محترم و مکرم جناب حافظ حسن مدنی صاحب ،مدیر معاون ،السلام علیکم!

جون کے محدث میں آپ نے میرامضمون شائع کیا ہے جس پر تبصرہ کرتے ہوئے ص56پر آپ نے "سیکولرازم کے فتنہ اباحیت کا شکار"کے الفاظ استعمال کئے ہیں جن کی وجہ سے میں نے اپنا مضمون بہت غورو فکر سے کئی مرتبہ پڑھا لیکن باوجود کوشش کے اس مفہوم کوتلاش کرنے میں کامیاب نہ ہوسکا بلکہ مجھے تو اس میں سیکولرازم کی مکمل نفی نظر آئی ۔آپ کی دوبارہ توجہ اور غور کے لیے اپنے مضمون کے چند اقتباسات نقل کرتا ہوں ۔مضمون کے آخری تین چار صفحات جو ابھی شائع نہیں ہوئے میں جدید اطراز حکومت سے استفادہ کی باتیں لکھ کر میں نے تحریر کیا تھا کہ:

"لیکن ملک کے حالات کے مطابق ایسی صورت ہی اختیار کی جا ئے گی کی قرآن وسنت کے مطابق قوانین کا بنایا جانا یقینی ہو اس لیے کہ اسلامی نظام حکومت کی بنیاداور روح ہی اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اور قرآن و سنت کی حکمرانی ہے اس روح کا نظام حکومت کے ہر ہر ادارے میں موجود ہونا ضروری ہے"(مسودہ کا صفحہ 18)جو مضمون شائع ہو چکا ہے اس میں تحریر کیا تھا ۔

"ایک اسلامی ریاست اور مغربی سیاسی مفکرین کے پیش کردہ جمہوری اور سیکولر نظریات کی بنیاد پر قائم ہونے والی ریاست میں اگر یہ کہا جا ئے کہ ایک ہی بنیادی پہلا اور آخری فرق ہے تو وہ حاکمیت اور اقتدار اعلیٰ کا ہے ۔یہ ایک ہی فرق ایسا ہے جو دونوں ریاستوں کے دیگر تمام اصولوں کو متاثر و متعین کرتا ہے"(محدث صفحہ 48)

سیکولرازم کے نظریہ اور سیکولرریاست کے لیے اہم ترین مثال برطانیہ کی ہے جس کے بارے میں تحریر کیا تھا "غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ :"اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم   کی طرف رجوع اس دستور کی بنیاد اور روح ہے برطانوی نظام حکومت کی روح "پارلیمنٹ کا اقتدار اعلیٰ "کے اصول اور نظر یہ کی اسلامی ریاست میں معمولی سی بھی گنجائش نہیں"(صفحہ 50)

حکمران کی اطاعت کی وضاحت کرتے ہوئے تحریر کیا تھا ۔

"قاضی ثناء اللہ پانی پتی مظہری میں قرآن کریم کی اسی آیت :

"أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ"

کی شرح میں تحریر کرتے ہیں ۔"حاکم کی اطاعت صرف اسی وقت واجب ہے جب اس کا حکم شرح  کے خلاف نہ ہو آیت کی رفتار سے یہی معلوم ہوتا ہے کیونکہ پہلے اللہ نے انصاف کرنے کا حکم دیا اس کے بعد حاکموں کی اطاعت کا امر کیا، اس سے معلوم ہوا کہ جب تک حکام عدل پر قائم ہوں ان کی اطاعت واجب ہے اس سے آگے خود صراحت فرمادی :

"فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ" 

"یعنی اگر کسی مسئلے میں تمھارا آپس میں اختلاف ہوجائے تو(صحیح فیصلے کے لیے ) اللہ اور اسکے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم   کے (احکام ) کی طرف رجوع کرو "(ص53)چند حوالے نقل کرنے کے بعد میں نے تحریر کیا تھا کہ :

"اسی اصول اور ضابطے ہی کی بناپر اسلامی ریاست کے حکمران کو اپنے ہرحکم اور ہر فعل کے بارے میں یہ وضاحت  کرنا ہوتی ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے بھیجے ہوئے رسول کی تعلیم کے مطابق ہے"(ص54)

پھر میں نے اس سے اگلے صفحہ پر تحریر کیا تھا۔"کسی ملک کے نظام حکومت میں عام طور پر ایک بنیادی نظریہ اور روح کار فرماہوتی ہے جس نظریے اور فکر کو اس ملک کے نظام حکومت کی روح کی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔کوئی بھی قانون بناتے وقت کوئی بھی پالیسی وضع کرتے وقت اور کوئی بھی انتظامی قدم اٹھانے کے موقع پر اس بنیادی نظریہ کو مدنظر رکھا جاتا ہے ۔۔۔اسلامی نظام حکومت کی روح اللہ تعالیٰ کی حاکمیت ہے۔"

آپ نے تبصرہ کرتے ہوئے ص56پر تحریر کیاہے۔اسلام انسانی تجربات کے ارتقا کا مخالف نہیں ہے۔البتہ ان تجربات کو الہامی ضابطوں کی قیود کا پابند کرتا ہے"میں آپ کی اس بات سے سو فیصد متفق ہوں ۔چنانچہ جدید اطراز حکومت کے تذکرے کے بعد ایک حوالے سے میں نے تحریر کیا تھا ۔(ص58)

"حفظ الرحمٰن سیوہاروی خلافت کےنظام کو قرآن و حدیث کے اساسی اصولوں کے مطابق چلانے پر زور دینے کے ساتھ ہی مزید وضاحت کے لیے تحریر کرتے ہیں اسلام میں قیاس صحیح اور اجتہاد کو بہت اہم جگہ حاصل ہے اور اس کا صحیح طریق کاریہ ہے کہ اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے کہ اصول اور اساسی قوانین میں ادنی ساتغیر بھی نہیں ہو سکتا اور ان ہی قوانین کی روشنی میں ایسی جزئیات اور تفصیلات اور ایسے احکام استخراج واستنباط کئے جائیں جو ایک جانب تو ان اساسی اصولوں کے ماتحت ہوں اور دوسری جانب مقتضیات وقت اور حادثات کابہترین حل کرتے ہوں۔"

قرآن و سنت کا پابند رہتے ہوئے جدید اطراز حکومت سے استفادہ کرنے میں میری فکرو سوچ شاید وہی  ہو جو آپ کے مضمون "انٹرنیٹ اور اسلام "میں جدید ذرائع ابلاغ سے استفادہ کے سلسلے میں پائی جا تی ہے اس مضمون جو اسی جون کے محدث میں شائع ہوا ہے میں آپ نے تحریر کیا ہے۔

"دوسری طرف ہمارے بعض پڑھے لکھے دیندار حضرات ایسے بھی ہیں جو انٹرنیٹ کے مضراثرات سے خائف ہو کر اس سے پہلو بچانے ہی کا مشورہ دیتے ہیں اس ساری بات چیت کا مقصد یہ ہے کہ دیندار طبقہ جدید سائنس سے استفادہ کرنے میں کوتاہی بلکہ مجرمانہ غفلت کاشکار ہے ممکن ہے بعض لوگ اسے مادی وسائل کی کمی کی بناپر حاصل نہ کر پاتے ہوں لیکن بحیثیت مجموعی دینی طبقہ کا رجحان بوجوہ جدید سے گزیر اور نئی آنے والی چیزوں سے ہچکچاہٹ کا رہا ہے جبکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ ان جدید اشیاء کی افادیت تسلیم کر کے ان کا استعمال کرتے رہے ہیں اسلامی نقطہ نظر سے اُمت کے معروف مفتیان کرام کے فتاویٰ آجانے کے بعد ان وسائل علم سے لاپرواہی کا کو ئی جواز نہیں بنتا ۔ہم اس سے قبل اپنے مضامین میں لکھ چکے ہیں کہ سائنسی ایجاد آلہ کا کوئی دین نہیں ہوتا دین تو اس کے استعمال پر اس سے وجود میں آنے والے رویوں پر گرفت کرتا ہے۔۔۔ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام میں جدید سے جدید زمانے کی سہولیات سے استفادہ کرنے کی گنجائش موجودہے اس کے باوجود کہ اسلام کی درست اور حقیقی تعبیر قدیم سے قدیم مصادر شریعت سے ہی میسر آسکتی ہے"

(محدث :صفحہ 72،73)

مؤد بانہ گزارش صرف اتنی ہے کہ آپ کے تبصرہ کے مطابق اگر میرے مضمون میں "سیکولرازم اور اباحیت"کی فکر پائی جاتی تھی تو دین کے "نصیحت و خیر خواہی"کے اصول کے تحت شاید زیادہ بہتر یہ ہوتا کہ مضمون شائع کرنے سے پہلے اصلاح کی تجاویز کے ساتھ اسے واپس بھیج دیا جا تا اور اگر اصلاح کی تجاویز کے لیے آپ کی غیر معمولی مصروفیات رکاوٹ تھیں تو پھر اسے شائع ہی نہ کیا جاتا ۔والسلام (مخلص پروفیسر عبدالرؤف بالمقابل عیدگاہ ہسپتال روڈ مظفر گڑھ )

محترم و مکرم جناب حافظ حسن مدنی صاحب ،مدیر معاون ،السلام علیکم!

جون کے محدث میں آپ نے میرامضمون شائع کیا ہے جس پر تبصرہ کرتے ہوئے ص56پر آپ نے "سیکولرازم کے فتنہ اباحیت کا شکار"کے الفاظ استعمال کئے ہیں جن کی وجہ سے میں نے اپنا مضمون بہت غورو فکر سے کئی مرتبہ پڑھا لیکن باوجود کوشش کے اس مفہوم کوتلاش کرنے میں کامیاب نہ ہوسکا بلکہ مجھے تو اس میں سیکولرازم کی مکمل نفی نظر آئی ۔آپ کی دوبارہ توجہ اور غور کے لیے اپنے مضمون کے چند اقتباسات نقل کرتا ہوں ۔مضمون کے آخری تین چار صفحات جو ابھی شائع نہیں ہوئے میں جدید اطراز حکومت سے استفادہ کی باتیں لکھ کر میں نے تحریر کیا تھا کہ:

"لیکن ملک کے حالات کے مطابق ایسی صورت ہی اختیار کی جا ئے گی کی قرآن وسنت کے مطابق قوانین کا بنایا جانا یقینی ہو اس لیے کہ اسلامی نظام حکومت کی بنیاداور روح ہی اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اور قرآن و سنت کی حکمرانی ہے اس روح کا نظام حکومت کے ہر ہر ادارے میں موجود ہونا ضروری ہے"(مسودہ کا صفحہ 18)جو مضمون شائع ہو چکا ہے اس میں تحریر کیا تھا ۔

"ایک اسلامی ریاست اور مغربی سیاسی مفکرین کے پیش کردہ جمہوری اور سیکولر نظریات کی بنیاد پر قائم ہونے والی ریاست میں اگر یہ کہا جا ئے کہ ایک ہی بنیادی پہلا اور آخری فرق ہے تو وہ حاکمیت اور اقتدار اعلیٰ کا ہے ۔یہ ایک ہی فرق ایسا ہے جو دونوں ریاستوں کے دیگر تمام اصولوں کو متاثر و متعین کرتا ہے"(محدث صفحہ 48)

سیکولرازم کے نظریہ اور سیکولرریاست کے لیے اہم ترین مثال برطانیہ کی ہے جس کے بارے میں تحریر کیا تھا "غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ :"اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم   کی طرف رجوع اس دستور کی بنیاد اور روح ہے برطانوی نظام حکومت کی روح "پارلیمنٹ کا اقتدار اعلیٰ "کے اصول اور نظر یہ کی اسلامی ریاست میں معمولی سی بھی گنجائش نہیں"(صفحہ 50)

حکمران کی اطاعت کی وضاحت کرتے ہوئے تحریر کیا تھا ۔

"قاضی ثناء اللہ پانی پتی مظہری میں قرآن کریم کی اسی آیت :

"أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ"

کی شرح میں تحریر کرتے ہیں ۔"حاکم کی اطاعت صرف اسی وقت واجب ہے جب اس کا حکم شرح  کے خلاف نہ ہو آیت کی رفتار سے یہی معلوم ہوتا ہے کیونکہ پہلے اللہ نے انصاف کرنے کا حکم دیا اس کے بعد حاکموں کی اطاعت کا امر کیا، اس سے معلوم ہوا کہ جب تک حکام عدل پر قائم ہوں ان کی اطاعت واجب ہے اس سے آگے خود صراحت فرمادی :

"فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ" 

"یعنی اگر کسی مسئلے میں تمھارا آپس میں اختلاف ہوجائے تو(صحیح فیصلے کے لیے ) اللہ اور اسکے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم   کے (احکام ) کی طرف رجوع کرو "(ص53)چند حوالے نقل کرنے کے بعد میں نے تحریر کیا تھا کہ :

"اسی اصول اور ضابطے ہی کی بناپر اسلامی ریاست کے حکمران کو اپنے ہرحکم اور ہر فعل کے بارے میں یہ وضاحت  کرنا ہوتی ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے بھیجے ہوئے رسول کی تعلیم کے مطابق ہے"(ص54)

پھر میں نے اس سے اگلے صفحہ پر تحریر کیا تھا۔"کسی ملک کے نظام حکومت میں عام طور پر ایک بنیادی نظریہ اور روح کار فرماہوتی ہے جس نظریے اور فکر کو اس ملک کے نظام حکومت کی روح کی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔کوئی بھی قانون بناتے وقت کوئی بھی پالیسی وضع کرتے وقت اور کوئی بھی انتظامی قدم اٹھانے کے موقع پر اس بنیادی نظریہ کو مدنظر رکھا جاتا ہے ۔۔۔اسلامی نظام حکومت کی روح اللہ تعالیٰ کی حاکمیت ہے۔"

آپ نے تبصرہ کرتے ہوئے ص56پر تحریر کیاہے۔اسلام انسانی تجربات کے ارتقا کا مخالف نہیں ہے۔البتہ ان تجربات کو الہامی ضابطوں کی قیود کا پابند کرتا ہے"میں آپ کی اس بات سے سو فیصد متفق ہوں ۔چنانچہ جدید اطراز حکومت کے تذکرے کے بعد ایک حوالے سے میں نے تحریر کیا تھا ۔(ص58)

"حفظ الرحمٰن سیوہاروی خلافت کےنظام کو قرآن و حدیث کے اساسی اصولوں کے مطابق چلانے پر زور دینے کے ساتھ ہی مزید وضاحت کے لیے تحریر کرتے ہیں اسلام میں قیاس صحیح اور اجتہاد کو بہت اہم جگہ حاصل ہے اور اس کا صحیح طریق کاریہ ہے کہ اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے کہ اصول اور اساسی قوانین میں ادنی ساتغیر بھی نہیں ہو سکتا اور ان ہی قوانین کی روشنی میں ایسی جزئیات اور تفصیلات اور ایسے احکام استخراج واستنباط کئے جائیں جو ایک جانب تو ان اساسی اصولوں کے ماتحت ہوں اور دوسری جانب مقتضیات وقت اور حادثات کابہترین حل کرتے ہوں۔"

قرآن و سنت کا پابند رہتے ہوئے جدید اطراز حکومت سے استفادہ کرنے میں میری فکرو سوچ شاید وہی  ہو جو آپ کے مضمون "انٹرنیٹ اور اسلام "میں جدید ذرائع ابلاغ سے استفادہ کے سلسلے میں پائی جا تی ہے اس مضمون جو اسی جون کے محدث میں شائع ہوا ہے میں آپ نے تحریر کیا ہے۔

"دوسری طرف ہمارے بعض پڑھے لکھے دیندار حضرات ایسے بھی ہیں جو انٹرنیٹ کے مضراثرات سے خائف ہو کر اس سے پہلو بچانے ہی کا مشورہ دیتے ہیں اس ساری بات چیت کا مقصد یہ ہے کہ دیندار طبقہ جدید سائنس سے استفادہ کرنے میں کوتاہی بلکہ مجرمانہ غفلت کاشکار ہے ممکن ہے بعض لوگ اسے مادی وسائل کی کمی کی بناپر حاصل نہ کر پاتے ہوں لیکن بحیثیت مجموعی دینی طبقہ کا رجحان بوجوہ جدید سے گزیر اور نئی آنے والی چیزوں سے ہچکچاہٹ کا رہا ہے جبکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ ان جدید اشیاء کی افادیت تسلیم کر کے ان کا استعمال کرتے رہے ہیں اسلامی نقطہ نظر سے اُمت کے معروف مفتیان کرام کے فتاویٰ آجانے کے بعد ان وسائل علم سے لاپرواہی کا کو ئی جواز نہیں بنتا ۔ہم اس سے قبل اپنے مضامین میں لکھ چکے ہیں کہ سائنسی ایجاد آلہ کا کوئی دین نہیں ہوتا دین تو اس کے استعمال پر اس سے وجود میں آنے والے رویوں پر گرفت کرتا ہے۔۔۔ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام میں جدید سے جدید زمانے کی سہولیات سے استفادہ کرنے کی گنجائش موجودہے اس کے باوجود کہ اسلام کی درست اور حقیقی تعبیر قدیم سے قدیم مصادر شریعت سے ہی میسر آسکتی ہے"

(محدث :صفحہ 72،73)

مؤد بانہ گزارش صرف اتنی ہے کہ آپ کے تبصرہ کے مطابق اگر میرے مضمون میں "سیکولرازم اور اباحیت"کی فکر پائی جاتی تھی تو دین کے "نصیحت و خیر خواہی"کے اصول کے تحت شاید زیادہ بہتر یہ ہوتا کہ مضمون شائع کرنے سے پہلے اصلاح کی تجاویز کے ساتھ اسے واپس بھیج دیا جا تا اور اگر اصلاح کی تجاویز کے لیے آپ کی غیر معمولی مصروفیات رکاوٹ تھیں تو پھر اسے شائع ہی نہ کیا جاتا ۔والسلام (مخلص پروفیسر عبدالرؤف بالمقابل عیدگاہ ہسپتال روڈ مظفر گڑھ )