جہادی ردّ عمل اور عوامی رویے
امریکہ دنیا کی بڑی عسکری طاقت ہے۔ گذشتہ صدی کی دو عظیم جنگوں سے بچے رہنے اور بعد کی کئی دہائیوں تک روس سے سرد جنگ میں نبرد آزما رہنے کے بعد ، جب مجاہدینِ اسلام کی کوششوں سے امریکہ کو دنیا میں برتر فوجی قوت بننے کا مقام حاصل ہوا تو اس کی عسکری صنعت اور رجحان، انٹیلی جنس ایجنسیوں کی صلاحیت ِکار، عالمی اداروں میں اثر و رسوخ اور سفارتکاری کی صلاحیتوں کو ایک نیا شکار تراشنا لازمی تھا۔ یہ شکار اس لئے بھی ضروری تھا کہ ایک عظیم فوج کو اگر کسی اہم بیرونی مشن میں مصروف نہ کیا جاتا اور'ریاستہائے متحدہ امریکہ' کے نام سے ایک براعظم پر پھیلی 52 ریاستوں کو ایک واضح دشمن (چاہےوہ خودساختہ کیوں نہ ہو) کی طرف یکسو نہ کیا جاتا تو امریکہ کی داخلی سلامتی اور باہمی اتحاد ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتا۔
امریکہ کا مجوزہ شکار اگر ترقی یافتہ ممالک بنتےتو ان سے عسکری و سفارتی برتری اور مادی فوائد کا حصول کافی مشکل ہوتا۔اس مقصد کےلئے امریکہ نے اپنی توجہ ملت ِاسلامیہ کی طرف کی ، جسے اللہ تعالیٰ نے دنیا کے بہترین خطوں اور لامتناہی خزانوں کا مالک بنایا ہے۔ عالمی سیاست میں 1990ء کے قریب یہ وہ ٹرننگ پوائنٹ تھا جس کے بعد عالم اسلام کو بارِدیگر شکار بنانے کی سازشوں کا آغاز کیا گیا۔یاد رہے کہ 1990ء سے پہلے کی کئی دہائیوں میں ملت ِاسلامیہ براہِ راست کفر کے مدمقابل یا حریف نہیں رہی اور یہ اُن کے لئے قدرے عافیت کے سال ہیں، لیکن اس کے بعد کے سالوں میں آہستہ آہستہ عالم اسلام کے گرد عالمی سازشوں کا گھیرا تنگ کیا جاتا رہا۔ خلیج کی دو جنگوں کے بعد، جن میں بظاہر تو دو مسلم ریاستوں کو آپس میں برسرپیکار دکھایا گیا ، لیکن درپردہ امریکہ ایک ریاست کی تائید سے دوسری مسلم ریاست پر بمباری کرتا رہا، حتیٰ کہ پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کے بعد تو امریکہ نےنائن الیون کے نام پر براہِ راست اس خطہ میں قدم جمالئے ۔پھر عراق کی جنگ ہو یا مصر و لیبیا کی خانہ جنگی، ہرجگہ امریکہ جنگی جنون کو بڑھانے، دوسروں پر قبضہ جمانے، ان کے وسائل ہتھیانے اور ان پر ہلاکت مسلط کرنےکے نت نئے بہانے تلاش کرتا رہا ہے۔ان سالوں میں سوڈان اور صومالیہ میں بھی امریکی افواج جارحیت کرتی نظر آتی ہیں ۔پاکستان کے ایٹمی قوت ہونے کے ناطے امریکہ نے پاکستان میں براہِ راست جنگ کا خطرہ مول لینے کی بجائے، جنوبی علاقہ جات کو اپنا شکار بنانے اور پاکستان کو خانہ جنگی کا شکار کرنے کی حکمت ِعملی اپنا کر حالت ِجنگ میں مبتلا کیا ہوا ہے۔ ملت ِاسلامیہ سے نبرد آزما ہونے اور ان کے وسائل ہتھیانے کی سازشوں کا امریکہ کو بھی پوری طرح احساس ہے لیکن ہر ایسے حساس موقع پر وہ بڑی وضاحت سے اپنے اس عزم کی تردید کرکے مسلمانوں کو مغالطہ دینے کی کوشش کرتا آیا ہے، جیساکہ صدر اوبامہ کا خطاب ِقاہرہ ہو یا حالیہ اُسامہ بن لادن کی شہادت کے بعد اس کے بیانات، ہر جگہ وہ ملت کو یہ دھوکہ دینے کی کوشش کرتا نظر آتا ہے۔ حالانکہ گذشتہ 20 برس کے امریکی اقدامات کو دیکھا جائے تومعمولی عقل رکھنے والا فرد بھی اس بھول میں مبتلا نہیں رہ سکتا...!!
ملت ِاسلامیہ کے مرکز کا معدوم ہونا
دوسری طرف یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ وہ ملت ِاسلامیہ یا عالم اسلام جس پر وقت کی سب سے بڑی فوجی قوت اپنے تما م لاؤ لشکر کے ساتھ کئی سالوں سے حملہ آور ہےاور ہلاکت وبربریت کی سیاہ تاریخ رقم کررہی ہے، اس ملت ِاسلامیہ کے ظاہری مصداقات تو موجود ہیں لیکن اس کے مرکز وقیادت کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں جو عالم اسلام کے منتشر عناصر کی شیرازہ بندی کرکے اس ظلم کے انسداد کے لئے کوئی جامع منصوبہ بندی کرے۔ ملت ِاسلامیہ 'وطنی ریاستوں' سے بڑھ کر ایک نظریاتی اجتماعیت کا نام ہے، جو اسلام کا کلمہ پڑھنے والوں پر مشتمل ہے۔ ظاہر ہے کہ کسی نظریاتی اجتماعیت کی قیادت بھی اس کے نظریے سے ہی پھوٹتی ہے۔ملت ِاسلامیہ کی سیاسی اجتماعیت خلیفہ اور خلافت کے ادارے کی متقاضی ہے جبکہ جمہوری نظام وطنی ریاست کے تصور سے پیدا ہوتا ہے۔آج مسلم اُمّہ مظالم کا شکار اور غیروں کے ستم کانشانہ تو ہے لیکن اس کی جمعیت کا کوئی مرکز نہیں جو اس تشخص کو تقویت دینے، منظّم کرنے اور جوابی حکمت ِعملی تیار کرنے کی منصوبہ بندی کرے۔ او آئی سی کے نام سے مسلم ممالک کا انتہائی سست پلیٹ فارم بھی ملت ِاسلامیہ کی نمائندگی کے بجائے درحقیقت مسلمانوں کی وطنی ریاستوںNational States کے حکمرانوں پر مشتمل ہے جو پھر ملت کے وجود کی بجائے اپنے ارزاں قومی اور وطنی مفادات سے آگے نہیں بڑھ پاتا۔ خلافت کے مرکز کا معدوم ہونا وہ بنیادی وجہ ہے کہ ہر مسلم قوم کا حکمران اگر اپنی قوم سے مخلص ہو تو اپنی ریاست کی حد تک ہی کوششیں کرتا نظر آتا ہے، لیکن اسلام اور اہل اسلام کا مفاد نہ تو کسی ریاست کا موضوع ہیں بلکہ مسلم خطوں کی حکومتیں اسلامی تشخص سے بدکتے ہوئے، کبھی عربی تشخص میں پناہ لیتی ہیں تو کبھی خالص علاقائی تعصّب میں۔ ملت ِاسلامیہ کو درپیش یہ خطرناک جارحیتیں آج خلافت کی ضرورت کو پکار پکار کر آواز دے رہی ہے اور جب تک ایسا کوئی حقیقی مرکز فعّال نہ ہوگا، اس وقت تک مسلم اُمّہ اپنے مسائل کے گرداب سے باہر نہیں نکل سکتی، بالخصوص ایسے دور میں جب چھوٹے سے چھوٹے مقصد کے لئے باضابطہ تنظیمی وادارہ جاتی تقاضے بہت بڑھ چکے ہیں اور اُمتِ مسلمہ کو جن اقوام سے واسطہ پیش آرہا ہے، وہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے نام پر کبھی 52 ریاستوں پرمشتمل وفاق میں اپنی سیاسی وعسکری قوت کو متحد ومتفق کئے ہوئے ہیں تو کبھی یورپی اقوام : یورپی یونین، یورو کرنسی یا جی 8 ممالک کے نام پر مشترکہ اور وسیع تر اتحاد کی قوت سے اس کے خلاف نبرد آزما ہیں۔
دوسری طرف یہ بھی ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ ملت ِاسلامیہ کے تنظیمی وانتظامی مرکز سے قطع نظر، اسلام کی نام لیوا دنیا کی ایک چوتھائی آبادی، عوامی سطح پر اسلامی تقاضوں کے عین مطابق ایک دوسرے سے بڑی گہرائی کے ساتھ مربوط ومنسلک ہے۔مختلف ممالک میں بٹے ہوئے مسلمان اسلام کےباہمی گہرے رشتے کی وجہ سے دوسرے مسلمان ممالک کے عوام کے درد کو اپنے سینے پرآنے والےزخم کی طرح محسوس کرتے ہیں۔ مسلم علاقوں میں بظاہر جزوی فرقہ وارانہ اختلافات سے قطع نظر جنہیں وطنی ریاستیں مسلم کاز کو کمزور کرنے اور اپنے مفادات کے لئے مزید ہوا دیتی رہتی ہیں، دنیا بھر میں پائی جانے والی مسلم اقلیتیں ایک دوسرے سے نظریے کے گہرے رشتے میں پروئی ہوئی ہیں۔ مغربی ممالک میں اسلامی ثقافت کے خلاف پائی جانے والی شدید حالیہ لہر کی وجہ بھی مختلف وطنوں سے آ نے والے مسلمانوں کا آپس میں اسلام کے رشتے میں پوری شدت سے جڑ جانا ہے، جس کا کوئی حل مغربی تہذیب کے پاس نہیں ہے۔ غرض اسلامی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے دنیا کی دیگر تمام اقوام سے کہیں زیادہ ملت ِاسلامیہ کے ایک متحد ومجتمع جمعیت بننے کے امکان قوی ہیں، جنہیں عالمی استعمارمسلسل حیلے وتدابیر سے ٹالنے کی پیہم کوشش کرتا چلاآرہا ہے۔جس دن ظاہری رکاوٹیں ختم ہوئیں اور ملت کو کوئی حقیقی مرکز مل گیا، تو ملتِ اسلامیہ ماضی کی طرح پھر دنیا کی عظیم الشان خلافت ِاسلامیہ ہوگی۔ ملت ِاسلامیہ کے عرب ممالک میں پایا جانے والا حالیہ شدید اضطراب اس امر کا غماز ہے کہ اگر اُن کے سیاسی المیہ کا تدارک ہوجائے اور اُنہیں اسلام نافذ کرنے والی حکومتیں مل جائیں تو اُن کو اللہ کی عنایت سے حاصل شدہ عظیم الشان نظریاتی قوت، اور مادی وشخصی وسائل کے سامنے دنیا کی کوئی طاقت آج بھی دم مارنے کی سکت نہیں رکھتی اور اس طرح ملت کا زوال چند سالوں میں عروج میں بدل سکتا ہے۔
اوپر پیش کردہ مختصرمنظرنامے اور گمبھیر حالات میں اُمّتِ مسلمہ میں جواباً کئی طرح کے رویے سامنے آتے ہیں اور یہی رویے ہمارا موضوع ہیں:
پہلا رویہ: مجاہدین کی شدت پسندی
جب ملت ِاسلامیہ کے کسی خطے پر کوئی جابر اورطالع آزما فوجی قوت اپنے پنجے گاڑنے کی منصوبہ بندی کرتی ہے تو ا س کے نتیجے میں ملت کے مخلص عناصر میں شدید ہیجان پیدا ہوتا ہے۔ مسلم نوجوانوں میں جو خلوص کے ساتھ زورِ بازوبھی رکھتے ہیں، اس کے خلاف شدید جذبات پروان چڑھتے ہیں۔ اگر ہم براہِ راست چندسالہ واقعات کا جائزہ لیں تو 1990ء کے بعد اسلام کو تختۂ مشق بنانے والا امریکہ کبھی دو مسلم ممالک میں پھوٹ ڈال کر؛ ایک کو لالچ دےکر، دوسرے ملک میں اڈّے بنا بیٹھتا ہے جیسا کہ پہلی خلیج جنگ میں ہوا؛ کبھی اسلامی تہذیب کو چیلنج باور کراکے مقابل ملک پر دہشت گردی کا بے بنیاد الزام لگا کر، اس ملک میں آن دھمکتاہے، جیسا کہ افغانستان میں ہوا؛ کبھی پابندیاں عائد کرکے اور کیمیائی ہتھیاروں کی تیاری کا جھوٹا الزام عائد کرکے اس ملک کے تیل کی دولت پر ہاتھ صاف کرنے کے لئے جنگ کو مسلط کردیتا ہے جیسا کہ عراق میں ہوا؛ کبھی ڈرادھمکا کر، اورکبھی 8 ارب ڈالرکا لالچ دے کر،بے گناہوں پر ڈرون حملے کرکےاوردہشت گردوں کو خرید کر ملک میں نظریاتی جنگ مسلط کرکےپوری قوم کو دو حصوں میں بانٹ دیتا اور اس کی خود مختاری پر آئے روز کاری وار کرتا ہے، جیسا کہ پاکستان میں ہورہا ہے اور کبھی مالی مفادات کے لئے نیٹو کے نام پر کسی آزاد قوم کو سبق سکھانے چل نکلتاہے،جیسا کہ لیبیا میں ہورہا ہے۔ امریکہ کی یہ رعونت،تکبرونخوت، لوٹ کھسوٹ اور منافقت وچالبازی اب ایک ایسی حقیقت بن چکی ہے جس کے لئے دلائل کا طومار باندھنے کی ضرورت نہیں۔ ان حالات میں اُصولاً توان ممالک کی سیاسی قیادتوں کوسامنا کرکےقومی وملّی مفادات کا پورا تحفظ کرنا چاہئےلیکن جب وہ قیادتیں ذاتی کمزوری، مصلحت پسندی، مفاد پرستی یا ایمان فروشی کا شکار ہوکرملت کے خلاف ظلم میں امریکہ کے ساتھ کھڑی ہوجاتی ہیں توایسی صورتحال میں بعض مخلص نوجوان اپنی حکومتوں سے ناراض ہوکرخود امریکہ کے خلاف علم جہاد تھامنے کے سوا کوئی چارہ نہیں پاتے۔ان مسلم نوجوانوں کے امریکہ کے خلاف یہ اندیشے غلط نہیں کہ امریکہ ان ممالک میں مستقل عسکری اڈّے بنا کر ان کو کنٹرول کرنا اور مالی مفادات حاصل کرنا چاہتا ہے۔ بلکہ حالات نے ثابت کردیا ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے امریکہ کا ساتھ دے کر اُسے اپنے ممالک میں گھسنے کی ناروا اجازت دی ہے جس کا خمیازہ یہ ملک اور ان کے مسلم عوام آج بری طرح بھگت رہے ہیں۔ حکومتوں کی مفاد پرستی اور امریکہ کی دخل اندازیوں اور ظلم وبربریت کے خلاف جب یہ نوجوان خود علم جہاد تھامتے ہیں تو علاقائی مسلم حکومتوں سمیت امریکہ کی قیادت میں عالمی استعمار ان کے خلاف متحد ہوجاتا ہے۔
اُسامہ بن لادن ہو، ایمن ظواہری ہویا ابومصعب زرقاوی او ردیگر مخلص نوجوان، یہ تمام وہ لوگ ہیں جو کفر یا امریکہ کے ظلم وستم کے خلاف میدانِ عمل میں نکلے اور اس کے لئے اُنہوں نے عیش وعشرت اور جاہ وجلال کی زندگی چھوڑ کراپنا جان ومال سب کچھ اس مشن کی نذر کردیا۔ یہ لوگ دراصل امریکی ظلم کا ردّعمل ہیں، جنہیں بعد میں ملت کے دیگر عناصر سے بھی یہ شکوہ پیدا ہوا کہ وہ اُن کے خلوص میں اُن کا ساتھ کیوں نہیں دیتے اور امریکہ کے خلاف جوابی کاروائیوں میں ان کی مدد کیوں نہیں کرتے؟ ایسے نوجوانوں کے فکر وعمل کے تجزیے سے یہ بھی معلوم ہوگا کہ یہ لوگ ملتِ اسلامیہ کی ذلت وہزیمت پر شکستہ دل ہوکر میدانِ عمل میں آنے پر مجبور ہوئے۔ یاد رہے کہ ان میں دینی علوم سے زیادہ جدید مغربی علوم کو سیکھنے والے نوجوان نمایاں ہیں جنہوں نےامریکہ کی دراندازی ختم کرنے اور اسے کاری وار لگانے کے لئے قرآن وسنت کی بعض ظاہری نصوص کا بھی سہارا لیا۔
امریکہ کی عظیم عسکری قوت اور داخلی حکومتوں کی مخالفت کےعلیٰ الرغم، مناسب قوت موجود نہ ہونے کی بنا پر ان نوجونواں کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ اپنے مقابل کو کہیں کہیں نقصان پہنچا سکیں، اس لئے چھاپہ مار کاروائیوں اور دھماکہ خیز کاروائیوں کا راستہ اختیار کیا گیا جس میں اُنہیں شاذ ونادر کامیابی بھی حاصل ہوئی۔ یادرہے کہ یہ لوگ کسی ایک مقام ومرکز سے پیدا نہیں ہوئے بلکہ ہر ایسا مسلم خطہ جہاں ایسے امریکی مظالم سامنے آئے، وہاں ایسے نوجوان ردعمل اور اس کی تلافی کے طورپرسامنےآتے رہے۔
ان نوجوانوں نے عالمی استعمار کے خلاف مجوزہ ردعمل کو تقویت دینے کے لئے بعض نظریات بھی پیش کئے اور ان کو فروغ دینے کی بھی کوشش کی لیکن اُمت کے معتمد علما اور باشعور عوام میں اُن کا موقف مقبولیت حاصل نہ کرسکا اور ان کے شرعی استدلال کو اکثر وبیشتر ہدفِ تنقید ہی بنایا گیا، اُمت کے غم میں اُٹھنے والے ان دردمندوں نے احتجاج کا جو رویہ اختیار کیا، زمینی طورپر بھی اس کے نتائج مسلم اُمّہ کے حق میں نہ نکلے اور اُن کا یہ کردار عملاً اُمت پر مزید ظلم کا جواز بنتا رہا۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ ان نوجوان مجاہدوں کے موقف کو غلط کہنے والوں کے پاس بھی ایسی الم ناک صورتحال میں کوئی ایسا حل نہیں تھا جس سے ملت پر ہونے والی اس یلغار کا رخ موڑا جاسکے اور یہ ظلم آج بھی ایک تلخ حقیقت بن کر اُمت ِمحمدیہ پر مسلط ہے!
دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ امریکہ جو اس وقت مادی منفعتوں اور سیاسی ضرورتوں کی بنا پر مسلم اُمہ پر حملہ آور ہے، اس نے دنیا کو ان کے خلاف مجتمع کرنے اور اپنے عوام کی تائید حاصل کرنے کے لئے اُن کو ایک عظیم قوت بناکر پیش کیا۔ صہیونی میڈیا کے بل بوتے پر القاعدہ کی قوت کے قصے بڑھا چڑھا کر پیش کئے جاتے رہے تاکہ امریکہ کو اس کے نتیجے میں مسلم ممالک پر سنگین جارحیت کا جواز حاصل رہے۔ چند کردہ اقدامات کی بنا پر بہت سے ناکردہ گناہ بھی ان کے نام پر ڈال دیے گئے۔القاعدہ کے ذمے جو بڑی بڑی کاروائیاں منسوب کی گئیں، ان میں بہت سی ابلاغی مہارتیں استعمال کی گئیں۔ پہلے جھوٹ کو تکرار سے بولنے کی پالیسی پر عمل کیا جاتا تھا ، اب جھوٹ کو ہر سمت اور ہر چینل سے دہرانے کی حکمت ِعملی اختیار کی گئی۔ اس واضح جھوٹ کی مثال اُسامہ بن لادن کی حالیہ مبینہ شہادت ہے،جسے 2؍مئی کی رات کے وقوعے کے طورپرکوئی ذی شعورشخص ماننے کوتیار نہیں، لیکن دنیا بھر کا مین سٹریم میڈیا اس جھوٹ کو اس تکرار سے دہرا رہا ہے کہ لمحہ موجود کی گویا سب سے بڑی حقیقت یہی ہے۔یہی صورتحال نائن الیون کے حملے کی ہے، جس کا اُسامہ بن لادن نے کبھی اعتراف نہ کیا لیکن امریکہ نے اپنے تحقیقی اداروں کی رپورٹوں کے برعکس اور بے شمار مخالف حقائق کی موجودگی میں اِسے نہ صرف اُسامہ کے سر منڈھ دیا بلکہ کسی عدالتی کاروائی اور اثباتِ جرم کے بغیر اس کو خود ہی شہید بھی کردیا۔ حالانکہ طالبان کی حکومت کا10 برس قبل بھی یہی مطالبہ تھا کہ ''اگر اُسامہ نے نائن الیون کا دھماکہ کیا ہے تو اس کی دلیل پیش کریں، ہم خود اُسامہ کی حفاظت کی ذمہ داری سےدستبردار ہوجائیں گے۔''
دنیا بھر میں القاعدہ کی قوت کا بے انتہا مصنوعی شور مچایا جاتارہا۔ امریکہ کی ہی حالیہ رپورٹوں کے مطابق اُسامہ اس کا متحرک قائد تھا، لیکن القاعدہ کی متحرک قیادت:اُسامہ بن لادن کے جہاں کئی سال رہنے کا دعوٰی کیا جاتا ہے ، اس گھر کے بجلی کے بل ایک معمولی رہائش سے زیادہ نہیں تھے۔ کہا جاتا ہے کہ اُسامہ کی ایک کال نے اسے آخرکار شہادت سے ہم کنار کردیا۔ ایسا قائد جو نہ تو کسی سے ملے، نہ ہی اس کے ہیڈکوارٹر کے کوئی اخراجات ہوں، کسی سے اس کا رابطہ نہ ہو، اور1997ء سے اس کےگردے کام نہ کررہے ہوں،ہرہفتے ڈائیلاسز کرائے بغیر چارہ نہ ہو تو پھر اس کی متحرک قیادت اور ایک سپر قوت کے خلاف مؤثر مزاحمت کا کیا معنیٰ ہے، جس شدید مزاحمت کا چند منتشر دھماکوں کے علاوہ دنیا میں کوئی وجودہی نہیں ہے۔دنیا بھر کا میڈیا ان غاروں میں برسہا برس اُسامہ کی موجودگی پر مصر ہے جہاں زندگی کی بنیادی سہولیات بھی موجود نہیں۔اس صورتحال میں یہ مانے بغیر چارہ نہیں کہ کئی ایک دھماکے جو علاقائی دہشت گردوں نے حکومتوں کو دبانے کے لئے کئے، اُن کی ذمہ داری مغرب کی ہی خبررساں ایجنسیوں کی زبانی مطلوبہ تنظیم کے نام مشتہر کردی جاتی رہی۔الغرض امریکہ کی مشہورکردہ'القاعدہ' خود اسی کی رپورٹوں کی روشنی میں، نہ تو کوئی غیرمعمولی تنظیم نظرآتی ہے اور نہ ہی اس کا بڑا ہی خوفناک اور مہلک نیٹ ورک دکھائی دیتا ہے۔یہ سب کیا دھرا تو اس مین سٹریم میڈیا کا ہے جسے صہیونی ادارے خبروں کی خوراک فراہم کرتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ پنٹاگون میں چند سال قبل عسکری حکمتِ عملی کے ساتھ ساتھ ابلاغی جنگ کے لئے خطیر رقم سے باقاعدہ سنٹر قائم کیا گیا، جس کے ثمرات آج ہمارے سامنے ہیں ۔
امریکہ کی نظر میں 'القاعدہ' دراصل ہر اس رویے، جذبے اور کوشش کا نام ہے جو امریکہ کے جبر وتسلط کے خلا ف کسی بھی اسلام پسند کے دل میں پائی جاتی ہے، اور یہ القاعدہ کسی منصف مزاج غیرمسلم کے دل میں بھی پنپ سکتی ہے۔ اس تعبیر کے لحاظ سے القاعدہ واقعتاً ایک عظیم الشان تنظیم ہے، جوامریکہ کے ظلم وستم کے خلا ف ہر شخص کے دل میں انتقام کی آگ کی طرح بھڑک رہی ہے۔ لیکن امریکہ کی یہ خوش قسمتی ہے کہ اس القاعدہ نے ابھی تک کوئی تنظیمی ڈھانچہ اور منظم حکمت ِعملی اختیار نہیں کی۔
اُسامہ بن لادن اور اُن کے ہم نواؤں سے ہمارا شکوہ یہ ہے کہ اُنہوں نے نامساعد حالات کے باوجود امریکہ کو للکارا کیوں؟ اگر اُنہوں نے چند ایک حملے بھی کئے تو اس کے نتیجے میں آخرکار جوابی طور پرمسلمانوں کاہی زیادہ نقصان ہوا کیونکہ وہ ظالم کومظلوم ملت پر حملے سے روکنے کی استعداد سے محروم ہیں۔ہماری اُن سے شکایت یہ ہے کہ اپنی قوم کو تیار کرنے کی بجائے، ردعمل کے طورپر اُنہوں نے جوابی تشدد کا راستہ ہی کیوں اختیار کیا، چاہےانتہائی چھوٹے پیمانے پر ہی کیوں؟ لیکن ہماری ہمدردی کے وہ بہرحال اس بنا پر مستحق ٹھہرتے ہیں کہ اُنہوں نے پر ملت پرظلم وبربریت کرنے والے جارح امریکہ کے خلاف اپنے عیش وعشرت کی زندگی کو تج دیا، بالخصوص ایک ایسے وقت میں جبکہ ہمارے قومی حکمران ظالموں سے ذاتی مفادات کی سودے بازی میں مشغول تھے۔یہ درست ہے کہ ان کی اختیار کردہ حکمت ِعملی سے جواباً اہل اسلام پر ظلم میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی بلکہ ظالموں کو مشق ستم کرنے کا مزید موقع ملا، لیکن یہ ان کی حکمت ِعملی اور اندازے کی غلطی تھی جس کا مشاہدہ آج ہم محدود طورپر کرسکتے ہیں، مذکورہ بالا فردِ جرم کی بنا پر ملت کے اِن مدافعین کو اہل اسلام سے غیریت واجنبیت کا اور ظالموں کو محبت واپنائیت کا صلہ ملنا صریح ناانصافی ہے!!
غور وفکر کا مقام ہے کہ کیا مسلم اُمّہ اس قدر بانجھ ہوگئی ہے کہ ایک مسلّمہ ظالم کے ظلم کو للکارنے والے کا ساتھ دینے سے عاری ہونے کے بعد، وہ ان کے پرعزیمت کردار سے بھی لازماً اظہارِ برات ہی کرے۔ اگر کسی قوم میں آزادی کے یہ جذبات اور ظلم کے خلاف یہ مجاہدانہ پکار بھی ختم ہوجائے، یا اُسے بھی ختم کرنے کی دعوت دی جائے تو پھر یہ ذلت ورسوائی پر قناعت ، دراصل غیرت وحمیت کی موت ہے جو کسی طرح بھی کم مہلک نہیں۔ مظلوم کی یہ پکار تو ظالم کے خلاف اُمید کی ایک کرن ہے جس کا ساتھ دیا جاتا تو توازن کے بعد یہ روشنی کا مینار ثابت ہوتی۔
دوسرا رویہ: حکمرانوں کی تکفیر اور عوامی قتل وغارت
بعض لوگ مسلمانوں کے اِن جہادی خیالات رکھنے والوں کو ملت کا سنگین مسئلہ سمجھتے ہیں لیکن غور کیا جائے تویہ لوگ اُمت کا اثاثہ اور اس کےضمیر کی زندگی کا پتہ دیتے ہیں جو اپنے خلاف ہونے والی جارحیت کو قبول کرنے کی بجائے اس کے خلاف ڈٹ جاتے ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو القاعدہ جیسے خیالات رکھنے والے لوگ ملت ِاسلامیہ میں 1990ء سے پہلے نہیں ملتے۔ جب سے امریکہ نے مسلم ممالک میں مداخلت کا آغاز کیا ہے، تب سے مسلم نوجوانوں کا مزاحمتی گروہ القاعدہ کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ ماضی بعید میں بھی مسلمانوں میں یہ جہادی گروہ ہر مسلم خطے میں استعمار کے خلاف نبرد آزما رہے ہیں اور اُنہوں نے سامرا ج کے قدم روکنے کے لئے قربانیوں کی شاندار داستانیں رقم کیں جن میں برصغیر میں سید احمد شہید، شاہ اسمٰعیل شہید اور جماعت المجاہدین وغیرہ کا نام لیا جاسکتا ہے۔تاہم1890ء تا1990ء کی پوری صدی میں اس نوعیت1 کی جہادی تنظیمیں اس لئے زیادہ نہیں پائی جاتیں کہ وہ دور اہل کفر کی اسلام کے خلاف کھلم کھلا جارحیت کا نہیں بلکہ ایک طرف مغربی قوتیں آپس میں برسرپیکار تھیں تو دوسری طرف مسلمان ممالک ثقافتی یلغار کا سامنا کررہے تھے۔
پاکستان کی تحریکِ طالبان بھی ایک طرف سرحدی علاقہ جات میں ہونے والی امریکی جارحیت اور ظلم وبربریت کے خاتمےکے لئے وجود میں آئی تو دوسری طرف 2007ء میں لال مسجد کے سانحے کے بعد اس کی سرگرمیوں کا آغاز ہوا۔ طالبان کی مختلف قیادتوں کو دیکھا جائے یا سوات میں جاری مزاحمتی تحریک کو، ہر جگہ قیادت اُن لوگوں نے کی جن کے انتہائی قریبی عزیز ظالم کی گولی سے بے موت مارے گئے۔اس سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستانی طالبان میں کارفرما عناصر ہوں یا قبائلی علاقہ جات کے مجاہدین، ہمیشہ سے پاکستان میں موجود رہنے کے بعد کسی نے پرتشدد کاروائیوں کا سہارا نہیں لیا بلکہ جب اُن پر تشدد کیا گیا تو اُنہوں نے جوابی تشدد کو اختیار کیا۔اُمتِ اسلامیہ یا پاکستان کا اصل مسئلہ پرتشدد عناصر نہیں بلکہ اُن پر ہونے والی پہلی جارحیتیں ہیں اور اس سے جو براہِ راست متاثر ہوتے یا زیادہ حساس اور باغیرت ہوتے ہیں، وہ اُن کے اپنے تئیں تدارک کرنے یا اپنے غم وغصہ کو غلط کرنے کے لئے میدانِ عمل میں نکل آتے ہیں۔
مسلم ممالک میں پائی جانے والی حالیہ دہشت گردی کو دراصل امریکہ غذا فراہم کرتا ہے۔ امریکی عہدیداران آے روز کہتے ہیں کہ''پاکستان اس وقت دنیا کا خطرناک ترین خطہ ہے جو سب سے زیادہ دہشت گردی کا شکار ہے۔'' لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ دہشت گردی امریکہ کے اس خطے میں آنے کے بعد ہی شروع ہوئی اور امریکی ظلم کے خاتمے کے کچھ عرصے بعد ازخود ختم ہوجائے گی۔ افسوس اس حقیقت کو سمجھنے میں اہل پاکستان کے کئی سال صرف ہوئے اور اس میں ہزاروں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ان دونوں سے بڑھ کر اہل پاکستان کے نظریات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا گیا۔
امریکی ظلم وستم اور مسلمانوں کے مفاد پرست حکمرانوں کے مقابل بعض مسلم معاشروں میں حالیہ سالوں میں یہ رویہ بھی پروان چڑھتا نظر آتا ہے کہ جب ان ممالک میں امریکہ یا حکومت کی کھلم کھلا جارحیت بڑھتی ہے تو بعض متاثر نوجوان اُس کے مقابلے کی ٹھان لیتے ہیں۔امریکیوں کے خلاف اِقدام کے شرعی جوازکے لئے تو اُنہیں کوئی مشکل پیش نہیں آتی لیکن چونکہ ان کے خلاف یہ امریکی اقدام ان کے اپنے مسلم حکمرانوں کے ہاتھوں ہوتا ہے، اس لئے وہ سامنے نظر آنے والے اِن ہاتھوں سے نبرد آزما ہوجاتے ہیں اور اس کے لئے بعض اوقات اُن کی تکفیر کا سہار الیتے ہیں۔
نظریۂ تکفیر جس کی رو سے پہلے امریکہ کی حمایت میں اُن پر ظلم ڈھانے والے مسلمانوں کو کافر قرار دیا جاتا اور پھر ان کے خون کو حلال باور کیا جاتا ہے، یہ بھی مظلوم مسلمانوں کا جوابی ردعمل ہے اور اُسے بھی درست نہیں کہا جاسکتا۔پاکستان میں تحریکِ طالبان وغیرہ جہاں اپنے غم وغصہ کے لئے براہِ راست اپنے مقابل: افواجِ پاکستان اور ان کے مؤید عوام کو اپنا دشمن تصور کرتی ہیں، وہاں اس سلسلے میں اُن کو نظریاتی تائید نظریۂ تکفیر سے ملتی ہے۔مسلم ممالک میں داخلی دہشت گردی کے جواز کے لئے متعارف ہونیوالا نظریۂ تکفیردراصل القاعدہ یا طالبان تحریکوں کی نظریاتی اساس ہے اور اس کا وجود بھی دراصل شدید جارحیت کا نتیجہ ہے یعنی یہ رویہ بھی ردعمل کا شاخسانہ ہے۔
یاد رہے کہ ہر ایسی دینی تحریک جسے کسی جارح کے براہِ راست مصائب اور آزمائشوں سے پالا نہ پڑا ہو اور اس کے پاس معاشرے میں مثبت کام کرنے کے ذرائع موجود ہوں، وہ تکفیرکے نظریے میں پناہ حاصل نہیں کرتی۔ بطور ِمثال پاکستان کی جماعتِ اسلامی یا جماعۃ الدعوۃ کا نام لیا جاسکتا ہے۔ اوّل الذکر واضح سیاسی اہداف اور نظریات رکھنے اور ثانی الذکر ایک معروف جہادی تنظیم سے تعلق ہونے کے باوجود ، چونکہ سیاسی سرگرمی یا فلاحی خدمات میں مشغول ہے اور اُنہیں ابھی تک الحمد للہ کھلی جارحیت کا شکار نہیں ہونا پڑا، اس لئے دونوں کے ہاں تکفیری نظریہ کا کوئی وجود نہیں ہے۔ جبکہ دوسری طرف وہ جماعتیں جو حکومتوں کا نشانہ اور تختۂ مشق رہی ہیں مثلاً اخوان المسلمون سے نکلنے والی 'جماعت التکفیر والہجرۃ' یا القاعدہ اور پاکستانی طالبان وغیرہ تو یہ تکفیری نظریات پر یقین رکھتے ہیں۔اس لئے تکفیر بھی تفجیر (بم دھماکوں) کی طرح ناراض گروہوں کا نظریاتی رد ّعمل ہی ہے۔ یہ رویے نہ صرف کم علمی سے جنم لیتے ہیں بلکہ کسی سنگین معاملے کو ظاہری نظر سے دیکھنے کا نتیجہ ہیں۔
یہاں تحریکِ طالبان پاکستان کے غلط موقف کے ساتھ حکومت ِپاکستان کا ظالمانہ کردار بیان کرنا بھی ضروری ہےجس نے نہ صرف اپنے حقیقی دشمن کو پہچاننے میں غلطی کی بلکہ اس کو ملک میں اس حد تک اندر آنے کا موقع دیا کہ آج وہ دشمن اندر بیٹھ کر ہم پر وار کررہا ہے۔ پاکستانی حکومت نے اپنی رعایا کی حفاظت کے کردار سے مجرمانہ غفلت کی اور آئے روز ہونے والے ڈرون حملوں کے معصوم شکاروں کے خون سے مجرمانہ چشم پوشی کی۔ اس حکومت نے مجاہدین کو امریکہ کے ہاتھوں فروخت کیا اور یہاں کے حکمرانوں نے امریکہ کی سیاسی آشیر باد حاصل کرنے کےلئے عین حکومت کے مرکز میں دین کی معصوم طالبات کو خاک وخون میں نہلادیا۔اُنہوں نے قبائلیوں سے ہونے والے معاہدوں کی خلاف ورزی کی اور اپنے ملک کے مظلوم باشندوں کو انصاف نہ دینے کی بجائے امریکہ کی نظر سے دیکھ کر اُن سے کھلم کھلا جنگ مول لی۔ وہ لوگ جو پاکستان کے بازوئے شمشیر زن اور دفاع کرنے والے تھے، ان کو ملک کا غدار بنانے میں کوئی کمی نہ چھوڑی۔ حکومت کے ذمہ داران نے امریکی زبان بولی اورپاکستان کے دفاع او رتحفظ سے بھی مجرمانہ تغافل برتا۔ آج نظریاتی کشمکش کے دس سال گزار لینے کے بعد ہمیں معلوم ہورہا ہے کہ اصل دشمن طالبان نہیں بلکہ امریکہ ہے جو کھلم کھلاغنڈہ گردی کرتا اور ہماری خودمختاری کو پامال کرتا ہے۔ آج بھی حکومت کے بس میں ہوتا تو اس کو طالبان کے کھاتے ڈال دیا جاتا جیسا کہ 2 مئی کو ہونے والے اُسامہ بن لادن کی شہادت کے واقعے کے چند ہی دنوں بعدشب ِقدر میں80پاکستانی نوجوانوں کو امریکی ایجنڈے پر شہید کرکے، پاکستان کی بھولی قوم کو اپنا اصل دشمن یعنی پاکستانی طالبان کو یاد کرانے اورباہم منتشر کرنے کی دوبارہ مذموم سعی کی گئی ہے۔پھر وزیر داخلہ نے مہران ایئربیس پر حملے کو بھی امریکہ کی بولی بول کر پاکستانی طالبان کے کھاتے ڈال دیا ہے لیکن منصفانہ تحقیق یہ ثابت کرے گی کہ پاکستان پر اس قدر حساس اور گہرا وار شیطانی اتحادِ ثلاثہ بالخصوص بھارت کے بغیر انجام نہیں پاسکتا۔
اندرونِ ملک پائی جانے والے اس انتشار اور ظلم وستم کے خلاف تحریکِ طالبان کا جوابی ردعمل گوکہ ایک معنویت رکھتاہےاور متاثرہ انسان سے حکمت ودانائی کی توقع کرنا بھی فضول ہے۔اس بات سے بھی انکار نہیں کہ ان متاثرہ طالبان نے بعض مقامات پر جوابی کاروائیاں کی ہوں گی، لیکن گذشتہ تین برس کی اکثر وبیشتر کاروائیاں، طالبان کے پردے میں ان غیرملکی ایجنسیوں کی کارگزاری ہے جو وہ اپنے مقاصد کے لئے ملک بھر میں آئے روز کر رہی ہیں۔ طالبان کی چند ایک کاروائیوں کی گہرائی میں اُترا جائے تو درپردہ ان ایجنسیوں کی ملی بھگت، منصوبہ بندی اور طالبانی نوجوانوں کو ورغلانے کی مذموم کوششیں اس میں لازما ًشامل ہوں گی۔ کیونکہ اگر طالبان نے خالصتاً یہ حملے کئے ہوتے تو ان کا شکاراپنی قوم کےعوامی مقامات اورمساجد کی بجائے نیٹو کےٹینکر،امریکی اڈّے اورامریکی اہل کار ہوتے۔ ہماری حکومت کو مفادات کی بندربانٹ، اور امریکہ نوازی کے بعد اتنی فرصت نہیں کہ وہ افغانستان میں سرگرم درجنوں بھارتی قونصل خانوں اور امریکہ کے سیکڑوں ایجنٹوں کی چلت پھرت پر نظر رکھے۔ ہماری ایجنسیاں، پولیس اور قانون نافذکرنے والے دیگر ادارے ایوان ہائے سیاست کے مکینوں کی حفاظت ونگرانی اور محلاتی سازشوں میں ہی مگن رہتے ہیں اور اُنہوں نے دشمن کو کھل کھیلنے کی پوری اجازت دی ہوئی ہے۔
مذکورہ بالا دونوں رویے: تشدد اور تکفیر قومی اور بین الاقوامی سطح پر دراصل ظلم کے خلاف مظلوم کے ردعمل کا شاخسانہ ہیں۔اُن کی حمایت نہیں کی جاسکتی اور اُنہیں اسلامی بھی قرار نہیں دیا جاسکتا لیکن ان کی معنویت صاف نظر آرہی ہے۔ ظلم موجود ہے لیکن ظلم کا تدارک نہیں ہورہا۔ مظلوموں اور حساس لوگوں میں بے چینی اور محرومی اپنا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے منہج اور طریقہ کا ر کو درست قرار نہیں دیاجاسکتا لیکن ظلم کو قبول کرنااور بےغیرتی یا دھوکہ کاشکار ہوجانا بھی درست نہیں۔ظلم کا جواب دیا جائے اور ظالموں کو اپنے انجام تک پہنچایا جائے،یہ ہماری حکومتوں کا فریضہ تھا جس سے اُنہوں نے مجرمانہ غفلت برتی ہے۔ اسی پر اکتفا نہیں بلکہ ظالم قوتوں سے مفادات کی ساز باز کرکے، ہماری حکومتیں خود ظالموں کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہیں۔
ان نوجوانوں کے رویے میں پائی جانے والی متشددانہ کوتاہی کا کفریہ قوتوں نے بری طرح استحصال کیا ہے اور اس طرح بسا اوقات اُنہیں اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کیا ہے اور اکثر اوقات بہت سے ناکردہ گناہ ان کے ذمّے ڈال دیے ہیں۔اس غم وغصہ کے خاتمے کی ایک سنجیدہ اور بامقصد کوشش طالبان قیادت کی طرف سے تکرار کے ساتھ سامنے آئی ہے کہ ان ممالک میں جہاں کھلم کھلا امریکہ اور نیٹو کے ساتھ جنگ جاری ہے، ایسے مجاہد عناصر وہاں پہنچ لاکر اسلامی جہاد کا ساتھ دیں اور اپنے آپ کو پرامن مقامات پر دھماکے اور مسلم شہروں میں فتنہ کی جنگ سے بچائیں۔ باخبر لوگ جانتے ہیں کہ اسی پالیسی اور دانش مندانہ حکمت ِعملی کا نتیجہ ہے کہ پاکستان میں داخلی جنگ ختم ہوکراکثر جہادی عناصر کفر سے آمنے سامنے برسرپیکار ہونے کے لئے جہادی محاذوں پر چلے گئے اور اس کے نتیجے میں کفر کو ان محاذوں پر ہزیمت اُٹھانی پڑرہی ہے۔ عراق وافغان کے دونوں کھلے جہادی محاذوں پر امریکہ شکست کے زخم چاٹنے پر مجبور ہے اوراُس کی پوری کوشش یہ ہے کہ یہ جنگ اس کی بجائے،حکمرانوں کواس کی رشوت کے ذریعے ،مسلم علاقوں میں مسلمانوں کے مابین لڑائی جائےاور دونوں طرف مسلمانوں کا ہی خون بہے۔
امریکہ پاکستان کو شمالی وزیرستان میں جنگ بڑھانے پر زور دے رہا ہے، اس حقانی گروپ کو ختم کرنے پر زور ڈال رہا ہے جس نے ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔اس طرح امریکی وزیر خارجہ ہیلری پاکستان کو اپنی جنگ جیتنے کی ذمہ داری اس چالبازی سے تفویض کررہی ہے کہ ''افغانستان کا امن (یعنی امریکہ کا وہاں قبضہ) پاکستان کی وزیر ستان میں کاروائی کے بغیر ممکن نہیں۔'' امریکہ پاکستانی طالبان کو بزورِ بازو ختم کرنے پر دباؤ ڈالتا ہے اور خود افغانستان میں افغانی طالبان سے معاہدوں میں کوشاں ہے۔کئی برس قوم کو خانہ جنگی میں مبتلا کرکے، ہماری فوج اور مقتدرہ کوبھی امریکہ کی چال بازی آخرکارسمجھ میں آگئی ہے اور وہ ملک میں ایسے مزید اقدام، جسے پہلے پاک فوج کی سوات میں کامیابی سےتعبیر کیا جارہا تھا،سے جان بچانے کی کوششیں کررہی ہے۔
حالیہ ایبٹ آباد آپریشن کے بعد امریکہ کا پاکستان کی امداد جاری رکھنے کا دراصل مطلب یہ ہے کہ پاکستان میں امریکہ کے پالیسی سازوں کے مطابق ابھی تک کافی دم خم موجود ہے اور وہ ابھی امریکہ کے لئے ترنوالہ نہیں بنا۔جب تک وہ پوری طرح امریکہ کیلئے ہموار نہیں ہوجائے گا،اس وقت تک امداد کی زہر کا ٹیکہ جاری رکھ کر اس ایٹمی قوت کی ہلاکت کا سفر جاری رکھا جائے گا۔ جبکہ امریکی امداد پر ہونے والے کانگرسی بحث مباحثہ کا مقصد یہ ہے کہ اسی امداد سے کچھ مزید حاصل کیا جائے اور ہمارے بے حمیت حکمرانوں نے اسی امداد کے لالچ میں یہ وعدہ کرلیا ہے کہ اسطرح کے آئندہ آپریشن امریکہ اور پاکستان مل کرکریں گے، یعنی پاکستان کو اطلاع دے دی جائے گی۔ یہ ہے وہ بے غیرتی اور سودے بازی جو بعض نادان مخلصوں کو میدانِ عمل میں کود جانے پر مجبور کرتی ہے۔
یاد رہے کہ امریکہ ہمارے بے حمیت اور کمزور حکمرانوں کاپیچھا اس وقت تک نہیں چھوڑے گا جب تک وہ معاذ اللہ کامیابی کی کسی بڑی منزل تک نہیں پہنچ جاتا۔ حکمرانوں کے یہ مزید معاہدے اس بات کی دلیل ہیں کہ اہل پاکستان کو ابھی مزیدسنگین آزمائشوں کا سامنا کرنا ہے!
تیسرا رویہ: اپنی دنیا میں مست رہو!
اوپرایک عالمی منظر نامے کو پیش کرنے کے بعد القاعدہ اور طالبان کے علاوہ پاکستانی حکمرانوں کے رویوں کے بارے ایک تجزیہ پیش کیا گیا ہے، جو اب کوئی گہری حقیقت ہونے کے بجائے ایسا نوشتہ دیوار بن چکا ہے جسے ہر باشعورپڑھ سکتا ہے۔موجودہ صورتحال میں، جب دنیا کی ایک سپرقوت اسلام اور اہل اسلام کے خلاف اپنی قوت استعمال کررہی ہے، ایک تیسرا رویہ عام مسلمانوں کا بھی ہے جو سب سے سنگین ہے، لیکن افسوس کہ اُنہیں اس کا معمولی سا احساس بھی نہیں۔ کفر اُن سے برسرپیکار ہے اور کفر کو ملت ِاسلامیہ کے اثاثے چاہے مالی ہوں، نظریاتی ہوں یا عسکری ، ایک آنکھ نہیں بھاتے۔ یہ تمام کوششیں کفر کی اسی مقصد کےلئے ہیں کہ اہل اسلام کے مال سے اپنی عیاشیاں جاری رکھ سکے اور اُن کو مستقبل کے مغربی مفادات کے تحفظ کے لئے آج اپنے پاؤں پر کھڑا نہ ہونے دے۔اس کے لئے امریکہ اور صہیونی میڈیا نے عام مسلمانوں کو یہ مغالطہ دیا ہوا ہے کہ وہ اور امریکہ جنگ میں ایک سمت ہیں، وہ عالمی سچائی کے متلاشی ہیں اور مجاہدین یاامریکہ کے خلاف برسرپیکار لوگ دراصل انتہاپسند اور دہشت گرد ہیں۔ ان دہشت گردوں کے خاتمے کے ساتھ دنیا امریکہ اور اِن مسلمانوں کے لئے پرسکون ہوجائے گی۔ ہمارے بھولے مسلمان اس مغالطے میں بری طرح غرق ہیں اور اُنہیں دنیا کو عیش وعشرت سے گزارنے کے اسباب میں اس طرح مگن کردیا گیاہے کہ وہ اس عسکری منظر نامے سے پوری طرح غافل ہوکراپنے آپ میں مست ہیں۔ کبھی کبھار منہ اُٹھا کر شورشرابہ کرنے والوں کو کچھ کہہ لیتے ہیں۔ امریکہ کو تو کچھ کہہ نہیں سکتے، سو چاروناچار مجاہدین کو ہی برا بھلا کہتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اُسامہ کو شہید کہنے میں شرم آتی اور طالبان کو اسلام دشمن قرار دیتے نہیں تھکتے۔
اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں ہر ایک کے لئے کھلی دلیلیں مہیاکردی ہیں، اب چاہے تو ان پر غور کرے اور چاہے تو اپنے آپ میں مگن رہے۔ لاہور میں جب ریمنڈ ڈیوس نے پاکستانیوں کو گولی ماری اور امریکیوں نے اپنی رعونت کابرملا اظہار کیا، تو اِس سے امریکیوں کا عام پاکستانیوں کے بارے میں حقارت آمیز رویہ ہمارے سامنے آیا، جب امریکی جج نے عافیہ صدیقی کے خلاف تعصب سے بھرپور فیصلہ دیا تو اُس سے ہمیں اپنی حیثیت کا علم ہوا۔ جب عراق ولیبیا پر امریکہ نے کھلی ہلاکت مسلط کی تو وہاں ہمارے بزعم خود 'مہذب'پاکستانیوں جیسے بہت سے سے شہری تھے لیکن امریکہ نے اُن میں کسی سے کوئی رعایت نہ کی۔ جب اُسامہ بن لادن کے ایبٹ آباد میں شہید ہونے کا ڈرامہ رچایا گیا تو امریکی عوام نے پاکستانی عوام کے خلاف زہریلے جذبات کا اظہار کیا، تو اس میں تمام پاکستانی اُن کا نشانہ تھے۔ جب پاکستانیوں سے مغرب وامریکہ کے ائیرپورٹ پر ہتک آمیز سلوک کیا جاتا ہے تو اس میں راسخ العقیدہ پاکستانی اور عام پاکستانی میں کوئی فرق نہیں کیا جاتا۔ جب مغرب کے قلب میں متوقع اسلامی ریاست بوسنیا کے مسلمانوں کو کوسووا کے جارح اور متعصب عیسائیوں نے اپنی جارحیت کا نشانہ بنایا تو ان مظالم کا شکار بلاامتیاز سب کو بنایا گیا، بلکہ ان میں اکثریت بے عمل اور عام مسلمانوں کی تھی۔ جسے اقوامِ مغرب کے مسلمانوں کے خلاف تعصب میں کوئی شبہ ہو تو وہ بوسنیا کے مہذب مسلمانوں پر ہونے والے انسانیت سوز مظالم کو ایک جھلک پڑھ لے جس پر اُردو میں کئی کتب ترجمہ ہوچکی ہیں۔
اسلام دنیا میں کسی کو گوارا نہیں، فرانس میں حجاب ونقاب کے خلاف جو تعصب برتا گیا کہ عیسائی نن کو سرڈھانپنے کی اجازت لیکن مسلمان عورت کا سرڈھانپنا ان کو دہشت گردی محسوس ہوتا ہے۔ کفر کومسلمانوں کا قرآنِ کریم اور ان کےنبی رحمۃ للعالمینﷺ جو واقعتاً محسن انسانیت ہیں، لمحہ بھر کو گوارا نہیں۔ کہا جاتا ہے کہ یہ بھی مغرب کے چند سرپھرے جنونیوں کا رویہ ہے لیکن مغرب میں قرآن کو نذرِ آتش کرنے یا نبی کریم کے مزاحیہ اور تہمت آمیز خاکے بنانے جیسے مکروہ جرائم کرنے والے اپنے عوام کی جس تائید سے محظوظ ہوئے ہیں اور اُن کو عدالتوں سے جومضحکہ خیز سزائیں ملی ہیں، اس سے اُن قوموں کے اجتماعی ضمیر کا بخوبی پتہ چلتا ہے۔
دراصل امریکہ نے عالم اسلام کے خلاف اپنی مفاداتی جنگ کو سند ِجواز دینے کے لئے اسلام کے خلاف صہیونی میڈیا کے بل بوتے پر گذشتہ برسوں میں اتنا غیض وغضب پیدا کردیا ہے ، جس نے ملت ِاسلامیہ کے خلاف عام مغربی انسان کو بھی متحدویکسو کردیا ہے۔ اب دنیا پرسکون دنیا نہیں رہی بلکہ ایک دوسرے کے خلاف کینہ اور غصہ سے بھری پڑی ہے، جس کا سامنا آئے روز اُمت ِ اسلامیہ کررہی ہے۔ ان حالات میں ہمارے میڈیا کاعام مسلمانوں کو یہ باور کرانا کہ دنیا دراصل امن وامان کی جگہ ہے اور یہ جنگ چند ایک جنونی کررہے ہیں، ایک مغالطہ آرائی سے زیادہ نہیں۔ امریکہ کی مسلمانوں کے خلاف منظّم جارحیت اور منصوبہ بندی نے میڈیا کے بل بوتے پر اس جنگ اور نفرت کو پوری دنیا میں پھیلا دیا ہے۔
ممکن ہے کہ یہ سوال کسی معصوم کے ذہن میں پیدا ہوا کہ امریکہ کو عام مسلمانوں سے تکلیف کیا ہے، اگر وہ مغربی رنگ میں رنگ کر اسلام کو خیر باد کہہ دیں تو اُن کی دشمنی ختم ۔ امریکہ کی ساری مخالفت تو جہادی ، متشدد اور راسخ العقیدہ مسلمانوں سے ہے۔ لیکن بات اتنی سیدھی نہیں ہے جیسا کہ ہم شروع میں عرض کر چکے ہیں کہ 1990ء کے بعد جاری ہونے والے نیو ورلڈ آرڈرکا پس منظر امریکی فوج ، ایجنسیوں اور امریکی قوم کی توجہات کو کسی مفروضہ دشمن کی طرف متوجہ رکھنا اور وسائل کی لوٹ مارکرکے اپنے لئے اسبابِِ تعیش جمع کرنا وغیرہ ہیں۔ وسائل اور مفادات کی لوٹ کھسوٹ کے لئے دنیا کی بڑی قوتوں کی یہ باہمی جنگ مذہب سے بالاتر ہوکر پہلے بھی جنگِ عظیم اوّل ودوم میں انسانیت کا سب سے بڑا قتل عام کرچکی ہے اور پھر روس امریکہ کی سرد جنگ کی شکل میں دہائیوں جاری رہی ہے جہاں یہ جنگ نظریات کے بجائے دنیوی مفادات کے لئے لڑی جاتی رہی ہے۔اپنی نظریاتی قوت سے قطع نظر عظیم ملتِ اسلامیہ ہی زمینی طور پر وہ حقیقی قوت اور وسائل رکھتی ہے جو مستقبل میں عالمی کفر کے لئے شدید خطرہ بن سکتے ہیں ، اگر اس کا راستہ آج نہ روکا گیا۔ اسلام اور اہل اسلام کی یہی قوت فرانس، برطانیہ اورجرمنی کو بھی اسلام کو روکنے کے اقدامات پر مجبور کرتی ہے۔ اس لحاظ سے اہل اسلام کی قوت اور تموّل اسلام کی نظریاتی قوت سے بڑھ کر بھی ایک زمینی حقیقت ہے!!
مغرب کے ان زمینی مفادات کے حصول میں نظریۂ اسلام نہ صرف بری طرح رکاوٹ بن رہا ہے بلکہ مستقبل میں بھی یہی نظریہ ملت کے اتحاد واشتراک کی بنیاد ثابت ہوگا، اس لئے ملت کے ہراول دستہ کے طورپر ملت کے نظریاتی محافظوں سے عالمی استعمار کا فوری مقابلہ درپیش ہے، جنہیں متشدد مسلمان باور کراکے، عام مسلمانوں سے علیحدہ کیا جارہا ہے۔اسلام پر عمل پیرا اور دین کے خادم یہ مسلمان ملت کی فرنٹ لائن ہیں جس کو منتشر کردینےکے بعد ملت ِاسلامیہ کے اموال کی لوٹ کھسوٹ کےلئے عام کاروباری اور دنیامیں غرق مسلمان آخرکارترنوالہ ثابت ہوں گے۔ دنیوی مفادات میں عام مسلمانوں کا زیادہ حصہ ہونے کی وجہ سے اس جنگ کے اصل اور آخری متاثر تمام مسلمان ہوں گے۔ اس بنا پر کفر کی یہ جنگ دراصل مفادات کی جنگ ہے، جس کی راہ میں اس ملت کے نظریاتی محافظوں سےپہلے نمٹا جارہا ہے۔ غور کیجئے کہ افغانستان تو راسخ العقیدہ مسلمانوں کا مرکز ہے ، مان لیا کہ سعودی عرب اور پاکستان بھی اسلامی قوت کے نظریاتی وعسکری مراکز ہیں، لیکن عراق ولیبیا میں کونسے نامور باعمل مسلمان بستے ہیں اور وہ کونسا غیر معمولی مسلم تشخص رکھتے ہیں کہ ان کی اینٹ سے اینٹ بجائی جانا ضروری تھا۔ ان دونوں ممالک پر حملہ کی اصل وجہ ان کے اموال پر تسلط جمانا ہے جس کا شکار راسخ مسلمانوں کے بعد وہاں کے عامّۃ المسلمین بھی بنے ہیں۔
نامعلوم ایسا کیوں ہے اور ہم اپنے آپ کو طفل تسلیاں کیوں دیتے ہیں۔ جب امریکہ اور اس کے حواری تمام پاکستانیوں کو دہشت گرد قرار دیتے ہیں تو ہم کہتے ہیں کہ یہ الزام حقیقت نہیں کیونکہ ہم تو دہشت گرد نہیں ۔ تاہم جب امریکہ، طالبان یا القاعدہ کو دہشت گرد کہتا ہے تو اس کی زبانی اس جھوٹ پر ہم ایمان لے آتے ہیں کہ ہاں ہاں یہ بالکل دہشت گرد ہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ وہ تو دہشت گردانہ کاروائیاں کرتے ہیں، اس لئے ان پر الزام لگتا ہے، لیکن عالمی دہشت گرد امریکہ کی نظر میں حقیقی دہشت گردی امریکی مفادات کی راہ میں رکاوٹ بننا ہے، اور اس لحاظ سے ہم سب امریکی مفادات کے بالمقابل ہیں۔ جس طرح اپنے بارے میں ہمیں یہ الزام لگتاہے اور ہم اپنے آپ کو مغالطہ دے کر مطمئن ہوبیٹھتے ہیں، تو یہی دراصل ہمیں آپس میں لڑانے کی سازش ہے۔ دراصل یہ کرشمہ ہے اس نظریاتی اور ابلاغی کشمکش کا کہ ایک جھوٹے نے ہمیں آپس میں بانٹ رکھا ہے۔ آج افواجِ پاکستان اس امریکی جھوٹ کو جان کر اندرونِ ملک مزید پیش قدمی نہیں کررہیں کیونکہ وہ اس الزام کے کھوکھلے پن اور امریکی چالبازی کو سمجھ چکی ہیں تو اس نظریاتی کشمکش کو بھی ہمیں سمجھنا اور ردّ کرنا ہوگا جس نے ہمیں نظریاتی طورپر تقسیم کردیا ہے۔
امریکہ کے مغالطے کھاتے کھاتے ہم مغالطوں کے ہی عادی ہوگئے ہیں۔ افغانستان میں روس آیا تو ہم نے پاکستان کے دفاع کی جنگ لڑی اور آخر کار اُس کومار بھگایا اور اب افغانستان میں امریکہ آیا اور اس نے ہمیں اتحادی کہہ کر مغالطہ دیا تو اس پر ہم یقین کر بیٹھے اور 'سب سے پہلے پاکستان ' کے مغالطہ آمیز نعرے اور اتحاد اتحاد میں پوری قوم کو ہلاکت اور نظریاتی موت کے سپرد کردیا۔
جب کہا جاتاہے کہ آئی ایس آئی پر تنقید نہ کروتو تمام صحافی اس کے پرجوش مبلغ بن جاتے ہیں کہ ہم اور ہماری فوج میں اگر دوری پیدا ہوگئی تو پھر ہماری لئے جان کون دے گا اور امریکہ آئی ایس آئی کو ہماری تنقید کے بعد تباہ کرکے رکھ دے گا۔ یہ بات ایک حد تک درست ہے کہ ایبٹ آباد آپریشن آئی ایس آئی کی ناکامی نہیں بلکہ سی آئی ڈی اور آئی بی جیسی ایجنسیوں کی بھی کوتاہی کا نتیجہ ہے ،اور آئی ایس آئی پر کڑی تنقید اس کو کھوکھلا کردے گی لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے اور اس کی نظریاتی قوت اسلامی تعلیمات میں پوشیدہ ہے۔ اسلام پر سالہا سال تنقید ہوتی رہی، کبھی اسلام کو روشن خیال بنایا گیا اور کبھی مغرب نواز ، کبھی اہل دین کو دہشت گرد بتایا گیا اور مجاہدین کو وطن دشمن۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کے نظریات کو کھوکھلا کردینے اور پاکستان کے دینی عنصر کو دشمن باور کرانے سے ہم کیا اپنے وطن اور ایمان کا دفاع مضبوط کرتے رہے۔ملت اسلامیہ ایک نظریاتی تشخص کا نام ہے، اور یہ نظریاتی تشخص ہمارے نظریاتی قائدین پر اعتماد کے بغیرمستحکم اور قوی نہیں ہوگا۔پاکستان کا تحفظ ماضی کی طرح مستقبل میں بھی اہل ایمان ہی کریں گے، لیکن مسلمانوں میں باہمی اعتماد کا رشتہ ہی ختم ہوگیا تو ہمیں دشمن کے مقابل سیسہ پلائی دیوار کون بنائے گا؟آج ہماری نظریاتی کمزوری کا یہ عالم ہے اور ہمیں ایک دروغ گو کی باتوں پر اتنا یقین ہے یا اُس کا اتنا ڈر مسلط ہوگیا ہے کہ ہم اسامہ بن لادن کو شہید کہنے سے گھبراتے ہیں۔دنیا کے مسلمہ ظلم اور کفر کے ہاتھوں شہید ہونے والے کی سعادت میں کیا شبہ ہے کہ وہ شہید نہیں۔ اگر ہم حق کو پہچاننے کی صلاحیت سے محروم ہیں تو کم ازکم باطل کے تیروں کے رخ سے ہی ہمیں اہل حق کا پتہ چل جانا چاہئے۔
اُمتِ اسلامیہ دشمن کے حملوں اور سازشوں کے نرغے میں ہے، اور ہم روز وشب کی مصروفیتوں میں اُلجھے ہوئے، اس معرکہ خیر وشر سے لاتعلق بنے بیٹھے ہیں۔ اُمتِ اسلامیہ میں پایا جانے والا یہ تیسرا رویہ دراصل اسامہ بن لادن یا طالبان کو پیدا کرنے کا حقیقی سبب ہے ۔ جب ظلم موجود ہو او رظلم کا ہاتھ روکنے والے اس کی بجائے خود مغالطوں کا شکار ہوکر اپنی دنیا کمانے اور ظلم کو اپنے قریب پہنچ جانے کی مہلت دینے کے منتظر ہوں، تو تب ہی مجاہدین کمزوری محسوس کرکے کوئی انتہاپسندانہ اقدام کرنے پر مجبورہوتے ہیں۔ اور ان غیور مجاہدین کو ان کی کمزوری اور ان کی قوم کے ساتھ نہ دینے کے سبب ، جب ظالم اورکافر ہلاک کردیتا اور اسے 'دہشت گرد' قرار دے دیتا ہے تو یہ غافل مسلمان بھی اس کو دہشت گرد قرار دے کر اپنے تئیں محفوظ خیال کرتے ہیں اور اس وقت کا انتظار کرتے ہیں جب اُن پر بھی ظلم کیا جائے گا اور جب یہ اکیلے جواب یا دفاع کریں گے تو اُنہیں بھی 'دہشت گرد' قرار دے کر باقی دنیا چین کی نیند سوجائے گی۔موجودہ دور کا سب سے بڑا المیہ مسلمانوں کا نظریاتی طورپر مغالطوں اور مغلوبیت کا شکار ہونا اور خوابِِ غفلت کی نیند سوجانا ہے۔ ہمیں اس حساس موقع پر اپنے مؤثر کردار کی جستجو کرنا چاہئے، جو آخر کار ملتوں کی اس جنگ میں ہمیں ذلت وہزیمت سے بچالے۔
اس کے لئے یہ لازمی نہیں کہ امریکی ظلم وستم کے بالمقابل لازماً بھڑ ہی جایا جائے، کیونکہ جہاد وقتال کے لئے موزوں اور مناسب حکمتِ عملی اختیار کرکے ہی مطلوبہ نتائج نکل سکتے ہیں، تاہم یہ ضروری ہے کہ ملت کو درپیش اس المیہ کی نوعیت کو پوری طرح ذہن نشین کرلیا جائے، اور اپنے ذمہ عائد ہونے والے فرض کو ادا کرنے کی جستجو میں صلاحیتیں کھپا دی جائیں۔ کم ازکم اتنا ضرور ہو کہ ہم دوست دشمن کو پہچان سکیں، اور اپنے اوپر ظلم اور جارحیت کرنے والی طاقتوں کو اپنا سمجھنے کے مغالطے میں مبتلا نہ ہوں۔یہ کسی قوم کے فکری زوال اور محکومی ومرعوبیت کی انتہا ہے!!
جب ہمارے عوام الناس اِن تلخ حقائق پر غور نہیں کرتے تو پھر یہی اپنے ووٹوں سے ایسے حکمران ہم پر بارِدگر مسلط کردیتے ہیں جو پہلوں سے زیادہ ظالم، عوام کے لئے سفاک اور دین کے لئے باعث ِشرم ہوتے ہیں۔ بعض اوقات شدید حیرانگی ہوتی ہے کہ امریکہ کے اہل پاکستان اور ملتِ اسلامیہ پر اس قدر سنگین جرائم کے باوجود ابھی بھی مسلمانوں میں ایسی تعداد موجود نظر آتی ہے جو امریکہ کے لئے ہمدردانہ جذبات رکھتی ہے۔وطن پر کسی کاری وار کے بعد چند روز کے لئے ان کے مغالطے عارضی دور ہو تے ہیں لیکن پھر یہی مغربی تہذیب کا والہانہ پن ان کو گھیرے میں لے لیتا ہے اور وہ کسی نہ کسی بہانے کی تلاش میں رہتے ہیں کہ انکا استعمار کے بارے میں یہ حسن ظن کسی طرح بحال ہوجائے۔ کیا ریمنڈ ڈیوس اور ایبٹ آباد آپریشن کے بعد اور صدر امریکہ کے بار بار یہ مکروہ عزم دہرانے سے کہ وہ پھر پاکستان کی داخلی سلامتی کی پرواہ کئے بغیرفوجی کاروائی کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں، ہم پر امریکہ کا حقیقی چہرہ واضح نہیں ہوچکا ۔ لیکن اسکے باوجود شب ِقدر حملہ ہو یا مہران ائیربیس پر حملے، ہمیں عالمی ایجنسیاں یہ دھماکے طالبان کے نام پر لگا کر مغالطہ دینے پر کمر بند ہیں۔
مسلمانوں میں یہی تین رویے ہی نہیں بلکہ اصلاح پسند، قوم وملت کے دردمند اور تعمیری رویوں میں دن رات مصروف ومشغول افراداور جماعتیں بھی بڑی تعداد میں پائی جاتی ہیں اور انہی کی بدولت اسلام اور اہل اسلام کا بھرم قائم ہے۔ان پرآشوب حالات میں وہ خون کے آنسو روتے اور اپنے جان ومال سے اسکے خاتمے کی ہر جہد وسعی کو بروے کار لاتے ہیں۔لیکن سردست اس سارے منظرنامے میں فوری طورپر نمایاں نہ ہونے کے سبب انکے تذکرے سے ہم صرفِ نظر کرتے ہیں ۔
مسلمانوں میں 'فکری سرطان اور امریکی مرعوبیت' کے شکار اُن کے ہم نوا اُمت کے لئے زہر مہلک ہیں جو معصوموں کی طرح ہر آن اپنے آقائے ولی نعمت پر اعتماد کرنے کو تیار رہتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہیں امریکہ کی اس کھلم کھلا جارحیت کے باوجود ابھی تک اس سے دوستی کی خوشبو آتی اور اس کی عظمت کے ترانے گاتے ہیں۔ انہی لوگوں سے امریکہ جیسے دشمن کے پاکستان میں جاری تعلیمی ادارے آباد ہیں ، انہیں امریکہ کا گرین کارڈ مل جائے تو اس پر وطن اور ملت کا تقدس لاکھ بار نچھاور کرنے کو تیار رہتے ہیں۔ ایسے ہی لوگ دراصل اُمّت کے غدار ہیں!!
معصوم مسلمانو! آنکھیں کھولو، اپنافرض پہچانو، اللہ کی طرف رجوع کرو، اپنا کردار ادا کرو، دوست دشمن میں تمیز کرو اور حق کی گواہی دینے والوں کے ہم آواز ہوجاؤ۔ پھر ماحول بدلے گا، فضا بدلے گی اور ملت ِاسلامیہ پر زوال کی تاریک رات ختم ہوگی اور آخر کاراللہ کی بندگی کا تقاضا پورا ہوگا۔ اس پر آشوب دور میں اللہ اور اس کے نبیﷺ کے اَنصار بننے والوں کا مقام بہت بلند ہوگا!!
حوالہ جات
601 کی دہائی کی عرب اسرائیل جنگ ہو یا80 کی دہائی کی روس افغان جنگ، ان میں مسلمانوں کا جہادی جذبہ پوری قوم کی مشترکہ مدافعت اورمزاحمت میں جذب ہوگیا، اور ان کے نتیجے میں نجی جہادی تحریکیں قائم نہ ہوئیں۔