إِنَّ هَـٰذَا لَهُوَ حَقُّ الْيَقِينِ

سوال۔شیخ الاسلام ابو العباس امام احمد بن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  سے پوچھا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے جو(قرآن شریف میں مختلف جگہوں پر) حَقُّ الْيَقِينِ ،  عَيْنَ الْيَقِينِ  ،اور عِلْمَ الْيَقِينِ کے تین مقام  بیان فرمائے ہیں ان میں سے ہر مقام کےکیا معنی ہیں؟ اور کون سا مقام ان سب میں اعلیٰ ہے؟
جواب۔حضرت امام موصوف  رحمۃ اللہ علیہ  نے یوں جواب دیا:الحمد للہ رب العالمین، حَقُّ الْيَقِينِ،  عَيْنَ الْيَقِينِ ، عِلْمَ الْيَقِينِ کی تفسیر میں لوگوں نے مختلف باتیں کہیں ہیں،ان میں ایک قول یہ ہے کہ:
عِلْمَ الْيَقِينِ علم کے اس درجہ کا نام ہے جو کسی شخص کو کسی بات کے سننے،کسی دوسرے شخص کے بتلانے اور کسی بات میں غور اور قیاس کرنے سے حاصل ہو،پھر جب وہ اس چیز کا آنکھوں سے مشاہدہ اور معائنہ کرے  گا تو اسے عَيْنَ الْيَقِينِ حاصل ہوجائے گا۔اور جب دیکھنے کے بعد اسے چھوئے گا،اسے محسوس کرے گا،اسے چکھے گا اور اس کی حقیقت کو پہچان لے گا تو اسے حَقُّ الْيَقِينِ حاصل ہوجائے گا۔
پہلے درجہ علم کی مثال یہ ہے کہ ایک شخص کو کسی نے خبردی کہ فلاں جگہ شہد ہے تو اس نے خالی اس کی تصدیق،یا مکھیوں کاچھتا اور اسی قسم کے اور نشان کو دیکھا تو نتیجہ نکال لیا کہ وہاں شہد ہوگا۔دوسرا درجہ یہ ہے کہ شہد والے چھتے کو دیکھ لےاور اس قسم کا مشاہدہ اور معائنہ کرلے۔یہ مقام پہلے سے اعلیٰ ہے جیسا کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: ليس المخبر كالمعاين یعنی" جو شخص صرف کان سے سن لے ،وہ اس کے برابر نہیں ہوسکتا جو آنکھ سے بھی دیکھ لے"۔تیسرے درجہ کی مثال یہ ہے کہ ایک شخص نے شہد  کو چکھ لیا اور اس کے مزہ وار شیرینی کو محسوس کیا۔یہ بات تو سب کو معلوم ہے کہ یہ د رجہ اپنے سے پہلے درجہ یعنی عَيْنَ الْيَقِينِ سے بڑھ کر ہے۔اسی لیے اہل معرفت جب حَقُّ الْيَقِينِ کا لفظ بولتے ہیں تو اس شوق اور وجد کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو انہیں حاصل ہوتا ہے۔چنانچہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے حدیث صحیح میں  فرمایا:
"عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ ، وَجَدَ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ ؛ أَنْ يَكُونَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا ، وَأَنْ يُحِبَّ الْمَرْءَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ ، وَأَنْ يَكْرَهَ أَنْ يَعُودَ فِي الْكُفْرِ كَمَا يَكْرَهُ أَنْ يُقْذَفَ فِي النَّارِ ."
(متفق علیه)
"جس شخص میں تین چیزیں ہوں اس نے ایمان کی حلاوت پالی:وہ شخص جو اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کو باقی تمام چیزوں سے بڑھ کر دوست رکھتا ہے۔۔۔وہ شخص جس کسی شخص سےصرف اللہ کی خاطر دوستی رکھے ۔۔اور تیسرا وہ شخص جسے اللہ نے کفر سے نکال لیا اوروہ کفر میں لوٹ جانے کو ایسا بُرا جانتا ہو جس طرح آگ میں ڈال دیئے جانے کو" نیز  فرمایا:
"ذَاقَ طَعْمَ الإيمانِ : مَنْ رَضِيَ بالله ربًّا، وبالإسلام دينًا، وبمحمَّدٍ رَسُولاً"
"اس شخص نے ایمان کامزہ پالیا جو اللہ تعالیٰ کے رب ہونے،اسلام کے دین برحق ہونے اور محمد  صلی اللہ علیہ وسلم  کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  ہونے پر راضی ہوا"(رواہ مسلم ۔مشکواۃ:کتاب الایمان ،رقم8)
وجد اور ذوق کے تین درجے:۔
اہل ایمان کو جو ایمان کی شیرینی اورمزہ حاصل ہوتا ہے ،اس میں لوگوں کے تین درجے ہیں۔پہلا درجہ یہ ہے کہ کسی شخص کو صرف اتنا ہی معلوم ہو کہ ذوق اور وجد کوئی چیز ہے مثلاً اسے شیخ نے بتلایا کہ ذوق ایک درجے کا نام ہے تواس نے اسے سچ سمجھا،یا اہل معرفت نے اپنے متعلق جو باتیں  کہی ہیں وہ ان تک  پہنچ گیا،یا ان کے احوال کی نشانیاں،مثلاً ایسی کرامات دیکھیں جو ذوق پردلالت کرتی ہیں ۔دوسرا درجہ اس شخص کا ہے جس نے اس ذوق کا مشاہدہ اور معائنہ بھی کرلیا۔مثلا ً اہل معرفت  اور اہل صدق ویقین کے ایسے احوال کا مشاہدہ کیا جس سے معلوم ہو اکہ یہ لوگ ارباب وجد وذوق ہیں۔تواگرچہ اس شخص نے در حقیقت اس حالت کو نہیں پایا تاہم ایسی چیز کو تو دیکھ لیا جو اس حالت پر دلالت کرتی ہے اور یہ شخص بہ نسبت اس شخص کے حقیقت سے زیادہ قریب ہے جس نے اسے دیکھا نہیں۔بلکہ اس کے متعلق محض خبر حاصل کی ہے۔اور اہل معرفت کی کرامتیں دیکھ کر اس کے وجود کی دلیل  پکڑی ہے۔تیسرادرجہ یہ ہے کہ جس ذوق اور وجد کو اس نے دوسروں سے سنا ہے،اسے اپنے نفس میں بھی پایا ہو۔چنانچہ ایک بزرگ کا مقولہ ہے۔"مجھ پر ایسی حالت طاری ہوئی کہ فرط ذوق ووجد میں کہہ رہا تھا کہ اگر اہل جنت کو جنت میں ایسی حالت  نصیب ہوجائے  تو یقیناً وہ اعلیٰ قسم کے عیش میں ہوں گے"
ایک اور بزرگ فرماتے ہیں:"بعض اوقات دل  پر ایسے احوال طاری ہوتے ہیں کہ مارے خوشی کے وہ رقص کرنے لگ جاتاہے"
اسی طرح ایک اور صاحب ذوق کامقولہ ہے؛"رات کو جاگنے والے جاگنے میں وہ لذت حاصل کرتے ہیں کہ لہوولعب میں مشغول ہونے والوں کو لہو ولعب میں نصیب نہیں ہوسکتی"
اسی طرح آخرت کے متعلق جن اُمور کی خبر دی گئی ہے ،اس میں بھی لوگوں کے تین درجے ہیں پہلا درجہ یہ ہے کہ ان باتوں کاخالی علم ہی ہو،جو انبیاء علیہ السلام   کے خبر دینے،یا ان دلائل سامنے آجانے سےحاصل ہوا ہو جو امور آخرت کا عقلی ثبوت ہیں۔دوسرا درجہ علم اس وقت حاصل ہوگا جب لوگ ثواب اور عذاب،بہشت اور دوزخ کو دیکھ لیں گے جن کا نہیں وعدہ دیا جاتا تھا۔اور تیسرا درجہ علم اس وقت حاصل ہوگا جب اس ثواب وعذاب کواپنے جسم پر محسوس کریں گے۔یعنی بہشتی بہشت میں داخل ہوکر اور دوزخی دوزخ میں جاکر اس چیز کاذائقہ حاصل کریں گے جس کا انہیں وعدہ دیاجاتا تھا۔
الغرض ہر چیز میں خواہ و دلوں کے اندر ہو یادلوں سے باہر پائی جاتی ہو۔لوگوں کے یہ تین درجے ہیں۔علی ہذا القیاس اُموردنیا میں بھی،ایک شخص کو خبر ملتی ہے کہ عشق اس چیز کا نام ہے اور نکاح اس کو کہتے ہیں،لیکن نہ اس نے اسے دیکھا اور نہ اس کی لذت کو محسوس کیا تو اسے صرف اس کا علم ہی حاصل ہے۔پھراگر اس کا مشاہدہ کرلیا لیکن لذت حاصل نہ کی تو اسے اس کا معائنہ حاصل ہوگیا اور اگر بنفسہ اس کا مزہ چکھ لیا تو اسے اس بات کا ذوق اور تجربہ حاصل ہوگیا۔اور جس شخص کو کسی چیز کا ذوق نہیں،اسے اس حقیقت کی معرفت بھی نہیں کیونکہ الفاظ کے ذریعہ سے کسی چیز کی صرف مثال دی جاسکتی ہے اور اسے ذہن کے قریب کیا جاسکتاہے۔باقی رہی اس کی شناخت کلی،تو وہ محض الفاظ کے ذریعہ کسی کو حاصل نہیں ہوسکتی،سوائے اس شخص کے جو پہلے اس چیز کو محسوس کرچکا ہو، جس کی تعبیر بیان ہورہی ہے اور اس کی اچھی طرح شناخت اور تجربہ کرچکا ہو۔ایسے لوگوں کو اہل معرفت اسی لیے کہا جاتا ہے کہ دوسروں کو جس چیز کا علم کسی کے خبر دینے یا خود غور کرنے سے حاصل ہوا ہے انہوں نے اس کی حقیقت کو  ذاتی تجربے اور ذوق سے پہچان لیا۔
حلاوت ایمان:۔
صحیح حدیث میں ہے کہ ہر قل شاہ روم نے ابو سفیان بن حرب سے  رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کے بارے میں کئی ایک باتیں دریافت کی تھیں،ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ"جب کوئی شخص دین اسلام   میں داخل ہوجاتا ہے تو کیا اس سے متنفر ہوکر لوٹ بھی جاتا ہے؟"ابو سفیان نے جواب دیا:"نہیں،۔۔۔اس پر ہرقل نے کہا:
"وكذلك الإيمان حين تخالط بشاشته القلوب لا يسخطه أحد."
"واقعی ایمان کی شیرینی ایسی ہے کہ جب اس کی تازگی دلوں میں سرایت کرجاتی ہے تو کوئی بھی شخص اس سے نفرت نہیں کرتا"(البخاری)
الغرض ایمان جب دل میں رچ جائے اور اس کی  تازگی اس میں سرایت کرجائے تو وہ اس  سے کبھی نفرت نہیں کرتا بلکہ اسے پسند کرتاہے۔کیونکہ دل میں ایمان کی اس قدر شیرینی،لذت ،سرور اور شادمانی ہوتی ہے کہ جس نے اسے محسوس نہیں کیا،اس کے سامنے اس کی تعبیر ناممکن ہے۔
لوگ ذوق ایمان کے مدارج میں ایک دوسرے سے کم وبیش ہیں۔دل میں جو  فرحت اور سرور پیدا ہوتا ہے۔ اس سے ایک قسم کی شگفتگی اور طاعات پر آمادگی اور دل میں ٹھنڈک پیدا ہوتی ہے۔جو اس ذوق کے مقدار کے موافق ہوتی ہے۔اور جب یہ چیز دل میں اچھی طرح رچ جائے تو دل اس سے کبھی بیزار نہیں ہوتا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"قُلْ بِفَضْلِ اللَّـهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوا هُوَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُونَ"(یونس:58)
"آپ کہہ دیجئے کہ بس لوگوں کو اللہ کے اس انعام اور رحمت پر خوش ہونا چاہئے۔ وه اس سے بدرجہا بہتر ہے جس کو وه جمع کر رہے ہیں "
 "وَالَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَفْرَحُونَ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ ۖ وَمِنَ الْأَحْزَابِ مَن يُنكِرُ بَعْضَهُ ۚ"(الرعد:36)
 "جنہیں ہم نے کتاب دی ہے وه تو جو کچھ آپ پر اتارا جاتا ہے اس سے خوش ہوتے ہیں اور دوسرے فرقے اس کی بعض باتوں کے منکر ہیں۔ "
"وَإِذَا مَا أُنزِلَتْ سُورَةٌ فَمِنْهُم مَّن يَقُولُ أَيُّكُمْ زَادَتْهُ هَـٰذِهِ إِيمَانًا ۚ فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا فَزَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَهُمْ يَسْتَبْشِرُونَ "(توبه :124)
"اور جب کوئی سورت نازل کی جاتی ہے تو بعض منافقین کہتے ہیں کہ اس سورت نے تم میں سے کس کے ایمان کو زیاده کیا ہے، سو جو لوگ ایمان والے ہیں اس سورت نے ان کے ایمان کو زیاده کیا ہے اور وه خوش ہورہے ہیں"
آخری آیت میں جو اللہ تعالیٰ نے بتلایا کہ اہل ایمان قرآن کی سورت کے نازل ہونے سے مستبشر ہوتے ہیں تو استبشار سے مراد  فرحت اور سرور ہے اور یہ فرحت اس لیے ہے کہ وہ  اپنے دلوں میں قرآن کے اُترنے سے ایمان کی حلاوت،لذت اور بشاشت محسوس کرتے ہیں۔لذت ہمیشہ محبت کے بعد پیدا ہوتی ہے۔جب کوئی کسی چیز سے محبت رکھتاہے  پھر اسے پالیتا ہے تو اسے اس کی لذت بھی حاصل ہوتی ہے۔
پس ذوق پسندیدہ چیز کو پالینے کا نام ہے۔لذت ظاہری کی مثال یوں سمجھنی چاہیے کہ انسان کی پہلے یہ حالت ہوتی ہے کہ کھانے کی اشتہا رکھتا ہے۔اس وقت اسے کھانے کی محبت ہوتی ہے  جب اسے چکھتا اور تناول کرتا ہے تو اس کی لذت اور حلاوت محسوس کرتاہے۔نکاح اور اسی قسم کی اور چیزوں کی لذت بھی ایسی ہے۔
اللہ کی محبت:۔
خلقت میں کوئی محبت اتنی بڑی،اتنی کامل اور اتم نہیں ہے جس قدر اہل ایمان کو اپنے رب سےہوتی ہے۔تمام کائنات میں کوئی چیز سوائے اللہ تعالیٰ کے ایسی نہیں ہے جسے بلاواسطہ کسی دوسری چیز کے محض اس کی ا پنی ذات کی خاطر،ہرحیثیت سے دوست رکھا جائے۔اللہ کے سوا جس سے بھی محبت کی جائےگی اس کی محبت اللہ کی محبت کے رشتہ سے ہوگی۔کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم  سے بھی محبت کی جاتی ہے تو اللہ کی خاطر۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی اطاعت کی جاتی ہے تو اللہ کے لیے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی اتباع کی جاتی ہے تو اللہ کے لیے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّـهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّـهُ "(آل عمران:31)
"کہہ دیجئے! اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو، خود اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا"
ایک حدیث میں ہے:
"أَحِبُّوا اللَّهَ لِمَا يَغْذُوكُمْ بِهِ مِنْ نِعَمِهِ ، وَأَحِبُّونِي لِحُبِّ اللَّهِ ، وَأَحِبُّواأهل بيتي لحبي "
"اللہ سے دوستی رکھو اس لیے کہ وہ تمھیں اپنی نعمتیں بخشتا ہے اور مجھ سے محبت رکھو اللہ کی محبت کی خاطر اور میرے اہل  بیت سے دوستی رکھو میری محبت کے رشتہ سے"(جامع ترمذی:3879)
اللہ تعالیٰ نے  فرمایا:
قُلْ إِن كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُم مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّىٰ يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ ۗ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ (سورة التوبه:24)
"(اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ! انہیں) کہہ دو کہ اگر تمہارے باپ اورتمہارے بیٹے اور تمہارے  بھائی اور  تمہاری بیویاں اور تمہارے کنبے دار اور مال جو تم نے کمائے ہیں اور سوداگری جس کے مندا پڑجانے کا تم کواندیشہ ہو اور مکانات جن(میں رہنے) کو تمہارا جی چاہتا ہے(اگر یہ چیزیں)اللہ اور اس کے رسول( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور اللہ  کے رستے میں جہاد کرنے سے تم کو زیادہ عزیز ہوں تو(ذرا) صبر کرو یہاں تک کہ جو کچھ خدا کو کرنا ہے وہ(تمہارے سامنے) لاموجود کرے اور اللہ ان لوگوں کو جو(اس کے حکم سے) سرتابی کریں،ہدایت نہیں دیاکرتا"
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:
"لا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَلَدِهِ وَوَالِدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ "
"تم میں سے کوئی بھی ایماندار نہیں ہوسکتا جب تک اپنی اولاد،اپنے باپ اورتمام لوگوں سے زیادہ میرے ساتھ محبت نہ رکھے"(متفق علیہ)
ترمذی وغیرہ کی حدیث میں آیاہے:
"مَنْ أَحَبَّ فِي اللَّهِ وَأَبْغَضَ فِي اللَّهِ وَأَعْطَى لِلَّهِ وَمَنَعَ لِلَّهِ فقد استكمل الإيمان"
"جو شخص اللہ ہی کی خاطر دوستی رکھے۔اللہ ہی کی خاطر دشمنی رکھے،اللہ ہی کی خاطر دے اور اللہ ہی کی خاطر  روک رکھے،اس نے اپنے ایمان کو کامل کرلیا"(ابوداود:کتابالسنہ،رقم1255)
اللہ  تعالیٰ فرماتا ہے:
"وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَتَّخِذُ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَنْدَادًا يُحِبُّونَهُمْ كَحُبِّ اللَّهِ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ"(البقرة:165)
"اور لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو اللہ کے سوا(اوروں کو بھی) شریک(خدا) ٹھہراتے (اور) جیسی محبت اللہ سے رکھنی  چاہیے ویسی محبت اُن سے رکھتے ہیں اور جو ایمان والے ہیں ان کو تو (سب سے) بڑھ کر اللہ سے محبت ہوتی ہے"
پس معلوم ہواکہ ایمان داروں کے اپنے دل میں جس قدر دوسری چیزوں کی ،بلکہ ہر محب کے دل میں جو اپنے محبوب کی محبت ہوسکتی ہے،ان سب سے بڑھ کر ان کے دل میں اللہ کی محبت ہوتی ہے۔ہم نے اس موضوع پر متعدد مقام پر  تفصیل کے ساتھ بحث کی ہے۔اس جگہ صرف یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ اہل ایمان کے جو ایمان کی لذت نصیب ہوتی ہے۔اللہ اور اس کے رسول( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی محبت کی وجہ سے حاصل ہوتی ہے۔ اور محبت کی مقدار کے موافق ۔لہذا حضور علیہ الصلواۃ والسلام نے اس  حلاوت کو محبت کے ساتھ مشروط کیا ہے ۔چنانچہ فرمایا:
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ ، وَجَدَ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ ؛ أَنْ يَكُونَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا ، وَأَنْ يُحِبَّ الْمَرْءَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ ، وَأَنْ يَكْرَهَ أَنْ يَعُودَ فِي الْكُفْرِ كَمَا يَكْرَهُ أَنْ يُقْذَفَ فِي النَّارِ .
(البخاری:رقم16)
"تین چیزیں جس شخص میں ہوں وہ ایمان کی حلاوت پالیتا ہے:(1) اللہ اور اس کے رسول( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی محبت باقی چیزوں سے بڑھ کر ہو،(2) کسی شخص کو صرف اللہ کی خاطر دوست رکھے اور(3) مسلمان ہونے کے بعد کفر میں لوٹ جانے کو ایسا برا سمجھے جیسا آگ میں ڈال دیئے جانے کو"
توحید اوراخلاص:۔
جس طرح ہر چیز کی معرفت کے تین درجے ہیں،اسی طرح لوگوں کو  توحید،اخلاص،توکل اور صرف اللہ سے دعامانگنے میں جو فوائد،حاصل ہوتے ہیں،ان کے بھی تین درجے ہیں۔ ایک ایسا شخص ہے جس کو صاحب احوال سے یہ باتیں سن کر یا نشانیوں سے  نتیجہ نکال کر،اس چیز کا علم حاصل ہوتا ہے۔دوسرا وہ ہے جو ان کے احوال کا مشاہدہ اورمعائنہ کرلیتا ہے اور  تیسرا وہ ہے،جس کو اخلاص،توکل علی اللہ،اللہ سے التجاء،اللہ سے مدد چاہنے اور اللہ کے سوا تمام علائق سےکٹ کر صرف اسی کے ہورہنے کی حقیقت کا وجدان بھی نصیب ہوتاہے۔اور یہ شخص اپنے نفس پر اس بات کو آزمالیتا ہے کہ جب کبھی اس نے مخلوق کے ساتھ رشتہ جوڑا،اس سے اُمید رکھی،اس سے اس بات کی طمع کی کہ وہ نفع والی چیزیں کھینچ کر اس تک پہنچادے گی اور تکلیف کو اس سے دور کردے گی تو وہ ہمیشہ اس کی طرف سے بے مدد چھوڑا گیا اور اسے مقصود حاصل نہ ہوا۔بلکہ کبھی لوگوں کی خدمت کی اور ان کے لیے اس طمع پر مال وغیرہ بھی خرچ کیا کہ آڑے وقت میں اس کے کام آئیں گے لیکن انہوں نے کبھی اسے نفع  پہنچایا،یا تو اس وجہ سے کہ خود وہ نفع پہنچانے سےعاجز ہیں ،یا بے پروائی برت کر اس کی طرف دلی توجہ نہ کی۔آخر کار جب سچی احتیاج کے ساتھ اللہ کی طرف متوجہ ہوا،اپنی اطاعت کو صرف اللہ کے ساتھ خاص کرکے اس سے فریاد کی تو اس نے اس کی دعا کو قبول کرلیا۔اور اس کا دکھ دور کردیا۔اور اس کے لیے رحمت کے دروازے کھول دیے۔ایسا شخص  توکل اور صرف اللہ سے دعامانگنے کی حقیقت کو اس طرح پالیتا ہے جو کہ دوسرے کو نصیب نہیں ہوتی۔
علی ہذا القیاس جو شخص  فرمانبرداری کو اللہ کے ساتھ خاص کردینے اور ماسویٰ اللہ سے علیحدہ ہوکر صرف اسی کی رضا جوئی کی لذت چکھتا ہے۔وہ ایسے حالات محسوس کرتاہے۔اور ایسے نتائج اور ایسے ثمرات حاصل کرتا ہے جو اس شخص کو ہرگز نصیب نہیں  جس میں یہ خلوص وغیرہ نہ ہو۔بلکہ جو شخص ریاست اور بڑائی کاطالب ہو،خوبروؤں کے ساتھ دل لگائے اور مال کے جمع کرنے اور دیگر ہوا وہوس میں گرفتار ہو،وہ ان باتوں میں پڑکر،ایسی ایسی فکروں،غموں،پریشانیوں،دکھوں اور تنگدلی میں مبتلا ہوجاتا ہے۔جس کے لیے الفاظ نہیں بلکہ ان پریشانیوں کی وجہ سے بسا اوقات انسان کا دل خواہشات کے ترک کرنے کو بھی  مان لیتا ہے۔اگر وہ خداکی مرضی کے خلاف کسی چیز کا طالب ہے تو اسے وہ چیز حاصل نہیں ہوتی جو اسے خوش کردے بلکہ وہ برابر خوف اور پریشانی میں رہتا ہے حصول مطلوب سے پہلے اس کے ن ملنے سے پریشان اور اندوہ گین رہتا ہے اور جب اسے پالے تو اس کے فنا یا جداہوجانے سے خائف رہتا ہے۔
لیکن جو اللہ سے دوستی لگاتے ہیں ،وہ خوف اور پریشانی سے محفوظ رہتے ہیں۔جب یہ یا اس کی مثل اور شخص اللہ کی خالص فرمانبرداری،عبادت،اس کے ذکر اور مناجات اور اس کی کتاب یعنی قرآن پاک کے فہم کی لذت پاتا ہے اور خدا کے آگے سرتسلیم خم کرتاہے۔اور بایں طور نیکوکار بن جاتا ہے کہ اس کے تمام اعمال صالح لوجہ اللہ ہوتے ہیں تو وہ ایسا سرور اور فرحت  پاتا ہے جو دعا اور توکل کرنے والے کو بھی نصیب نہیں،کیونکہ وہ اپنی د عا اور توکل کے ذ ریعے ایک چیز حاصل کرلیتاہے۔جو دنیا میں سبب منفعت ہوتی ہے یاکوئی دنیا کادکھ اس سے ہٹ جاتا ہے۔جیسا دنیا کا فائدہ اور نقصان تھوڑا،ویسا ہی حصول  فائدہ اور دفع ضرر کی حلاوت بھی ناپائیدار(اور جس کی تمام خواہشات مرضیات باری تعالیٰ میں جذب ہوجائیں تو جیسی یہ ایک غیر قانونی چیز ہے ویسا ہی اس کا سرور بھی غیر قانونی) اور ظاہر ہے کہ دل کے لیے توحید اور خالص عبادت خداوندی سے نافع  تر اور شرک سے بڑھ کر مضرت  رساں کوئی چیز نہیں۔پس جب انسان نے اخلاص کو پالیا۔جو دراصلإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کی حقیقت ہے۔تو اس نے گویا وہ چیز حاصل کرلی جس کے حصول سے وہ تمام لوگ قاصر رہے جنھوں نے چھوٹی چھوٹی چیزیں تو حاصل کرلیں لیکن اس مقام تک نہ پہنچے۔واللہ اعلم۔والحمدللہ رب العالمین وصلوته علی اشرف المرسلین!!
(ماخوذ از فتاویٰ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  الحرانی"ج10،ص642تا652،کتاب علم السلوک)