تعداد ازواج کی حکمت بیان کرنے کے بعد اب ہم اُمہات المؤمنین کے فضائل بیان کرتے ہیں۔
جن کو اللہ نے اپنے حبیب حضرت محمد مصطفیٰ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے لیے منتخب فرمایا سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ نسبت جیسے شرف عظیم سے سر فراز فرمایا: انہیں مؤمنوں کی مائیں ہونے کا شرف بخش کر ان کے لیے تکریم و تعظیم کو واجب کر دیا اور نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کی وفات کے بعد ان کے ساتھ نکاح کو حرام قراردیا ۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔
﴿النَّبِىُّ أَولىٰ بِالمُؤمِنينَ مِن أَنفُسِهِم ۖ وَأَزوٰجُهُ أُمَّهـٰتُهُم ...٦﴾...الأحزاب
"نبی کا حق مسلمانوں پر خود اس کی جان سے بھی زیادہ ہے اور ازواج نبی  صلی اللہ علیہ وسلم مومنین کی مائیں ہیں"مزید فرمایا:
﴿وَما كانَ لَكُم أَن تُؤذوا رَسولَ اللَّـهِ وَلا أَن تَنكِحوا أَزوٰجَهُ مِن بَعدِهِ أَبَدًا ۚ إِنَّ ذٰلِكُم كانَ عِندَ اللَّـهِ عَظيمًا ﴿٥٣﴾ ...الأحزاب
"تمھارے لیے یہ روانہیں کہ اللہ کے رسول کو اذیت پہنچاؤ اور نہ ہی یہ جائز ہے کہ ان کے بعد کبھی بھی ان کی بیویوں سے نکاح کرو۔ یقیناً یہ باتیں اللہ کے نزدیک بڑی ہی سنگین ہیں۔
علامہ قرطبی رحمۃ اللہ علیہ  اپنی کتاب الجامع الاحکام القرآن میں اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔
"اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبرکی بیویوں کو یہ شرف اور احترام بخشا کہ انہیں مؤمنوں کی ماؤں کی حیثیت دی یعنی ان کے لیے احترام و عقیدت کو واجب کردیا اور مردوں کے لیے ان کے ساتھ نکاح کرنا حرام قراردیا ۔توان کا شرف دراصل نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کی عظمت کے مرہون منت تھا ۔"(ج14/123)
امہات المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنھن جن سے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے نکاح کیا ان کی تعداد دس سے زائد ہے۔ ذیل میں ہم بالترتیب ان کے حالات ذکر کرتے ہیں۔
حضرت خدیجۃالکبری رضی اللہ تعالیٰ عنہا   بنت خویلد:۔
یہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کی سب سے پہلی بیوی تھیں جن سے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے بعث سے قبل نکاح کیا۔ اس وقت آپ کی عمر 25سال تھی اور حضرت خدیجۃالکبری رضی اللہ تعالیٰ عنہا   اس وقت 40 سال کی بیوہ تھیں ان کی پہلی شادی ابوہالہ بن زرارہ سے ہوئی ۔ ان کے انتقال کے بعد عتیق بن عائذکے نکاح میں آئیں ۔عتیق کے انتقال کے بعد رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے عقدنکاح میں آئیں جیسا کہ صاحب الاصابہ نے ذکرکیا ہے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ان کی بے پناہ ذہانت اور اصابت رائے سے متاثرہوکران کو پسند کیا اور یقیناًیہ نکاح حکمت کے تقاضوں کے عین مطابق تھا کیونکہ یہ ایک عبقری مرد کاعبقری عورت سے نکاح تھا اور دونوں کی عمروں کا اختلاف کوئی ایسا معاملہ نہ تھا جو اس شادی کے راستے میں حائل ہو جا تا ۔کیونکہ شادی کا مقصد تکمیل شہوت اور نفس پرستی  تو نہ تھا بلکہ انسانیت کی اصلاح جیسا عظیم مقصد پیش نظر تھا ۔چونکہ اللہ نے محمد  صلی اللہ علیہ وسلم  کو رسالت و دعوت کا بارگراں اٹھانےکے لیے تیار کرنا تھا جس کے لیے یقیناً ایک رفیقہ حیات کی ضرورت تھی۔چنانچہ اس اہم فرض کی بجا آوری کے لیے کے لیے خدائے قدوس نے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا    جیسی پاکباز صلحہ ذہین و فطین اور دانشور خاتون کو منتخب فرمایا تا کہ وہ دعوت و راسالت کی نشر واشاعت میں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی دست و بازواور مددگار بن سکے یہ پہلی خاتون تھیں جو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  ایمان لائیں ان کی عقل اور اصابت رائے کا ندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے جب جبرائیل علیہ السلام  غار حرا میں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے پاس کے وحی لے کرآئے اور آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  اس حالت میں گھر لوٹے کہ آپ کا دل شدت خوف سے کانپ رہا تھا حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا    کے پاس تشریف لائے اور فرمایا :"مجھے چادر اوڑھادو مجھے چادر اوڑھادو ۔"جب خوف جاتا رہا تو حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا    کوواقعہ کی اطلاع دیتے ہوئے فرمایا:"مجھےمجھے اپنی جان کا خطرہ ہے۔" تو حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا    نے تسلی دیتے ہوئے کہا:
"ہر گز نہیں، بخدااللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کو کبھی رسوانہ نہ کرے گا۔آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  صلہ رحمی کرتے ہیں دردماندوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں تہی دستوں کا بندو بست کرتے ہیں مہمان کی میزبانی کرتے ہیں اور حق کے راستے میں مصائب پراعانت کرتے ہیں۔"(صحیح بخاری و مسلم)
رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے عنفوان شباب کا زمانہ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا     کے ساتھ گزارااور جب وہ زندہ رہیں کسی دوسری عورت سے شادی نہیں ۔اور انہیں ایسی محبت دی جو کسی اور بیوی کا حصہ نہ بن سکی۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا    نے گو حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا    کو نہیں دیکھا تھا اس کے باوجود ان پر رشک کیا کرتیں یہاں تک کہ ایک دن جب آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا    کو یاد فرمایا تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا    بولیں۔
'آپ کیا ایک بڑھیا کو یاد کرتے ہیں جو مر چکیں اور خدا انے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کو ان سے اچھی بیویاں دیں"
تو آنحضور  صلی اللہ علیہ وسلم  اس پر ناراض ہوئے اور فرمایا :"بخدااللہ نے مجھے اس بہتر بیوی نہیں دی۔وہ اس وقت اسلام لائیں جب اوروں نے میرا انکار کیا اس میری رسالت کی تصدیق کی جب اوروں نےمیری تکذیب کی، اس نے مجھے اپنے مال میں شریک کیا جب اوروں نے مجھے کسب معاش سے روکا اس سے اللہ نے مجھےاولاد عطا کی جبکہ میری کسی اور بیوی سے اولاد نہیں ہو ئی ۔"
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا    فرماتی ہیں اسکے بعد میں نے کبھی حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   کو برے لفظوں سے یاد نہیں کیا۔
بخاری ومسلم میں روایت ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا    فرماتی ہیں کہ اگرچہ میں نے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا    کو نہیں دیکھا ۔لیکن مجھے قدر ان پر رشک آتا تھا کسی اور پر نہیں آیا۔جس کی وجہ یہ تھی کہ حضوراکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  ہمیشہ ان کا ذکرکیا کرتے تھے اور جب کبھی گھر میں کوئی جانور ذبح ہو تا تو ڈھونڈڈھونڈ کر حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا    کی ہمنشین عورتوں کے پاس گوشت بھجواتےتھے جب کبھی میں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  سے کہتی ،کیا پورے جہاں میں صرف حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا    ہی رہ گئی ہیں کہ آپ ہمیشہ ان کا ذکر کرتے رہتے ہیں تو فرماتے ۔
" حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا    ہی تھی۔۔۔جس سے اللہ نے مجھے اولاد عطا فرمائی۔"
حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا    نے25سال آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ گزارے۔15سال بعث سے قبل اور دس سال بعث کے بعد اور آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ان کی زندگی میں کسی عورت سے شادی نہیں کی۔سوائے ابراہیم  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی تمام اولاد انہیں کے بطن سے ہوئی جب حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا    کا انتقال ہوا تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  اس وقت پچاس سال کی عمر کو پہنچ چکے تھے اور سوائے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا    کے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے پاس کوئی بیوی نہیں تھی۔آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے جس قدر بھی نکاح کئے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا    کی وفات کے بعد کئے ہیں ان کی بنیاد بھی ان بے شمار فوائد کثیر مصالح جمیلہ اور مقاصد حسنہ پر قائم تھی جن کا ذکرہم تفصیل سے کر چکے ہیں۔
(2)حضرت سودہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا   بنت زمعہ :۔
یہ وہ پہلی خاتون تھیں جو حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا    کے انتقال کے بعد آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے حبالہ عقد میں آئیں اور یہ ایک معمرخاتون تھیں جو پہلے سکران بن عمرو انصاری کے نکاح میں تھیں ۔اگر چہ یہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  سے عمر میں بڑی تھیں لیکن آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے صرف اس حکمت و مصلحت کی بدولت ان سے نکاح کیا کہ ایک تویہ مؤمنات مہاجرات میں سے تھیں اور دوسرا ان کا وخاوند ہجرت حبشہ کے بعد انتقال کر گیا اور یہ اکیلی رہ گئیں ،کوئی ٹھکانہ اور مددگار نہیں تھا ۔اگر گھروالوں کے پاس جاتیں تو وہ انہیں شرک پر مجبور کرتے یا پھر شدید تکالیف سے دوچار کرتے۔ چنانچہ آپ نے ان سے نکاح کر کے اپنی کفالت میں لے لیا ۔تو کیا یہ نفس پرستی تھی؟یقیناً نہیں بلکہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ان پر ایک عظیم احسان کیا اور محض اس کے صدق ایمان اور اخلاص کی وجہ سے انہیں اپنی زوجیت کا شرف بخشا ۔
اگر آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی غرض (نعوذ باللہ) شہوت پرستی ہوتی جیسا کہ بہتان تراش مستشرقین کا دعوی ہے تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کبھی 55سال کی بوڑھی خاتون سودۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہا    سے شادی نہ کرتے بلکہ کسی نوجوان کنواری لڑکی کا انتخاب کرتے۔ لیکن آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  تو جرات و شہامت (دلیری) اور انسانیت کا اعلیٰ نمونہ تھے۔ اس شادی سے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی غرض محض اس معمر خاتون کی حمایت و غمگسار ی تھی ،تاکہ وہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی زیر کفالت اطمینان سے اپنی زندگی کے دن پورے کر سکیں۔
(3)حضرت عائشہ صدیقہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا    بنت ابو بکر صدیق  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  :۔
سن 10نبوی میں نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ نکاح ہوا۔ ازواج مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہا   میں یہی ایک خاتون تھیں جو کنواری تھیں ان کے علاوہ کسی کنواری عورت سے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے شادی نہیں کی ۔یوں یوتو حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  کی سب بیویاں علمی اور عملی لحاظ سے یکتا ئے روز گار تھیں لیکن حضرت عائشہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا    ان میں سب سے زیادہ زیرک ذکی اور قوی الحفظ خاتون تھیں ۔بلکہ علمی لحاظ سے اکثر مردوں پر فائق تھیں اکثر کبار صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کے سامنے جب کوئی مشکل سوال پیش آجاتا تو وہ حضرت عائشہ صدیقہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا    سے پوچھتے تو حضرت عائشہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا    اس کو حل کر دیتی تھیں۔
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کا بیان ہے کہ جب ہم سے کوئی مشکل مسئلہ حل نہ ہو تا تو ہم حضرت عائشہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا    سے رجوع کرتے اور وہ اپنی دینی معلومات سے ہمیں وہ مسئلہ حل کر دیتیں ۔
مسروق  رحمۃ اللہ علیہ  کا بیان ہے کہ میں نے کبار صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کو علم وراثت کے بارے میں  حضرت عائشہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا    سے سوال کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
کتب احادیث اٹھا کر دیکھے جو حضرت عائشہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا    کی علمی وسعت اور عقلی گہرائی کی گواہی دیتی ہیں۔
صحیح بخاری میں ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ   اور عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کے بعد سب سے زیادہ روایات انہیں سے مروی ہیں۔
اسی وجہ سے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  اپنی باقی بیویوں کی بہ نسبت حضرت عائشہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا    سے زیادہ محبت کرتے تھے لیکن اس کے باوجود ان میں باری کی تقسیم کے سلسلے میں بھی انصاف کا دامن ہاتھ سے چھوٹنے نہ دیتے آپ کہا کرتے تھے اے اللہ !"یہ تومیری تقسیم ہے جو میرے بس کی بات ہے لیکن اس چیز میں میرا مؤاخذ ہ نہ کرنا جو میرے بس میں نہیں ہے۔
اور جب آیۃالتخییرنازل ہوئی تو رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے سب سے پہلے یہ اختیار نامہ حضرت عائشہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا    کے سامنے رکھا اور ان سے کہا: اے حضرت عائشہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا    !میں تجھ سے ایک بات کرتا ہوں اس کے جواب میں جلدی نہ کرنا بلکہ پہلے اپنے والدین سے مشورہ کرلینا۔ حضرت عائشہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا    فرماتی ہیں:"آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  بخوبی جانتے تھے کہ میرے والدین کبھی بھی مجھے پیغمبر  صلی اللہ علیہ وسلم  سے علیحدگی کا مشورہ نہیں دیں گے۔"۔۔۔اس کے بعد آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے حضرت عائشہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا    کے سامنے قرآن کی یہ آیت پڑھی ۔(الاحزاب :28،29۔)
"يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ إِن كُنتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا"
"اے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم !اپنی بیویوں سے کہہ دو کہ اگر تم زندگی اور اس کی زینت کی طالب ہو تو آؤ میں تمھیں کچھ دے لا کر خوبصورتی سے رخصت کردوں اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  اور دار آخرت کی طالب ہو تو اللہ تعالیٰ نے تم میں سے نیکوکاروں کے لیے بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔"
حضرت عائشہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا    نے یہ آیات سن کر بلا تو قف جواب دیا۔ کیا بھلا میں اس بارے میں اپنے والدین سے مشورہ کروں مجھے مشورے کی کو ئی ضرورت نہیں میں تو اللہ اور اس کے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار کرتی ہوں۔
دراصل رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا ابو بکر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کے ساتھ مصاہرت کا رشتہ استوارکرنا نہ صرف ان پر ایک عظیم احسان اور دنیا میں ان کی قربانیوں کاصلہ تھا بلکہ اپنی دعوت ازدواجی زندگی کی خوبیاں اور شریعت کے دیگر احکام خاص طور پر عورتوں کے مخصوص مسائل کی تبلیغ کا ایک بہترین ذریعہ تھا جیسا کہ ہم یہ بحث "تعلیمی مصلحت" کے ضمن میں تفصیل سے ذکر کر چکے ہیں۔
(4)حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا    بنت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  :۔
نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ان کے ساتھ نکاح کیا اور اس وقت یہ بیوہ ہو چکی تھیں ان کا پہلا نکاح خنس بن حذافہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ   سے ہوا تھا جو جنگ بدر میں شدید زخمی ہوئے اور پھر انہی زخموں سے جانبرنہ ہو سکے اور شہید ہو گئے ۔ وہ ان شجاع اور بہادر مردوں میں سےایک تھے جن کی بہادری شجاعت اور جہادی کارنامے تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھے جاتے ہیں جب حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا    بیوہ ہوگئیں تو سب سے پہلے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ   نے ان کے نکاح کی خواہش حضرت عثمان  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   سے کی کیونکہ اسی زمانہ میں ان کی بیوی رقیہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا    بنت رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  وفات پاگئیں تھیں ۔ پھر جب رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے خود حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا    سے نکاح کر لیا تو یہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کے لیے بہت بڑا اشرف اور رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی طرف سے ایک عظیم احسان تھا چنانچہ امام بخاری نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے واسطے سے ایک روایت ذکر کی ہے۔
"جب حضرت خنس جنگ بدر میں زخمی ہونے کی وجہ سے مدینہ پہنچ کر وفات پاگئے اور حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا    بیوہ ہو گئیں تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے ملے اور ان سے کہا:اگر تم چاہو تو حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا    کا نکاح تم سے کردوں؟انھوں نے کہا:میں اس معاملہ میں غور کروں گا؟پھر کچھ دنوں کے بعد کہا: کہ آج کل تو میں شادی کا ارادہ نہیں رکھتا ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ   نے ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ   سے ذکر کیا تو انھوں نے بھی خاموشی اختیار کی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کو ان کی بے التفاقی سے رنج ہوا ۔ اس کے بعد خود رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا    سے نکاح کی خواہش کی، نکاح ہو گیا تو ابو بکر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے ملے اور کہا:کہ جب تم نے مجھ سے حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا    کے نکاح کی درخواست کی اور میں خاموش ہو گیا تو تم کو ناگوار گزرا۔لیکن میں نے اس بنا پر کچھ جواب نہیں دیا کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ذکر کیا تھا اور میں آپ کا وہ راز فاش کرنانہیں چاہتا تھا اگر رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ان سے نکاح نہ کرنا ہوتا تو میں اس کے لیے آمادہ تھا۔
یہی وہ عقلی بصیرت اور اصل بہادری ہے جس کا اظہار خود حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے اپنے عمل سے کیا اور ایک پارسا اور صالح کفوسے اپنی بیٹی کے نکاح کی دراخوست کرنے میں کوئی عار اور ذلت محسوس نہیں کی بلکہ اپنی بیٹی کی آبرو کی حفاظت کی خاطر خود درخواست کی کہ میری بیٹی سے نکاح کر لیں۔
شادی ایک مثالی معاشرہ کی نشو و نما میں اہم کردار ادا کرتی ہے لیکن کیا آج ہم مسلمانوں نے اسلام کے ان سنہری اصولوں کو چھوڑ نہیں دیا؟ ہم اس انتظار میں اپنی بیٹیوں کو گھروں میں بٹھا ئے رکھتے ہیں کہ کو ئی صاحب ثروت اور مالدار شادی کا پیغام بھیجے اور وہ اسی انتظار میں بوڑھی ہو جا تی ہیں ۔
(5)حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا    بنت خزیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  :۔
حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا    بنت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کے بعد آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ان سے نکاح کیا۔ یہ جری مجاہد شہید اسلام عبید ہ بن حارث بن عبدالمطلب کی بیوہ تھیں جو غزوہ بدر کی پہلی مبارزت میں شہید ہوگئے تھےلیکن عزم استقلال پہاڑ یہ خاتون خاوند کی شہادت کے باوجود زخمیوں کو طبی امداد بہم پہنچانے اور ان کی مراہم پٹی کرنے کے فرائض برابر سر انجام دیتی رہی اور خاوند کی شہادت انہیں اپنے فرائض سے غافل نہ کرسکی حتیٰ کہ اللہ نے مسلمانوں کو کفر و اسلام کے اس عظیم معرکہ میں فتح و کامرانی سے ہمکنار کردیا ۔رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کو جب ان کے صبر واستقلال اور جہاد کا علم ہوا تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے خود اس خاتون سے نکاح کر لیا جس کی زندگی کا آخری سہارا بھی ٹوٹ چکا تھا جو اسے اپنی کفالت میں رکھتا۔
شیخ محمد محمود الصواف اپنے مایہ ناز رسالہ" زوجات النبی الطاہرات "میں حضرت زینب کے خاوند کا واقعہ شہادت ذکر کرنے کے بعد تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔
"جب رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ان سے نکاح کیا تو اس وقت وہ عمرکی ساٹھ بہاریں گزار چکی تھیں۔صرف دوسال نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کی زوجیت میں رہنے کے بعد اپنے خالق حقیقی سے جاملیں ۔اس مقدس اور بلند مقصد کی خاطر انجام پانے والے اس نکاح کے متعلق ان بہتان تراشوں کا کیا خیال ہے؟ کیا اس میں بھی انہیں کوئی قابل اعتراض چیز نظر آتی ہے جس کی وجہ سے ان کا زہر آلود ہے۔ انصاف سے بتائیں کیا یہ نفس پرستی کا اثر تھا یا انسانیت کے اس عظیم پیغمبر کی جانب سے شرف و کرم رحم و شفقت اور احسان کا ثبوت تھا جو تمام کائنات کے لیے رحمت بن کر آیا۔اے مستشرقین کے گروہ ! اللہ سے ڈرو اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کے لیے حقائق سے چشم پوشی کر کے علمی خیانت کاارتکاب نہ کرو لیکن تم اس سے باز کیسے رہ سکتے ہو۔کیونکہ تم نے توعلوم اسلامیہ کو اس لیے ہی پڑھا اور اس میں مہارت حاصل کی ہے تاکہ اسلام کے خلاف سازشوں کے جال بنواور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم  کی مقدس ذات کو داغدار کر کے لوگوں کو ان سے متفر کرو"
(6)حضرت زینب بنت حجش رضی اللہ تعالیٰ عنہ  :۔
یہ نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کی پھوپھی زادبہن تھیں پہلے زید بن حارثہ کے نکاح میں تھیں لیکن جب انھوں نے طلاق دے دی تو رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ان سے نکاح کر لیا اور اس نکاح میں ایسی عظیم حکمت کار فرماتھی۔جو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی کسی اور شادی میں نہ تھی وہ یہ کہ مستثنیٰ کے بارے میں جو غلط تصور رائج ہو چکا تھا اس کی جڑ کاٹ دی جائے ۔"دینی اور شرعی مصلحت "کے ضمن میں ہم تفصیل سے اس کاذکر کر چکے ہیں۔
اس واقعہ کو بنیاد بناکر بعض متعصب دریدہ ذہن معاندین اسلام نے پیغمبر کی پاکیزہ ذات کو طعن و تشنی کا نشانہ بنایا اور بعض اسرائیلی روایات کو لے کر اپنی بہتان تراشوں کو خوب مزین کر کے پیش کیا۔ایک گھٹیا اور بازاری قسم کا افسانہ تراشا جس کا نقطہ آغاز یہ ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  زید کے گھر کے پاس سے گزرے اور اس وقت زید  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  گھر میں نہیں تھے۔اتفاقاً حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  کی نگاہ حضرت زینب  رضی اللہ تعالیٰ عنہا   پرپڑگئی۔آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  اس پر فریفۃ ہوگئے(نعوذباللہ ) اس کے بعد فرمایا:پاک ہے وہ ذات جو دلوں کو پھیرنے والی ہے حضرت زینب  رضی اللہ تعالیٰ عنہا    نے یہ بات سن لی۔ اور جب حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ   واپس آئے تو زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا    نے جوبات سنی تھی بتادی ۔زید سمجھ گئے کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  (معاذ اللہ) زینب پر فریفتہ ہوگئے ہیں۔پھر وہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے پاس آئے اور طلاق کاارادہ ظاہر کیا تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا :اپنی بیوی کو روکے رکھو لیکن آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے دل میں دوسری بات تھی (معاذ اللہ) چنانچہ زید نے اس وجہ سے طلاق دے دی تاکہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  اس سے شادی کر لیں۔
ابن العربی رحمۃ اللہ علیہ  مالکی اپنی تفسیر احکام القرآن میں اس زہر آمیز افسانہ کا رد کرتے ہوئے فرماتے ہیں "ان (شر پسندوں )کا یہ دعویٰ کہ پیغمبر (نعوذباللہ ) زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا    پر فریفۃہوگئے۔جھوٹ کاپلندہ ہے۔(حضرت زینب  رضی اللہ تعالیٰ عنہا    حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  کی پھوپھی کی بیٹی تھیں ) بچپن سے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی آنکھوں کے سامنے کھیلیں اور پلی بڑھیں اور اس وقت پردے کا حکم بھی نازل نہیں ہوا تھا ،تو پھر ان کی شکل وصورت کیونکر آپ  صلی اللہ علیہ وسلم سے پوشیدہ رہ سکتی تھی۔ پھر یہ کیسے باور کیا جا سکتا کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  ان پر فریفۃ نہ ہوئے مگر اس وقت جب وہ شادی شدہ ہوچکی تھیں (اور36سال کی عمر گزارچکیں تھیں جب عموماً عورتوں کا حسن اور شباب ڈھل جاتا ہے خصوصاً عرب جیسے گرم ملک میں جہاں عورتوں کی جوانی جلد ڈھل جاتی ہے)ایسا کیونکرمانا جاسکتا ہے۔کہ زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ   ایک آزاد کردہ غلام تو اس سے بیزارہو جائیں اور سیدالانبیاءیکایک اس کی طرف مائل ہو جائیں حاشا وکلا ایسا قلب اطہر ایسے غلیظ اور فاسدمیلانات کا شکار نہیں ہو سکتا ۔کیونکہ اللہ نے قرآن میں اپنے پیغمبرکویہ حکم دیا کہ :
"وَلا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَى مَا مَتَّعْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا لِنَفْتِنَهُمْ فِيهِ"
"اور آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  ان چیزوں کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھیں جو ہم نے مختلف قسم کے لوگوں کو دنیوی زندگی کی زینت کے لیے دی ہیں تاکہ ان چیزوں سے ہم انہیں آزمائیں "(طہٰ131)
ابن العربی رحمۃ اللہ علیہ  نے ان تمام اسرائیلی روایات کا تعاقب کیاہے اور ثابت کیا ہے کہ یہ تمام کی تمام روایات بے بنیاد اور من گھڑت ہیں۔
حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا    اور حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کے ساتھ ان کی شادی کے پس منظر میں ان تمام احوال کا تاریخی مطالعہ ہمیں یہ ماننے پر مجبور کرتا ہےکہ حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ   اور حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا    کے درمیان ناچاقی اور ناسازگاری کاسبب وہ تفادت تھا جو دوں کی معاشرتی حالت میں موجود تھا (یعنی نکاح کے لیے جو معیار اور پیمانے اس ماحول میں رائج تھے ان پر یہ جوڑا پورا نہیں اترتاتھا) حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا    ایک معزز گھرانے کی شریف خاتون تھیں اس کے برعکس حضرت زید  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کے دامن پر غلامی کا داغ ابھی باقی تھا۔
لیکن اللہ تعالیٰ اس نکاح سے حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا    کی آزمائش کرنا چاہتا تھا تاکہ قبائلی عصبیت اور فضل و شرف کے جاہلی تصورات کاخاتمہ کردیا جائے اور فضل و شرف کا معیار دین اور تقویٰ کوقراردیا جائے۔
چنانچہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا    کو حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ   سے نکاح کرنے کی تجویز دی۔ تو انھوں نے جب اپنے حسب نسب اور خاندانی شرف کے غرور میں شادی کرنے سے انکار کردیا تو اللہ نے قرآن میں حکم نازل کردیا ۔
"وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ ۗ وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا مُبِينًا."(سورۃ الاحزاب:36)
"کسی مؤمنہ یا مؤمن کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کسی معاملہ کا فیصلہ کردیں توان کے لیے اس میں کوئی اختیار باقی رہ جائے اور جواللہ اور اس کے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی نافرمانی کرےگا تووہ کھلی گمراہی میں جاپڑا"
یہ آیت سن کر حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا    نے امرنبوی کے سامنے سراطاعت خم کردیا اور بادل نخواستہ اپنا آپ حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے حوالے کردیا لیکن دل قلق اور اضطراب کاشکار رہا۔
حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا    کی شکل وصورت آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے لیے کوئی نئی نہیں تھی بلکہ وہ بچپن سے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے سامنے جوان ہوئیں کیونکہ وہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی پھوپھی زاد تھیں اور اس وقت پردے کا حکم بھی نازل نہیں ہوا تھا۔پھر بھلایہ کیسے ہوسکتا ہے کہ پہلے تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  خود نہایت اصرار سے حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا    کانکاح حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ   سے کریں جبکہ وہ کنواری تھی اور جب شادی شدہ ہوگئیں تو اس وقت آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  ان پر فریفۃ ہوگئے۔معاذ اللہ۔
دراصل یہ لوگ عقل کو استعمال نہیں کرتے محض بے علمی میں ہذیادہ گوئی کرتے ہیں اور رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  پر جھوٹ اور بہتان باندھاان مستشرقین کا مقصد ہے ان کا ایک اور بکواس سنئے کہتے ہیں ۔"دراصل جو چیز محمد  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اپنے دل میں چھپائی تھی۔وہ حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا    کی محبت تھی اور اسی کی انہیں ڈانٹ پلائی گئی۔"
کیا آپ کی عقل اس بہتان کو مانتی ہے کہ ایک شخص کو محض اس لیے عتاب کاشکار کیا جائے کہ اس نے اپنے ہمسایہ کی بیوی کی محبت کو مخفی رکھا ۔ یقیناً نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کی ذات مطہر اس بہتان عظیم سے پاس ہے۔ قرآن کی آیت اس معاملہ میں بالکل واضح اور صریح ہے جس میں یہ بیان ہوا ہے کہ پیغمبر( صلی اللہ علیہ وسلم )جو بات دل میں چھپائے ہوئے ہیں اللہ عنقریب اس کو ظاہر کردے گا۔
وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ(الاحزاب:37)
"اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم !تم دل میں وہ بات چھپائے ہوئے تھے جس کو اللہ ظاہر کرنے والاتھا
غور فرمائیے کہ اللہ نے کیا ظاہر کیا ۔ کیا حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا    سے پیغمبر کی محبت کو ظاہر کیا ہر گز ہرگز نہیں۔ بلکہ جس چیز کو واضح کیا وہ پیغمبر  صلی اللہ علیہ وسلم  کی رغبت اور خواہش تو تھی کہ متبنیٰ کی جو غلط رسم قائم ہوئی تھی اس کی جڑ خود آپ کے اپنے عمل سے کاٹ دی جائے لیکن اندیشہ تھا کہ منافقین کی زبانیں زہر اگلیں گی کہ دیکھو! محمد نے اپنے (منہ بولے) بیٹے کی بیوی سے نکاح گانٹھ لیا۔
اس لیے قرآن میں اللہ تعالیٰ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے مخفی خیال کو کھول کر برسر عام رکھ دیا۔
فَلَمَّا قَضَى زَيْدٌ مِنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنَاكَهَا لِكَيْ لا يَكُونَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ حَرَجٌ فِي أَزْوَاجِ أَدْعِيَائِهِمْ إِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا(الاحزاب:37)
"پھر جب زید اپنی خواہش اس عورت سے پوری کرچکا تو ہم نے اس کا نکاح تیرے ساتھ کردیا اس سے یہ مطلب تھا مسلمانوں کو اپنے لےپالک لڑکوں کی بیویوں سے نکاح کرلینے میں جب وہ اپنی خواہش پوری کرچکیں کوئی تنگی نہ رہے۔"[1]
اس طرح ان منہ پھٹ مستشرقین کی طرف سے لگائے گئے تمام الزامات ان واضح اور مضبوط دلائل کے سامنے ملیامیٹ ہو جاتے ہیں جو پیغمبر کی عصمت اور طہارت پر واضح دلالت کرتے ہیں۔
7۔حضرت اُم سلمہ ہند مخزومیہ:۔
اُم سلمہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کے نکاح کرنے سے پہلے حضرت ابو سلمہ عبداللہ بن اسد  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کے نکاح میں تھیں۔ ان کے خاوند نہایت قدیم الاسلام تھے اورانہوں نے حبشہ کی طرف بھی ہجرت کی۔اُم سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا    نے بھی اپنے دین کو بچانے کی خاطر ا پنے شوہر کے ساتھ ہجرت کی۔اسی دوران ان کے ہاں سلمہ پیدا ہوئے۔اُن کے خاوند جنگ اُحد میں شہید ہوگئے۔ اور یہ ا پنے چار یتیم بچوں کے ساتھ بے یارومددگار  ہوگئیں۔اب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کے سامنے ان کے ساتھ ہمدردی اور ان کے یتیم بچوں کی کفالت کی یہی ایک صورت تھی کہ آ پ صلی اللہ علیہ وسلم  خود ان سے شادی کرلیتے۔چنانچہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے انہیں نکاح کاپیغام بھیجا تو انہوں نے یہ کہہ کرمعذرت کی کہ میں ایک عمر رسیدہ ،یتیم بچوں کی ماں اور تیز مزاج عورت ہوں۔
یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم   نے کہا"بچوں کا نان ونفقہ تو ہمارے ذمہ ہے باقی رہی تیز مزاجی تو میں اللہ سے دعا کروں گا،اللہ اس تیز مزاجی کو دور کردے گا،باقی رہا عمر کا معاملہ تو اس کی کوئی پرواہ نہیں۔چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے اُم سلمہ کی رضا مندی کی بعد ان سے نکاح کرلیا۔اس کے بعد نہایت وسعت قلبی سے ان کے یتیم بچوں کی تربیت اور پرورش کی کہ انہیں باپ کی جدائی تک کا احساس نہ ہونے دیا۔کیونکہ اب انہیں ایسا باپ مل گیا تھا جو ان کےوالدحقیقی سے زیادہ مشفق اور مہربان تھا۔[2] اُم المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا    خاندانی شرف ،معزز  گھرانہ اور سبقت اسلام کے شرف ایسی خوبیوں سے بہرہ ور تھیں اور سب سے بڑھ کر جو خوبی تھی وہ ان کی کمال دانشمندی اور ذہانت تھی جس کی دلیل کے لیے یہی کافی ہے کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم  مسلمانوں کے معاملے میں خاصے پریشان تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ   سے مشورہ کیا تو انہوں نے اپنی عقل و ذہانت سے اس مشکل کوحل کردیا۔
یہ واقعہ مختصراً یوں ہے کہ جب نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے کفار مکہ سے ان کی پیش کردہ شرائط پر دس سال تک جنگ بندی کا معاہدہ کرلیا تو مسلمان سخت دل گرفتہ اور تذبذب کاشکار ہوئے اور انھوں نے سمجھا کہ حق پر ہونے کے باوجود ان ذلت آمیز شرائط پر صلح کرنا ہماری حق تلفی ہے۔چنانچہ اس ناگواری طبع کا اثر یہ ہواکہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے انہیں سر منڈانے اور قربانی کرنے کا  حکمدیا تو انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے اس حکم پر عمل کرنے میں تامل ہوا۔پس رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  اپنی ذوجہ ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا    کے پاس آئے  اور فرمایا: لوگ تباہ ہوگئے،میں نے انھیں حکمدیا لیکن وہ اس پر عمل کرنے میں تامل کا شکار ہیں۔حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا    نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے معاملے کو آسان بنادیا اور آ پ صلی اللہ علیہ وسلم  کو مشورہ دیاکہ  آپ صلی اللہ علیہ وسلم  ان کے سامنے جاکر اپنا سر منڈوا دیجئے،مجھے یقین ہے کہ جب وہ آپ کو دیکھیں گے تو انھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی  پیروی میں کوئی  تردد نہیں ہوگا اور ایسے ہی ہوا کہ جونہی آ پ صلی اللہ علیہ وسلم  نے حجام کواپنے سرمونڈ نے کا حکم دیا تو صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین  نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم   کی پیروی میں سبقت کی اور فوراً اپنے سر منڈوادیے اور احرام کھول دیے۔اس طرح حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا    کی تدبیر سے یہ مشکل حل ہوگئی۔
8۔حضرت ام حبیبہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا    رملہ بنت ابو سفیان:۔
7ہجری میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا    سے نکاح کیا۔ ان کا پہلا نکاح عبداللہ بن جحش سے ہوا تھا جو سرزمین حبشہ میں فوت ہوگیا تو نجاشی نے ان کا نکاح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  سے کردیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی طرف سے چار ہزاردرہم مہرادا کیا۔اس کے بعد شرجیل بن حسنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کی معیت میں آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت میں روانہ کردیا۔ان سے نکاح کرنے کی حکمت پہلے گزر چکی ہے۔[3]
9۔حضرت جویریہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا    بنت حارث:۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے حضرت جویریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا    سے نکاح جو کہ حارث بن ضرار قبیلہ بن مصطلق کے رئیس کی بیٹی تھی۔ ان کی پہلی شادی مسافع بن صفوان سے ہوئی تھی جو غزوہ مریسع میں قتل ہوگیا اور جویریہ مسلمانوں کےہاتھ میں قید ہوگئی۔ان کا خاوند اسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کا بدترین دشمن تھا۔[4]
10۔حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   :۔
ان کا تذکرہ سیاسی مصلحت کے ضمن میں گزر چکا ہے۔
11۔حضرت میمونہ بنت حارث الہلالیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   :۔
ان کا پہلا نام برہ تھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے تبدیل کرکے میمونہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا    رکھ دیا۔یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کی سب سے آخری بیوی تھیں۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا    ان کے بارے میں فرماتی ہیں:
"یقیناً وہ ہماری نسبت اللہ سے بہت زیادہ ڈرنے والی اوراقربا سے نیک برتاؤ کرنے والی تھیں۔حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا     پہلے ابی رہم بن عبدالعزیٰ کے نکاح میں تھیں اور  ہو بیوہ ہوچکی تھیں۔حضرت عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   نے ان کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم  کو رغبت دلائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ان سے نکاح کرلیا اور یہ بات کسی سے مخفی نہیں ہے کہ آ پ صلی اللہ علیہ وسلم  کا اس نکاح سے مقصد ایک توحضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا    سے خیرخواہی اور حسن سلوک تھا اور دوسرا ان کے قبیلہ والوں کوسسرالی کا شرف بخشنا تھا جنھوں نے  پیغمبر کی غم خواری اور حمایت کی۔[5]
قارئین کرام! یہ ہے اُمہات المومنین،ازواج مطہرات کی زندگی کاایک مختصر نمونہ،جنھیں اللہ تعالیٰ نے صحبت رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  سے عزت بخشی اور مومنوں کی مائیں ہونے کاشرف عطا کیا اور  ا پنے اس قول سے شرف خطاب بخشا۔
يَا نِسَاء النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِّنَ النِّسَاء إِنِ اتَّقَيْتُنَّ فَلا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ وَقُلْنَ قَوْلا مَّعْرُوفًا (الاحزاب:32)
"اے نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی بیویو!تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو اگرتم اللہ سے ڈرتی ہو تو کسی غیر محرم سے دبی  زبان میں بات نہ کرو کہ جس کے دل میں مرض ہے وہ کسی طمع خام  میں مبتلا ہوجائے لہذا معروف کے مطابق بات کرو"
آُپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے جس قدر بھی نکاح کیے،ان میں بے شمار حکمتیں  پنہاں تھیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے تمام نکاحوں میں دینی اور شرعی مصلحت کو پیش نظر رکھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کا مقصدعرب قبائل کو اپنی عورت کی طرف مائل کرناتھا اور ایسے ہی ہواکہ ان نکاحوں کی بدولت بڑے بڑے قبائل معزز خاندان آپ کے گرویدہ ہوگئے۔
(قابل غور بات یہ ہے) کے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا    کے ماسوا آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی تمام کی تمام بیویاں پہلے بیوہ تھیں۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے متعدد نکاح کیے  بھی تو ہجرت کے بعد جب مسلمان اور مشرکین کے درمیان  جنگیں چھڑ چکی تھیں،وہ باہم برسر پیکار تھے اور ہر طرف قتل وغارت کا دور دورہ تھا اور یہ دو ہجری سے آٹھ ہجر ی تک کا نہایت قلیل عرصہ ہے جس کے اندر اللہ نے مسلمانوں کو نصرت وفتح سے سرفراز فرمایا(اور لوگ جوق در جوق اسلام میں داخل ہونے لگے)۔۔۔اس نکتہ پر غور کرنے سے یہ حقیقت کھل جاتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم   کی ہر شادی عظمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم  اور آ پ صلی اللہ علیہ وسلم  کے عظیم مقصد کی آئینہ دار اورایثار وقربانی،احسان جمیل کا مثالی نمونہ  تھی۔
بہتان تراش معاندین اسلام کے تمام الزامات بے کار ہیں۔اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے دل پر ہویٰ پر ستی کا غلبہ ہوتا تو یقیناً تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  عین جوانی کے عالم میں نوجوان کنواری لڑکیوں سے شادی کرتے۔در اصل بغض وتعصب کی شدت نے ان مغربی مستشرقین کے دلوں کو حق کی واضح روشنی دیکھنے سے اندھا کردیا ہے۔اللہ نے سچ فرمایا ہے:
بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ فَيَدْمَغُهُ فَإِذَا هُوَ زَاهِقٌ(الانبیاء :18)
"بلکہ ہم حق کے ہتھیار سے باطل  پر ضرب لگاتے ہیں تو وہ باطل کا سرکچل ڈالتا ہے پھر اچانک باطل ملیامیٹ ہوجاتا ہے"[6]
آخر میں ہم معروف عیسائی عالم گوسٹاف لیون کابیان نقل کرنا مناسب سمجھتے ہیں جسے علی احمد الجرجادی نے اپنی کتاب حکمۃ التشریع وفلسفتہ کی دوسری جلد کے ص16 پر ذکر کیا ہے،وہ لکھتا ہے ۔
"تعدد زوجات کانظام حقیقت میں ایک مستقل نظام ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم  سے بھی پہلے مشرقی اقوام میں موجود تھا،یہ نظام عہدقدیم سے اہل فارس،یہوداور عربوں میں مروج تھا اور ادیان عالم میں سے کسی دین میں یہ طاقت نہیں کہ وہ اس نظام کو منسوخ کرسکے جسے قرآنی دین نے برقرار رکھا ہے"
اس کے بعد لکھتا ہے:
"اہل مشرق کا یہ شرعی نظام تعدد ازواج اہل مغرب کے فحش نظام سے گراہواکیسے ہوسکتاہے؟جبکہ مغربی نظام زواج میں محض قانون کی حد تک تو صرف ایک ہی بیوی ہوسکتی ہے جبکہ عادتاً شاذونادر ہی کوئی ایسا شخص ہوگا جو صرف ایک عورت پر قناعت کرتا ہو"

[1] ۔کیا متنبیٰ کی اس جاہلی رسم کا خاتمہ واقعی اس قدر اہمیت کا حامل تھا کہ اس کی خاطرپیغمبرگوشدید کرب کا شکار ہو نا پڑا منافقین کے طعنے سننے پڑے ۔وہاں واقعتاًیہ رسم اس قدر غلط تھی کہ اس کاخاتمہ ضروری تھا جس کی وجوہات یہ ہیں۔
یہ رسم فی الحقیقت قدرت خداوندی کا گستاخانہ جواب تھی متبنیٰ کرنےوالا شخص گویا خدا اسے یہ کہا کرتا تھا کہ اگر تونے مجھے فرزند نہیں دیا توکیا ہوا میں نے کسی اور ذریعہ سے بیٹا حاصل کر لیا ہے اس کے علاوہ ۔
(الف) اس رسم کا خاندانی وارث ان کے حقوق پر برابر اثر پڑتا تھا کیونکہ ورثاء تو حقیقی طور پر وارث ہوتے تھے اور یہ محروم کنندہ مصنوعی طریقہ سے وارث بنایا جا تا تھا خصوصاً جب املاک و جائیداد پرانی چلی آرہی ہوں تب رسم تبنیت سے پورے خاندان میں عداوتوں کی بنیاد قائم ہوجاتی تھی اور کبھی ختم نہ ہونے والے جھگڑے برپا ہوجایا کرتے تھے۔
(ب)بننے والا فرزند جو شجر ہ خاندان سے شاخ بریدہ کی طرح ہوتا تھا ،اس کے دل میں یہ حقیقت ہمیشہ خارکی طرح کھٹکتی رہتی تھی کہ اس نئے خاندان سے سچ مچ اس کا کوئی خونی تعلق نہیں ۔اور اس سے محبت کی ساری بنیاد یں ظاہری اور اوپری رسوم پرہیں۔ اسی طرح اگر وہ اپنے برادران حقیقی کو اچھی حالت میں دیکھتا تھا تو ان پر حسد  کرتا اور اگر اس کے برادران حقیقی اچھی حالت میں دیکھتے تو اس سے حسدکیا کرتے تھے۔
(ج)متبنیٰ کرنے والا اگرچہ متبنیٰ کی اس کے لڑکین میں بڑے چاؤ سے پرورش کیا کرتا تھا لیکن اس کے بلوغ کے بعد جب دیکھتا کہ اس شخص کے خاندانی اوصاف سے وہ متبنیٰ کس قدر عاری ہے اور اس کے اقارب کے ساتھ اس کو کس قدر بیگانگی ہے تو اس کا دل بجھ جاتا۔
(د)ادھر اس کا حقیقی باپ جس نے اپنے جگر کے ٹکڑے سے خود محرومی گواراکی تھی اور جس کے قلبی تعلق کو ظاہری رسوم قطع نہیں کر سکتے تھے جب دوسرے گھر میں اپنے فرزند کو کسی مصیبت میں دیکھتا تو وہ جھٹ اس مصیبت کو اپنے ہی فعل کا نتیجہ قراردیتا اور اپنے آپ کو ملازمت کرتا اور اپنے کئے پرپچھتاتا۔ ان تمام احوال سے یہ ثابت ہوتا ہےکہ تبنیت کا مصنوعی اثر ہر جگہ کڑوا ہی ثابت ہو تا ہے ہاں اس بناوٹی حالت کو خضاب کے ساتھ تشبیہ دی جاسکتی ہے جس کی بابت کوئی شاعر کہہ گیا:آخر تو کھل ہی جاتی ہے رنگت خضاب کی۔
چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ پسند فرمایا کہ اسلام اس جاہلانہ رسم کی بھی اصلاح کرے اور اللہ کا رسول جو دنیا بھر کے لیے رحمت اور مصلح اعظم ہے خود اپنی نورانی شخصیت اور پاک وجود سے بطور اسوہ حسنہ غلط رواج کا خاتمہ کریں اسی لیے رحمت قرآن کریم  میں یہ نازل کردیا گیا تھا :
مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ (الاحزاب 40)
"محمد تمھارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں۔
وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ذَلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْوَاهِكُمْ (الاحزاب:4)
"خدا نے تمہارے منہ بولے شخصوں کو تمہارا بیٹا نہیں بنایا یہ سب تمھارے اپنے منہ کی باتیں ہیں"
(رحمۃللعالمین از قاضی سلیمان منصور پوری : جلد دوم ص169،168) 
[2] ۔در اصل حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا    کا آ پ صلی اللہ علیہ وسلم  سے یہ نکاح ان کی اور ان کے خاوند کادعا کانتیجہ تھاجو اللہ نے قبول فرمالی۔چنانچہ مسند احمد میں اُم سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا    سے روایت کیا کہ ایک روز ابو سلمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے پاس ہوکر گھرآئے اوربتایا کہ آج میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  سےمسرت آمیز بات سنی ہے کہ کسی مسلمان کومصیبت پہنچے اور وہ اس وقت انااللہ واناالیہ راجعون کے بعدیہ دعا پڑھے:
"اللهم أجرني في مصيبتي واخلف لي خيراً منها"
"اے اللہ مجھے اس آزمائش سے چھٹکارا دلا اور مجھے اس کا نعم البدل عطا کر"
تو حسب خواہش اس کی مراد پوری ہوتی ہے۔میں نے یہ دعاحفظ کرلی۔جب ابو سلمہ فوت ہوئے تو میں نے انااللہ واناالیہ راجعون کے بعد مذکورہ بالا دعا  پڑھی اور دل میں سوچا کہ ابو سلمہ سے کون بہتر ہوسکتا ہے؟  عدت کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  میرے گھر تشریف لائے اور مجھے شادی کا پیغام دیا۔میں نے عرض کیا:" یارسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  ایسی کوئی بات  نہیں،لیکن میں ایک غیور(تیز مزاج) عورت ہوں،مجھے اندیشہ ہے کہ آپ کومیری کوئی بات ناگوار گزرے اور میں عذاب الٰہی کی مستوجب ہوجاؤں۔علاوہ ازیں میں عمر رسیدہ اور عیال دار ہوں"۔۔۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:" تیز مزاجی تو اللہ رفع کردے  گا،باقی رہا عمر کامعاملہ تو میں بھی تمہاری عمر کا ہوں۔ اور تمہارا اہل وعیال میرا کنبہ ہے۔"پھر میں نے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  سے اپنی رضا کا اظہار کردیا۔اس طرح اللہ نے مجھے ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ   سے بہتر شوہر دے د یا۔(البدایہ والنہایہ)
[3] ۔ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا    کے نکاح پر غور کرنے سے اس نکاح کی حکمت کا پتہ چلتاہے۔ان کا والد ابو سفیان اپنی قوم کا سردار تھا۔قوم کا نشان جنگ  ان کےگھر میں رکھا جاتا تھا۔وہ مسلمانوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم  کا بدترین دشمن تھا۔اس نے جنگ اُحد حمراء الااسد اور بدر الاخریٰ میں کفار کے لشکر کی قیادت کی۔پھر جنگ احزاب میں مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دینے کا عزم لیے عرب کے تمام قبائل کو ساتھ لے کر چڑھ دوڑا۔لیکن جب اس کی بیٹی پیغمبر کے نکاح میں آئی تو اس کے بعد وہ کسی جنگ میں مسلمانوں کے خلاف لشکر کشی کرتا نظر نہیں آتا ۔آخر وہ وقت بھی آیا کہ وہ حلقہ بگوش اسلام ہوکر لشکر اسلام کے سپاہی بن گئے۔پھر لوگوں نے دیکھا کہ یہی خاندان لشکر اسلام کی قیادت کرتا نظر آتا ہے۔
[4] ۔حضرت جویریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا    کے نکاح کی حکمت دیکھئے۔۔۔ان کا باپ عرب کا مشہور ڈاکو اور مسلمانوں کا جانی دشمن تھا ۔بنو مصطلق کا مشہور  طاقتور اور جنگجو قبیلہ اس کے اشاروں پر چلتا تھا۔اس نکاح سے پہلے مسلمانوں کے خلاف ہونے والی ہر ایک جنگ میں یہ قبیلہ ضرور اس میں شامل ہوا۔ لیکن اس نکاح کے بعد مخاصمت نابود اور دشمنیاں ناپید ہوگئیں۔تمام قبیلہ نے راہزنی چھوڑ کر متمدن زندگی اختیار کرلی اور پھر مسلمانوں کےخلاف کسی جنگ میں شرکت نہیں کی۔
[5] ۔اس کے علاوہ ان کی بہن سردار نجد کے نکاح میں تھی۔اس نکاح نے ارض نجد میں صلح اور اسلام کے پھیلانے کے بہترین حالات پیدا کیے۔حالانکہ اس سے پہلے وہی اہل نجد تھے جنھوں نے ستر مبلغین کو اپنے علاقہ میں لے جاکردھوکہ سے قتل کردیاتھا۔وہ اہل نجد ہی تھے جن سے بار بار نقص امن اور فساد انگیزی کے واقعات ظہور میں آچکے تھے۔ہر وہ شخص جو امن عامہ اور اصلاح ملک کے قواعد کا منکر نہیں ،اسے تسلیم کرنا پڑےگا کہ یہ نکاح کس قدر ضروری تھا۔
[6] ۔انگریز مستشرق ٹامس کارلائل کا اقتباس اس لائق ہے کہ اس کو عظمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کی شہادت کے طور پر ذکر کیاجائے،وہ لکھتا ہے:
"محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے بارے میں اور کیا کچھ بھی کہا جائے لیکن وہ خواہش نفس کے غلام ہرگز نہیں تھے۔ہم بڑی غلطی کریں گے اگر اس انسان کو(معاذاللہ) ایک عام سانفس پرست سمجھ لیں جو سفلی جذبات بلکہ کسی بھی لطف اندوزی کا مریض ہو۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کاگھرانہ تنگ دست تھا،آپ کی عام غذا جو کی روٹی اور پانی تھا۔بسا اوقات مہینوں ان کے ہاں چولہے میں آگ نہ جلتی۔سیرت نگار  فخریہ لکھتے ہیں کہ آ پ صلی اللہ علیہ وسلم   اپنی جوتیوں کی خود مرمت کرلیاکرتے تھے۔ اپنی عبامیں خود پیوند لگاتے۔وہ ایک غریب،شفقت کرنے والے کم وسیلہ شخص تھے جو ہر اس چیز سے بے نیاز تھے۔جس کے لیے عام آدمی مشقت کرتے ہیں۔میں تو کہوں  گا:وہ ہرگز بُرے انسان نہ تھے۔ان میں ہر قسم کی بھوک سے بہتر کوئی شے ضرور تھی،ورنہ وہ اجڈ عرب لوگ جو تئیس سال تک ان کے اشارےپر(دشمن) سے جنگیں کرتے رہے،ہمیشہ ان(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) کی مصاحبت میں رہے،ان کاایسا احترام نہ کرتے۔کسی شہنشاہ کی تاج وکلاء سمیت ایسی اطاعت نہیں ہوئی جیسی ا س شخص کی ہوئی جو اپنی عبا میں خود پیوند لگا لیتے تھے"(ازواج مطہرات اور مستشرقین از ظفر علی قریشی،مترجم آسی ضیائی:ص46)