1۔دوسری شادی کے لیے پہلی بیوی سے اجازت؟
2۔مسئلہ رضاعت؟
3۔طلاق کے بجائے کسی دوسرے لفظ سے طلاق ہوجاتی ہے؟

سوال۔میری شادی ام کلثوم سے 1971ء میں ہوئی جبکہ حق مہر صرف بتیس روپے مقرر ہوا۔گھریلو اختلافات کی وجہ سے میں نے 1986ء میں ایک طلاق دے دی تھی۔پھر کوئی طلاق نہ دی۔اس کے بطن سے ایک بچی بھی ہے۔چند  سال بعد 1990ء میں ،میں نے دوسری شادی کرلی۔تقریباً چھ سال بعد 1992ء میں ام کلثوم سے میں نے دوبارہ نکاح کرلیا۔آیا یہ شرعاً جائز تھا،کیا اس میں حلالہ کی ضرورت تھی یا نہیں؟(محمد گلزار،لاہور)
جواب۔اس شکل میں طلاق  رجعی کی صورت میں  علیحدگی ہوئی تھی جس کا مفہوم یہ ہے کہ عدت کے اندرشوہر رجوع کرسکتا ہے۔اور عدت گزرنے کی صورت میں د وبارہ نکاح بھی ہوسکتا ہے۔چنانچہ بالفعل دوبارہ ام کلثوم سے نکاح ہوگیا ہے جو درست فعل ہے۔اس امر کی واضح دلیل حضرت معقل بن یسار کی ہمشیرہ کا قصہ ہے۔اس کے شوہر نے طلاق دے کر دوبارہ عدت کے بعد نکاح کرنا چاہا تو معقل درمیان میں رکاوٹ بن گئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی(فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ) شرعی امر کی بناپر وہ دوبارہ نکاح کرنے کے لیے تیار ہوگئے فرمایا:
الآن أفعل يا رسول الله ، قال: فزوجها إياه.
 (صحیح بخاری باب من قال لا نکاح الا بولی)
سوال۔1961ء میں مسلم عائلی قوانین دفعہ 6(5) کے تحت بیوی کی اجازت کے بغیر دوسری شادی کرنا خلاف قانون ہے۔مسلم عائلی قوانین میں یہ شق درج ہے۔کہ کوئی بھی دفعہ جو اسلامی قوانین کے خلاف ہوگی،اسے منسوخ سمجھا جائے گا۔کیا دوسری شادی کے لیے پہلی بیوی سے اجازت لینا اسلامی قانون کے مطابق ہے یا شرع محمدی صلی اللہ علیہ وسلم  کے خلاف ہے۔قرآن وحدیث کی  روشنی میں فتویٰ صادر فرمایا جائے کہ کیا پہلی بیوی کی اجازت کے بغیر  دوسری شادی کرنے والے مرد  کو پاکستان کی کسی عدالت کا سزا  دینا خلاف شرع ہے؟(محمد گلزار،لاہور)
جواب:دوسری عورت سے نکاح کرنے کے لیے پہلی بیوی سے باقاعدہ اجازت حاصل کرنے کا اسلامی شریعت میں  تصور  پایا نہیں جاتا۔عدل وانصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے بیک وقت مرد اپنے نکاح میں چار تک بیویاں رکھ سکتا ہے۔یہ حق مسلمان کو شریعت کی طرف سے  تفویض کردہ ہے۔جس میں وہ بیوی وغیرہ کی اجازت کا محتاج نہیں۔اسلامی تاریخ میں کوئی ایک بھی مثال نہیں ملتی کہ کبھی کسی مرد نے دوسرے نکاح کے لیے پہلی بیوی سے اجازت طلب کی ہو جبکہ مسلمانوں میں شروع سے ہی کثرت ازواج کا سلسلہ قائم ودائم ہے،بالخصوص عرب علاقوں میں جہاں شریعت کو فوقیت حاصل ہے۔بالفرض پہلی بیوی کی اجازت سے نکاح کرکے مرد اپنی پہلی بیوی کو ہی کسی وجہ سے  طلاق دے دیتا ہے۔ تو پہلی بیوی کی اجازت کی حیثیت کیا رہی۔واضح ہو شریعت کے قوانین تار عنکبوت کے بجائے ٹھوس بنیادوں پر قائم ہیں جن کو دنیاوی کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا بلکہ ان کے سامنے اپنے آپ کو جھکانا ہی سلامتی کی راہ ہے۔
جب دوسرے نکاح کے لیے اسلام میں اجازت کاتصور پایا نہیں جاتا  تو اس کو مستوجب سزا قرار دینادانشمندانہ نہیں۔پاکستان میں عہد ایوبی میں جب عائلی قوانین نافذ ہوئے تھے،اس وقت بھی کبار علماء نے ان کے خلاف احتجاج کیا تھا جو تاریخ کا حصہ ہے۔افسوس کہ آج تک کسی حکومت کو ان کی اصلاح کی  توفیق نہ مل سکی۔
سوال۔ایک لڑکی نے بچپن میں اپنی نانی کادودھ پیا  تھا،کیفیت یوں تھی کہ بچی کے رونے پر وہاں پر موجود لڑکی کی نانی نے اپنا دودھ بچی کے منہ میں ڈال دیا۔بچی نے دودھ پی کرقے کردی۔اس کے بعد بچی کا منہ انگلی سے اندر سے بھی صاف کردیا۔اس صورت میں لڑکی کی شادی اس کے خالہ زاد سے ہوسکتی ہے؟جبکہ دودھ پینے کی صورت میں دونوں کا رشتہ خالہ بھانجے کا بنتا ہے۔(ارشد جاوید،لاہور)
جواب:۔اس صورت میں راجح مسلک کے مطابق حرمت  رضاعت ثابت نہیں ہوتی کیونکہ کم از کم پانچ دفعہ دودھ پینے سے حرمت ثابت ہوتی ہے۔صحیح مسلم وغیرہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   سے روایت میں اس امر کی تصریح موجود ہے لہذا مذکورہ صورت میں نکاح ہوسکتا ہے۔
سوال۔کسی شخص کا اپنی بیوی کو چند افراد کی موجودگی میں یہ کہنا کہ میں نے تمھیں چھوڑ دیا ہے،کیا طلاق کے زمرے میں آتاہے؟جبکہ بعد ازاں وہ شخص یہ کہتا رہے کہ میں نے  تمھیں ساری زندگی تنگ کرنا ہے اور تمھیں طلاق نہیں دینی۔اس صورت میں عورت کے لیے کیا حکم ہے؟(کنیز فاطمہ،گلبرگ لاہور)
جواب۔خاوند کا بیوی کو یہ کہنا کہ میں نے اس کو چھوڑ دیا ہے ،بعینہ طلاق ہے ،بعد میں پھر جو یہ کہا کہ میں نے اس کو طلاق نہیں دینی،یہ اس کی بےوقوفی ہے کیونکہ طلاق کا مطلب عورت کو چھوڑ دینا ہے۔سو مذکورہ الفاظ سے مقصود حاصل ہے۔قرآن میں ہے کہ"اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  اپنی بیویوں کو کہہ دیں،اگر تم دنیا کی زندگانی اور اس کی زینت چاہتی ہو توآؤمیں تمھیں چھوڑ دوں،چھوڑنا اچھا"(سورۃ الاحزاب:28)
یہ آیت ازواج مطہرات کو طلاق دینے کی بارے  میں اتری ہے۔مگر طلاق کی بجائے چھوڑنے کا لفظ استعمال کیا ہے۔اس سے معلوم  ہوا کہ کوئی بھی ایسا لفظ جس کا مطلب چھوڑنا ہو،اس سے طلاق واقع ہوجائےگی۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے عہد خلافت میں ایک شخص نے اپنی بیوی چھوڑنے کی نیت سے  حبلك علي غاربك کہہ دیا کہ "تیری رسی تیرے کندھے پر"تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  اور حضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے اس کے متعلق یہی  فتویٰ دیاکہ  تیری عورت تجھ سے جدا ہوگئی۔۔۔لہذا مذکورہ بالا صورت میں عورت شوہر کی زوجیت سے آزاد ہے،عدت گزار کر جہاں چاہے باجازت ولی نکاح کرسکتی ہے۔
سوال۔ہر  رکعت میں تعوذ  پڑھنا مسنون ہے یا صرف پہلی رکعت میں ہی اور باقی میں صرف بسم اللہ ہی شروع کردیں،اسی طرح ہر تشہد میں درود اوردعائیں پڑھنا مسنون ہے یا صرف آخری  تشہد میں ہی؟
جواب۔علامہ ابن قیم  رحمۃ اللہ علیہ   فرماتے ہیں کہ صحیح حدیث کی بناء پر زیادہ واضح بات تو یہ ہے کہ  تعوذ صرف ایک دفعہ  پڑھی جائے۔حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے مرفوعاً مروی ہے:
"إِذَا نَهَضَ مِنَ الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ ، اسْتَفْتَحَ الْقِرَاءَةَ بِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ، وَلَمْ يَسْكُتْ "(61/1)"نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  جب دوسری  رکعت میں اٹھتے تو خاموش ہوئے بغیر فوراً قراءت شروع کردیتے"
تشہد اول میں حدیثفَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ ؟ سے عموم کی بناءپر درود پڑھنے کا تو جواز ہے۔لیکن عمومی وبائیں آخری تشہد میں ہی پڑھنی چاہئیں۔رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے(رواہ الجماعۃ البخاری والترمذی بحوالہ منتقیٰ)"جب ایک تمہارا تشہد اخیرین سے فارغ ہو تو چار چیزوں سے پناہ مانگے۔۔۔الخ"