(الصارم البتار في التصدي للسحرة الأشرار)

(آٹھواں حصہ)                      
نظر بدکاعلاج

نظر بد کی تاثیر پر قرآنی دلائل:۔
1۔سورہ یوسف کی آیات 67،68 کا ترجمہ ملاحظہ کریں:
"اور (یعقوب علیہ السلام  ) نے کہا اے میرے بچو!تم سب ایک دروازے سے نہ جانا،بلکہ کئی جدا جدا دروازوں میں سے داخل ہونا،میں اللہ کی طرف سے آنے والی چیز کو تم سے  ٹال نہیں سکتا،حکم صرف اللہ کا ہی چلتا ہے۔میر اکامل بھروسہ اسی پر ہے،اور ہر ایک بھروسہ کرنے کو ا ُسی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔اور جب وہ انہی  راستوں سے جن کا حکم ان کے والد نے انہیں دیاتھا،گئے،کچھ نہ تھا کہ اللہ نے جو بات مقرر کررکھاہے،وہ اس سے انہیں ذرا  بھی بچالے،مگر(یعقوب علیہ السلام  ) کے دل میں ایک خیال  پیدا ہوا جسے انہوں نے پورا کرلیا،بلاشبہ وہ  ہمارے سکھلائے ہوئے علم کے عالم تھے،لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے"
حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ  ان دونوں آیات کو تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"اللہ تعالیٰ یعقوب علیہ السلام   کے بارے میں  بتارہا ہے کہ انہوں نے جب"بنیامین" سمیت اپنے بیٹوں کو مصر جانے کے لیے تیار نہیں کیا تو انہیں تلقین کی کہ وہ سب کے سب ایک دروازے سے داخل ہونے کی بجائے مختلف دروازوں سے داخل ہوں،کیونکہ انہیں جس طرح کہ ابن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،محمد بن کعب رحمۃ اللہ علیہ ،مجاہد رحمۃ اللہ علیہ ،ضحاک رحمۃ اللہ علیہ ،قتادہ رحمۃ اللہ علیہ ،اورسدی رحمۃ اللہ علیہ  وغیرہم کا کہنا ہے۔اس بات کاخدشہ تھاکہ چونکہ ان کے بیٹے خوبصورت ہیں،کہیں نظر بد کا شکار نہ ہوجائیں اور نظر کا لگ جانا حق ہے۔(118)
2۔فرمان الٰہی ہے:
﴿وَإِن يَكادُ الَّذينَ كَفَروا لَيُزلِقونَكَ بِأَبصـٰرِهِم لَمّا سَمِعُوا الذِّكرَ وَيَقولونَ إِنَّهُ لَمَجنونٌ ﴿٥١﴾...القلم
"اورقریب ہے کہ کافر اپنی تیز نگاہوں سے آپ کو پھسلا دیں،جب کبھی قرآن سنتے ہیں اور کہہ  دیتے ہیں،یہ توضرور دیوانہ ہے"
حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ  کا کہنا ہے:
"یعنی اگر  تیرے لیے اللہ کی حفاظت وحمایت نہ ہوتی تو ان کا فروں کی حاسدانہ نظروں سے تو نظر بد کا شکار ہوجاتا،اوریہ اس بات کی دلیل ہے کہ نظر کا لگ جانا اور اس کا دوسروں پر(اللہ کے حکم سے) اثرانداز ہونا حق ہے،جیسا کہ متعدد احادیث سے بھی ثابت ہے"(120)
نظر بد کے موثر ہونے پر حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم  سے چند دلائل:۔
نظر بد کے بارے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کے فرامین کا ترجمہ ملاحظہ کریں:
1۔نظر بد کا لگ جانا حق ہے۔(121)
2۔"نظر بد سے اللہ کی  پناہ طلب کیاکرو،کیونکہ نظر بد کا لگنا حق ہے"(122)
3۔نظر بدحق ہے،اور اگر تقدیر سے کوئی چیز سبقت لے جاسکتی ہوتی تو وہ نظر بد ہے،اور جب تم میں سے کسی ایک سے غسل کرنے کامطالبہ کیا جائے(تاکہ غسل کے پانی سے وہ شخص غسل کرسکے جسے تمہاری نظر بد لگ گئی ہو)تو غسل کرلیاکرو۔(123)
4۔اسماء بن عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا   نے آ پ صلی اللہ علیہ وسلم  سے گزارش کی کہ بنو جعفر کو نظر بد لگ جاتی ہے تو کیا وہ ان پر دم کرسکتی ہیں؟۔۔۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا۔
"ہاں،اوراگر تقدیر سے کوئی چیز سبقت لے جانے والی ہوتی تو وہ نظر بد ہے"(124)
5۔"بے شک نظر بد انسان  پراثر انداز ہوتی ہے۔حتیٰ کہ وہ اگر ایک ا ونچی جگہ پر ہوتو نظربد کی وجہ سے نیچے گرسکتاہے۔"(125)
6۔"نظر بد کالگنا حق ہے ،اور انسان کو اونچے  پہاڑ سے نیچے گراسکتی ہے"(126)
7۔"نظر بد انسان کو موت تک اور اونٹ کو ہانڈی تک پہنچادیتی ہے"(127)
8۔"اللہ کی قضا وتقدیر کے بعد سب سے زیادہ نظر بد کی وجہ سے میری اُمت میں اموات ہوگی"(128)
9۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   صدیقہ کہتی ہیں کہ  رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نظر بد کی وجہ سے دم کرنے کا حکم دیتے تھے۔"(129)
10۔حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے  نظر بد اور بچھو وغیرہ کے ڈسنے سے اور پلو میں پھوڑوں سے دم کرنے کی اجازت دی ہے۔(130)
11۔حضرت  ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ایک لڑکی کے چہرے پر کالا یا پیلے رنگ کا نشان دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:"اسے نظر بد لگ گئی ہے اسے دم کرو"(131)
12۔حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے آل حزم کو سانپ کے ڈسنے کی وجہ سے دم کرنے کی رخصت دی،اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا   سے  پوچھا،"کیا وجہ ہے کہ میرے بھتیجے کمزور ہیں،کیا فقرو  فاقے کا شکار ہیں؟انہوں نے کہا نہیں،بلکہ انہیں نظر بد بہت جلدی لگ جاتی ہے۔تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے  فرمایا:ان پر دم کیاکرو"(132)
نظر بد کی حقیقت کے بارے میں علماء کے اقوال:۔
حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ  رحمۃ اللہ علیہ :۔
"نظر بد کا اللہ کے حکم سے لگنا اور اثر انداز ہونا حق ہے"(133)
حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ :۔
"نظر بد کی حقیقت کچھ یوں ہے کہ ایک خبیث الطبع انسان اپنی حاسدانہ نظر جس شخص پر ڈالے تو اُسے نقصان  پہنچے۔"(133)
امام ابن الاثیر رحمۃ اللہ علیہ :۔
"کہا جاتاہے کہ فلاں آدمی کو نظر لگ گئی ہے ،تو یہ اس وقت ہوتا ہے جب دشمن یا حسد کرنے والا انسان اس کی طرف دیکھے اور اس کی نظریں اس پر اثرانداز ہوجائیں اور وہ ان کی وجہ سے بیمار پڑ جائے۔"(135)
حافظ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ :۔
"کچھ کم علم لوگوں نے نظر بد کی تاثیر کو غلط قرار دیاہے۔اور ان کا کہنا ہے کہ یہ محض توہم پرستی ہے۔اور اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ سب سے زیادہ جاہل اور ارواح کی صفات اور ان کی  تاثیر سے ناواقف ہیں اور ان کی عقلوں پر پردہ پڑا ہواہے۔جبکہ تمام اُمتوں کے عقلاء باوجوداختلاف مذاہب کے نظر بد سے انکار نہیں کرتے،اگرچہ نظر بد کے سبب اور اس کی جہت تاثیر کے سلسلے میں ان میں اختلاف موجود ہے"
پھر کہتے ہیں:
"اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ  تعالیٰ نے جسموں اور روحوں میں مختلف طاقتیں اور طبعیتیں پیدا کردی  ہیں۔اور ان میں کئی خواص اور اثر انداز ہونے والی متعدد کیفیات ودیعت کی ہیں،اور کسی عقلمند کے لیے ممکن نہیں کہ وہ جسموں میں روحوں کی  تاثیر سے انکار کرے۔کیونکہ یہ چیز خوددیکھی اور محسوس کی جاسکتی ہے۔اور آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ایک شخص کا چہرہ اس وقت انتہائی سرخ ہوجاتا ہے۔جب اس کی طرف وہ انسان دیکھتا ہے جس کا وہ احترام کرتا،اوراس سے شرماتا ہوا اور اس وقت پیلا پڑ جاتا ہے۔ جب اس کی طرف ایک ایسا آدمی دیکھتا ہے  جس سے وہ ڈرتا ہو،اور لوگوں نے ایسے کئی اشخاص دیکھے ہیں جو محض کسی کے دیکھنے کی وجہ سے کمزور پڑ جاتے ہیں تو یہ سب کچھ روحوں کی تاثیر کے ذریعے سے ہوتاہے،اور چونکہ اس کا تعلق نظر سے ہوتاہے اس لیے نظر بد کی نسبت آنکھ کی نظر کی طرف کی جاتی ہے،حالانکہ آنکھ کی نظر کچھ نہیں کرتی،یہ تو ر وح کی تاثیر ہوتی ہے۔
اور  روحیں اپنی طبیعتوں،طاقتوں،کیفیتوں،اور اپنے خواص کے اعتبارات سے مختلف ہوتی ہیں،سو حسد کرنے والے انسان کی روح واضح طور پر اس شخص  کو اذیت پہنچاتی ہے جس سے حسد کیاجاتا ہے،یہ وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حاسد کے شر سے پناہ طلب کرنے کا حکم دیاہے،تو حاسد کی تاثیر ایک ایسی چیز ہے جس سے وہی شخص انکار کرسکتاہے جو حقیقت انسانیت سے خارج ہو۔
اور نظر بد بنیادی طور پر اس طرح لگ جاتی ہے کہ حسد کرنے والا ناپاک نفس جب ناپاک کیفیت اختیار کرکے کسی کے سامنے آتا ہے تو اس میں اس ناپاک کیفیت کا ا ثر ہوجاتاہے،اور ایسا کبھی آپس کے ملاپ کی وجہ سے ہوتا ہے اور کبھی آمنے سامنے آنے کی وجہ سے اور کبھی دیکھنے کی وجہ سے ،اور کبھی اس شخص کی طرف روح کی توجہ سے،اورکبھی چنددعاؤں اور دم وغیرہ کے پڑھنے سے اور کبھی محض وہم وگمان سے ہوجاتاہے۔اورجس شخص کی نظر لگتی ہے اس کی تاثیردیکھنے پر موقوف نہیں ہوتی بلکہ کبھی اندھے کو کسی چیز کا وصف بیان کردیاجائے تو اس کے نفس میں اگر حاسدانہ جذبات پیدا ہوجائیں تو اس کااثر بھی ہوسکتاہے،اور بہت سارے ایسے لوگ جن کی نظر اثر انداز ہوتی ہے،محض وصف کے ساتھ بغیر دیکھے،ان کی نظرلگ جاتی ہے،اور یہ وہ تیر ہوتے ہیں جو نظر لگانے والے انسان کے نفس سے نکلتے ہیں،کبھی نشانے پر جا لگتے ہیں اور کبھی ان کا نشانہ خطا ہوجاتا ہے،جس شخص کی طرف یہ تیر متوجہ ہوتے ہیں،اگر اس نے ان سے اور نظر بد سے بچنے کےلیے احتیاطی  تدابیراختیار کررکھی ہیں تو وہ تیر نشانے سے خطا ہوجاتے ہیں اور کبھی کبھار خود حسد کرنےوالے انسان کو بھی جالگتے ہیں۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ نظر بد تین مراحل سے گزر کر کسی  پر اثر انداز ہوتی ہے ،سب سے پہلے دیکھنے والے شخص میں کسی چیز کے متعلق حیرت پیدا ہوتی ہے،پھر اس کے ناپاک نفس میں حاسدانہ جذبات پیدا ہوتے ہیں اور پھر ان حاسدانہ جذبات کا زہر نظر کے ذ ریعے منتقل ہوجاتاہے"(136)
نظر بد اورحسد میں فرق:۔
1۔ہر نظر لگانے والا شخص حاسد ہوتاہے اور ہر حاسد نظر لگانے والا نہیں ہوتا،اسی لیے اللہ تعالیٰ نے سورہ فلق میں حاسد کے شر سے  پناہ طلب کرنے کا حکم دیا ہے۔سو کوئی بھی مسلمان جب حاسد سے پناہ طلب کرے گا تو اس میں نظر لگانے والا انسان بھی خود بخود آجائے گا،اور یہ قرآن مجید کی بلاغت،شمولیت اور جامعیت ہے۔
2۔حسد،بغض اور کینے کی وجہ سے ہوتاہے اور اس  میں یہ خواہش پائی جاتی ہے کہ جونعمت دوسرے انسان کو ملی ہوئی ہے۔وہ اس سے چھن جائے اور حاسد کو مل جائے،جبکہ نظر بد کا سبب حیرت،پسندیدگی اور کسی چیز کو بڑا سمجھنا ہوتاہے۔خلاصہ یہ کہ دونوں کی تاثیر ایک ہوتی ہے اور سبب الگ الگ ہوتا ہے۔
3۔حاسد کسی متوقع کام کے متعلق حسد کرتا ہے جبکہ نظر لگانے والا کسی موجود چیز کو ہی نظر لگاسکتاہے۔
4۔انسان اپنے آپ سے حسد نہیں کرسکتا،البتہ اپنے آپ کو نظر بد لگاسکتا ہے۔
5۔حسدصرف کینہ پرور انسان ہی کرتاہے جبکہ نظر ایک نیک آدمی کی بھی لگ سکتی ہے،جبکہ وہ کسی چیز پر حیرت کا اظہارکرے اور اس میں نعمت کے چھن جانے کا ارادہ شامل نہ ہو،جیسا کہ عامر بن ربیعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی نظر سہل بن حنیف کولگ گئی تھی ،حالانکہ عامر بدری صحابہ کرام  رضوان اللہ عنھم اجمعین  میں سے تھے۔
اور نظر بد کے اثر سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ مسلمان جب کسی چیز کو دیکھے اور اسے وہ پسند آجائے تو زبان سے،"ماشاءاللہ"یا"بارک اللہ" کے الفاظ بولے تاکہ اس کی نظر استحسان کا برا اثر نہ ہو، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے حضرت سہل بن حنیف کو یہی تعلیم دی تھی۔(137)
جن کی نظر بد بھی انسان کو لگ سکتی ہے!
1۔حضرت ابو سعیدخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے  روایت ہے کہ  رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  جنات اور انسانوں کو نظر بد سے پناہ طلب کیاکرتے تھے،پھرجب معوذتین( الفلق،الناس) نازل ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  انہیں کو پڑھتے تھے اور باقی دعائیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے چھوڑ دی تھیں۔(138)
2۔ام سلمہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا   کہتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ان کے گھر میں ایک لڑکی کو دیکھا جس کے چہرے پر سیاہ نشان تھا،چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:"اس کو دم کرو کیونکہ اس کو نظر بند لگ گئی ہے"(139) امام القراء نے لکھا ہے کہ یہ سیاہ نشان جن کی نظر بد کی وجہ سے تھا۔
ان دونوں حدیثوں سے معلوم ہواکہ جس طرح انسان کی نظر بد اثر انداز ہوتی ہے۔اسی طرح جن کی نظر بد بھی اثر انداز ہوتی ہے، اسی لیے مسلمان کو چاہیے کہ وہ جب بھی ا پنے کپڑے اتارے یا شیشہ دیکھے یا کوئی بھی کام کرے  تو"بسم اللہ" پڑھ لیاکرےتاکہ جنوں اور انسانوں کی نظر بد کی تاثیر سے بچ سکے ۔
نظر بد کا علاج:۔
اس کے علاج کے متعدد طریقے ہیں ،ان میں سے چند ایک درج ذیل ہیں:
پہلاطریقہ:۔
جس شخص کی نظر لگی ہو اگر اس کا  پتہ چل جائے تو اسے غسل کرنے کاکہا جائے پر جس پانی سے اس نے غسل کیاہو اسے نظر بد سے متاثرہ شخص   پر بہادیاجائے،اس طرح ان شاءاللہ شفا نصیب ہوگی۔
ابو امامہ کہتے ہیں کہ میرے باپ سہل بن حنیف نے غسل کرنے ارادہ کیا اور جب اپنی قمیص اتاری تو عامر بن ربیعہ ان کی طرف دیکھ رہے تھے۔ان کا رنگ انتہائی سفید تھااور جلد بہت خوبصورت تھی،عامر نے دیکھتے ہی کہا:میں نے آج تک اتنی خوبصورت جلد کسی کنواری لڑکی کی بھی نہیں دیکھی،ان کا یہ کہنا تھا کہ سہل کو شدید بخا ر شرو ع ہوگیا۔چنانچہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کو یہ قصہ بتایا گیا اور آ پ صلی اللہ علیہ وسلم  سے یہ بھی کہاگیا کہ سہل کی حالت یہ  ہے کہ وہ سر بھی نہیں اٹھا سکتا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے پوچھا:کیا تمھیں کسی پر شک ہے؟انہوں نے کہا:جی عامر بن ربیعہ  پر شک ہوسکتا ہے۔سو آ پ صلی اللہ علیہ وسلم  نے انہیں بلوایا اور ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا:"تم میں سے کوئی ایک کیوں اپنے بھائی کو قتل کرتا ہے؟۔۔۔کیا تم بارک اللہ نہیں کہہ سکتے تھے؟اس کے لیے غسل کرو"
عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے اپنا چہرہ ،ہاتھ ،کہنیاں،گھٹنے ،پاؤں اور اپنی چادر کے اندرونی حصے دھوئے ،پھر اس  پانی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے سہل کے  اوپر پیچھے سے بہاد یا اور سہل  فوراً شفایاب ہوگئے۔(140)
غسل کرنے کا طریقہ:۔
ابن شہاب زہری رحمۃ اللہ علیہ  کا کہنا ہے کہ ہمارے زمانے کے علماء نے غسل کی یہ کیفیت بیان کی ہے۔جس آدمی کی نظر لگی ہو،اس کے سامنے ایک برتن رکھ دیا جائے،جس میں وہ سب سے پہلے کلی کرے اور  پانی اسی بر تن میں گرائے۔پھر اس میں اپنا چہرہ دھوئے،پھربائیں ہاتھ کے ذریعے اپنی دائیں ہتھیلی پر پانی بہائے،پھر دائیں ہاتھ کے ساتھ بائیں ہتھیلی پر پانی بہائے۔پھر پہلے دائیں کہنی ،پھر بائیں کہنی پر پانی بہائے،پھر بائیں ہاتھ سے اپنا دایاں  پاؤں دھوئے۔پھر دائیں ہاتھ سے  بایاں پاؤں  دھوئے، پھر اسی طرح اپنے گھٹنوں پر پانی بہائے،پھر اپنی چادر یا شلوار وغیرہ کا اندرونی حصہ دھوئے،اور اس پورے  طریقے میں اس بات کا خیال رہے کہ پانی برتن میں ہی گرتا رہے اس کے بعد جس شخص کو نظر بد لگی ہواس کے سر کی پچھلی جانب سے وہ پانی یک بارگی بہاد یاجائے۔(141)
غسل کی مشروعیت:۔
1۔رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے:
"نظر بد کا لگنا حق ہے اور اگر کوئی چیز تقدیر سے سبقت لے جانے والی ہوتی تو وہ بد نظر ہوتی،اور جب تم میں سے کسی ایک سے غسل کا مطالبہ کیا جائے تو وہ ضرور غسل کرے"(142)
2۔حضرت عائشہ  رضی اللہ  تعالیٰ عنہا   کہتی ہیں کہ "جس شخص کی نظر بد کسی کو لگ جاتی تھی اسے و ضو کرنے کا حکم دیاجاتاتھا،پر اس پانی سے مریض کو غسل کرادیاجاتا تھا"(143)
ان دونوں حدیثوں سے یہ بات ثابت کی گئی ہے کہ جس شخص کی نظر کسی کو لگی ہو وہ  مریض کے لیے وضو یا غسل کرے۔
دوسرا طریقہ:۔مریض کے سرپر ہاتھ رکھ کر یہ دعا پڑھیں:
بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ مِنْ حَسَدِ حَاسِدٍ وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ اللَّهُ يَشْفِيكَ.(144)
"میں اللہ کے نام سے تجھے دم کرتا ہوں۔ اور اللہ تجھے ہر تکلیف دہ بیماری  اور ہرروح بد یا حسد کرنے والی آنکھ کی برائی سے شفا دے گا،میں اللہ کے نام سے تجھے دم کر تا ہوں"
تیسرا طریقہ:مریض کے سرپر ہاتھ رکھ کر یہ دعا پڑھیں:
بِسْمِ اللَّهِ يُبْرِيكَ وَمِنْ كُلِّ دَاءٍ يَشْفِيكَ وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ وَشَرِّ كُلِّ ذِي عَيْنٍ.(145)
"اللہ کے نام کے ساتھ ،وہ اللہ تجھے ہر بیماری سے شفا دے گا اور ہر حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے اور ہر نظر بد کے شر سے"
چوتھا طریقہ:مریض کے سر پر ہاتھ رکھ کر یہ دعا پڑھیں:
اللَّهُمَّ ربَّ النَّاسِ ، أَذْهِب الْبَأسَ ، واشْفِ ، أَنْتَ الشَّافي لا شِفَاءَ إِلاَّ شِفَاؤُكَ ، شِفاءً لا يُغَادِرُ لا يغادر سقما(146)
"اے اللہ! تو لوگوں کا پروردگار ہے،تکلیف دورفرما اور شفا بخش کیونکہ تو شفا بخشنے والا ہے ۔تیری شفا کے علا وہ کوئی شفا نہیں ایسی شفا عطا فرما جو بیماری کوجڑ سے اکھاڑ دے"
پانچواں طریقہ:۔ مریض کے سر پر ہاتھ رکھ کر آخری تین سورتیں  پڑھیں اور اس پر دم کریں۔(147)
نظر بد کے علاج کے عملی نمونے:۔
پہلانمونہ:میں چند رشتہ داروں سے ملنے گیا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ ایک بچے نے کچھ دنوں سے ماں کادودھ پینا چھوڑ دیا ہے۔حالانکہ اس سے پہلے وہ فطرت کے مطابق ماں کا دودھ پیا کرتاتھا۔میں نے اس بچے کو منگوایا اور معوذات اور دیگر اور مسنون دعائیں پڑھ کر اس  پر دم کردیا،اسے واپس لے جایا  گیا تو اس نے فوراً دودھ پینا شروع  کردیا۔وللہ الحمد۔
دوسرا نمونہ:۔ مڈل سکول کا ایک طالب علم انتہائی ذہین،فصیح وبلیغ اورقادر الکلام تھا،متعدد مواقع پر وہ سکول  کےطالب علموں کی نمائندگی کرتے ہوئے تقریریں کیا کرتا تھا۔ایک دن اس کی بستی میں رہائش پزیر ایک لڑکا فوت ہوگیا،وہ اپنے خاندان کے افراد کے ہمراہ تعزیت کے لیے گیا تو وہاں بھی اس نے لوگوں کو وعظ کیا شام ہوگئی تو وہ گونگا ہوگیا اور بولنے سے عاجز تھا۔اس کا والد بہت گھبرا گیا،اسے فوراً ہسپتال میں لے کر گیا۔اس کے مختلف ٹیسٹ ہوئے ایکسرے لئے گئے لیکن مرض کا پتہ نہ چل سکا،بالآخر اس کا باپ اسے میرے پاس لے آیا،اسے دیکھتے ہی میری آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے،کیونکہ میں اس لڑکے کی دینی سرگرمیوں سے واقف تھا۔ا س کے باپ نے مجھے پورا قصہ سنایا تو مجھے یقین ہوگیا کہ یہ نظر بد کا شکار ہواہے۔میں نے اس پر معوذات کو پڑ ھ کر دم کیا اور پانی پر نظر بد والا دم پڑھ کر اس کے باپ کو دیا اور اسے تلقین کی کہ لڑکا اس پانی کو سات دن استعمال کرے،اسے پئے اور اس سے غسل کرے۔سات روز بعد وہ دوبارہ میرے پاس  آیا تو پہلے کی  طرح بولتا تھا اور بالکل تندرست تھا۔میں نے اسے نظربد وغیرہ سے بچنے کے لیے چند احتیاطی اذکار سکھائے  تاکہ وہ  انھیں صبح وشام پڑھ کر آئندہ کے لئے نظر بد سے محفوظ رہے۔
تیسرا نمونہ:۔یہ واقعہ خود ہمارے گھر میں ہوا۔ایک شخص ا پنی بوڑھی والدہ کو لے کر آیا خود میرے پاس بیٹھ گیا اور مجھے والدہ کے متعلق کچھ بتانے لگ گیا اور اس کی والدہ میرے گھر والوں کے پاس چلی گئی۔میں نے اسے بلوا کر اس پر دم کیا اور و ہ دونوں چلے گئے میں اپنے گھر میں داخل ہوا تو کیا دیکھتا  ہوں کہ گھر میں کیڑے ہی کیڑے ہیں۔میرے گھر والوں نے گھر کی صفائی کی لیکن اچانک یہ کیڑے پھر ظاہر ہوئے اور گھر کے تمام کمروں میں پھیل گئے۔میں نے  گھر والوں سے پوچھا کہ یہ جو بوڑھی عورت آئی تھی،اس نے تمھیں کیاکہاتھا؟تو  گھروالوں نے بتایا کہ وہ گھر کے ایک ایک کونے کو گہری نظروں سے دیکھتی رہی اور اس نے کوئی بات نہیں کی،تو میں سمجھ گیا کہ اس کی نظر بد کا نتیجہ ہے۔کہ  گھر میں کیڑے ہی کیڑےنظر آرہے ہیں حالانکہ میرا گھر انتہائی سادہ سا ہے۔لیکن چونکہ یہ عورت دیہاتی تھی اس لیے وہ تعجب کی نظروں سے گھر کو دیکھتی رہی۔
خلاصہ کلام یہ کہ میں نے پانی منگوایا،پھر اس پر نظر بد والا دم کیا،اور  گھر کے تمام کونوں میں اسے چھڑک دیا،جس سے وہ کیڑے چلے گئے اور گھر اسی حالت میں لوٹ آیا جس میں پہلے تھا۔الحمدللہ
حاشیہ جات:۔
118۔تفسیر ابن کثیر،ج2ص 485۔
119۔القلم۔51۔
120۔تفسیر ابن کثیر ،ج4 ص 410۔۔۔
121۔البخاری،ج10 ص213،مسلم کتاب السلام باب الطب،ج14 ص 170 نووی۔
122۔ابن ماجہ(3508) صحیح الجامع 938۔الصحیحہ  737۔
123۔مسلم کتاب السلام  باب الطب والرقی ج14 ص170 نووی۔
124۔احمد،ج6 ص438،الترمذی 2059۔ حسن صحیح ،ابن ماجہ(3501)صحیح الجامع۔(5286)۔۔۔
125۔صحیح الجامع(1681) الصحیحہ 889۔
126۔ الصحیحہ 1250۔
127۔صحیح الجامع 4144،الصحیحہ 1249۔
128۔صحیح الجامع 1206۔الصحیحہ 747۔
129۔البخاری ج10ص 170مسلم 2195۔
130۔مسلم  2196۔
131۔البخاری،ج 10 ص 171مسلم 2197۔
132۔مسلم(2198)
133۔تفسیر ابن کثیرج 10 ص410۔
134۔فتح الباری ج10 ص 200۔
135۔النہایہ ج3 ص 332۔
136۔زاد المعاد ج4 ص 165۔
137۔ البخاری کتاب الطب باب دعا العائد للمریض ،مسلم کتاب السلام باب استحباب  رقیۃ المریض۔
138۔الترمذی 2059۔ابن ماجہ 3511۔صحیح  ابن ماجہ للبانی۔ 2830۔
139۔البخاری ومسلم ۔
140۔احمد ۔النسائی۔ابن ماجہ۔صحیح الجامع 3908۔
141۔السنن للبیہقی ج9 ص252۔
142۔مسلم ج5 ص 32۔
143۔ابو داود (3880 )باسناد صحیح۔۔۔
144۔ مسلم (2186)
145۔مسلم(2186)
146۔بخاری ومسلم۔
147۔البخاری باب المعوذات کتاب فضائل القرآن۔