(جس سے بے اعتنائی برتنے پر،اُمت باہمی خلفشار کا شکار ہے!)

حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  بن جبل،حسن وجمال،بذل وعطاء ،جودوسخا ،مہرووفا،احسان ومروت ،شجاعت وفتوت جیسے اوصاف میں یگانہ روگار تھے۔سخی اتنے کہ سائل کو خالی نہ جانے دیتے اگر چہ قرض ہی کیوں نہ لینا پڑے،کثرت سخاوت کے باعث آپ مقروض ہوگئے۔قرض خواہوں کے شدید تقاضوں پر حضرت  رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے ان کا مکان اوراثاثہ نیلام کرکے ان کاقرض ادا کیا۔چنانچہ حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  اس حال میں اُٹھے کہ تن کے کپڑوں کے سواکوئی چیز نہ بچی!!
آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم  ان کے حال پر شدید دل گرفتہ اور رنجیدہ ہوئے اور ان کو یمن کا گورنر مقرر کردیا اور ہدیہ قبول کرنے کی خصوصی اجازت مرحمت فرمائی اور ان کو ایسی نصیحتیں کیں جو تمام امت کےسربرآوردہ لوگوں کے لیے مشعل راہ ہیں۔گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم  ،حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کو زندگی کی آخری وصیتیں کررہے تھے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے  فرمایا:
"اے معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ! تو اہل کتاب کے ہاں جا رہا ہے اور وہ تجھے جنت کی چابیوں کے متعلق پوچھیں گے تو انہیں بتانا کہ لاالٰہ الا اللہ جنت کی چابی ہے۔یہ ایسا بابرکت اور پرتاثیر کلام ہے جو ہر چیز کو چیرتا ہوا عرش الٰہی پر پہنچتا ہے اور کوئی چیز اس کے سامنے رکاوٹ نہیں بنتی۔جو کوئی انسان کو شرک سے بچا کر لے آئے گا یہ روز قیامت اس کے سبب گناہوں پر بھاری ہوجائے گا۔"
اے معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ! اللہ کے لیے مخلوق کے ساتھ تواضع وانکساری سے پیش آ،ایسا کرنے سے اللہ تجھے سربلندی عطافرمائے گا۔اور دنیا کو حقیر خیال کر،اللہ تجھے دانائی عطا فرمائے گا،کیونکہ جو کوئی اللہ کے لیے اس کی مخلوق کے ساتھ تواضع کرے گا اور دنیاوی طمطراق سے نفرت کرے گا،اللہ رب العزت اس کے دل کی جانب سے اس کی زبان پر دانائی کی آبشار رواں کردے گا"
اے معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ !بغیر تحقیق کے کوئی بات نہ کرنا اور غصہ سے بچے رہنا،اگر تجھ پر کوئی معاملہ مشکل ہوجائے تو کسی سے پوچھ لینا اور شرم نہ کرنا اور مشورہ کرلینا کیونکہ مشورہ لینے والا مدد کیا جاتاہے اور مشورہ دینے والا امین خیال کیا جاتاہے۔اور پھر اجتہاد کرنا اگر اللہ تعالیٰ نے تجھ میں بھلائی معلوم کی تو صحیح سمت اختیار کرنے کی توفیق دے گا اور پھر بھی مشتبہ رہے تو رک جا،حتیٰ کہ معاملہ واضح ہوجائے یا میری طرف  لکھنا"
جس جرم کی سزا کتاب اللہ اور میری سنت میں تجھے نہ ملے وہ اپنے ساتھیوں کے مشورہ کے بغیر مت دینا اور خواہش پرستی سے بچنا کیونکہ خواہش پرستی جہنمیوں کی راہبرہے جو انہیں جہنم کی طرف لے جایا کرتی ہے۔اور جب ان کے ہاں پہنچے تو ان میں کتاب اللہ قائم کر اور ان کوقرآن اور ادب سکھانا کیونکہ قرآن مجید ان کو حق اور اخلاق جمیلہ اپنانے پر مجبور کرے گا۔
اور لوگوں سے ان کے مرتبے کے مطابق سلوک کرنا کیونکہ وہ حدود الٰہی کے سواباقی اُمور میں برابر نہیں ،نہ نیکی اور نہ بُرائی میں یعنی ہر دونوں خصلتوں میں وہ مختلف حیثیت رکھتے ہیں۔ان سے سلوک بھی ان کے خیر وشر کے مطابق کرنا ہے۔
اور حکم الٰہی کے مقابلے میں کسی کی  رورعایت نہ رکھنا اور ہر چھوٹے اور بڑے کے حق کو پہچاننا اور ان کی امانت ان کی طرف لوٹانا ہے۔اور لاچار درماندہ سے ددرگزر کرنا اور نرمی لازم پکڑنا اور جب کوئی تیرے سامنے لا علمی اور اپنی بے خبری کا عذر پیش کرے تو ان کےسامنے علانیہ مسئلہ بیان کرنا تاکہ وہ جان لیں اور ان سے کینہ نہ ر کھنا۔
جاہلیت کے تمام رسم ورواج ختم کرنا الا یہ کہ وہ طور طریقہ جسے اسلام بھی اچھا سمجھتا ہو۔اور ایسے اخلاق وخصائل کو اسلام پرپیش کر نا(جنھیں اسلام برا سمجھے اس سے نفرت کرنا) اور اسلامی آداب واخلاق کو دوسرے معیاروں پر پیش(کرکے  رسوا) نہ کرنا اور لوگوں کو وعظ ونصیحت کی مجلسوں میں بیٹھنے کا عادی بنانا اور وعظ درمیانہ  رکھنا۔
اور نماز !نماز کاحد درجہ خیال کرنا کیونکہ یہ نماز ہمارے دین کا ستون ہے،اسے تمام کاموں اور مصروفیتوں  پر  ترجیح دینا اور لوگوں سے ان کے  فرائض کی ادائیگی میں نرمی برتنا اور انہیں آزمائش میں نہ ڈالنا۔
اور ہر نماز کے وقت پر  غور کرنا،جو وقت نمازیوں کے لیے موزوں ہو اس پر انہیں نماز پڑھانا۔وقت تین ہیں:اول ،اوسط،آخر۔سردیوں میں نماز فجر غلس(اندھیرے) میں پڑھنا اور قراءت بقدر استطاعت لمبی کرنا،مبادا کہ نمازی اکتا نہ جائیں اور اللہ کے دین کو تکلیف وہ سمجھنا شروع کریں۔
سردیوں میں نماز ظہر سورج ڈھلتے ہی  پڑھنا اور عصر کی نماز بھی اول وقت ادا کرنا،جب کہ سورج بلند بہت روشن ہو اور مغرب کی نماز اس وقت ادا کرنا جب سورج کی ٹکیہ غروب ہوجائے ،سرگرمیوں اور سردیوں میں مغرب کی نماز کا یہی وقت ہے۔الا یہ کہ کوئی عذر پیش آجائے اورعشاء کی نماز سردیوں میں قدرے تاخیر سے ادا کرنا کیونکہ رات طویل ہوتی ہے۔الا یہ کہ کوئی وقت نمازیوں کے لیے موزوں ہو۔اور گرمیوں میں فجر کی نماز اسفار(روشنی کے دھند لکے) میں ادا کرنا کیونکہ رات چھوٹی ہوتی ہے ایسا کرنے سے سونے والے جماعت  پاسکتے ہیں۔اور ظہر کی نماز اس وقت ادا کرنا جب سایہ لمبا ہوجائے اور ہوائیں ٹھنڈی پڑجائیں اور نماز عصر درمیانے وقت ادا کریں اور مغرب جب ٹکیہ غائب ہو اورعشاء کی اس  وقت جب سرخی غائب ہوجائے ،الایہ کہ کوئی دوسرا وقت نمازیوں کے لیے زیادہ موزوں ہو۔
اور لوگوں کو وعظ وارشاد کا عادی بنانا اور وقتاً فوقتاً وعظ سناتے رہنا کیونکہ یہ عمل لوگوں کےدلوں میں محبت الٰہی پیدا کرتا اور عاملین کو عمل پر  قوت بخشتا ہے اور اللہ  کے معاملے میں کسی طعنہ وملامت کی  پروانہ کرنا اور اس اللہ سے ڈرنا جس کی طرف تو نے لوٹنا ہے اور اس کے سامنے پیش ہونا ہے۔
اے معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ! مجھے تیرے قرض کا معاملہ خوب معلوم ہے اور تیرے مال کا بھی جو اس کی ادائیگی میں ڈوب گیا،میں تجھے ہدیہ قبول کرنے کی رخصت دیتا ہوں اگر کوئی تجھے کوئی چیز دے دے تو قبول کرلینا۔(ابن عساکر /ابو نعیم بحوالہ کنزالعمال مع مسند احمد ۔صفحہ 192 ۔جلد4)