روزنامہ جنگ لاہور مؤرخہ 6/مارچ 1998ء کے شمار ے میں بی بی سی کے حوالے سے ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے۔جس کی شہ سرخیاں درج ذیل ہیں ۔
1۔ٹھنڈےدل سے غور کریں ۔۔۔۔پاکستانی معاشرہ کس طرف جارہا ہے؟
2۔مسائل نے پاکستانیوں کو چڑچڑا بنادیا کوئی کسی کو برداشت نہیں کرتا؟
3۔انفرادی اور اجتماعی دونوں صورتوں میں دوسروں پرغصہ نکالنے اور توہین کرنے کا رجحان ہے۔ فرقہ واریت اور امن وامان کی بگڑتی ہوئی صورت حال اس بیماری کی علامتیں ہیں ۔
4۔جب رواداری ختم ہو جا ئے تو معاشرہ ایک بے ربط ہجوم میں بدل جاتا ہے اور معاملہ آنکھ کے بدلے آنکھ کی بجائے ناک تک جاپہنچتا ہے۔
ان سرخیوں کے ذیل میں لاہور (مانیٹرنگ سیل) یہ رپورٹ پیش کرتا ہے۔
"کراچی کی ایک پختون لڑکی رفعت آفریدی اور غیر پختون لڑکے کنوراحسن نے اپنی مرضی سے شادی کرنے اور زندگی گزارنے کا جو فیصلہ کیا تو لڑکی والوں کی طرف سے شدید مخالفت کے پہلے مرحلہ میں ایک دن کی ہڑتال کے سبب تین افراد کی جانیں گئیں اور دوسرے مرحلے میں عدالت کے احاطے میں کنور احسن شدید زخمی ہوا۔ بی بی سی کی پاکستان کی سماجی زندگی پر ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق اس طرح کا ایک واقعہ لاہور میں بھی نمایاں ہوا۔ جس میں صائمہ نامی ایک لڑکی نے اپنے گھروالوں کی مرضی کے بغیر ایک لڑکے سے نکاح کرنے کی کو شش کی۔ایک عدالت نے فیصلہ دیا کہ سر پرست کی مرضی کے بغیر نکاح نہیں ہو سکتا لیکن لڑکے اور لڑکی نے یہ فیصلہ تسلیم نہیں کیا اور یہ واقعہ دیگر واقعات کے بوجھ تلے دب گیا اور کہا جارہا ہے کہ وہ لڑکی اب بیرون ملک مفرد رہے ۔اس سے بھی پہلے ایک کمسن لڑکے سلامت مسیح پر تو ہین رسالت کے الزام میں مقدمہ قائم ہوا ۔عدالت نے اسے بری کردیا۔لیکن اسے اتنی دھمکیاں ملیں کہ اسے بیرون ملک ہی جانا پڑا ۔چند روز پہلے احمدی فرقے کے کسی مردے کو عام مسلم قبرستان میں دفن کیا گیا ۔جب یہ خبر پھیلی تو لاش کو دوبارہ قبر سے نکالا گیا اور اسے کہیں اور لے جاکر دفن کرنا پڑا ۔پاکستان کے سب سے پسماندہ علاقہ تھر میں اعلیٰ ذات کے ہندؤں کے درمیان نچلی ذات کے ہندو نہیں رہ سکتے۔ جبکہ ایک ہی گھر میں اعلیٰ ذات کے ہندو اور مسلمان ایک ہی میز پر کھانا کھاتے ہیں۔ پاکستان میں آپ چھوٹے بڑے شہر کی کسی بھی سڑک پر جائیں اور اگر سامنے سے کوئی معذور شخص ،عورت یا لڑکی سڑک پار کر رہی ہے تو ٹریفک اتنا جلد باز ہوتا ہے کہ وہ بیچ میں ہی پھنس کر رہ جاتے ہیں۔ ٹریفک سگنل اگر کسی چوک پر سرخ ہوجائے توروکنے والے کونہ صرف پیچھے سے ہارون سننا پڑتی ہے بلکہ قریب سے گزرتی ہوئی گاڑیوں سے آوازیں بھی سننی پڑتی ہیں ان چند مثالوں سے پاکستان کی سماجی زندگی میں قوت برداشت اور رواداری سکی کمی واضح دکھائی دیتی ہے۔زیادہ تر لوگ ایک دوسرے کو رعایت دینے پر آمادہ ہیں ہی نہیں ۔عدم رواداری کا بنیادی سبب غالباً یہ ہوسکتا ہےکہ ہر آدمی روز مرہ کے بنیادی مسائل اور ان کے حل ہونے کی موہوم سی امیدبھی نہ ہونے کے سبب اس قدر چڑ چڑے پن کا شکار ہے کہ یہ چڑچڑا پن انفرادی اور اجتماعی دونوں صورتوں میں دوسروں پر غصہ اور ان کی کھلے عام توہین کی صورت میں سامنے آتا ہے۔یہ رجحان انتہائی اعلیٰ سطح سے لے کر ادنیٰ سطح تک بڑی آسانی سے دیکھا جاسکتا ہے۔فرقہ واریت اور امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورت حال اور دیگر مسائل بیماریاں نہیں بیماری کی علامت ہیں اور بیماری ہے خود کو سو فیصد درست سمجھنا اور دوسرے کو برداشت نہ کرنا ۔۔۔اور جب عدم رواداری بڑھ جائے تو معاشرہ ایک بے ربط ہجوم میں بدل جاتا ہے اور معاملہ آنکھ کے بدلے آنکھ سے بڑھ کر آنکھ کے بدلے ناک تک پہنچ جاتا ہے۔ کیا پاکستانی معاشرہ اسی جانب جارہا ہے؟ اس سوال پر اہل پاکستان کو انتہائی ٹھنڈےدل اور روا داری سے سوچنے کی ضرورت ہے۔!!
مذکورہ بالا رپورٹ میں جن باتوں کی نشاندہی کرنے کے بعد پاکستان کے اہل علم اور صاحب بصیرت لوگوں کو غور و فکرکرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ ان میں بعض کا تعلق ایسے مسائل سے ہے جن کے بارے میں ہم رپورٹ مرتب کرنے والے کی رائے سے متفق نہیں ہو سکتے ۔کیونکہ ان سے ایک طرف توبے راہروی معاشرتی فساد اور خود سری پیدا ہوتی ہے اور دوسری طرف خاندانی رابط و ضبط تباہی کاشکار ہو جاتا ہے۔
نیز یہ بات بھی یادرکھنی ضروری ہے کہ آزادی کے نام پر اسلامی اصولوں سے ایک یاچند نام نہاد مسلمانوں کے بغاوت کرنے سے کوئی نیا ضابطہ وجود کوئی غلط فیصلہ کردے تو حقیقت سے واقف کار لوگوں کا یہ فرض بنتا ہے کہ ایسے فیصلہ پر عملدرآمد نہ ہونے دیں اور صحیح معاملے کی نشاندہی کریں ۔تاکہ حق و صداقت کو پہچانا جاسکے۔رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم   کا فرمان ہے۔
"میں ایک انسان ہوں اور بے شک تم جھگڑتے ہوئے میرے پاس آتے ہو ممکن ہے تو میں سے کوئی شخص اپنی دلیل کو مد مقابل کی نسبت زیادہ بہتر طریقے سے بیان کرنے کی صلاحیت رکھتا ہواور میں اس سے سنی ہوئی بات کے مطابق اس کے حق میں فیصلہ کردوں تو جس شخص کے لیے میں اس کے بھائی کے حق  میں سے کسی چیز کا فیصلہ کردوں تو وہ اس کے قریب بھی نہ پھٹکے کیونکہ میں نے اس طرح سے جہنم کا ایک ٹکڑا اس کے حوالے کردیا " (بخاری کتاب الاحکام باب موعظہ الامام للخصوم ص 8/112)
اس حدیث سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ قاضی کا ایسا فیصلہ جو کہ اس کے سامنے پیش ہونے والے دلائل کے لحاظ سے بالکل صحیح ہی کیوں نہ ہو۔ حالانکہ درحقیقت وہ غلط ہے اور جس کے حق میں وہ فیصلہ ہوا ہے اسے بھی فیصلہ کے غلط ہونے کا علم ہے تو اسے قاضی کے فیصلہ کے مطابق عملدرآمد کا مطالبہ نہیں کرنا چاہیے بلکہ حقیقت کا اظہار کر کے اپنی غلطی کا اعتراف کر لینا چاہیے ورنہ وہ جہنم کا حق دار بن جائے گا۔
ہاں چند مسائل ایسے ہیں جو اہل فکرکی توجہ چاہتے ہیں اور کسی حال میں بھی ان کا کرنا مناسب نہیں ۔جیسے کہ معاملے کی تہہ تک پہنچے بغیر اُلجھ پڑنا دوسروں کو تکلیف پہنچانا ذرا سی بات پر مرنے مارنے پر تل جانا ہر ناپسندیدبات پر آپے سے باہر ہو جانا دوسرے انسانوں کا احترام نہ کرنا تحمل و برداشت سے تہی دامن ہونا ۔ملکی قانون کو خاطر میں نہ لانا عفوردرگزر کی ضرورت اور اہمیت سے ناواقف ہونا۔ یہ سب امور ایسے ہیں جن سے غفلت انسانی بقا کے لیے بہت ہی خطر ناک ہے اور معاشرتی زندگی تہ و بالا ہوجاتی ہے۔ اس کا ندازہ آپ ایک ایسی خبر سے لگا سکتے ہیں ۔جو روزنامہ جنگ مؤرخہ 31/مارچ 1998ءکے صفحہ 16پر شائع ہوئی ہے ۔جس کی بعض سرخیاں درج ذیل ہیں۔
"گدھا مسجد میں داخل ہونے پر افغان قبائل میں لڑائی ۔۔۔51ہلاک "
"ایک شخص نے گدھے کو گولی مارڈھیر کر دیا ۔مالک نے مشتعل ہوکر 13/ نمازی ہلاک کر دئیے۔"
"مقامی لوگوں نے گدھے کے مالک کے گاؤں پر حملہ کردیا۔ راکٹ لانچروں اور میزائلوں کا استعمال "
مندرجہ بالا واقعہ کیا یہیں ختم ہو جا تا ہے یا یہ جنگ کتنی اور جانوں کو تلف  کرے گی اور کتنا عرصہ خون کی ندیاں بہتی رہیں گی۔اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ لیکن غور کرنے کی بات یہ ہے۔ کیا اسلام اپنے ماننے والوں کی تربیت اسی انداز میں کرتا ہے۔ یہ کردار تو عرب کی جاہلیت میں ڈوبی ہوئی قوم کے کردار سے  بھی بد تر ہے جن کے پاس نور اسلام کی کوئی کرن نہیں پہنچی تھی۔ان انسان نما حیوانوں ہی کے بارے میں مو لانا حالی نے فرمایا تھا۔
کہ چلن ان کے جتنے تھے سب وحشیانہ                       ہر اک لوٹ مار میں تھا یگانہ
فسادوں میں کتنا تھا ان کا زمانہ                                  نہ تھا کوئی قانون کا تازیانہ
وہ تھے قتل و غارت میں چالاک ایسے             درندے ہوں جنگ میں بے باک جیسے
دوسری جگہ عفوودرگز ر سے عاری اس قوم کا نقشہ کھینچتے ہیں جن کی باہمی جنگیں تقریباً آدھی صدی پر محیط تھیں اور نتیجتاً قبیلوں کے قبیلے صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔(مسدس حالی ص14)
کہیں تھا مویشی چرانے پہ جھگڑا             کہیں پہلے گھوڑا بڑھانے پہ جھگڑا
لب جو کبھی آنے جانے پہ جھگڑا             کہیں پانی پینے پلانے پہ جھگڑا
یونہی روزہوتی تھی تکرار ان میں              یونہی چلتی رہتی تلوار ان میں
اس لیے ضروری کہ ہم میں سے ہر شخص ایسی اخلاقی اقدار کا خوگر بن جائے ۔جو اسلام کا شعار ہیں اور جن کے بغیر اسلام کی تکمیل ناممکن ہو جاتی ہے ۔رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم   کا فرمان ہے۔
الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ. (بخاری کتاب الرقاق باب الانہتاء عن المعاصی )
"مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ ہوں"
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی مسلمان کے زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ نہ ہوں تو اس کے مسلمان ہونے کے بارے میں مشکوک و شبہات جنم لے سکتے ہیں۔
حضرت ابو ہریرہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم   نے فرمایا :
وَاللَّهِ لا يُؤْمِنُ ، وَاللَّهُ لا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ ، وَاللَّهِ لا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ ، وَلا يُؤْمِنُ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا ذَلِكَ ؟ قَالَ : " جَارٌ لا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا بَوَائِقُهُ ؟ قَالَ : " شَرُّهُ "
"اللہ کی قسم وہ مؤمن نہیں اللہ کی قسم وہ مؤمن نہیں اللہ قسم وہ مؤمن نہیں ۔دریافت کیا گیا کون اے اللہ کے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم   ؟تو آپ نے فرمایا : وہ شخص جس کا پڑوسی اس کی شرارتوں سے محفوظ نہیں "
اس حدیث میں اگر چہ بعض مخصوص حالات میں مؤمن نہ ہونے کی نشاندہی فرمائی گئی ہے لیکن مجموعی طور پر یہ بات واضح طور پر سمجھ میں آتی ہے کہ دوسرے انسانوں کو تکلیف پہنچانا اسلام میں سخت ناپسندیدہ فعل ہے ایسا کرنے والا شخص اسلامی معاشرے میں اپنی قدرو قیمت اور احترام سے محروم ہو جاتا ہے ہر چھوٹے بڑے کی نظر وں میں حقارت کے سوااسے کچھ نہیں ملتا ۔صرف لوگ اس کی شرارتوں سے محفوظ رہنے کے لیے وقتی طور پر اسے قدرے عزت دیتے ہیں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم   ام المؤمنین عائشہ صدیقہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا   کے پاس تشریف فرما تھے اور کسی شخص نے اجازت طلب کی۔ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم   نے اس کے متعلق فرمایا :
بِئْسَ أَخُو الْعَشِيرَةِ
قبیلے کا بد ترین انسان ہے جب وہ شخص رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم   کے پاس آگیا تو آپ نے نہایت نرمی سے بات کی۔ اس کے جانے کے بعد حضرت عائشہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا   نے استفسار کیا تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم   نے فرمایا :"وہ شخص بہت براہے جس کے شرسے بچنے کے لیے اس کو چھوڑدیا جائے"(بخاری: کتاب الادب باب لم یکن النبی  صلی اللہ علیہ وسلم   فاحشا ص7/81)
رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم   کو یہ بات گوارا ہی نہیں کہ کسی مسلمان کو تکلیف دی جا ئے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم   نے اس بارے میں یہاں تک فرمایا ہے:
سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ(بخاری کتاب الادب باب مانہی عن السب )
"مسلمان کو گالی دینا فاسق بنا دیتا ہے اور اس سے لڑائی کرنا کفر کرنے کے مترادف پہنچاتے ہیں اس سے نادانستہ طور پر کوئی ایسی غلطی ہو جا ئے جو دوسروں کے لیے پریشانی کا باعث بن جائے تو ایسے شخص کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی غلطی کا اعتراف کرے نادم ہو۔ دوبارہ ایسا نہ کرنے کا عزم کرے ۔تو اللہ تعالیٰ اس شخص کو معاف فرمادیتے ہیں جیسے کہ حدیث میں ہے:
فَإِنَّ الْعَبْدَ إِذَا اعْتَرَفَ بِذَنْبٍ ثُمَّ تَابَ تَابَ اللَّهُ، عَلَيْهِ
"جس شخص نے غلطی کر کے اعتراف کر لیا اور توبہ کر لی تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے"
اگر ایسی غلطی سے کو ئی انسان یا معاشرہ متاثر ہوا ہے تو ان سے معذرت کی جائے گی اسلام بھی انہیں اس بات کی ترغیب دیتا ہے کہ وہ عفوو درگزر سے کام لیں اور اس کی معذرت قبول فرمائیں اور اصلاح کا موقع دیں ۔اللہ رب العزت کا یہی قانون ہے کیونکہ اگر فوری طور پر سزادینے کا عمل اختیار کر لیاجائے تو زمین پر کوئی بھی زندہ نظر نہ آئے ۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔(النمل:61)
وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ مَا تَرَكَ عَلَيْهَا مِنْ دَابَّةٍ وَلَٰكِنْ يُؤَخِّرُهُمْ إِلَىٰ أَجَلٍ مُسَمًّى ۖ فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ لَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً ۖ وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ.
"اور اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کے ظلم کی وجہ سے ان کا مؤاخذفرماتے تو زمین پر کوئی جانور بھی نہ چھوڑ تے۔ لیکن اللہ تعالیٰ انہیں ایک محدود مدت تک مہلت دیتا ہے اور پھر جب ان کا مقرر ہ وقت آجاتا ہے تو پھر لمحہ بھر کی تقدیم و تاخیر نہیں ہوتی"اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت "عفو"کا ذکر قرآن پاک میں کئی مقامات پر فرمایا ہے سورۃ حج میں اللہ تعالیٰ نے مہاجرین کے بارے میں فرمایاہے۔
"جو لوگ کفار کی سختیوں سے تنگ آنے کے بعد اللہ کے لیے اپنے گھر بار چھوڑ آئے پھر یا تو وہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں لڑتے ہوئے شہادت پاگئے یا طبعی موت مرگئے۔اللہ تعالیٰ انہیں بہت عمدہ رزق عطا فرمائےگا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ سب سے بہتر رزق دینے والاہے اور انہیں پرکشش جگہ میں داخل فرمائے گا بے شک اللہ تعالیٰ جاننے والا اور حوصلے والاہے"(سورۃ الحج :58۔59)
اس ذکر خیر کے بعد آیت نمبر 60میں اللہ تعالیٰ یہ ارشاد فرماتے ہیں۔
"اگر کوئی شخص اپنے دشمن کو اتنا تنگ کرے جتنا وہ خود دشمن سے تنگ ہواتھا اور دشمن پھر اس پر زیادتی کرے تو اللہ تعالیٰ اس مظلوم کی دادرسی فرمائےگا۔بے شک اللہ تعالیٰ معاف کرنیوالا اور بخشنے والاہے"
اسی طرح سورۃ مجادلہ کی ابتدائی آیات میں بیویوں کے متعلق ماں کے لفظ استعمال کرکے انہیں اپنے لیے حرام کر لینے والے شوہروں کی بات کو اللہ تعالیٰ نے بہت ہی ناپسند فرمایا اور ان کے اس عمل کو منکروزور(بےہودہ اور جھوٹ کا پلندہ ) قراردیا ہے لیکن انہیں اپنی رحمت سے مایوس نہیں فرمایا۔بلکہ اپنی صفات "عفو"اور "غفور"کا ذکر کرکے انہیں اصلاح کا موقع دیا ہے ۔۔۔اسی طرح سورۃ اعراف میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی دعوت ہدایت اور کفار کے مسلسل انکار کا نقشہ ان الفاظ میں کھینچا ہے(سورۃ الاعراف : 199،198)
"اگر آپ انہیں ہدایت کی طرف بلائیں تو وہ لوگ آپ کی بات نہیں سنتے اور آپ محسوس کرتے ہیں کہ وہ پھٹی ہوئی نظروں سے آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں ۔حالانکہ ان میں دیکھنے کی صلاحیت ختم ہو چکی ہے۔ اس لیے آپ ان سے در گزرفرمائیں ۔بھلائی کا کام جاری رکھیں اور جاہلوں کو منہ نہ لگائیں "
یہ آیت اس بات کو واضح کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم   کو تبلیغ دین کے سلسلے میں پیش آنے والے مصائب کو خندہ پیشانی سے برداشت کرنے کی تلقین فرماتا ہے۔ تکلیف دینے والوں کے ساتھ عفوودرگزر سے پیش آنے کی ہدایت فرماتا ہے اس کے باوجود اگر کو ئی الجھنا چاہے تو بھی جھگڑنے کی ضرورت نہیں۔رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم   نے عفوو درگزر کے معاملے کو کمال تک پہنچایا اور بعد میں آنے والے لوگوں کے لیے ایسی مثالیں چھوڑ گئے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ طرح طرح کی اذیتیں دینے والے دشمنوں کو نہ صرف معاف فرمایا بلکہ ان کو گلے لگایا ان کے احترام میں کو ئی کمی نہ فرمائی۔
دشمنوں سے عفوودرگزر:۔
دشمن سے انتقام لینا اور خاص کر دشمن بھی ایسا جس نے بھر پور دشمنی کی ہو۔ لہوکا پیاسا ساری زندگی دکھ دینے والا ہر دم گھات میں رہنے والا اس کے لگائے ہوئے زخم مسلسل رس رہے ہوں۔ساری زندگی چین سے نہ بیٹھنے دیا ہو۔ایسے آدمی سے انتقام لینا فطری تقاضا ہے۔ ایسے دشمن کو اس وقت معاف کرنا اور درگزر کرنا بدلہ نہ لینا جبکہ بدلہ لینے کی پوری طاقت بھی ہو اور حالات بھی مدد گار ہوں۔ایسی صورت میں ایسے دشمن کو معاف کرنا کتنی بڑی عظمت کی بات ہے۔ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم   کا فرمان ہے(کتاب الادب :باب الخدرمن الغضب ص7/99)
لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرْعَةِ ، إِنَّمَا الشَّدِيدُ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ " 
"طاقتور وہ نہیں جو مد مقابل کو پچھاڑ دے بلکہ طاقتور وہ ہوتا ہے جو غصہ کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے "
قرآن مجید میں مؤمنوں کی صفات کا تذکرہ فرماتے ہوئے اللہ رب العالمین نے ان کی چند صفات کی نشاندہی کی:
وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ ۗ (آل عمران:134)
"وہ غصہ کو پی لیتے ہیں اور لوگوں کو معاف کرتے ہیں "رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  اس آیت کی مجسم تفسیر تھے۔طعنے دینے والوں مجنوں اور جادو کر کہنے والوں راہ چلنے ہوئے اوپرسے سر مبارک میں گندگی پھینکنے کے ایسے والوں بلکہ خون کے پیاسوں کو جس طرح عفوو درگزر سے نوازا وہ آپ کی ہستی کا ہی خاصہ ہے۔ آپ کی زندگی کے ایسے چند ایک واقعات پیش خدمت ہیں۔
سرداران قریش کو معاف کرنا:۔
فتح مکہ کے موقع پر بیت اللہ میں داخل ہونے کے بعد حضرت بلال   رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کو رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم   نے اذان دینے کا حکم دیا ۔سرداران قریش میں سے ابو سفیان عتاب و خالد بن اُسید حارث بن ہشام وغیرہ بیت اللہ کے صحن میں موجود تھے۔ عتاب اور خالد نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے والد کی بڑی عزت رکھی کہ وہ اس اذان کی آواز کو سننے سے پہلے ہی دنیا سے رخصت ہوگئے ۔حارث نے کہاخدا کی قسم!اگر مجھے یقین ہوجائے کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم   حق پر ہیں تو میں آُ کی اطاعت میں آجاؤں ۔ابو سفیان نے کہا کہ میں خاموشی اختیار کرتا ہوں اور اپنی زبان سے کوئی لفظ نہیں نکالنا چاہتا ۔کیونکہ میرے منہ سے نکلی ہوئی بات کے متعلق یہ سنگریزے بھی آپ کو باخبر کر دیں گے اسی اثنا میں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم   ادھر سے گزرے تو آپ نے ان سرداروں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ تمھاری گفتگوکے بارے میں مجھے اطلاع مل چکی ہے آپ نے ان کی ساری گفتگو کو دہرا دیا۔حارث اور عتاب نے فوراًآپ کی رسالت کا اقرار لیا ۔مسلمان ہونے کے بعد رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم   نے عتاب کو مکہ کا والی مقرر کردیا۔(البدایہ والنہایہ :ص4/303۔۔۔زرقانی :ص 2/346)
ہبار بن اسود کے لیے معافی :۔
اس شخص نے اسلام سے پہلے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم   کی بیٹی حضرت زینب  رضی اللہ تعالیٰ عنہا   کے ساتھ انتہائی گستاخانہ رویہ اور بد سلوکی کا مظاہرہ کرکے آپ صلی اللہ علیہ وسلم   کو دلی دکھ پہنچایا ۔کیونکہ اولاد کی تکلیف والدین کے لیے نہایت ہی باعث اذیت ہوا کرتی ہے۔لیکن اس طرز عمل کی وجہ سے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم   نے اس کا خون مباح ہونے کے باوجود اس کااسلام لانا قبول فرمایا اور اسے معاف کردیا۔واقعہ کی حقیقت مؤرخین نے یوں بیان کی ہے۔(الاصابہ : 565۔۔۔زرقانی 2/315)
"ہجرت کے ابتدائی ایام میں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم    کی صاحبزادی حضرت زینب  رضی اللہ تعالیٰ عنہا   زوجہ ابو العاص بن ربیع مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لے جارہی تھیں ۔ہبار بن اسود نے چند اوباشوں کے ساتھ مل کر ان کا راستہ روکا اور انہیں ایک نیز ہ ماراجس سے وہ سواری سے گرپڑیں ۔بیان کیا جا تا ہے کہ آپ ان دنوں حاملہ تھیں آپ کے گرنے سے حمل ساقط ہو گیا اور یہی واقعہ آپ کی موت کا سبب بنا ۔ لیکن جب یہ شخص فتح مکہ کے دن آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین   نے عرض کیا یا رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم   یہ ہبار بن اسود ہے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم   نے فرمایا : میں نے اسے دیکھ لیا ہے کسی نے بڑھ کر اسے مارنا چاہا تو رحمت عالم  صلی اللہ علیہ وسلم   نے روک دیا۔ہبار نے موقع کو غنیمت سمجھتے ہوئے اسلام قبول کر لیا اور آپ  صلی اللہ علیہ وسلم   نے اسے معاف فرمادیا۔
وحشی بن حرب کے لیے معانی:۔
سید الشہداء حضرت حمزہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کا جو تعلق آقا مدار صلی اللہ علیہ وسلم   کے ساتھ تھا وہ کسی مسلمان سے ڈھکا چھپا نہیں۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم   پر جان نچھاور کرتے تھے غزوہ احدمیں وحشی نے گھات لگا کر آپ کو شہید کیا۔ فتح مکہ کے دن رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم   نے اس کا خون مباح قراردے دیا تھااس لیے یہ شخص بھاگ کر پہلے طائف چلا گیا اور پھر وہاں سے مدینہ منورہ آیا اور رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم   کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کیا اور آپ سے اپنے قصور کی معانی چاہی رحمت للعالمین  صلی اللہ علیہ وسلم   نے اسے دامن رحمت میں جگہ دی اور معاف کردیا ۔انسانی تاریخ میں آپ نے محسنوں کے قاتلوں کو صرف اللہ کی رضا کے لیے معاف کر دینا یہ نبی رحمت  صلی اللہ علیہ وسلم   ہی کا خاصہ ہو سکتا ہے ورنہ ایسی حالت میں عربوں کے ہاں صدیوں قتل و غارت کا بازار گرم رہتا تھا (البدایہ : ص2/594)
ابو محذورہ کو معاف کرنا:۔
حضرت بلال   رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے مکہ کے دن جب بیت اللہ کی چھت پرچڑھ کر اذان دی تو ابو محذورہ جہمی اور چند دوسرے نوجوان نے ان کی اذان کا مذاق اڑایا اور اذان کی نقل اتاری۔ابو محذورہ کی آواز بہت بلند ارو سریلی تھی جیسے ہی آپ نے اس کی آواز سنی تو انھیں حاضر ہونے کا حکم دیا۔دریافت فرمایا کہ تم میں سے کون شخص ہے۔جس کی آواز میں نے سنی ہے۔سب جوانوں نے ابو محذورہ کی طرف اشارہ کیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم   نے اسے روک لیا اور باقی جوانوں کو چلے جانے کا  حکم دیا۔ابو محذورہ آپ کے سامنے کھڑے ہوئےتھے اور ا پنے دل میں سوچ رہے تھے کہ مجھے قتل کردیا جائےگا۔لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم   نے مجھے فرمایاکہ ابو محذورہ اذان دو۔چنانچہ میں نے بادل نخواستہ اذان دی۔اذان سننے کے بعد آپ نے مجھے ایک تھیلی عطا فرمائی جس میں چنددرہم تھے اس کے بعد میرے سر،پیشانی،سینہ اور پیٹ پر ناف تک دست مبارک پھیرا۔زبان مبارک سےمیرے لئے برکت کی دعاکی۔ابو محذورہ بیان کرتے ہیں کہ دست مبارک کا پھیرنا تھا کہ میرا دل  آپ کے خلافت نفرت کی بجائے محبت واُلفت سے لبریز ہوگیا۔میں نے عرض کیا:یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم   !مجھے مکہ کاموذن مقرر فرمادیجئے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم   نے فرمایا:آپ کو موذن مقرر کیا جاتاہے۔میں نے امیر مکہ عتاب بن اُسید کو اس بات کی اطلاع دی اور آپ  صلی اللہ علیہ وسلم   کے ارشاد کے مطابق اذان دینا شروع کردی اور پوری زندگی اس ذمہ داری کونبھایا(الاستیعاب ص4/137)
ایسی حالت میں جبکہ فاتح کی حیثیت سے کوئی شخص کسی شہر میں داخل ہو،مفتوح قوم کے لوگ غلاموں کی طرح سامنے ہاتھ باندھے کھڑے ہوں۔ان میں سے پھر کوئی آدمی فاتحین کی مرضی کے خلاف بات کرے ان کی خواہشات کا احترام نہ کرے بلکہ عین اسی وقت جبکہ انتقامی جذبات عروج پر ہوں،ایسی حرکات کرنے والے کو کبھی معاف نہیں کیا جاتا۔یہ فطرت انسانی کے خلاف ہے۔لیکن ایسے ہی حالات اور وقت پر صرف اللہ کی رضا کے لئے انتقامی جذبات کے طوفان کو قابو میں لانا،دشمنی کو محبت وشفقت کے دامن میں لپیٹ کر دشمن کو سینے سے لگالینا حبیب رب العالمین ہی کی صفات کا حصہ ہیں۔
ہند بنت عتبہ زوجہ ابو سفیان:۔
عورتوں کی دشمنی اور انتقام دنیا میں ضرب المثل ہے۔ہند نے حضرت حمزہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کو شہید کروایا اور دشمنی کی آگ میں ا س قدر جل رہی تھی کہ شہادت کے بعد آپ کا سینہ مبارک چاک کرکے کلیجہ نکالا اور اسے چبایا۔اس سے سینے کی آگ  کو ٹھنڈا کیا۔اس قدر دشمنی اور کدورت رکھنے والا انسان بھی کیا معافی کا مستحق ہوسکتا ہے۔
چشم فلک نے یہ منظر بھی دیکھا کہ ر سول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   کی بے پایاں رحمت سے ایسے لوگ بھی فیض یاب ہوئے آپ نے اسے بھی شرف بیعت سے نوازا ان کی بیعت کا واقعہ مورخین نے اس طرح نقل کیا ہے۔
"ہند جب بیعت کےلیے حاضر خدمت ہوئی تو چہرہ نقاب سے چھپایا ہوا تھا۔دشمنی کی ندامت کو ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی۔اس شرمندگی کو پردے کی اوٹ میں چھپا کر عفووردگزر رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم   کی  بارگاہ میں حاضر ہوتی ہے بیعت کا اظہار کرتی ہے۔رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم   اگر ایسی سخت دشمن کو حاضری کی اجازت نہ د یتے تو اسلام یا مسلمانوں کو کیا فرق پڑتا،اسلام کی سربلندی اورترقی کے لئے ہند کا مسلمان ہوناکوئی ضروری تو نہ تھا۔جبکہ ہزاروں لوگ حلقہ بگوش اسلام ہورہے تھے۔لیکن اس وقت بھی گفتگو میں شوخی اور مکالمہ بازی کا عنصر غالب نظر آتا ہے۔۔۔
ہند:یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم   !آپ ہم سے کن باتوں پر عہدلیتے ہیں؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم   :تم کسی کو اللہ کے ساتھ شریک نہیں ٹھہراؤ گی۔
ہند:یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم   آپ ہم سے ان باتوں کا عہد لیتے،جن کا عہد آپ نے مردوں سے نہیں لیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم   :تم کبھی چوری نہ کروگی۔
ہند!میں تو اپنے خاوند(ابوسفیان) کے مال میں سے لے لیاکرتی ہوں۔مجھے معلوم نہیں،اسے آپ چوری سمجھتے ہیں یا نہیں۔ابوسفیان بھی اس محفل میں موجود تھے اور مسلمان ہوچکے تھے۔بولے جو کچھ گزرچکا  ،وہ معاف ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم   نے فرمایا کہ عورت اپنے خاوند کے مال میں سے ا تنا لے سکتی ہے جس سے اس کی اولاد اور گھر کی ضروریات پوری ہوسکیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم   نے فرمایا:اور بدکاری نہ کرنا۔
ہند:کیا کوئی آزاد خود مختار عورت بھی زنا کرتی ہے؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم   نے فرمایا:اولاد کو قتل نہ کرنا۔
ہند: ربَّيناهم صِغارًا، وقتلْتَهم يومَ بدْرٍ كِبارًا، وهم أعْلم،(بچپن میں ہم نے انہییں پالا پوسا اور جب وہ بڑے ہوئے تو آپ نے انہیں جنگ بدر میں قتل کردیا۔اب معاملہ ان کا اور آپ کا ہے)حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  پاس موجود تھے،یہ بات سن کر ہنس  پڑے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم   نے فرمایا:کسی پر بہتان نہ لگانا۔
ہند!اللہ کی قسم کسی پر بہتان باندھنا تو نہایت قبیح بات ہے۔واقعی آپ صلی اللہ علیہ وسلم   حسن اخلاق اور نیکی کے سوا کسی  بات کا حکم نہیں دیتے۔(زرقانی:2/316)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم   نے فرمایا:کسی نیکی کے کام میں نافرمانی اور انکار سے کام نہ لینا۔
ہند!ہم یہاں آپ کی محفل میں نافرمانی اور انکار کا ارادہ لے کر نہیں آئیں!
آپ اندازہ کیجیے کہ زیر دست آدمی معاہدہ کے وقت اگر اس طرح کا انداز اختیار کرتاہے۔تو فاتح اس طرح کی شوخیاں برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔وہ اپنی ہتک اور برتری(Supermecy) کے منافی خیال کر تے ہوئے مد مقابل کو جھڑک اور ڈانٹ سکتاہے  تاکہ اس کی برتری کی ہیبت اور شان قائم رہے۔لیکن رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم   اس کی تمام شوخیوں اور مکالمہ      بازیوں کوشان عفو میں ڈبو دیتے ہیں اورحضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے فر ماتے ہیں کہ ان سے بیعت لے لو۔بیعت کے بعد آپ ان کے لئے دعا فرماتے ہیں۔(کامل از ابن اثیر:2/96)
عمیر بن وہب کے لئے معافی کا اعلان:۔
قریش مکہ کے اکسانے پر عمیر بن وہب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم   کو قتل کرنے کے لئے مدینہ پہنچا،موقع کی تلاش میں تھا کہ حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے اسے دیکھ لیا۔اس کی تلوار چھین کر قابو میں کرلیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم   کے پاس لے آئے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم   نے ارشاد فرمایا کہ اسے چھوڑ دو۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم   نے اس سےدریافت فرمایا کہ مدینہ کیسے آنا ہوا؟
اس نے جواب دیا کہ میرا ایک بیٹا آ پ کی قید میں ہے،اس کی خیریت دریافت کرنا چاہتا ہوں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم   نے اس کے گلے میں لٹکی ہوئی تلوار دیکھ کر فرمایا:تلوار کو گلے میں لٹکانے کا کیا مطلب ہے۔عمیر نے کہا کہ میں جلدی میں اسے گھر رکھنا بھول گیا تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم   نے اس کی گفتگو سننے کے بعد فرمایا:
عمیر! تم صفوان بن اُمیہ کے ساتھ ایک حجرے میں بیٹھ کر میرے قتل کے منصوبے بناتے رہے ہو اور صفوان نے اس بدلے تمہارا سارا قرض معاف کرنے کا وعدہ کیا ہے اور آئندہ کے لئے تمہارے گھر والوں کا خرچہ بھی اپنے ذمہ لے لیاہے۔حقیقت بھی یہی تھی۔عمیر یہ سب کچھ سن کر بہت  پریشان ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم   کو اس سارے واقعہ کی اطلاع کیسے پہنچی۔آخر کار اس نے سازش کا اعتراف کیا اور کہنے لگا:
اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم   آ پ واقعی اللہ کے ر سول صلی اللہ علیہ وسلم   ہیں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   نے اسے بیٹھنے کے لئے کہا اور فرمایا:ہمیں آپ سے  ہمدردی ہے۔صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین   سے فرمایا:اپنے بھائی کو قرآن سکھاؤ اور اس کے قیدی بیٹے کو آزاد کردو۔(الاصابہ:ص3/26)
مکہ والوں کے لئے اناج کی بحالی:۔
کسی حکومت یا اہل ملک کی مخالفت  میں بے شمار حربے استعمال کئے جاتے ہیں۔تاکہ انہیں پریشانیوں میں مبتلا کیا جائے اور مشکلات کی پیداکی جائیں۔یہ حربے سیاسی بھی ہوتے ہیں اور معاشی بھی۔تاکہ کسی ملک کو کمزور کرکے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا جائے اور اپنے مفادات حاصل کرنے کےلئے راہ ہموار کی جائے۔مکہ والوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم   اور بنی ہاشم کو تین سال تک شعب ابی طالب میں محصور رکھا۔کھانے پینے سے محروم کردیا۔بھوک اور پیاس سے بڑے چھوٹے چمڑے وغیرہ کھانے پر مجبور ہوگئے۔جن لوگوں نے یہ حرکتیں کیں انہیں کیا پتہ تھا کہ جس رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم   کو آج ہم یہ تکلیف دے کر خوش ہورہے ہیں،ہمیں اسی کے دروازے پر بھیک مانگنے کی نوبت آئے گی۔واقعہ اس طرح ہوا:
"ثمامہ بن اثال   رضی اللہ تعالیٰ عنہ تین دن تک مسلمانوں کی قید میں رہنے کے بعد آ پ کے حسن سلوک سے اتنے متاثر ہوئے کہ آزادی ملتے ہی اسلام لے آئے اور آپ  صلی اللہ علیہ وسلم   سے عمرہ کرنے کی اجازت طلب کی۔جب مکہ پہنچے تو قریش مکہ نے بے دین ہونے کا طعنہ دیا یعنی کہا کہ اے ثمامہ ! تم نے آباء واجداد کا دین چھوڑدیا ہے۔قریش کے ان طعنوں سے متاثر ہوئے ہوئے بغیر حضرت ثمامہ نے سرعام فرمایا کہ میں نے اس دین کی اتباع کی ہے جو سب سے بہتر ہے۔اور جو دین محمدی ہے۔اے اہل مکہ!رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم   کی اجازت کے بغیر اب تمہارے پاس  یمامہ سے گندم کا ایک دانہ بھی نہیں آئے  گا۔یمامہ پہنچ کر آپ نے قبیلہ کو حکم دیا کہ مکہ والوں کو غلہ قطعاً مہیا نہ کیاجائے۔اہل مکہ نے اس واقعہ کی اطلاع نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم   کو دی اور لکھا کہ:
إنك تأمر بصلة الرحم، وإنك قد قطعت أرحامنا، وقد قتلت الآباء بالسيف والأبناء بالجوع، 
(آپ صلہ رحمی کا پرچار کرتے ہیں حالانکہ آپ نے ہماری رشتہ داری کو ختم کردیا ہے۔ہمارے آباؤاجداد کو تلوار سے قتل کیا اور ہماری اولادوں کو بھوک کے ذریعہ مارنے کا منصوبہ بنایا) یہ خط پڑھ کر اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم   نے ثمامہ کو لکھا کہ وہ مکہ میں غلہ لے جانے کی اجازت دے دیں۔(سیرۃ ابن ہشام:4/439)
مالک بن عوف  پر نظر کرم:۔
ہوازن اور ثقیف کے قبائل جو حنین کےمقام پر آباد تھے۔بہت جنگجو تیر انداز تھے۔فتح مکہ کے بعد انہیں خیال ہوا کہ کہیں مسلمان ہم پر حملہ نہ کردیں۔لہذا ان کا سردار مالک بن عوف بیس ہزار آدمیوں کے لے کر مسلمانوں پرحملہ کرنے کے لئے نکلا۔مسلمانوں کا لشکر بھی مقام حنین پر پہنچا۔ہوازن اور ثقیف کے بیس ہزار جنگجو تیر اندازوں نے صبح کی تاریکی میں حملہ کردیا۔پہلے تومسلمانوں کے پاؤں اکھڑ گئے آخر کار تما م مسلمان نبی رحمت  صلی اللہ علیہ وسلم   کے گرد جمع ہوئے۔آپ نے بلند آواز سے فرمایا:
أنا النبى لا كذب أنا ابن عبد المطلب(بخاری،مسلم)
"میں اللہ کا نبی( صلی اللہ علیہ وسلم  ) ہوں یہ جھوٹ نہیں۔۔۔میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں"
اور پھر مشرکوں  پر حملہ کاحکم د یا اور ساتھ ہی ایک مشت خاک دشمنوں کی طرف پھینکی اور فرمایا:
ساءت الوجوه (مسلم)"برے ہوئے یہ چہرے"
ایک دوسرے روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم   نے فرمایا:
انهرموا ورب محمد"قسم ہے رب محمد صلی اللہ علیہ وسلم   کی انہوں نے شکست کھائی"
اس پر دشمنوں کے قدم اکھڑ گئے۔کافی سارے بھاگ گئے اور ایک بڑی  تعداد کو مسلمانوں نے قیدی بنا لیا۔
شکست کے بعد ہوازن اور ثقیف کے سردار مالک بن عوف نے بھاگ کر طائف میں پناہ لی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم   نے جب لوگوں سے  پوچھا کہ تمہارا سرداار کہاں ہےجس نے تمھیں اللہ اور اس کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم   کے خلاف لڑنے پراکسایا تھا؟تو لوگوں نے بتایا کہ وہ طائف بھاگ گیا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم   نے اس قبیلہ کے لوگوں سے مخاطب ہوکرفرمایا کہ اسے میرا یہ  پیغام پہنچادو کہ اگر وہ میرے پاس آجائے تو میں نہ صرف اسے اس کے اہل وعیال اور مال  واپس کردوں گا بلکہ اپنی طرف سے سو اونٹ بھی دوں گا۔مالک بن عوف جو کہ طائف میں بہت پریشان حال تھا یہ خبر سن کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم   کی خدمت میں حاضر ہواتو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم   نے اپنا وعدہ پورا کیا اور  اسے اپنی قوم کی سرداری کے علاوہ چند دیگر قبائل کاسردار بھی بنادیا۔مورخین لکھتے ہیں کہ مالک بن عوف نے مسلمان ہونے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم   کی مدح میں چند شعر بھی کہے ہیں۔(الاصابہ:3/331)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم   عفوودرگزر کرنے والے شخص سے بے حد محبت فرماتے تھے شاید آپ جانتے ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم   حضرت یوسف علیہ السلام   کی بے حد  تعریف فرمایا کرتے تھے۔ان کا ذکر کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم   فرمایا کرتے تھے۔
الكريم بن الكريم بن  الكريم بن الكريم يوسف بن يعقوب بن اسحاق بن ابراهيم(بخاری:کتاب التفسیر،ص5/216)
کبھی آپ نے اس بات پرغور کیا کہ ایسا کیونکر تھا۔ملاحظہ فرمائیں۔۔۔
1۔بھائیوں نے کنوئیں میں پھینکا،ان کو معاف فرمایا۔
2۔غلام بنا کر بیچنے والوں سے کبھی کوئی باز پرس نہ کی۔
3۔عزیز مصر کی بیوی نے عفت وعصمت کو داغدار کرنا چاہا۔اپنے مقاصد میں کامیاب نہ ہونے پر جیل میں بھجوادیا۔اقتدار ملنے کے باوجود کبھی انتقام لینے کی کوشش نہ کی۔
4۔عزیز مصر کو خواب کی تعبیر قیدی ہونے کے باوجود بتائی۔
5۔اپنے ساتھی قیدی جسے رہائی کے وقت آ پ نے عزیز مصر کےلئے یہ پیغام دیا تھاکہ انہیں میرے معاملہ پر نظر ثانی کرنے کے لئے یاد دلانا لیکن وہ عزیز مصر کو یہ بات کو یہ بات یاد نہ دلاسکا۔حضرت یوسف علیہ السلام   سے جب دوبارہ ملاقات ہوئی تو آپ نےاس سے ناراضگی کا اظہار نہ فرمایا۔
7۔اقتدار ملنے کے بعد اپنے بھائیوں کی مدد فرمائی اور انہیں قحط سالی میں غلہ کی فراہمی جاری رکھی۔
8۔بھائیوں نے چوری کا الزام لگایا۔لیکن عظیم عہدے پر فائز ہونے کے باوجود انہیں کچھ نہ کہا اور ان کی بات کو بڑی ہمت سے برداشت کیا۔
9۔قیدی بنانے پر عزیز مصر سے کوئی جھگڑا  پیدا نہیں کیا۔
10۔اقتدار حاصل ہونے کے بعد آپے سے باہر نہیں ہوئے بلکہ پہلے سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے مطیع وفرمانبردار بن گئے اور مخلوق کو قحط سالی کے عذاب سے محفوظ رکھنے کے لئے پوری دیانت داری سے سرگرم رہے۔
صرف چند اسباب ذکر کردیئے گئے ہیں۔جن کی بناء پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم   انہیں بڑے احترام سے یاد فرمایا کرتے تھے۔قرآن پاک کی آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَلا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلا السَّيِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ (حم السجدہ:34)
"نیکی اور بدی برابر نہیں ہوسکتی۔نہایت عمدہ طریقے سے معاملہ کو رفع دفع  فرمایا کریں"
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم   اپنی عملی زندگی میں اس آیت مبارکہ کا مکمل نمونہ تھے۔آپ کے تربیت یافتہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین    آپ کی پیروی کرنے میں کبھی پیچھے نہیں رہے۔حضرت ابو بکر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے ایک شخص نے کہا:"میں آپ کو ایسی گالی دوں گا جو قبر میں بھی  آ پ کے ساتھ داخل ہوگی"(یعنی بدنامی مرتے دم تک آپ کا پیچھا نہیں چھوڑے گی)تو حضرت ابو بکر صدیق  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے جواب میں صرف اتناہی کہا:" میرے ساتھ نہیں بلکہ تمہارے ساتھ قبر میں داخل ہوگی۔"(العقد الفرید:ص2/275)
حضرت ابو ذر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  غفاری کو کسی شخص نے برا بھلا کہا تو انہوں نے اس شخص سے کہا:
"اللہ کے بندے! مجھے برا بھلا کہنے میں مصروف نہ ر ہو۔میل جول کی کوئی تدبیر ہونی چاہیے۔ہماری وجہ سے جو شخص اللہ تعالیٰ کا نافرمان بنتا ہے،ہم اس سے انتقام نہیں لیتے۔بلکہ اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے  زیادہ مطیع وفرمانبردار بن جاتے ہیں۔"
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم   کے اس فرمان کو بڑی عمدگی کے ساتھ اپنے معاملات میں سمو لیا تھا:
ما تجرّع عَبد فى الدنيا جرْعةً أحب إلى اللهّ من جَرْعة غيظ رَدّها بحِلْم أو جَرْعة مُصيبة ردها يصبر (ابن ماجہ۔کتاب الذہد)
"انسان دنیا میں کتنے ہی گھونٹ بھرتاہے۔ لیکن اللہ  تعالیٰ کو سب سے زیادہ  پسندیدہ غیظ وغضب کا وہ کڑوا گھونٹ ہے۔جس کا جواب انسان  نہایت بردباری سے دیتا ہے  پھر مصائب سے بھر پور وہ تلخ گھونٹ اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند ہے جسے وہ صبر وہمت سے برداشت کرتا ہے"
شاعر حضرات نے بھی اس خوبی کو موضوع سخن بنایا ہے اور اس بارے میں خوب جولانیاں دکھائی ہیں:
قصیدہ ابن المدینہ میں ہے کہ برا بھلا کہنے والے کو کس طرح جواب دیاجاتا ہے۔ملاحظہ فرمائیں:
لئن ساءني أن نلتني بمساءة
لقد سرني أني خطرت ببالك
"آپ کے برا بھلاکہنے سے اگرچہ مجھے دکھ ہوا ہے،لیکن حسرت تو اس بات کی ہے کہ آ پ نے مجھے یاد رکھاہے۔بھلایا تو نہیں"(العقد الفرید:ص2/275)۔۔۔مرزاغالب کہتے ہیں۔
قطع کیجئے نہ تعلق ہم سے
محبت نہ ہوتو عداوت ہی سہی
طاہر بن عبدالعزیز نے اس موضوع پر یوں اظہار سخن کیا ہے:
إذا ما خليلي أسا مرَّةً
وقد كان مِن قَبْل ذا مجمِلا
تحمَّلت ما كان مِن ذنبه
فلم يُفسد الآخر الأوَّلا
"جب میرے کسی پرانے احسان مند دوست سے   کوئی برائی سرزد ہوجاتی ہے تو میں اس کے سابقہ احسانات کو یاد کر تاہوں۔اس طرح پرانی دوستی بگڑنے نہیں پاتی"(العقد الفرید:2/275)(بعض کتابوں میں" ذكرتَ المقَدَّمَ مِن فعلِه,"کی بجائے  تحمَّلت ما كان مِن ذنبه,کے لف لفظ ملتے ہیں۔میں اس کے  گناہ کو برداشت کرتا ہوں۔"
احنف بن قیس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  بیان فرماتے ہیں۔
کہ قیس بن عاصم منقری ہتھیار باندھے ا پنے گھر کے صحن میں بیٹھے ا پنی قوم سے باتیں کررہے تھے کہ  ان کے پاس دو آدمیوں کو لایاگیا۔ایک کی مشکیں کسی ہوئیں تھیں اور دوسرا مقتول تھا۔قیس بن عاصم سے کہا گیا  کہ آ پ کے بھتیجے نے آپ کے بیٹے کو قتل کردیا ہے حالانکہ وہ سراسر بے قصور تھا۔
قیس بن عاصم اپنے بھتیجے کی طرف متوجہ ہوئے اور  فرمانے لگے تو اپنے رب کی نافرمانی کی ہے اور اپنے تیر سے اپنے آپ کو ہی نشانہ بنایا ہے، اپنے چچازاد بھائی کو قتل کردیا ہے۔پھر اپنے دوسرے بیٹے کو فرمایا:اٹھو اپنے بھائی کی تجہیز وتکفین کا بندوبست کرو،اس کی ماں کو ایک سواونٹنی دیت ادا کرو۔وہ بے سہارا ہوگئی ہے اور اپنے چچازاد بھائی کی مشکیں کھول دو۔
فارسی ادب میں بھی اس موضوع پر بہت کچھ ملتا ہے اور کسی نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے۔
لذتے درعفواست انتقام نیست
ایں کار برکریماں دشوار نیست
"معاف کردینے سے جو لذت وسرور حاصل ہوتاہے ،انتقام لینے میں وہ مزید کہاں۔۔۔نیک لوگوں کے لئے ایسا کرنا کوئی مشکل نہیں"(العقد الفرید:ص2/275)
میرے رب کو ایسے ہی لوگ پسند ہیں ۔
ارشاد ہے:وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِين (آل عمران:134)
"وہ لوگ غصے کو پی جاتے ،لوگوں سے درگزر کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے"
حالانکہ اللہ کی طرف سے آ پ کی ذمہ داری صرف اس حد تک تھی کہ آپ اللہ کے دین کو لوگوں تک  پہنچادیں جیسا کہ ارشاد باری  تعالیٰ ہے: وَمَا عَلَيْنَا إِلاَّ الْبَلاغُ 
رسول رحمت  صلی اللہ علیہ وسلم   کی شان کریمی:۔
آپ زندگی بھر انسانیت کی فلاح اورکامیابی کے لئے تڑپتے رہے۔صرف ایک ہی غم کھائے جارہا تھا کہ انسان جو اللہ کے راستے کو چھوڑ کر ہوئے شیطان کی راہ پر گامزن ہے،آخر کار ایسی آگ کے اس گڑھے میں گر جائے گا جو دنیا کی آگ سے ستر گناہ زیادہ  گرم اور تکلیف دہ ہے۔وہاں انسان کاکوئی مددگار اورغمگسار نہیں ہوگا۔انسانیت کو اس آگ سے بچالیا جائے۔یہی احساس  آپ کو دن رات چین سے نہیں بیٹھنے دیتا تھا۔اسی پریشانی نے آ پ کی زندگی کو مضطرب کردیا تھا ۔اس کا اندازہ قرآن پاک کی اس آیت سے لگایا جاسکتاہے جس میں اللہ کی ذات نے اس کیفیت کا نقشہ کھینچا ہے:
لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ (سورۃ شعراء)
"لوگوں کے مسلمان نہ ہونے کی وجہ سے شاید آپ اپنے آپ کو ہلاک کرڈالیں گے"
اسی کیفیت کا ا ظہار تھا کہ آپ کی زبان مبارک سے ان دشمنوں کے لئے بھی کبھی بددعائیں نہیں نکلتی تھی جنھوں نے آپ کو لہولہان کردیا اور ا پنے شہر سے پتھر مار مار کر نکال دیا۔دوسری جگہ سورہ شعراء میں ارشاد فرمایا:
فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ عَلَى آَثَارِهِمْ إِنْ لَمْ يُؤْمِنُوا بِهَذَا الْحَدِيثِ أَسَفًا (الکہف:86)
"اور ام المومنین حضر ت عائشہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا   کے بیان کے مطابق میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم   سے دریافت کیا:یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم   آپ کی زندگی کا سخت ترین اورتکلیف دہ دن کون سا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم   نے فرمایا وہ طائف کا دن تھا"
طائف کا واقعہ:۔
ابو طالب کی وفات کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم   کوقریش مکہ نے اتنا ستایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم   نے مکہ کو  چھوڑ کر طائف کا ارادہ فرمایا تاکہ وہاں جاکر ان کو دائرہ اسلام میں لانے کی کوشش کریں۔ثقیف کے تین سردار جو کے آپس  میں بھائی تھے ان کے ہاں تشریف لے گئے اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دی۔لیکن ان کی طرف سے کوئی حوصلہ افزا جواب نہ ملا بلکہ انھوں نے اوباش قسم کے لوگوں کو آ پ کے پیچھے  لگادیا انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم   پر پتھروں کی بارش کردی۔ اور بعض روایات میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم   کے پاؤں مبارک کا نشانہ لے لے کر پتھر مارتے تھے۔جس سے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے دونوں پاؤں مبارک خون آلود ہوگئے۔اسی زخمی حالت میں ربیعہ کے دو بیٹوں عتبہ اور شیبہ کے باغ میں پناہ لی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم   ارشاد فرماتے ہیں کہ میں اپنا چہرہ جھکائے بے حد غم کی حالت میں بیٹھا تھا اور مجھے کوئی ہوش نہ تھا۔اچانک میں نے اپنا سر اوپر اٹھایا تو  میں دیکھتاہوں کہ ایک بادل مجھ پر سایہ فگن ہے۔میں نے اس میں جبرئیل  علیہ السلام   کو دیکھا جو مجھے پکار  پکار کرکہہ رہے تھے کہ اللہ رب العالمین نے ان لوگوں کی ساری باتوں کو سن لیا ہے اور آپ کی مدد کے لئے پہاڑوں  والے فرشتوں کو بھیجاہے۔آپ اسے جو حکم  فرمائیں گے وہ پورا کرے گا۔پھر اس فرشتے نے مجھے سلام کیا اور فرمایا:
يَا مُحَمَّدُ , إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ , قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِكَ لَكَ ، وَمَا رَدُّوا عَلَيْكَ ، وَقَدْ بَعَثَ اللَّهُ مَلَكَ الْجِبَالِ لِتَأْمُرَهُ بِمَا شِئْتَ فِيهِمْ ، قَالَ : فَنَادَانِي مَلَكُ الْجِبَالِ : فَسَلَّمَ عَلَيَّ , ثُمَّ قَالَ : يَا مُحَمَّدُ : إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِكَ لَكَ ، وَأَنَا مَلَكُ الْجِبَالِ ، وَقَدْ بَعَثَنِي رَبُّكَ إِلَيْكَ لِتَأْمُرَنِي أَمْرَكَ ، وَبِمَا شِئْتَ ، إِنْ شِئْتَ أَنْ أُطْبِقَ عَلَيْهِمُ الأَخْشَبَيْنِ فَعَلْتُ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بَلْ أَرْجُو أَنْ يُخْرِجَ اللَّهُ مِنْ أَصْلابِهِمْ مَنْ يَعْبُدُ اللَّهَ ، لا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا
"اے محمد  صلی اللہ علیہ وسلم   !اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم   کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم   کی قوم کی ساری گفتگو کو سن لیاہے اور میں پہاڑوں کا فرشتہ ہوں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم   کے رب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم   کی خدمت میں بھیجا ہے تاکہ ان لوگوں کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم   جو ارشاد فرمائیں اسے بجالاؤں۔اگر آ پ چاہیں تو ان سب کو ان دونوں پہاڑوں  کے درمیان  پیس کررکھ دوں"لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم   نے فرمایا:
"میں اللہ کی ذات سے امید کرتاہوں کہ ہوسکتاہے کہ ان کی نسل سے ایسے لوگ پیدا فرمائے جو اللہ کی توحید کا اقرارکریں گے اور شرک سے باز رہیں گے"(البدایہ والنہایہ:3/135)
محاصرہ طائف :
غزوہ حنین  کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم   نے طائف کا محاصرہ کیا جو کافی طول پکڑ گیا اور اس کے فتح ہونے کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی تھی۔ ابن سعد کی روایت کے مطابق حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے آپ سے گزارش کی یارسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم   آپ ان کے حق میں بدوعافرمائیں ۔آپ  صلی اللہ علیہ وسلم   نے ارشاد فرمایا :کہ مجھے بدوعا کی اجازت نہیں۔تو حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواباًعرض کیا تو پھر ہمیں ان سے لڑنے کی ضرورت نہیں۔چنانچہ رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم   نے محاصرہ اٹھا کر کوچ کرنےکا حکم فرمایا اور چلتے وقت بنو ثقیف (اہل طائف )کے حق میں یہ دعا فرمائی:
اللهم اهد ثقيفا وأت بهم 
"اے اللہ ثقیف کو ہدایت دے اور انہیں میرے پاس پہنچا دے ۔آپ  صلی اللہ علیہ وسلم   کی دعا کو شرف قبولیت حاصل ہوئی اور تھوڑے عرصہ بعد سب لوگ مسلمان ہو گئے۔
غزوہ احد:۔
غزوہ احد میں گھمسان کارن پڑا ۔تیروں کی بارش ہورہی تھی ۔مسلمانوں پر اچانک حملہ ہوا اور بڑے بڑے بہادروں کے پاؤں اکھڑ گئے۔ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم   میدان جنگ میں ڈٹے رہے ہیں ۔چار دانت مبارک شہید ہو گئے سر مبارک زخمی ہوا چہرہ نور و اطہر خون آلود ہو گیا خون کے حلقے رخسار مبارک میں پیوست ہوگئے۔صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  نے اس حالت کو دیکھ کر گزارش کی۔ یارسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم   !آپ دشمنوں کے لیے بدوعا فرمائیں"آپ صلی اللہ علیہ وسلم   نے ارشاد فرمایا :"میں بدوعا اور لعنت کے لیے نہیں بھیجا گیا بلکہ لوگوں کو دین حق کی طرف بلانے کے لیے بھیجا گیا ہوں۔
اسی طرح جب قریش نے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم   پر ظلم کے پہاڑ توڑے تو صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین   نے عرض کیا:"یارسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم   !ان کے لیے بدوعا فرمائیں۔" آپ  صلی اللہ علیہ وسلم   نے انکار فرمایا اور ان کے حق میں دعا کی۔(طبقات ابن سعد :2/115)
"اللہ میری قوم کو ہدایت عطافرما یہ لوگ بے خبر ہیں"
یہودیہ کا آپ  صلی اللہ علیہ وسلم   کو زہر دینا:۔
فتح خیبر کے بعد چند روز آپ  صلی اللہ علیہ وسلم   وہیں قیام پذیر رہے اس دوران زینب بنت حارث نے ایک بھنی ہوئی زہر آلود بکری ہدیہ کے طور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم   کی خدمت اقدس میں پیش کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم   نے چکھتے ہی کھانے سے ہاتھ روک لیا۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم   نے اپنے ساتھی بشیر بن براء بن معرورکو بھی کھانے سے منع کر دیا جبکہ وہ کچھ کھا چکے تھے ۔یہودیہ عورت (زینب ) کو بلا کر تحقیق کی گئی تو اس نے جرم کا اعتراف کر لیا اور کہا کہ میں نے اس لیے ایسا کیا تھا کہ اگر آپ سچے نبی ہیں تو اللہ تعالیٰ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم   کو ضرور اطلاع فرمادیں گے اور اگر آپ سچے نبی نہیں ہیں تو لوگ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم   سے نجات پاجائیں گے۔آپ  صلی اللہ علیہ وسلم   نے اس سے زیادہ بازپرس نہیں فرمائی کیونکہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم   اپنی ذات کے لیے انتقام نہیں لیتے تھے ۔لیکن آپ کے ساتھی پر زہر نے اثر کیا جس کی وجہ سے وہ انتقال کر گئے تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم   نے زینب کو اس کے قصاص میں قتل کر دیا بیہقی کی روایت کے مطابق زینب اپنے جرم کا اقرار کرنے کے بعد اسلام لے آئی اور تمام حاضرین مجلس کو گواہ بنا کر کہنے لگی کہ مجھ پر آپ کا سچا ہونا واضح ہو چکا ہے اس لیے میں آپ کا دین قبول کرتی ہوں۔(فتح الباری : 7/380)