'انٹرنیشنل کمیٹی برائے ریڈکراس' کے زیراہتمام 16 مئی2011ء کو آواری ہوٹل لاہور میں مختلف مکاتب ِفکر کے علما کا ایک سیمینار منعقد ہوا جس کا موضوع 'جنگ سے متاثرین کے حقوق اور اسلامی آداب' تھا۔ سیمینار مذکور میں مدیر اعلیٰ'محدث' نے بھی 'اسلامی جہاد کے آداب' پر فاضلانہ خطاب کیا۔ زیر نظر مقالہ مولانا عبد المالک نے اسی سیمینار کی پہلی نشست میں پڑھا ، جو اپنے موضوع پر جامع اور پرمغز ہونے کی بنا پر مکمل شائع کیا جارہا ہے۔ اسلامی جہاد کے بارے میں نبویؐ ہدایات ملاحظہ کیجئے اور دیکھئے کہ انسانی حقوق کے مغربی محافظ بلندبانگ دعووں کے بعد خود اپنی ناجائزجنگوں میں کن آداب کو ملحوظ رکھتے ہیں۔ ح م
اسلام نے جنگ کے ان تمام وحشیانہ حرکا ت کو روک دیاہے جو جاہلیت کی لڑائیوں میں کی جاتی تھیں، مثلاً
غیر اہل قتال کی حرمت
اسلام نے محاربین کو دو طبقوں میں تقسیم کیا ہے: اہل قتال اورغیراہل قتال
اہل قتال وہ ہیں جوجنگ میں عملاًحصہ لیتے ہیں اور غیر اہل قتال وہ جو جنگ میں حصہ نہیں لے سکتے مثلاًعورتیں،بچے ،بیمار،زخمی،اندھے ،مقطوع الاعضا یعنی معذور،مجنون، سیاح، خانقاہ نشین، زاہد، معبدوں اور مند روں کے مجاور ،ایسے ہی دوسرے بے ضررلوگ ۔ اسلام نے طبقہ اول کے لوگوں کو جہاد کے دوران قتل کرنے کی اجازت دی ہے اور طبقہ دوم کے لوگوں کو قتل کرنے سے اسلام منع کرتا ہے۔ ایک مرتبہ میدانِ جنگ میں رسول اللہ ﷺنے ایک عورت کی لاش پڑی دیکھی تو ناراض ہو کر فرمایا کہ
«ماکانت هذه تقاتل » ''یہ تو لڑنے والوں میں شامل نہ تھی''
اور سالارِ فوج حضرت خالد کو کہلا بھیجا: «لاتقتلن امرأة ولاعسیفا»1
''عورت اور اجیر کو ہرگز قتل نہ کرو۔''
ایک دوسری روایت کے مطابق آپ ﷺنے عورتوں اور بچوں کے قتل کی عام ممانعت فرما دی:«فنهى النبي عن قتل النساء والصبيان»2 ''نبی کریم نے عورتوں اور بچوں کے قتل سے روک دیا ۔'' ایک حدیث میں ہے کہ آپ ﷺنے فرمایا:
«لاتقتلوا شیخًا فانیًا ولاطفلا صغیرًا ولاامرأة ولاتغلوا وضموا غنائمکم وأصلحوا وأحسنوا إن الله یحب المحسنین»3
'' کسی بوڑھے ضعیف ، چھوٹے بچے اور عورت کو قتل مت کرواور اموالِ غنیمت میں چوری نہ کرو۔ جنگ میں جو کچھ ہاتھ میں آئے سب کوایک جگہ جمع کرو۔نیکی اور احسان کرو، اللہ محسنین کو پسند کرتا ہے۔''
فتح مکہ کے موقع پر آپ ﷺنے پہلے سے ہدایت فرمادی کہ کسی زخمی پر حملہ نہ کرنا، جو کوئی جان بچا کر بھاگے اس کا پیچھا نہ کرنا اور جو اپنا دروازہ بند کرکے بیٹھ جائے، اسے امان دینا ۔
عبد اللہ بن عباس ؓسے روایت ہے کہ
''آنحضرتﷺ جب کبھی فوج بھیجتے تھے تو ہدایت کردیتے تھے کہ معابد کے بے ضرر خادموں اور خانقاہ نشین زاہدوں کو قتل نہ کرنا:
«لاتقتلوا... أصحاب الصوامع»4
خلاصہ یہ کہ وہ تمام لوگ جو لڑنے سے معذور ہیں، قتال سے مستثنیٰ ہیں بشرطیکہ وہ جنگ میں حصہ نہ لیں۔لیکن اگر بیمار فوجوں کی رہنمائی کر رہا ہو، عورت جاسوسی کر رہی ہو، بچہ خفیہ خبریں لارہا ہو یا مذہبی رہنما فوج کو جنگ کا جوش وجذبہ دلارہا ہو،تو اس کا قتل جائز ہو گا۔
غفلت میں حملہ کرنے سے احتراز
عرب میں قاعدہ تھا کہ راتوں کواور خصوصاً رات کے آخری حصہ میں جب لوگ سو رہے ہوتے اچانک حملہ کر دیتے تھے۔ رسول اللہﷺ نے اس عادت کو بند کر دیا:
«کان إذاجاء قومًا لم یغرحتی یصبح»5
''آپ جب کسی دشمن پر رات کے وقت پہنچتے تو جب تک صبح نہ ہوتی حملہ نہ کرتے۔''
آگ میں جلانے سے ممانعت
عرب اور غیر عرب شدتِ انتقام میں دشمن کو زندہ جلادیا کرتے تھے۔ حضورؐ نے اس وحشیانہ حرکت کو بھی ممنوع قرار دیا۔ آپ ﷺنے فرمایا:
«لاینبغي أن یعذب بالنار إلا ربّ النار»6
'' آگ کا عذاب صرف آگ کے رب کو ہی لائق ہے کہ وہ دے۔''
ایک مرتبہ حضرت علی نے زنادقہ کو جلا یا تھا حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے اُنہیں نبی کریم ﷺکا یہ حکم سنایا:«لاتعذبوا بعذاب الله»7
آگ اللہ کا عذا ب ہے۔اس سے بندوں کو عذاب نہ دو ۔
ہاتھ باندھ کر قتل کرنے کی ممانعت
رسول اللہ ﷺ نے دشمن کو باندھ کر قتل کرنے اور تکلیف دے کر قتل کرنے سے منع کر دیا ۔عبید بن یعلی کا بیان ہے کہ ہم عبد الرحمن بن خالد کے ساتھ جنگ پر گئے تھے، ایک موقع پر ان کے پاس لشکر ِاعدا میں سے چار نوجوان پکڑے ہوئے آئے۔ اُنہوں نے حکم دیا کہ انھیں باندھ کر قتل کیا جائے۔اس کی اطلاع حضرت ابو ایوب انصاری ؓکو ہوئی تو اُنہوں نے کہا:«سمعت رسول الله ﷺ ینهی عن قتل الصبر فو الذي نفسي بیده لوکانت الدجاجة ماصبرتها»8
''میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ آپؐ نے باندھ کرقتل کرنے سے روکا ہے ۔اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، اگر مرغی بھی ہوتی تو میں اسے باندھ کر قتل نہ کرتا ۔''
عبدالرحمن کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو انہوں نے اسکے کفارہ میں چار غلام آزاد کیے۔
لوٹ مار کی ممانعت
جنگ ِخیبر میں صلح ہو جانے کے بعد جب اسلامی فوج کے نئے نوجوان بے قابوہو گئے اور اُنہوں نے غار ت گری شروع کردی تو آپ نے عبدالرحمن بن عوف کو حکم دیا :لشکر کو نماز کے لیے جمع کرو ۔جب لوگ جمع ہو گئے ، تو آپ ﷺنے خطبہ دیا اور فرمایا
''تمہارے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ اہل کتاب کے گھروں میں بلااجازت داخل ہو جاؤ ،ان کی عورتوں کو مارو پیٹو اور ان کے پھل کھا جاؤ حالانکہ جو اُن پر واجب تھا،وہ تم کو دے چکے۔''
عبد اللہ بن یزید روایت کرتے ہیں :
«نهی النبي ﷺعن النهبٰی والمثلة»9
''نبی ﷺ نے لوٹ مار اور مثلہ سے روکا ہے۔''
راستے میں لوگوں کے جانوروں کا دودھ بھی بلااجازت لینے کی ممانعت فرمادی۔
تبا ہ کاری کی ممانعت
فو ج کی پیش قدمی کے وقت فصلوں کو خراب کرنا، کھیتوں کو تبا ہ کرنا، بستیوں میں قتل عام،آتش زنی کرنا ،جنگجوؤں کے گروہوں میں عام ہے۔ اسلام اسے فساد قرار دیتا ہے اور اس کی کلی ممانعت قرآن میں ہے:
﴿وَإِذا تَوَلّىٰ سَعىٰ فِى الأَر‌ضِ لِيُفسِدَ فيها وَيُهلِكَ الحَر‌ثَ وَالنَّسلَ ۗ وَاللَّهُ لا يُحِبُّ الفَسادَ ٢٠٥ ﴾.... سورة البقرة
''جب وہ حاکم بنتا ہے تو کوشش کرتا ہے کہ زمین میں فساد پھیلائے اور فصلوں اور نسلوں کو برباد کرے اور اللہ تعالی فسادکو پسندنہیں کرتا۔ ''
مثلہ کی ممانعت
دشمن کی لاشوں کو بے حرمت کرنے اور ان کے اعضا کی قطع و برید کرنے کو بھی اسلام نے سختی سے منع کیا ہے ۔عبد اللہ بن یزید انصاری روایت کرتے ہیں :
«نهی النبي ﷺ عن النهبی والمثلة»10
''آپ ﷺنے لوٹ مار اور مثلہ سے منع فرمایا ہے۔''
نبی کریمﷺ فوجوں کو بھیجتے وقت جو ہدایات دیتے تھے، ان میں تا کید فرماتے:
«لاتغدرو ا ولاتغلوا ولاتمثلوا»11
''بد عہدی نہ کرو غنیمت میں خیانت نہ کرو اور مثلہ نہ کرو ۔ ''
قتل اسیرکی ممانعت
فتح مکہ کے موقع پر آپﷺ جب شہر میں داخل ہونے لگے تو فوج میں اعلان کرادیا تھا :
«لاتجهزن على جریح ولا یتبعن مدبرا ولا یقتلن أسیرا ومن أغلق بابه فهو آمن»12
''کسی مجروح پر حملہ نہ کیاجائے ۔کسی بھاگنے والے کا پیچھا نہ کیا جائے۔ کسی قیدی کوقتل نہ کیاجائے اورجو اپنے گھر کا دروازہ بند کر لے وہ امان میں ہے۔''
قتل سفیر کی ممانعت
سُفرا اور قاصدوں کے قتل کو بھی آپ ﷺنے منع فرمایا ہے۔ مسیلمہ کذاب کے قاصد جب اس کا گستاخانہ پیغام لے کر حاضر ہوئے تھے تو آپﷺنے فرمایا:
«لولا أن الر سل لا تقتل، لضربت أعناقكما»13
''اگر قاصدو ں کاقتل ممنوع نہ ہوتا تو میں تمہاری گردن مار دیتا۔''
اسی سے فقہا نے یہ مسئلہ نکالا ہے کہ جب کوئی شخص اسلامی سرحد پر پہنچ کر بیان کرے کہ میں فلاں حکومت کا سفیر ہوں اور حاکم اسلام کے پاس پیغام دے کر بھیجا گیا ہوں تو اس کو امن کے ساتھ داخلہ کی اجازت دی جائے، اس پر کسی قسم کی زیادتی نہ کی جائے۔ اس کے مال ومتاع، خدم وحشم حتیٰ کہ اسلحہ سے بھی تعرض نہ کیاجائے؛ اِلّا یہ کہ وہ اپنا سفیر ہونا ثابت نہ کر سکے۔
بد عہدی کی ممانعت
غدر، نقض عہد اور معاہدوں پر دست درازی کرنے کی برائی میں بے شمار احادیث آئی ہیں جن کی بناپر یہ فعل اسلام میں بدترین گناہ قرار دیا گیا ہے۔ عبداللہ بن عمروؓ سے مروی ہے کہ آپﷺنے فرمایا:
«من قتل معاهدا لم یرح رائحة الجنة، وان ریحها ليوجد من مسیرة أربعین عامًا»14
''جو کو ئی کسی معاہد کو قتل کرے گا، اسے جنت کی بو تک نصیب نہ ہو گی حالانکہ اس کی بو چالیس برس کی مسافت سے بھی محسوس ہوتی ہے۔ ''
بد نظمی اور انتشار کی ممانعت
اہل عرب کی عادت تھی کہ جب جنگ کو نکلتے تو راستہ میں جوملتا ،اسے تنگ کرتے اور جب کسی جگہ اُترتے تو ساری منز ل پر پھیل جاتے تھے یہاں تک کہ راستوں پر چلنا مشکل ہو جاتا تھا۔ داعئ اسلام نے آکر اس کی بھی ممانعت کر دی۔ ایک مرتبہ جب آپ جہاد کے لیے تشریف لے جارہے تھے تو آپﷺ کے پاس شکایت آئی کہ فوج میں عہد ِجاہلیت کی سی بد نظمی پھیلی ہوئی ہے اور لوگوں نے راستہ کو تنگ کر رکھا ہے۔ اس پر آپﷺ نے منادی کرائی: «من ضیق منزلا أوقطع طریقًا فلاجهاد له»15
''جو کوئی راستہ کوتنگ کرے گا یا راہ گیروں کولوٹے گا اس کا جہاد نہیں ہوگا۔''
ایک دوسرے موقع پر فرمایا:
«إن تفرقکم في هذه الشعاب والأودیة إنما ذٰلکم من الشیطان»16
''تمہارا اس طرح وادی میں منتشر ہوجانا ایک شیطانی فعل ہے۔''
ابوثعلبہ خشنی کا بیان ہے کہ اس کے بعد یہ کیفیت ہو گئی تھی کہ جب اسلامی فوج کسی جگہ اُترتی تو اس کا گنجان پڑا ؤدیکھ کر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اگر ایک چادر تان لی جائے تو سب کے سب نیچے آجائیں۔
شورو ہنگامہ کی ممانعت
عرب کی جنگ میں اس قدر شورو ہنگامہ برپاہوتا تھا کہ اس کا نام ہی 'غوغا' پڑھ گیاتھا۔ اسلام لانے کے بعد بھی عربوں نے یہی طریقہ برتنا چاہا مگرداعی اسلام نے اس کی اجازت نہ دی۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری روایت کرتے ہیں :
‏''کنا مع رسول الله ﷺ وکنا إذا أشرفنا علىٰ واد هللنا وکبرنا، ارتفعت أصواتنا، فقال النبي ﷺ: «اربعوا علىٰ أنفسکم، إنکم لا تدعون أصم ولا غائبًا، إنه معکم إنه سمیع قریب»17
''ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، جب کسی وادی پر پہنچتے تھے تو زوروشور سے تکبیر اور تہلیل کے نعرے بلند کرتے تھے۔ اس پر آپ نے فرمایا: اے لوگوں وقار کے ساتھ چلو، تم جس کو پکار رہے ہو وہ نہ بہرہ ہے اور نہ غائب۔ وہ تو تمہارے ساتھ ہے، سب کچھ سنتا ہے اور بہت قریب ہے۔ ''
وحشیانہ افعال کے خلاف عام ہدایات
فوجوں کی روانگی کے وقت جنگی برتاؤ کے متعلق ہدایات دینے کاطریقہ جس سے اُنیسویں صدی کے وسط تک مغربی دنیا نابلد تھی، ساتویں صدی عیسوی میں عرب کے اُمی پیغمبرﷺ نے جاری کیاتھا۔ داعئ اسلامﷺ کا قاعدہ تھا کہ جب آپ ﷺکسی سردار کو جنگ پر بھیجتے تو اسے اور اس کی فوج کو پہلے تقوٰی اور خوف خدا کی نصیحت کرتے، پھر فرماتے :
«فاغزوا جميعا وفي سبیل الله، فقاتلوا من کفر بالله، ولا تغدروا ولا تغلوا ولا تمثلوا ولا تقتلوا ولیدًا»18
''جاؤ سب اللہ کی راہ میں لڑو ، اُن لوگوں سے جواللہ سے کفر کرتے ہیں۔مگر جنگ میں بد عہدی نہ کرو ، غنیمت میں خیانت نہ کرو ، مثلہ نہ کرو اور کسی بچے کو قتل نہ کرو۔ ''
خلیفۂ اوّل حضرت ابوبکر صدیقؓ نے جب شام کی طرف فوجیں روانہ کیں تو ان کو دس ہدایات دی تھیں جن کو تمام مؤرخین اور محدثین نے نقل کیا ہے۔ وہ ہدایات یہ ہیں:
1. عورتیں، بچے اور بوڑھے قتل نہ کیے جائیں ۔
2. مثلہ نہ کیا جائے ۔
3. راہبوں اور عابدوں کو نہ ستایا جائے اور نہ ان کے معابد مسمار کیے جائیں۔
4. کوئی پھل دار درخت نہ کاٹا جائے اور نہ کھیتیاں جلائی جائیں۔
5. آبادیاں ویران نہ کی جائیں ۔
6. جانوروں کو ہلاک نہ کیا جائے۔
7. بدعہدی سے ہر حال میں احتراز کیا جائے۔
8. جو لوگ اطاعت کریں، ان کی جان و مال کا وہی احترام کیا جائے جو مسلمانوں کی جان ومال کا ہے۔
9. اموالِ غنیمت میں خیانت نہ کی جائے۔
10. جنگ میں پیٹھ نہ پھیری جائے۔
اصلاح کے نتائج
ان احکام کے مطالعہ سے معلوم ہوتاہے کہ اسلام نے جنگ کو تمام وحشیانہ افعال سے پاک کردیا جواس عہد میں جنگ کا لازمی جزو بنے ہوئے تھے ۔ اسیرانِ جنگ اور سفرا کا قتل ، مُردوں کی بے حرمتی ، معاہدین کا قتل ، مجروحینِ جنگ کا قتل ، غیر اہل قتال کا قتل ،اعضا کی قطع و برید، آگ کا عذاب ، لوٹ مار، قطع طریق ، فصلوں اور بستیوں کی تخریب ، بد عہدی وپیمان شکنی، فوجو ں کی پراگندگی وبد نظمی ، لڑائی کا شور وہنگامہ، سب کچھ آئین جنگ کے خلاف قرار دیا گیا اور جنگ صرف ایک ایسی چیز رہ گئی جس میں شریف اور بہادر آدمی دشمن کو کم سے کم ممکن نقصان پہنچا کر اس کے شر کو دفع کرنے کی کوشش کرے۔
اس اصلاحی تعلیم نے آٹھ سال کی قلیل مدت میں جو عظیم الشان نتائج پیدا کیے ،اس کابہترین نمونہ فتح مکہ ہے۔ ایک طاقت پر دوسری طاقت کی فتح اور خصوصاًدشمن کے بڑے شہر کی تسخیر کے موقع پر وحشی عرب ہی نہیں بلکہ متمدن روم و ایران میں بھی جو کچھ ہوتا تھا، اسے پیش نظر رکھیے اس کے بعد غور کیجیے کہ وہی عرب جو چند برس پہلے تک جاہلیت کے طریقوں کے عادی تھے اسی شہر میں فاتح کی حیثیت سے داخل ہوتے ہیں جس سے آٹھ ہی برس پہلے ان کو بری طرح تکلیفیں دے دے کر نکالا گیا تھا اور انہی دشمنوں پر فتح حاصل کرتے ہیں جنہوں فاتحوں کو گھر سے بے گھر کرنے پر قناعت نہیں کی تھی بلکہ جس جگہ اُنہوں نے پناہ لی تھی وہاں سے بھی ان کو نکال دینے کے لیے کئی مرتبہ چڑھ کر آئے تھے۔ ایسے شہر اورایسے دشمنوں پر غلبہ حاصل ہوتا ہے مگر کوئی قتل عام نہیں کیا جاتا، کسی قسم کی لوٹ مار نہیں ہوتی، کسی کی جان ومال اور عزت وآبرو سے تعرض نہیں کیا جاتا، پرانے اور کٹر دشمنوں میں سے کسی پر انتقام کا ہاتھ نہیں اٹھتا،تسخیر شہر کی پوری کارروائی میں صرف چوبیس آدمی مارے جاتے ہیں اور وہ بھی اس وقت جب کہ دست درازی میں پیش قدمی خود ان کی طرف سے ہوئی۔
سالارِ فوجﷺ داخلہ سے پہلے اعلان کر دیتا ہے کہ جب تک تم پرکوئی ہاتھ نہ اُٹھائے تم بھی ہاتھ نہ اُٹھانا۔ شہر میں داخل ہوتے ہی منادی کی جاتی ہے کہ جو کوئی اپنا دروازہ بند کر کے بیٹھ جائے گا، اسے امان ہے اور جوکوئی ہتھیار ڈال دے گا، اسے بھی امان ہے جوکوئی ابوسفیان کے گھر پناہ لے گا اسے بھی امان ہے۔ پھرتکمیل تسخیر کے بعد فاتح سردارﷺ کے سامنے دشمن ایک ایک کر کے لائے جاتے ہیں جنہوں نے ان کو تیرہ برس تک انتہائی اذیتیں پہنچانے کے بعد آخر جلاوطنی پر مجبو رکیاتھا۔ جو گھر سے نکالنے کے بعد اس کو اور اس کے دین کو دنیا سے مٹادینے کے لیے بدرواُحد اور احزاب میں بڑی بڑی تیاریاں کر کے گئے تھے۔ یہ دشمن گردنیں جھکائے ہوئے آکھڑے ہوتے ہیں۔ فاتح ﷺ پوچھتے ہیں: اب تم کیا امید کرتے ہو کہ میں تمہارے ساتھ کیا کروں گا؟ مفتوح شرم ساری کے ساتھ جواب دیتے ہیں: أخ کریم وابن أخ کریم'' تو فیاض بھائی ہے اور فیاض بھائی کا بیٹا ہے۔''
اس پر فاتح کہتے ہیں: «لا تثریب علیکم الیوم اذهبوا أنتم الطلقاء»19
''جاؤ تم آزاد ہو آج تم سے باز پرس نہیں۔''
٭ یہ صر ف جان ہی کی بخشش نہ تھی بلکہ اس کے ساتھ فاتح اور اُس کی فوج نے اُن جائیدادوں کو بھی اُنہیں کے حق میں معاف کردیا جو آٹھ برس پہلے ان کی مِلک میں تھیں۔
٭ ہبار بن اسود جو فاتحﷺ کی جوان بیٹی سیدہ زینبؓ کاقاتل تھا، عاجزی کے ساتھ مسلمان ہوا اور معاف کیاگیا۔
٭ وحشی بن حرب جس نے فاتح کے نہایت محبوب چچا حمزہ کو قتل کیا تھا، مسلمان ہوااور بخشا گیا۔
٭ ہند بنت عتبہ جو سیدنا حمزہ کاکلیجہ20 چباگئی تھی، اپنی انتہائی شقاوت کے باوجود فاتح کے غضب سے محفوظ رہی اور آخرعفوو درگزر کا دامن اس کے لیے بھی وسیع ہو ا۔
٭ سب سے بڑے دشمنِ اسلام ابو جہل کابیٹا عکرمہ جو خود بھی بڑا دشمن اسلام تھا، مسلمان ہوا اور جلیل القدر صحابہ کی صف میں شامل کیا گیا۔
٭ ان کے علاوہ عبد اللہ بن ابی سرح ،سارہ اور کعب بن زبیر جو سب کے سب فاتح کے جانی دشمن تھے، معاف کیے گئے۔
جنگ کے مہذب قوانین
اطاعتِ امام
جنگ کو ایک ضابطہ کے تحت لانے کے سلسلہ میں اسلام کا پہلا کام یہ تھا کہ اس نے فوجی نظام میں مرکزیت پیدا کی اور فوج میں سمع وطاعت کا زبردست قانون جاری کیا۔ اسلام کے قواعد ِحرب میں اوّلین اوراہم ترین قاعدہ یہ ہے کہ کوئی خفیف سے خفیف جنگی کارروائی بھی امام کی اجازت کے بغیر نہیں کی جاسکتی۔ دشمن کوقتل کرنا، اس کے مال پر قبضہ کرنا، اس کوقید کرنا، اس کے جنگی آلات کو برباد کردینا فی نفسہٖ جائز ہونے کے باوجود ایسی حالت میں سخت ناجائز بلکہ گناہ ہو جاتا ہے جب کہ امام کے حکم اور اجازت کے بغیر ایسا کیا جائے۔
جنگِ بدر سے پہلے جب حضرت عبداللہ بن جحش نے آپ ﷺکی اجازت کے بغیر قریش کی ایک جماعت سے جنگ کی اور کچھ مالِ غنیمت بھی لوٹ لائے تو اس پر آپﷺ نے سخت ناراضی کااظہار کیا اور ان کے مالِ غنیمت کو ناجائز قرار دیا۔ صحابہ کرام کی ایک جماعت نے ان کو یہ کہہ کر ملامت کی تھی کہ صنعتم ما لم تومروا به ''تم نے وہ کام کیا ہے جس کا تمہیں حکم نہیں دیا گیا تھا۔''
حضرت خالدؓ بنوخزیمہ کی طرف دعوتِ اسلام کے لیے بھیجے گئے اور وہاں اُنہوں نے امام کی اجازت کے بغیر ایک غلط فہمی کی بنیاد پر قتل کا بازار گرم کر دیا۔ اس کی اطلاع جب رسول اللہ کوہوئی تو آپﷺ شدتِ غضب سے بے تاب ہوکر کھڑے ہوگئے اور فوراً حضرت علی کو یہ حکم دے کر بھیجا : «اجعل أمر الجاهلیة تحت قدمیك» تم اس جاہلیت کے کام کو جا کر مٹادو۔ اسلام نے اطاعتِ امام کو خود خدا اور رسول اللہ کی اطاعت کے بعد ضروری قرار دیا ہے اور امام کی نافرمانی کو رسول اللہﷺ کی نافرمانی کے بعد کا درجہ دیا ہے۔
ایفاے عہد
اسلامی قانون نے جنگ اور صلح دونو ں حالتوں میں وفائے عہد کی سخت تاکید کی ہے۔
حقیقتاً اخلاقیات کے قواعدِاصلیہ میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انسان کو سخت سے سخت ضرورت کی حالت میں بھی اپنے عہد پر قائم رہنا چاہیے۔ بدعہدی سے خواہ کتنا ہی بڑا فائدہ پہنچتا ہو اور وفائے عہد سے کتناہی شدید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو، اسلام بہر صورت میں اپنے پیرووں کوتاکید کرتاہے کہ اس فائدے کو چھوڑ دیں اور اس نقصان کو برداشت کر لیں۔ کیونکہ نہ بد عہدی کا بڑے سے بڑا فائدہ اس نقصان کی تلافی کر سکتا ہے جو اس سے انسان کے اخلاق اور روحانیت کوپہنچتا ہے اور نہ ایفائے عہدکاکو ئی بڑے سے بڑ انقصان اس اخلاقی اور روحانی فائدے کو کم کر سکتا ہے جو اس کے ساتھ وابستہ ہے۔ یہ قاعدہ کلیہ جس طرح انفرادی اور شخصی زندگی پر حاوی ہے، اسی طرح اجتماعی اور قومی زندگی پر بھی حاوی ہے۔ آج کل دنیا میں یہ دستور بن گیا ہے کہ جن کاموں کو ایک شخص اپنی ذاتی حیثیت میں سخت شرمناک سمجھتا ہے، انہیں ایک قوم اپنی اجتماعی زندگی میں بے تکلف کر گزرتی ہے اور اسے کوئی عیب نہیں سمجھتی۔ سلطنتوں کے مدبرین اپنی ذاتی حیثیت میں کیسے اخلاقِ فاضلہ و تہذیب ِکاملہ کے مالک ہوں مگر اپنی سلطنت کے فائدے اور اپنی قوم کی ترقی کے لیے جھوٹ بولنا ، بے ایمانی کرنا ، عہد توڑ دینا، وعدہ خلافیاں کرنا بالکل جائز سمجھتے ہیں اور بڑی بڑی مدعی تہذیب سلطنتیں ایسی بے باکی کے ساتھ یہ حرکات کرتی ہیں کہ گویا کہ یہ کوئی عیب نہیں ہے ۔لیکن اسلام اس معاملہ میں فرد اور جماعت، رعیت اور حکومت، شخص اور قوم میں کوئی امتیاز نہیں کرتا اور بد عہدی کو ہر حال میں ہر غرض کے لیے ناجائز قرار دیتاہے۔ خواہ وہ شخصی فائدے کے لیے ہو یاقومی فائدے کے لیے:
﴿وَأَوفوا بِعَهدِ اللَّهِ إِذا عـٰهَدتُم وَلا تَنقُضُوا الأَيمـٰنَ بَعدَ تَوكيدِها وَقَد جَعَلتُمُ اللَّهَ عَلَيكُم كَفيلًا ۚ إِنَّ اللَّهَ يَعلَمُ ما تَفعَلونَ ٩١ ﴾.... سورة النحل
''اور اللہ کے عہد کو پورا کرو جب تم آپس میں عہد وپیمان باندھو اور قسموں کو ان کی پختگی کے بعد مت توڑو حالانکہ تم اللہ کو اپنا ضامن ٹھہرا چکے ہو۔تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس کو بخوبی جان رہا ہے۔''
معاہدین اور غیر معاہدین
اسلامی قانون تمام غیر مسلم لوگوں کو دوجماعتو ں میں تقسیم کرتاہے۔ ایک وہ جس سے معاہدہ ہے ،دوسرے وہ جن سے معاہدہ نہیں ہے ۔ معاہدین جب تک تمام شرائط معاہدہ پر قائم رہیں گے، ان کے ساتھ شرائط کے مطابق معاملہ کیا جائے گا اورجنگ میں ان سے کسی قسم کا تعرض نہیں کیا جائے گا:
﴿إِلَّا الَّذينَ عـٰهَدتُم مِنَ المُشرِ‌كينَ ثُمَّ لَم يَنقُصوكُم شَيـًٔا وَلَم يُظـٰهِر‌وا عَلَيكُم أَحَدًا فَأَتِمّوا إِلَيهِم عَهدَهُم إِلىٰ مُدَّتِهِم ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ المُتَّقينَ ٤ ﴾.... سورة التوبة
''سوائے ان مشرکوں کے جن سے تمہارا معاہدہ ہو چکا ہے اور انہوں نے تمہیں ذرا سا بھی نقصان نہیں پہنچایا نہ کسی کی تمہارے خلاف مدد لی ہے تو تم بھی ان کے معاہدے کی مدت ان کے ساتھ پوری کرو۔''
ان روشن اور عادلانہ اُصولوں کی روشنی میں آج کی جنگوں کا جا ئزہ لیا جائے تو ان کے ظالمانہ طریقوں کو دیکھ کر انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔آج ملکوں پر کارپٹ بمباری ہوتی ہے، بے گناہ شہریوں کا قتل عام ہوتا ہے۔قید یو ں کے ساتھ ایسے ظالمانہ برتاؤ ہو تے ہیں جو درندگی اور وحشت کی انتہا پر پہنچے ہوتے ہیں۔ ابو غریب جیل میں کنٹینرز میں ہزاروں لوگوں کو بند کر کے مار دیا گیا اور گوانتاناموبے میں قیدیوں کو کھانا گندگی میں ملا کر کھلایا جاتا ہے اور ان کو قضاے حاجت کی جگہوں میں بند کیا جاتا ہے، اس پر طرفہ تماشا یہ کہ ایسا سب کچھ کرنیوالے تہذیب کے داعی ہوں اور دنیا بھر میں انسانی حقوق کے محافظ بنتے پھریں۔دنیا آج پھر اسلام کے عادلانہ حکمرانی اور اسکے عادلانہ طور طریقوں کی منتظر ہے!!
حوالہ جات
1سنن ابوداؤد:2669
2صحیح بخاری:2852
3سنن ابوداؤد:2614
4مسند احمد:4؍26
5صحیح بخاری:2784
6سنن ابوداؤد:5268
7صحیح بخاری:6524
8سنن ابوداؤد:2667
9صحیح بخاری:2342
10صحیح بخاری:2342
11مسند احمد:4؍461
12الرحیق المختوم،ص 434، سنن دار قطنی:3؍60
13سنن ابوداؤد:2761
14صحیح بخاری:2995
15سنن ابوداؤد:2629
16ایضاً: 2628
17صحیح بخاری:2830
18مستدرك حاكم:4؍582
19بیہقی:9؍118
20سیدنا حمزہ کے بارے میں یہ واقعہ مستند طورپر ثابت شدہ نہیں ، مزید تفصیل کے لئے دیکھیں ماہنامہ 'محدث' اکتوبر2008ء، 'ہندہ بنت عتبہ کے متعلق مبالغہ آمیز قصہ 'از مولانا عبد الجبار سلفی (ادارہ)