نمازِ پنجگانہ کی رکعات کی صحیح تعداد کے متعلق عام طور پر عامۃ الناس میں مختلف آرا پائی جاتی ہیں جیسے عشاء کی نماز کی ١٧ رکعات وغیرہ اور پھر ان رکعات کے مؤکدہ اور غیر مؤکدہ نوافل کے تعین کامسئلہ بھی زیر بحث رہتاہے۔ذیل میں افادۂ عام کے لیے نمازِ پنجگانہ کے مؤکدہ اور غیرمؤکدہ نوافل اور فرائض کی صحیح تعداد کو دلائل کے ساتھ پیش کر دیا گیا ہے۔
فرائض: جمعہ کے علاوہ ہر دن کی پانچ نمازوں کے فرائض کی تعداد کل ١٧ ہے جو احادیث ِصحیحہ اور اُمت کے عملی تواتر سے ثابت ہیں۔
سنت ِمؤکدہ: اسی طرح نمازوں کے فرائض سے پہلے یا بعد کے نوافل جو آپﷺ کی عادت اور معمول تھایا پھر آپﷺسے ان کی تاکیدو ترغیب بھی منقول ہے، ان کی تعداد کم ازکم١٢ ہے۔ ان میں سے ١٢ نوافل کے بارے میں سیدہ اُمّ حبیبہؓ فرماتی ہیں:
«سمعت رسول اﷲﷺ یقول: «من صلّىٰ اثنتي عشرة رکعة في یوم ولیلة بُني له بهن بیت في الجنة»1
''میں نے رسول اللہﷺ سے سنا كہ جو شخص دن اور رات میں ١٢ رکعات پڑھ لے، اُن کی وجہ سے اس کے لئے جنت میں ایک محل بنا دیا جاتا ہے۔''
آپ ﷺنے فرمایا:
«من صلى في یوم ولیلة ثنتي عشرة رکعة بنی له بیت في الجنة أربعًا قبل الظهر ورکعتین بعدها ورکعتین بعد المغرب ورکعتین بعد العشاء ورکعتین قبل صلاة الغداة»2
''جس نے رات اور دن میں ١٢ رکعت (نوافل) ادا کیے، جنت میں اس کے لئے گھر بنا دیا جاتا ہے: چار رکعت قبل از ظہر ، دو بعد میں، دو رکعت مغرب کے بعد، دو عشاء کے بعد اور دو صبح کی نماز کے بعد۔''
نمازِ فجر تعداد رکعات : ٤ (٢ نفل +٢ فرض)
نوافل: اُمّ المومنین سیدہ حفصہؓ فرماتی ہیں :
«کان إذا سکت المؤذن من الأذان لصلاة الصبح، وبدأ الصبح، رکع رکعتین خفیفتین قبل أن تقام الصلاة»3
''جب مؤذن اذان کہہ لیتااور صبح صادق شرو ع ہوجاتی تو آپﷺ جماعت کھڑی ہونے سے پہلے مختصر سی دو رکعتیں پڑھتے۔''
فرائض:سیدناابو برزہ اسلمیؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ صبح کی نماز پڑھاتے:
«وکان یقرأ في الرکعتین وأحدهما ما بین الستین إلىٰ المائة»4
'' آپﷺ دو رکعتوں یا کسی ایک میں 60سے 100 تک آیات تلاوت فرماتے تھے''
٭ آپﷺ سے فجر کے فرائض سے پہلے دو رکعت نماز پرمداومت یعنی ہمیشگی ثابت ہے جیساکہ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں:
«إن النبيﷺ لم یکن علی شيء من النوافل أشد معاهدة منه علىٰ رکعتین قبل الصبح»5
''بیشک نبی ﷺنوافل میں سے سب سے زیادہ اہتمام صبح کی سنتوں کا کرتے تھے۔''
ظہر : زیادہ سے زیادہ رکعات :١٢ (٢یا ٤ نفل+٤ فرض+٢ یا ٤ نفل)
نوافل: ٭ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں :
«کان یصلي في بیت قبل الظهر أربعًا ثم یخرج فیصلي بالناس ثم یدخل فیصلي رکعتین»6
''آپ ﷺ میرے گھر میں ظہر سے پہلے چار رکعات نوافل ادا کرتے اور لوگوں کو نماز پڑھانے کے بعد گھر واپس آکر دو رکعات پڑھتے تھے۔''
٭ سیدناابن عمر فرماتے ہیں:
«صلَّیت مع النبي سجدتین قبل الظهر والسجدتین بعد الظهر»7
''میں نے نبیﷺ کے ساتھ دو رکعت نوافل ظہر سے پہلے اور دو ظہر کی نماز کے بعد پڑھے۔''
٭ سیدہ اُمّ حبیبہؓ سے روایت ہے کہ آپﷺنے فرمایا:
«من حافظ على أربع رکعات قبل الظهر وأربع بعدها حرم على النار»8
''جو شخص ظہر سے قبل اور بعد چار چار رکعات نوافل کا اہتمام کرے، وہ آگ پر حرام ہو جائے گا۔''
٭ مذکورہ بالا روایات سے ظہرکی سنتوں کے بارے میں پتہ چلا کہ وہ زیادہ سے زیادہ ١٢ ہیں اور ان میں کم از کم ٤ رکعات نوافل مؤکدہ ہیں۔جیسا کہ سیدہ عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں:
«إن النبي کان لا یدع أربعًا قبل الظهر ورکعتین قبل الغداة»9
''نبی ﷺظہر سے پہلے کی چار رکعات اور فجر سے پہلے کی دو رکعات کبھی نہ چھوڑتے۔''
فرائض: سیدنا ابوقتادہؓ سے روایت ہے :
«أن النبي کان یقرأ في الظهر في الأولیین بأمّ الکتاب وسورتین وفي الرکعتین الأخریین بأمّ الکتاب...الخ»10
''بے شک نبیﷺظہر کی پہلی دو رکعتوں میں سورۂ فاتحہ اور ایک ایک سورت پڑھتے اور آخری دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ پڑھتے...الخ''
عصر: تعداد رکعات : ١٠ (٤ نفل+٤ فرض+٢ نفل)
نوافل: ٭سیدنا علیؓ سے روایت ہے :
«کان النبي یصلي قبل العصر أربع رکعات»
''نبی ﷺعصر سے پہلے چار رکعات نوافل ادا کرتے تھے۔''11
٭ ابن عمر ؓسے روایت ہے آپﷺنے فرمایا:
«رحم اﷲ امرأ صلى قبل العصر أربعًا»12
''اللہ تعالیٰ اس پر رحمت فرمائیں جو عصر کی نماز سے قبل چار رکعات پڑھے۔''
٭ سیدنا ابوسعیدخدری ؓسے روایت ہے، فرماتے ہیں:
«کنا نحزر قیام رسول اﷲ في الظهر والعصر...وحزرنا قیامه في الرکعتین الأولیین من العصر علی قدر قیامه من الأخریین من الظهر وفي الأخریین من العصر علی النصف من ذلك»13
''ہم رسول اللہﷺ کے ظہر اور عصر کے قیام کا اندازہ لگایا کرتے تھے...عصر کی نماز کی پہلی دو رکعتوں کے قیام کا اندازہ اس طرح کرتے کہ وہ ظہر کی آخری دو رکعتوں کے قیام کے برابر ہوتا اور آخری دو رکعتوں کا قیام عصر کی پہلی دو رکعتوں سے نصف ہوتاتھا۔''
٭ سیدہ عائشہ ؓفرماتی ہیں:
«ما ترك النبي ﷺ السجدتین بعد العصر عندي قط»14
''آپ ﷺ نے میرے پاس کبھی بھی عصر کے بعد دو رکعت نوافل پڑھنا ترک نہیں کیے۔''
٭ عصر کی فرض نماز سے پہلے چار رکعت نوافل آپﷺسے ثابت ہیں، کیونکہ اس پر آپ ﷺکا دوام ثابت نہیں،اس لیے یہ نوافل مؤکدہ نہیں ہیں۔
سیدنا علی ؓ فرماتے ہیں:
«یصلي قبل الظهر أربعًا وبعدها رکعتین وقبل العصر أربعًا یفصل بین کل رکعتین بالتسلیم»15
''اور نبی کریمﷺ نے ظہر سے پہلے چار رکعت نوافل ادا کئے اور دو بعد میں اسی طرح چار رکعت نوافل عصر کی نماز سے پہلے ادا کئے اور آپﷺنے ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرا۔''
٭ یاد رہے کہ ظہر اور عصر کے پہلے چار چار نوافل کو دو دو رکعت کر کے پڑھنا سنت ہے جیسا کہ مذکورہ روایت سے ثابت ہوتا ہے۔
مغرب: تعداد رکعات: ٥ (٣ فرض+٢ نفل)
فرائض: سیدناعبد اللہ بن عمر سے روایت ہے:
«جمع رسول اﷲ ﷺ بین المغرب والعشاء بجمع، صلى المغرب ثلاثًا والعشاء رکعتین بـإقامة واحدة»16
''رسول اللہﷺ نے(سفر میں) مغرب اور عشاء کو ایک ہی وقت میں جمع کیا۔ آپ نے مغرب کی تین رکعت اور عشاء کی دو رکعتیں ایک ہی اقامت سے پڑھائیں۔''
نوافل: سیدہ عائشہؓ نبیﷺ کی فرض نمازوں سے پہلے اور بعد کے نوافل بیان کرتے ہوئے فرماتی ہیں:«وکان یصلي بالناس المغرب ثم یدخل فیصلي رکعتین»17
''آپ لوگوں کو مغرب کی نماز پڑھاتے پھر میرے گھر میں داخل ہوتے اور دو رکعت نماز نوافل ادا کرتے۔''
نوٹ: مغرب کی نما زسے پہلے دو رکعت نفل بھی آپﷺ سے ثابت ہیں۔ عبداللہ مزنی سے روایت ہے کہ «إن رسول اﷲصلی قبل المغرب رکعتین»18
''رسول اللہﷺنے مغرب کی نماز سے پہلے دو رکعت نفل ادا کیے۔''
لیکن یہ دو رکعت مؤکدہ نہیں ہیں۔عبداللہ مزنی سے ہی روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا:
«صلوا قبل صلاة المغرب» قال في الثالثة: «لمن شاء» کراهیة أن یتخذها الناس سنة»19
''مغرب کی نماز سے پہلے دو رکعت پڑھو تین دفعہ فرمایا اور تیسری مرتبہ فرمایا جو چاہے۔ تاکہ کہیں لوگ اسے مؤکدہ نہ سمجھ لیں۔''
عشاء: تعداد رکعات کم از کم ایک وتر: ٧ (٤فرض +٢نفل+١وِتر)
فرائض: سیدناعمر نے سیدنا سعد سے اہل کوفہ کی شکایت کے بارے میں پوچھا کہ آپ نماز اچھی طرح نہیں پڑھاتے تو آپ نے جواب دیا:
«أما أنا واﷲ فإني کنت أصلي بهم صلاة رسول اﷲ ﷺ، ما أخرم عنها، أصلي صلاة العشاء فأرکد في الأولیین، وأخف في الأخریین قال: ذلك الظن بك یا أباإ سحٰق»20
''اللہ کی قسم! میں اُنہیں نبیﷺ کی نماز کی طرح ہی نماز پڑھاتا تھا اور اس سے بالکل کوتاہی نہ کرتا تھا۔ میں عشاء کی نماز جب پڑھاتا تو پہلی دورکعتوں کو لمبا کرتا اور آخری دو رکعتوں کو ہلکاکرتا ۔ سیدناعمر فرمانے لگے:اے ابو اسحٰق !تمہارے بارے میں میرا یہی گمان تھا۔''
نوافل: عشاء کی فرض نمازکے بعدنبیﷺسے ٢ اور ٤ نوافل پڑھنے کا ثبوت ملتا ہے
٭ سیدناعبداللہ بن عمر کہتے ہیں:
«صلیت مع النبي... وسجدتین بعد العشاء... الخ»21
''میں نے نبیﷺکے ساتھ . . . عشاء کے بعد دو رکعات نماز پڑھی۔''
٭ سیدنا ابن عباس فرماتے ہیں:
''میں نے اپنی خالہ میمونہؓ کے گھر میں ایک رات گزاری:« فصلى رسول اﷲ ﷺ العشاء ثم جاء فصلى أربع رکعات ثم نام»22
''آپﷺ نے عشا کی نماز پڑھائی، پھر گھرآئے اور چار نوافل اداکئے اور سوگئے''
٭نبیﷺ کے عام حکم «بین کل أذانین صلاة، بین کل أذانین صلاة»ثم قال في الثالثة «لمن شاء»23
''آپﷺ نے فرمایا: ہر دو اذانوں(اذان اور اقامت) کے درمیان نماز ہے، ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے۔ تیسری دفعہ آپﷺ نے فرمایا جو چاہے۔''
سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر فرض نمازسے پہلے دو رکعت نماز کی ترغیب ہے۔ لہٰذا اس مشروعیت کے مطابق عشاء کی نماز سے پہلے دو رکعت نوافل ادا کئے جاسکتے ہیں۔
٭ وتر کے بعد دو سنتیں پڑھنا آپﷺسے ثابت ہے جیسا کہ اُمّ سلمہ سے روایت ہے:
«أن النبي کان یصلي بعد الوتر رکعتین»24
''آپ ﷺوتر کے بعد دو رکعت نوافل ادا کرتے تھے۔''
وِتر
آپﷺ کی قولی و فعلی احادیث سے ایک، تین، پانچ ،سات اور نو رکعت وتر ثابت ہیں۔
٭ سیدنا ایوب انصاریؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا:
«الوتر حق على کل مسلم، فمن أحب أن یوتر بخمس فلیفعل، ومن حب أن یوتر بثلاث فلیفعل، ومن أحب أن یوتر بواحدة فلیفعل»25
''وتر ہر مسلمان پر حق ہے۔ چنانچہ جو پانچ وتر ادا کرنا پسند کرے وہ پانچ پڑھ لے اور جو تین وتر پڑھنا پسند کرے وہ تین پڑھ لے اور جو ایک رکعت وتر پڑھنا پسند کرے تو وہ ایک پڑھ لے۔''
٭ سیدہ اُمّ سلمہؓ فرماتی ہیں:« کان رسول اﷲ یوتر بسبع أو بخمس... الخ»26
'' رسول اللہﷺسات یا پانچ وتر پڑھا کرتے تھے۔''
وِتر پڑھنے کا طریقہ
1. تین وتر پڑھنے کے لئے دو نفل پڑھ کر سلام پھیرا جائے اور پھر ایک وتر الگ پڑھ لیا جائے۔ سیدہ عائشہ ؓسے روایت ہے:
«کان یوتر برکعة وکان یتکلم بین الرکعتین والرکعة»27
''آپؐ ایک رکعت وتر پڑھتے جبکہ دو رکعت اور ایک کے درمیان کلام کرتے۔''
مزیدسیدنا ابن عمر کے متعلق ہے کہ
«صلىٰ رکعتین ثم سلم ثم قال: أدخلوا إليّ ناقتي فلانة ثم قام فأوتر برکعة»28
''اُنہوں نے دو رکعتیں پڑھیں پھر سلام پھیر دیا۔پھر کہا کہ فلاں کی اونٹنی کو میرے پاس لے آؤ پھر کھڑے ہوئے اور ایک رکعت وتر ادا کیا۔''
2. پانچ وتر کا طریقہ یہ ہے کہ صرف آخری رکعت میں بیٹھ کر سلام پھیرا جائے۔ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں:« کان رسول اﷲ ﷺ یصلي من اللیل ثلاث عشرة رکعة، یوتر من ذلك بخمس، لا یجلس في شيء إلا في آخرها»29
''رسول اللہ رات کو تیرہ رکعت نماز پڑھا کرتے تھے۔ ان میں سے پانچ وتر ادا کرتے اور ان میں آخری رکعت ہی پر بیٹھتے تھے۔''
3. سات وتر کے لئے ساتویں پر سلام پھیرنا:
سیدہ عائشہؓ سے ہی مروی ہے کہ سیدہ اُمّ سلمہؓ فرماتی ہیں کہ
«کان رسول اﷲ ﷺ یوتر بسبع وبخمس لا یفصل بینهن بتسلیم ولا کلام»30
''نبی ﷺسات یا پانچ وتر پڑھتے ان میں سلام اور کلام کے ساتھ فاصلہ نہ کرتے۔''
4. نو وتر کے لئے آٹھویں رکعت میں تشہد بیٹھا جائے اور نویں رکعت پر سلام پھیرا جائے۔ سیدہ عائشہؓ نبیﷺ کے وتر کے بارے میں فرماتی ہیں: «ویصلي تسع رکعات لا یجلس فیها إلا في الثامنة ... ثم یقوم فیصلي التاسعة»31
''آپﷺ نو رکعت پڑھتے اور آٹھویں رکعت پر تشہد بیٹھتے ...پھر کھڑے ہوکر نویں رکعت پڑھتے اور سلام پھیرتے۔''
قنوتِ وتر: آخری رکعت میں رکوع سے پہلے دعائے قنوت پڑھنا راجح ہے۔
سیدنا اُبی بن کعبؓ سے روایت ہے:
«أن رسول اﷲ کان یوتر فیقنت قبل الرکوع»32
''بے شک رسول اللہﷺ وتر پڑھتے تو رکوع سے پہلے قنوت کرتے تھے۔''
وتر کی دعا
«اَللّٰهُمَّ اهْدِنِيْ فِیْمَنْ هَدَیْتَ وَعَافِنِيْ فِیْمَنْ عَافَیْتَ وَتَوَلَّنِيْ فِیْمَنْ تَوَلَّیْتَ وَبَارِكْ لي فِیْمَا اَعْطَیْتَ وَقِنِيْ شَرَّ مَاقَضَیْتَ فَإنَّكَ تَقْضِيْ وَلَا یُقْضٰی عَلَیْك إنَّه لَا یَذِلُّ مَنْ وَّالَیْتَ وَلَا یَعِزُّ مَنْ عَادَیْتَ تَبَارَکْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَیْتَ»
''اے اللہ! مجھے ہدایت دے ان لوگوں کے ساتھ جنہیں تو نے ہدایت دی،مجھے عافیت دے ان لوگوں کے ساتھ جنہیں تو نے عافیت دی، مجھ کو دوست بنا ان لوگوں کے ساتھ جنہیں تو نے دوست بنایا۔ جو کچھ تو نے مجھے دیا ہے اس میں برکت عطا فرما اور مجھے اس چیز کے شر سے بچا جو تو نے مقدر کردی ہے، اس لئے کہ تو حکم کرتا ہے، تجھ پر کوئی حکم نہیں چلا سکتا ۔جس کو تو دوست رکھے وہ ذلیل نہیں ہوسکتا اور جس سے تو دشمنی رکھے وہ عزت نہیں پاسکتا۔ اے ہمارے ربّ! تو برکت والا ہے، بلند و بالا ہے۔''33
نمازِ جمعہ کی رکعات
نوافل:نمازِ جمعہ سے پہلے دو رکعت نوافل ادا کیے جاتے ہیں،جیسا کہ ارشادِ نبویﷺہے:
«إذا جاء أحدکم یوم الجمعة والإمام یخطب فلیرکع رکعتین»34
''جب تم میں کوئی جمعہ کے دن آئے اور امام خطبہ دے رہا ہو تو وہ دو رکعتیں ادا کرے''
یہ جمعہ کے کوئی مخصوص نوافل نہیں ہیں بلکہ آپﷺکے دو سرے عام حکم :
«إذا دخل أحدکم في المسجد لا یجلس حتی یصلي رکعتین»35
''جب تم میں سے کوئی مسجد میں آئے تو دو رکعت نماز پڑھے بغیر نہ بیٹھے۔''
کے مطابق یہ تحیۃ المسجد کے نوافل ہیں۔
نوٹ: جمعہ کے فرائض سے پہلے نوافل کی تعداد محدود نہیں ہے۔اِستطاعت کے مطابق جتنے کوئی پڑھ سکے،پڑھ سکتاہے، جس کی دلیل آپ ﷺکا فرمان: «من اغتسل ثم أتىٰ الجمعة فصلى ما قدر له»36 ''جو شخص غسل کرے پھر وہ جمعہ کے لیے آئے تو جتنی اس کے مقدر میں نماز ہو ادا کرے...'' ہے۔ اس سے ثابت ہوا جمعہ سے پہلے نوافل کی مقدار متعین نہیں جتنی توفیق ہو پڑھ سکتا ہے۔
اسی طرح جمعہ کے بعد آپﷺ سے زیادہ سے زیادہ ٦ رکعات نوافل ثابت ہیں۔جس سے متعلق اَحادیث درج ذیل ہیں:
1. ابن عمر کے بارے میں وارد ہے کہ
«إذا کان بمکة فصلى الجمعة تقدم فصلى رکعتین،ثم تقدم فصلى أربعًا، وإذا کان بالمدینة صلى الجمعة، ثم رجع إلىٰ بیته فصلى الرکعتین، ولم یصل في المسجد فقیل له فقال: کان رسول اﷲ ﷺ یفعل ذلك»37
''جب وہ مکہ میں ہوتے تو جمعہ پڑھ کی دو رکعت ادا کرتے۔ پھر چار رکعات ادا کرتے اور جب مدینہ میں ہوتے تو جمعہ پڑھتے اور گھر جاکر دو رکعت پڑھتے،مسجد میں کچھ نہ پڑھتے۔اُن سے پوچھا گیا تو فرمایا : رسول اللہ ﷺاسی طرح کیا کرتے تھے۔''
2. آپﷺنے فرمایا:
«إذا صلى أحدکم الجمعة فلیصل بعدها أربع رکعات»
''جب تم میں سے کوئی نمازِ جمعہ ادا کرے تو اس کے بعد چار رکعات اَدا کرے۔''
دوسری حدیث کے تحت سہیل کہتے ہیں کہ
''اگر جلدی ہو تو دو رکعت مسجد میں اور دو گھر میں پڑھ لے۔''38
3. عبد اللہ بن عمر ؓفرماتے ہیں:
«کان رسول اﷲ کان یصلي بعد الجمعة رکعتین في بیته»39
''بے شک رسول ﷺ جمعہ کے بعد اپنے گھر میں دو رکعت نماز ادا کرتے تھے۔''
نوٹ:مندرجہ بالااحادیث سے جمعہ کے بعد کے نوافل کی درج ذیل صورتیں سامنے آئیں:
1. 6رکعات نوافل مسجد میں ادا کر لیے جائیں۔
2. 4رکعت میں مسجد میں ادا کر لیے جائیں۔
3. دو رکعت مسجد میں اور دو رکعت گھر میں پڑھ لی جائیں۔
4. دو رکعت گھر میں ادا کر لی جائیں اور مسجد میں کچھ نہ پڑھا جائے۔
فرائض:جمعہ کے فرائض دو رکعت ہیں۔آپﷺ نےفرمایا:
«من أدرك من الجمعة رکعة فلیصلي إلیها أخری»40
''جو شخص جمعہ سے ایک رکعت پالے تو اسکے ساتھ دوسری آخری رکعت ملا لے۔''
اس حدیث سے ثابت ہو ا کہ نمازِ جمعہ کے فرائض صرف دو رکعات ہیں۔ جو اس دن ظہر کی نماز کے متبادل ہوجائیں گے اور ظہر کی نماز پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے
حوالہ جات
1صحیح مسلم:٧٢٨
2سنن ترمذی:٤١٥
3صحیح مسلم:٧٢٣
4صحیح بخاری:٧٧١
5صحیح مسلم:٧٢٤
6صحیح مسلم:٧٣٠
7صحیح بخاری:١١٧٢
8سنن ابوداود:١٢٦٩
9صحیح بخاری:١١٨٢
10ايضًا:٧٧٦
11سنن ترمذی:٤٢٩
12سنن ابوداؤد:١٢٧١، سنن ترمذی ٤٣٠
13صحیح مسلم:٤٥٢
14صحیح بخاری:٥٩1
15سنن ترمذی:٥٩٨
16صحیح مسلم:١٢٨٨
17ایضًا:٧٣٠
18ابن حبان:١٥٨٦،قیام اللیل للمروزی،ص٦٤
19صحیح بخاری:١١٨٣
20صحیح بخاری:٧٥٥
21ایضًا:١١٧٢
22ایضًا:٦٩٧
23ایضًا:٦٢٧
24سنن ترمذی:٤٧١
25سنن ابوداود:١٤٢٢
26سنن ابن ماجہ:١١٩٢
27مصنف ابن ابی شیبہ:٦٨٠٦
28صحیح مسلم:٧٣٧
29سنن ابن ماجہ :١١٩٢
30صحیح مسلم:٧٤٦
31رکوع کے بعد قنوتِ وتر سے متعلقہ حدیث جو کہ السنن الکبری للبیہقی:3؍38، 39 اور مستدرک حاکم:3؍172 میں ہے ۔اس کی سند پر محدثین نے کلام کیا ہے۔البتہ قنوتِ نازلہ پر قیاس کرتے ہوئے رکوع کے بعد قنوتِ وتر پڑھنا جائز ہے ۔جیسا کہ قنوتِ وتر میں قنوتِ نازلہ پر قیاس کرتے ہوئے دعا کے لیے ہاتھ اٹھانا جائز ہے۔
32سنن ابن ماجہ:١١٨٢
33سنن ترمذی:٤٦٤،بیہقی :٢٠٩٢
34سنن ابوداؤد:988
35صحیح بخاری:١١٦٣
36صحیح مسلم:٨٥٧
37سنن ابوداؤد:١١٣٠
38صحیح مسلم:٨٨١
39سنن نسائی:١٤٢٩
40سنن ابن ماجہ:١١٢١