قرآن مجید میں ارشاد بار تعالیٰ ہے:"ہم نے انسان کو بہترین خلقت (فطرت) پر پیدا کیا ہے۔"(سورۃتین)۔۔۔قرآنی تصور کے مطابق انسانی فطرت کا خمیر نیکی سے اٹھاہے۔انسانی اعمال میں کجی اور برائی کا ظہور دراصل سماجی عوامل اور معاشرتی تربیت کا نتیجہ ہے جناب رسالت مآب  صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد گرامی ہےَ"ہر بچہ اپنی فطرت یعنی اسلام پر پیدا ہوتا ہے بعد میں اس کے والدین اسے نصرانی یا یہودی بنادیتے ہیں "بچے اپنی معصومیت کے اعتبار سے انسانی فطرت کی اصلیت کی صحیح عکاسی کرتے ہیں بچے بے حد معصوم پیارے اور اپنے والدین کی آنکھوں کا نور ہوتے ہیں ان کے اندر مچلتی تمناؤں اور امنگوں کا ایک خزینہ پوشیدہ ہوتا ہے ان کی سادگی اور معصومیت کائنات کے حسن کا پرتو ہے۔انسانی بچے اپنی نشو ونما کے مراحل میں والدین اور عزیز و اقارب کی بے پایا ں شفقت ،محبت اور توجہ کے جس قدر متقاضی ہوتے ہیں کسی اور مخلوق کے بچوں کو شاید اتنی نگہداشت کی ضرورت نہیں ہوتی ۔بچوں کے اندر اس جسمانی کمزوری کی حکمت شاید یہ ہے کہاوائل عمر ہی میں بچے اور والدین کے مابین تعلق کے گہرے رشتوں کی بنیاد رکھ دی جائے۔ یہ ایک فطری امرہے کہ انسان جس چیز متواتر اپنی الفتیں نچھاور کرتا ہے اور اس کا خیال رکھتا ہے اس کے دل میں اس کے متعلق شدید محبت اور انس کے جذبات موجزن ہوجاتے ہیں ۔پیدائش سے لے کر رضاعت اور پھر بچپن میں انحصاریت کا طویل دورانیہ بچوں کے بارے میں والدین کے دلوں محبت اور وارفتگی کے سچے جذبات کو پیدا کرنے کاباعث بنتا ہے۔
بچے کسی بھی قوم کے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں۔جو قومیں بچوں کی تعلیم و تربیت صحت و نگہداشت کے بارے میں لاپروائی کامظاہرہ کرتی ہیں ان کا مستقبل بھی اسی تناسب سے غیر یقینی اور ناقابل رشک ہو جا تا ہے یہ کہنا مبالغہ نہ ہو گا کہ بچوں کے حقوق کے تحفظ کا تصور قوموں کے حقوق کے تصور سے وابستہ ہے انگریزی کامعروف مقولہ ہے۔"Child is the father of the man"یعنی "بچہ آدمی کا باپ ہے"۔۔۔بلاشبہ بچے کسی بھی قوم کا انتہائی قیمتی سرمایہ ہیں کسی بھی معاشرےکی معاشی ثقافتی اور سماجی ترقی کا انحصار اس کی ان پالیسوں اور طریقہ کار پر ہے جو وہ آنے والی نسلوں کی باقاعدہ تربیت کے متعلق وضع کرتا ہے لہٰذا یہ والدین اور ریاست کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کی نشوونما اور ترقی کے لیے ایسی کاوشیں برؤئے کارلائیں جو انہیں مستقبل کے چیلنج  سے عہدہ برآہونے کے قابل بنا سکیں ۔بچوں کی نشوونما کے لیے مناسب ماحول پیدا کرنا معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔
حالیہ برسوں میں بچوں کے متعلق بین الاقوامی سطح پر انقلابی تبدیلی رونما ہوئی ہے۔ یہ تصور کہ بچوں کی مخصوص ضروریات ہیں بالآخر اس اعتقاد پر منتج ہوا ہے کہ بچوں کے اسی طرح بھرپور حقوق ہیں جس طرح کہ بالغوں کے حقوق ہیں مثلاًشہری ثقافتی اور معاشی وغیرہ
30/نومبر 1989ء کواقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے"بچوں کے معاہدے "کی منظوری دی تو یہی اعتقادعملی طور پر بین الاقوامی قانون کا حصہ بن گیا دنیا کے بیشترممالک نے"کنونشن آن دی رائٹس آف دی چائلڈ"(بچوں کے حقوق کا معاہدہ) کی توثیق کردی ہے پاکستان نے بھی اس معاہدہ کی ستمبر1990ء، میں توثیق کردی۔مغربی تہذیب کی یلغار اور کچھ بدلتے عمرانی و معاشی عوامل و حالات کی وجہ سے پاکستانی معاشرہ اتھل پتھل کا شکارہے۔پاکستانی معاشرہ اپنی اخلاقی اور سماجی اقدارکےتحفظ و تسلسل کی ایک زبردست جدوجہدمیں مصروف ہے قدیم و جدید قدروں کے درمیان کشمکش نے ہمارے خاندانی نظام کی بنیادوں کو متزلزل کردیا ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے مگر اسے قبول کئے بغیر چارہ نہیں رہا جوتیسں چالیس برس قبل دیکھنےمیں آتا تھا ۔سماجی اداروں کے عدم استحکام اور خاندانی نظام کے روبہ زوال ہونے کی وجہ سے ہمارے ہاں بچوں کی، تعلیم و تربیت کے مسائل نے سر اٹھانا شروع کردیا ہے۔ حالیہ برسوں میں اگر گھر سے فرار ہونے والے اغوا ہونے والے اور گم شدہ بچوں کی تعدادمیں ہمارے ہاں اضافہ ہوا ہے تویہ امرزیادہ تعجب کا باعث نہیں ہو نا چاہیے۔ حالات جس طرف جارہےہیں یہ ان کا منطقی نتیجہ ہی توہے۔
گذشتہ چند ماہ کے دوران ہمارے زرائع ابلاغ میں انسانی حقوق اور عورتوں کے حقوق کے علاوہ بچوں کے حقوق کا بھی غیر معمولی تذکرہ ہونا شروع ہوا ہے اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ہماری قوم میں بحیثیت اجتماعی بچوں کے حقوق کے متعلق شعورمیں کوئی انقلابی تبدیلی رونما ہوئی ہے اس کی بنیادی وجہ ایک جنونی قاتل جاوید مغل کی طرف سے سوبچوں کے قتل کی انسانیت سوزاور لرز ہ خیزواردات کا منظر عام پر آناتھا اس ہولناک واقعے نے ہمارے سوئے ضمیر پریکا یک کوڑے برسائے انسانی تاریخ کے اس عدیم النظیر بربریت کے مظاہرے نے اقتدار کے ایوانوں میں قوی دولت کے مزے اڑانے والے حکمرانوں کو بھی حواس باختہ کردیا۔ حکومتی اداروں کی منجمد مشینری کے کل پرزوں میں وقتی طور پر ارتعاش کی لہر پیدا ہوئی۔ ہمارے صحافیوں کو سنسنی خیز فیچر چھاپنے کا ایک نادر موقع میسر آیا۔این جی اوز نے اسے اپنی نمود و نمائش کا سنہری موقع سمجھتے ہوئے سیمینارزکاایک سلسلہ منعقد کیا اس طرح انہیں پاکستانی معاشرہ کو"مزید وحشی"بناکر پیش کرنے کاجواز ہاتھ آگیا اور یہی جواز کروڑوں روپے کے اضافی فنڈز کی وصولی کا بہترین بہانہ بن گیا ۔ جاوید مغل کو عدالت نے عبرت ناک سزا سنائی ۔آہستہ آہستہ یہ واقعہ گوشہ گمنامی میں چلا گیا۔کافی عرصہ سے جاوید مغل کے بارے میں کوئی خبر شائع نہیں ہوئی ۔گویا بچوں کے حقوق کا وقتی ابال بھی جھاگ کی طرح بیٹھ گیا ہے۔
جولائی2000ء کے دوسرے ہفتے میں لاہور کے نواحی قصبہ مانگامنڈی  میں ایک پراسرار بیماری نے قومی پریس کو اپنی جانب مبذول کیاتو بچوں کے حقوق کا ذکر ایک دفعہ پھر سننے میں آرہا ہے قومی پریس میں لا ہور کے مضافاتی دیہات کوٹ اسد اللہ اور کلالانوالہ میں چار سو بچوں کے معذور ہونے کی خبر کی اشاعت نے ایک دفعہ پھر ہمارے منجمد ضمیر کو پگھلانے کاکام کیا۔ اس بیماری کی وجہ یہ بتائی گئی ہےکہ اس علاقے میں موجود فیکٹریاں اپنا فضلہ زیرزمین کنویں کھود کر اس میں ڈالتی ہیں اور ان فیکٹریاں کا فضلہ زیر زمین پانی میں شامل ہوکر پینے والے پانی کو زہر آلودکررہا ہے پانی میں فلوائیڈکی مقدارزیادہ ہونے کی وجہ سے لوگوں میں ہڈیوں کی بیماریاں پیدا ہو رہی ہیں اور اس بیماری کا سب سے زیادہ شکار بچے ہوئے ہیں قومی اخبارات اور ٹیلی ویژن پر جوں جوں اس افسوسناک واقعے کی خبریں نشر ہوتی گئیں حکومتی اداروں کے اہل کار اور کچھ این جی اوز کے تماش بین ویڈیو کیمرے لے کر وہاں پہنچنا شورع ہوئے انسانی حقوق کمیشن کا نمائندہ31/جولائی کو وہاں پہنچا۔ اگر گھر سے ہرفرارہونے والی کسی لڑکی کے حقوق کے تحفظ کا معاملہ ہوتا تو یہ نمائندہ چند گھنٹوں مین وہاں پہنچ جاتا۔موصوف نے بیان دیا کہ انسانی حقوق کمیشن متاثر بچوں کے علاج کی ذمہ داری لینے کو تیار ہے۔نجانے اس ذمہ داری کو فوری طور پر نہ نبھانے میں کون ساامرمانع تھا حکومت پنجاب نے بھی توجہ فرمائی ۔گورنر پنجاب جنرل (ر)محمد صفدرنے بھی یکم اگست2000ءکو مانگامنڈی کو دورہ کیا۔ انھوں نے وہاں عوام سے جو خطاب فرمایا وہ حکومتی اداروں کی بے حسی کا ایک نوحہ ہے انھوں نے کہا:
:معاشرہ بے حسی کا شکار ہے سابق حکومتوں نے عوام کے مسائل کا احساس نہیں کیا ۔منتخب نمائندوں نے اپنے عوام کی مشکلات حل کرنے کے لیے کچھ نہیں کیا ۔گورنرنے کہا: کہ مانگامنڈی میں زہریلے پانی سے بچوں کی معذوری کی خبر پڑھی تو مجھے دکھ کے ساتھ غصہ بھی آیا۔اس وقت میری کیفیت تھی ننھے منھے بچوں کو ایسی حالت میں دیکھ کر ہر انسان پریشان ہو گا۔جس کے سینے میں دل ہو۔ غصہ اس لیے آیا کہ چار سال پہلے یہ وبا شروع ہوئی اور کسی کو عقل نہیں آئی۔ کسی حکومت یا محکمے نے اپنے فرض کا احساس نہیں کیا آغاز ہی میں اس وبا کا نوٹس لینا چاہئے تھا اس معاملے میں کوئی کاروائی نہ کرنا شرمناک بات ہے کتنی حیرت انگیز بات ہے کہ لاہورسے صرف دس پندرمیل کے فاصلے پر واقع اس علاقہ میں پھیلنےوالی بیماری کا پتہ نہیں چل سکا ۔مانگا منڈی کوئی ریگستانی علاقہ نہیں کہ یہاں پہنچانہیں جاسکتا ۔اگر مانگا منڈی کا یہ حال ہے تو ان علاقوں کا کیا حشرہو گا جہاں سڑکیں اور راستے نہیں ہیں ۔گورنرنے کہا:کہ معاشرہ اور تہذیب میں اتنی بے حسی اچھی بات نہیں ہے"(نوائےوقت:2/اگست 2000ء)
مانگا منڈی کا علاقہ رائیونڈ محل سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔اس علاقے میں این جی اوزکاجال بچھا ہوا ہےنہ تو سابقہ حکمرانوں کی نگاہ اس علاقے پر پڑی اور نہ ہی کسی این جی اوز نےاس عوامی مسئلہ کی نشاندہی کی، یہ ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ آخر ہم بیدار ہونے کے لیے بہت بڑی چوٹ کے منتظر کیوں رہتے ہیں۔
18،19/جولائی کو یونیف کے تعاون سے حکومت پنجاب کے محکمہ سماجی بہبود کی طرف سے "بچوں کے حقوق کے معاہدہ"کے متعلق ایک بڑےہوٹل میں سیمینارمنعقد کرایا گیا۔ وفاقی حکومت چاروں صوبائی حکومتوں اور این جی اوز کے نمائندوں کے علاوہ بچوں کے حقوق پر تحقیق کرنے والے دانشوروں نے اس میں شرکت کی، صوبائی وزیرمس شاہین عتیق الرحمٰن  اس سیمینارکی مہمان خصوصی تھیں اس دو روزہ سیمینار میں چھ مطالعاتی گروپ تشکیل دئیے گئے ،ان گروپوں نے بچوں کی رجسٹریشن بچوں کے لیے ہیلتھ ایجوکیشن چائلڈلیبر(بچوں کی مزدوری)بچوں کے لیے انصاف اور گھروں سے بھاگنے والے اور گم شدہ بچوں کے مسائل جیسے موضوعات پر تفصیلی غور و فکر کے بعد سفارشات مرتب کیں ۔یہ عجب سوئےاتفاق ہے کہ جن دنوں یہ سیمینار ہو رہا تھا اس سے کئی روز پہلے قومی پریس میں مانگا منڈی کے بچوں کے متعلق خبریں شائع ہو چکی تھیں مگر اس سیمینار کے شرکاء میں سے کسی نے بھی اس موضوع پر اظہار خیال مناسب نہ سمجھا ۔ شرکا کو صرف یہی ٹاسک دیا گیا تھا کہ وہ اقوام متحدہ کے بچوں کے حقوق کے کنونشن کی روشنی میں اپنی سفارشات مرتب کریں ۔ان جی اوز کے بعض نمائندوں کی سوچ بے حد  سطحی اور زمینی حقائق سے غیر منطبق تھی ۔ایسے سیمینارز"گفتند،نشتند،،خواستند" کی عمدہ مثال ہوتے ہیں۔
اس سے پہلے کہ بچوں کے مسائل ان کی وجوہات اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں بچوں کے حقوق پر روشنی ڈالی جائے مناسب ہو گاکہ"The Convention of the Rights of the Child"کی چند اہم شقوں کا بیان ہو جا ئے (CRC)کی کل 54دفعات ہیں جن میں درج ذیل دفعات قابل توجہ ہیں۔۔
1۔اٹھارہ سال سے کم عمر کے تمام لڑکوں اور لڑکیوں کو بچہ مانا جائے گا ۔
2۔بچوں کے ساتھ ان کے یا ان کے والدین اور سر پرست کے رنگ نسل عقیدے مذہب زبان ملک قوم قبیلے ،پیدائش کی جگہ ،سیاسی رائے ،رتبے جائیدادیا کسی معذوری کی وجہ سے امتیازی سلوک نہیں کیا جا ئے گا۔
3۔بچوں کے بارےمیں کوئی بھی فیصلہ کرتے وقت عدالتیں ،رضا کار ادارے،یاسرکاری کار کن بچےکے بہترین مفاد کو ہمیشہ سامنے رکھیں گے۔
4۔زندہ رہنا ہر بچے کا پیدائشی حق ہے اور تمام ممالک اس بات کی پوری کوشش کریں گے کہ پیدا ہونے والے بچے کی جان کی حفاظت کی جا ئے اور اس کی اچھے طریقے سے پرورش کی جا ئے۔
5۔حکومت اس بات کا خیال رکھے گی کہ بچے عام حالات میں اپنے ماں باپ کی شفقت سے محروم نہ رہیں۔
6۔حکومت اس بات کا خیال رکھے گی ،کہ کوئی بچہ اپنے ماں باپ سےان کی مرضی کے بغیر جدانہ نہ ہونے پائے۔ ماں باپ میں علیحدگی کی صورت میں بچے کا یہ حق ہے کہ اسے دونوں سے ملنے دیا جا ئے چاہےان کی رہائش ان سے کسی ایک کے پاس ہو۔ اگر ماں باپ بچے کے ساتھ اچھا سلوک نہ کریں تو بچے کو ان سے الگ کیا جا سکے گا۔
7۔ہر حکومت کا یہ فرض ہو گا کہ بچوں کو اغوا کرنے یا ان کوزبردستی دوسروں ملکوں میں لے جانے یارکھنے کی ہر کوشش روکے۔
8۔جب بچہ اس قابل ہوجائے کہ وہ اپنی رائے قائم کر سکتے تو حکومت کا یہ فرض ہو گا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ بچہ اپنے بارے میں اپنی رائے کا پوری آزادی سے اظہار کر سکے اور اس کی عمر کے لحاظ سے بچے کی رائے کو اہمیت بھی دی جائے۔
9۔ہر ملک کے بچے کو سوچنے سمجھنے ،بات کہنے اور اس کے مطابق کام کرنے کی آزادی ہوگی۔
10۔حکومت اس بات کا انتظام کرے کہ بچوں کو ریڈیو، ٹیلی ویژن ،اخبار اور رسالوں کے ذریعے دنیا بھر سے ایسی مفید معلومات حاصل ہوتی رہیں بچوں کو نقصان دہ معلومات ،کتابوں ،فلموں اور پروگراموں سے بچانے کے لیے حکومت ضروری کاروائی کرے گی۔
11۔حکومت کا یہ فرض ہو گا کہ وہ بچوں کو ہر قسم کی لاپرواہی اور برے سلوک سے بچائے۔ چاہے یہ غلط سلوک بچے کے ماں باپ سر پرست یا ان کی دیکھ بھال کرنے والے کی طرف سے ہی کیوں نہ ہوں۔حکومت نہ صرف ایسے برے سلوک کے خاتمے کے لیے کاروائی کرے گی بلکہ برے سلوک کا شکار ہونے والے بچوں کی بحالی کے لیے بھی کام کرے گی۔
12۔ہر بچے کا یہ حق ہے اور اسے زندگی کے کم ازکم معیار کے مطابق سہولتیں دینا بچے کے ماں باپ کی پہلی ذمہ داری ہے اور حکومت کا فرض ہے کہ اس ذمہ داری کو پورا کروایا جائے۔
13۔تعلیم حاصل کرنا ہر بچے کا بنیادی حق ہے اور حکومت کایہ فرض ہے کہ پرائمری تک تعلیم کو لازمی اور مفت فراہم کیا جا ئے سکول کے نظم وضبط کو قائم کرتے وقت بچے کی عزت نفس کا خیال رکھا جائے۔
ہادی النظر میں مندرجہ بالاتمام دفعات قابل تعریف ہیں لیکن اگر تھوڑا ساغور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ ان میں بعض دفعات اسلامی تعلیمات اور پاکستانی ثقافت سے مطابقت نہیں رکھتیں ۔مثلاً(CRC)کے مطابق 18سال تک کا لڑکا بچہ ہی شمار ہو گا۔
اسلام میں جنسی بلوغت کو ہی بچپن کی حد قراردیا گیا ہے عام مشا ہدہ یہ ہے کہ لڑکا12،13،سال کی عمر تک بلوغت کی منزل میں قدم رکھ دیتا ہے۔ فرض کیجئے کہ 18سال سے چند روز کم کا ایک لڑکا اگر جنسی بدکاری کا مرتکب ہو تا ہے یا کسی کو قتل کر دیتا ہے تو اسے (CRC)کی روسے وہ سزا نہیں ملے گی جو بالغ آدمی کو ملنی چاہیے ۔جولائی2000ءمیں حکومت پاکستان نے ایک ترمیم کے ذریعے18سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے سزا موت کی منسوخی کا اعلان کیا ہے مندرجہ بالاشق نمبر11کے نتائج اب یورپ و امریکہ میں یہ سامنے آئے ہیں کہ وہاں والدین اپنے بچوں کو تربیت کی غرض سے بھی معمولی سزا نہیں دے سکتے ،معمولی ڈانٹ ڈپٹ کی صورت میں بھی بچےایک خاص فون نمبرملا کر اپنے والدین کے خلاف پولیس کو بلوا لیتے ہیں ایسی صورت میں والدین اور بچوں کے درمیان باہمی رشتے متاثر ہوتے ہیں شق نمبر13کی روسے اساتذہ بچوں کو کسی قسم کی سزا نہیں دے سکتے ۔ برطانیہ میں حال ہی میں اس بارے میں نظر ثانی کی گئی۔ہے شق نمبر9 میں بیان کردہ آزادیوں کے اثرات بھی  منفی پڑے ہیں۔
بعض دفعات پاکستانی معاشرے میں ناقابل عمل ہیں مثلاً شق نمبر12۔پاکستان جہاں کی40فیصد آبادی خط افلاس سے نیچےزندگی بسرکر رہی ہو۔ وہاں حکومت کم ازکم معیار زندگی پر عمل درآمد کیسے کروائے گی۔ اس ضمن میں اہم ترین بات یہ ہے کہ کوئی بھی قانون یا معاہدہ کسی معاشرے پر اس وقت تک لاگو نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ وہ اس معاشرے کی مذہبی روایات اور سماجی اقدارسے مطابقت نہ رکھتا ہو۔
بچوں کے حقوق کی پامالی کے ضمن میں بچوں کے ساتھ غلط برتاؤ "Child Abuse"کامعاملہ خاصا اہم ہے۔معروف ماہر امراض نفسیات پرو فیسر ڈاکٹر خالدہ ترین کی رائے میں اس برے برتاؤ کی مختلف صورتیں ہیں مثلاً(1)جسمانی غلط برتاؤ (2)جذباتی غلط برتاؤ(3)جنسی غلط برتاؤ(4)سماجی غلط برتاؤ۔پروفیسر خالدہ ترین کے مطابق پاکستان میں حتمی اعداد و شمارتو میسر نہیں ہیں البتہ بچوں کے ساتھ غلط برتاؤ میں اضافہ ہو رہا ہے دوسرے ممالک میں بھی یہی صورتحال ہے۔ وہ لکھتی ہیں کہ جذباتی غلط برتاؤ"Emotional Abuse" کی تشخیص نسبتاً مشکل ہے اس میں سخت اوردل آزار کلمات اور سخت رویہ شامل ہے جو بچوں میں جذباتی خلل پیدا کرتا ہے ان کے خیال میں بچوں کی جذباتی نشو ونما بھی اتنی اہم ہے جتنی کہ جسمانی ۔ایک بچہ جس کو نظر انداز کردیا جائے تو اس کی شخصیت کی صحیح طور پر نشو ونما نہیں ہو پاتی۔سماجی غلط  برتاؤ کی وضاحت کرتے ہوئے ڈاکٹر خالدہ ترین لکھتی ہیں کہ اس سے مراد بچوں کی مزدوری فیکٹریوں میں جبری ملازمت اور گھریلو کام کاج کی مزدوری ہے(مقالہChild abuse child neglect)
پاکستان میں چائلڈ لیبر کے حوالے سے بعض این جی اوزنے منفی پراپیگنڈہ کیا جس کی وجہ سےپاکستان کی کھیلوں اور قالین کی صنعت کو کروڑو ں روپے کا نقصان پہنچا۔ پاکستان جیسے غریب اور پسماندہ ملک کام کرنے والے فاقہ زدہ بچوں سے بہرحال بہتر ہیں جب تک حکومت ان کی معاشی کفالت کا خاطر خواہ بندو بست نہیں کرتی چائلڈلیبر پر پابندی عائد کرنے سے معاشی مسائل پیدا ہوں گے۔
یہ امر پیش نظر رہے کہ بچوں سے غلط برتاؤ Abuseکا مسئلہ صرف ترقی پذیرممالک تک محدود نہیں ہے بلکہ پاکستان جیسے ممالک میں جہاں ابھی تک خاندانی نظام کا شیراز ہ بکھرنے سے کسی حد تک محفوظ رہا ہے بچوں کے مسائل اتنے شدیدنہیں ہیں۔عام طور پر بچوں سے محبت کابرتاؤ کیا جا تا ہے مگر نام نہاد ترقی پسند روشن خیال اور لبرل معاشروں میں بچوں کے (Abuse)کی ایسی گھناؤنی اور بھیانک صورتیں رونما ہو رہی ہیں جن کا ذکر کرتے ہوئے گھن آتی ہے۔مگر چونکہ ان کے بظاہرروشن مگر اندر سے مکروہ اور تاریک پہلو کی نشاندہی بھی ضروری ہے اس لیے ان کا مختصر تذکر ہ بھی ضروری ہے۔
برطانیہ سکنڈے نیویا اور یورپ کے دیگر ممالک میں کم سن بچوں کی جسم فروشی کی لعنت فروغ پارہی ہے پانچ سال سے کم بچوں اور بچیوں کے ساتھ بدکاری اور انہیں بطور طوائف کے استعمال کرنے کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے مارچ 1998ءکے ریڈرزائجسٹ میں ایک مفصل رپورٹ شائع ہوئی جس میں بچہ بازی کی ان مکرہ صورتوں کا تفصیل سے سروے کیا گیا ہے۔ بچوں کی بدکاری کی ویڈیوں فلم بنا کر فروخت کرنے کا مکروہ دھند ابھی وہاں پر ہو رہا ہے اس طرح کے گھناؤ نے کاروبار میں ملوث افرادکو(Paedophile)یا بچہ باز کہاجاتا ہے ریڈرزڈائجسٹ کی رپورٹ کے مطابق اس غلیظ دھندے میں حکومتوں کے وزراامرا ابھی ملوث ہیں یہ پیڈوفائل بچوں کو اغواکرتے ہیں اور پھر انہیں بدکاری کے بعد قتل کر دیتے ہیں۔
جولائی 2000ءکے دوسرے ہفتے میں برطانوی ذرائع ابلاغ نے شہ شرخیوں کے ساتھ ایک تہلکہ خیز خبر شائع کی کہ ایک پیڈوفائل نے آٹھ سالہ بچی سارہ پین(Sarah Payne)کو اغواکرنے کے بعد قتل کردیا پھر اس کی ننگی لاش کو ویسٹ سیکس کے قریب کھیتوں میں پھینک دیا۔اس وقت میرے سامنے 21/جولائی2000ءکے برطانیہ کے تین معروف اخبارات ڈیلی میل گارجین دی انڈی پینڈنٹ"رکھے ہیں ان میں اس وحشیانہ واقعہ پر متعدد آرٹیکل لکھے گئے ہیں۔مثلاً ڈیلی میل کے ایک مضمون کا عنوان ہے (What drives a paedophile to murder)"ایک بچہ باز کو آخر کیا چیز قتل پر ابھارتی ہے؟"
اسی اخبار میں بہت سے قارئین کے دردناک خطوط شائع ہوئے ہیں جنہوں نے اس معصوم بچی سارہ پین کے والدین کے ساتھ اپنی ہمدردی کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس کے قاتل کو گرفتار کر کے سزائے موت دے۔یاد رہے کہ برطانوی قانون میں سزائے موت کو ختم کر دیا گیا ہے ۔
حکومت پنجاب کے محکمہ سماجی بہبود کے زیر نگرانی نگہبان چمن اور گہوارہ کے نام سے مختلف ادارے لاہور فیصل آباد راولپنڈی ملتان اور سرگودھا میں کام کر رہے ہیں ۔گھر سے بھاگے ہوئے اور گم شدہ بچوں کو نگہبان میں رکھا جا تا ہے پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ سوشل ورک نے 1998ءمیں لاہور اور دیگر شہروں میں قائم نگہبان کی کارکردگی کے متعلق تحقیقی اور تجزیاتی رپورٹ پیش کی تھی ۔اس رپورٹ کے مطابق گھر سے بچوں کے بھاگنے کی وجوہات درج ذیل ہیں۔غربت گھروں میں کھچاؤ(Tension)کی فضا والدین کی طرف سے مارکیٹ بچوں کے لیے تفریح کے کم مواقع کام چوری کا رجحان والدین کی طرف سے بچوں پر توجہ دینا ناخواندگی بری صحبت افراد کنبہ کی زیادہ تعداد سوتیلےماں باپ کا براسلوک ماں باپ میں سے کسی کی وفات بچوں کے جذبات کو نظر انداز کرنا ۔۔۔اس رپورٹ کے مطابق حکومتی اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
مغربی معاشرہ بچوں کے حقوق کے بارے میں افراط وتفریط کا شکارہے۔ وہاں بچوں کے حقوق پر زیادہ زور نے والدین کے حقوق کو زک پہنچائی ہے یہی وجہ ہے کہ وہاں والدین کے احترام کا وہ تصور موجود نہیں ہے جو اسلامی معاشرےکی خصوصیت ہے۔ اسلام نے والدین کے حقوق اور بچوں کے حقوق کے درمیان خوبصورت توازن قائم کیا ہے جس کے نتیجے میں اولاد والدین کے مابین محبت اعتماد اور مستقل خونی تعلق میں پختگی اور پائیداری کی صورت قائم کردی ہے اسلام نے بچوں کے حقوق پر بہت زوردیاہے۔اسلامی تعلیمات کے مطابق والدین کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں کے نان ونفقہ کے بندوبست کے ساتھ ان کی اخلاقی تربیت کا اہتمام بھی کریں۔
بچوں کی تعلیم اور صحت کا خیال رکھنا والدین کی اولین ذمہ داری ہے بچوں سے نرمی کے برتاؤ کی ہدایت کی گئی ہے حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد گرامی ہے کہ"جو ہمارے بڑوں کی عزت نہیں کرتا اور بچوں پر رحم نہیں کھاتا وہ ہم میں سے نہیں ہے"آپ صلی اللہ علیہ وسلم  بچوں سے بے حد شفقت اور مہربانی سے پیش آتے تھے۔
حضرت حسین اور حضرت حسن  رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق آتا ہے کہ وہ نماز کی حالت میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کے کندھوں پر سوار ہو جا تے اگر آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  سجدہ کی حالت میں ہوتے تو ان کے اترنے کا انتظار فرماتے ۔عید کے موقع پر ایک دفعہ آپ عیدگاہ کی طرف تشریف لے جارہے تھے۔کہ راستے میں ایک بچہ کو روتے ہوئے دیکھا۔آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے دریافت فرمانے پر اس نے بتا یا کہ آج عید کا جشن ہے مگر اس کے پاس نئے کپڑے نہیں ہیں حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  فوراً گھر واپس تشریف لے گئے اور اس کے لیے نئے لباس کا بندو بست فرمایا۔قرآن مجید میں یتیم بچوں کے حقوق کے تحفظ کے متعلق بے حد تاکید کی گئی ہے ۔
اسلام نے کھانے پینے خوراک اور عام ضروریات زندگی کے معاملے میں لڑکوں اور لڑکیوں سے برابر برتاؤ کی ہدایت کی ہے ۔عرب معاشرےمیں بیٹیوں کو زندہ دفن کرنے کا وحشیانہ طریقہ رائج تھا۔
قرآن مجید کی اس آیت میں اسی بے رحمانہ روایت کا ذکر کیا گیا ہے:
"بِأيّ ذَنْبٍ قُتلَتْ"
"اور جب زندہ گاڑی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ وہ کس قصور میں ماری گئی۔"(سورہ تکویر)سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ  اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں۔
"اس آیت کے انداز بیان میں ایسی شدید غضبنا کی پائی جاتی ہے جس سے زیادہ سخت غضبنا کی کا تصور نہیں کیا جا سکتا ۔ بیٹی کو زندہ گاڑنے والے ماں باپ اللہ کی نگاہ میں ایسے قابل نفرت ہوں گے۔کہ ان کو مخاطب کر کے یہ نہ پوچھا جائے گا کہ تم نے اس معصوم کو کیوں قتل کیا بلکہ ان سے نگاہ پھیر کر معصوم بچی سے پوچھا جائے گا کہ توبےچاری آخر کس قصور میں ماری گئی۔ اس میں اہل عرب کویہ احساس دلایا گیا ہے کہ جاہلیت نے ان کو اخلاقی پستی کی کس انتہا پر پہنچادیا ہے۔(تفہیم القرآن جلد ششم صفحہ 264)۔۔۔وہ مزید لکھتے ہیں۔
"درحقیقت یہ اسلام کی برکتوں میں سے ایک بڑی برکت ہے کہ اس نے نہ صرف  یہ کہ عرب سے اس انتہائی سنگدلانہ رسم کا خاتمہ کیا بلکہ اس تخیل کو مٹایا کہ بیٹی کی پیدائش کوئی حادثہ اور مصیبت ہے جسے بادل نخواستہ برداشت کیا جا ئے۔اس کے برعکس اسلام نے یہ تعلیم دی کہ بیٹیوں کی پرورش کرنا انہیں عمدہ تعلیم و تربیت دینا اور انہیں اس قابل بنانا کہ وہ اچھی گھر والی بن سکیں بہت بڑا نیکی کا کا م ہے۔
رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی متعدداحادیث لڑکیوں کی پرورش کے متعلق ترغیب پر مبنی ہیں۔چند ایک ملاحظہ کیجئے ۔
1۔جو شخص ان لڑکیوں کی پیدائش سے آزمائش میں ڈالا جا ئے اور پھر وہ ان سے نیک سلوک کرے تو یہ اس کے لیے جہنم کی آگ سے بچاؤکا ذریعہ بنیں گی۔ (بخاری و مسلم)
2۔جس نے دو لڑکیوں کی پرورش  کی یہاں تک کہ وہ بالغ ہو گئیں تو قیامت کے روزوہ میرے ساتھ اس طرح آئے گا یہ فرما کر حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اپنی انگلیوں کو جو ڑدیا۔ (مسلم)
3۔جس کے ہاں لڑکی ہواور وہ اسے زندہ دفن نہ کرے نہ ذلیل کر کے رکھے نہ بیٹے کو اس پر ترجیح دے اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا (ابو داؤد)
4۔جس شخص نے تین بیٹیوں یا تین بہنوں کی پرورش کی ان کو اچھا ادب سکھایا اور ان سے شفقت کا برتاؤ کیا یہاں تک کہ وہ اس کی مدد کی محتاج نہ رہیں تو اللہ اس کے لیے جنت واجب کردے گا۔(شرح السنہ)
مسلمان حکومتوں کو چاہے کہ وہ قرآن و سنت کی روشنی میں بچوں کے حقوق کا تعین کریں ان کے متعلق مناسب قانون سازی کے ذریعے ان کے نفاذ کو یقینی بنائیں مغربی فکر کی دریوزہ گری اور اندھی تقلید سے اسلامی معاشروں میں والدین اور اولاد کے درمیان محبت پر استوار رشتوں میں رخنہ اندازی کے امکانات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔(محمد عطاء اللہ صدیقی)