد وبگاڑ اور گناہوں سے اجتناب کے امکانات پائے جاتے ہیں چنانچہ ارشاد الٰہی ہے:
﴿إِنَّما يُريدُ اللَّـهُ لِيُذهِبَ عَنكُمُ الرِّجسَ أَهلَ البَيتِ وَيُطَهِّرَكُم تَطهيرًا ﴿٣٣﴾...الأحزاب
"بے شک اے اہل بیت!اللہ تم سے تمام غلاظتیں دور کرکے تمھیں خوب پاک صاف کردینا چاہتا ہے"
زیر نظر رسالہ میں کچھ ایسی خلاف ورزیوں کا تذکرہ کیا گیا ہے جو عموماً خواتین سے صادر ہوتی ہیں۔اسلامی معاشرے میں عورت کا چونکہ بڑا مقام ومرتبہ ہے۔اور ہم اپنی اسلامی بہن کو ان خلاف ورزیوں سے بچانا چاہتے ہیں لہذا ہم نے مناسب سمجھا کہ یہاں ان میں سے خاص خاص امور پر تنبیہ کردی جائے تاکہ وہ ان سے بچ جائیں اور جو ان میں واقع ہوچکی ہیں۔ ان سے باز آجائیں اور اللہ سے توبہ تائب ہوجائیں اور  پھر وہ اپنی دوسری بہنوں کو ان سے بچانے کی کوششوں میں لگ جائیں اور جہاں کہیں ان کا ظہور دیکھیں ،ان کی تردید کریں۔اللہ ہماری نیتوں اور اعمال کی اصلاح فرمائے۔آمین!
عقائد سے متعلقہ خلاف ورزیاں:۔
1۔جادو ٹونے کرنے والے،شعبدہ بازوں اور کاہنوں وغیرہ کے پاس جانا اور ان سے کسی بیماری ،نظر بد اورجادو کاازالہ کروانا یاکوئی اور مطالبہ کرنا حرام ہے۔کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  نے ان کے پاس جانے سے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے،چنانچہ ارشاد نبوی  صلی اللہ علیہ وسلم  ہے:
"مَنْ أَتَى عَرّافاً فَسَأَلَهُ عَنْ شَيْءٍ فَصَدّقَهُ، لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلاَةُ أَرْبَعِينَ يومًا"
"جو کسی عراف(ٹیولے لگانے والے) کے پاس گیا اور اس سے کسی چیز کے بارے میں سوال کیا،اس کی چالیس دن کی نماز قبول نہیں ہوتی"(ابو داود،ترمذی ،نسائی،ابن ماجہ)
یہ توصرف جانے اور سوال کرنے کی بات  ہے اور جو شخص ان کی کہی ہوئی بات کی تصدیق بھی کرے اور جو وہ کہیں اسے سچ بھی مان لے تو یہ فعل سراسر کفرہے جیسا کہ ارشاد رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم  ہے:
مَنْ أَتَى كَاهِنًا، فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُولُ، فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم"(صحیح مسلم)
"جو شخص کسی کاہن(غیبی خبریں دینے والے) کے پاس گیا اوراس کی بات کو سچا بھی مانا،اس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم  کی شریعت سے کفرکیا"
2۔قبروں کی زیارت اور اس کے لیے باقاعدہ زادراہ لے کرنکلنا اور خاص طور پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کی قبر مبارک کی زیارت کے لیے رختِ سفر باندھنا بھی خواتین کے لیے منع ہے ،کیونکہ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم  ہے۔
لعن الله زوارات القبور (مسند احمد)
"اللہ نے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت کی ہے"
3۔کسی کی وفات پر نوحہ خوانی کرنا،گالوں کی پیٹنا اور کپڑے پھاڑنا،چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کا ا رشادگرامی ہے:
"لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَطَمَ الْخُدُودَ وَشَقَّ الْجُيُوبَ وَدَعَا بِدَعْوَى الجَاهِلِيَّةِ"(بخاری ومسلم)
"وہ ہم میں سے نہیں جس نے اپنے گالوں کو پیٹا اور ا پنے کپڑے  پھاڑے اور عہد جاہلیت کے سے کاموں کاارتکاب کیا"
اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا:
النَّائِحَةُ إِذَا لَمْ تَتُبْ قَبْلَ مَوْتِهَا تُقَامُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَعَلَيْهَا سِرْبَالٌ مِنْ قَطِرَانٍ وَدِرْعٌ مِنْ جَرَبٍ(صحیح مسلم)
"نوحہ خوانی(بین) کرنے والی عورت اگر موت سے قبل توبہ کرکے نہ مری تو قیامت  کے دن وہ یوں کھڑی کی  جائے گی کہ اس کو  گندھک کی  شلوار   پہنائی گئی ہوگی اور خارش کی پوشاک دی جائےگی"
4۔امیر ممالک  کی بعض  عورتوں کا اپنے شوہروں سے یہ بھر پور مطالبہ کر نا کہ وہ ان کے لیے کسی ملک سے کوئی غیر مسلم گورنس یا نوکرانی منگوائے بلکہ بعض عورتوں کاتو بوقت نکاح یہ شرط عائد کردینا اور پھر ان خادماؤں پر  بچوں کی  تربیت کی ذمہ داریاں ڈال دینا۔اس میں بچوں کے عقیدہ واخلاق کے بگاڑ کے ایسے شدید خطرات پائے جاتے ہیں جو کسی ذی عقل سے پوشیدہ نہیں ہیں۔(1)
5۔کسی مشکل وقت کے آجانے یا مصیبت میں مبتلا ہونے پر  جزع وفزع کرنا اور اپنے لئے موت کی دعائیں کرنا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد  گرامی ہے۔
"لَا يَتَمنَّيَنَّ أَحَدُكُمْ الموتَ لضُرٍّ نَزَلَ بِهِ، فَإِنْ كَانَ لَا بُدَّ مُتَمنِّياً لِلْمَوْتِ فَلْيَقُلْ: اللهُمَّ أَحْيني مَا كَانَتْ الحيَاةُ خَيْراً لِي، وَتَوفَّنِي إِذَا كَانَتْ الوَفَاةُ خَيراً لِي". (بخاری ومسلم)
"تم میں سے کوئی شخص کسی مشکل ومصیبت کی وجہ سے اپنے لیے موت کی تمنانہ کرے اور کوئی تمنا کرنا ضروری ہی ہوجائے تو پھر یوں کہے:اےاللہ! جب تک میرے لیے زندگی بہتر ہے تب تک مجھے زندہ  رکھ اور جب میرے لیے موت بہتر ہومجھے موت دےدے"
ارکان اسلام سے متعلقہ خلاف ورزیاں:۔
6۔نمازوں کو ان کے مقررہ اوقات سے موخر کرکے  پڑھنا،خصوصاً سیر کے لیے باہر جانے،رب جگوں اور پارٹیوں میں شرکت کرنے اور راتوں کو دیر سے سونے کی وجہ سے ،اور یہ افعال نمازوں کی تاخیر خصوصاً نماز فجر کی تاخیر ہی نہیں بلکہ طلوع آفتاب کے بعد جا کر نماز پڑھنے کاسبب بنتے ہیں جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا ہے کہ:
"رات کو میرے پاس دو فرشتے آئے انہوں نے مجھے نیند سے بیدا کیا اور کہا کہ چلیے،میں ان کے ساتھ چل دیا،ہم ایک ایسے شخص کے پاس پہنچے جو لیٹا ہوا تھا اوردوسرا آدمی پاس ہی بہت بڑا  پتھر لیے کھڑا تھا،وہ پتھر کو اس زور سے لیٹے ہوئے آدمی کے سر پر مارتا کہ اس کا سرریزہ ریزہ ہوجاتا اور پتھر لڑھک جاتا۔وہ پتھرپکڑتا اور اس کے واپس لے کر آنے تک اس کا سر پھر مکمل حالت میں آچکاہوتا۔وہ پتھر پہلے ہی کی طرح زور سے اس کے سرپر پتھر مارتا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  فرماتے ہیں کہ میں نے ان فرشتوں سے پوچھا:سبحان اللہ،یہ دونوں کون ہیں؟تو ان فرشتوں نے کہا:ان دونوں کے بارے میں ہم آپ کو بتاتے ہیں(اور پھر بتایا کہ) یہ آدمی جس کےسرکو کچلے جاتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے دیکھا ہے،یہ وہ شخص ہے جو قرآن پڑھتا(حفظ کرتا اوراسے بھلادیتا) اور اس پر عمل کرنے سےانکار کرتاہے۔ اور فرض نماز کو بروقت ادا کرنے کی بجائے سویارہتاہے۔"(صحیح بخاری)
7۔عورت کے پاس جو مال ودولت اور زیورات ہوتے ہیں اور وہ حد نصاب کو بھی پہنچ چکے ہوتے ہیں اور ان پر پورا سال بھی گزر جاتا ہے اس کے باوجود ان کی زکواۃ اداکرنے کااہتمام نہیں کرتی جبکہ ارشاد الٰہی ہے:
﴿وَالَّذينَ يَكنِزونَ الذَّهَبَ وَالفِضَّةَ وَلا يُنفِقونَها فى سَبيلِ اللَّـهِ فَبَشِّرهُم بِعَذابٍ أَليمٍ ﴿٣٤﴾يَومَ يُحمىٰ عَلَيها فى نارِ جَهَنَّمَ فَتُكوىٰ بِها جِباهُهُم وَجُنوبُهُم وَظُهورُهُم ۖ هـٰذا ما كَنَزتُم لِأَنفُسِكُم فَذوقوا ما كُنتُم تَكنِزونَ﴿٣٥﴾...التوبة
"جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اورانہیں اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے(ان کی زکواۃ نہیں دیتے) انہیں دردناک عذاب کی بشارت دے دیں۔ قیامت کے دن وہ سونا چاندی جہنم کی آگ میں تپائے جائیں گے(آگ کے انگاروں جیسے) اور ان زیورات سے ان کی پیشانیوں پہلوؤں اور  پشتون کو داغا جائے گا(اور کہا جائے گا) یہ ہے وہ جسے تم نے اپنے لیے جمع کررکھا تھا۔اپنے جمع کردہ سونے چاندی کامزہ چکھو"
8۔بعض عورتوں کا اپنے شوہروں اور بچوں(بیٹوں اور بیٹیوں) کے فرائض کی ادائیگی میں لاپرواہی کرنا،ان کے غلط کاموں پر انہیں نہ ٹوکنا اور انہیں نصیت نہ کرنا جیسے شوہر اور لڑکوں کو مسجد میں نماز باجماعت ادا کرنے کی تاکید ونصیحت میں لاپرواہی کرنا اور لڑکیاں جب بلوغت کی عمر کو پہنچ جائیں تو انہیں نمازوں کی ادائیگی  اور روزے وغیرہ جیسے فرائض وواجبات کی ادائیگی کی  تاکید ونصحیت کرنے میں سستی کرنا۔
9۔حج وعمرہ کی ادائیگی کے وقت سبز یاکوئی دوسرا رنگ مخصوص کرلینا اور اسی کا احرام بنانا،اسی طرح عربی نقاب اور دستانے بوقت احرام بھی  پہننا جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد ہے:
لا تتنقب المرأة المحرمة ولا تلبس القفازين (صحیح بخاری)
"کوئی عورت احرام کی حالت میں عربی نقاب(2) نہ باندھے اور نہ ہی دستانے  پہنے۔۔۔"
لباس اور پردہ سے متعلقہ خلاف ورزیاں :۔
10۔گھر سے نکلتے وقت پردہ شرعی حجاب کا التزام نہ کرنا مثلاً چہرہ ننگا رکھنا یا انتہائی باریک کپڑا چہرہ پرڈال لینا(جس سے چہرہ صاف نظر آتا ہو) یا تنگ و چست ،مختصر اور پردہ کھول دینے کے امکانات والے لباس پہننا اور ایسے نقاب وبرقعے پہننا کہ جن سے ابرو یں آنکھیں اور کچھ گال نظر آتے ہوں اور ساتھ ہی چہرے کا میک اپ بھی نظر آتا ہو۔
11۔لباس و پوشاک بالوں کی تراش خراش میک اپ کے سامان اور دیگر نسوانی اہتمامات میں مغربی فیشن کی بھرپورتقلید کرنا یہ مسلمان عورت کی شخصیت کے فقدان اور اس کے تشخص کی کمزوری کا باعث ہے۔
گھروں اور میاں بیوی سے متعلقہ خلاف ورزیاں:۔
12۔سونے اور چاندی کے برتنوں کا ستعمال کرنا اور ان میں کھانا پینا جبکہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس سے منع فرمایا ہے چنانچہ ارشاد رسالت مآب  صلی اللہ علیہ وسلم  ہے۔
ولا تَشْرَبوا في آنية الذَّهبِ والفِضَّة، ولا تأكلوا في صِحافها؛ فإنَّها لهم في الدُّنيا، ولنا في الآخِرة (بخاری ومسلم)
"سونے اور چاندی کے برتنوں میں نہ کھاؤ نہ پیو یہ کافروں کے لیے اس دنیا میں ہیں اور تمھارے لیے آخرت میں ہوں گے"
13۔اور یہ ممانعت اس لیے ہے کہ اس میں فخر فضول خرچی اور فقراء کی دل شکنی کا عنصر پایا جا تا ہے۔
13۔گھروں میں شیلفوں پر مجسمے اور تصاویر رکھنا اسی طرح کمروں کی دیواروں پر تصاویر آویزاں کرنا،
14۔ایک سے زیادہ (دوسری بیوی سے) نکاح کرنے پر اعتراض کرنا بلکہ اس جائز فعل کے خلاف محاذ کھولنا جبکہ ارشاد الٰہی ہے۔
وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَن يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ ۗ وَمَن يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا مُّبِينًا (احزاب:36)
"کسی مؤمن مردوزن کے لیے یہ ہر گز روانہیں کہ جب کسی معاملہ میں اللہ اور اس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم   فیصلہ کردیں تو پھر وہ اس میں ان کی نافرمانی کریں اور جس نے اللہ اور اس کے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی تو واضح گمراہی میں مبتلا ہوگیا۔
15۔شوہر کی نافرمانی اس کے احکامات کا قوت و طاقت کے ساتھ انکار کرنا اس کے سامنے بلند آواز سے بولنا اس کے احسانات کا انکار کرنا اور بلا سبب ہمیشہ اس کے خلاف شکوہ و شکایت کرنا حضرت حصین بن محصن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پھوپھی بیان کرتی ہیں۔
"میں نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت میں کسی کام سے حاضر ہوئی آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے پوچھا : کیا تم شوہر والی (سہاگن )ہو؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:تم اپنے شوہر کے ساتھ کیسی ہو؟میں نے کہا مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں سوائے اس کے کہ کسی معاملہ میں عاجزآجاؤں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا !اس کے نزدیک تمھارا کیا مقام ہے ؟اور پھر ساتھ ہی فر مادیا:
فإنَّما هو جنَّتُكِ وناركِ"(نسائی)
" وہ تمھاری جنت ہے(اگر اطاعت کرو) اور وہ تمھاری جہنم بھی ہے (اگر نافرمانی کرو)
اور پھر نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد ہے:
"لو كنت آمرا احد ان يسجد لأحد لأمرت المرأة ان تسجد لزوجها"
"اگر میں نے کسی کو یہ حکم دینا ہوتا کہ کسی کووہ سجدہ کرے تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے"(سنن ترمذی ومسنداحمد)
16۔بلا ضرورت و بلاوجہ تحدید نسل اور کم بچے پیدا کرنے کی مختلف کوششوں میں لگے رہنا یا خاندانی منصوبہ بندی کرنا جو کہ امت اسلامیہ کی کمی کا باعث ہے جبکہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد ہے۔
"تزوجوا الودودَ. الولودَ فإني مكاثر بكم الأمم" (سنن ابی داؤد سنن نسائی)
"زیادہ پیار کرنے والے اور زیادہ بچوں کو جنم دینے والی عورت سے شادی کرو۔(قیامت کے دن) میں اپنی امت کی کثرت کا دوسری امتوں پر فخر کروں گا۔
17۔بچوں کی تمام مشکوک سے پاک صحیح اسلامی خطوط پر تربیت کرنے میں اہتمام و دلچسپی سے کام نہ لینا جیسے برتھ ڈے پارٹیاں کرنا بچوں کو ایسے کپڑے خرید کر پہننا نا کہ جن پر جانداروں کے فوٹو یا صلیب (کراس) کا نشان ہو اسی طرح بچوں کو میوزک کی تعلیم دینا ۔ اس کے برعکس انہیں مساجد میں باجماعت نماز ادا کرنے قرآن کریم کو حفظ کرنے اور اسلام کی مدد نصرت کرنے کی ترغیب نہ دینا جبکہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد گرامی ہے۔
"وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا وَمَسْؤولَةٌ عَنْ رَعِيَّتِهَا،"
"عورت اپنے شوہر کے گھر کی نگران اور اپنی رعیت(بال بچوں) کی مسؤل و ذمہ دار ہے"
18۔بعض عورتوں کاگھرکے کام کاج صفائی ستھرائی ،کپڑے اور برتن دھونے اور کھانا پکانے جیسے امور سے لاپرواہی برتناحتیٰ کہ بعض کی طرف سے اپنے شوہر کے لیے بننے سنورنے زیب و زینت کرنے اور تیار رہنے سے لاپرواہی کرنا۔
19۔بلاوجہ اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرنا جبکہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد ہے۔
"أَيُّمَا امْرَأَةٍ سَأَلَتْ زَوْجَهَا طَلاقًا فِي غَيْرِ مَا بَأْسٍ فَحَرَامٌ عَلَيْهَا رَائِحَةُ الْجَنَّة"
"جس عورت نے بلاوجہ اپنے شوہر سے طلاق طلب کی اس پر جنت تو کیا اس کی خوشبو بھی حرام ہے؟(سنن ابی داؤد سنن ابن ماجہ )
20۔شوہر کو گھر یلو آرائش ذاتی زیبائش ملبوسات اور ایسے گفٹ اور شوپیس خرید کر لانے پر مجبور کرنا جو کوئی ضروری چیز ہی نہ ہوں۔
21۔میاں بیوی کے مابین واقع ہونےوالی باتوں ،اختلافات اور بھیدوں خصوصاً مباشرت و معاشرت سے متعلقہ رازوں کو افشا کرنا۔
22۔اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ رکھنا جبکہ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم  ہے۔
لَا يَحِلُّ لِلْمَرأَةِ أَن تَصُومَ وَزَوجُهَا شَاهِدٌ إِلاَّ بِإِذنِهِ ، وَلَاْ تَأْذَن فِي بَيتِهِ إِلاّ بِإِذنِهِ(صحیح بخاری شریف)
"کسی عورت کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ شوہر کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر روزہ رکھےیا کسی کو اس کی اجازت کے بغیر گھر میں آنے دے"
شادی بیاہ سے متعلقہ خلاف ورزیاں:۔
23۔تعلیم کی تکمیل کے بہانے سے شادی نہ کرنا اور اتنا لیٹ کردینا کہ تعلیم مکمل ہونے کے بعد اپنے آپ کو تنہا محسوس کرنا کیونکہ عمر زیادہ ہوجانے کی وجہ سے اب کوئی رشتہ لینے کے لیے تیار نہیں۔
24۔دین اور اخلاق سے قطع نظر شوہر چننے میں سستی کرنا اور عام دنیا داری (دولت وغیرہ) کے پیچھے لگنا جبکہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد ہے۔
"اذا أتاكم من ترضون خلقه ودينه فزوجوه إلا تفعلوا تكن فتنة في الأرض وفساد عريض"(سنن ترمذی)
"جب تمھارے پاس کسی باخلاق و دین دار لڑکے کا پیغام آئے تو اسے بچی بیاہ دو اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو زمین پر فتنہ فساد اور اخلاقی بگاڑ عام ہو جا ئے گا۔
25۔مہر میں بڑی بڑی رقموں کا مطالبہ کرنا جبکہ حدیث شریف میں ہے۔
"خَيْرُ الصَّدَاقِ أَيْسَرَهُ"(مستدرک حاکم)
"بہترین حق مہروہ ہے جو بہت کم ہو۔
اور وہ نکاح زیادہ باعث  برکت ہو تا ہے جس پر کم سے کم خرچ آئے۔
دور حاضر کی ایجادات و بدعات میں مبتلا ہونا جیسے شوہر سے مطالبہ کیا جا ئے کہ وہ منگنی کے لیے قیمتی زیور و لباس لائے لڑکی کے لیے ایسی انگوٹھی یا چھلہ لائے جس پر شوہر کا نام کندہ ہو( یہ منگنی کا چھلہ کہلاتا ہے) اسی طرح کفار کی تقلید میں شادی کے لیے ایک مخصوص لباس "تشریفہ"لانے اور پہننے کا التزام کیا جا ئے جو سفید رنگ کا قیمتی موتیوں سے جڑ ا ہوا ہو تا ہے اور اتنا لمبا ہو تا ہے کہ چلتے وقت عورت کے پیچھے زمین پر گھسیٹتا جاتا ہے(3)اسی طرح سفید دستانے اور سفید جرابیں پہننے کا التزام بھی تقلید فرنگ ہی ہے۔
27۔عورت کا بیوٹی پارلر میں جانا تاکہ جسم کے بال صاف کروائے جائیں اور اس سلسلہ میں یہاں تک نوبت آچکی ہے کہ عورتیں بال صاف کروانے کے لیے جسم کے وہ حصے تک ننگے کردیتی ہیں جنہیں شوہر کے سوا کسی دوسرے کا دیکھنا جائز نہیں ہے۔
28۔اس بات پر اصرار کرنا کہ شادی اعلیٰ درجے کے میرج ہال یا کسی اعلیٰ ہوٹل میں ہو اور اسراف و تبذیر کی حد تک بے جا مال خرچ کیا یا کروایا جا ئے ۔شادی پر گانے کے لیے معروف گانے بجا نے والوں کو بلایا جائے اسی طرح گانے بجانے سازوں اور دیگر آوازوں کو بلند کیا جا ئے۔
29۔دلہا اور دلہن کے لیے مشترکہ کہ سٹیج بنوانا پھر ان دونوں کا اپنے بیگانے تمام محرم ونامحرم لوگوں کے سامنے آنا۔ان لوگوں کا دونوں کے ساتھ مصفحہ کرنا اور ساتھ ہی مبارک دینا ۔رقص (ڈانس و لڈی) فوٹو گرافی کرنا اور ویڈیو کیمروں سے مووی بنانا وغیرہ۔
باہر نکلنے سفر کرنے اور مخلوط میل جول سے متعلقہ خلاف ورزیاں :۔
30۔ عورت کا گھر سے نکلتے وقت کوئی ایسی خوشبو عطر یا خوشبو دار دھواں استعمال کرنا جو غیر مردوں کے سونگھنے میں آجائے ۔نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد ہے۔
"أَيُّمَا امْرَأَةٍ اسْتَعْطَرَتْ ثُمَّ خَرَجَتْ لِيُوجَدَ رِيحُهَا فَهِيَ زَانِيَةٌ"
"ہر وہ عورت جو عطراستعمال کرکے گھر سے نکلنے اور لوگوں کے پاس سے یوں گزرے کہ انھیں اس کی خوشبو پہنچے ایسی عورت بدکار ہے"(سنن ابی داؤد نسائی)
31۔عورت کا اجنبی (غیر محرم ) ڈرائیور کے ساتھ گاڑ میں سوار ہوکر جانا اس کے ساتھ خلوت اختیار کرنا (تنہائی میں ہونا ) اور اس سے پردہ نہ کرنا بلکہ ایسے رہنا جیسے وہ کوئی محرم ہو جبکہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد ہے۔
 لايخلونَّ أحدكم بامرأة إلا مع ذي محرم(بخاری و مسلم)
"تم میں سے کوئی شخص کسی عورت کے ساتھ خلوت و تنہائی میں نہ جا ئے سوائے اس کے کہ اس عورت کے ساتھ اس کوئی محرم ہو۔
32۔گھروں سےبکثرت باہر نکلنا اور بازاروں میں جانا جبکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
﴿وَقَرنَ فى بُيوتِكُنَّ وَلا تَبَرَّجنَ تَبَرُّجَ الجـٰهِلِيَّةِ الأولىٰ...٣٣﴾...الأحزاب
"اور تم اپنے گھروں میں ٹکی رہو اور پہلی جاہلیت کی سی بے پردگی اختیار نہ کرو"
33۔عورت کا اپنے رشتہ داروں یا شوہر کے رشتہ داروں میں سے غیر محرم مردوں کے ساتھ بے حجاب میل جول یا عام لوگوں سے بلاپردہ ملنا جلنا ان کے ساتھ ہنسی مذاق کرنا ان سےمصافحہ کرنا ان کے سامنے اپنی زینت کو ظاہر کرنا اور ان سے پردہ نہ کرنا جبکہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد گرامی ہے۔
"إِيَّاكُمْ وَالدُّخُولَ عَلَى النِّسَاءِ"
"عورتوں کے پاس خلوت میں جانے سے بچو"انصار میں سے ایک آدمی نے کہا:
"يا رسول الله أفرأيت الحمو؟
"اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  دیور کے بارے میں کیاحکم ہے؟آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا:
 الحمو الموت. (بخاری و مسلم)
"دیور تو (بھابی کے لیے) موت کی طرح ہے"
34۔بعض عورتوں کا مرد ڈاکٹروں سے علاج معالجہ کروانا اور کسی انتہائی ضرورت کے بغیر جسم کو ننگا کرنا ۔
35۔عورت کا محرم کے بغیر سفر پر نکلنا وہ سفر گاڑی سے ہویا جہاز سے یا کسی بھی طریقہ سے جبکہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد ہے:
لا تسافر المرأة إلا مع ذي محرم (متفق علیہ /بخاری و مسلم)
"عورت کسی محرم کے سوا سفر پر نہ نکلے"
36۔عورتوں کا کسی ایسے کام (نوکری) کے لیے جانا جو کسی ناجائز یا حرام فعل کے ارتکاب کا باعث بنے جیسے اپنے شوہر کے حقوق یا بچوں کے حقوق سے لاپرواہی فرائض کا ترک کرنا مردو زن کا مخلوط میل جول اور گھر کی خادمہ کو گھر میں اکیلے چھوڑ کرجانا(جس سے اس کے کسی گناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ رہے)
عام خلاف ورزیاں (متفرقات):۔
37۔ عورتوں  کے مابین اپنے حلقہ اثر میں امربالمعروف ونهي عن المنكراور باہمی نصیحت و خیر خواہی کو ترک کرنا جبکہ ارشاد ربانی ہے۔
وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ ۚ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَيُطِيعُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ۚ أُولَٰئِكَ سَيَرْحَمُهُمُ اللَّهُ ۗ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ. (التوبہ:71)
"مومن مرد اور مؤمن عورتیں ایک دوسرے کے دوست ہیں نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور زکوۃ ادا کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی اطاعت کرتے ہیں یہی لوگ ہیں جن پر اللہ کا رحم و کرم ہو گا بے شک اللہ غالب حکمت ولاہے۔"
38۔والدین کی نافرمانی کرنا ان کے سامنے بلند آواز سے چلانا انہیں جھڑ کنا ڈانٹنا اور اس کی اطاعت و فرمانبرداری نہ کرنا ،جبکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔
فَلَا تَقُل لَّهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا (الاسراء:23)
"انہیں اُف تک نہ کہو اور نہ انہیں ڈانٹو بلکہ انہیں نرم لہجہ سے بلاؤ اور بات کرو"
39۔زبان کی آفات جیسے چغلی و غیبت وغیرہ کا عام ہونا ۔
40۔نگاہیں نیچی رکھنے کے معاملے میں سستی و لاپرواہی کرنا گویا اس کا حکم عورتوں کو نہیں بلکہ مردوں کو دیا گیا ہو جبکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔
وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ (النور:31)
"مؤمن عورتوں سے کہہ دیجئے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور شرمگاہوں کی حفاظت کریں"
اسی طرح غیر محرم مردوں کی طرف ٹکٹکی لگائے دیکھنے کا معاملہ بھی ہے خاص طور پر ٹیلیویژن  کی سکرین پر جس سے فتنہ و بگاڑ پیدا ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔
41۔عورت کا کسی دوسری عورت کو دیکھنا اور اس کے اوصاف بغیر کسی شرعی ضرورت کے اپنے کسی محرم (شوہر وغیرہ) کے سامنےبیان کرنا جبکہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد ہے:
لا تُبَاشِرُ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ فَتَنْعَتَهَا لِزَوْجِهَا كَأَنَّهُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا (متفق علیہ)
"کوئی عورت اگر کسی دوسری عورت سے ملے تو اس کے محاسن جسم اپنے شوہر کے سامنے بیان نہ کرے تاکہ وہ بات نہ ہو کہ (تمھارے بیان کرنے سے) وہ گویا خود اس عورت کو دیکھ (کر لطف اندوز ہو)رہاہے"
42۔بعض ایسے حرام افعال کا ارتکاب کرنا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے لعنت کے موجب ہیں چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد گرامی ہے۔
ﻟﻌﻦ الله اﻟﻮاﺷﻤﺎﺕ ﻭاﻟﻤﺴﺘﻮﺷﻤﺎﺕ، ﻭاﻟﻨﺎﻣﺼﺎﺕ ﻭاﻟﻤﺘﻨﻤﺼﺎﺕ، ﻭاﻟﻤﺘﻔﻠﺠﺎﺕ ﻟﻠﺤﺴﻦ اﻟﻤﻐﻴﺮاﺕ ﺧﻠﻖ الله" (متفق علیہ)
"اللہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی ہے حسن بڑھانے کی نیت سے چہرے پر کوئی نقش گوندانے اور گوندنے والی پر بھنوؤں کے بال نوچنےاور نونچوانے والی پر دانتوں کے درمیان خلابنوانےوالی پر۔۔۔یہ سب اللہ کی مخلوق کا نقشہ بگاڑ نے والے ہیں۔"
اور ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم  ہے:
"لعن الله الواصلة والمستوصلة "
"اللہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی سر کے بالوں کو بڑھانے (وگ وغیرہ بنانے ) اور بڑھوانے (وگ وغیرہ استعمال کرنے) والی پر۔"
43۔غیر محرم مردوں کے ساتھ گفتگو کرتے وقت اپنی آواز نازک اور باریک کرلینا (تاکہ چھوٹی عمر والی محسوس ہو) اور یہ فعل حرام ہے اور ایسا عموماً ٹیلیفون پر گفتگو میں ہو تا ہے جو کہ مردوں کی طرف سے ٹیلیفون کی ناجائز و مسلسل کالوں کا باعث بنتا ہے اور پھر کئی سادہ لوح عورتیں انسانی بھیڑیوں کے لیے لقمہ تربن جاتی ہیں۔
44۔بعض عورتوں کا پنے حسن پر غرور کرنا یا پھر عمدہ لباس اور قیمتی زیورات پر اترانا جبکہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد ہے۔
لا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ كِبْرٍ، (صحیح مسلم)
"وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا جس کے دل میں ذرہ برابر بھی تکبر ہو گا۔
45۔بعض خواتین (اللہ انہیں ہدایت دے) کا نیکیاں کر کے مزید ثواب جمع کرنے کی کوشش نہ کرنا ،مثلاً بعض خواتین سوائے رمضان المبارک کے سارا سال قرآن مجید کو چھوتی تک نہیں بعض عورتیں نماز وتر نماز ضحیٰ (چاشت) ادا نہیں کرتیں اور نہ ہی مؤکدہ سنتیں ادا کرتی ہیں۔
46۔ بعض خواتین اپنے بالوں کو سیاہ رنگ لگا کر بڑھاپے کی سفیدی چھپاتی ہیں۔کتم اور مہندی نہیں لگاتیں جبکہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا ہے۔
"يكون قوم يخضبون في آخر الزمان بالسواد كحواصل الحمام لا يريحون رائحة الجنة  "(سنن ابی داؤد نسائی)
"میری امت کے آخری زمانہ میں کچھ لوگ آئیں گے وہ کالے رنگ سے اپنے بال رنگیں گے۔جیسے کہ کبوتروں کی بوٹیں ہوں وہ جنت کی خوشبو تک نہ سونگھنے پائیں گے"
47۔امور فطرت میں سے کسی فطرتی سنت کی مخالفت و خلاف ورزی کرنا جیسے ناخن کٹوانا  سنن فطرت میں سے ہے آپ دیکھیں گے کہ بعض عورتیں اپنے ناخن بڑھا لیتی ہیں اور پھر ان پر رنگ(نیل پالش) لگالیتی ہیں یہ پالش پانی کو ناخن تک پہنچنےسے روک دیتا ہے اب اگر ایسی عورت اس حال میں وضو کر کے نماز پڑھتی ہے تو اس کی نماز باطل ہوگی کیونکہ اس کا وضو ہی صحیح نہیں ہوا اور وہ اس لیے کہ پانی ناخنوں تک نہیں پہنچ پایا۔ہاں اگر یہ پالش کبھی لگانا ضروری ہی سمجھیں تو وضو کرنے سے پہلے اسے ریمورکے ساتھ صاف کرلینا ضروری ہے۔
48۔عورت کا ایسی سہیلیوں سے دوستی کرنا جنہیں بجا طور پر بری دوست کہا جا سکتا ہے ۔جو حقوق اللہ کی ادائیگی میں سستی و لاپرواہی پر آمادہ کرتی ہیں۔ اپنی عزت  و عفت و عصمت کے تحفظ میں افراط و تفریط میں مبتلا کر دیتی ہیں اور ایسے امور میں مبتلا کر دیتی ہیں جن کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔
49۔اگر شوہر فوت نہ ہوا ہوتو دوسرے کسی بھی رشتہ دار کے فوت ہونے پر تین دن سے زیادہ عرصہ سوگ منانا کیونکہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد گرامی ہے۔
لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر تسافر مسيرة ثلاث ليال إلا زوجه فانها تحد عليه اربعة اشهر وعشرا (متفق علیہ)
"کسی عورت کے لیے جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہو۔ اس کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ کسی رشتہ دار کی وفات پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے سوائے شوہر کے اگر کسی کا شوہر فوت ہوجائے تو اس کی بیوی اس پر چار ماہ اور دس دن سوگ مناسکتی ہے۔"
50۔سوگ منانے کی شرطوں  کی پابندی نہ کرنا ،زیب و زینت والا لباس لینا زیورات پہن لینا خضاب لگانا ،سرمہ لگانا اور خوشبو وغیرہ لگانا بھی خلاف ورزیاں ہیں اسی طرح بیوہ عورت کو ایام عدت وسوگ میں بلا ضرورت گھر سے باہر نہیں نکلنا چاہیے ۔اس کے لیے یہ شرط نہیں کہ وہ سیاہ لباس ہی پہنے اس مسئلہ کی کو ئی اصل نہیں بلکہ یہ باطل و مذموم فعل ہے۔واللہ التوفیق ۔
حاشیہ جات:۔
یہ بیماری ان خلیجی ممالک میں تو ہے ہی لیکن برصغیر کے ممالک (پاک و ہند ) بھی اس سے بری نہیں ہیں اور یہ جہاں بھی ہو غلط ہے ملک اور علاقے کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔
2۔جہاں تک لفظ نقاب کا تعلق ہے اس کے اصل مفہوم سے ناواقفیت کی وجہ سے عموماً لوگ احرام کی حالت میں خواتین کو بے پردگی پر آمادہ کرتے نظر آتے ہیں جو کہ ایک المیہ ہے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کی بیویاں تو حجاب و پردہ کا التزام احرام میں بھی کریں اور آج کل کی خواتین سر عام غیر مردوں میں بھی ننگے منہ پھریں ۔نقاب دراصل اس استعمال کی چیز کا عربی نام ہے جو عورت ناک اور گالوں کے اوپر اور پیشانی پر برابربیٹھ جاتا ہے اور پھر اس کے اوپر حجاب کا کپڑا ڈالا گیا ہوتا ہے اس طرح کا نقاب باندھنا منع ہے نہ کہ سر سے کپڑا گرا چہرے کا پردہ کرنا۔
3۔بعض شادیوں میں اس لباس کی لمبائی بیسیوں میٹر بنوائی گئی اور اسے اٹھا کر چلنے کے لیے کتنی ہی لڑکیوں کی خدمات حاصل کی گئیں ۔اخباراتنے ایسی کئی شادیوں کو کوریج دی تو تعجب انگیز امورسامنے آئے۔