چند دنوں کی بات ہے کہ نماز عصر کے بعد ایک دوست پوچھنے لگے کہ اہل کتاب یعنی یہودو نصاریٰ کی عورتوں سے نکاح کے بارے میں ذرا وضاحت کریں ۔ تفصیل پوچھنے پر انھوں نے بتا یا کہ میرا ایک دوست عرصہ بارہ سال سے جرمنی میں رہائش پذیر ہے وہاں جا کر اس نے دوسرے سال ہی ایک عیسائی عورت سے شادی کر لی تھی۔جب بھی کبھی وہ پاکستان آتا ہے تو یہی کہتا ہے کہ میں دلی طور پر اس شادی سے مطمئن نہیں ہوں۔جب کہ وہ عورت اب تک اپنے دین یعنی عیسائیت پر قائم ہے اور بچوں کو بھی عیسائیت کی طرف مائل کر رہی ہے چونکہ ان کے بچے بھی ہیں اس لیے اس عورت کو چھوڑنا ممکن نہیں رہا۔ مزید تفصیل پر معلوم ہوا کہ یہ صرف اسی کا ہی مسئلہ نہیں ہے بلکہ وہاں کے مشنری ادارے فوراً اپنی لڑکیوں کا ان مسلمانوں سے نکاح کرا دیتے ہیں جو تلاش پر روزگار کے سلسلے میں وہاں جاتے ہیں اور جب یہ مسلمان واپس آتے ہیں تو ان عورتوں کو ویسے ہی چھوڑآتے ہیں اس طرح یہ صرف نام کے ہی مسلمان رہ جا تے ہیں وگرنہ ان کی تہذیب معاشرت لین دین اکل و شرب سب کچھ عیسائیوں جیسا ہی ہوتا ہے وہ اتوار کے اتوار گرجامیں تو بےشک نہیں جاتے مگر اپنی نمازوں سے ضروربیگانہ ہو جا تے ہیں اپنی عیسائی بیویوں کے ساتھ مل کر بلا جھجک خنزیر کا گوشت بھی کھاتے ہیں اور شراب سے بھی دل بہلاتے ہیں یہ صرف جرمنی کا ہی واقعہ نہیں بلکہ گرین کارڈ اور نیشنلٹی کے چکر میں برطانیہ امریکہ الغرض دوسرے کئی ایک ممالک میں مسلمان اپنی عاقبت خراب کر رہے ہیں ۔
یہیودی اور نصرانی عورت سے نکاح ان کے اہل کتاب ہونے کی بنا پر قرآن نے جائز ٹھہرایا ہے ۔
اگر چہ انھوں نے اپنے دین میں تحریف کی ہوئی ہے۔ لیکن بہر حال وہ آسمانی مذہب کے حامل ہیں اسلام نے جس طرح ان کا ذبیحہ حلال قراردیا ہے اسی طرح ان کی عورتوں سے رشتہ مصاہرت قائم کرنا بھی جا ئز ٹھہرایا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔
﴿وَطَعامُ الَّذينَ أوتُوا الكِتـٰبَ حِلٌّ لَكُم وَطَعامُكُم حِلٌّ لَهُم ۖ وَالمُحصَنـٰتُ مِنَ المُؤمِنـٰتِ وَالمُحصَنـٰتُ مِنَ الَّذينَ أوتُوا الكِتـٰبَ مِن قَبلِكُم إِذا ءاتَيتُموهُنَّ أُجورَهُنَّ مُحصِنينَ غَيرَ مُسـٰفِحينَ وَلا مُتَّخِذى أَخدانٍ ۗ وَمَن يَكفُر بِالإيمـٰنِ فَقَد حَبِطَ عَمَلُهُ وَهُوَ فِى الـٔاخِرَةِ مِنَ الخـٰسِرينَ ﴿٥﴾...المائدة
"اہل کتاب کا کھانا تمھارے لیے حلال ہے اور تمھارا کھانا ان کے لیے ۔نیز مؤمن عفیفہ عورتیں تمھارے لیے حلال ہیں اور ان لوگوں کی عفیفہ عورتیں بھی جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی۔
بشرطیکہ اس سے تمھاری غرض مہر ادا کر کے نکاح میں لانا ہو محض شہوت رانی اور پوشیدہ آشنائی نہ ہو۔ اور جس نے بھی ایمان کے بجائے کفر اختیار کیا اس کا وہ عمل بر باد ہو گیا اور آخرت میں وہ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو گا "(المائدہ:5)
اسلامی روا داری کی یہ ایک نادر مثال ہے جو دوسرے مذاہب میں نہیں مل سکتی ۔ اسلام نے اہل کتاب کو کافر اور گمراہ قرارد ینے کے باوجود مسلمان کے لیے جائز کر دیا ہے کہ کتابیہ اس کی بیوی اور اس کے گھر کی مالکہ ہو جس سے وہ سکون حاصل کرسکتا ہے جو اس کی راز دان بن سکتی ہے جو اس کی اولاد کی ماں بن سکتی ہے جبکہ زوجیت کے تعلق کے بارے میں قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہے ۔
﴿وَمِن ءايـٰتِهِ أَن خَلَقَ لَكُم مِن أَنفُسِكُم أَزوٰجًا لِتَسكُنوا إِلَيها وَجَعَلَ بَينَكُم مَوَدَّةً وَرَحمَةً ... ٢١﴾...الروم
"اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمھارے لیے تمھاری جنس سے بیویا ں پیدا کیں ۔تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمھارے درمیان مودت و رحمت پیدا کی"
یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اسلام نے اہل کتاب عورتوں سے نکاح کی اجازت دی ہے مگر یہ اجازت بھی کچھ شرائط کے ساتھ مخصوص ہے اور ان شرائط کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔وگرنہ رخصت کا بھی کوئی جواز نہیں ۔جس طرح اسلام نے مرد کو چار شادیوں تک کی جازت دی ہے مگر ساتھ انصاف کی شرط ہے۔ اگر انصاف نہ ہوتو ایک کے بعد دوسری کی بھئ اجازت نہیں ہے چارتو بعد کی بات ہے۔ کتابیہ عورتوں سے نکاح کی شرائط  وہی ہیں جو مسلمان عورتوں کے لیے ہیں یعنی نکاح کا مقصد محض شہوت رانی نہ ہو بلکہ مستقل بنیادوں پر ہو اور اس نکاح کا باقاعدہ اعلان ہوا ان کے حق مہر انہیں اداکئے جائیں۔
1۔پہلی شرط یہ ہے کہوہ کتابیہ عورت وَالْمُحْصَنَاتُ(پاکباز عورتوں ) میں سے ہو۔ اور محصنات سے مراد عفت مآب اور بدکاری سے بچنے والیاں ہے جیسا کہ سورہ النساء آیت نمبر 25 میں محصنات کے ساتھ ہی (غَيْرَ مُسَـفِحَـتٍ وَلاَ مُتَّخِذَاتِ أَخْدَانٍ)کے الفاظ آئے ہیں۔اس حکم کی تفصیلات میں فقہاء کے درمیان اختلاف واقع ہو ہے۔ ابن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کا خیال ہے کہ یہاںاہل کتاب سے مراد وہ اہل کتاب ہیں جو اسلامی حکومت کی رعایا ہوں۔رہے دارالحرب اوردار کفر کے یہود ونصاریٰ تو ان کی عورتوں سے نکاح کرنا درست نہیں ہے حنفیہ اس سے تھوڑا سااختلاف   کرتے ہیں ان کے نزدیک بیرونی ممالک کی اہل کتاب عورتوں سے نکاح کرنا حرام تو نہیں مکروہ ضرورہے۔بخلاف اس کے سعید بن مسیب اور حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ  اس کے قائل ہیں کہ آیت اپنے حکم میں عام ہے لہٰذا ذمی اور غیر ذمی میں فرق کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
پھر محصنات کے مفہوم میں بھی فقہاء کے درمیان اختلاف ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کے نزدیک اس سے مراد پاک دامن عصمت مآب عورتیں ہیں اور اس بناپر وہ اہل کتاب کی آزاد منش عورتوں کو اس اجازت سے خارج قراردیتے ہیں یہی رائے حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ  شعبی رحمۃ اللہ علیہ  اور براہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ  کی ہے ۔اور حنفیہ نے بھی اسی کو پسند کیا۔
بخلاف اس کے امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ  کی رائے یہ ہے کہ یہاں یہ لفظ لونڈیوں کے مقابلہ میں استعمال ہوا ہے یعنی اس سے مراد اہل کتاب کی وہ عورتیں ہیں جو لونڈیاں نہ ہوں ۔
دوسری شرط یہ ہے کہ کتابیہ عورت سے نکاح صرف اس صورت میں جائز ہوگا جبکہ کسی فتنہ کا خطرہ نہ ہو۔ مثلاً ایک شخص اگر کسی خوبصورت کتابیہ عورت سے نکاح کے بعد اس کے عشق میں مبتلا ہوکر یا اس کے عقائد و اعمال سے متاثر ہو کر اپنے ایمان سے ہاتھ دھوبیٹھے یا اپنی اولاد کے عقیدہ و تربیت کے حوالے سے اپنی بیوی کی طرف سے اندیشہ محسوس کرے تو ایسی صورت میں نکاح ہر گز جائز نہ ہو گا جیسا کہ اس آیت کے آخر میں الفاظ (وَمَن يَكْفُرْ بِالإِيمَانِ)  سے ظاہر ہوتا ہے اس خطرہ کے پیش نظرحتیٰ الامکان کتابیہ عورتوں سے نکاح سے بچنا ہی بہتر ہے اور اگر ایسی اضطراری حالت ہو کہ نکاح نہ کرنے سے فتنہ میں پڑنے کا اندیشہ ہو تو پھرنکاح کر لینے میں کو ئی حرج نہیں ہے۔
چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ   نصرانی عورتوں سے نکاح کرنا جائز نہیں جانتے تھے اور فرماتے تھے کہ اس سے بڑا شرک کیا ہو گا کہ وہ کہتی ہو کہ اس کا رب عیسیٰ ہے  اور جب یہ مشرک ٹھہریں تو نص قرآن موجود ہے﴿وَلا تَنكِحُوا المُشرِكـٰتِ حَتّىٰ يُؤمِنَّ ... ٢٢١﴾...البقرة یعنی مشرکہ عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک وہ ایمان نہ لائیں ۔"حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ   سے مروی ہے کہ جب مشرکہ عورتوں سے نکاح  نہ کرنے کا حکم نازل ہوا تو صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  ان سے رک گئے یہاں تک کہ اس کے بعد کی آیت میں اہل کتاب کی پاک دامن عورتوں سے نکاح کرنے کی رخصت نازل ہوئی تو صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے اہل کتاب عورتوں سے نکاح کئے ۔اور صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کی ایک جماعت سے ایسے نکاح اسی آیت کو دلیل بنا کر کرنا ثابت ہیں۔ گویا پہلے سورہ بقرہ کی آیت کی ممانعت میں یہ بھی داخل تھیں لیکن دوسری آیت نے انہیں مخصوص کردیا۔
1۔یہاں پر یہ بات خصوصی طور پر قابل ذکر ہے کہ مسلمان عورت کے لیے غیر مسلم مرد سے نکاح کرنا حرام ہے خواہ وہ کتابی ہو یا غیر کتابی ۔اس کے لیے کسی حال میں غیر مسلم سے نکاح کرنا جائز نہیں۔اللہ تعالیٰ کا رشاد ہے:
﴿وَلا تُنكِحُوا المُشرِكينَ حَتّىٰ يُؤمِنوا... ٢٢١﴾...البقرة
"اپنی عورتوں کو مشرکین کے نکاح میں نہ دو جب تک کہ وہ ایمان نہ لا ئیں"
اور کوئی نص ایسی وارد نہیں ہو ئی جس میں اہل کتاب کو اس حکم سے مستثنیٰ قراردیا گیا ہو۔
اسلام نے مسلمانوں کو یہودی اور نصرانی عورتوں سے نکاح کرنے کی اجازت دی ہے لیکن مسلمان عورتوں کو یہودیوں اور نصرانیوں سے نکاح کیا اجازت نہیں دی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مردگھر کا مالک ہو تا ہے اور عورت کے لیے قوام کی حیثیت رکھتا ہے ۔ نیز اس کے بارے میں جواب دہ ہو تا ہے ۔مزید برآں یہ حقیقت کہ اسلام نے کتابیہ بیوی کو آزادی عقیدہ کی ضمانت دی ہے اور شرعی قوانین و احکامات کے ذریعہ اس کے حقوق متعین کئے ہیں اور اس کی حرمت کا تحفظ کیا ہے ایسی صورت میں اسلام کسی طرح اپنی بیٹیوں کے مستقبل کو خطرہ میں ڈال سکتا ہے اور ان کو ایسے لوگوں کے حوالہ کر سکتا ہے جو ان عورتوں کے دین کے معاملہ میں نہ رشتہ داری کا خیال کریں اور نہ عہد کا؟
اس سے یہ بھی معلوم ہو تا ہے کہ اسلامی رواداری سے یہ بھی ہے کہ مرد کو اپنی بیوی کے عقیدہ کا احترام کرنا چاہئے تاکہ دونوں کے درمیان بہتر تعلقات بحال رہیں خیر خواہی کے نقطہ نظر سے اسے مناسب ماحول میں اپنی بیوی کو حق کی دعوت دیتے رہنا چاہئے لیکن یہ نہ چڑ پیدا کرے نہ اس میں جبرکا شائبہ ہو۔ جہاں تک مسلمان کے عقیدہ کا تعلق ہے وہ یہودیت و نصرانیت کو ان کی اصل کے اعتبار سے ان کی تحریفات کو قطع نظر کرتے ہوئے آسمانی مذہب خیال کرتا ہے وہ تورات و انجیل پر ایمان رکھتا ہے اور حضرت موسی علیہ السلام  وعیسیٰ علیہ السلام  جیسے اولوالعزم رسولوں کو بھی مانتا ہے اس لیے کسی کتابی عورت کے لیے ایسے مرد کے ساتھ زندگی گزارنا مشکل نہیں ہے جو اس کے اصل دین اس کی کتاب اور اس کے نبی کا احترام کرتا ہو اور صرف احترام ہی نہیں بلکہ ان باتوں کو مانے بغیر اس کا ایمان ہی صحیح نہ قرار پاتاہو اس کے برخلاف یہودی اور نصرانی اسلام کا ادنیٰ اعتراف نہیں کرتے ۔ نہ اسلام کی کتاب کا نہ اس کے رسول کا۔ لہٰذا یہ کس طرح ممکن ہے کہ ایک مسلمان عورت اس قسم کا عقیدہ رکھنے والے مرد کے زیر سایہ زندگی گزارے ؟ جبکہ مسلمان عورت کا دین اس سے شعائر و عبادات فرائض و واجبات کا مطالبہ کرتا ہے اور کتنی چیزوں کو حلال اور حرام قرار دیتا ہے ایسی صورت میں مسلمان عورت کے لیے اپنے عقیدہ اور اپنےدین کا تحفظ کرنا جبکہ مرد قوم ہو کر اس کا پوری طرح منکر ہو ایک امرمحال ہے۔
یہ بات بھی ذہن نشین رکھنی چاہئے کہ غیر مسلم چاہے وہ کتابی ہو یا غیر کتابی کبھی بھی مسلمان کا دلی طور پر خیر خواہ نہیں ہو سکتا ۔اور اس بات کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بھی واضح کیا ہے۔
﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تَتَّخِذوا بِطانَةً مِن دونِكُم لا يَألونَكُم خَبالًا ... ١١٨﴾...آل عمران
"اے ایمان والو! اپنے سوا کسی غیر مسلم کو اپنا راز دار نہ بناؤ ۔وہ تمھاری خرابی کے لیے کوئی کسر نہیں اٹھارکھتے "(آل عمران:118)
یعنی وہ کبھی مسلمان کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے ۔ زبان سے بے شک خیر خواہی کے لاکھ دعوے کرتے رہیں جبکہ نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  نےبارہا صحابہ کرام  رضوان اللہ عنھم اجمعین  کو اس بات سے (خالفوا اليهود والنصارى)کے الفاظ سے متنبہ کیا۔ اس کی مثال بھی مجھے اسی دوست کی زبانی معلوم ہوئی۔ وہ کہنے لگا کہ میرا ایک جاننے والا مجھے اکثر کہتا ہے کہ اگر تم لندن جانا چاہتے ہو تو میں تمھارا مفت جانے کابندوبست کردوں گا۔ نہ کوئی ویزہ کا خرچہ اور نہ ٹکٹ وغیرہ میں نے کہا:نہیں مگر وہ باصرار مجھے جانے کے لیے کہتا رہا ۔میں نے اس سے پوچھا کہ بتاؤ تم مجھے کیوں مفت میں لے جانا چاہتے ہو جبکہ لوگ اس کام کے لیے ہزاروں روپے خرچ کرتے ہیں اور کئی جائز و ناجائز طریقے اپناتے ہیں تو اس نے جواب دیا کہ تم میرے دوست ہو تمھیں بتا دیتا ہوں وگرنہ میں نے یہ بات کبھی کسی کو بتائی نہیں۔وہاں عیسائی امراء ان مسلمانوں کو اپنے خرچہ پر بلاتے ہیں جانے پر ان کو ان عیسائیوں کے گھر میں خاکروب  کے طور پر معمولی تنخوا ہوں پر رکھا جا تا ہے۔
پہلے ان کو اسلام سے برگشتہ کیا جا تا ہے پھر ان کی داڑھیاں منڈوائی جاتی ہیں اور اگر وہ کسی طرح اسلام کو چھوڑنے پر تیار نہ ہوں ۔تو اسلام کی آڑ میں ہی اپنی کسی بیٹی بہن کا نکاح اس کے ساتھ کر دیتے ہیں اور اسی طرح اس کو پکا عیسائی بنا لیتے ہیں یہ مفت میں لندن امریکہ بلانا ان کے مشن کا حصہ ہے۔
کتابیہ عورت سے نکاح کے جواز جیسی مزید کئی رخصتیں جن سے فساد پیدا ہو۔ ایسی اجازت کو خلیفہ وقت وقتی مصلح کی خاطر مطلوبہ عر صہ کے لیے ختم بھی کر سکتا ہے اور ایسے فیصلے کی حیثیت محض وقتی فیصلے یا آرڈ یننس کی ہو تی ہے چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کے زمانہ میں جب کتابیہ عورتوں سے نکاح کا رواج پڑگیا جس سے نئے نئے فتنے ابھرنے کا اندیشہ ہو گیا تھا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ   نے اس نکاح پر پابندی لگادی۔
چنانچہ آج بھی اگر مسلمان اس جواز کی وجہ سے انحطاط اور زوال کی طرف جارہے ہوں تو وقتی طور پر اس طرح کی انتظامی پابندی لگائی جاسکتی ہے۔اگر یہ امکان موجود ہو کہ اس طریقہ سے ہم عیسائی عورتوں کو اسلام کی طرف راغب کر سکیں گے تو اس اجازت سے فائدہ بھی اٹھانا چاہیے وگرنہ کتابی عورت سے نکاح کرنے میں نقصان کا احتمال زیادہ ہے۔