(محدث العصر علامہ ناصر الدین البانی رحمۃ اللہ علیہ  کی شخصیت سے اہل علم بخوبی واقف ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اسلاف کا ساقوت حافظہ عطا فرمایا۔اسماء رجال اور تحقیق حدیث کے سلسلہ میں روئے زمین پر کم از کم دور حاضر میں آپ جیسا کوئی دوسرا آدمی نظر نہ آیا آپ کی بہت سی تصانیف منصہ شہود پر آکر اہل علم اور قدر دان حضرات سے خراج تحسین حاصل کر چکی ہیں۔
آپ کی مشہور زمانہ تالیف صلوۃ النبی  صلی اللہ علیہ وسلم  ہے جس میں آپ نے احادیث مبارکہ کی روشنی میں آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم  کی نماز کا مکمل نقشہ فرمایا ہے یہ کتاب تمام مسلمانوں کے لیے انمول تحفہ ہے اس کا اردو ترجمہ ہو چکا ہے اور مارکیٹ میں بھی دستیاب ہے۔
علامہ موصوف نے اپنی اس کتاب کی تلخیص بھی شائع کی تھی جس میں انتہائی اختصار مگر حددرجہ جامعیت کے ساتھ نماز کے احکام بیان کئے گئے ہیں۔ الحمد اللہ اس مختصر کتاب کا ترجمہ کرنے کی سعادت راقم الحروف کے حصہ میں آئی ۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے سابقہ تراجم کتب و نگار شات کی طرح اسے بھی برادران اسلام کی اصلاح کے لیے نافع اور میرے لیے ذخیرہ آخرت بنائے۔
قارئین سے التماس ہے کہ اپنی دعاؤں میں راقم کو میرے والد محترم مولانا ابو سعید عبدالعزیز سعیدی مرحوم اور اساتذہ کرام کو بھی یاد رکھیں ۔(مترجم)

مقدمہ :۔
إن الحمد لله نحمده ونستعينه ونستغفره ونعوذ بالله من شرور أنفسنا ومن سيات أعمالنا من يهده الله فلا مضل له ومن يضلل فلا هادى له واشهد أن لا اله إلا الله وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله
امابعد۔۔۔میرے فاضل دوست المکتب الاسلامی کے مالک جناب الاستاذ زہبرالشادیش نے مجھے تجویز پیش کی کہ میں اپنی کتاب (صفة صلاة النبي  صلی اللہ علیہ وسلم  من التكبير إلى التسليم كأنك تراها)کی تلخیص اور اختصار کر کے اس کی عبارت کو عامتہ الناس کے لیے سہل ترکردوں۔ میں نے اسے ایک بابرکت تجویز سمجھا اور ایک زمانہ سے میرے ذہن میں بھی اس قسم کا خیال آرہا تھا اب خصوصاً جب ایک بھائی اور دوست سے یہ تجویز سنی تو اس نے مجھے آمادہ کیا کہ میں اپنی کثیر علمی مصروفیات کے باوجود  اس کام کے لیے کچھ وقت نکالوں ۔ چنانچہ میں نے اپنی وسعت بھر اس تجویز کو جلد از جلد عملی جامہ پہنانے کی ٹھانی اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے دعاہے اسے خالص اپنے لیے بنائیں اور اس کے ذریعہ میرے مسلمان بھائیوں کو فائدہ پہنچائیں ۔
میں نے اس میں اصل کتاب سے کچھ زائد باتیں ذکر کر دی ہیں جن کی طرف مجھے دوران تلخیص دھیان ہوا اور میں نے ان کا ذکر کر دینا مناسب سمجھا ۔ایسے ہی احادیث کے یا دعاؤں کے بعض جملوں میں مذکورہ الفاظ کی تشریح کا بھی اہتمام کیا ہے۔
علاوہ ازیں میں نے اس تلخیص میں بنیادی عنادین قائم کر کے ذیلی سرخیاں بھی قائم کر دی ہیں جن کے تحت مسلسل نمبروں کے تحت کتاب کے مسائل ذکر کئے ہیں نیز میں نے ہر مسئلہ میں اس کے رکن یا واجب ہونے کا حکم بھی بیان کردیا ہے اور جن مسائل کے حکم بیان کرنے سے سکوت کیا وہ مسنون ہیں۔
رکن:وہ ہوتا ہے جس کے ذریعہ وہ چیز مکمل ہو جس میں یہ ہے اور اس کے عدم وجود سے اصل چیز کا بطلان لازم ہو مثلاًنماز میں رکوع رکن ہے اس کے نہ ہونے سے نماز کا بطلان لازمی ہے۔
شرط: یہ بھی رکن کی طرح ہے البتہ یہ جس چیز کے لیے شرط ہوا اس سے خارج ہوتی ہے مثلاً نماز کے لئے وضو شرط ہے اس کے بغیر نماز درست نہیں ہوتی۔
واجب : وہ چیز جس کا حکم کتاب و سنت سے ثابت ہواور اس کی کنیت و شرطیت پر کوئی دلیل نہ ہو۔ اس کے کرنے والا ثواب کا مستحق اور بلاعذرترک کرنے والا عذاب کا سزا وار ہو۔
فرض : بھی واجب کی طرح ہو تا ہے۔
فرض اور واجب میں فرق کی اصطلاح نئی ہے جس کی کوئی دلیل نہیں۔
سنت:وہ عبادات جن  پر آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ہمیشہ یا عموماً عمل کیا ہواور اس پر عمل کرنے کا وجوبی حکم نہ دیا ہو۔ اس کرنے والا ثواب کا مستحق ہوا اور تارک کو سزا نہ دی جائے۔
ایک حدیث جسے مقلدین آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم  کی طرف منسوب کرتے ہوئے ذکر کرتے ہیں جس میں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:
"من ترك سنتى لم تنله شفاعتى"
"جس نے میری سنت کو ترک کیا اسے میری شفاعت نصیب نہ ہوگی۔"
اس کی آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم  سے کوئی اصل نہیں اس قسم کی احادیث کی نسبت آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی طرف کرنا جائز نہیں ۔ خطرہ ہے کہ یہ عمل آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے خلاف زبان درازی نہ ہو جا ئے ۔آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایاہے۔
"من قال على ما لم أقل فليتبوأ مقعده من النار"
"جس نے میری طرف ایسی بات منسوب کی جو میں نے نہیں کہی اس کا ٹھکانہ جہنم ہے"
ایک مزید بات جو میں بیان کرنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ اس کتاب میں ،میں نے  مذاہب اربعہ میں سے کسی متعین مذہب کو ذکر کنے کا التزام نہیں کیا بلکہ میں نے محدثین کا طریقہ اختیار کیا ہے کہ وہ لوگ  ہر اس حدیث پر عمل کرنے کا التزام کرتے ہیں جو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم سے سنداً ثابت ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا مذہب و مسلک تمام مسالک و مذاہب سے زیادہ قوی ہے۔ اس کی گوہی ہر مسلک و مذہب کے مصنف مزاج لوگوں نے دی ہے انہی میں سے ابو الحسنات عبد الحی لکھنؤی حنفی بھی ہیں ۔انھوں نے فرمایا :
ایسا کیوں نہ ہو جبکہ یہ لوگ صحیح معنوں میں نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کے وارث اور ان کی شرع کے صحیح معنوں میں تو اب ہیں ۔اللہ تعالیٰ ہمیں ان ہی میں سے اٹھائے اور ان کی محبت و سیرت پر ہمارا خاتمہ فرمائے۔آمین!
اور اللہ تعالیٰ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ  پر رحمتیں فرمائے، انھوں نے فرمایا:
دِينُ النَّبِيِّ مُحَمَّدٍ أَخْبَارٌ
نِعْمَ الْمَطِيَّةُ لِلْفَتَى الآثَارُ
لا تَرْغَبَنَّ عَنِ الْحَدِيثِ وَأَهْلِهِ
فَالرَّأْيُ لَيْلٌ وَالْحَدِيثُ نَهَارُ
وَلَرُبَّمَا جَهِلَ الْفَتَى أَثَرَ الْهُدَى
وَالشَّمْسُ بَازِغَةٌ لَهَا أَنْوَارُ
"نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کا دین احادیث ہیں اور انسان کے لیے بہترین سواری ہیں تو حدیث اور اہل حدیث سے اعراض بالکل نہ کرکیونکہ رائے رات کی مانند (سیاہ) اور حدیث دن کی مانند روشن ہے بسااوقات انسان سیدھی راہ کے نشانات بھول جاتا ہے حالانکہ چمکتے سورج کی روشنیاں بھی موجود ہوتی ہیں ۔
(محمد ناصر الدین البانی(دمشق 26صفر/1392ھ 1972ء)
کعبہ کی طرف متوجہ ہونا:۔
1۔نمازی جب نماز کے لیے کھڑا ہو وہ جہاں کہیں بھی ہو، قبلہ کی طرف منہ کرے، نماز فرضی ہو یا نفلی قبلہ رو ہونا نماز کا رکن ہے اس کے بغیرنماز نہیں ہو تی۔
2۔گمسان کی لڑائی میں نماز خوف کے موقعہ پر لڑنے والے شخص سے نماز میں قبلہ روہو نا ساقط ہو جا تا ہے۔۔۔اسی طرح وہ شخص جو قبلہ کی طرف منہ کرنے سے عاجز ہو جیسے مریض یا وہ آدمی جو کشتی گاڑی ، ہوائی جہاز وغیرہ پر ہواور اسے نماز کا وقت ختم ہونے کا اندیشہ ہو۔۔۔اسی طرح جو شخص جانور وغیرہ پر سفر کر رہا ہوا ور اسی حال میں نفلی نماز یا وترپڑھ رہا ہو ان سب کے لیے قبلہ کی طرف متوجہ ہونا ضروری نہیں۔ہاں البتہ نفلی نماز اور وترپڑھنے والے شخص کے لیے ممکن ہو تو تکبیر تحریمہ کے وقت قبلہ رد ہو نا مستحب ہے اس کے بعد جدھر کو سفر کرنا چاہتا ہو چلاجائے۔
3۔جو شخص عین کعبہ کو دیکھ رہا ہواس پر عین کعبہ کی طرف متوجہ ہو نا واجب ہے اور جو شخص کعبہ کو نہ دیکھ رہا ہو وہ اس کی جہت کی طرف منہ کرے۔
غلطی سے غیر کعبہ کی طرف نماز پڑھ لے تو!
4۔کوئی شخص بادل وغیرہ کی صورت میں انتہائی کوشش کے باوجودقبلہ کے علاوہ کسی دوسری جانب منہ کرکےنماز پڑھ لے تو اس کی نماز درست ہوگیاور اس پر نماز کا اعادہ ضروری نہیں۔
5۔کوئی شخص قبلہ کے علاوہ کسی دوسری جانب منہ کر کے نماز پڑھ رہا ہو۔ اس دوران کوئی معبترشخص اسے قبلہ کی جہت بتلادے تو تو اس پر لازم ہے کہ اُدھرکو منہ کر لے اس کی نماز درست ہو گی۔
قیام :۔
6۔قیام نماز کا رکن ہے اس لیے نمازی پر لازم ہے کہ وہ کھڑا ہو کر نماز ادا کرے ۔البتہ مندرجہ ذیل صورتوں میں نمازی نماز میں کھڑے ہونے سے مستثنیٰ ہیں۔
خوف اور شدید لڑائی کے وقت نماز پڑھنے والے کے لیے جائز ہے کہ وہ سوار ہی نماز پڑھ لے،وہ مریض جو کھڑاہونے کی طاقت نہیں رکھتا اگر ممکن ہو تو بیٹھ کر نماز پڑھ لے اور اگر اس کے لیے بیٹھنا بھی مشکل ہو تو پہلو کے بل لیٹ کر پڑھ لے۔
اسی طرح نفل نماز پڑھنے والے کے لیے جائز ہے کہ وہ چاہے تو سوار ہونے کی حالت میں یا بیٹھ کر نماز پڑھ لے اور رکوع وسجود سر کے اشارہ سے کر لےالبتہ کی نسبت سجدہ مین زیادہ جھکےاسی طرح مریض بھی بیٹھ کر نماز پڑھ لے اور رکوع وسجود اشارہ سے کر لے۔
7۔بیٹھ کر نماز پڑھنے والے کے لیے اپنے سامنے زمین پر کوئی بلند چیز رکھ کر اس پر سجدہ کرنا جائز نہیں بلکہ جیسا کہ ہم نے پہلے ذکر کیا اگر وہ براہ راست زمین تک نہیں سکتا تو اشارہ سے پڑھ لے البتہ رکوع کی نسبت نجدہ میں زیادہ جھکے۔
کشتی اور جہاز میں نماز پڑھنا:۔
8۔کشتی اور ہوائی جہاز میں فرض نماز پڑھنا جائز ہے۔
9۔ان میں نماز پڑھتے ہوئے اگر گرنے کا خطرہ ہوتو بیٹھ کر پڑھ لے۔
10۔بڑھاپے یا کمزوری کی صورت میں نمازی کے لیے قیام کی حالت میں کسی ستون یا لاٹھی کا سہارالینا جائزہے۔
ایک ہی نماز میں کھڑا ہونا اور بیٹھ رہنا:۔
11۔رات کی نفلی نماز کھڑے ہو کر یا بغیر کسی وجہ کے بیٹھ کر پڑھ لینا بھی جائز ہے اور یوں بھی جائز ہے کہ بیٹھ کر نماز پڑھے اور رکوع سے کچھ قبل کھڑا ہو جائے اور باقی ماندہ آیات کھڑے ہو کر تلاوت کرلے، پھر رکوع اور سجدے کرے پھر دوسری رکعت میں دوبارہ اسی طرح کرے۔
12۔بیٹھ کر نماز پڑھنے کی صورت میں آلتی پالتی مار کر یا جس طرح بیٹھنے میں نمازی کو سہولت ہو، بیٹھ سکتا ہے۔
جوتوں سمیت نماز پڑھنا:۔
13۔جیسا کہ نمازی کے لیے جوتے پہن کر نمازپڑھنا جائز ہے اسی طرح ننگے پاؤں بھی جائز ہے۔
14۔افضل یہ ہے کہ وقتاً فوقتاًدونوں طرح جیسے آسانی ہو نماز پڑھے ۔نماز کے لیے جوتے پہننے یا اترنے کا تکلف نہ کرے بلکہ وہ ننگے پاؤں ہوتو اسی طرح پڑھ لے اور اگر جوتے پہنے ہوئے ہو تو جوتوں سمیت پڑھ لے الایہ کہ کو ئی دوسری مجبوری لا حق ہو۔
15۔جوتے اتار کر اپنی دائیں طرف رکھنے کی بجائے بائیں جانب رکھے بشرطیکہ ادھر کوئی دوسرا شخص نماز نہ پڑھ رہا ہو۔اگر اس کی بائیں جانب کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو تو اپنے پاؤں کے درمیان رکھ لے۔آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم  سے یہی حکم ثابت ہے۔[1]
منبر پر نماز پڑھنا :۔
16۔امام کے لیے جائز ہے کہ لوگوں کو سکھانے اور تعلیم دینے کی خاطر منبر وغیرہ کسی بلند جگہ پر نماز پڑھ کر دکھائے۔ جس کا طریقہ یہ ہے کہ مبر پر کھڑا ہو جا ئے وہیں تکبیر تحریمہ کہے قرآءت کرے۔رکوع کرے پھر الٹے پاؤں نیچے اتر کر منبر کے قریب سجدے کرے اس کے بعد پھر اسی طرح کرے جیسے پہلی رکعت میں کیا تھا ۔
سترہ کی طرف منہ کر کے اور اس کے قریب نماز پڑھنا واجب ہے:۔
17۔نمازی پر لازم ہے کہ وہ سترہ کی طرف منہ کر کے نمازپڑھے وہ مسجد میں ہو یا کسی دوسری جگہ نمازی چھوٹا ہو یا بڑا یہ حکم سب کے لیے برابر ہے اس لیے کہ آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم    کا یہ ارشاد عام ہے کہ
"سترہ کے بغیرنماز نہ پڑھو اور نہ ہی کسی کو سامنے سے گزرنے کی جازت دو۔اگر سامنے سےگزرنے والا ضد اور اصرار کرے تو اس سے لڑپڑو کیونکہ اس کے ہمرا ہ شیطان ہوتا ہے۔"
18۔سترہ کے قریب کھڑے ہو نا بھی واجب ہے آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس کا حکم دیا ہے۔
19۔آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم  کے سجدہ کرنے کی جگہ اور دیوارکے مابین تقریباً بکری کے گزرنے کی جگہ ہوتی تھی جو شخص سترہ کے اتنا قریب ہو کر نماز پڑھے وہ سترہ کے قریب ہی ہو تا ہے۔[2]
سترہ کی بلندی:۔
20۔ضروری ہے کہ سترہ زمین سے ایک یا دو بالشت بلند ہو، اس لیے کہ آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:
"إذا وضع أحدكم بين يديه مثل مؤخرة الرحل فليصل ولا يبال من مر وراء ذلك"
"جب تم میں سے کوئی اپنے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز رکھ لے تو نماز پڑھتا رہے اور اس سے ورے گزرنے والوں کی پرواہ نہ کرے"[3]
21۔نمازی عین سترہ کی طرف متوجہ ہو کیونکہ سترہ کی طرف نماز پڑھنے کا یہی ظاہری مطلب ہے۔ بالکل سامنے کھڑےہونے کی بجائے کچھ دائیں یا بائیں جانب ہو نا ثابت نہیں۔
22۔زمین میں گاڑی ہوئی لکڑی ،درخت ستون کی طرف چار پائی پر بستر میں لیٹی عورت کی طرف اور جانور ،خواہ اونٹ ہی کیوں نہ ہو سب کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا جائز ہے۔
قبروں کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کی حرمت:۔
23۔قبروں کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا قطعاً جائز نہیں قبریں انبیاء کی ہوں یا کسی اور کی۔
نمازی کے سامنےسے گزرنے کی حرمت خواہ مسجد حرام ہی ہو:۔
24۔نمازی کے سامنے سترہ ہوتو نمازی کے آگے سے گزرنا جائز نہیں اس بارہ میں مسجد حرام اور دیگر مساجد کا کوئی فرق نہیں عدم جواز میں تمام مساجد برابر ہیں اس لیے کہ آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم  کایہ فرمان عام ہے۔
"لَوْ يَعْلَمُ الْمَارُّ بَيْنَ يَدَيْ الْمُصَلِّي مَاذَا عَلَيْهِ مِنْ الإِثْمِ ، لَكَانَ أَنْ يَقِفَ أَرْبَعِينَ ، خَيْراً لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ" .
کہ"نمازی کے آگے سے گزرنےوالے کو اگر اپنے اس عمل کے گناہ کا علم ہو تو وہ گزرنے کی بجائے چالیس برس انتظار کرنا برداشت کرے"
اس سے نمازی اور اس کے سجدہ کی درمیانی جگہ سے گزرنا مراد ہے۔[4]
نمازی کا اپنے سامنے سے گزرنے والوں کو روکنا واجب ہے خواہ وہ مسجد حرام ہو:۔
25۔جو شخص سترہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھ رہا ہو، اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے سامنے سے کسی کو گزرنے دے جیسا کہ ایک حدیث پہلے گزرچکی ہے کہ"تو اپنے سامنے سے کسی کو نہ گزرنے دے"۔۔۔اسی طرح ایک اور حدیث ہے۔
إذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إلَى شَيْءٍ يَسْتُرُهُ مِنْ النَّاسِ , فَأَرَادَ أَحَدٌ أَنْ يَجْتَازَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلْيَدْفَعْهُ ، فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ ، فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ .
"جب تم میں سے کوئی کسی چیز کو لوگوں سے سترہ بنا کر اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھ رہا ہواورکوئی اس کے آگے سے گزرناچاہے تو اس کے سینہ پر دھکادے اور حتیٰ الامکان اسے ہٹائے(اور ایک روایت میں ہے کہ اسے دوبارروکے )اگر نہ رکےتو اس سے لڑےکیونکہ وہ شیطان ہے"
کسی کو گزرنے سے منع کرنے کے لیے آگے کو چلنا:۔
26۔غیر مکلف چیزوں مثلاًجانور اور چھوٹے بچے وغیرہ کو اپنے سامنے سے گزرنے سے منع کرنے کی خاطر نمازی کے لیے ایک یا اس سے زیادہ قدم آگے کو چلنا جائز ہے تاکہ وہ نمازی کے پیچھے سے گزرے۔
نماز کو توڑنے والی چیزیں:۔
27۔نماز کیں سترہ کا فائدہ یہ ہے کہ وہ اپنی طرف متوجہ ہو کر نماز پڑھنے والے اور اس کے سامنے سے گزرکر نماز کو فاسد کرنے کے درمیان حائل ہو جاتا ہے۔بخلاف اس شخص کے جو سترہ نہیں رکھتا جب اس کے سامنے سے بالغ عورت گدھا یا سیاہ کتا گزرجائے تو اس کی نماز ٹوٹ جاتی ہے۔
مسئلہ نیت:۔
نمازی کے لیے ضروری ہے کہ وہ جس نماز کے لیے کھڑا ہو وہ دل میں اس کی نیت اور تعین کرےمثلاً یہ کہ نماز ظہر کے فرض ہیں یا عصر کے یا ان کی سنتیں ہیں۔نیت کرنا نماز کے لیے یا تو شرط ہے یا رکن۔زبان سے نماز کی نیت کے الفاظ ادا کرنا بدعت اور خلاف سنت ہے اور ان مقلد ین کے آئمہ میں سے کسی بھی امام نے یہ نہیں کہا۔
تکبیر:۔
29۔پھر اللہ اکبر، کہہ کر نماز شروع کرے ۔یہ تکبیر نماز کارکن ہے اس کی دلیل آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم  کا وہ فرمان مبارک ہے جس میں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:
"مِفْتَاحُ الصَّلاةِ الطُّهُورُ ، وَتَحْرِيمُهَا التَّكْبِيرُ ، وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ"
"وضو نماز کی چابی ہے تکبیر نماز میں داخل کرنے والی اور سلام نماز سے خارج کرنے والاہے۔"
30۔کسی بھی نماز میں تکبیر بلند آواز سے نہ کہے الایہ کہ نمازی خود امام ہو۔
31۔امام بیمارہو۔ اس کی آواز پست ہو یا نمازیوں کی تعداد زیادہ ہو تو اس قسم کی صورتوں میں مؤذن کے لیے امام کی تکبیر کے ساتھ بآواز بلند تکبیرکہہ کر لوگوں کو سنانا جائز ہے۔
32۔امام کی تکبیر ختم ہونے کے بعد مقتدی تکبیر کہے۔
رفع الیدین اور اس کی کیفیت:۔
33۔نمازی تکبیر کے ساتھ ہی یا اس سے پہلے یا بعد ہاتھ اٹھائےیہ تینوں طریقے سنت سے ثابت ہیں۔
34۔نمازی اپنے ہاتھوں کو انگلیاں کھول پھیلا کر اٹھائے۔
35۔رفع الیدین کے موقعہ پر اپنی ہتھیلیاں کندھوں کے برابر اٹھائے اور وقتاً فوقتاً ان کے اٹھانے میں اس قدر مبالغہ کرے کہ وہ کانوں کے نچلے حصہ کے برابر پہنچ جائیں۔[5]
ہاتھوں کو باندھنا اور اس کی کیفیت:۔
36۔پھر تکبیر کہنے کے بعد نمازی اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھے ،یہ عمل جملہ انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کی سنتوں میں سے ہے اور آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم  نے بھی صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کو اس کا حکم دیا ۔لہٰذا ہاتھوں کو لٹکائے رکھنا جائز نہیں۔
37۔دایاں ہاتھ بائیں ہتھیلی کی پشت پونچی یا کلائی پر رکھے ۔
38۔اور کبھی رائیں ہاتھ سے بائیں کو پکڑلے۔[6]
ہاتھ باندھنے کی جگہ :۔
39۔ نمازی اپنے ہاتھوں کو فقط سینے پر رکھے اس بارے میں مر د اور عورت کا حکم ایک ہی ہے۔[7]
40۔(نماز میں) دایاں ہاتھ کو کھ پر رکھنا جائز نہیں۔
خشوع اور سجدہ کی جگہ دیکھنا :۔
41۔نمازی پر لازم ہے کہ نماز میں خشوع اور عاجزی کا ظہار کرے اور اس قسم کی زینتوں اور نقش و نگارسے اجتناب کرے جو اسے نماز سے غافل کریں۔کھانے کی طلب شدید ہو تو کھانے کی موجودگی میں نماز نہ پڑھے اسی طرح اگر پیشاب ،پاخانہ روکا ہوتو اس حالت میںبھی نماز پڑھنا منع ہے۔
42۔قیام کی حالت میں سجدہ کی جگہ پر نظر رکھے۔
43۔دائیں بائیں متوجہ نہ ہوادھر اُدھرکی توجہ سے شیطان انسان کی نماز کو اُچک لیتا ہے۔
44۔(دوران نماز) آسمان کی طرف نظر اٹھانا جائز نہیں۔
نماز شروع کرنے کی دعا:۔
45۔اس کے بعد آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم  سے ثابت شدہ دعاؤں میں سے کسی دعا کے ساتھ نماز کی ابتدا کرے یہ دعائیں بہت سی ہیں ۔ ان میں سب سے مشہور یہ دعا ہے۔
"سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعالَى جَدُّكَ وَلا إِلَهَ غَيْرُكَ ."
نماز کی ابتدا میں دعا پڑھنے کا حکم آیا ہے۔[8]اس لیے اس دعا کا خیال رکھنا چاہیے ۔
قرآءت کرنا:۔
46۔پھر اللہ تعالیٰ سے (شیطان کے شر اور فتنہ سے)پناہ مانگے (یعنی تعوذ پڑھے) یہ واجب ہے اور اس کا ترک کرنا گناہ ہے۔
47۔استعاذہ کے لیے کبھی کبھی یوں کہنا سنت ہے۔
"أَعُوذُ بالله من الشيْطانِ الرجِيمِ من هَمْزِهِ، ونَفْثِهِ، ونَفْخِهِ،"
48۔اور کبھی یو کہے :
أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنْ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ
49۔پھر سری اور جہری نمازوں میں (بسم الله الرحمان الرحيم)آہستہ پڑھے۔
فاتحہ کی قرآءت:۔
50۔پھر سورت فاتحہ مکمل پڑھے ۔بسم اللہ الرحمٰن الرحیم بھی فاتحہ کا حصہ ہے ۔فاتحہ کا پڑھنا نماز کارکن ہے، اس کے بغیرنماز نہیں ہوتی ۔لہٰذاجن لوگوں کو یہ سورت یاد نہ ہو، ان پر اس خوب حفظ کرنا واجب ہے۔
51۔جو شخص فاتحہ کی قرآءت نہ کرسکتا ہو وہ یہ ذکر کرے۔( سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله)[9]
52۔فاتحہ کی قرآءت کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ ہر آیت علیحدہ علیحدہ پڑھے اور آیات پر وقف کرے۔مثلاً یوں  پڑھے۔بسم االلہ الرحمٰن الرحیم پھر وقف کرے۔پھر کہے (بسم الله الرحمان الرحيم)پھر وقف کرے کہے (الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ)پھر وقف کرے پھر کہے (الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ)پھر وقف کرے۔پھر کہے۔ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ اسی طرح آخر تک قرآءت مکمل کرے۔ آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم  کی تمام قرآءت ایسے ہی ہوتی تھی ۔آپ آیات کے اختتام پر وقف فرماتے اور کسی آیت کو بعد والی آیت سے نہ جوڑتے خواہ وہ معنی کے لحاظ سے ایک دوسری سے متعلق ہی ہو تیں۔
53۔( مَالِكِ)کے لفظ کو (مَلِكِ)پڑھنا بھی جائز ہے۔
مقتدی کا فاتحہ پڑھنا :۔
54۔سری اور جہری تمام نمازوں میں مقتدی پر امام کے پیچھے فاتحہ پڑھنا ضروری ہے خواہ وہ امام کی قرآءت نہ بھی سن پارہا ہو یا جب امام فاتحہ پڑھ چکنے کے بعد اتنا سکتہ کرے کہ مقتدی اور وقفہ میں فاتحہ پڑھ سکے۔ ہماری تحقیق یہ ہے کہ یہ لمبا سکوت سنت سے ثابت نہیں۔[10]
فاتحہ کے بعد قرآءت:۔
55۔عام نمازوں کی پہلی دورکعتوں حتیٰ کہ نماز جنازہ میں بھی فاتحہ کے بعد کوئی دوسری سورت یا چند آیات پڑھنا مسنون ہے۔
56۔کبھی قرآءت طویل کرے اور کبھی سفر کھانسی ،بیماری یا بچوں کے رونے وغیرہ کے سبب قرآءت مختصر کرے۔
57۔مختلف نمازوں میں قرآءت مختلف ہوتی ہے۔ باقی نمازوں کی نسبت صبح کی نماز میں قرآءت زیادہ طویل ہو اس سے مختصر ظہر کی نماز میں اس کے بعد بالترتیب عصر اور پھر عشاء کی نماز میں اسی طرح مغرب کی نماز میں عموماً قرآءت مختصر ہو۔
58۔ رات کی نماز (تہجد ) میں قرآءت ان سب نمازوں سے زیادہ لمبی ہو۔
59۔دوسری رکعت کی نسبت پہلی رکعت میں زیادہ قرآءت کرنا مسنون ہے۔
60۔نمازی آخری دورکعتوں کی نسبت تقریباًآدھی قرآءت کرے۔
ہر رکعت میں فاتحہ پڑھنا :۔
61۔ہر رکعت میں فاتحہ پڑھنا واجب ہے۔
62۔کبھی کبھی آخری دو رکعتوں میں فاتحہ کے علاوہ بھی مسنون ہے۔
63۔امام کے لیے سنت سے ثابت شدہ قرآءت سے زیادہ پڑھنا جائز نہیں کیونکہ اس سے عمر رسیدہ مریض بچے کو دودھ پلانے والی عورت اور کسی کام والے کے لیے وقت اور مشقت ہو گی۔
سراً اور جہراً قرآءت کرنا :۔
64۔نماز فجر ،جمعہ ،عیدین ، استسقاء،کسوف اور مغرب وعشاء کی نماز کی پہلی دو رکعتوں میں قرآءت بلند آواز سے کی جائے ۔ظہر عصر، مغرب کی تیسری رکعت اور عشاء کی آخری دو رکعتوں میں قرآءت  آہستہ کی جائے۔
65۔سری نمازوں میں امام کے لیے جائز ہے کہ کبھی کبھی کوئی آیت بلند آواز سے بڑھ کر مقتدیوں کو سنا دے
66۔وتر اور رات کی نماز (تہجد ) میں کبھی آہستہ اور کبھی جہراً قرآءت  کرے آواز کی بلندی میں اعتدال ہو ۔
قرآن کریم ٹھہر ٹھہر کر پڑھنا:۔
67۔سنت ہے کہ قرآن کریم تیزی اور عجلت کی بجائے ٹھہر ٹھہر کر پڑھے بلکہ ایک ایک حرف علیحدہ علیحدہ ہواور اپنی آواز سے قرآن کریم کو مزین کرے اور علم تجوید کے ماہرین کے مقررہ قواعد کے مطابق خوبصورتی سے پڑھے اور خود ساختہ طرزوں اور موسیقی کی طرزوں پر نہ پڑھے۔
امام کو نماز میں بھول پر مطلع کرنا :۔
68۔جب امام قرآءت میں بھول جائے تو مقتدی کے لیے جائز ہے کہ وہ امام کو غلطی پر مطلع کرے۔
رکوع:۔
69۔ قرآءت سے فارغ ہو کر مناسب سکتہ کرے تاکہ سانس واپس آسکے ۔
70۔پھر تکبیر تحریمہ میں بیان کردہ طریقہ کے مطابق رفع الیدین کرے۔
71۔اور تکبیر کہے ، یہ واجب ہے۔
72۔پھر رکوع کرے یہاں تک کہ اس کا ہر جوڑ اپنی جگہ پر آجائے رکوع نماز کا رکن ہے،
رکوع کی کیفیت:۔
73۔اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھے اور گھٹنوں کو خوب پکڑے انگلیاں یوں کھلی ہوئی گویا کہ گھٹنوں کوپکڑے ہوئے ہے یہ سب واجب ہے۔
74۔اپنی پشت کو پھیلا ئے اور اس حد تک کشادہ رکھے کہ اگر اس پر پانی ڈالاجائے تو ٹھہر سکے یہ بھی واجب ہے۔
75۔سر کو نہ تو جھکائے اور نہ اوپر کو اٹھائے  بلکہ پشت کے برابر رکھے۔
76۔اپنی کہنیوں کو پہلوؤں سے دور رکھے۔
77۔رکوع میں یہ دعا تین یا اس سے زیادہ مرتبہ پڑھے۔( سبحان ربي العظيم)[11]
ارکان کو برابرکرن:۔
78۔نماز کے جملہ ارکان رکوع رکوع کے بعد قیام سجدے اور سجدوں کے درمیان بیٹھنا یہ تمام ارکان تقریباً برابر کرنا مسنون ہے۔
79۔ رکوع اور سجدوں میں قرآن کریم پڑھنا جائز نہیں۔
رکوع کے بعد سیدھے کھڑے ہونا:۔
80۔پھر رکوع سے سر اٹھانے یہ نماز کارکن ہے۔
81۔رکوع کے بعد سیدھا کھڑا ہو کر یہ دعا پڑھے۔ (سَمِعَ اللهُ لِمَن حمِده،)یہ پڑھنا واجب ہے۔
82۔سیدھے کھڑے ہوتے ہوئے ذکر کردہ طریقہ کے مطابق رفع الیدین کرے۔
83۔پھر اطمینان سسے سیدھا کھڑا ہویہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر آجائے ۔یہ اطمینان سے سیدھا کھڑا ہو نا رکن ہے۔
84۔اس قیام میں دعا(ربنا ولك الحمد)پڑھے یہ دعا پڑھنا ہر نمازی پر واجب ہے خواہ وہ مقتدی ہو۔ یہ دعا قیام (قومہ) میں پڑھے (سَمِعَ اللهُ لِمَن حمِده،))سیدھے کھڑے ہوتے ہوئے پڑھے ۔
85۔جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے کہ رکوع اور قیام طول میں برابر ہو۔
سجود :۔
86۔پھر اللہ اکبر کہے ۔ یہ کہنا واجب ہے۔
87۔اور کبھی (تکبیر کہتے ہوئے) رفع الیدین کرے۔
ہاتھوں کا آسرالینا :۔
88۔پھر ہاتھوں کے سہارے سجدوں کے لیے جھکے اور گھٹنوں سے پہلے ہاتھ (زمین پر) رکھے۔آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم  نے یہی حکم دیا اور یہی عمل آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  سے ثابت ہے اور آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اونٹ کی طرح بیٹھنےسے منع فرمایا اس لیے کہ وہ اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھتا ہے جو اس کی اگلی ٹانگوں  میں ہوتے ہیں۔
89۔جب سجدہ کرے تو ہتھیلیاں پھیلا کر زمین پر رکھے سجدہ نماز کارکن ہے۔
90۔انگلیاں ملاکر اور جوڑ رکھے۔
91۔انہیں قبلہ کی طرف سیدھی رکھے۔
92۔ہتھیلیاں کندھوں کے برابر رکھے۔
93۔ہتھیلیاں کبھی کانوں کے برابر رکھ لے۔
94۔باز وزمین سے بلندرکھےاور کتے کی مانند زمین پر نہ پھیلائےیہ واجب ہے۔
95۔اپنی ناک اور پیشانی زمین پر ٹکائے یہ رکن ہے۔
96۔گھٹنے بھی زمین پر ٹکائے۔
97۔پاؤں کے نیچے بھی زمین پر لگائے۔
98۔پاؤں سیدھے کھڑے رکھے یہ سب کیفیات واجب ہیں۔
99۔انگلیاں قبلہ رو کرے۔
100۔ایڑیاں (آپس میں) خوب ملالے۔
سجدوں میں اطمینان :۔
101۔نمازی پر لازم ہے کہ وہ سجدوں میں خوب اطمینان کرے اوراس کا طریقہ یہ ہے کہ سجدہ کے تمام اعضاءکو برابرزمین پر ٹکائے وہ اعضاء یہ ہیں ۔پیشانی اور ناک دونوں ہتھیلیاں دونوں گھٹنےدونوں پاؤں کے نیچے۔
102۔جو شخص (مذکورہ اندازپر) سجدہ کرے اسے یقیناً اطمینان حاصل ہوتا ہے۔
103۔سجدہ میں "سبحان ربي الأعلى"تین یا اس سے زیادہ مرتبہ کہے۔[12]
104۔سجدہ میں کثرت سے دعائیں کرنا مستحب ہے کیونکہ سجدہ میں دعا کی قبولیت یقینی ہوتی ہے۔
105۔سجدہ رکوع کے تقریباً برابر ہو نا چاہئے۔
106۔سجدہ زمین پر کرناجائز ہے اور اس چیز پر بھی جو نمازی کی پیشانی اور زمین کے درمیان حائل ہو۔
107۔سجدہ کی حالت میں قرآن پڑھنا جائز نہیں ۔
پاؤں بچھا نا اور سجدوں کے درمیان ایڑیوں پر بیٹھنا :۔
108۔پھر اللہ اکبر کہتے ہوئے سر اٹھائے یہ تکبیرواجب ہے۔
109۔اور کبھی رفع الیدین کرے۔[13]
110۔پھر اطمینان سے بیٹھ رہے کہ ہر ہڈی اپنی جگہ لوٹ آئے یہ اطمینان رکن ہے۔
111۔اور اپنابایاں پاؤں بچھا  کر بیٹھے یہ واجب ہے۔
112۔دایاں پاؤں کھڑارکھے۔
113۔انگلیاں قبلہ رورکھے۔
114۔کبھی کبھی اقعاء بھی جائز ہے۔ دونوں پاؤں کو کھڑاکر کے ایڑیوں پر بیٹھنا اقعاہ کہلاتا ہے۔
115۔(سجدوں کے درمیان) بیٹھے ہوئے یہ دعا پڑھے۔
"اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، وَارْحَمْنِي،.وَاجْبُرْنِي وَارْفَعْنِي وَاهْدِنِي، وَعَافِنِي، وَارْزُقْنِي "
116۔اور اگر (نمازی )چاہے تو(بار بار) یوں کہے :
 "ربِّ اغْفِرْ لِي... ربِّ اغْفِرْ لِي"
117۔(نمازی) سجدوں کے درمیان سجدہ کے تقریباً برابر بیٹھے۔
دوسرا سجدہ :۔
118۔پھر اللہ اکبر کہے یہ تکبیر واجب ہے۔
119۔اور کبھی کبھی اس تکبیر کے ساتھ ہاتھ اٹھالے۔(14)
120۔اور دوسرا سجدہ کرے یہ بھی رکن ہے۔
121۔یہ سجدہ بھی پہلے سجدہ کی مانند کرے۔
جلسہ استراحت:۔
122۔دوسرے سجدہ سے سراٹھا کر جب دوسری رکعت کے لیے کھڑا ہو تو تکبیر وجوباًکہے۔
123۔اور کبھی ہاتھ اٹھالے۔(15)
124۔کھڑا ہونے سے پہلے دائیں پاؤں پر اطمینان اور سکون سے بیٹھ رہے ۔یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ واپس آجائے۔
دوسری رکعت:۔
125۔پھر آٹا گوندھنے والے کی مانند مٹھی بند کر کےزمین پر رکھ کر ٹیک لیتے ہوئے دوسری رکعت کے لیے کھڑا ہو دوسری رکعت بھی رکن ہے۔
126۔یہ رکعت بھی پہلی رکعت کی طرح پڑھے۔
127۔سوائے اس کہ اس رکعت میں ابتدا ء نماز کی دعا نہ پڑھے۔
128۔اس رکعت کو پہلی سے(ذرا) مختصر کرے۔
تشہد کے لیے بیٹھنا :۔
129۔دوسری رکعت سے فارغ ہو کر تشہد کے لیے بیٹھے،یہ تشہد واجب ہے۔
130۔اس طرح پاؤں بچھا کر بیٹھےجیسے سجدوں کے درمیان بیٹھنے کا ذکر ہوا۔
131۔تشہد میں اقعاء(ایڑیوں پر بیٹھنا )جائز نہیں۔
132۔(نمازی) اپنی دائیں ہتھیلی کو اپنی دائیں ران اور گھٹنے پر رکھے اور دائیں کہنی کی آخری حد ران ہے۔اس سے پیچھے نہ کرے۔
133۔بائیں ہتھیلی بائیں ران اور گھٹنے پر کھول کر رکھے۔
134۔(تشہدمیں)ہاتھ خصوصاًبائیں کی ٹیک لگا کر نہ بیٹھے۔
انگلی کو حرکت دینا اور اس کی طرف دیکھنا :۔
135۔اپنے دائیں ہاتھ کی تمام انگلیوں کو بند کر رکھے اور کبھی انگوٹھا درمیانی انگلی پر رکھ لے۔
136۔اور کبھی انگوٹھےاور درمیانی انگلی کا حلقہ بنالے۔
137۔شہادت کی انگلی سے قبلہ کی طرف اشارہ کرے۔
138۔نظر انگلی کی طرف ٹکا کر رکھے۔
139۔ابتداء تشہد سے آخر تک انگلی کو حرکت دیتا اور دعائیں کرتا رہے۔
140۔بائیں ہاتھ کی انگلی سے اشارہ نہ کرے۔
141۔(مٹھی کو بند اور انگلی سے اشارہ )ہر تشہد میں کرے ۔
تشہد کے الفاظ اور اس کے بعد کی دعائیں:۔
142۔تشہد واجب ہے اگر نمازی تشہد بھول جائے تو سہو (بھول)کے دوسجدےکرے۔
143۔(تشہد ) آہستہ پڑھے۔
144۔(تشہد کے) الفاظ یہ ہیں۔
(التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ)[14]
145۔اس کے بعد آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم  پر یوں درود پڑھے:
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ
146۔اگر آپ اختصار چاہیں تو یوں کہہ لیں:
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ وَ بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ
147۔پھر مسنون دعاؤں میں سے جو دعا زیادہ پسندہو، پڑھےاور اللہ سے دعاکرے۔
تیسری اور چوتھی۔رکعت:۔
148۔ پھر (تشہد کے بعد )وجوباًاللہ اکبر بیٹھے بیٹھے تکبیر کہنا مسنون ہے ۔
149۔اور کبھی ہاتھ اٹھالے۔
150۔پھر تیسری رکعت کے لیے کھڑاہو ،یہ رکعت ، بعد والی (چوتھی ) رکعت کی طرح رکن ہے۔
151۔چوتھی رکعت کے لیے کھڑا ہوتے وقت بھی اسی طرح کرے۔
152۔لیکن کھڑے ہونے سے پہلے بائیں پاؤں پر اطمینان سے برابر بیٹھے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ واپس آجائے۔
153۔پھر ہاتھوں کا آسرالیتے ہوئےاسی طرح کھڑا ہو جیسے دوسری رکعت کے لیے کھڑا ہوتے وقت کیا تھا ۔
154۔پھر تیسری اور چوتھی رکعت میں سورت فاتحہ و جوباًپڑھے۔
155۔کبھی کبھی اس کے ساتھ کوئی آیت یا اس سے زیادہ ملالے۔
قنوت نازلہ اور اس کا موقع:۔
156۔ مسلمانوں پر جب کوئی مشکل آفت یا مصیبت آپڑے تو نمازی کے لیے مسنون ہے کہ وہ قنوت پڑھ کر مسلمانوں کے لیے دعائیں کرے۔
157۔رکوع کے بعد جب دعا(ربنا ولك الحمد)پڑھ چکے تو یہ وقت قنوت پڑھنے کا ہے۔
158۔اس کے لیے کوئی مقرر اور متعین دعا نہیں بلکہ موقعہ و محل کی مناسبت  سے کوئی دعا کر لے۔
159۔یہ دعا پڑھتے وقت ہاتھ اٹھائے۔
160۔(نمازی)امام ہو تو یہ دعا بلند آوز سے پڑھے ۔
161۔ مقتدی (دعا سن کر) آمین کہیں۔
162۔(دعاسے) فارغ ہوکر اللہ اکبرکہہ کر سجدہ میں چلاجائے۔
وتر کی دعاء قنوت اس کا موقعہ اور الفاظ :۔
163۔وتروں میں دعائے قنوت کبھی کبھار پڑھنا مسنون ہے۔
164۔قنوت نازلہ کے بر خلاف اس کا موقع رکوع سے قبل ہے۔[15]
165۔وتر کے قنوت میں دعا پڑھے۔
"اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّمَا قْضَيْتَ، إِنَّهُ لا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ، تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ"
166۔یہ دعا آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم  کی تعلیم کردہ ہے اس پر اضافہ نہ کیا جا ئے سوائے آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم  پر درود کے وہ بھی اس لیے کہ اس دعا پر درود کا اضافہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین سے ثابت ہے۔
167۔پھر رکوع کرے اور مذکورہ طریقہ کے مطابق سجدے کرے۔
آخری تشہد اور چوتڑ پر بیٹھنا :۔
168۔پھر آخری تشہد کے لیے بیٹھے یہ دونوں (بیٹھنا اور تشہد پڑھنا ) واجب ہیں۔
169۔اس تشہد میں بھی پہلے تشہد کی طرح سارے کام کرے۔
170۔سوائے اس کے کہ اپنا بایاں چوتڑ زمین پر رکھ لے اور دونوں قدم ایک طرف نکال لے بایاں پاؤں دائیں پنڈلی کے نیچے رکھے۔
171۔دایاں پاؤں کھڑا رکھے۔
172۔دائیں پاؤں کو کبھی زمین پر بچھا لینا بھی جائز ہے۔
173۔(بایاں ) گھٹنا بائیں ہتھیلی میں دے کر زوردےرکھے۔
آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم  پر درود کا وجوب اور چار چیزوں سے پناہ مانگنا :۔
174۔(نمازی پر)اس تشہد میں آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم  پر درود بھیجنا واجب ہے ہم پہلے تشہد کے بیان میں درود کے کچھ الفاظ ذکر کر چکے ہیں۔
175۔(اس تشہد میں) چار چیزوں سے پناہ مانگےاور یوں کہے۔
(اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ ، وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ)[16]
"یااللہ میں تجھ سے جہنم کے عذاب، قبر کے عذاب ، زندگی اور موت کے فتنوں اور دجال مسیح کے فتنہ کی برائی سے پناہ چاہتا ہوں۔"
سلام سے پہلے دعا:۔
176۔پھر کتاب وسنت سے ثابت شدہ دعاؤں میں سے جو چاہے دعا کرے۔ یہ دعائیں بہت سی ہیں اگر ان میں سے کوئی یادنہ ہوتو ایسی دعا کرے جو اس کے لیے دینی اور بنیادی لحاظ سے نفع مند اور مفید ہو۔
سلام اور اس کی اقسام :۔
177۔پھر دائیں طرف سلام کہے یہاں تک کہ دائیں رخسار کی سفیدی (مقتدیوں کو)نظر آنے لگے۔
178۔پھر بائیں طرف بھی اسی طرح سلام کہے۔یہاں تک کہ بائیں رخسار کی سفیدی (مقتدیوں کو) نظر آنے لگے۔نماز جنازہ میں بھی ایسے ہی کرے۔
179۔نماز جنازہ کے علاوہ (باقی نمازوں میں) امام سلام بلند آواز سے کہے۔
180۔اسلام کے کئی طریقے ہیں۔
1۔دائیں السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ اور بائیں طرف السلام علیکم ورحمتہ اللہ
2۔دونوں طرف السلام علیکم ورحمتہ اللہ ۔
3۔دائیں طرف السلام علیکم ورحمتہ اللہ بائیں طرف السلام علیکم ۔
4۔تھوڑا سادائیں طرف متوجہ ہوکر سامنے ہی ایک ہی بار سلام کہے۔
میرے مسلمان بھائی!:۔
یہ ہے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کی نماز کا مختصر طریقہ جس کے بیان کرنے کی مجھے توفیق ملی اور میں نے اسے آپ کے قریب تر کرنا چاہا تاکہ آپ پر یہ خوب واضح ہوجائے اور ذہن میں خوب راسخ ہوجائے۔گویا آپ اسے خود ملاحظہ کر رہے ہیں جیسا کہ میں نے آپ کے سامنے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کی نماز کا طریقہ بیان کیا ہے۔
جب آپ اسی طریقہ پر نماز ادا کریں گے توبارگاہ الٰہی سے مجھے امید ہے کہ وہ آپ کا یہ عمل قبول فرمائیں گے کیونکہ اس طرح آپ بالفعل نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کے اس قول پر عمل کر چکے ہوں گے۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا۔( صَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي،)"کہ تم نماز اسی طرح پڑھو جیسے تم نے مجھے پڑھتے دیکھا "علاوہ ازیں آپ پر لازم ہے کہ آپ نماز میں حضور قلب اور خشوع کے اہتمام سے غافل نہ ہوں، انسان کے اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہونے اور کھڑے ہونے سے اصل مقصود یہی ہے ۔آپ نماز میں جس قدر بھی خشوع اور نبوی طریقہ نماز کی اقتدار کریں گے۔آپ کو نماز کے ان فوائد سے اتنا ہی زیادہ حصہ ملے گا جن کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے ارشاد (إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاء وَالْمُنكَرِ)"کہ نماز بے حیائی اور برائی کے کاموں سے روکتی ہے" میں اشارہ فرمایا ہے۔
آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری نمازیں اور باقی سارے اعمال قبول فرمائیں اور قیامت کے روز کے لیے ہمارے ان اعمال کا ثواب جمع فرما رکھیں ۔اس دن نہ مال نفع دے گا اور نہ اولاد سوائے۔ ان لوگوں کے جو اللہ کے سامنے نیک دلی کے ساتھ حاضر ہوئے۔ والحمد اللہ رب العالمین ۔

[1] ۔اس میں لطیف اشارہ ہے کہ نماز کی حالت میں نمازی جوتے اپنے سامنے نہ رکھے اکثر نمازی اس کی پرواہ نہیں کرتے اپنے سامنے جوتے رکھ کر نماز پڑھ لیتے ہیں۔
[2] ۔عام طور پر شام وغیرہ ممالک میں دیکھا گیا ہے کہ لوگ دیوار یا ستون سے بہت دور مسجد کے وسط میں نماز پڑھنے لگ جاتے ہیں ان کا یہ عمل آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم  کے قول و عمل سے غفلت کا نتیجہ ہے۔
[3]۔اس حدیث سے اشارہ ملتا ہے کہ سترہ کے لیے زمین پر خط کھینچناکافی نہیں۔اس بارہمیں مروی حدیث ضعیف ہے۔
[4] ۔مطاف میں آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم  کی نماز کی حالت میں لوگوں کا آپ کے سامنے سے گزرنا صحیح ثابت نہیں اور اس میں یہ بھی ذکر نہیں  کہ لوگ آپ کی سجدہ کی جگہ کے اندر سے گزرے تھے۔
[5]۔انگوٹھوں کا کانوں کی لوؤں کو لگانا ۔ اس کا سنت میں کوئی اصل اور بنیاد نہیں بلکہ میرے نزدیک یہ عمل وسوسہ کا نتیجہ ہے۔
[6] ۔بعض متاخرین نے بیک وقت دائیں ہاتھ کا بائیں پر رکھنا اور معاًپکڑنا بھی مستحسن قراردیا ہے اس کی بھی کوئی بنیاد نہیں۔
[7] ۔سینہ کے علاوہ کسی دوسری جگہ ہاتھ باندھنے کے دلائل یا تو ضعیف ہیں یا بے بنیاد ۔
[8] ۔اس کے علاوہ مزید دعاؤں کی تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو صفۃ صلاۃ النبی ص72۔
[9] ۔یعنی جسے فاتحہ یاد نہ ہو وہ فاتحہ یاد کرنے تک ان اذکار پر اکتفا کرسکتا ہے۔(مترجم)
[10] ۔تفصیل کے لیے ملاحظہ سلسلۃ الاحادیث الضعیفہ حدیث 547،54۔
[11] ۔اس کے علاوہ بھی رکوع کے مختصر متوسط اور طویل اذکار ہیں تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو صفۃ صلاۃ النبی ص113طبع 11۔
[12] ۔سجدہ کی دعائیں اس کے علاوہ اور بھی ہیں تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو۔صفتہ صلاۃ النبی 127۔
[13] ۔15،14،احادیث میں آیا ہے کہ آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم  بین السجدتین رفع الیدین نہ کرتے تھے اس سے اسلاف کی اکثریت نے رفع الیدین بین السجد تین کے تخ پر استدلال کیا ہے۔(مترجم)
[14] ۔آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم  کی وفات کے بعد یہی الفاظ مشروع ہیں اور صحابہ میں سے حضرات عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ   عائشہ صدیقہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا    ابن زبیر اور ابن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   سے ثابت ہیں تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو صفۃ صلاۃ النبی ص142۔
[15] ۔وتر کا قنوت رکوع سے قبل اور بعد میں جا ئز ہے۔(مترجم)
[16] ۔اس دعا میں زندگی موت اور دجال کے فتنوں سے پناہ مانگی گئی ہے زندگی کے فتنوں سے مراد فتنے اور خواہشات ہیں جو انسان کو زندگی میں پیش آتے رہتے ہیں موت کے فتنہ سے قبرکی آزمائش وابتلاء اور فرشتوں کے سوالات مراد ہیں دجال کے فتنہ سے مراد خرق عادت امور ہیں جو اس کے ہاتھ سے رونما ہوں گے اور انہیں دیکھ کر لوگ اس کے دعوی الوہیت کو مان  کر گمراہ ہوں گے۔