ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

آن لائن مطالعہ
  • دسمبر
2000
عطاء اللہ صدیقی
پاکستانی این جی اوز کے راہنماؤں پر اچانک یہ حقیقت منکشف ہوئی ہے کہ موجودہ حکومت غیر آئینی وغیر قانونی ہے پاکستان این جی اوز فورم کے مرکزی راہنماؤں نے ،سنگی فاؤنڈیشن کے راہنماؤں کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ این جی اوز میں کام کرنے والے افراد جو وزیر بن گئے ہیں ان کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں رہا کیونکہ ملک کی تین ہزار نمائندہ این جی اوزاس بات پر متفق ہیں کہ موجودہ حکومت غیر آئینی ہے جسے عوام کا کوئی ،مینڈیٹ ،حاصل نہیں ۔ انھوں نے کہا کہ جب سے موجودہ حکومت آئی ہے بعض مذہبی حلقوں کی طرف سے این جی اوز کے خلاف دباؤ بہت بڑھ گیاہے۔(روز نامہ نوائے وقت : یکم ستمبر 2000ء)
جنرل پرویز مشرف کے برسر اقتدار آنے کے بعد پاکستان میں این جی اوز کی اچھل کود اور آؤ بھگت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ۔فوجی حکومت نے آتے ہی وفاقی اور صوبائی کابینہ میں این جی اوز کے متحرک افراد کو وزارتیں دے دیں عمر اصغر خان عطیہ عنایت اللہ جاوید جبار زبیدہ جلال شاہین عتیق الرحمٰن اور چند دیگرخواتین و حضرات دیکھتے ہی دیکھتے فوجی حکومت کے نفس ہائے ناطقہ بن گئے حکومت کے دیگر روشن خیال وزراء کی رفاقت سے این جی اوزبرانڈ  وزراکو مزید روحانی تقویت ملی۔
  • دسمبر
2000
حافظ ثناء اللہ مدنی
خاوند کو بتائے بغیر عدالت کے ذریعے طلاق لے کرآگے نکاح کرلینا
خالہ اوربھانجی کو ایک نکاح میں جمع کرنا اور دونوں سے اولاد کا  حکم
پرانے قر آنی اوراق کی تلفی
کیاقرآن مجیداللہ کی مخلوق ہے؟
سوال:۔ ایک عورت نے خاوند کی اجازت کے بغیر شادی کرلی ہے اور خاوند کو اس کا علم نہیں ہوا کیونکہ اس عورت نے عدالت سے طلاق حاصل کی ہے۔پہلے خاوند سے عورت کے تین بچے بھی ہیں۔اس کے بعد اس نے دوسری شادی بھی کرلی ہے۔اور کوئی ولی وغیرہ بھی پیداکرلیے ہیں۔اس صورت میں کیا یہ طلاق اور شادی واقع ہوجائےگی۔وہ اب اپنے پہلے خاوند کے پاس نہیں رہ رہی۔ بچے بھی اب خاوند کے پاس ہیں۔(قاری حسان،مدرس جامعہ لاہور الاسلامیہ)
جواب:۔عورت کے لیے شوہر سے علیحدگی کی دو صورتیں ہیں:خاوند طلاق دے یا عورت خلع حاصل کرلے۔یہا ں دو صورتوں سے کوئی صورت نہیں پائی جاتی لہذا علیحدگی کا عدالتی فیصلہ ناقابل اعتبار ہے۔عورت باقاعدہ پہلے شوہر کی زوجیت میں ہے۔دوسرے سے فوراً تفریق کرادینی چاہیے۔قرآن مجید میں ہے:
﴿وَالمُحصَنـٰتُ مِنَ النِّساءِ ...٢٤﴾...النساء
"اور شوہر والی عورتیں بھی(تم پر حرام ہیں)"
سوال۔ایک شخص نے ایک  عورت سے نکاح کیا اور اس کی اولاد بھی پیدا ہوئی۔بعد ازاں اس شخص نے دوسری عورت سے نکاح کیا۔جو کہ پہلی عورت کی سگی بھانجی ہے۔ اور اس سے بھی اولاد ہوئی۔یعنی کہ خالہ اور بھانجی کو ایک ساتھ نکاح میں جمع کردیا۔اور تاحال دونوں بیویاں زندہ ہیں اور دونوں میں سے کسی کو طلاق بھی نہیں دی۔اب اس سے مندرجہ ذیل سوالات  پیدا  ہوتے ہیں:
(سائل:مقصود احمد ڈھلوں)
  • دسمبر
2000
محمد علی الصابونی
(غیر مسلموں کی بہتان تراشیوں اور اعتراضات کاجواب)


ہم اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتے ہیں اور درودوسلام بھیجتے ہیں اللہ کے برگزیدہ پیغمبر آقائے نامدار حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم  کی ذات گرامی پر،آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی آل رضوان اللہ عنھم اجمعین  اور صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  پر اوران ہستیوں پر جنھوں نے قیامت تک کے لیے   آ پ صلی اللہ علیہ وسلم  اور صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین  کے دامن کو مضبوطی سےتھامے رکھا۔
درود وسلام کے بعد! میں آ پ   کو مبارکباد دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے ہم سب کو اسلام جیسی  پاکیزہ اور بے پایاں نعمت سے سرفراز فرمایا اور اللہ سے اس کی محبت اور خوشنودی کا خواستگار ہوں۔دعا گو ہوں کہ اللہ ہمیں اخلاص کے ساتھ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ہمیں گفتار اور کردار کا غازی بنائے،ہمیں ایمان کامل اور صدیق یقین کی دولت سے مالا مال فرمائے۔یقیناً وہی دعاؤں کا سننے والا قبول کرنے والا ہے۔
  • دسمبر
2000
عبداللہ روپڑی
(داڑھی رکھنے کے بارے میں آج کل مسلمانوں میں بڑی غفلت پائی جاتی ہے ۔اور اب یہ غفلت اس حد تک بڑھ گئی ہے۔کہ عامۃ المسلمین میں داڑھی رکھنے کو شریعت کا حکم ہی نہیں سمجھا جا تا ۔بلکہ کچھ لوگ تو یہ سمجھتے ہیں گویا یہ صرف علماء یا مولوی حضرات کی ایک عادت یا رواج ہے اور یہ حکم ان لوگوں کے لیےہی ہے جو شریعت کی تبلیغ اور دین پڑھنے پڑھانے کا مشن سنبھالے ہوئے ہیں دوسری طرف مسلمانوں کی اکثریت اس جملہ سے شبہ کھاتے ہوئے کہ داڑھی سنت رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  ہے اس کو صرف ایک مستحب امر سمجھتی ہے اور یہ قطعاًخیال نہیں کرتی کہ داڑھی نہ رکھنے پروہ اللہ کے ہاں پکڑے جائیں گے۔یہیں پر ہی بس نہیں بلکہ داڑھی رکھنے والے مسلمانوں کو اکثرتضحیک کا نشانہ بھی بنایا جا تا ہے علماء اور خطیب حضرات بھی اس مسئلہ میں عوامی رد عمل سے گھبراتے یا ملان کا خطاب ملنے کے ڈرسے اس مسئلے پر روشنی ڈالنے سے ہچکچاتے ہیں نتیجہ یہ کہ روز بروز یہ اسلامی شعار مسلمانوں میں متروک ہو تا جارہا ہے۔ اسی طرح بعض لوگ اپنی بے عملی کے بہانے کے طور پر چند روایتوں کو بھی پیش کر کے شرعی داڑھی سے جان چھڑانا چاہتے ہیں۔
داڑھی نہ صرف نماز، روزہ، اور حج کی طرح نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کی ایک عملی سنت ہے جس کو اپنانے کا شریعت میں واضح حکم دیا گیا ہے بلکہ اس کا تارک اللہ کے ہاں سخت سزا کا مستحق ہو گا۔ نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق داڑھی مردکے لیے باعث زینت اور مو جب و قار ہے لہٰذا رضائے الٰہی کے طالبوں کو اسے بالکل نظر انداز نہیں کردینا چاہئے۔
  • دسمبر
2000
عبداللہ دامانوی
(جامعہ عربیہ،بنوری ٹاؤن کے ایک فتویٰ کا علمی وتحقیقی جائزہ)

چند دن قبل راقم الحروف نے ایک سائل کے جواب میں ایک فتویٰ جاری کیاتھا،جس میں واضح کیا تھا کہ ایک مرتبہ دودھ پینے سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔سائل نے اپنے سوال میں پوچھا تھا کہ اس کےبیٹے نے اپنی پھوپھی کا ایک مرتبہ دودھ پیا ہے۔کیا ایک مر تبہ  دودھ پینے سے حرمت ر ضاعت ثابت ہوجائےگی؟اس کے جواب میں،میں نے صحیح وصریح احادیث کے ذریعے واضح کیا  تھا کہ بچہ جب تک پانچ مرتبہ کسی خاتون کا دودھ نہ پی لے تواس وقت تک حرمت ثابت نہیں ہوسکتی۔
لیکن اس فتویٰ پر جامعہ عربیہ ،بنوری ٹاؤن کے مفتی عبدالستار نے تعاقب کرتے ہوئے لکھا:
"واضح رہے کہ ایک مرتبہ دودھ پینے سے بھی حرمت  رضاعت ثابت ہوجاتی ہے ،اس پر قرآن پاک اور کثیر صحیح احادیث شریفہ سے قوی دلائل موجود ہیں۔جمہور صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  اور جمہور اُمت کابھی یہی مسلک ہے"(ص2)
اس مسئلہ پر مفتی صاحب نے قرآن پاک اور احادیث صحیحہ سے جو قوی دلائل بیان کئے ہیں ،ان کا ذکر ہم بارہ صفحات  کے بعد کررہے ہیں جس کے ساتھ ساتھ نکتہ بہ نکتہ ان کا جائزہ بھی لیا گیا ہے۔احادیث صحیحہ سے یہ مسئلہ واضح ہے کہ پانچ مرتبہ دودھ پینے سے ہی حرمت ر ضاعت ثابت ہوتی ہے۔اور پانچ مرتبہ سے کم دودھ پینے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی۔چنانچہ اس سلسلہ کے چند دلائل پیش خدمت ہیں:
  • دسمبر
2000
ممتاز احمد
دنیا میں عالم اسلام میں سب سے زیادہ عربی مدارس،مدارس کے اساتذہ اور مدارس کے طلبہ بنگلہ دیش میں ہیں۔ یہ امتیاز کسی اور مسلمان ملک کو حاصل نہیں ہے ۔اس وقت بنگلہ دیش میں 60لاکھ ایسے افراد ہیں جو کسی نہ کسی حیثیت سے مدارس سے وابستہ ہیں۔
بنگلہ دیش میں تین طرح کے مدراس ہیں ایک وہ جو حکومت سے کوئی امداد اور تعاون نہیں لیتے نجی ہیں ان کو قومی یا خارجی مدارس کہتے ہیں دوسرے عالیہ مدراس ہیں جو نجی ہیں لیکن حکومت سے مالی اعانت وصول کرتے ہیں تیسرے خالصتاً سر کاری مدارس ہیں جن کی تعدادچار ہے ان کو بھی عالیہ مدرسہ کہا جا تا ہے ایسے عالیہ مدرسے ڈھاکہ بوگرہ راج شاہی اور جیسورمیں ہیں قومی مدرسوں کی تعداد 6ہزار 5سوہے ۔یہاں مکمل درس نظامی پڑھا یا جاتا ہے اس میں سے 30فیصد مدارس میں دورہ حدیث  بھی ہوتا ہے 1993ء میں ایسے مدارس کی تعداد صرف 12یا 13فیصد تھی جہاں دورہ حدیث کا انتظام تھا اس اضافے کی وجہ یہ ہے کہ اس سے پہلے بنگلہ دیش کے علماء کی بہت بڑی اکثریت درس نظامی مکمل کر کے دورہ حدیث کے لیے دیوبند جایا کرتی تھی لیکن بھارتی حکومت نے اس خطرے کے پیش نظر کہ یہ سارے لوگ آئی ایس آئی کے ایجنٹ کے طور پر بھارت جائیں گے۔ ویزےبند کردئیے ۔اس کے نتیجے میں بنگلہ دیش میں مدارس نے خود دور ہ حدیث کے انتظامات کئے اس وقت صرف ڈھاکہ میں 28مدارس ایسے ہیں جہاں دورہ حدیث ہوتا ہے قومی مدارس کے اساتذہ کی تعداد ایک لاکھ 30ہزار اور طلبہ کی تعداد14لاکھ62ہزار5سو ہے۔
  • دسمبر
2000
عبدالجبار سلفی
(جس سے بے اعتنائی برتنے پر،اُمت باہمی خلفشار کا شکار ہے!)

حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  بن جبل،حسن وجمال،بذل وعطاء ،جودوسخا ،مہرووفا،احسان ومروت ،شجاعت وفتوت جیسے اوصاف میں یگانہ روگار تھے۔سخی اتنے کہ سائل کو خالی نہ جانے دیتے اگر چہ قرض ہی کیوں نہ لینا پڑے،کثرت سخاوت کے باعث آپ مقروض ہوگئے۔قرض خواہوں کے شدید تقاضوں پر حضرت  رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے ان کا مکان اوراثاثہ نیلام کرکے ان کاقرض ادا کیا۔چنانچہ حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  اس حال میں اُٹھے کہ تن کے کپڑوں کے سواکوئی چیز نہ بچی!!
آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم  ان کے حال پر شدید دل گرفتہ اور رنجیدہ ہوئے اور ان کو یمن کا گورنر مقرر کردیا اور ہدیہ قبول کرنے کی خصوصی اجازت مرحمت فرمائی اور ان کو ایسی نصیحتیں کیں جو تمام امت کےسربرآوردہ لوگوں کے لیے مشعل راہ ہیں۔گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم  ،حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کو زندگی کی آخری وصیتیں کررہے تھے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے  فرمایا:
"اے معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ! تو اہل کتاب کے ہاں جا رہا ہے اور وہ تجھے جنت کی چابیوں کے متعلق پوچھیں گے تو انہیں بتانا کہ لاالٰہ الا اللہ جنت کی چابی ہے۔یہ ایسا بابرکت اور پرتاثیر کلام ہے جو ہر چیز کو چیرتا ہوا عرش الٰہی پر پہنچتا ہے اور کوئی چیز اس کے سامنے رکاوٹ نہیں بنتی۔جو کوئی انسان کو شرک سے بچا کر لے آئے گا یہ روز قیامت اس کے سبب گناہوں پر بھاری ہوجائے گا۔"