بریلوی مکتب  فکرکی مساجد میں عموماً 3/اوقات ایسے ہیں جن میں پڑھے جانے والے درود کو سپیکری درود کہا جاسکتا ہے:
1۔نماز جمعہ کے بعد کھڑے ہوکر،اجتماعی شکل میں اور باآواز بلند،راگ لگا کر درود شریف پڑھا جاتا ہے ۔
2۔فرض نمازوں سے فارغ ہونے کے بعد بھی مل کر اجتماعی طور پر،راگ لگا کر درود پڑھتے ہیں۔
3۔اسی طرح مؤذن جب اذان دینے لگتا ہے تو وہ بھی اپنا گلا درود شریف کے راگ سے ہی صاف کرتے ہیں۔
ان سب کےلیے باقاعدہ لاؤڈ اسپیکر استعمال کیے جاتے ہیں اور جب تک لاؤڈ سپیکر  رائج نہیں ہوئے تھے۔درودشریف کے ان اوقات ومواقع کا بھی کہیں ذکر نہیں تھا۔اسی لیے ان مواقع پرپڑھے جانے والے درودشریف کو سپیکری درود کہاجاتاہے اور ان کاسنت نبوی سے کہیں  پتہ نہیں چلتا۔
صلوۃ  وسلام اور درود شریف کے فضائل وبرکات اپنی جگہ مگر عین اذان سے پہلے اس طرح انہیں پڑھنا کہ  گویا یہ اذان کا ہی کوئی حصہ ہیں یا پھر جمعہ وجماعت کے بعد یہ انداز۔۔۔قطعاً ناجائز  اور صریحاً بدعت ہے۔ تقسیم پاک وہند کے بعد ایجاد ہونے و الی بدعات سے اس کا تعلق ہے،عمر رسیدہ لوگ اس کے  گواہ ہیں۔اور خاص طور پر جب سے مساجد میں لاؤڈ اسپیکر عام ہوئے ہیں،یہ سلسلہ بھی زوروں پر آگیا ہے،اس اعتبار سے اسے سپیکری درود وسلام بھی کہا جاتا ہے جن کا شافعی،مالکی حتیٰ کہ خود ا حناف ودیوبندی مکتب فکر میں بھی کوئی قائل وفاعل نہیں۔صرف بریلوی مکتب فکر کے لوگ اس ایجاد     کو اپنائے رکھنے  پر مصر نظر  آتے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے بھی کتنے ہی علماء اس کو بدعت قرار دے چکے ہیں۔صرف کم پڑھے لکھے لوگوں کی بھیڑ ہے جو ماننے کے لیے تیار نہیں۔تو آئیے آپ کو صرف احناف کے بریلوی مکتب فکر کے بعض علماء کی تصریحات بھی سنادیں۔چنانچہ:
مرکز سواداعظم اہل سنت والجماعت ،آستانہ عالیہ چشتیہ صابریہ،دارالحق ٹاؤن شپ،لاہور کی طرف سے  آٹھ صفحاتی پمفلٹ شائع ہواتھا جس کا عنوان ہے"اذان سے قبل صلوٰۃ،تسمیہ(بسم اللہ) اور  تعوذ(اعوذباللہ) بلند آواز سے پڑھنا غیر مشروع ،ناجائز وبدعت ہے"
یہ تو عنوان ہے ،اور اسی پمفلٹ میں بریلوی مکتب فکر کے علماء اور پیر حضرات کے فتاویٰ ہیں ،جن میں سے آستانہ عالیہ ،علی پور کے پیر جماعت علی شاہ،مفتی محمد حسین نعیمی،مرکز اہل السنت والجماعت د ارالعلوم حزب الاحناف ،لاہور اور اس مکتب فکر کے بانی مبانی مولانا احمد رضا خان بریلوی کے فتاویٰ درج ہی جس کا خلاصہ مذکورہ عنوان میں ہی آگیا ہے۔
اس پمفلٹ کی عبارت درج ذیل ہے جس کو بلاتبصرہ کے شائع کیا جارہا ہے:
(((ماہنامہ انوار الصوفیہ شہر۔۔۔۔۔ترجمان آستان عالیہ علی پور شریف
موسس اعلیٰ حضرت پیر ملت مجدد العصر قبلہ عالم[1]
1۔پیر جماعت علی شاہ
2۔اعلیٰ حضرت  مولانا احمد رضا خاں بریلوی
3۔امام اہل السنت مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد حسین نعیمی،جامعہ نعیمیہ لاہور
4۔مرکز اہل السنت والجماعت ،دارالعلوم حزب الاحناف ،داتا  گنج بخش[2] روڈ کے فتاویٰ)))
سوال:۔آج کل ہم اہل سنت والجماعت تمام مساجد میں بآواز بلند اذان سے   پہلے صلوۃ وسلام پڑھتے ہیں اور بعض موذنین صلوۃ وسلام سے بھی پہلے اعوذ اور بسم اللہ اور آیت:
إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِیا کوئی اور آیت پڑھتے ہیں اور  پھر صلواۃ وسلام اور پھر اذان  پڑھتے ہیں۔۔۔کیا یہ جائز ہے؟
جواب۔اذان سے قبل اعوذ  پڑھنا مشروع نہیں ہے۔اس کا حکم قرآن شریف کے ساتھ مخصوص ہے یعنی جب قرآن شریف پڑھنا چاہو تو اعوذ  پڑھ لو،اس کے سوا کسی چیز سے پہلے اعوذ پڑھنے کا حکم نہیں۔بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ہر نیک کام کے اول  پڑھنا باعث برکت ہے۔لیکن اونچی آواز سے اور مزید برآں لاؤڈ سپیکر میں پڑھنا  فضول ہے۔آہستہ سے پڑھنا کافی ہے قرون اولیٰ میں بلکہ پاکستان کے معرض وجود میں آنے سے پہلے کہیں بھی اذان کو اونچی آواز سے  بسم اللہ پڑھ کر شروع کرنا مہور(معروف) نہیں ہے۔ایسے ہی اونچی آواز  سے بالالتزام اذان سے قبل صلوۃ وسلام پڑھنا اور اس کو عادت بنانا مشروع نہیں ہے۔در اصل یہ زوائد وہابیوں،دیوبندیوں کی ضد سے یانعت خواں قسم کے موذنین نے پیدا کیے ہیں۔از منہ سابقہ میں سب قارئین جانتے ہیں کہ اذان ان زوائد سے خالی ہوتی تھی۔اگر ہمارے علماء عوام کی تائید میں کہ اب وہ اس راستہ پر چل پڑے ہیں،غوروفکر سے اس کو جائز ثابت بھی کردیں تو صرف جائز ہی ہوگا،[3]مستحب ،مندوب یا افضل نہیں ہوگا ۔باقی رہ گئی یہ بات کہ اس پرثواب بھی ہوگا ،یہ بات تب ہواکہ وہ مستحب ہو۔اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ  سے اس کی بابت پوچھا گیا تو انہوں نے لکھا کہ:
"اذان کے بعد جب جماعت کا وقت ہوتو کسی شخص یا موذن کابطور تثویب[4]سلام  وصلواۃ پڑھنا بہتر ہے یعنی اذان کے بعد صلواۃ وسلام پڑھنے کی وجہ ہوسکتی ہے پہلے نہیں ۔اور اس رسم کو جو اسلام میں معبود نہیں تھی۔جہلاء بڑھاتے چلے جارہے ہیں اورعلماء کرام خاموش ہیں،پتہ نہیں کیوں؟۔۔۔یہ عظیم المیہ ہے"(انوار الصوفیہ ایڈیٹر علامہ غلام رسول گوہر،جنوری 1978 ،شمارہ 4)
2۔سوال:حضرت مولانا مفتی محمد حسین نعیمی صاحب،السلام علیکم!
گزارش ہے کہ قرآن وسنت کی روشنی میں ارشاد فرمائیں کہ پنج وقتہ نماز کے لیے جو اذانیں دی جاتی ہیں،ان سے پہلے کیا رسول  صلی اللہ علیہ وسلم    پردرود وصلوۃ بآواز بلند بھیجنا مسنون ومشروع ہے جیساکہ ہمارے ہاں معمول بنتا جارہا ہے ۔نماز فجر سے پہلے ہمارے محلہ کی مسجد میں سے تین یاساڑھے تین بجے ہی لاؤڈ سپیکر پر صوفیا کا کلام یاکوئی اور کلام سنانا شروع کردیا جاتا ہے۔کبھی کبھی درود وسلام کو بھی سنایا جاتا ہے۔ کیا محلہ و الوں کو تین یاساڑھے تین بجے ہی جگا دینا اسلامی طریقہ ہے؟صحیح فتویٰ دے کر عنداللہ ماجور ہوں۔(سائل:محمد حنیف،باغبانپورہ،جی ٹی روڈ نمبر245 ،لاہور)
الجواب ھو الموفق للصواب:درود شریف پڑھنا مسلمان کے لیے ذریعہ نجات اور وسیلہ شفاعت ہے۔قرآن کریم میں واضح طور پر ایمان والوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ محبت اورعظمت  رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کے لیے درود شریف پڑھا کریں۔نماز کے اندر بھی درود شریف پڑھنے کا حکم ہے۔اس لیے کوئی صحیح العقیدہ مسلمان درودشریف سے  گریز نہیں کرسکتا اور اگر کوئی ایسا کرے تو یہ اس کی بدنصیبی ہوگی۔اذان کے کلمات مقرر ہیں،اس میں کمی بیشی کرنا یا ان کے آگے پیچھے درود شریف یا قرآن کریم کی آیات بلافصل ملانا بدعت ہے۔اور عبادت الٰہی میں خلل ڈالنے کے مترادف ہے ۔اذان کے ساتھ اول درود شریف کو لازم قراردینا،اہل سنت کاشعار بنانا بھی بدعت اور عبادت معہودہ میں  تحریف کرنے کی کوشش ہے۔بہتر یہ ہے کہ درودشریف وسلام پڑھنے کی سعادت اگر حاصل کرنی ہے تو اذان سے علیحدہ پڑھی جائے۔کم از کم پانچ منٹ پہلے پڑھ لی جائے۔درمیان میں وقفہ دے کر اذان کہیں۔اس سے بھی بہتر یہ ہے کہ اذان کے بعد دعا پڑھ کردرود شریف پڑھیں۔جب لوگ سوئے ہوئے ہوں،یاکسی کام میں مشغول ہوں،نماز باجماعت سے پہلے قرآن کریم یا درود شریف یا کوئی وظیفہ یا صوفیا کرام کاکلام بلندآواز سے پڑھنا سنت کے خلاف اور اہل اسلام کو پریشان کرنے،ان کو بلاوجہ تنگ کرنے کے گناہ کا ا رتکاب ہے،بالخصوص فجر سے پہلے لاؤڈ اسپیکر پر صوفیا کرام کا کلام پڑھنا غیر مستحسن اور دوسروں کو تکلیف دینے کے مترادف ہے۔فجر کے وقت سوائے دو سنت کے ،نوافل پڑھنے کا بھی حکم نہیں ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم  نمازیوں کی دشواری کے پیش نظر بعض اوقات نماز اورقرات میں تخفیف کردیا کرتے تھے۔امام وخطیب کو ایسا رویہ اختیار کرنا چاہیے جس سے اہل محلہ تنگ نہ ہوں جب کہ اس کا عمل سنت بھی نہ ہو،مستحب بھی نہ ہو۔واللہ اعلم بالصواب
(مفتی محمد حسین نعیمی ،ناظم جامعہ نعیمیہ ،لاہور)
3۔دارالعلوم حزب الاحناف کا فتویٰ:۔
فجر ہونے سے پہلے لاؤڈ اسپیکر پر بلند آوازسے درودشریف  پڑھنا جائز نہیں۔کیونکہ کاروباری آدمی سوئے ہوتے ہیں،ان کے آرام میں خلل واقع ہوتاہے۔در المختار میں ہے:
فى حاشية الحموى عن الامام شعرانى۔۔۔الخ
"حموی میں ہے،امام شعرانی نے فرمایا کہ"مسجدوں میں یا مسجدوں کے علاوہ جماعت کا ذکر کرنا مستحب ہے،اس میں سلف اور خلف کا اجماع ہے۔اگر ان کابلند ذکر سونے والے پر اور نماز پڑھنے یاقرآن پڑھنے والے پر مشوش ہوتو جائز نہیں"
اور اعلیٰ حضرت نے فتاویٰ رضویہ جلد سوم میں بھی قریب قریب ایسا ہی فرمایا ہے لیکن انہوں نے مریض کا بھی ذکر فرمایا ہے کہ بلند آواز سے ذکر کرنے میں اگر مریض کے آرام میں خلل آتا ہے تو  ذکر جہر ممنوع ہے۔لہذا جب فجر طلوع ہوجائے تب لاؤڈ اسپیکر پر در ود شریف بلند آواز سے  پڑھ سکتے ہیں۔لیکن فجر سے پہلے نہ پڑھیں۔(مورخہ 22 اکتوبر 1978ء)
ہم اہل سنت والجماعت کو نئی بات  رائج کرنا اس لیے بھی زیب نہیں دیتا کہ ہم امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ  کے مقلد ہیں۔فقہ حنفی میں اذان سے قبل صلوۃ وغیرہ ثابت نہیں ہے۔تو اب یہ غیر مقلد انہ عمل کرنا دراصل ثابت کرتا ہے کہ امام اعظم  رحمۃ اللہ علیہ  اور صحابہ کرام( رضوان اللہ عنھم اجمعین ) عشق کی اس منزل سے آشنا نہ تھے جس سے آج کاجاہل عاشق سرشار ہے۔(نعوذباللہ) (برایں عقل ودانش بباید گریست)[5]


[1] ۔ان دونوں لفظوں کااستعمال درست نہیں ہے۔کیونکہ قبلہ عالم صرف ایک ہی ہے وہ ہے بیت اللہ شریف مکہ مکرمہ،لہذا عموماً جو لوگ لکھ دیتے ہیں قبلہ والد صاحب قبلہ استاد صاحب،قبلہ پیر،قبلہ مولانا ،انہیں اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔اور گنج بخش صرف اللہ کی صفت ہی ہوسکتی ہے ،کسی دوسرے کو اس سے منصف قرار دینا ناجائز ہے۔
[2] ۔جائز بھی نہیں کیونکہ یہاں جس حدیث کی طرف اشارہ کیاگیا ہے:

مَا رَآهُ الْمُسْلِمُونَ حَسَنًا فَهُوَ عِنْدَ اللَّهِ حَسَنٌ کہ جسے مسلمان  اچھا سمجھیں وہ اچھا ہے۔یہاں مسلمانوں سے مراد صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  ہیں نہ کہ ہرکس وناکس۔اگر اسے ہر کس وناکس کے لیے عام مان لیا جائے تو پھر تمام بدعات حتیٰ کہ شرکیہ اُمور بھی جائز قرار پائیں گے جو کہ بلا شبہ غلط ہے۔
[3] ۔تثویب سے مراد اذان فجر میں"الصلواۃ خیر من النوم" کہنا ہے نہ کہ اذان کے بعدصلواۃ وسلام پڑھنا۔
[4] ۔اذان سے قبل صلوۃ  تسمیہ ،تعوذ شائع کردہ مرکز سواد اعظم اہل سنت والجماعت آستانہ عالی چشتیہ صابریہ دارالحق،ٹاؤن شپ سکیم لاہور۔اصل پمفلٹ بھی ہمارے  پاس محفوظ ہے جسے بوقت ضرورت ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔
[5] ۔حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ  نے فتح  الباری میں لکھا ہے ،فجر کی نماز سے پہلے اور جمعہ کی نماز سے پہلے اذان(یا متصل بعد یا جماعت سے پہلے) اور اذان سے پہلے صلوۃ وسلام پڑھنا لغت وشرع کسی اعتبار سے بھی اذان کا حصہ نہیں۔۔۔اور ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ  نے فتاویٰ کبریٰ میں لکھاہےاذان کے بعد جو بلند آواز سے صلواۃ وسلام   پڑھا جاتا ہے۔یہ کیفیت بھی بدعت ہے ۔اور مفتی مصر شیخ محمد عبدہ نے بھی ان(صلوۃ وسلام) کو اذان کا حصہ  بناکر پڑھنے کو بدعت قرار دیا ہے جو کہ محض تلحین(راگ  گانے والوں) کے شوق کی پیداوار ہے۔(فقہ السنۃ:1/122)