ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

آن لائن مطالعہ
  • اگست
2000
ادارہ
قرآن مجید میں ارشاد بار تعالیٰ ہے:"ہم نے انسان کو بہترین خلقت (فطرت) پر پیدا کیا ہے۔"(سورۃتین)۔۔۔قرآنی تصور کے مطابق انسانی فطرت کا خمیر نیکی سے اٹھاہے۔انسانی اعمال میں کجی اور برائی کا ظہور دراصل سماجی عوامل اور معاشرتی تربیت کا نتیجہ ہے جناب رسالت مآب  صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد گرامی ہےَ"ہر بچہ اپنی فطرت یعنی اسلام پر پیدا ہوتا ہے بعد میں اس کے والدین اسے نصرانی یا یہودی بنادیتے ہیں "بچے اپنی معصومیت کے اعتبار سے انسانی فطرت کی اصلیت کی صحیح عکاسی کرتے ہیں بچے بے حد معصوم پیارے اور اپنے والدین کی آنکھوں کا نور ہوتے ہیں ان کے اندر مچلتی تمناؤں اور امنگوں کا ایک خزینہ پوشیدہ ہوتا ہے ان کی سادگی اور معصومیت کائنات کے حسن کا پرتو ہے۔انسانی بچے اپنی نشو ونما کے مراحل میں والدین اور عزیز و اقارب کی بے پایا ں شفقت ،محبت اور توجہ کے جس قدر متقاضی ہوتے ہیں کسی اور مخلوق کے بچوں کو شاید اتنی نگہداشت کی ضرورت نہیں ہوتی ۔بچوں کے اندر اس جسمانی کمزوری کی حکمت شاید یہ ہے کہاوائل عمر ہی میں بچے اور والدین کے مابین تعلق کے گہرے رشتوں کی بنیاد رکھ دی جائے۔ یہ ایک فطری امرہے کہ انسان جس چیز متواتر اپنی الفتیں نچھاور کرتا ہے اور اس کا خیال رکھتا ہے اس کے دل میں اس کے متعلق شدید محبت اور انس کے جذبات موجزن ہوجاتے ہیں ۔پیدائش سے لے کر رضاعت اور پھر بچپن میں انحصاریت کا طویل دورانیہ بچوں کے بارے میں والدین کے دلوں محبت اور وارفتگی کے سچے جذبات کو پیدا کرنے کاباعث بنتا ہے۔
  • اگست
2000
عبدالرحمن کیلانی
قرآن کریم عربی زبان میں نازل ہوا اور دنیا میں شاید عربی ہی ایک ایسی زبان ہے جو ترجمہ کے بغیر  پڑھائی جاتی ہے۔ بچہ جب پہلی جماعت سے انگریزی پڑھنا شروع  کرتا ہے  تو استاد اسے بتلاتا ہے:Aسے"APPLE"،"Apple"بمعنی سیب،اسی طرح فارسی پڑھنے والے بچے کو،آب، اور است ہی نہیں پڑھایا جاتا بلکہ یہ بھی بتلایا جاتاہے کہ آب بمعنی پانی اور است کے معنی ہے۔لیکن جو بچے عربی پڑھتے ہیں ،انہیں صرف الفاظ ہی پڑھائے جاتے ہیں۔ الفاظ کے معنی کاخیال کسی کو بھولے سے بھی نہیں آتا۔
اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ ہمیں یہ بات ذہن نشین کرائی گئی ہے کہ قرآن کریم کا ناظرہ پڑھنا ہی باعث برکت ہے۔دلیل کے طور پر رسول ا للہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا یہ ارشاد پیش کیاجاتاہے:
"قرآن کریم کے ہر حرف کے بدلے ایک نیکی ملتی ہے اور ہر نیکی کا دس گنا اجرملے گا۔میں نہی کہتا کہ الم ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف ہے ل الگ حرف ہے اور م الگ حرف!"(ترمذی)
  • اگست
2000
ماہر القادری
طاقوں میں سجایا جاتا ہوں ، آنکھوں سے لگایا جاتا ہوں
تعویذ بنایا جاتا ہوں ، دھودھو کے پلایا جاتا ہوں
جزدان حریر وریشم کے ، اور پھول ستارے چاندی کے
پھر عطر کی بارش ہوتی ہے ، خوشبو میں بسایا جاتا ہوں
جس طرح سے طوطے مینا کو ، کچھ بول سکھاے جاتے ہیں
اس طرح پڑھایا جاتا ہوں ، اس طرح سکھایا جاتا ہوں
جب قول وقسم لینے کے لیے ، تکرار کی نوبت آتی ہے
  • اگست
2000
سعید مجتبیٰ سعیدی
عرض مترجم:۔اللہ تعالیٰ ا پنے بندوں کو دنیا میں وقتاً  فوقتاً مختلف اندازوں سے آزماتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان پر اس قسم کے حالات آئیں تو صبر سے کام لینا چاہیے،اسی سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے۔بے صبری کا مظاہرہ کرنے سے اللہ  تعالیٰ کی ناراضگی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ انسان پر جب کوئی مصیبت،دکھ اور  پریشانی آئے تو اس سے انسان کے گناہ معاف اور درجات بلند ہوتے ہیں حتیٰ کہ اگر انسان کو ایک کانٹا چبھے تو یہ بھی انسان کی خطاؤں کی معافی اور بلندی درجات کا سبب بنتاہے۔
امام زین الدین ابو الفرج عبدالرحمان بن رجب حنبلی رحمۃ اللہ علیہ  اپنے اس کتابچہ میں اسی موضوع کو زیر بحث لائے ہیں۔اسے پڑھ کر سبق ملتاہے کہ مصائب وآلام تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے بندوں کے لیے رحمت کا ذریعہ ہیں۔بیماری دکھ اور پریشانی وغیرہ سے گھبرانا نہیں چاہیے۔کوئی بندہ جس قدر اللہ تعالیٰ کا مقرب ہو،اس کی آزمائش بھی اسی قدر ہوتی ہے۔موضوع کی اہمیت کے پیش نظر راقم نے سلیس اردو زبان میں اس کا  ترجمہ کیا ہے تاکہ اردو خواں طبقہ بھی اس کے مطالعہ سے مستفید ہوسکے۔دعا ہے کہ اللہ کریم اس تحریر کو برادران اسلام کے لیے مفید ونافع بنائے اور اس کے مصنف اور مترجم کو اپنی رحمت سے نوازے۔آمین!
  • اگست
2000
ثنااللہ مدنی
غسل کے بغیر نماز پڑھنا ،صفائی کا اہتمام نہ کرنا،شادی سے قبل عورت کو دیکھنا
سوال نمبر1۔کسی پرغسل واجب ہو اور اس نے غسل نہ کیاہو یا غسل نہ کرسکے تو کیا ایسے اُس کی نماز ہوجائے گی۔۔۔نیز غسل  واجب  ہونے کی صورت میں قرآن کی تلاوت کرسکتا ہے؟
جواب:۔بلا غسل نماز نہیں ہوگی،ہاں البتہ جنگل میں اگرپانی میسر نہ آئے تو تیمم کرکے نماز پڑھی جاسکتی ہے۔بلاغسل قرآن کی تلاوت سے اجتناب ضروری ہے۔
سوال نمبر۔2۔شادی سے قبل اپنے ہونے والی بیوی کو دیکھنا  درست ہے یا نہیں۔شادی کرنے کے لیے لڑکی کا چہرہ دیکھ کر فیصلہ کرنادرست ہے؟
جواب۔جس  عورت سے آدمی شادی کرنا چاہتا ہے۔اس کو دیکھنے کا جواز ہے۔سنن ابی داود میں حدیث ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:
"إِذَا خَطَبَ أَحَدُكُمْ الْمَرْأَةَ فَإِنْ اسْتَطَاعَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى مَا يَدْعُوهُ إِلَى نِكَاحِهَا فَلْيَفْعَلْ" 
"جب ایک  تمہارا کسی عورت کو نکاح کاپیغام دے تو اُسے چاہیے کہ اگر ممکن ہوتو اس عورت کو ایک نظردیکھ لے"۔۔۔
اور  فیصلہ کی غرض سے بھی عورت کو دیکھا جاسکتاہے۔طحاوی میں روایت ہے کہ ایک آدمی نے انصار کی عورت سے نکاح کرنا چاہاتوآ پ نے فرمایا:"تو اس کو دیکھ لے،انصار کی آنکھوں میں کچھ خلل ہوتاہے۔"

  • اگست
2000
علامہ یوسف قرضاوی
اجتہاد انسانی زندگی میں پیش آمدہ مسائل کے بارے میں الہامی رہنمائی کے لیے اس انتہائی ذہنی کدو کاوش کا نام ہے جس کا مدار تو کتاب وسنت ہی ہوتے ہیں لیکن مجتہد کو اس بارے میں کتاب و سنت کی واضح صریح نصوص نہ ملنے پر کتاب و سنت کی وسعتوں اور گہرائیوں میں اترنا پڑتا ہے ۔اگر غور و فکر کی گیرائی اور گہرائی شریعت کی مہیا کردہ رہنمائی کی تلاش کے لیے نہ ہوتو اسے اجتہاد کی بجائے تدبیرکہتے ہیں پھر اگر چہ نبی کو بھی نت نئے پیش آمدہ بہت سے مسائل میں اللہ کی رضا معلوم کرنے کے لیے ایسی ذہنی تگ و تازسے ضرور واسطہ پڑتا ہے لیکن چونکہ اللہ عاصم اور نبی معصوم ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے نبی کو استصواب کے ذریعے ایسی اجتہادی غلطی پر قائم رہنے سے بھی تحفظ فرمادیا ہے۔ اس لیے اصطلاح شرح میں نبی کا اجتہاد سنت و حدیث ہی کہلاتا ہے جو انسانی کا وش اجتہاد و فقہ کی بجائے شریعت کا حصہ ہے۔
چونکہ غیر نبی کے لیے اجتہاد میں انسانی تگ و تاز کایہ پہلو صحت و خطا کے احتمال سے خالی نہیں ہو سکتا اور بسا اوقات وہ الہامی ہدایت کے بجائے صرف دنیاوی تدبیر کے زمرے میں داخل ہو جاتا ہے۔اس لیے علمائے دین اس کے بارے میں بڑے محتاط ہیں اور وہ نہ تو ہرایرےغیرے کو اجتہاد کی اجازت دیتے ہیں اور نہ ہی اس بارے سابقہ ذخیرہ فقہ سے ناآشنائی کو برادشت کرتے ہیں اسی بنا پر جدید دانشور طبقہ انہیں قدامت پرستی کا طعن دیتا ہے حالانکہ۔ ع۔ ز۔ تقلید عالمان کم نظر اقتداء بررفتگان محفوظ تر، تاہم اس بارے میں اسلامی معاشرے میں موجود تقلید والحاد کے دوانتہائی رویوں سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا ۔اسی افراط و تفریط کا کا جائزہ اس مکالمہ میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔(محدث)
  • اگست
2000
وحید بن عبدالسلام
(آٹھواں حصہ)                      
نظر بدکاعلاج

نظر بد کی تاثیر پر قرآنی دلائل:۔
1۔سورہ یوسف کی آیات 67،68 کا ترجمہ ملاحظہ کریں:
"اور (یعقوب علیہ السلام  ) نے کہا اے میرے بچو!تم سب ایک دروازے سے نہ جانا،بلکہ کئی جدا جدا دروازوں میں سے داخل ہونا،میں اللہ کی طرف سے آنے والی چیز کو تم سے  ٹال نہیں سکتا،حکم صرف اللہ کا ہی چلتا ہے۔میر اکامل بھروسہ اسی پر ہے،اور ہر ایک بھروسہ کرنے کو ا ُسی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔اور جب وہ انہی  راستوں سے جن کا حکم ان کے والد نے انہیں دیاتھا،گئے،کچھ نہ تھا کہ اللہ نے جو بات مقرر کررکھاہے،وہ اس سے انہیں ذرا  بھی بچالے،مگر(یعقوب علیہ السلام  ) کے دل میں ایک خیال  پیدا ہوا جسے انہوں نے پورا کرلیا،بلاشبہ وہ  ہمارے سکھلائے ہوئے علم کے عالم تھے،لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے"
حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ  ان دونوں آیات کو تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"اللہ تعالیٰ یعقوب علیہ السلام   کے بارے میں  بتارہا ہے کہ انہوں نے جب"بنیامین" سمیت اپنے بیٹوں کو مصر جانے کے لیے تیار نہیں کیا تو انہیں تلقین کی کہ وہ سب کے سب ایک دروازے سے داخل ہونے کی بجائے مختلف دروازوں سے داخل ہوں،کیونکہ انہیں جس طرح کہ ابن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،محمد بن کعب رحمۃ اللہ علیہ ،مجاہد رحمۃ اللہ علیہ ،ضحاک رحمۃ اللہ علیہ ،قتادہ رحمۃ اللہ علیہ ،اورسدی رحمۃ اللہ علیہ  وغیرہم کا کہنا ہے۔اس بات کاخدشہ تھاکہ چونکہ ان کے بیٹے خوبصورت ہیں،کہیں نظر بد کا شکار نہ ہوجائیں اور نظر کا لگ جانا حق ہے۔(118)
  • اگست
2000
عطاء اللہ صدیقی
سیکولرازم  ایک وسیع الجہات اور سریع الارثر نظر یہ ہے جو اپنے معتقدین کی فکر میں انقلاب برپا کردیتا ہے۔تصور کائنات یعنی انسان کے کائنات میں مقام سے لے کر زندگی کے ہر پہلو کے بارے میں سیکولرازم پر یقین رکھنے والوں کے خیالات  یکسر بدل جاتے ہیں چونکہ یہ نظریہ مسیحی یورپ کی دینی آمریت کے خلاف رد عمل کے طور پر پروان چڑھا اسی لیے سیکولرافراد میں مذہب کے خلاف شدید نفرت اور عمومی بغاوت کا مزاج پیدا ہو جاتا ہے وہ اگر کسی بات کو درست بھی سمجھتے ہوں جونہی انہیں معلوم  ہو جائے کہ اس بات کا سر چشمہ مذہب کی تعلیمات ہیں تو وہ اس سے شدید بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے اس کو جنوبی انداز میں مسترد کر دیتے ہیں ان کے اندر مریضانہ عقل پرستی بلکہ الحاد پرستی کا نفسیاتی مرض پیدا ہو جا تا ہے ذرا معتدل مزاج کے سیکولرافراد خدا کے باوجود سے تو کلیۃ انکار نہیں کرتے مگر یوم آخرت  جنت اور دوزخ کے معاملات  انہیں محض علامتی باتیں لگتی ہیں جن کا حقیقت سے کو ئی تعلق نہیں ہے (نعوذ باللہ)