قرآن کریم عربی زبان میں نازل ہوا اور دنیا میں شاید عربی ہی ایک ایسی زبان ہے جو ترجمہ کے بغیر  پڑھائی جاتی ہے۔ بچہ جب پہلی جماعت سے انگریزی پڑھنا شروع  کرتا ہے  تو استاد اسے بتلاتا ہے:Aسے"APPLE"،"Apple"بمعنی سیب،اسی طرح فارسی پڑھنے والے بچے کو،آب، اور است ہی نہیں پڑھایا جاتا بلکہ یہ بھی بتلایا جاتاہے کہ آب بمعنی پانی اور است کے معنی ہے۔لیکن جو بچے عربی پڑھتے ہیں ،انہیں صرف الفاظ ہی پڑھائے جاتے ہیں۔ الفاظ کے معنی کاخیال کسی کو بھولے سے بھی نہیں آتا۔
اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ ہمیں یہ بات ذہن نشین کرائی گئی ہے کہ قرآن کریم کا ناظرہ پڑھنا ہی باعث برکت ہے۔دلیل کے طور پر رسول ا للہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا یہ ارشاد پیش کیاجاتاہے:
"قرآن کریم کے ہر حرف کے بدلے ایک نیکی ملتی ہے اور ہر نیکی کا دس گنا اجرملے گا۔میں نہی کہتا کہ الم ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف ہے ل الگ حرف ہے اور م الگ حرف!"(ترمذی)
اس سے عام عامیوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ اگر قرآن کریم کو ناظرہ پڑھنے سے اتنی زیادہ نیکیاں مل جاتی ہیں تو پھر ترجمہ پڑھنے پڑھانے اور سمجھنے سمجھانے کی ضرورت بھی کیا ہے؟۔۔۔اسی طرح رسو ل اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کے اس ارشاد مبارک:
" خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ " .
"تم میں سے بہتر وہ ہے جو خود قرآن سیکھے اور دوسروں کوسکھلائے"سے بھی ہم نے یہی سمجھ لیاہے کہ بس قرآن کریم ناظرہ پڑھنے اور پڑ ھانے سے ہی آپ کے ارشاد کی کماحقہ تعمیل ہوگئی۔
لیکن معاملہ یوں نہ تھا جو ہم غلطی سے سمجھ بیٹھے۔قرآن کریم جو عربی میں نازل ہوا ہے،صرف اہل عرب کے لیے نہیں،پوری د نیائے انسانیت کے لیے نازل ہواہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم  کے مذکورہ بالا ارشاد کامقصد یہ تھا کہ مسلمانوں میں خواہ عربی ہوں یا عجمی ،قرآن کریم  پڑھنے کا زیادہ سے زیادہ شوق اور اس کی  رغبت پیدا ہو۔اور اہل عجم محض اس خیال سے کہ ابھی وہ قرآن کریم کے معانی اور مطالب نہیں سمجھتے، قر آن کریم کی تلاوت سے بھی غافل نہ ہوجائیں۔چنانچہ ا س ناظرہ پڑھنے کی ترغیب کا یہ فائدہ ہوا کہ ان مسلمانوں کے دلوں میں قرآن کریم کے معانی و مطالب بھی جلد از جلد سیکھنے کی تڑپ  پیدا ہوئی اور انہوں نے نہ صرف دینی تعلیم کے حصول کے لئے طرح طرح کی تکلیفیں برداشت کیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے شریعت کے ہر ہر پہلو  پر ایسا قیمتی ذخیرہ بھی کتابوں کے اوراق میں محفوظ کردیا کہ ان کے اس احسان سے ہم شاید کبھی بھی سبکدوش نہ ہوسکیں گے۔
رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد مبارک جامع تھا،ہمارے بزرگوں نے اس کی حقیقت کو پہچان لیا اور اس پر عمل کرکے دکھلا دیا۔لیکن ہم اس کی تہہ تک نہ پہنچ سکے اور نتیجہً قرآن کریم کی  تعلیمات سے دور ہٹتے چلے گئے۔
اگر بات صرف یہیں تک محدود رہتی تو بھی مسلمانوں میں ہمہ پہلو انحطاط  رونما نہ ہوتا،علماء حق عوامی جہالت کے اس خلاء کو ملکی زبان میں تبلیغ کے ذریعہ پر کرسکتے  تھے لیکن ستم یہ ہے کہ اس قرآن نافہمی کے اور بھی بہت سے اسباب پیدا ہوگئے اور یہ ایک دلخراش حقیقت ہے کہ یہ اسباب ان لوگوں کے پیدا کردہ ہیں،جنھیں ہم دین اسلام کی بزرگ ہستیاں سمجھتے ہیں۔آج ہم انہی اسباب کا جائزہ لینا  چاہتے ہیں:
پہلا سبب :قرآن کریم کو(یک واضح کتاب ہونے کے باجود) مشکل  ترین کتاب سمجھ لینا :۔
قرآن کریم کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَلَقَد يَسَّرنَا القُرءانَ لِلذِّكرِ فَهَل مِن مُدَّكِرٍ ﴿١٧﴾...القمر
"اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لیے آسان کردیا ہے ،تو کوئی ہے کہ سوچے اور سمجھے؟"
قرآن کریم کو آسان اس لیے بنایاگیا کہ یہ کتاب ان پڑھ لوگوں پر نازل کی ہوئی۔ارشاد باری ہے:
﴿وَقُل لِلَّذينَ أوتُوا الكِتـٰبَ وَالأُمِّيّـۧنَ ءَأَسلَمتُم...٢٠﴾...آل عمران
"(اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم !) اہل کتاب اور ان پڑھ لوگوں سے کہو(کہ کیا تم بھی خدا کے فرمانبردار بنتے اور) اسلام لاتے ہو"
دوسرے مقام پر یوں ارشاد  فرمایا:
﴿وَنَزَّلنا عَلَيكَ الكِتـٰبَ تِبيـٰنًا لِكُلِّ شَىءٍ وَهُدًى وَرَحمَةً وَبُشرىٰ لِلمُسلِمينَ ﴿٨٩﴾...النحل
قرآن کریم کا اصل موضوع" انسان کی ہدایت" ہے ،لہذا ہدایت سے متعلق ہو چھوٹی بڑی بات اس کتاب میں پوری تفصیل سے بیان کردی  گئی ہے اور یہ ذکر ٹھیٹھہ عربی زبان میں ہے ،تاکہ عوام وخواص سب لوگ اس سے برابر  فائدہ اٹھا سکیں۔ارشاد باری ہے:
﴿وَإِنَّهُ لَتَنزيلُ رَبِّ العـٰلَمينَ ﴿١٩٢﴾نَزَلَ بِهِ الرّوحُ الأَمينُ ﴿١٩٣﴾ عَلىٰ قَلبِكَ لِتَكونَ مِنَ المُنذِرينَ ﴿١٩٤﴾ بِلِسانٍ عَرَبِىٍّ مُبينٍ ﴿١٩٥﴾...الشعراء
"یہ قرآن پروردگار کا اتارا ہواہے،اس کو امانت دارفرشتہ لے کر اترا ہے۔آپ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے دل پر  تاکہ آپ لوگوں کوڈرائیں اور یہ قرآن واضح عربی زبان میں ہے"
پھر اس ٹھیٹھ عربی زبان میں کوئی اُلجھن یاپیچیدگی بھی باقی نہیں رہنے دی گئی،فرمایا:
﴿الحَمدُ لِلَّـهِ الَّذى أَنزَلَ عَلىٰ عَبدِهِ الكِتـٰبَ وَلَم يَجعَل لَهُ عِوَجا ۜ﴿١﴾...الکھف
"سب تعریف اللہ ہی کو ہے جس نے اپنے بندے(محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) پر یہ کتاب اُتاری اور اس میں کسی طرح کی کجی اور پیچیدگی نہ رکھی"
مزید برآں ہدایت کے ان جملہ اُمور کو کئی طرح کی مثالوں سے اور مختلف انداز سے دہرادیا اور بیان  فرمایا گیا ہے تاکہ کسی شخص کے ذہن میں کوئی اُلجھن یا شک وشبہ نہ رہنے پائے اور وہ ان اُمور کے  جملہ  پہلوؤں کو آسانی سے ذہن نشین کرسکیں۔
﴿انظُر كَيفَ نُصَرِّفُ الـٔايـٰتِ لَعَلَّهُم يَفقَهونَ ﴿٦٥﴾...الأنعام
"دیکھو!ہم اپنی آیتوں کو کس کس  طرح سے بیان کرتے ہیں تاکہ یہ لوگ سمجھ سکیں"
لیکن ہمیں یہ بات باور کرادی گئی ہے کہ قرآن کریم ایک مشکل ترین کتاب ہے اور اس کو سمجھنا ہرکسی کے بس کا روگ نہیں ہے۔لہذا عام لوگوں کےلیے یہی بہتر ہے کہ وہ کسی عالم دین کی اتباع اختیا ر کریں۔اللہ تعالیٰ نے تو قرآن عام لوگوں کے لیے اُتارا اور سہل زبان میں نازل کیا تھا لیکن ان ارشادات کے برعکس قرآن کو عوام کے ذہن سے بالاتر اور مشکل ترین کتاب قرا ر دے دیاگیا اور اس کا ثبوت آپ کو دینی مدارس میں مروجہ نصاب سے مل جائے گا۔آپ کسی بھی دینی مدرسہ کے نصاب تعلیم پر نظر  ڈالیے،آپ دیکھیں گے کہ قرآن کریم پڑھنے پڑھانے کی نوبت سب سے آخری سال آتی ہے۔اگر کسی مدرسہ کا نصاب تعلیم 6 سال کا ہے تو تفسیر قرآن چھٹے سال ،اور اگر9 سال کا ہے تو نویں سال پڑھایا جاتاہے۔پہلے سالوں میں علی الترتیب صرف ،نحو،منطق ،ادب اور فقہ وغیرہ پڑھائے جاتے ہیں۔اختتامی سال سے ایک سال قبل کو دورہ حدیث اورآخری سال کو قرآن کریم کی تعلیم کے لیے مختص کیا جاتا ہے ایسے مجوزہ نصاب تعلیم کی مصلحت خواہ کچھ  بھی ہو،ایک عام آدمی یہی تاثر لیتا ہے کہ قرآن کریم شاید ان تمام کتابوں سے مشکل ترین کتاب ہے جبھی تو اس کی نوبت سب سے آخر میں آتی ہے۔
تقلید جامد:۔
قرآن کریم کو سب سے آخر میں پڑھانے کو جو مصلحت بیان کی جاتی ہے اس سے یکسر انکار کرنا مشکل ہے لیکن تکلیف وہ امر یہ ہے کہ حقیقتاً جس مصلحت کے لیے قرآن کریم کو آخر میں ڈالا گیا ہے،وہ کچھ اورہے اور اسے پردہ راز میں  رکھا جاتاہے۔یہ مقصد عقیدہ تقلید کی حفاظت ہے۔مقلدین کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ قرآن وسنت کو ا پنے امام کی فقہ کی عینک سے د یکھا جائے پہلے طالب علم کو فقہ کی تمام متعلقہ کتب پڑھائی جاتی ہیں اور  جب ان کے ذہن میں فقہ کی چھاپ لگ جاتی ہے تو وہ قرآن وسنت سے نتائج اخذ کرنے میں وہی روش اختیار کرتا ہے۔ جو اس کے نصاب  تعلیم کی تر ترتیب کا منطقی نتیجہ ہونا چاہیے۔چنانچہ وہ اپنے امام سے ہٹ کرکچھ سوچنے کے قابل ہی نہیں رہتا اور اگر کہیں اسے الجھاؤ یا تضاد نظر آتا بھی ہے تو وہ اس کی تحقیق کی ذمہ داری اپنے امام کے سرڈال دیتا ہے۔ کیونکہ تقلید کی تعریف ہی یہ کی جاتی ہے۔
" والتقليد قبول غير بلا دليل فكانه جعل قلادة في عنقه"
"تقلید کسی کے قول کو بغیر  دلیل کے قبول کرلینے کا نام ہے۔گویا کہ مقلد نے اپنی گردن میں اس کی اطاعت کا پٹہ ڈال لیا"(شرح قصیدہ انمالی از ملاعلی قاری حنفی)
اس تعریف سے واضح ہےکہ مقلدین ذہنی طور پر اپنےامام کو امام نہیں بلکہ پیغمبر سمجھتے ہیں کیونکہ پیغمبر ہی ایک ایسی ہستی ہوسکتی ہے۔ جس کی بات بلادلیل قبول کی جائے۔پیغمبر کےعلاوہ کوئی اور ہستی معصوم اورخطا سے پاک نہیں ہے۔
لطف کی بات یہ ہے کہ جس تحقیق کی ذمہ داری امام کے سرڈالی جاتی ہے وہ خود اس ذمہ داری کو قبول کرنے کے لے  قطعاً تیار نہیں ہیں،ہمارے ہاں زیادہ تر حنفی مذہب ہی رائج ہے۔اور امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے تھے کہ"جب صحیح حدیث مل جائے تو وہی میرا مذہب ہے!"۔۔۔بلکہ آپ نے یہاں تک کہہ دیا کہ"اگر حدیث مل جائے تو میرے قول کو دیوار پر پٹخ دو"
اور اس کی دلیل یہ ہے کہ آپ کے معروف شاگردوں اما م محمد اور امام زفر نے بہت سے مسائل میں آپ سے اختلاف کیا لیکن آج صورتحال یہ ہے کہ امام موصوف کے ان اقوال کے باوجود ان کے مقلدین،حدیث کی تو دوراز کارتاویلات میں مشغول ہوجاتے ہیں یا اس کی ذمہ داری امام کے سرڈال کراسے نظر انداز کردیتے ہیں لیکن اپنے امام کے قول کو چھوڑنا انہیں قطعاً گوارا نہیں ہوتا۔
اگر فقہ سے پہلے قرآن وحدیث پڑھایا جائے تو طالب علم کےذہن میں پہلی چھاپ قر آن وحدیث کی ہوگی۔مسائل کے حل اور نتیجہ نکالنے میں وہ فقہ سے مدد تو لے گا لیکن عملاً مقلد نہیں رہ سکتا،لہذا تقلید کے عقیدہ کی حفاظت کے لیے یہ ضروری سمجھا گیا ہے کہ قرآن مجید کی تعلیم سب سے آخر میں رکھی جائے۔
فقہ کی تالیف کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ قرآن وسنت کی روشنی میں مسائل حاضرہ کا قیاس اور اجتہاد کے ذریعہ صحیح حل تلاش کیاجائے۔ائمہ  فقہاء رحمۃ اللہ علیہ نے اس مقصد کے پیش نظر اپنے اپنے دور میں  فقہ کو مرتب کیا اور اس دور کے مسلمانوں نے بھی یہی کچھ سمجھا۔لیکن بعد کے مسلمانوں نے آئندہ اجتہاد کو شجر ممنوع قرار دے کر ہر چہار ائمہ فقہ میں سے کسی ایک کی اتباع کو اسلام کاجزو بنادیا۔پانچویں صدی ہجری میں یہ عقیدہ اتنا راسخ ہوگیا تھا کہ جو شخص مخصوص امام کا مقلد نہ ہوتا،اسے بطور گالی یہ کہاجاتا تھا کہ وہ چاروں مذاہب سے باہر ہے،بالفاظ دیگر اس کا اسلام ہی مشکوک ہے۔
اس جامد تقلید نے مسلمانوں کے حواس معطل کردیے۔قرآن وحدیث کو پڑھنے پڑھانے اور اس میں غوروفکر کی ضرورت ہی کو ختم کردیاگیا تو اس کی صلاحیت کہاں باقی رہتی؟اس صور تحال کا نقشہ  پروفیسر محمد سلیمان اظہر(بحوالہ تاریخ فرشتہ) سیرت محمد عبدالوہاب میں یوں کھینچتے ہیں:
"عربی سے صرف چند لوگ ہی آشنا تھے اور انہوں نے جاہل عوام کو بھیڑوں کا گلہ بنائے رکھنے کے لئے عربی میں موجود اسلامی اُمور پر اجارہ داری قائم کررکھی تھی ،ملکی زبان میں کتاب وسنت کے نہ تراجم تھے نہ شروحات لوگ کبھی کبھی قرآن کریم کی تلاوت کرتے تھے۔لیکن اس میں کیا ہے سراسر  ناآشناتھے۔تقلید جمود کی بندشیں ا س قدر مضبوط ہوچکی تھیں کہ ایک مناظرہ میں خواجہ نظام الدین اولیاء نے جب اپنی تائید میں ایک روایت بطور استدلال  پیش کی تو ہندوستان کے سب سے بڑے  فقیہ خواجہ رکن الدین صاحب نے کہا:میں بھی مقلد ہوں اور آپ بھی مقلد ہیں۔اس لیے حدیث کی کیا ضرورت ہے ،امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ  کا قول پیش فرمایئے"
ظاہر ہے کہ ایسا عقیدہ قرآن وسنت کے یکسر منافی ہے۔صحابہ اور  تابعین آخر  کس امام کے مقلد تھے؟ جبکہ  فقہ کی تدوین ہی بہت بعد میں ہوئی۔نیز آیت:
" الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ  "
کے مصداق دین کی تکمیل بہت پہلے ہوچکی تھی اور اسلام مکمل صورت میں موجود تھا۔
بایں ہمی چونکہ اللہ تعالیٰ نے تاقیامت اپنے دین کی حفاظت کاذمہ لے  رکھا ہے لہذا تاریک سے  تاریک دور میں بھی علماءحقہ کی  ایک جماعت نے ،خواہ وہ کتنی ہی قلیل ہو،قرآن وسنت کو سینہ سے لگائے رکھا اورباطل سے برسرپیکار  رہی،حقیقتاً یہی جماعت اہل سنت تھی،جو بعد میں اہل  حدیث کے نام سے موسوم ہوئی۔اہل والجماعت کا لفظ ابتداء اہل تشیع کے مقابلہ میں استعمال ہوا۔شیعہ حضرات کے سوا باقی تمام مسلمان اپنے آپ کو اپنے اماموں سے منسوب کرنے لگے۔یہ لوگ اختلافی مسائل میں اپنے اماموں کی رائے کو حدیث پر ترجیح دیتے تھے۔لہذا مقلد اور اہل الرائے کہلائے،اور جو مسلمان کسی خاص امام کے مقلد نہ تھے،وہ غیرمقلد اور اہل رائے کے مقابلہ میں اہل حدیث کے نام سے مشہور ہوئے۔گویا نام کوتو یہ سب مسلمان اہل سنت تھے مگر عملاً اہل سنت یہی اہل حدیث رہ گئے۔یہ جماعت دینی مدارس میں ر ائج درس نظامی کی اس مصلحت سے خوب واقف تھی،لہذا اس کے خلاف صداء احتجاج بلند کرتی رہی۔جناب حافظ نذر محمد صاحب پرنسپل شبلی کالج،لاہور اپنی تصنیف"مدارس عربیہ کا جائزہ" میں در س نظامی میں اصلاحات کی تجاویز کے تحت صفحہ 607 پر یوں رقم طراز ہیں:
"درس نظامی پر بیرونی حلقوں سے مسلسل یہ اعتراض رہا ہے کہ مدارس اہلحدیث کے علاوہ باقی تمام مدارس میں قرآن وحدیث کو صرف آخری سالوں میں سبقا ً سبقاً پڑھایا جاتا ہے حالانکہ دین کے یہی اصل الاصول ہیں،کسی نہ کسی نہج پر ان کامطالعہ ابتداء سے شروع ہوناچاہیے"
دوسرا سبب ،پیران عظام کے مخصوص نظریات:۔
(الف) ولایت کا میعار :۔
اس حقیقت سے انکار کرنا مشکل ہے کہ ہندوستان میں اسلام زیادہ تر صوفیاء کرام کے ذریعہ سے ہی پھیلا۔یہ لوگ خود عموماً عالم باعمل تھے لیکن بعد میں آنے والے جانشین قرآن وسنت کی تعلیم سے بے بہرہ ہوتے چلے گئے اور اس کیوجہ غالباً وہی ہے جو  پہلے ذکر کی جاچکی ہے۔ ولایت کا میعار کرامات اور خوارق عادات واقعات قرار پاگئے اور یہی اسلامی تعلیمات سے ناواقفیت کی سب سے بڑی دلیل ہے ،کرامات کے ظہور کے لئے دیندار اور متقی ہوناکجا،مسلمان ہونا بھی ضروری نہیں کیونکہ ہندوؤں کے جوگیوں اور سادھوؤں سے بھی ایسی کرامات اورخوارق عادات واقعات کا ظہور اکثر ہمارے اولیاء کرام کے تذکروں میں موجود ہے۔یہی ہندوانہ تاثر مسلمانوں نے بھی اپنایا اور ساتھ ہی ساتھ یہ آیت بھی چسپاں کردی:
 أَلا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ (10/62)
"سن رکھو کہ جو اللہ کے دوست ہیں ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غم ناک ہوں گے"
لیکن علم کی کمی کی وجہ سے یہ خیال کسی کو بھی نہیں آتاتھا کہ قرآن کریم جن لوگوں کواولیاء کہتا ہے ان کے اوصاف کیا ہیں؟کیا وہ اولیاء یہی لوگ ہیں،جوخوارق عادت واقعات کے حصول کے لیے قبروں پر مراقبے کرتے اور مختلف قسم کی چلہ کشی کواپنا  رویہ بناتے ہیں؟شریعت میں تو سرے سے مزاروں کاوجود،مراقبے اور چلہ کشی ہی ممنوع ہے ،تو پھر یہ لوگ اولیاء کیسے ہوگئے؟اس کے برعکس قرآن مجید ایسے لوگوں وک اللہ تعالیٰ کے دوست قرار دیتا ہے۔جو مومن ،متبع  شریعت ہوں،تقویٰ کے درجے پر فائز ہوں،آیت مذکورہ بالا سے اگلی آیت یوں ہے:
الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ (10/62)
"(یعنی) وہ جو ایمان لائے اور پرہیز گار رہے"
شریعت ،طریقت اور معرفت کا عقیدہ:۔
اس مشکل سے نجات حاصل کرنے کا واحد ذریعہ یہی تھا کہ مریدوں کو قرآن کی تعلیم سے نا آشنا رکھا جائے،چنانچہ مریدوں کو یہ ذہن نشین کرایاگیا کہ شریعت جو قرآن وحدیث میں مذکور ہے۔یہ محض ابتدائی اور سطحی درجہ ہے۔اس سے اگلی سٹیج،حقیقت،اور سب سے اعلیٰ درجہ معرفت ہے۔اور یہ  بھی باور کرادیاگیا کہ پیران عظام معرفت کے بلند تر مقام پر فائز ہوتے ہیں۔لہذاانہیں شریعت کی حدود قیود سے  پرکھنا قطعاً درست نہیں ہے۔یہ لوگ صاحب حال ہوتے ہیں لہذا ان کے اعمال وکردار کا ظاہری شریعت کے احکام سے مقابلہ کرنا ان کی شان کے خلاف ہے حتیٰ کہ اگر یہ پیران باصفا کسی ایسی بات کا حکم دیں۔جو شریعت کے سراسر خلاف نظر  آتی ہوتو بھی مرید پر لازم ہے کہ وہ بلاچون وچرا اس کی اطاعت کرتا چلاجائے۔ صرف اسی صورت میں وہ سلوک کی منازل طے کرسکتا ہے،حافظ سعدی رحمۃ اللہ علیہ  شیرازی متوفی 791ھ نے انہی افکار ونظریات کو ا پنے درج ذیل شعر میں قلم بند کیا ہے:
 ع۔بہ مے سجاہ ر نگیں کن گرت  پیر مغاں گوید
کہ سالک بے خبر نبوداز راہ ورسم منزل ہا
"اگر تجھے بزرگ پیر ا پنے مصلیٰ  کوشراب میں رنگین کرنے کا حکم دے تو ضرور ایسا کر کہ سالک (سلوک کی) منزلوں کے آداب ومراسم ناواقف نہیں ہوتا"
ظاہر ہے کہ قرآن وسنت میں ایسی بیہودہ باتوں کی کوئی گنجائش نہیں لہذا اگر قرآن کی  تعلیم عام ہوجائے تو ان کے کاروبار پر کاری ضرب پڑتی ہے۔لہذا ان لوگوں نے عمداً یہ وطیرہ اختیار کیا کہ اپنے مریدوں کو قرآنی تعلیمات سے بے خبر رکھیں اور انہیں غفلت کی نیند سویارہنے د یں۔
غوث،قطب،ابدال:۔
یہ بات اس سے بھی آگے بڑھتی گئی اور یہ چیز بھی عقیدہ میں شامل کردی گئی کہ اس دنیا میں ہروقت 313 نجیب موجود رہتے ہیں پھر ان سے 70 نقیب ہوتے ہیں ان میں سے  40 ابدال ہوتے ہیں۔ پھر ان میں سے 7 قطب ہوتے ہیں۔ان میں سے 4اوتار اور پھر ان میں سے صرف ایک غوث کا اعلیٰ مقام حاصل کرتا ہے جو ہمیشہ مکہ مکرمہ میں رہتاہے،جب بھی اہل زمین پر کوئی اراضی یا سماوی آفت نازل ہوتی ہے  تو وہ نجباء کی طرح رجوع کرتے ہیں۔نجیب یہ درخواستیں نقیبوں کو پیش کرتے ہیں بالآخر یہ درخواست درجہ بدرجہ غوث تک پہنچتی ہے جس کا علم اللہ کے علم کے برابر ہوتا ہے اور اس کی قدرت اللہ تعالیٰ کی قدرت سے کم نہیں ہوتی اور وہ ان مصائب کو دور کردیتا ہے۔العیاذ باللہ!
یہ بات ہماری سمجھ سے بالاتر ہے کہ ان عقائد نے کہاں سے راہ پائی اور ان بیہودہ عقائد کے مآخذ کیا ہیں،قرآن وحدیث اور سیرت کی کتابوں میں ان کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کوغوث اول کہا جاتاہے تو آخر تاریخ وسیر کو کتب کیوں خاموش ہیں؟ پھر ان کی اقامت بھی مکہ مکرمہ میں نہ تھی ،پیر عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ  جو غیاث المستغیثین یا سب سے بڑے غوث سمجھے جاتے ہیں ،ساری زندگی بغداد میں رہے ،ان کا مولد ومدفن بھی یہ جگہ ہے تو پھر جب وہ غوث کی شرائط ہی پوری نہیں کرتے تو غوث کیونکر ہوگئے؟ ان مذکورہ غوثوں کےعلاوہ آج تک کون کون سے غوث پیداہوئے اور آج کل مکہ مکرمہ میں کون صاحب  غوث کے مقام پر فائز ہیں۔یہ ایسے سوالات ہیں جن کا جواب ان لوگوں کے پاس بھی نہیں ہے جو اس کے دعوے دار ہیں اگر قرآن وسنت کی تعلیم عام ہوجائے تو ریب کے تودہ  پر تعمیر شدہ یہ  عمارات دھڑام سے زمین پر آگرتی ہیں،لہذا ان غلط عقائد کاتحفظ اسی بات میں تھا کہ جاہل عوام کو قرآن وسنت کی تعلیمات کے قریب نہ پھٹکنے دیا جائے۔
مزارات اورآستانوں کاوجود:۔
اس کاایک اور پہلو مزاروں اور آستانوں کاوجود بھی ہے جو قرآنی  تعلیمات عام ہونے کی صورت میں یقیناً خطرے میں پڑسکتا ہے۔ اگر آپ کو کسی مزار یا آستانے     پر جانے کااتفاق ہوتو آپ ملاحظہ فرمائیں گے کہ وہاں مشرکانہ ر سوم کس کس طور پر ادا کی جاتی ہیں۔عقیدتا لوگوں کو کیونکرگمراہ کیا جاتاہے؟ایسے لوگ  جنھوں ن عمر بھر کبھی نمازنہ ادا کی ہو،ساتویں دن دربار کی حاضری کیوں ضرور سمجھتے ہیں؟ شفاعت،نجات اور جنت کے سرٹیفیکٹ کہاں کہاں سے ملتے ہیں اور یہ عطا کنندگان کون اور کیسے لوگ ہیں؟بے دین اور بدکار مجادوں کوفحاشی اور بدکاری کے کیسے کیسے مواقع میسر آتے ہیں۔بھنگ اور چرس کادور کیسے چلتا رہتا ہے؟
اب آ پ خود  غور فرمائیے کہ شریعت مطہرہ میں ایسی باتوں کی گنجائش کہاں ہے؟ظاہر ہے اگر مریدان باصفا کو اسلامی تعلیمات سے روشناس کرادیا جائے تو اس مکروہ کاروبار  کاوجود خطرے میں پڑ جائے گا۔
لہذا اس طبقہ نے اپنی بقا اور عافیت اسی میں سمجھی کہ عوام کو قرآنی تعلیمات سے بے بہرہ ہی رکھا جائے کہ نہ ر ہے بانس نہ بجے بانسری!
رمضان 8 ھ میں جب مکہ فتح ہوگیا اور عرب کا بیشتر علاقہ اسلامی اقتدار کے زیر نگین آگیا تو رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اسی ماہ مبارک میں جہاں عزیٰ،لات اور منات کے بتوں کو  پاش پاش کرنے کے لیے اعلیٰ الترتیب حضرت خالد بن ولید،حضرت عمروبن عاص اور حضرت سعید بن زید رضوان اللہ عنھم اجمعین  کی قیادت میں چھوٹے چھوٹے لشکر روانہ کیے،وہاں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی قیادت میں ایک وفد اس غرض سے بھی بھیجا کہ مزارات کو منہدم کردیاجائے اور جو قبریں زمین سے ایک بالشت سے زیادہ اونچی ہوں خواہ پختہ ہوں یاکچی انہیں زمین کے برابر کردیا جائے۔
اس کے برعکس ،ہندوستان میں بہت سے ہندو صوفیاء کرام کے توسط سے مسلمان ہوئے ،جن کے ہاں ایسے لاتعداد آستانے  پہلے سے موجو تھے اور چونکہ شرعی تعلیم کی طرف پوری توجہ نہ دی گئی لہذا ان نو مسلموں کے فاسداعتقادات اور افکار ونظریات میں کوئی کمی نمایاں رونما نہ ہوسکی اور رونما بھی کیونکر ہوتی۔پہلے وہ مندروں میں بتوں کے سامنے سربسجود تھے تو اب مزارات ان کے لیے سجدہ گاہ بن گئے تھے ،پہلے دیوتاؤں کے سامنے دست سوال دراز کیاجاتا اب صوفیاء اور پیروں نے ان کی جگہ لے لی،جن سے وہ مرادیں مانگنے لگے۔ان حالات میں اسلام کی پابندی اوراعمال حسنہ کی کوئی اہمیت باقی نہ رہی تھی ،لہذا وہ روحانی مدارج،شرکیہ وضائف،قبروں پر چلہ کشی اور مرشد کے محتاج ہوکررہ گئے ،اس ظلمت کدہ میں شیخ احمد سرہندی رحمۃ اللہ علیہ (مجدد الف ثانی ،متوفی 1034ھ) نے حق کی آواز بلند کی اور ان مشرکانہ افکار ونظریات پر کاری ضرب لگائی،ان کی بھر پور کوششوں سے یہ فتنہ کسی حد تک دب گیا لیکن چونکہ قرآن مجید کی تعلیم کے لئے کوئی موثر کوشش نہ کی گئی تھی۔لہذا اس  فتنہ نے پھر سے ا پنے پاؤں پھیلانے شروع کر دیے۔بالآخر اس مرض کی صحیح تشخیص کی سعادت حضرت  شا ہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی   1176ھ) کے حصہ میں آئی،انہوں نے اسلامی تعلیمات کو عام کرنے کے لیے قرآن مجید کافارسی زبان میں اولین  ترجمہ شائع کرادیا۔
تاکہ عام طبقہ جو عربی زبان سے ناواقف ہیے،مقامی زبان میں قرآن کی تعلیم سے آشنا ہوسکے،لیکن ہمارے مولوی اور پیر جنھوں نے أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ کامقام حاصل کرلیا تھا، کی طرف سے اس کارد عمل یہ ہوا کہ وہ ان کے درپے ہوگئے اور ان پر کفر کافتویٰ صادر کردیا۔اس کے باوجود آپ نے ہمت  نہ ہاری اور اسلامی تعلیمات سے متعلق نہایت قیمتی ذخیرہ فارسی زبان میں منتقل کردیا۔بعداذاں آپ کے خاندان سے شاہ رفیع الدین  رحمۃ اللہ علیہ  اور شاہ عبدالقادر  رحمۃ اللہ علیہ  نے اردو زبان میں قرآن کے تراجم پیش کیے جو آج تک بہت مقبول ہیں۔ان لوگوں کی کوششوں  سے بہت سے لوگ فیض یاب ہوئے اورقرآنی تعلیمات  میں دلچسپی لینے لگے۔ا
انہی دنوں عرب میں شیخ محمد بن عبدالوہاب رحمۃ اللہ علیہ  نے شرعی تعلیم کے نفاذ کےلیے بھر پور جدوجہد شروع کررکھی تھی،کیونکہ وہاں بھی دینی تعلیم مفقود تھی اور لاتعداد آستانے وجود میں آچکے تھے جہاں مشرکانہ رسوم ادا کی جاتی تھیں۔شیخ موصوف  رحمۃ اللہ علیہ  کی اس تحریک کو نمایاں کامیابی حاصل ہوئی اور عرب کا علاقہ آہستہ آہستہ اسکے زیر نگیں آنے لگا۔یہ صورتحال دیکھ کر وہاں کے مولوی اور پیر بھی حرکت میں آئے اور غیر شرعی حکومت میں شامل ہوکرشیخ مذکور پر کفر کافتویٰ لگادیا۔آپ کی جماعت کو شیخ مذکور کے نام محمد کی نسبت سے محمدی کہنے کی بجائے حسدوبغض کی بنا پر وہابی کہناشروع کیااور یہ لفظ آہستہ آہستہ گالی اور طعن قرار پاگیا۔
بعینہ اس دور میں ہندوستان میں حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ  کے پوتے شاہ اسماعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ  نے سید احمد رحمۃ اللہ علیہ بریلی کی قیادت میں انہی مقاصد کی خاطر ایک تحریک چلائی جسے قبول عام حاصل ہوااور مجاہدین کی ایک جماعت تیار ہوگئی،گو اس جماعت کے قائدین سکھوں اور پٹھانوں کی ملی بھگت سے1246 ھ میں بالا کوٹ میں شہید ہوچکے تھے ،تاہم یہ جماعت بدستور کام کررہی تھی  اورانگریز کو اس جماعت سے سخت خطرہ لاحق تھا،لہذا یہاں بھی اس تحریک کو وہابی کی گالی سے نوازا جانے لگا۔
مزید برآں انگریز نے اس مشکل کا حل یہ سوچا کہ مسلمانوں میں انتشار وتفرقہ پیدا کرکے انہیں آپس میں اُلجھایا اور لڑایا دیاجائے،اس مقصد کے حصول کے لیے انگریز بہادر کی نظر انتخاب دو آدمیوں پر پڑی۔
پہلی شخصیت مرزا غلام احمد قادیانی(متوفی 1326ھ) تھا جس نے خود نبوت کادعویٰ کرکے ا پنی الگ ا ُمت تیار کی۔یہ لوگ باقی تمام مسلمانوں کو کافر سمجھتے تھے ۔انگریز کی نظر کرم اور عنایات کے باوجود اس جماعت کی خاطر خواہ مقبولیت نہ ہوسکی۔کیونکہ ختم نبوت کا عقیدہ ایسا عقیدہ تھاجو تمام دنیا کے مسلمانوں میں بالاتفاق پایا جاتا تھا۔
دوسری شخصیت احمد رضاخان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ  (متوفی 1340ھ) تھے جو عاشق  رسول صلی اللہ علیہ وسلم  بن کر سامنے آئے،انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کی تعریف وتوصیف کے نام پر ایسے عقائد کی بناڈالی جو اس سے پہلے تمام امت مسلمہ میں کبھی نہ  پائے گئے تھے۔مثلاً جس طرح اللہ تعالیٰ حاضر وناضر ہے،اسی طرح حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  بھی ہر جگہ حاضر وناضر ہیں یا جس طرح اللہ تعالیٰ  کو مکمل طور پر غیب کاعلم ہے ،ایسے ہی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کو بھی ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا علم ذاتی ہے اور آپ کاعطائی۔۔۔ذاتی اور عطائی تقسیم کے موجد بھی آپ ہی  ہیں! یا یہ کہ  آپ صلی اللہ علیہ وسلم  بشر نہیں  بلکہ نور تھے،نیز یہ کہ اہل قبور  پکارنے و الے کی پکار کو سنتے اور اس کی حاجت روائی کی استطاعت رکھتے ہیں۔چونکہ عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کے نام پر یہ سب کچھ کیا جارہاتھا لہذا جاہل عوام میں انھیں کافی مقبولیت حاصل ہوئی۔
نئے امام:۔
یہ لوگ چونکہ اہل سنت والجماعت کہلاتے اور فقہ حنفی ہونے کے دعوے دار کہلاتے تھے اور امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ  ایسے مشرکانہ عقائد کے سخت د شمن تھے ،لہذا ان لوگوں نے واضح الفاظ میں اعلان کردیا کہ وہ صرف فقہی مسائل کی حد تک امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ  کے مقلد ہیں،عقائد میں ان کے مقلد نہیں ہیں۔ یہ لوگ احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ  کی نسبت سے بریلوی حنفی کہلائے اور اسی بناء پر انہیں امام اہل سنت کہا جاتا ہے۔اورجوحنفی اپنے دستور سابق پر قائم رہے وہ حنفی دیو بندی  کہلائے۔
انگریز کی چال بہت کامیاب رہی،دیوبندی اوربریلوی حضرات میں بحث مباحثے،مناظرے،سرپھٹول اورتکفیر بازی شروع ہوگئی۔بریلوی حضرات تو جماعت اہل حدیث کو جن میں سے اکثر شاہ اسماعیل شہید کی تحریک کے کارکن تھے،وہابی کہتے ہی تھے،اب دیوبندیوں کو بھی وہابی کہناشروع کردیا۔گویا ہندوستان کے تقریباً تمام مسلمان  تفرقہ بازی،انتشار اور آپس کی تکفیر کانشانہ بن کر رہ گئے۔
تکفیربازی:۔
تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ آپ نے 1898ء میں ایک فتویٰ بعنوان"اعلام الاعلام بان ہندوستان دارالسلام"شائع کیا جس میں ہندوستان کو محض اس بناء پردارالسلام قرار دیا گیا تھا ،کہ یہاں مسلمانوں کو نجی طور پر نماز،روزے اور حسب شرع نکاح وطلاق کی اجازت ہے ۔اس  فتویٰ سے انگریز کے سیاسی استحکام کو بہت تقویت پہنچی،مجاہدین نے ہندوستان کو دارالحرب سمجھ کر ہی تحریک شروع کی تھی لہذا وہ سب کافر بلکہ یہودیوں سے بھی بدتر قرار دیے گئے۔تمہید ایمان اور حسام الحرمین میں تو ا علیٰ حضرت خان صاحب گالی گلوچ پر اُتر آئے چنانچہ صفحہ 73سے 83 تک پورے دس صفحات پر مشتمل گالیوں کی ایک طویل فہرست مرتب کی ،جوقابل دید ہے۔"دوزخ کے کتے" آپ کاتکیہ کلام ہے صفحہ 12 مناظرانہ ر نگ میں اُلوگدھے اورسور تک مخالفین کو کہہ دیا اور کئی جگہ وہابیوں کو واجب القتل قرار دیا بلکہ یہاں تک لکھا کہ ایک وہابی کوقتل کرنا سو کافر کے قتل سے افضل ہے اور بادشاہ اسلام اس کا مجاز ہے۔۔۔صفحہ 68پر لکھا:
"یہودی کا ذبیحہ حلال ہے اگر خدا کا نام لے کر کرے مگر وہابی،دیوبندی کا ذبیحہ نجس اور مردار قطعی ہے اگرچہ لاکھ بارخدا کا نام لے ،یہ سب مرتد ہیں"
اس فتویٰ کی ضد میں صرف تحریک مجاہدین کے وہابی ہی نہ آئے بلکہ انگریز کے خلاف  تحریک آزادی کی بھی انجمنیں وجود میں آئیں خواہ وہ مسلم لیگ ہو یاجمعیت علماء ہندیا مجلس احرار،ان سب انجمنوں کے لیڈروں اور ممبروں پر جناب احمد رضا  خان صاحب اور ان کے خاص معتقدین نے کفر کا فتویٰ لگایا اور ان سے تعاون حرام قرار دیا ،حتٰی کہ بانی پاکستان محمد علی جناح  اور علامہ اقبال  رحمۃ اللہ علیہ  بھی نہ بچ سکے ،بانی پاکستانی کے متعلق کہا:
"بحکم شریعت مسٹر جینا(جناح) اپنے عقائد کفریہ قطیعہ یقینہ کی بنا ء پر قطعاً مرتد اورخارج از اسلام ہے،جوشخص اسے مسلمان جانے یا اسے کافر نہ مانے یا اس کے مرتد  ہونے میں شک رکھے یا اس کو کافر کہنے میں  توقف کرے وہ بھی کافر!"(تجانب اہلسنت ،ص 122)
علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ  پرتو پورے 14 صفحے سیاہ کئے گئے ،لکھتے ہیں:
"ڈاکٹر اقبال نے دہریت والحاد کازبردست  پراپیگنڈہ کیا ہے"(تجانب ص240)
علامہ موصوف پر اس قدر برہمی کاباعث غالباً آپ کا یہ شعر بناجو آپ کے فتویٰ کے بالکل برعکس تھا:۔
ملاں کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت
ناداں یہ سمجھتاہے کہ اسلام ہے آزاد!
ڈاکٹر اقبال پر سب سے پہلے کفر کافتویٰ مولوی دیدار علی شاہ والد ماجد سید ابوالبرکات احمد،انجمن حزب الاحناف لاہور نے لگایا تھا۔
خواجہ حسن نظامی دہلوی،شبلی نعمانی ،اورالطاف حسین رحمۃ اللہ علیہ  حالی بھی حضرت خان صاحب کے فتویٰ تکفیر سے نہ بچ سکے۔(تجانب صفحہ 122) حالی رحمۃ اللہ علیہ  پر کفر کے فتویٰ کاسبب،ان کے غالباً یہ اشعار تھے:
کرے غیر گربت کی پوجاتوکافر   جو ٹھہرائے بیٹا خدا کا تو کافر
جھکے آگ پر بہر سجدہ تو کافر      کو اکب میں مانے کرشمہ تو کافر
مگر مومنوں پرکشادہ ہیں راہیں      پرستش کریں شوق سے جس کی چاہں
نبی کو جو چاہیں خداکردکھائیں       اماموں کورتبہ نبی سے بڑھائیں!
مزاورں  پہ دن  رات نذریں چڑھائیں    شہیدوں سے جا جا کے مانگیں دعائیں 
نہ توحید میں کچھ خلل اس میں آئے     نہ اسلام بگڑے ،نہ ایمان جائے
ناظرین! مذکورہ بالاتفصیل اگرچہ ایک ایک مستقل موضوع ہے تاہم اس سے بتلانا یہ مقصودتھا کہ جناب خان صاحب نے اپنے فرقہ کے سواباقی تمام مسلمانوں کوکافر اورگردن زدنی قراردیا۔سیاسی فرقوں کو اس لیے کہ وہ انگریز کے خلاف تحریک آزادی میں مشغول تھے اور مذہبی فرقوں کو اس لیے کہ ان کے عقائد سے ٹکراتے تھے۔
محبت کامیعار:۔
جب کوئی قوم اپنے نبی کی تعلیم اور اس پر عمل سے عاری ہوجاتی ہے تو وہ"پدرم سلطان بود" کےمصداق ا پنے نبی کی شان کو بڑھاچڑھا کر بیان کرنا شروع کردیتی ہے۔یہی کچھ پہلی امتوں نے کیا اور یہی روش عاشقان  رسول نے اختیار کی۔اس فرقہ کے پیشوا امام اہل سنت صرف عالم ہی نہ تھے شاعر بھی تھے۔آپ کے نعتیہ کلام کے مجموعہ کا نام"حدائق بخشش"ہے۔ان نعمتوں میں آپ  نے اکثر مقامات پرعبد اور معبود کے فرق کو یکسر ختم ہی کردیا ہے۔مثلاً:
میں تو مالک ہی کہوں گا کہ ہوا مالک کے حبیب
یعنی محبوب ومحب میں نہیں کہ میراتیرا
یعنی حضوراکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  چونکہ مالک(خدا) کے حبیب ہیں تو بس انہیں بھی مالک ہی سمجھتا ہوں کیونکہ محبوب اور محب کی ملکیت(ملکوت السموات والارض) مشترکہ ہی ہوتی ہے۔
گویا اب حب  رسول کا معیار یہ ٹھہرا کہ جو کوئی شخص اس پر خطر وادی میں جتنی زیادہ جولانی دکھائے،اتنا ہی زیادہ وہ محب اورعاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم  ہے۔چنانچہ آپ کے معتقدین اس میدان میں آپ سے بھی بازی لے گئے،جس کی صدہا مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔
افسوس ان لوگوں نے حب رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کامعیار وہ قائم کیاجس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے سختی سے منع فرمایاتھا۔اس کے برعکس جومعیار خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے بتلایا ہے ذرا وہ بھی سنئے اور غور فرمائیے کہ دونوں میں کس قدرتضاد ہے:
" عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " وَاللَّهِ إِنِّي لأُحِبُّكَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " انْظُرْ مَا تَقُولُ " ، قَالَ : وَاللَّهِ إِنِّي لأُحِبُّكَ ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، قَالَ : " إِنْ كُنْتَ تُحِبُّنِي فَأَعِدَّ لِلْفَقْرِ تِجْفَافًا ، فَإِنَّ الْفَقْرَ أَسْرَعُ إِلَى مَنْ يُحِبُّنِي مِنَ السَّيْلِ إِلَى مُنْتَهَاهُ " وفي رواية ان الفقر الي من يحبني منكم اسرع من السبيل من اعلي الوادي"
"حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت میں حاضر ہوااور عرض کیا،یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  میں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  سے محبت رکھتا ہوں"آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا؛"سوچ لو،جو کہہ رہے ہو؟اس نے تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  سے محبت کے دعویٰ کو دہرادیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایااچھا تو پھر فقر اور اس کے ساتھ آنے والی تکلیفوں کے لیے لوہے کاایک جھولا تیار کرلو،کیونکہ مجھ سے محبت رکھنے والے کی طرف فقر اس سے بھی زیادہ تیزی سے آتاہے جیسے رکاہوا پانی نشیب کی طرف جاتاہے"اورایک ر وایت میں یہ لفظ ہیں کہ"تم میں سے جو مجھ سے محبت رکھتا ہے اس کی طرف فقر  اس سے بھی زیادہ تیزی سے آتا ہے جیسے کہ وادی کی بلندی سے  پانی نشیب کی طرف جاتا ہے"
رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  سےمحبت  رکھنے و الے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  پرمصائب وآلام کے پہاڑ ٹوٹ پڑے اورجس حدتک کسی نے محبت کے دعویٰ کیا اسی حد تک وہ ضرور متاثر ہوا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کاارشادگرامی ہے:
" أَشَدُّبَلَاءً قَالَ الْأَنْبِيَاءُ ثُمَّ الْأَمْثَلُ فَالْأَمْثَلُ "
کہ"سب سے زیادہ مصائب انبیاء علیہ السلام   پر نازل ہوتے ہیں،پھر ان کے ساتھیوں اور پھر ان کے ساتھیوں پر"!
اب دیکھنا یہ ہے کہ ان محبان  رسول صلی اللہ علیہ وسلم  پرکیا مصائب نازل ہوئے  جنھوں نے جہاد کو یکسر موقوف کرکے عیش وآرام کوترجیح دی اور کھانے پینے کی  کئی بدعات رسومات کو شریعت کادرجہ دے دیا توکیا صرف زبانی محبت کادم بھرنے ،نبی کی شان میں غلو کرنے،جشن عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم  منانے اورجلوس نکالنے سے جن میں سے ہر ایک فعل شریعت مطہرہ کے یکسر خلاف ہے۔یہ لوگ نبی کی دعوت کرسکتے ہیں؟اور اس سے زیادہ سوچنے کی بات یہ ہے کہ انہیں قرآن وسنت کی تعلیم کس طرح راس آسکتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ امام اہل سنت نے"کنزالایمان" کے نام سے قرآن کریم کا ترجمہ کیا تو اس ترجمہ میں بریکٹوں میں ایسے الفاظ کا اضافہ کردیاکہ عقل دنگ رہ جاتی اور انسان سرپیٹ کررہ جاتا ہے۔مثلاً آپ نے ہر مقام پر رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کوبشر کے بجائے نوراورعالم الغیب ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔اگر ان دو باتوں کو ہی درست  تسلیم کرلیا جائے تو جہاں آپ کی بعثت کامقصد ہی سرے سے فوت ہوجاتا ہے۔ وہاں آ پ کی ذات پر ایسے ایسے اعتراضات اٹھ کھڑے ہوتے ہیں کہ اگر تمام اُمت مسلمہ بھی ان اعتراضات کے جوابات سے عہدہ برآہونا چاہے تو کبھی نہ ہوسکے۔
بعض دفعہ ہمیں بریلوی علماء کے اس  تعصب پر سخت افسوس آتا ہے کہ کبھی تو اس آیت:
" إِنَّمَآ أَنَاْ بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ."کو وہابیوں والی آیت کہہ دیتے ہیں۔ اور عموماً نماز میں ایسی آیات پڑھنے سے گریز کرتے ہیں اور کبھی  وَإِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِمَّا نَزَّلْنَا عَلَى عَبْدِنَا کے متعلق یہ کہتے ہیں۔ کہ اس آیت کی بس  تلاوت ہی لازم ہے۔اس کا ترجمہ نہیں ہے۔اور حقیقی مطلب اللہ تعالیٰ ہی جانتاہے۔جہاں یہ صورت حال ہوتو کیا آپ یہ توقع کرسکتے ہیں کہ یہ لوگ قرآن کریم کے ترجمہ کی طرف توجہ دیں گے جبکہ اس طبقہ کو قرآن وسنت  کی خالص تعلیم کی ضرورت ہی نہیں ہے؟۔۔۔چنانچہ قرآن نافہمی کے اسباب سے سب سے بڑا سبب عاشقان  رسول کایہ رویہ ہے!
غیر مسلموں نے مسلمانوں کوکمزور کرنے اورانہیں اسلامی تعلیمات سے دور رکھنے کےلیے جو کچھ کہا،وہ ایک الگ داستان ہے یہاں ہم صرف ان اسباب کا جائزہ لے رہے ہیں جن کی وجہ سے گھر کوگھر ہی کے چراغ سے آگ لگ گئی ۔بہرحال یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ قرآنی تعلیمات کی ترویج کے سلسلے  میں ہمیں اغیار کی طرف سے اتنانقصان نہیں پہنچا جتنااپنوں نے پہنچایا ہے بقول شخصے۔
من از بیگا نگاں ہرگز نہ نالم                      کہ من ہرچہ کردآں آشنا کرد
کہ"میں بیگانوں کارونا نہیں روتا،میرے ساتھ جوکچھ کیا ہے ،اپنوں ہی نے کیا ہے"
اور یہی وہ حقیقت ثابت ہے جس کی گواہی خدا کے حضور قیامت کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  بھی دیں گے:
"وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَٰذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا" (25/30)
"اوررسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  فرمائیں گے کہ اے پروردگار! میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھاتھا"
صحیح حل:۔
قرآ ن کریم محض اس لیے نازل نہیں ہواتھا کہ اسے تبرک کتاب سمجھ کر ریشمی غلاف میں محفوظ کرکے بلند طاقوں پر سجادیا جائے یاتبرک کے طور پر کسی تقریب کاافتتاح کرلیاجائے،نہ ہی یہ اس لیے نازل ہوا کہ حروف،آیات اور کلمات کی صحیح صحیح  گنتی کی جائے یا اسے اعلیٰ کاغذ پر خوشنما کرکے طبع کردیاجائے،بلکہ یہ کتاب ہماری ہدایت کے لیے نازل ہوئی تھی کہ اسے سمجھا جائے اس میں تدبر کیا جائے اور اس کی ہدایات اور احکام پر عمل پیرا ہوکر اپنی زندگی کو سنوارا جائے اوراسلام کی سربلندی کےلیے کوشش کی جائے۔
لہذا ہمارے خیال میں اس کی بہترین صورت وہی ہے جس کی طرف ہم آغاز میں اشارہ کرچکے ہیں۔کہ بچےکو ابتداء ہی سے قرآنی الفاظ کے معانی سے بھی روشناس کرایاجائے۔بچے بالکل ابتدائی تعلیم مسجدوں اور گھروں میں حاصل کرتے ہیں۔اسی بنیاد سے یہ عمارت کھڑی ہونی چاہیے اور مدارس عربیہ میں تو لازماً  پہلے ہی سال صرف ونحو کے ساتھ ساتھ ترجمہ قرآن بھی سرسری پر ختم کیا جاناچاہیے،تاکہ اگر کوئی طالب علم مدرسہ کاکورس پورا نہیں کرپاتا تو کم از کم قرآن مجید کے ترجمے سے روشناس ہوسکے چنانچہ اسی نظریہ کے  تحت راقم الحروف نے بچوں کو ابتداء ہی سے ترجمہ پڑھانے کا تجربہ گھر سے شروع کیا جس کے نتائج نہایت  حوصلہ افزا ثابت ہوئے ہیں اور اسی  بناء پر ہم یہ بات نہایت وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ اونچی سطح پر بھی یہ تجربہ ان شاء اللہ نہایت کامیاب ثابت ہوگا۔
حفظ کرنے والے بچوں کو اگر ترجمہ  پڑھا دیا جائے تو انہیں حفظ کرنے میں سہولت رہتی ہے۔ہم نے دیکھا کہ ترجمہ پڑھنے سے بچے بھی خوش ہوتے ہیں اور ان کے والدین بھی ۔بچے جب اپنے گھروں میں جاکر والدین کو ا پنے سبق کاترجمہ  بھی سناتے ہیں تو وہ باغ باغ ہوجاتے ہیں۔مدرسہ میں نظم وضبط  پیدا کرنے کے لیے ہم نے یہ التزام کیاہے کہ جو بچہ کلاس سے غیر حاضر ہوگا اسے پچاس پیسے یومیہ جرمانہ ہوگا۔فیس مطلقاً نہیں ہے،بچے اولاً تو بہت کم غیر حاضری کرتے ہیں،اور اگرغیرحاضر ی ہوجائے تو جرمانہ کی رقم بخوشی ادا کردیتے ہیں اور یہ ترجمہ سے ان کی انتہائی دلچسپی کا نتیجہ ہے۔اندریں صورت سب دوستوں سے گزارش ہے کہ وہ اس بے حد اہم کام کی طرف توجہ دیں اور ناظرہ قرآن کریم پڑھانے کے ساتھ ساتھ بچوں کو ترجمہ سکھانے کا بھی التزام کریں۔
بازار سے جو ابتدائی قاعدے دستیاب ہوتے ہیں،ان  میں بعض الفاظ مہمل بھی ہوتے ہیں اور بعض الفاظ معانی کے لحاظ سے دقیق بھی۔لہذا ہم ایک ایسا قاعدہ مرتب کرناچاہتے ہیں جس میں تقریباً تمام الفاظ قرآنی ہوں اور بامعنی بھی ہوں۔اس قاعدہ میں یہ التزام بھی ر کھاگیا ہے کہ کسی جاندار کی تصویر قاعدہ میں شائع نہ کی جائے۔قاعدہ کی ضخامت 24 چھوٹے صفحات سے زیادہ نہ ہو اور قیمت بی پچاس پیسے سے بڑھنے نہ پائے۔اگر یہ قاعدہ حسب خواہش زیور  طباعت سے مزین ہوگیا تو ابتداء ہی سے عربی الفاظ کا ترجمہ پڑھانے کی طرف یہ ایک اہم قدم ہوگا۔
اس میں قارئین سے اس پروگرام کی تکمیل میں کامیابی کی دعا کی درخواست کے ساتھ ساتھ یہ اپیل بھی کریں گے کہ وہ اس اہم ترین فریضہ کی انجام دہی میں ہر ممکن تعاون کریں جس کی بہترین صورت یہ ہے کہ ہر حلقہ میں،ہرسطح پر اس پروگرام کو فروغ دیں اور قرآنی تعلیمات کی ترویج کے سلسلہ میں اپنے فرائض سے کما حقہ عہدہ برآمد ہوکر عنداللہ ماجور ہوں۔ع ۔گرقبول افتدز ہے عزوشرف۔