سوال:۔ شوہر کے مرتد ہوجانے کی صورت میں تجدید نکاح کیا جائے گا یانہیں؟
جواب:۔اس مسئلہ میں اہل علم کا اختلاف ہے۔اور راجح مسلک وہ ہے جس کو حافظ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ  نے زاد المعاد (3/15) اور حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ  نے البدایہ والنھایۃ(3/359)میں اختیار کیا ہے۔چنانچہ فرماتے ہیں کہ:
"اس صورت میں قصہ زینب  رضی اللہ تعالیٰ عنہا      میں اس امر کی دلیل ہے کہ عورت جب مسلمان ہوجائے اور اس کا خاوند تاخیر سے مسلمان ہو یہاں تک کہ اس کی عدت ختم ہوجائے تو صرف اسی وجہ سے اس کا نکاح فسخ نہیں ہوگا(کہ اس کا خاوند غیر مسلم ہے) بلکہ اس میں اختیار ہے اگر عورت چاہےتو دوسرے سے نکاح کرلے اور اگرچاہے تو اپنے خاوند کے مسلمان ہونے کے انتظار میں بیٹھی رہے کہ کب وہ اسلام لاتاہے اور تب تک عورت اس کی بیوی سمجھی جائے گی جب تک آگے نکاح نہ کرلے۔"
یہ قول قوی اور فقہی اعتبار سے بھی معنی خیز ہے ۔میری رائے میں اس طرح متعارض دلائل میں تطبیق کی ایک صورت پیدا ہوجاتی ہے۔جس سے بہت ساری الجھنوں سے چھٹکارا حاصل ہوجاتاہے۔پھر موصوف نے صحیح بخاری سے چند ایک اشتہارات بطور تائید بھی پیش کئے ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ مسلک ار تداد اختیار کرنے سے نکاح کا معاملہ موقوف  رہتاہے ٹوٹتا نہیں اور اسوقت  ختم ہوتاہے جب عورت آگے نکاح کرلے بنا بریں بالاصورت میں سابقہ نکاح قائم ہے تجدید کی ضرورت نہیں۔[1]
سوال:۔ہمارے گاؤں میں دو مسلمان ہوئے ہیں جو  پہلے عیسائی تھے۔ان کا نکاح دوبارہ ہوگا یا نہیں؟۔۔۔دونوں خاوند بیوی اکھٹے مسلمان ہوئے ہیں۔(محمد طاہر ،لاہور)
جواب:۔ اکھٹے مسلمان ہونے والے شوہر اور بیوی کادوبارہ نکاح پڑھانے کی ضرورت نہیں،اسلامی شریعت نے جاہلیت کے نکاحوں کو قابل اعتبار سمجھاہے۔سورہ لہب میں ہے:وَامْرَأَتُهُ حَمَّالَةَ الْحَطَبِ"
اس آیت میں ام جمیل کو ابو لہب کی بیوی قرار دیا گیا ہے۔
اور سنن ابو داود میں حضرت ابن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے روایت ہے کہ"رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے عہد میں ایک شخص مسلمان ہوکر آیا،اس کے بعد اس کی بیوی مسلمان ہوگئی تو اس نے عرض کیا:یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم   ! یہ میرے ساتھ مسلمان ہوئی ہے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم   نے اس کو واپس کردیا"(باب اذا اسلم احد الزوجین)
صاحب عون المعبود فرماتے ہیں"
  والحديث يدل أن الزوجين إذا أسلما معاً فهما على نكاحهما، ولا يُسأل عن كيفية وقوعه قبل الإسلام، هل وقع صحيحاً أم لا؟ ما لم يكن المبطلُ قائماً،......الخ
تفصیل کے لئے ملاحظہ ہوزاد المعاد(4،13،14)
"حدیث اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ جب زوجین اکھٹے اسلام قبول کرلیں تو ان کا پچھلا نکاح باقی رہے گا،اسلام سے قبل کس طرح یہ نکاح ہوا،اس کی کیفیت کے بارے میں بحث  نہیں کی جائے گی۔الا یہ کہ نکاح کو باطل بنانے والی کوئی وجہ موجود ہو"(مثلاً محرم  رشتوں سے نکاح وغیرہ)
سوال:۔ کیاوقف چیز کو سستا فروخت کرناجائزہے؟
جواب:۔وقف کی تعریف علماء نے یوں کی ہے کہ"اصل چیز کو بیع،وراثت اورہبہ سے محفوظ کرلینا اور اس کی آمدنی کسی خاص مد کے لیے فی سبیل اللہ متعین کرنا وقف کہلاتا ہے۔(منہاج المسلم،ص604)اور حاشیہ میں ہے کہ اسے فروخت یا ہبہ کرنا یا بطور ترکہ ورثاء میں تقسیم کرنا درست نہیں ہے۔کیونکہ وقف کے ذریعے وہ ان تصرفات سے محفوظ کرلی گئی ہے۔اور حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ  نے اس کا مفہوم یوں ادا کیاہے:
والوقف منع بيع الرقبة والتصدق بالمنفعة على وجه مخصوص،(فتح الباری،5/380)
"اصل چیز کو فروخت کرنا منع ہے اور مخصوص طریق سے منافع صدقہ کرنے کا نام وقف ہے"
صحیح بخاری میں قصہ عمر میں ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم   نے فرمایا:
تَصَدَّقْ بِأَصْلِهِلَا يُبَاعُ وَلَا يُوهَبُ وَلَا يُورَثُ وَلَكِنْ يُنْفَقُ ثَمَرُهُ فَتَصَدَّقَ . به عمر
"اصل چیز کا صدقہ کردے اس کی بیع ،ہبہ اور وراثت میں لیناناجائز ہے۔لیکن اس کا پھل اللہ کی راہ میں صرف کردیا جائے توحضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   نے صدقہ کردیا"
(فتح الباری :ص5/392)اس سے معلوم ہوا کہ وقف کیسٹوں کوفروخت کرنا ممنوع ہے چاہے سستی ہی کیوں نہ ہوں۔حدیث میں مطلقاً ممانعت وارد ہے،سستی اور مہنگی کی تفریق نہیں کی گئی۔
سوال:۔ زید اپنی زندگی میں اپنی جائیداد اسلامی وراثت کے  اصول  پر  تقسیم کرنا چاہتاہے تاکہ بعد میں اولاد میں اختلاف واقع نہ ہو،کیا ایسا کرناجائزہے؟زندگی میں جائیداد  تقسیم کرنے کی صحیح صورت کیا ہے؟(خلیل احمد،لاہور)
جواب:۔بطور میراث زندگی میں جائیداد تقسیم نہیں ہوسکتی ہاں البتہ ہبہ کی صورت میں تقسیم کرنا درست ہے۔لیکن بایں وجہ ر اجح مسلک کے مطابق اولاد میں بلا امتیاز مذکر و مونث مساوات ضروری ہے۔چنانچہ قصہ نعمان بن بشیر اس امر کی واضح دلیل ہے۔جب ان کے والد نے اس کو ایک ہبہ  کرکے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم   کو اس پر  گواہ بنانا چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم   نے  فرمایا:کیا اپنی تمام اولاد کو  تو نے اس کے مثل ہبہ کیا ہے۔اس نے  کہا نہیں،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم   نے فرمایا:اس ہبہ سے رجوع کرلے اور دوسری ر وایت میں ہے ،کیا تو نے اپنی باقی اولاد کو بھی اس کے مثل دیا ہے؟کہا:نہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم   نے فرمایا:اللہ سے ڈرو اور اولاد میں عدل کرو۔ان الفاظ" اس کے مثل ہبہ کیا ہے یا اس کے مثل دیا ہے "سے معلوم ہوتا ہے کہ اس بارے میں ذکورواناث  میں فرق نہیں کیونکہ اولاد کا لفظ لڑکے اور لڑکیوں سب کو شامل ہے۔
سوال:۔عدت گزر جانے پر (سابقہ) بیوی سےدوبارہ نکاح کیاجاسکتا ہے یا نہیں؟
(تیسری مرتبہ طلاق کے ماسوا) عدت گزرجانے کی صورت  میں دوبارہ نکاح کا جواز ہے۔صحیح بخاری میں حضرت معقل بن یسار  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی ہمشیرہ کا قصہ اس امر کی وضح دلیل ہے۔( باب من قال لا نكاح إلا بولي )

[1] ۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   کے درج ذیل فیصلہ جات سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے:
عن ابن عباس قال: ردَّ عليه رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ابْنَتَهُ زَيْنَبَ عَلَى أَبِي الْعَاصِ بِالنِّكَاحِ الْأَوَّلِ وَلَمْ يَحْدُثْ شيئا (سنن ابو داود:ص304)
دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں:
أنّ رسول الله صَلَّى الله عليه وسلم ردّ ابنته إلى أبي العاص بعد سنتين بنكاحهاالأَوّل
(سنن کبری بیہقی ج7 ص187)اسی دوران جنگ بدر ہوئی اور ابو العاص نے مشرکین مکہ کا ساتھ دیا۔بالآخر قید بھی ہوا اور زینب بھی مکہ میں تھیں۔جنھوں نے ابو العاص کی رہائی کےلیے اپنا ہار بھیجا:
 فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَقَّ لَهَا رِقَّةً شَدِيدَةً 
معجم طبرانی جلد 22 ص428)۔۔۔ولید بن مغیرہ   رضی اللہ تعالیٰ عنہ  اور صفوان بن امیہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی بیویاں ان سے قبل مسلمان ہوئیں جبکہ ابو سفیان  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   ا پنی بیوی ہند سے قبل اسلام لائے ،ان واقعات میں زوج کے اسلام لانے پر نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم   نے پہلے نکاح کو باقی رکھا(بیہقی :ج7ص187)