خاوند کو بتائے بغیر عدالت کے ذریعے طلاق لے کرآگے نکاح کرلینا
خالہ اوربھانجی کو ایک نکاح میں جمع کرنا اور دونوں سے اولاد کا  حکم
پرانے قر آنی اوراق کی تلفی
کیاقرآن مجیداللہ کی مخلوق ہے؟
سوال:۔ ایک عورت نے خاوند کی اجازت کے بغیر شادی کرلی ہے اور خاوند کو اس کا علم نہیں ہوا کیونکہ اس عورت نے عدالت سے طلاق حاصل کی ہے۔پہلے خاوند سے عورت کے تین بچے بھی ہیں۔اس کے بعد اس نے دوسری شادی بھی کرلی ہے۔اور کوئی ولی وغیرہ بھی پیداکرلیے ہیں۔اس صورت میں کیا یہ طلاق اور شادی واقع ہوجائےگی۔وہ اب اپنے پہلے خاوند کے پاس نہیں رہ رہی۔ بچے بھی اب خاوند کے پاس ہیں۔(قاری حسان،مدرس جامعہ لاہور الاسلامیہ)
جواب:۔عورت کے لیے شوہر سے علیحدگی کی دو صورتیں ہیں:خاوند طلاق دے یا عورت خلع حاصل کرلے۔یہا ں دو صورتوں سے کوئی صورت نہیں پائی جاتی لہذا علیحدگی کا عدالتی فیصلہ ناقابل اعتبار ہے۔عورت باقاعدہ پہلے شوہر کی زوجیت میں ہے۔دوسرے سے فوراً تفریق کرادینی چاہیے۔قرآن مجید میں ہے:
﴿وَالمُحصَنـٰتُ مِنَ النِّساءِ ...٢٤﴾...النساء
"اور شوہر والی عورتیں بھی(تم پر حرام ہیں)"
سوال۔ایک شخص نے ایک  عورت سے نکاح کیا اور اس کی اولاد بھی پیدا ہوئی۔بعد ازاں اس شخص نے دوسری عورت سے نکاح کیا۔جو کہ پہلی عورت کی سگی بھانجی ہے۔ اور اس سے بھی اولاد ہوئی۔یعنی کہ خالہ اور بھانجی کو ایک ساتھ نکاح میں جمع کردیا۔اور تاحال دونوں بیویاں زندہ ہیں اور دونوں میں سے کسی کو طلاق بھی نہیں دی۔اب اس سے مندرجہ ذیل سوالات  پیدا  ہوتے ہیں:
(سائل:مقصود احمد ڈھلوں)
1۔کیا یہ دونوں نکاح درست اور جائز ہیں؟
2۔اگرشریعت میں یہ نکاح جائز نہیں ہے تو ان دونوں میں سے کون سا نکاح باطل ٹھہرے گا کیا ایسا نکاح زنا کی مثل ہے یا نہیں؟
3۔جو نکاح باطل ہے،اس کی اولاد کے متعلق شرعاً حکم کیاہے؟۔۔۔حلالی یا ولد الذنا(حرامی)
4۔اوراگر باطل نکاح والی اولاد ناجائز اور حرامی ہے تو کیا وہ والدہ  کی وراثت کی حقدار ہوگی یا نہیں؟
5۔باطل نکاح و الے جوڑے کے متعلق کون سی حد نافذ ہوتی ہے؟
نیز کیانکاح خوان اور گواہان کے اوپر بھی خلاف شرع نکاح پڑھانے کی حد ہوگی اور کون سی؟
6۔ایسامسلمان شخص جو خالہ اور بھانجی کو بیک وقت نکاح میں جمع کرے اور باوجود علم ہونے اور منع کرنے کے احکام شریعت کامذاق اڑائے اورآئین شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم  سے صریحاً ارتداد کرے ایسا مسلمان کس درجہ سے  تعلق رکھتاہے ،اور کیا حد ہوگی؟(مسلم،کافر یامرتد)
7۔پہلی بیوی کے نکاح پر اثر  پڑتا ہے یا نہیں۔نیز اہل علاقہ کے لیے کیاحکم ہے؟
جواب:بلاشبہ سوال میں مذکور عورتوں کو نکاح میں جمع کرنا حرام ہے۔صحیح بخاری وغیرہ میں حدیث ہے:
"لَا يُجْمَع بَيْن الْمَرْأَة وَعَمَّتهَا وَلَا بَيْن الْمَرْأَة وَخَالَتهَا حَتَّى يَسْمَعَ كَلاَمَ اللهِ"
"رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے  فرمایا:عورت اور اس کی پھوپھی کے درمیان جمع نہ کیا جائے اور نہ عورت اور اس کی خالہ کوایک نکاح میں لایاجائے"
جملہ سوالات کے جوابات بالترتیب اور بالا ختصار ملاحظہ فرمائیں:
1۔بالا صورت میں پہلا نکاح درست ہے اور دوسرا منسوخ ہے ۔امام  ترمذی رحمۃ  اللہ علیہ  فرماتے ہیں:"علم اہل علم کا اس حدیث پر عمل ہے۔ہمیں اس بارے میں ان کے درمیان اختلاف معلوم نہیں ہوسکا"آدمی کےلیے حلال نہیں کہ  عورت اور اس کی پھوپھی کو بیک وقت نکاح میں جمع کرے یا عورت اور اس کی خالہ کو جمع کرے۔پس اگر عورت کی پھوپھی یا خالہ کی موجودگی میں اس سے نکاح کرے یا پھوپھی سے بھتیجی کی موجودگی میں نکاح کرے تو ان دونوں میں سے دوسری کا نکاح منسوخ ہے۔
2۔دوسرا نکاح باطل ہے۔بلاریب یہ حرام ہے فورا ً تفریق کرادینی چاہیے۔
3۔اگر یہ نکاح جہالت ،شبہ یا کسی کی پیروی میں کیا گیا ہے۔تو اولاد اس کی طرف منسوب ہوگی ورنہ نہیں صاحب المغنی نے اس مفہوم کی یوں وضاحت کی ہے مثلاً کوئی آدمی کسی  عورت سے عدت کے اندر نکاح کرے تو بالاتفاق یہ نکاح باطل ہے اس کے باوجود سلسلہ نسب ناکح کے ساتھ ملحق ہوگا۔(فتاویٰ اسلامیہ ،3 /245)
اسی طرح زیر بحث مسئلہ کو بھی سمجھ لینا چاہیے۔مزید آنکہ نکاح وٹہ سٹہ اور حالت حیض میں عورت سے وطی کرنا حرام ہے لیکن اس سے پیدا شدہ اولاد حلال ہوگی۔
4۔سابقہ د لائل کی بناء پر اولاد والد کی وراثت کی حقدار ہوگی۔
5۔اگر نکاح ثانی عمداً کیا ہے تو حد زنا قائم ہونی چاہیے۔جو  آدمی کے لیے   رجم اور عورت کے لیے سو کوڑے اور ایک سال جلا وطنی ہے۔اور اگر یہ نکاح جہالت کی وجہ سے ہوا ہے تو صرف تعزیر ہے۔عدالت یا پنچائیت جو مناسب سمجھے مقرر کردے،بشرط یہ کہ اس کی سزا حد تک نہ پہنچے۔۔۔نکاح خوان اور گواہان پر بھی تعزیر لگنی چاہیے۔ظلم کو روکنے کی یہ ایک شکل ہے۔ملاحظہ ہو:مشکوۃ باب الامر بالعروف۔
6۔ایساشخص مرتد ہے:شرعاً اس کی سزا قتل ہے۔لیکن یہ ذمہ داری اسلامی حکومت کی ہے۔
7۔پہلا نکاح درست ہے اگر یہ آدمی اپنی قبیح حرکات سے باز نہ آئے تو اس سے بائیکاٹ کرلینا  چاہیے۔ظلم سے بیزاری کی یہ ایک صورت ہے:
مشکوۃ باب الامر بالمعروف میں حدیث ہے کہ"اگر کسی قوم میں کوئی گناہ ہوتا ہو اوروہ قوم ظالم کاہاتھ پکڑنے پر قادر نہ ہو پھر بھی نہ پکڑے"تو اللہ کی طرف سے سب پر عذاب آئے گا۔(ابوداود،ابن ماجہ)
سوال۔ایک مولوی صاحب نے تقریر میں کہا کہ قرآن مجید کلام الٰہی نہیں بلکہ مخلوق ہے کیونکہ قرآن صفت ہے اور صفت پیدا ہوتی  ہے،اس لیے قرآن مخلوق ٹھہرا۔اس مسئلہ کی وضاحت فرمادیجئے۔
جواب:قرآن کے مخلوق ہونے کا عقیدہ  رکھناکفر ہے۔کیونکہ قرآن مجید کلام اللہ ہے،غیر مخلوق ہے۔سورہ توبہ میں ہے:
﴿حَتّىٰ يَسمَعَ كَلـٰمَ اللَّـهِ ...٦﴾...التوبة
"یہاں تک کہ وہ کلام الٰہی سننے لگے"
جس طرح اللہ تعالیٰ اپنی ذات کے اعتبار سے بے مثال اور بے نظیر ہے،اس طرح اس کی صفات بھی بے مثال اور بے نظیر ہیں۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿لَيسَ كَمِثلِهِ شَىءٌ ۖ وَهُوَ السَّميعُ البَصيرُ ﴿١١﴾...الشورىٰ
"اس جیسی کوئی چیز نہیں اور وہ دیکھتا سنتا ہے"
اس آیت کریمہ میں جہاں باری تعالیٰ کابے مثال  ہونا ذکر ہوا ہے،وہاں اس کا دیکھنا اورسننا بھی صفات الٰہی کا اثبات ہے۔اس طرح سارا قرآن کریم صفت الٰہی ،غیر مخلوق اور معجزہ ہے۔امام طحاوی حنفی عقیدہ طحاویہ میں فرماتے ہیں:
" وإِنَّ القرآنَ كَلامُ الله، منْهُ بَدَا بلاَ كَيْفِيَّة قَوْلاً، وأنْزلَه على رَسُولِهِ وَحْياً، وَصَدَّقهُ المؤمنون على ذلك حَقًّا، وأَيْقَنُوا أنَّه كلامُ الله تعالى بالحقيقة، ليس بمخلوقٍ ككلام البَرِيَّةِ، فمن سمِعَهُ فَزَعَمَ أَنَّهُ كلامُ البشرِ، فَقَدْ كَفَرَ، وقد ذمَّهُ الله وعابَهُ وأوعَدهُ بسَقَر، حيث قال تعالى {سَأُصْلِيهِ سَقَرَ}[المدثر:26]، فَلَمَّا أَوْعَدَ اللهُ بِسَقَرٍ لمنْ قال {إِنْ هَذَا إِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ}[المدثر:25]، عَلِمْنَا وأَيْقَنَّا أنه قولُ خالقِ البَشرِ، ولا يُشْبِهُ قولَ البشر"
"قرآن اللہ کی کلام ہے ،اس سے  ظاہر ہوا،ہمیں اس کے تکلم کی کیفیت معلوم نہیں۔وحی کی صورت میں اس کو اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  پر نازل فرمایا اور مومنوں نے اس کے برحق ہونے کی تصدیق کی اور انہیں یقین ہوا کہ  یہ حقیقتاً اللہ کا کلام ہے۔غیر مخلوق ہے۔لوگوں کی کلام کی  طرح مخلوق نہیں ہے۔جو اسے سن کر خیال کرے کہ یہ بشر کی کلام ہے تو وہ کافر ہے۔ایسے شخص کی اللہ نے مذمت کی اور اس پر عیب لگایا اور اس کی دوزخ کے طبقہ سقر میں داخل کرنے کی دھمکی دی۔جس آدمی نے یہ کہا تھا کہ قرآن انسانی کلام ہے۔اللہ نے ا س کو دوزخ کی دھمکی دی تو ہمیں علم اور یقین ہوگیا یہ خالق بشر کی کلام ہے جو بشر کی کلام کے مشابہ نہیں۔"(متن شرح عقیدہ طحاویہ :ص 127،128)
کتب توحید میں امام ابو حنیفہ رحمۃ  اللہ علیہ  کا قول معروف ہے کہ:
"اللہ جانتا ہے  لیکن اس کا جاننا ہمارے جاننے کی طرح نہیں۔اللہ قادر ہے لیکن اس کی قدرت ہماری قدرت کی طرح نہیں۔اللہ متکلم ہے لیکن اس کی کلام مخلوق کی کلام کی طرح نہیں۔اللہ سمیع ہے اس کا سننا ہمارے سننے کی طرح نہیں۔وہ دیکھتا ہے اس کا د یکھنا ہمارے دیکھنے کی طرح نہیں ،اسی بناء پر ارشاد باری تعالیٰ ہے:
" هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا "(مریم:65)
"بھلا تم کوئی اس کا ہم نام جانتے ہو"
شارح عقیدہ طحاویہ علامہ  ابن ابی العز حنفی  رحمۃ  اللہ علیہ  فرماتے ہیں:
"وبالجملة : فأهل السنة كلهم من أهل المذاهب الأربعة وغيرهم من السلف والخلف متفقون على أن كلام الله غير مخلوق"(ص 137)
"جملہ اہل سنت ،مذاہب اربعہ کے پیروکار اور دیگر سلف خلف سب اس بات پر متفق ہیں کہ اللہ کی کلام غیر مخلوق ہے"
سوال ۔کیا  فرماتے ہیں اس مسئلہ کے بارے میں کہ ربوی اشیا میں ا ُدھار ہوسکتا ہے یا نہیں۔
مثلاً ایک شخص کسی سے ایک من گندم ادھار لیتاہے اور کہتاہے کہ کٹائی کے موقع پر جب میری گندم آجائےگی تو میں آپ کو ایک من واپس کردوں گا۔ یا جیسے عورتیں گھروں میں کسی سے آٹا ادھار لیتی ہیں۔اور بعد میں اتنا ہی آٹا واپس کردیتی ہیں۔کیا ایسا کرناشرعاً درست ہے یا نہیں؟
جواب:۔ربوی اشیا کی خریدوفروخت میں ادھار منع ہے۔البتہ قرض حسنہ کے طور پر کوئی شے لی جائے  تو یہ جائز ہے۔گھروں میں آٹے کا لین دین عام طور پر قرض حسنہ کی قبیل سے ہوتاہے،اس لیے اس کا کوئی حرج نہیں۔
سوال:۔ ہمارے گاؤں کے گورنمنٹ سکول کے ایک استاد نے 50 کے قریب ٹیسٹ پیپرز گائیڈز جس میں دینیات وعربی کی قرآنی آیات موجود  تھیں ،بچوں سے اکھٹی کرکے مٹی کا تیل ڈال کرجلادیں۔کیااستاد کا فعل قرآنی آیات کو جلانا شریعت کی روشنی میں قابل مواخذہ نہیں؟
جواب:۔قرآنی آیات والے بوسیدہ اوراق کو ضائع کرنے کا بلاشبہ جوازہے۔پانی میں بہادیئے جائیں،پاکیزہ زمین میں دفن کردیئے جائیں،اسی طرح اوراق کو جلانے کاعمل بھی درست ہے۔صحیح بخاری میں حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے منقول ہے:
"وَأَمَرَ بِمَا سِوَاهُ مِنَ الْقُرْآنِ فِي كُلِّ صَحِيفَةٍ أَوْ مُصْحَفٍ أَنْ يُحْرَقَ" (باب جمع القرآن)
"حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   کے صحف سے منقول قرآن کے علاوہ ہر صحیفے یامصحف میں جو قرآن ہے،ان کو جلانے کا حکم صادر فرمایا"۔اس پر شارح بخاری امام ابو الحسن ابن بطال فرماتے ہیں:
" فِي هَذَا الْحَدِيث جَوَاز تَحْرِيق الْكُتُب الَّتِي فِيهَا اِسْم اللَّه بِالنَّارِ ، وَأَنَّ ذَلِكَ إِكْرَام لَهَا ، وَصَوْن عَنْ وَطْئِهَا بِالْأَقْدَامِ . وَقَدْ أَخْرَجَ عَبْد الرَّزَّاق مِنْ طَرِيق طَاوُسٍ أَنَّهُ كَانَ يُحَرِّق الرَّسَائِل الَّتِي فِيهَا الْبَسْمَلَة إِذَا اِجْتَمَعَتْ ، وَكَذَا فَعَلَ عُرْوَة " انتهى من "فتح الباري" .'
"اس حدیث سے یہ مسئلہ نکلا کہ  ان کتابوں کو جلانا جائز ہے جن میں اللہ عزوجل کا اسم گرامی ہو،اسی میں ان کی عزت واکرام ہے بجائے اس کےکہ قدموں کے نیچے روندے جائیں،اس میں ان کی بے ادبی ہے۔طاوس کے پاس جب اللہ کے نام والے کتب ورسائل جمع ہوجاتے تو ان کو جلا ڈالتے ،عروہ کا فعل بھی اسی طرح مروی ہے۔(فتح الباری:9/21)
لہذا موصوف کے اس فعل پر شرعی طور پر کوئی مواخذہ نہیں۔