ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

آن لائن مطالعہ
  • نومبر
2000
عطاء اللہ صدیقی
اکیسویں صدی کے آغاز میں امت مسلمہ مختلف النوع مسائل کاشکار ہے۔مسلمان دانشوروں پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ صرف ان مسائل کا معروضی اور حقیقت پسندانہ جائزہ لیں بلکہ نشاۃ ثانیہ کی جدو جہد میں امت مسلمہ کودرپیش چیلنجزکا سامناکرنےکے لیے مؤثر عقلی فکری اور عملی قیادت کا اہم فریضہ بھی انجام دیں۔ملت اسلامیہ کو اس وقت جن چیلنجزکاسامنا ہے ان میں سے نمایاں ترین کا خلاصہ درج ذیل ہے۔
1۔دوسری جنگ عظیم کے بعد بیشترمسلمان ملکوں کو یورپ کی سیاسی استعماریت سے توآزادی ملی مگراس سیاسی غلامی سے نجات پانے کے باوجود ابھی تک مغرب کی فکری محکوی کا طوق اتارپھینکنےمیں کامیاب نہیں ہوئے ،اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یورپی استعمارنے جانے جاتے ایک بات کو یقینی بنایا کہ آزاد کردہ مسلمان ملکوں میں اقتداراس طبقہ کے حوالے کر گئےجو مغربی تہذیب کے پروردہ اور ستارتھے انھوں نے ان ملکوں میں قرآن و سنت کے نفاذ کی بجائے نو آبادیاتی قوانین کو جاری رکھا ۔وہ جس نظام تعلیم کی خود پیداوار تھے اسی کو انھوں نے جو ں کا توں برقراررکھتے ہوئے مسلمانوں کی نئی نسل کی ذہن کوسازی مغربی سانچوں کے مطابق کی، ان مسلم ممالک کا برسر اقتدار طبقہ اگر چہ نسلی طور پر تو مسلمان ہی تھا مگر ان کی فکر سیکولر(لادینی )تھی۔
  • نومبر
2000
صفی الرحمن مبارک پوری
برصغیر(پاک وہند) کی ملت اسلامیہ کی بدقسمتی یا آزمائش کہہ لیجئے کہ یہ پورا خطہ پرسوز طرح طرح کے دینی  فتنوں کی آماجگاہ ہے اور یہاں خودمسلمان کے اندرسے اسلام دشمن فتنے جنم لیتے رہتے ہیں۔کوئی صدی  بھر سے ر سول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی احادیث کو دین سے بے دخل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور اس سلسلے میں تشکیک کے نت نئے پہلو سامنےآتے رہتے ہیں۔کچھ دنوں سے یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ قبر کےعذاب وثواب کاعقیدہ غلط اور قرآن کے خلاف ہے۔
پیش نظر کتابچہ میں اسی خیال کا جائزہ لیتے ہوئے یہ واضح کیا گیا ہے کہ یہ عقیدہ حدیث ہی کی طرح قرآن سے ثابت ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ اس عقیدہ کو نہ ماننے والے حدیث کے تو منکر ہیں ہی،قرآن کے بھی منکر ہیں۔یعنی ایسے لوگ نہ قرآن کو سمجھتے ہیں اور نہ اس پر ایمان رکھتے ہیں۔پہلے یہ بات ذہن نشین کرلیجے کہ عذاب وثواب قبر کامطلب ہے :مردے کو برزخ میں(موت کے بعد) اورقیامت سے  پہلے کی مدت میں عذاب یاثواب ملنا۔اتنی سی بات ذہن میں رکھ کر قرآن مجید سے اس کا ثبوت سنیے:
  • نومبر
2000
حافظ ثناء اللہ مدنی
سوال۔رضاعی ماں اور اس کے شوہر کوامی /ابو کہنا،بچے کو صحیح صورتحال سےمطلع کرنا۔
سوال۔2۔سالہا سال تک بیوی سے دور رہنے اور اطلاع /نفقہ وغیرہ نہ دینے والا شوہر۔
سوال۔رضیہ بیگم نے اپنے شوہر اقبال احمد کی ہمشیرہ زہرہ بیگم کو اپنا چار ماہ کا بیٹا اللہ واسطے سے کر یہ کہا کہ آج سے یہ آپ کابیٹا ہے۔اقبال احمد نے اپنی بیوی رضیہ بیگم سے کہا کہ اگرزندگی میں کبھی بھی تم نے اس کی واپسی کامطالبہ کیا تو میں تمھیں طلاق دے دوں گا۔زہرہ بیگم نے اس بچے کو بیس یا بائیس دن باقاعدہ اپنا دودھ پلایا،اس کے بعد وہ کبھی زہرہ بیگم کا دودھ  پیتا تھا اور کبھی نہیں۔زیادہ تر بازاری دودھ ہی پیتا رہا۔
اس بچے جاوید اقبال سے پہلے بھی زہرہ بیگم کی ایک بیٹی تھی جس کی عمر اس وقت دس سال تھی۔جاوید اقبا ل کے بعداللہ تعالیٰ نے زہرہ بیگم کو  دوراور بیٹے بھی عطا کردیے۔اب جاوید اقبال اپنے باقی بہن بھائیوں کی طرح اپنے حقیقی ماں باپ کو مامی اور ماموں کہہ کر بلاتاہے۔آج تک جاوید اقبال اور اس کے دو چھوٹے بھائیوں کو یہ معلوم نہیں ہے کہ جنھیں ہم ماموں اور مامی کہتے ہیں،وہ جاوید اقبال کے حقیقی ماں باپ ہیں۔باقی تمام خاندان کو بچوں سمیت یہ معلوم ہے
  • نومبر
2000
منیر قمر
بریلوی مکتب  فکرکی مساجد میں عموماً 3/اوقات ایسے ہیں جن میں پڑھے جانے والے درود کو سپیکری درود کہا جاسکتا ہے:
1۔نماز جمعہ کے بعد کھڑے ہوکر،اجتماعی شکل میں اور باآواز بلند،راگ لگا کر درود شریف پڑھا جاتا ہے ۔
2۔فرض نمازوں سے فارغ ہونے کے بعد بھی مل کر اجتماعی طور پر،راگ لگا کر درود پڑھتے ہیں۔
3۔اسی طرح مؤذن جب اذان دینے لگتا ہے تو وہ بھی اپنا گلا درود شریف کے راگ سے ہی صاف کرتے ہیں۔
ان سب کےلیے باقاعدہ لاؤڈ اسپیکر استعمال کیے جاتے ہیں اور جب تک لاؤڈ سپیکر  رائج نہیں ہوئے تھے۔درودشریف کے ان اوقات ومواقع کا بھی کہیں ذکر نہیں تھا۔اسی لیے ان مواقع پرپڑھے جانے والے درودشریف کو سپیکری درود کہاجاتاہے اور ان کاسنت نبوی سے کہیں  پتہ نہیں چلتا۔
  • نومبر
2000
ظفر اللہ خان
اسلام اور مغرب

اہل مغرب اپنے سیکولر،روشن خیال،جمہوری معاشرے کے مقابلے میں اسلامی معاشرے کو پسماندہ اور غیر انسانی سمجھتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ یہ خیال سراسر غلط فہمی پر مبنی ہے۔اسلام صرف ایک مذہب نہیں،بلکہ ایک تہذیب ہے اور رحم دل تہذیب ہے یہ صحیح ہے کہ بعض  پہلوؤں سے اسلامی معاشرے مغربی معاشرے سے چند دہائیاں  پیچھے ہیں لیکن ترقی کی جو شاہراہ مغرب نے اختیار کی ہے وہ بھی سارے انسانی مسائل کا حل  پیش نہیں کرسکتی۔اصل سوال یہ ہے  کہ ایسا کون ساراستہ ہے جو بدترین نتائج کے بغیر عام انسان کو اعلیٰ زندگی دے سکتا ہے؟اس ضمن میں اسلامی اقدار پر سنجیدہ توجہ کی ضرورت ہے۔
مغربی معاشرہ میں بھی اقدار مستقل نہیں ہیں بلکہ تیزی سے بدل رہی ہیں۔مثال کے طور 1960ء سے پہلے ہم جنس پرستی غیرقانونی تھی اب اس کی اجازت ہے۔اسی طرح یورپ میں سزائے موت ختم کردی گئی ہے جبکہ امریکہ میں اس کا دائرہ وسیع ہورہاہے لیکن جلد ہی امریکہ میں بھی اسے حقوق انسانی کے خلاف قرار دے دیا جائے گا۔
  • نومبر
2000
شیخ عبد اللہ جبرین
اللہ تعالیٰ نے وہ شریعت نازل فرمائی اور وہ حدود مقرر کی ہیں جن میں انسان کے لیے دنیا و آخرت کی سعادتیں  پنہاں ہیں۔اللہ کی حدود پابندی کرنے اور ان سے تجاوز نہ کرنے ہی میں انسان کی فضیلت وطہارت،پاکبازی وپاکدامنی ،نفس انسانی کی عالی منصبی ،ذلیل ورذیل افعال سے بالامقام نیز برائیوں،فتنہ وفساد وبگاڑ اور گناہوں سے اجتناب کے امکانات پائے جاتے ہیں چنانچہ ارشاد الٰہی ہے:
﴿إِنَّما يُريدُ اللَّـهُ لِيُذهِبَ عَنكُمُ الرِّجسَ أَهلَ البَيتِ وَيُطَهِّرَكُم تَطهيرًا ﴿٣٣﴾...الأحزاب
"بے شک اے اہل بیت!اللہ تم سے تمام غلاظتیں دور کرکے تمھیں خوب پاک صاف کردینا چاہتا ہے"
زیر نظر رسالہ میں کچھ ایسی خلاف ورزیوں کا تذکرہ کیا گیا ہے جو عموماً خواتین سے صادر ہوتی ہیں۔اسلامی معاشرے میں عورت کا چونکہ بڑا مقام ومرتبہ ہے۔اور ہم اپنی اسلامی بہن کو ان خلاف ورزیوں سے بچانا چاہتے ہیں لہذا ہم نے مناسب سمجھا کہ یہاں ان میں سے خاص خاص امور پر تنبیہ کردی جائے تاکہ وہ ان سے بچ جائیں اور جو ان میں واقع ہوچکی ہیں۔ ان سے باز آجائیں اور اللہ سے توبہ تائب ہوجائیں اور  پھر وہ اپنی دوسری بہنوں کو ان سے بچانے کی کوششوں میں لگ جائیں اور جہاں کہیں ان کا ظہور دیکھیں ،ان کی تردید کریں۔اللہ ہماری نیتوں اور اعمال کی اصلاح فرمائے۔آمین!
  • نومبر
2000
محمد جابر حسین
مقدمہ از شیخ بکر بن عبد اللہ ابو زید حفظہ اللہ :۔
حمد وثنا کے بعد۔۔۔ٹیلی فون کے آداب کے بارے میں ہم کچھ عرض کرنا چاہتے ہیں اس لیے کہ شریعت مطہرہ نے ہمارے لیے میل جول ملاقات اور ایک دوسرے سے ملاقات اور ہم کلام ہونے کے آداب کسی کے پاس آنے جانے اور کسی کے گھر میں داخل ہونے کے آداب بھی بیان فرمائے ہیں ٹیلی فون بھی چونکہ ملاقات کی ایک صورت ہے اسی پر قیاس کرتے ہوئے ہم ٹیلیفون کے آداب بیان کریں گے کیونکہ اگر مذکورہ کاموں یعنی کسی سے ہم کلام ہوتے وقت کسی کی زیارت کے لیے آتے جاتے وقت کسی سے بات چیت اور ملاقات  کرتے وقت ہم شرعی آداب کو اپنائیں اور شرعی طریقہ ملحوظ خاطر رکھیں گے تو اس سے معاشرہ میں باہمی بھائی چارے اور امن و سکون کو فروغ ملے گا۔ایسے مواقع پر اسلامی آداب کو اپنانا انسان کے اخلاق کوبلند و بالااور اعلیٰ کردیتا ہے اخلاق عالیہ حامل انسان تب ہی ہوگا کہ ان عمدہ خوبیوں کو اپنا یا جائے جن کی اسلام نے رہنمائی کی ہے۔بات چیت میں لطف و شائستگی تب ہی آئے گی اگر ہماراطرز تکلم بھی نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  جیسا ہوجائے اور آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے بتائے ہوئے احکامات کے مطابق ہو کیونکہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:"نرمی جس چیز میں بھی آئے گی اسے مزین کردے گی اور جس چیز سے نرمی ولچک ختم ہو گی۔وہ عیب دار بن جائے گی۔"اور آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:"جو لطف و شفقت سے محروم کردیا گیا وہ بہت بڑی بھلائی سے محروم کر دیا گیا" بہر حال ٹیلیفون کے آداب کال کرنے والے اور جس کو کال کی جارہی ہے ان دونوں کے لیے ہیں لیکن کال کرنے والے پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کیونہ وہ آغاز کرتا ہے اور غرض مند ہوتا ہے۔
  • نومبر
2000
ادارہ
سوال۔شیخ الاسلام ابو العباس امام احمد بن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  سے پوچھا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے جو(قرآن شریف میں مختلف جگہوں پر) حَقُّ الْيَقِينِ ،  عَيْنَ الْيَقِينِ  ،اور عِلْمَ الْيَقِينِ کے تین مقام  بیان فرمائے ہیں ان میں سے ہر مقام کےکیا معنی ہیں؟ اور کون سا مقام ان سب میں اعلیٰ ہے؟
جواب۔حضرت امام موصوف  رحمۃ اللہ علیہ  نے یوں جواب دیا:الحمد للہ رب العالمین، حَقُّ الْيَقِينِ،  عَيْنَ الْيَقِينِ ، عِلْمَ الْيَقِينِ کی تفسیر میں لوگوں نے مختلف باتیں کہیں ہیں،ان میں ایک قول یہ ہے کہ:
عِلْمَ الْيَقِينِ علم کے اس درجہ کا نام ہے جو کسی شخص کو کسی بات کے سننے،کسی دوسرے شخص کے بتلانے اور کسی بات میں غور اور قیاس کرنے سے حاصل ہو،پھر جب وہ اس چیز کا آنکھوں سے مشاہدہ اور معائنہ کرے  گا تو اسے عَيْنَ الْيَقِينِ حاصل ہوجائے گا۔اور جب دیکھنے کے بعد اسے چھوئے گا،اسے محسوس کرے گا،اسے چکھے گا اور اس کی حقیقت کو پہچان لے گا تو اسے حَقُّ الْيَقِينِ حاصل ہوجائے گا۔
  • نومبر
2000
عبدالعزیز حنیف
اہم معاشرتی برائی کے سد باب کی ایک جھلک

معاشرتی برائیوں میں سے بڑی برائی"مردوزن کے ناجائز تعلقات" ہیں۔سورہ بنی اسرائیل میں اس مسئلہ کی بابت احکام نازل ہوئے ہیں جس میں خالق کائنات نے ارشاد فرمایا:"زنا کے قریب مت جاؤ،یہ بے حیائی کی دعوت ہے اور نہایت برراستہ ہے"اس سے منع کرنے کی دو وجوہات ہیں:
اول:۔
یہ حیا کی ضد ہے جبکہ اسلام حیا کاعلمبردار ہے اور وہ حیا کو ایمان کا جزو عظیم قرار دیتاہے۔ جب بے حیائی کافتنہ کسی انسان کو اپنے آہنی شکنجے میں جکڑ لیتا ہے تو اس کے نتیجہ میں وہ کسی بھی قسم کے جرم کے ارتکاب میں  ہچکچاہٹ محسوس نہیں کر تا۔پیغمبر کائنات صلی اللہ علیہ وسلم   نے فرمایا:
"جب حیا  کاجذبہ تمہارےاندر سے ختم ہوجائے تو پھر تم جو چاہے کرتے پھرو،تمھیں کوئی روکنے والا نہیں"
جہاں حیا کےخاتمے سے انسان کا ضمیرمردہ ہوجاتا ہے ،وہاں سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں سلب ہوجاتی ہیں۔انسان کے افعال اسکے کنٹرول سے باہر ہوجاتے ہیں۔نتیجۃً تباہی اور بربادی اسکا مقدر ٹھہرتی ہے۔
دوم:۔
وجہاس کی یہ ہے کہ قبیح فعل معاشرے میں فساد اوربگاڑ کاباعث ہے۔یہی فساد بسا اوقات قبیلوں اورقوموں کی تباہی کاپیش خیمہ ثابت ہوتا ہے۔
  • نومبر
2000
شبلی نعمانی
اسلام میں سینکڑوں ،ہزاروں بلکہ لاکھوں علماء فضلا، مجتہدین آئمہ فن اور مدبرین ملک گزرے لیکن مجدد یعنی ریفارمر بہت کم پیدا ہوئے۔ایک حدیث ہے کہ ہرصدی میں ایک مجدد پیدا ہو گا ۔ اگر یہ حدیث صحیح مان لی جائے تو آج تک کم از کم 13مجددپیدا ہونے چاہئیں لیکن اس حدیث کے صادق آنے کے لیے جن لوگوں کو مجددین کا لقب دیا گیا ان میں سے اکثر معمولی درجہ کے لوگ ہیں یہاں تک کہ علامہ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ  بھی اس منصب کے امیدوار ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں نے مجدد کے رتبہ کا اندازہ نہیں کیا۔مجدد یاریفارمرکے لیے تین شرطیں ضروری ہیں۔
1۔مذہب یا علم یا سیاست (پالیٹکس ) میں کو ئی مفید انقلاب پیدا کردے ۔
2۔جو خیال اس کے دل میں آیا ہو کسی کی تقلید سے نہ آیا ہو بلکہ اجتہادی ہو۔
3۔جسمانی مصیبتیں اٹھائی ہوں جان پرکھیلا ہو سر فروشی کی ہو۔
یہ شرائط قدماءمیں بھی کم پائے جاتے ہیں اور ہمارے زمانہ میں تو ریفارمر ہونے کے لیے صرف یورپ کی تقلید کافی ہے تیسری شرط اگر ضروری قرار نہ دی جائے تو امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ  امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ  ،امام رازی رحمۃ اللہ علیہ  شاہ ولی رحمۃ اللہ علیہ  صاحب اس دائرے میں آسکتے ہیں لیکن جو شخص ریفارمرکا اصلی مصداق ہو سکتا ہے وہ علامہ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  ہیں ۔ہم اس بات سے واقف ہیں کہ بہت سے امور میں امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ  وغیرہ کو ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  پر ترجیح ہے۔لیکن وہ امور مجددیت کے دائرے سے باہر ہیں مجددیت کی اصلی خصوصیتیں جس قدر علامہ کی ذات میں پائی جاتی ہیں اس کی نظیر بہت کم مل سکتی ہے۔۔۔ اس لیے ہم اس عنوان کے ذیل میں علامہ موصوف کے حالات اور ان کی مجددیت کی خصو صیات لکھنا چاہتے ہیں۔
0
حافظ محمد فیاض
(گزشتہ سال جامعہ لاہورالاسلامیہ کے استاذقاری محمد فیاض صاحب کو تبلیغی مقاصد کے تحت لاؤس میں کام کرنے والے اسلامی مشن کی معاونت کے لیے بھیجا گیا تھا موصوف وہاں دوسال سے مسلم اقلیت کی رہنمائی کا فریضہ انجام دے رہے ہیں امسال موسم گرم میں جب وہ وطن عزیز میں چھٹیاں گزارنے کے لیے آئے تو انھوں نے اپنے مختصر تاثرات میں انداز ہو تا ہے کہ انفارمیشن کے اس دور میں بھی زمین کے ایسے حصے موجود ہیں جن تک اسلام کا مبارک پیغام پہنچانے کی شدید ضرورت ہے ۔)
چند دن قبل لاؤس سے میری واپسی ہوئی ۔مجھے وہاں ایک سال گزارنے کا موقعہ ملا۔ اس ایک سال کے دوران بے شمار چیزیں ان کے کلچر اور ان کی تہذیب سے دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ میری زندگی کا پہلا تجربہ ہے کہ غیر مسلموں کو اتنی قریب سے دیکھا۔اس طرح مسلمانوں کی بے کسی اور بےبسی کا بھی مشاہدہ کیا اور اسلام کو انتہائی مشکل صورت میں پایا۔یہاں اسی سفر کے حوالہ سے چند مشاہدات کا تذکرہ کروں گا۔ تاکہ وہاں کے حالات سے باقی دنیا بھی باخبر ہو جا ئے۔
لاؤس کے حدودواربعہ اور بنیادی معلومات وغیرہ کا تذکرہ کیے بغیر قارئین صحیح سمجھ نہیں پا ئیں  گے۔