غسل کے بغیر نماز پڑھنا ،صفائی کا اہتمام نہ کرنا،شادی سے قبل عورت کو دیکھنا
سوال نمبر1۔کسی پرغسل واجب ہو اور اس نے غسل نہ کیاہو یا غسل نہ کرسکے تو کیا ایسے اُس کی نماز ہوجائے گی۔۔۔نیز غسل  واجب  ہونے کی صورت میں قرآن کی تلاوت کرسکتا ہے؟
جواب:۔بلا غسل نماز نہیں ہوگی،ہاں البتہ جنگل میں اگرپانی میسر نہ آئے تو تیمم کرکے نماز پڑھی جاسکتی ہے۔بلاغسل قرآن کی تلاوت سے اجتناب ضروری ہے۔
سوال نمبر۔2۔شادی سے قبل اپنے ہونے والی بیوی کو دیکھنا  درست ہے یا نہیں۔شادی کرنے کے لیے لڑکی کا چہرہ دیکھ کر فیصلہ کرنادرست ہے؟
جواب۔جس  عورت سے آدمی شادی کرنا چاہتا ہے۔اس کو دیکھنے کا جواز ہے۔سنن ابی داود میں حدیث ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:
"إِذَا خَطَبَ أَحَدُكُمْ الْمَرْأَةَ فَإِنْ اسْتَطَاعَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى مَا يَدْعُوهُ إِلَى نِكَاحِهَا فَلْيَفْعَلْ" 
"جب ایک  تمہارا کسی عورت کو نکاح کاپیغام دے تو اُسے چاہیے کہ اگر ممکن ہوتو اس عورت کو ایک نظردیکھ لے"۔۔۔
اور  فیصلہ کی غرض سے بھی عورت کو دیکھا جاسکتاہے۔طحاوی میں روایت ہے کہ ایک آدمی نے انصار کی عورت سے نکاح کرنا چاہاتوآ پ نے فرمایا:"تو اس کو دیکھ لے،انصار کی آنکھوں میں کچھ خلل ہوتاہے۔"
سوال نمبر3۔ اگر کوئی آدمی نماز میں دیر سے شامل ہوتا ہے تو کیا جو  رکعت وہ پڑھے وہ اس کی پہلی رکعت ہوگی یا جو امام  پڑھ رہا وہ والی ہوگی۔نیز دیر سے آنے پر نماز میں شامل ہونے کاطریقہ کیاہے مثال کے طور پر امام سجدے یا کسی اور حالت میں ہے تو جو آدمی آئے وہ ایک ہی بار رفع یدین کرے  گا اور امام کے ساتھ مل جائے یا جس طرح اکثر کرتے ہیں یا جس طرح اکثر کرتے ہیں کہ ر فع یدین کرکے تھوڑی دیر ہاتھ باندھتے ہیں پھر امام کے ساتھ دوبارہ    اللہ اکبر کہہ کر ملتے ہیں۔
جواب۔امام کے ساتھ بعد میں ملنے والے کی نماز پہلی ہوگی۔حدیث میں ہے:
"فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا وَ مَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا " 
" جتنی نماز امام کے ساتھ پاؤ پڑھو اور جتنی فوت ہوجائے پوری کرو"(بخاری ،مسلم) اس حدیث میں فوت شدہ نماز کی بابت اتمام کے کالفظ استعمال ہواہے۔جس کے معنی آخر سے پوراکرنے کے ہیں۔اور اخیر سے پورا کرنا اس صورت سے ہوسکتاہےکہ جو امام کی قراءت کے بعد  پڑھے وہ اس کی اخیر ہو۔
تکبیر  تحریمہ کہہ کر جس حالت میں امام ہے،اسی میں ملنا چاہیے۔
سوال نمبر4۔زیر ناف بال اگر کوئی چالیس دن کے اندر نہ اُتارسکا یا کوئی بال رہ گیا تو اس کا کفارہ کیا ہے؟
2۔بال ناف سے انتہائی نیچے سے اُتارے جائیں گے یاکچھ جگہ چھوڑ کے نیز بال اُتارنے کی حد کیا ہے یعنی کہاں سے کہاں اُتارے جائیں گے؟
جواب۔کوتاہی پر اللہ رب العزت کی بارگاہ میں معافی کی درخواست کرنی چاہیے۔اور کوشش کے باوجود کوئی مال رہ جانے پر توبہ استغفار کرنا چاہیے۔
جواب نمبر2۔بال شرمگاہ کے اوپر قرب وجورسے اتارنے کی بھی اجازت ہے۔ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ   فرماتے ہیں(10/343)
"فتحصل من مجموع هذا استحباب حلق جميع ما على القبل والدبر وحولهما."
"جملہ دلائل سے حاصل یہ ہوا کہ قبل اور دُبر کے اوپر اوردونوں کے گرد بالوں کو صاف کردیاجائے"