ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

آن لائن مطالعہ
  • جولائی
2000
ثریا بتول علوی
"تیری بربادیوں کے مشورے ہیں UNO کے ایوانوں میں"

گذشتہ ماہ (5تا9جون) نیویارک میں اقوام متحدہ کے نمائندوں  کے ذریعےیہودیوں کا ایک  خوفناک شیطانی منصوبہ پیش کیا گیا جس میں دنیا کے مختلف ممالک کے ہم خیال شیطانی دماغ مل کر بیٹھے اور"خواتین 2000ءواکیسویں صدی  میں صنفی مساوات امن اور ترقی "کے نام پر چند فیصلے کئے گئے جن کو یواین او کے پلیٹ فارم کے ذریعے ممبر ممالک میں نافذ کیا جاتا تھا ۔یہ خواتین کے سلسلے میں پانچویں عالمی کانفرنس تھی اس سے قبل حقوق نسواں کے نام پر خواتین کی چارعالمی کانفرنس منعقد ہوچکی ہیں۔
پہلی بین الاقوامی کانفرنس:                            1975 ءمیں میکسکیو میں 
دوسری بین الاقوامی کانفرنس:                       1980  ء میں کو پن ہیگن میں  
تیسری بین الاقوامی کانفرنس:                        1985ءمیں نیروبی میں 
چوتھی بین الاقوامی کانفرنس:                         1995ءمیں بیجنگ میں
بیجنگ کا نفرنس میں خواتین کی ترقی اور صنفی مساوات کے نام پر ایک بارہ نکاتی ایجنڈا طے کیا گیا تھا وہ نکات درج ذیل ہیں ۔
  • جولائی
2000
رمضان سلفی
فرقہ طلوع اسلام چونکہ مکمل طور پر منکر حدیث ہے۔[1]اس لئے حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم  کی  تبلیغ اور اس کی نشرواشاعت اسے ہرگز گوارا نہیں ہے،اور حدیث نبوی  صلی اللہ علیہ وسلم  کو مآخذ شریعت کے طورپر پیش کرنے والے اہل حدیث کو بدنام کرنے کے لئے اس فرقہ سے متعلقہ افراد موقع کی تلاش میں رہتے ہیں۔چونکہ خود یہ لوگ عربی زبان سے ناواقف اور اس کی گرائمر سمجھنے سے نابلد ہوتے ہیں لہذا اس بارے میں دوسروں پر اعتراض کرکے اپنی ہی سبکی کروالیتے ہیں،مثال کے طور پر دارالدعوۃ السلفیہ کی طرف سے جب شیخ عبدالسلام کی کتاب حدیث(منتقی الاخبار) کا اردو  ترجمہ شائع کیا گیا
  • جولائی
2000
عبدالجبار سلفی
میرے سامنے ایک تحریر ہے جس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام   کے والد کانام آزر کے بجائے تارح ثابت کرنے اور انہیں مسلمان باور کرانے کی ناکام کوشش کی گئی ہے۔جب کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام   کے باپ کانام آزر ہی تھا۔سورہ انعام میں ہے:
"وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ لِأَبِيهِ آزَرَ أَتَتَّخِذُ أَصْنَامًا آلِهَةً ۖ"
"جب ابراہیم علیہ السلام   نے اپنے باپ آزر سے کہا کہ کیا تو بتوں کو دیوتا بناتا ہے؟"(آیت 74)
عربی زبان میں باپ کے لئے اب اور چچا کے لئے عم کا لفظ بولا جاتاہے۔اورحقیقت کو اس وقت تک مجاز پر اولیت حاصل ہے جب تک حقیقی مراد لینے میں کوئی امر مانع نہ ہو۔مثلاً اگر کسی صحیح دلیل سے ثابت ہوتا کہ نبی کابیٹا یاباپ گمراہ نہیں ہوسکتا تو اس لفظ کی تاویل کی جاسکتی تھی لیکن چونکہ ایسی کوئی دلیل نہیں لہذا اس حقیقت پر ایمان رکھنا چاہیے کہ اب سےمراد باپ ہی ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام   اپنی تبلیغ میں اپنی باپ کےلیے بار بار یاابت کالفظ استعمال کرتے ہیں
  • جولائی
2000
محمد اسحٰق زاہد
الصارم البتار في التصدي للسحرة الأشرار
(ساتواں حصہ)
بیوی سے قرب کی  بندش کا جادو
اس سے مراد یہ ہے کہ ایک  تندرست مرد اپنی بیوی سے جماع نہ کرسکے اور اس کی کیفیت کچھ اس طرح سے ہوتی ہے کہ جن انسان کے دماغ میں اس جگہ پر مورچہ بندی کرلیتاہے جہاں سے اعضاءتناسل کو شہوانی ہدایات ملتی ہیں۔پھر جب انسان اپنی بیوی کے قریب ہوکر اس سے جماع کا ارادہ کرلیتا ہے تو جن اس دماغی مرکز کو بے عمل کردیتاہے جو اعضاء تناسل میں شہوانی جذبات بھڑکاتا ہے۔اس سے مرد کا آلہ تناسل سکڑ جاتا ہے۔اور وہ اپنی بیوی سے جماع کے قابل نہیں رہتا۔جن کی یہ شیطانی حرکت اس وقت عمل میں آتی ہےجب خاوند جماع کرنے کےلیے بالکل تیار ہوتاہے۔عین وقت پر وہ یہ حرکت کرکے اسے جماع سے عاجز کردیتا ہے۔
  • جولائی
2000
عبدالمالک سلفی
(دنیامیں سب سے قیمتی اثاثہ انسان کی عمر ہے۔اگر انسان نے اس کو آخرت کی بھلائی کےلیے استعمال کیا ،تویہ تجارت اس کے لیے نہایت ہی مفید ہے۔اور اگر اسے فسق وفجور میں ضائع کردیا اور اسی حال میں دنیا سے چلا گیا تو یہ بہت بڑا نقصان ہے وہ شخص دانش مند ہے جو اللہ تعالیٰ کے  حساب لینے سے پہلے پہلے اپنے آپ کا محاسبہ کرلے اور اپنے گناہوں سے ڈر جائے قبل اس کہ کے وہ گناہ ہی اسے ہلاک اور  تباہ وبرباد کردیں۔
زیر نظر مضمون میں بڑے خاتمہ کے اسباب کاتذکرہ  پیش خدمت ہے۔یہ موضوع مسلمانوں کے لیے نہایت اہم ہے کیونکہ اعمال کادارومدارخاتمہ پر ہے اور انسان جس حالت میں زندگی بسر کرتا ہے اسی حالت میں اس کی موت واقع ہوتی ہے۔ اور جس حالت میں انسان کی موت واقع ہوگی اسی حالت میں وہ قیامت کے دن قبر سے اٹھایا جائے گا۔حضرت  رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم   نے فرمایا:
"مَنْ مَاتَ عَلَى شَيْءٍ بَعَثَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ" (رواہ الحاکم)
  • جولائی
2000
عطاء اللہ صدیقی
سیکولر ازم کا مفہوم
گذشتہ پانچ صدیوں کے دوران مغرب کی سیاسی فکر میں اہم ترین تبدیلی ریاستی (لفظ مٹا ہوا ہے)سے مذہب کی عملا بے دخلی ہے،یہی امر سیکولر یورپ کا اہم ترین فکری،کارنامہ،بھی سمجھا جاتا ہے۔اس بات سے قطع  نظر۔۔۔کہ جدید یورپ میں کلیسا کے خلاف شدید رد عمل کے  فکری اسباب کیاتھے اور کلیسا اور ریاست کے درمیان ایک طویل محاذ آرائی بالآخر موخرالذکر کی کامل فتح پر کیونکرمنتج ہوئی۔۔۔بیسوی صدی کے وسط میں استعماری یورپ کی سیاسی غلامی سے آزاد ہونے والی مسلمان ر یاستوں میں بھی یہ سوال بڑے شدومد سے زیربحث لایا گیا کہ مذہب کا ریاستی امور کی انجام دہی میں کیا کردار ہوناچاہیے۔مسلمان ملکوں کاجدید دانشور طبقہ جس کی سیاسی فکر کی تمام تر آبیاری مغرب کے فکری سرچشموں سے ہوئی تھی مسلمانوں کی ریاست میں اسلامی شریعت کو ایک سپریم قانون کی حیثیت دینے کوتیار نہ تھا،مذہب کے متعلق اپنے مخصوص ذہنی تحفظات کی وجہ سے وہ اسلام کومحض مسلمانوں کی انفرادی یا شخصی زندگی تک محدود دیکھنے کا خواہشمند تھا۔وہ اسلام اور ریاست کے باہمی تعلق کو بھی مسیحی مغرب کے کلیسا اور ریاست کے تصادم کے تناظر میں بیان کرنے پر مصر تھا۔
  • جولائی
2000
عبدالرشید عراقی
مولانا عبدالرحمٰن مبارکپوری بن مولانا حافظ عبدالرحیم مبارکپوری محدث جید عالم فقیہ اور مفتی تھے علم حدیث میں تبحر و امامت کا درجہ رکھتے تھے ۔روایت کے ساتھ روایت کے ماہر اور جملہ علوم آلیہ و عالیہ میں یگانہ روزگارتھے قوت حافظہ بھی خداداد تھی حدیث اور متعلقات حدیث پر ان کی نظر وسیع تھی۔مولانا سید عبد الحی حسنی (م1341ھ)لکھتے ہیں ۔
كان ﻣﺘﻀﻠﱢﻌﺎً ﻓﻲ ﻋﻠﻮم اﻟﺤﺪﻳﺚ. ،. ﻣﺘﻤﻴﱢﺰاً. ﺑﻤﻌﺮﻓﺔ أﻧﻮاﻋﻪ وﻋﻠﻠﻪ. ،. وﻛﺎن ﻟﻪ ﻛﻌﺐ ﻋﺎل ﻓﻲ ﻣﻌﺮﻓﺔ أﺳﻤﺎء اﻟﺮﺟﺎل. فن جرح وتعدیل وطبقات المحدثين وتخرج الاحاديث(1)
"علم حدیث میں تبحر علمی کا درجہ رکھتے تھے اور معرفت حدیث انواع حدیث وعلل میں ان کی نظروسیع تھی اسماء الرجال اور جرح و تعدیل طبقات محدثین اور تخریج احادیث  میں ان کو کمال حاصل تھا۔
مولانا براہ راست عامل بالحدیث تھے صفات باری تعالیٰ کے سلسلے میں ماوردبہ الکتاب والسنۃ پر ایمان رکھتے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کو علم و عمل سے بھر پورنواز اتھا ۔مدت ذہین ذکاوت طبع اور کثرت مطالعہ کے اوصاف و کمالات نے آپ کو جامع شخصیت بنا دیا تھا (2)صاحب نزہۃ الخواطر نے ان کو علمائے ربانیین میں شمار کیا ہے(3)مولانا ابو یحییٰ امام خان نو شہروی (1966ء)لکھتے ہیں کہ۔
  • جولائی
2000
عبدالرؤف ظفر
محترم و مکرم جناب حافظ حسن مدنی صاحب ،مدیر معاون ،السلام علیکم!

جون کے محدث میں آپ نے میرامضمون شائع کیا ہے جس پر تبصرہ کرتے ہوئے ص56پر آپ نے "سیکولرازم کے فتنہ اباحیت کا شکار"کے الفاظ استعمال کئے ہیں جن کی وجہ سے میں نے اپنا مضمون بہت غورو فکر سے کئی مرتبہ پڑھا لیکن باوجود کوشش کے اس مفہوم کوتلاش کرنے میں کامیاب نہ ہوسکا بلکہ مجھے تو اس میں سیکولرازم کی مکمل نفی نظر آئی ۔آپ کی دوبارہ توجہ اور غور کے لیے اپنے مضمون کے چند اقتباسات نقل کرتا ہوں ۔مضمون کے آخری تین چار صفحات جو ابھی شائع نہیں ہوئے میں جدید اطراز حکومت سے استفادہ کی باتیں لکھ کر میں نے تحریر کیا تھا کہ: