ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

آن لائن مطالعہ
  • جون
2000
عبدالرحمن عزیز
محمد رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی حیات  طیبہ پر متعدد اور بسیط کتب منصہ شہود پر آئیں جن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی حیات مبارکہ کے قیمتی لمحات کو ذکر کیا گیا۔لیکن اختصاراً کوئی رسالہ راقم السطور کی نظر نہیں گزرا جس میں صادق مصدوق حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم  کے لیل ونہار کو تاریخ وارثبت کیا گیا ہو۔
ذیل میں انتہائی تتبع اور تحقیق وجستجو کے ساتھ چند سطور پیش خدمت ہیں۔بعض مقامات پر وفود سرایا میں تقدیم وتاخیر اور تاریخی اختلاف مجھے درستگی کے قریب معلوم ہوئی صرف اسی کاہی اندارج کیا گیا ہے۔مزید تحقیق اور اطمینان کے لیےا صل کتب مراجع کی طرف  رجوع کریں۔
  • جون
2000
حافظ ثناء اللہ مدنی
سوال۔میری شادی ام کلثوم سے 1971ء میں ہوئی جبکہ حق مہر صرف بتیس روپے مقرر ہوا۔گھریلو اختلافات کی وجہ سے میں نے 1986ء میں ایک طلاق دے دی تھی۔پھر کوئی طلاق نہ دی۔اس کے بطن سے ایک بچی بھی ہے۔چند  سال بعد 1990ء میں ،میں نے دوسری شادی کرلی۔تقریباً چھ سال بعد 1992ء میں ام کلثوم سے میں نے دوبارہ نکاح کرلیا۔آیا یہ شرعاً جائز تھا،کیا اس میں حلالہ کی ضرورت تھی یا نہیں؟(محمد گلزار،لاہور)
جواب۔اس شکل میں طلاق  رجعی کی صورت میں  علیحدگی ہوئی تھی جس کا مفہوم یہ ہے کہ عدت کے اندرشوہر رجوع کرسکتا ہے۔اور عدت گزرنے کی صورت میں د وبارہ نکاح بھی ہوسکتا ہے۔چنانچہ بالفعل دوبارہ ام کلثوم سے نکاح ہوگیا ہے جو درست فعل ہے۔اس امر کی واضح دلیل حضرت معقل بن یسار کی ہمشیرہ کا قصہ ہے۔اس کے شوہر نے طلاق دے کر دوبارہ عدت کے بعد نکاح کرنا چاہا تو معقل درمیان میں رکاوٹ بن گئے
  • جون
2000
ادارہ
دینی جماعتوں ،شمع رسالت کے پروانوں اور حکومت کے درمیان بڑھتا ہوا تصادم فوری طورپر ٹل گیا ہے 16/مئی 2000ءکو جنرل پرویز مشرف نے ترکمانستان کے دورہ سے واپسی پر قانون تو ہین رسالت (295۔سی)کے تحت FIRدرج کرانے کے پرانے طریقے کو بحال کرنے کا اعلان کیا۔17/مئی کے تمام اردو اخبارات نے ماسوائے ایک کثیر الاشاعت روزنامے کے، اس اعلان کو شہ سرخی کی شکل میں شائع کیا۔جنرل پرویز مشرف نے اعلان کیا کہ
"حکومت نے توہین رسالت ایکٹ میں کوئی ترمیم نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔مجھے یہ بتایا گیا ہے کہ علماء کرام ومشائخ عظام متفقہ طور پر چاہتے ہیں کہ ایف آئی آر براہ راست ایس ایچ او کےپاس درج ہو۔ انھوں نے کہاکہ مجھے ان سب کا احترام ہے اور اس سے بڑھ کر عوام بھی یہی چاہتے ہیں کہ ایف آئی آر کے طریقہ کارمیں تبدیلی نہ ہو۔ میں نے فیصلہ کیا کہ تمام کا یہی فیصلہ ہے کہ اب بھی ایس ایچ اوکے پاس ہی براہ راست ایف آئی آر درج ہو سکے۔