وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ اور نوٹس
اسلام کے نام سے دنیا کے نقشے پر اُبھرنے والا ملک'پاکستان'ان دنوں امریکہ کی سنگین مداخلت اور عالمی دہشت گردی کے خلاف نبرد آزما ہے۔ پاکستان کو اس مقام تک پہنچانے میں جہاں ہماری حالیہ کوتاہیوں کا عمل دخل ہے، وہاں ماضی میں بھی اسلام سے ہونے والی زیادتیوں اور اللہ سے عہدشکنی نے آج ہمیں اس مقامِ عبرت تک پہنچایا ہے۔
ماضی قریب میں اس ملک میں مرد و زن کے آزادانہ اختلاط اور بے حیائی و فحاشی کو راہ دینے کے لئے کئی خلافِ اسلام قانون سازیاں ہوتی رہی ہیں، بالخصوص 2006ء کاسال اس لحاظ سے بدترین رہا کہ اس سال نومبر کے مہینے میں پاکستانی پارلیمنٹ نے قرآن وسنت سے صریح متصادم 'ویمن پروٹیکشن بل' کو منظور کرکے ملک بھر میں نافذ کردیا جس کے خلاف ِاسلام ہونے پر پاکستان بھر کے تمام دینی حلقے یک آواز تھے۔ یہ ظالمانہ قانون اس اسمبلی سے پاس ہوا جس کی عمارت پر نمایاں الفاظ میں کلمہ طیبہ درج ہے، اس کے اراکین اور جملہ عہدیداران اسلام کے تحفظ کا حلف بھی اُٹھاتے ہیں بلکہ اس کے آئین میں خلاف ِاسلام قانون سازی کو ناجائز قرار دیا گیاہے۔اس ایکٹ کی منظوری سے قبل میڈیا پر اس معاملے کی اس طرح پرزور تشہیر کی گئی اور گلی کوچوں میں اس کو یوں زیر بحث لایا گیا جیسے یہ پاکستان کا اہم ترین مسئلہ ہو۔
خواتین کے تحفظ کے نام پر بنائے گئے اس ایکٹ میں سب سے پہلے جرم کا اندراج کرانے والے شخص کو عدالتی کاروائی کا سامنا کرتے ہوئے اپنے دعویٰ کو ثابت کرنا پڑتا ہے۔ اس ایکٹ میں حیلہ بازی کرتے ہوئے سنگین جرائم کو پولیس کی دسترس سے نکال کرعوام کے جذبۂ خیروصلاح کے سپرد کردیا گیاہے۔ صنفی امتیاز کے خاتمے کے دعویٰ سے لایا جانے والا یہ قانون وطن ِعزیز میں صنفی امتیازکی بہت بڑی بنیاد ثابت ہوا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس ظالمانہ ایکٹ کی منظوری کے دنوں میں لاکھوں پاکستانیوں نے ا س کے خلاف رائے شماری میں حصہ لے کر اس قانون سے اظہارِ برا ت بھی کیا تھا، دکانوں اور عام چوراہوں پر اس قانون کی تردید پر مبنی پوسٹرز اور ہینگرز عام نظر آتے رہے۔اس قانون کو غلط قرار دینے والوں میں خواتین کی اکثریت کے علاوہ اہم عہدوں پر فائز شخصیات بھی شامل رہیں حتیٰ کہ اس ایکٹ کے خلاف دستخط کرنے والوں کی تعداد ایک کروڑ سے بھی تجاوز کرگئی جن میں غیرمسلم بھی شامل تھے۔یہ ملکی تاریخ کا سب سے بڑا عوامی احتجاج تھا جس کا سامنا اس غیراسلامی قانون کو کرنا پڑا۔
قانون کی منظوری اور بحث مباحثہ کے دنوں میں ہی ملک کی نمائندہ علمی شخصیات نے حکومت کو اپنے تحفظات سے آگاہ کردیا تھا۔ہرمکتب ِفکر سے وابستہ علماے کرام نے بعض سینئر سیاستدانوں اور حکومتی ذمہ داروں سے ملاقاتوں میں کہا تھا کہ اگر حکومت اکرام ِخواتین کے سلسلے میں اقدامات کرنے میں سنجیدہ ہے تو اختلاطِ مرد وزَن کے بے باکانہ رویوں کو کنٹرول کرے،کیونکہ منظور شدہ ایکٹ میں تو صرف 'زناکاروں کے حقوق' کاتحفظ کیا گیا ہے جب کہ پاکستانی خواتین کے لئے اس میں کوئی ریلیف نہیں ہے ۔پاکستانی خواتین جن سنگین معاشرتی مسائل کا شکار ہیں،ان کے لئے بہت سے دیگرقانونی اقدامات کئے جاسکتے ہیں جن سے اُن کے مسائل کے خاتمے میں حقیقی مدد مل سکتی ہے،لیکن ایسی تمام آوازوں کو اَن سنی کر کے حقیقی مسائل سے صرف ِنظر کیا جاتا رہا۔
یہاں یہ واضح رہنا چاہئےکہ حدود آرڈیننس بھی کوئی بڑا معیاری قانون نہیں تھا جو کتاب وسنت کے عین مطابق ہو، تاہم شرعی ماحول پیداہونے کی بنا پر اس کی تائید کی جاتی رہی۔ ہمارا زیر نظر تبصرہ بھی اسی نقطہ نظر سے پیش خدمت ہے:
ویمن پروٹیکشن ایکٹ کی خلاف ِاسلام دفعات؛ شرعی عدالت میں
جیسا کہ سطورِ بالا میں ہم نے عرض کیا ہے کہ ویمن پروٹیکشن ایکٹ1 کا اصل مقصد تو اسلامی معاشرہ میں امن وامان اور عفت وعصمت کے کسی حد تک ضامن حدود قوانین کو مزید غیرمؤثر کرنا اور پاکستانی معاشرے میں بے راہ روی کی راہ میں حائل قانونی رکاوٹیں ختم کرنا تھا،کیونکہ ایک مسلم معاشرہ مادر پدر آزاد مغربی تہذیب کے لئے کسی طرح بھی موزوں نہیں تھا جس کے لئے نام نہاد 'ویمن پروٹیکشن ایکٹ'کے ذریعے یہاں حکومتی سرپرستی میں فضا سازگار کی جاتی رہی۔ آج ملک بھر میں ٹی وی چینلوں، ویب سائٹس اور موبائل فونوں کے ذریعے فحاشی وعریانی کا جو سیلاب آیا ہواہے، اور نوجوان لڑکے لڑکیاں بے راہ روی کا کھلا مظاہرہ کر رہے ہیں، اس پر کئی حساس اہل قلم بڑے دردِدل کے ساتھ لکھ رہے ہیں اور وہ ماں باپ تو آئے روز بے حیائی کے اس ناسور سے زندہ درگور ہو رہے ہیں جن کے بچے بچیاں کھلنڈرے پن اور جوانی کے نشے میں مدہوش ہیں۔
1. 'ویمن پروٹیکشن ایکٹ'کے ذریعے اسلامی حدود قوانین کے برعکس مبادیاتِ زنا مثلاً بوس وکنار اور مردو زن کے آزادانہ اختلاط کو ناقابل سزا قرار دیا گیا تھا۔
2. مزید برآں 16 سال سے کم عمرلڑکی کی ہر طرح کی بے راہ روی کو (ازخود یہ تصور کرتے ہوئے کہ وہ لازماً جبری زنا کا ہی شکار ہوئی ہے) اُسے ہرقسم کی سزا سے مستثنیٰ کردیا گیا تھا۔
3. اورشوہر کے لئے یہ قانون سازی کی گئی تھی کہ اگر وہ بیوی کی رضا مندی کے بغیر اس سے جماع کرتا ہے تو اسے زنا بالجبر سمجھا جائے گاجس کی سزا 25 سال قید یا سزائے موت ہوگی۔
4. اس ایکٹ کے ذریعے حدود قوانین کے نام سے شرعی قوانین مثلاً زنا ، قذف اور لعان وغیرہ کی سزاؤں کی دیگر انگریزی قوانین پر برتری کو بھی ختم کیا گیا تھا۔
5. نیز اس ایکٹ کے ذریعے صوبائی حکومت اور صدرِمملکت کو بلا قید تمام سزاؤں کو معاف کرنےکا بھی اختیار عطا کیا گیا تھا۔
6. ویمن ایکٹ کی رو سے زنا اور قذف کی معروف شرعی سزا کے بجائے 5 سال قید اور زیادہ سے زیادہ 10 ہزار روپے جرمانہ کی سزائیں متعارف کرائی گئیں، حالانکہ شرعی حدود میں تبدیلی یا کمی بیشی کا اختیار کسی حاکم وقت یا مجتہد العصرتو کجا، سید المرسلینﷺ کو بھی نہیں ۔
7. ان تمام تبدیلیوں پر مزید اضافہ یہ کہ فحاشی و بے راہ روی کے حوالے سے ان سزاؤں کے طریقۂ اجرا میں ایسی مضحکہ خیز تبدیلیاں کی گئیں کہ ان جرائم کی سزا کسی پر لاگو ہونا ہی ممکن نہ رہا۔راقم اس ایکٹ کی یہ خرابیاں قبل ازیں اپنے مختلف مضامین2 میں بیان کرچکا ہے، جنہیں مزید تفصیل کے لئے ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔
ویمن پروٹیکشن ایکٹ کے خلاف وفاقی شرعی عدالت میں اپیل
ویمن پروٹیکشن ایکٹ کے نفاذ کے بعد سے ہی اس بارے میں محب ِاسلام حلقوں میں شدید بے چینی اور اضطراب پیدا ہوگیااور 2007ء میں ہی اس ایکٹ کے خلاف ِاسلام ہونے کے بارے میں دو درخواستیں [نمبری ا،3۔آئی2007] وفاقی شرعی عدالت میں دائر کردی گئیں۔ پھر 2010ء میں درخواست [نمبری ا ۔آئی2010] بھی دائر کی گئی جس میں وفاقی شرعی عدالت سے استدعا کی گئی کہ اس ایکٹ کی خلافِ اسلام دفعات کا خاتمہ کیا جائے۔
1. یاد رہے کہ پاکستان کا آئین وفاقی شرعی عدالت کو یہ اختیار دیتا ہے کہ
''دفعہ نمبر 203 ڈی:عدالت اپنی تحریک یا پاکستان کے کسی شہری یا وفاقی حکومت یا کسی صوبائی حکومت کی درخواست پر اس سوال کا جائزہ لے سکے گی اور فیصلہ کرسکے گی کہ آیا کوئی قانون یا قانون کا کوئی حکم ان اسلامی احکام ( جس طرح کہ قرآن کریم اور رسول اللہ ﷺ کی سنت میں ان کا تعین کیا گیا ہے ) کے خلاف ہے یا نہیں؟جن کا حوالہ اس کے بعد اسلامی احکام کے طورپر دیا گیا ہے۔''
دفعہ 203 ڈی کی شق نمبر1 کا تقاضا یہ ہے کہ عدالت ِمذکورہ حکومت کو اپنا نقطہ نظر پیش کرنے کے لئے مناسب موقع دے گی۔شق 2 کے تحت عدالت متعلقہ قانون کے خلافِ اسلام ہونے کی وجوہ اور اس کی مخالفت کی حد کا تعین بھی کرے گی۔ شق 3 کے تحت اگر کوئی قانون خلافِ اسلام قرار پاتا ہے تو گورنر اس قانون میں ترمیم کرنے کے اقدامات کرے گا، بصورتِ دیگر عدالت کی متعین کردہ تاریخ سے وہ قانون کالعدم قرار پائے گا۔
2. واضح رہے کہ ماضی میں قانونِ امتناع توہین رسالت (دفعہ 295سی) میں بھی وفاقی شرعی عدالت نے اسی اختیار کو استعمال کرتے ہوئے اسمبلی کے منظور شدہ قانون مجریہ 1986ء میں مذکور'عمر قید کی سزا کے خلافِ اسلام' ہونے کا فیصلہ کیا تھا اور حکومت کو 30؍اپریل 1991ء تک کا وقت دیا تھا کہ اس دوران وہ مناسب قانون سازی کرلے، بصورتِ دیگرشرعی عدالت کا فیصلہ ازخود نافذ ہوکر توہین رسالت کی سزا میں شامل سزائے عمر قید حذف ہوجائے گی۔
اسی طرح ماضی میں قصاص ودیت کیس میں بھی وفاقی شرعی عدالت نے چیف جسٹس محمد افضل ظُلّہ کی سربراہی میں یہ فیصلہ دیا تھا کہ سزائے قتل کے مروّجہ 56قوانین خلافِ اسلام ہیں اور حکومت کو چاہئے کہ اگست 1990ء سے پہلے پہلے متبادل قانون سازی کرے، بصورتِ دیگر قصاص ودیت کے شرعی قوانین براہِ راست نافذ ہوجائیں گے۔ اسی نوعیت کا ایک فیصلہ قانونِ شفعہ کےبارے میں بھی دیا گیا تھا۔
وفاقی شرعی عدالت کے ان فیصلوں کے بعد متعینہ تواریخ تک حکومت نے کوئی قانون سازی نہ کی، جس کے نتیجے میں پاکستان میں امتناعِ توہین رسالت کا قانون ، وفاقی شرعی عدالت کی ترمیم (عمر قید کے حذف ) کے بعد اور قصاص ودیت کے قوانین براہِ راست اسلامی شریعت سے ہی پاکستان میں نافذ العمل ہوگئے۔
3. آئین پاکستان کی دفعات اور ماضی کے بعض مذکورہ بالا قانونی اقدامات کی لاہور ہائیکورٹ کے متعدد فیصلوں سے بھی تصدیق ہوتی ہے کہ حدود کے ذیل میں آنے والے جرائم کے متعلق ذیلی عدالتوں کے فیصلوں کی نگرانی؍اپیل کا اختیار آئین کی شق 203 ڈی ڈی کی رو سے صرف وفاقی شرعی عدالت کو ہی حاصل3 ہے۔ تاہم وفاقی شرعی عدالت کے فیصلہ کو چیلنج؍نظرثانی کے لئے آئین پاکستان ہی کی دفعہ 203ایف کے تحت کسی بھی فریق کو 60 یوم اورصوبائی ووفاقی حکومتوں کو 6 ماہ کا وقت حاصل ہے، اس مدت کے دوران نظرثانی کی درخواست سپریم کورٹ(شریعت اپلیٹ بنچ )میں دی جاسکتی ہے۔
وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ
اسی طریق کار کو اختیار کرتے ہوئے ویمن پروٹیکشن ایکٹ کو بھی وفاقی شرعی عدالت میں گذشتہ سال زیر بحث لایا گیا، عدالت میں اس پر بحث مباحثہ بھی ہوا اور مؤرخہ 22 دسمبر 2010ءکو اس حوالے سے وفاقی شرعی عدالت کا ایک اہم فیصلہ سامنے آیا ۔ وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس آغا رفیق احمد خاں کی سربراہی میں جسٹس شہزاد شیخ اور جسٹس سید افضل حید ر نے یہ فیصلہ تحریرکیا ہے جسے نکتہ نمبر 117 کے تحت رپورٹ کیا گیا ہے۔
وفاقی شرعی عدالت اپنے حالیہ فیصلہ میں ویمن پروٹیکشن ایکٹ 2006ءکے ساتھ ساتھ ، امتناعِ دہشت گردی ایکٹ 1997ء اور امتناعِ منشیات ایکٹ1997ء کو بھی زیر غور لائی ہے جس میں عدالت نے یہ قرار دیا ہے کہ مذکورہ بالا ایکٹس کے بعض حصے واقعتاً اسلام کے خلاف یا وفاقی شرعی عدالت کے دائرۂ عمل میں مداخلت ہیں لہٰذا حکومت کو چاہئے کہ ان قوانین میں ترمیم کرکے اِن کے متبادل اسلامی قوانین لائے، بصورتِ دیگر ان کے قابل اعتراض حصے 22 جون2011ء تک نافذ العمل رہنے کے بعد آخرکار کالعدم ہوجائیں گے۔
1. وفاقی شرعی عدالت نے اپنے فیصلہ (نکتہ نمبر 117 کی شق نمبر5) میں ویمن پروٹیکشن ایکٹ کی ترامیم 11 او ر28 کو دستور کی دفعہ 203 ڈی ڈی سے متجاوز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان ترامیم کے مؤثر ہونے سے حدود قوانین کی بالاتر حیثیت ختم ہوگئی ہے، اس لئے اُنہیں ختم کیا جائے۔ ان ترامیم کا تعارف وجائزہ حسب ِذیل ہے:
I. ویمن ایکٹ کی ترمیم نمبر 11 کے ذریعے زنا آرڈیننس کی دیگر انگریزی قوانین پر بالاتر حیثیت کو ختم کردیا گیا تھا۔ اگر حکومت اس کے خلاف اپیل میں نہیں جاتی تو یہ شق 22 جون 2011ءکو ختم جائے گی جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ویمن ایکٹ میں زنا کی دیگر متوازی سزاؤں پر سابقہ شرعی سزاؤں کی برتری بحال ہوجائے گی اور عدالت کو یہ موقع حاصل ہوگا کہ وہ زنا کی محض 5 سال سزا اور زیادہ سے زیادہ 10 ہزار روپے جرمانہ کی بجائے اس پر سابقہ شرعی سزا جاری کرنے کے احکام صادر کرسکے۔
II. ایکٹ کی ترمیم نمبر 28، جس کو خلافِ اسلام قرار دیا گیا ہے ، کا مقصد یہ تھا کہ 'لعان' کو کوڈ آف کریمنل پروسیجر1896ء سے نکال کر میرج ایکٹ 1939ء کا حصہ بنایا جائے تاکہ لعان کی جو سزا قذف آرڈیننس کے سیکشن 14(4) میں ہے، اس کا اطلاق ختم ہوجائے۔ اب اس ترمیم کے ختم ہوجانے سے 'لعان 'کا سابقہ قانون مؤثر ہونے کا بھی جزوی امکان پیدا ہوگیا ہے۔
2. وفاقی شرعی عدالت نے اپنے فیصلہ (نکتہ نمبر 117 کی شق نمبر 7) میں ویمن پروٹیکشن ایکٹ کی ترامیم نمبر 25 اور 29 کو بھی دستور کی دفعہ 203 ڈی ڈی سے تجاوز یعنی خلافِ اسلام قرار دیتے ہوئے نئی متبادل قانون سازی کا مطالبہ کیا ہے۔ محولہ ایکٹ کی ترمیم نمبر 29 کے ذریعے حدود قوانین کے حصے قذف آرڈیننس کو دیگر قوانین پر بالاتر حیثیت کو ختم کیا گیا تھا جبکہ ترمیم نمبر25 کے ذریعے قذف آرڈیننس کی تین دفعات 11،13 اور 15 کو حذف کیا گیاتھا، جس کے بعد قذف آرڈیننس غیرمؤثر ہوکر رہ گیا تھا۔ اب عدالت نے نہ صرف قذف آرڈی نینس کی بالاتر حیثیت کو بحال بلکہ اس کی اہم دفعات کو بھی برقرار رکھنے کی تلقین کی ہے۔
جہاں تک زنا آرڈیننس اور قذف آرڈیننس کی دیگر قوانین پر بالاترحیثیت واپس کرنے کی بات ہے تو یہ اسی جرم پر تعزیراتِ پاکستان میں موجود متوازی سزاؤں کے تناظر میں ایک اہم ضرورت ہے تاکہ فیصلہ کرنے والے جج کو فیصلہ کی تادیبی کاروائی کا انتخاب کرنے میں آسانی ہو۔مزید برآں یہ اسلامی شریعت کا مسلّمہ تقاضا بھی ہے بلکہ اسلام تو ان جرائم پر جہاں اللہ تعالیٰ نے سزائیں وحی کی صورت میں متعین کردی ہیں، کسی متبادل قانون پر عمل پیرا ہونے کو جاہلیت ، ظلم حتیٰ کہ کفر سے تعبیر کرتا ہے ۔ان شرعی قوانین کی ترجیح پاکستان کی دیگر عدالتوں کے بعض سابقہ فیصلوں کی روشنی میں بھی ایک مسلمہ مسئلہ ہے جیساکہ وفاقی شرعی عدالت نے 1986ء میں زنا آرڈیننس کو آرمی ایکٹ پر فوقیت دینے کا فیصلہ کیا تھا او ریہ حکم دیا تھا کہ اس کے مجرم کا ٹرائل 'کورٹ آف مارشل' کی بجائے سیشن کورٹس4 میں کیا جائے۔ایسے ہی 1985ء میں لاہور ہائی کورٹ نے بھی یہ قرار دیا تھا کہ حدود قوانین کو 'سندھ چلڈرن ایکٹ' پر فوقیت5 حاصل ہوگی۔
3. علاوہ ازیں عدالت نے اپنے فیصلہ (نکتہ نمبر117 کے شق 1 تا 4)میں امتناع دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ نمبر 25 اور امتناعِ منشیات ایکٹ1997ء کی دفعہ 48 اور 49 کو بھی آئین کی دفعہ 203 ڈی ڈی سے متجاوز قرار دیتے ہوئے خلافِ اسلام قرار دیا ہے۔ مذکورہ بالا تینوں دفعات میں قرار دیا گیا تھا کہ ان جرائم کی اپیل ہائی کورٹ میں داخل کرائی جائے ، جبکہ شرعی عدالت نے یہ حکم دیا ہے کہ
''قرآن وسنت کی رو سے جو جرائم حدود کے زمرے میں آتے ہیں اور ان کی سزا قرآن وسنت میں مذکور ہے، ان تمام جرائم میں مدد گار یا اُن سے مماثلت رکھنے والے جرائم بھی حدود کے زمرے میں آتے ہیں۔ اور حدود یا اس سے متعلقہ تمام جرائم پر جاری کئے گئے فوجداری عدالت کے احکامات کی اپیل یا نظرثانی کا اختیار بلاشرکت غیرے وفاقی شرعی عدالت کو ہی حاصل ہے۔ ایسے ہی حدود جرائم پر ضمانت کے فیصلے کی اپیل بھی صرف اسی عدالت میں ہی کی جائے ۔''
عدالت نے ان جرائم کی فہرست مرتب کرتے ہوئے جو حدود کے زمرے میں آتے ہیں، ان جرائم کو بھی اس میں شامل کردیا ہے جو اس سے قبل مجموعہ تعزیرات پاکستان کے تحت آتے تھے۔ مجموعی طورپر ان جرائم کی تعداد 10 شمار کی گئی ہے: زنا، لواطت، قذف، شراب، سرقہ، حرابہ، ڈکیتی، ارتداد، بغاوت اور قصاص ؍انسانی سمگلنگ
4. روزنامہ انصاف اور روزنامہ نواے وقت میں وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کی خبر دیتے ہوئے لکھا گیا کہ
''عدالت کے تین رکنی بنچ نے تحفظ حقوق نسواں ایکٹ 2006ء کی چار شقوں کو آئین کے آرٹیکل 203 ڈی ڈی سے متصادم قرار دیتے ہوئے وفاقی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ 22جون تک شق نمبر11،25،28اور29 کو کالعدم قرار دے کر ترمیم کریں، بصورت دیگر یہ عدالتی فیصلہ بذات خود ترمیم سمجھا جائے گا۔ فیصلہ میں یہ بھی قرار دیا گیا کہ قانون سازی کے ذریعے وفاقی شرعی عدالت کے اختیارات ختم یا تبدیل نہیں کئے جاسکتے۔''6
''نجی ٹی وی کے مطابق عدالت نے چار شقوں کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اسلام کے خلاف ہیں۔ عدالت نے زنا بالرضا کو بھی ناجائزاور حدود قوانین کے مطابق غیراسلامی فعل اور گناہ کبیرہ قرار دیا اور کہا کہ زنا کے بارے میں ایکٹ مذکورہ کے قوانین کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔''7
تبصرہ وتجزیہ
وفاقی شرعی عدالت کا مذکورہ بالا فیصلہ ایک قابل قدر اقدام ہے اور ہم اس کو بنظر تحسین دیکھتے ہیں، بالخصوص اس تناظر میں جب کہ ویمن پروٹیکشن بل پر جاری قومی سطح کے مناظرے ومباحثے میں بعض سیاستدانوں (چودھری شجاعت حسین وغیرہ)نے قوم سے یہ بھی وعدہ کیا تھا کہ اگریہ ایکٹ کسی بھی طرح خلافِ اسلام ثابت ہوجائے تو وہ اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیں گے۔ اس موقع پر راقم الحروف کے علاوہ دیگر معروف علمائے کرام نےاس کی خلافِ اسلام دفعات کی نشاندہی کی تھی لیکن چودھری صاحب موصوف نے اس وقت ان کو درخورِ اعتنا نہ جانا۔ اب ایک آئینی عدالت نے اس ایکٹ کی چار دفعات کو خلاف اسلام قرار دے کر حکومت کو 22 جون 2011ءتک مہلت دی ہے کہ وہ متبادل قانون سازی کرے تو اسے کم ازکم 'دیر آید درست آید 'کا مصداق قرار دیا جاسکتا ہے۔ تاہم اس قدر تاخیر سے آنے والے فیصلہ کے درمیانی چار سالوں میں اس حوالے سے جو بےراہ روی ملک میں جگہ پاگئی ہے، اس کا خمیازہ تواہل پاکستان کو بھگتنا ہوگا۔
وفاقی شرعی عدالت کا یہ اقدام بھی قابل تحسین ہے کہ اس نے نہ صرف شرعی قوانین کی برتری کو دوبارہ قائم کرنے کی کوشش کی ہے، بلکہ حدود قوانین سے قریب تر دیگر قوانین میں ہیرا پھیری کے ذریعے جو اُنہیں شرعی سزاؤں اور تادیب سے دور رکھا گیا تھا، ان کو دوبارہ شرعی عدالت کے دائرہ عمل میں لانے کی تلقین بھی کی ہے۔ اور حکومت کو پابند کیا ہے کہ ان شرعی سزاؤں کے بارے میں نہ صرف آرمی کورٹس، بلکہ دہشت گردی اور امتناع منشیات وغیرہ کے قوانین کی آڑ لے کر ان کو انگریزی قوانین کے دائرے میں نہ لایا جائے۔ بلکہ انہیں شرعی عدالت اور اس کے ماتحت عدالتوں میں ہی سماعت کیا جائے تاکہ مستغیث اور مدعا علیہ شرعی فیصلے سے استفادہ کرسکیں۔ شرعی عدالت کااپنے حقوق کو محفوظ کرنے کا رویہ قابل تعریف ہے، کیونکہ یہ اُصولی طورپر قیام پاکستان کے مقصد سے ہم آہنگ ہے جس کا تقاضا ہی یہ تھا کہ اس ملک کے باشندے اینگلو سیکسن لازکی بجائے اللہ کے دیے ہوئے شرعی نظام عدل میں اپنی زندگی گزاریں اور پاکستان میں اسلام کا ہرشعبے میں بول بالا ہو۔
تاہم اس موقع پریہ اضافہ کرنا اور یاددہانی کرانا انتہائی ضروری ہے کہ وفاقی شرعی عدالت نے ویمن پروٹیکشن ایکٹ کی خرابیوں میں سے صرف ایک تہائی کی ہی نشاندہی کی ہے۔ حالانکہ یہ پورا کا پورا ایکٹ ہی اس قابل ہے کہ اس کو خلافِ اسلام قرار دے کر مسترد کیا جائے۔ اس ایکٹ کی29 ترامیم کے نتیجے میں:حد زنا آرڈیننس 1979ء کی 22 میں سے 12 دفعات کو منسوخ اور 6 کو تبدیل کردیا گیا تھا جبکہ حد قذف آرڈیننس کی 20 میں 8 کو منسوخ اور 6میں ترمیم کی گئی تھی جس کے بعد اوّل الذکر میں محض 4 دفعات اور ثانی الذکر آرڈیننس میں صرف 6دفعات اپنی اصل شکل میں باقی رہ گئی تھیں۔ راقم نےدسمبر 2006ء میں اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ
''اس بل کی خلافِ اسلام ترامیم کو اگر حذف یا درست بھی کردیا جائے تب بھی اس قانون کے نظام اجرا میں ایسے مسائل پیدا کردیے گئے ہیں کہ جس کے بعد معاشرے میں عملاً زنا کی روک تھام ناممکن ہوگئی ہے ، اس لئے یہ بل ناقابل اصلاح ہے۔ اس بل کے ذریعے حدود سے متعلقہ 9 جرائم کو تعزیراتِ پاکستان میں منتقل کردیا گیا ہے اورترمیم شدہ حدود آرڈیننس کے تحت صرف 2 جرائم ہی باقی رہ گئے ہیں۔پھر ان11 میں سے جن 7 جرموں کی سزا دینا مقصود ہے ، ان کو پولیس کی عمل داری میں رکھا گیا ہے اور اس کے مجرم کو بلاوارنٹ بھی گرفتار کیا جاسکتا ہےاور وہ تمام زنا بالجبراور اس سے متعلقہ جرائم ہیں جن میں خواتین سزا سے مستثنیٰ ہیں (اور یہی اس بل کی وجہ تسمیہ ہے)، جبکہ پانچ جرائم محض نمائشی ہیں جن میں بچے کچھے حدود قوانین کے دوجرائم بھی شامل ہیں۔''8
ویمن ایکٹ کا اہم مسئلہ اس کے لئے مجوزہ پروسیجرل لاء کے ناقابل عمل تقاضے ہیں،جیسا کہ اوپر مختصراً ذکر ہوا۔ جبکہ ابھی تک باقی رہ جانے والی قانونی خرابیوں میں صدر اور صوبائی حکومتوں کا اس کے مجرم کو معاف کرنے کا اختیار، شوہر پر زنا بالجبر کا مضحکہ خیز جرم اور اس پر سزا ئے موت کا ہونا بھی خلافِ اسلام ہیں۔ مزید برآں ثبوت ِزنا کے لئے پانچ گواہوں کا غیرشرعی مطالبہ یا زانی کے اعتراف کرلینے اور لعان کے دوران بیوی کے اعترافِ زنا کو ثبوتِ جرم کے لئے ناکافی سمجھناوغیرہ ایسی چیزیں ہیں جو تاحال اس ایکٹ کا غیراسلامی حصہ ہیں۔
مسلمانانِ پاکستان کو چاہئے کوویمن پروٹیکشن ایکٹ کے ان باقی حصوں کے خلافِ اسلام ہونے پر بھی وفاقی شرعی عدالت میں درخواست دائر کریں۔ آج وطن عزیز میں امن وامان کی جو بدترین صورتحال ہے؛ ایسا کبھی نہ ہوتا، اگرہم نے اللہ سے کئے گئے وعدوں کو پورا کرتے ہوئے یہاں شرعی قوانین کو نافذ کیا ہوتا۔ شریعت ِاسلامیہ کے علاوہ کسی قانون میں ایسی قوت نہیں کہ وہ معاشرے میں امن وامان کے ضامن ہوں اور یہ بات آج بھی ترقی یافتہ مغرب اور اسلامی قوانین پر عمل پیرا سعودی عرب میں امن وامان کی صورتحال کے ایک تقابلی جائزے کے بعد بآسانی سمجھ میں آسکتی ہے۔
مسلمان فرد کیلئے اسلام کا سب سے بڑا انعام اطمینان وسکون کی فراوانی ہے اور کسی مسلم اجتماعیت کی سب سے بڑی نعمت امن وسلامتی ہیں جس پر قرآنِ کریم کی بہت سی آیات شاہد ہیں۔ آج اسلام کو چھوڑ کر ہم ہر لمحہ بے چینی واضطراب اورالم ناک قتل وغارت گری کا شکار ہیں، تب بھی حیرانی ہے کہ اپنے ربّ کی طرف کیوں رجوع کیوں نہیں کرتے!! (ڈاکٹر حافظ حسن مدنی)
حوالہ جات
1اس ایکٹ کا اصل نام تو 'کرمینل لاء امینڈمنٹ 2006ء' یعنی فوجداری ترمیمی بل2006ء تھا، جسے طبقہ خواتین کی بے جا حمایت حاصل کرنے کے لئے مذکورہ مغالطہ آمیز نام دیا گیا۔
2'ویمن پروٹیکشن ایکٹ کے اسلام سے متصادم پہلو' اور'زنا بالجبر اور نام نہاد'تحفظِ حقوقِ نسواں بل'شائع شدہ ماہنامہ محدث، دسمبر2006ء جلد۳۸،عدد۱۲؍ص ۲ تا ۲۳ اور 26 تا 70
3دیکھئے پاکستان کریمنل لاء جرنل2004ء، ص 899 اور PLD 1985 Lah 65
4دیکھیں 1986ء PSC کا فیصلہ نمبر 1228
5دیکھیں پاکستان کریمنل لاء جرنل، فیصلہ نمبر1030
6روزنامہ نوائے وقت، لاہور: 23 دسمبر 2010ء صفحہ 6
7روزنامہ انصاف، لاہور: 23 دسمبر 2010ء، صفحہ 7
8مزید تفصیل کے لئے دیکھیں محدث،شمارہ دسمبر2006ء: ص22، 23