صحیح بخاری کے تحریری مآخذ
کیا صحیح بخاری صرف زبانی روایات کاتحریری مجموعہ ہے؟


(((مذہبی روایات عام طور پر کسی معاشرے میں مختلف مذہبی رجحانات کی بنیاد پر رواج پاتی ہیں۔ضروری نہیں کہ ان کی پشت پر صالح اور محققانہ  فکرہی موجود ہو۔یہی وجہ ہے کہ جو لوگ مسلم معاشروں کے تعامل کو سنت یا روایت متواترہ کا نام دے کر احادیث صحیحہ کو ان پرپیش کرناضروری سمجھتے ہیں ہم انہیں فن حدیث سے ناواقف سمجھتے ہیں۔اس کے بالمقابل فن  روایت ایک نہایت ذمہ دارانہ فن ہے جس کے پیچھے نہایت گہری علمی بنیادیں موجود ہیں۔
درحقیقت عہد نبوت اور متصلہ قرون خیر میں اسلامی سوسائٹی میں جو اسلامی اقدار مسلم معاشرے نے محفوظ کیں،ان کے اندر تغیر وتبدل کے علاج کے لئے ہی ایک طریق کار زبانی روایت کو فروغ دینے کا بھی اختیار کیا گیا جس نے اسلامی قدروں کی مضبوطی میں نہایت اہم کردار ادا کیا جو محدثین کا ایک بڑا کارنامہ ہے۔گویا یہ انسانی کردار اور معاشرتی رویے اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم   کی زبانی روایات سے تائید پاکر اعلیٰ میعار حاصل کرتے رہے۔
فن روایات کے سلسلہ میں دوسری بات جو عموماً نظر انداز ہوجاتی ہے وہ یہ ہے کہ قرآن کی روایت میں اصل اہتمام الفاظ کا ہوتا ہے اسی لئے وہاں سا رازور "زبانی تلقی" پر ہوتاہے اگرچہ یہ بھی روایت کی ہی ایک قسم ہے لیکن سنت کا زیادہ تر تعلق چونکہ مراد الٰہی سے ہوتا ہے جو رسول  صلی اللہ علیہ وسلم   کے اسوہ عمل سے تشکیل پذیر ہوئی،اس لئے اس کے تحفظ وبقا میں اصل مقصود بھی تعبیر شریعت ہے۔چنانچہ اس میں الفاظ کی بجائے زیادہ اہتمام مفہوم ومراد کا ہے۔اگرچہ محدثین نے یہ احتیاط بھی ملحوظ رکھی کہ جہاں تک ممکن ہو الفاظ میں بھی فرق نہ آنے پائے لیکن اگر مفہوم کی یکسانیت کے باوصف الفاظ وانداز کا فرق پڑ بھی  جائے تو جمہور محدثین اس کو برداشت کرلیتے ہیں کیونکہ اتنی زیادہ سختی سے دین وشریعت آگے منتقل ہی نہ ہوپائے۔لیکن بعد میں آنے والے فن حدیث سے نابلد لوگوں نے اس سے یہ مغالطہ کھایاہے کہ شاید فن روایت افواہوں کا علم ہے،اس بنا پر وہ اس کے خلاف تیشہ زنی کرتے رہتے ہیں۔
جہاں تک صحیحین(بخاری ومسلم) کاتعلق ہے وہ نہ صرف متفق علیہ احادیث کا مجموعہ ہیں بلکہ اس مخصوص فنی اصطلاح کے علاوہ محدثین کامتفق علیہ مجموعہ حدیث بھی ہیں کیونکہ ان احادیث کی جس طرح ایک عرصہ تک محدثانہ تنقید سے جانچ پڑ تال ہوتی رہی،اس نے بخاری ومسلم  پر اعتماد میں بہت اضافہ کردیاہے۔اسی کو امت کے ہاں تلقی بالقبول کہاجاتاہے۔
بہرصورت ان پہلوؤں کے باوجود محترم مقالہ نگار نے علی سبیل التنزل صحیح بخاری کا اس  پہلوسے بھی ایک مختصر جائزہ پیش کرنے کی کوشش کی ہے کہ اس کتاب میں صرف زبانی طریقہ روایت سے ہی کام نہیں لیا گیا بلکہ اس سے قبل  کے تحریری مآخذ بھی اس کی تائید کرتے ہیں۔اگرچہ  روایت کو حافظہ تک منحصر رکھنے کا محدثین میں کوئی قائل نہیں کہ کیونکہ حفاظت وضبط کی دو قسمیں محدثین کے ہاں معروف ہیں:1۔ضبط صدر اور2۔ضبط کتابت،تاہم عامیانہ ذہن کے مغالطے دور کرنے کے لحاظ سے اس پہلو کو بھی اجاگر کرنے کی ضرورت ہے جس پر ہم موصوف کے شکر گزار ہیں۔(محدث)))
صحیح بخاری پر منکرین حدیث کی طرف سے اکثر وبیشتر یہ اعتراض دہرایا جاتا ہے کہ یہ کتاب صرف زبانی روایات کی بنیاد پر تحریر کی گئی ہے۔اور یہ روایات بھی دو اڑھائی سو سال سے زبانی طور پر چلی آرہی تھیں اور تحریری طور پر ان کا کوئی وجود نہ تھا۔(1) ان کے بقول ایک مجلس میں مختلف افراد کے سامنے کوئی بات بیان کی جائے اور بعد میں ان سے اس بات کا سماع کیاجائے تو نہ صرف الفاظ بلکہ مفہوم تک مختلف ہوتے ہیں۔ایسی صورت حال میں دو صدیوں سےزائد عرصہ گذر جانے کے بعد ان زبانی روایات کے سہارے لکھی جانے والی کتاب کی قطیعت اور صحت کا کیا اعتبار باقی رہ جاتا ہے۔
عربوں کے بے مثال حافظہ کی ساری دنیا ہی معترف ہے۔اس پر مستزاد جب ان مسلمان ہونے والے عربوں کو یہ وعید سنائی گئی کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم   کے اسم گرای پر  جھوٹ بولنا دوزخ کاایندھن بننے کے مترادف ہے۔تو وہ لوگ بہت ہی محتاط ہوگئے اور روایت حدیث میں الفاظ کے بیان کرنے میں احتیاط کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔لیکن ان سب سے قطع نظر ہم یہاں پر صرف صحیح بخاری کا جب اس حوالے سے جائزہ لیتے ہیں کہ آیا واقعتاً یہ صرف زبانی روایات کی بنیاد پر ہی لکھی جانے والی کتاب ہے یا اس کے کچھ تحریری ماخذ ومصادر بھی ہیں؟ نیز اس سے زبانی تقدم رکھنے والی کتب حدیث پائی جاتی ہیں یا نہیں؟اور ان کتب کی روایات اور بخاری کی روایات کے متون میں لفظی مطابقت پائی جاتی ہے یا نہیں؟ مذکورہ بالا نکات پر جب ہم سلسلہ تحقیق آگے بڑھاتے ہیں تو ہمیں تاریخی چوراہے میں منکرین حدیث کے اس اعتراض کی صداقت کا بھانڈا پھوٹتا نظر آتا ہے۔
بخاری کے مآخذ ومصادر کے حوالے سے عالم اسلام کے نامور ترک محقق جناب ڈاکٹر فواد میزگین نے 1956ء میں ایک تحقیقی مقالہ بنام"مصادر البخاری"(Buharinin Kay Naklari)(2) تحریر کیا تھا جو 406 صفحات پر استنبول سے مطبوع ہے۔اس میں انہوں نے ثابت کیا ہے کہ صحیح بخاری کی ذکر کردہ لغوی معلومات تقریبا تمام تر ابو  عبیدہ کی "مجاز القرآن"(3) اور الفراء کی "معانی القرآن"(4) سے نقل کردہ ہیں۔اس کے علاوہ موطا امام مالک(179ھ) سے روایات بخاری کی پانچ صد سے زائد مقامات پر مطابقت دکھانے کی  غرض سے صفحات نمبر کی ایک تقابلی فہرست پیش کی ہے۔(5) ت تقریباً 300 روایات میں بخاری اور موطا کے متون میں مکمل مطابقت  پائی ہے جبکہ باقی مقامات پر تھوڑا بہت لفظی اختلاف پایاجاتا ہے۔
ڈاکٹر فواد سیزگین کی طرح دوسرے ترک سکالر ڈاکٹر علی آک یوز(Ali Akyuz) نے صحیح بخاری کے رجال میں سے امام عبدالرزاق(211ھ) کی مصنف کے متون سے صحیح بخاری کے متون کا تقابلی جائزہ لیا تو 103  روایات میں صحیح بخاری اور مصنف عبدالرزاق کے متون میں مطابقت پائی گئی۔(6)  اسی طرح  رجال بخاری میں سے معمر بن راشد(153ھ) کی جامع(7) سے 263 روایات میں مطابقت  پائی گئی۔(8)
58ھ کےلگ بھگ تالیف شدہ"صحیفہ   ہمام بن منبہ"(9) کی روایات کے متون سے صحیح بخاری کے متون کاموازنہ کیا گیا تو 47 روایات میں لفظی مطابقت  پائی گئی۔مذکورہ بالا کتب کے علاوہ صحیح بخاری سے زمانی تقدم  رکھنے والی کتب مثلاً مسند احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ  (231ھ)مسند الحمیدی(219ھ) جامع عبداللہ بن وہب(197ھ)  اور کتب عبداللہ بن مبارک (181ھ) کا اس   حوالے سے جائزہ لینا بہت مفید اور مثبت نتائج سامنے لاسکتا ہے۔
بہرحال مذکورہ بالا قدیم کتب سے صحیح بخاری کا موازنہ کرنے کے بعد اس اعتراض کی کوئی حقیقت باقی نہیں رہ جاتی کہ بخاری صرف زبانی  روایات کی بنیاد پر تحریر کی جانے والی کتاب ہے کیونکہ اس سے پہلے کتب حدیث کا کوئی تحریری سرمایہ موجود نہیں تھا۔
منکرین حدیث اگرشارحین حدیث کی کتب کامطالعہ کرتے تو شاید علمی طور پر ایسے بے خبری والے اعتراض کو ہوا نہ دیتے۔صرف برصغیر کی نامور شخصیت شاہ عبدالعزیز کی "بستان المحدثین" کی طرف ہی مراجعت فرماتے توانہیں خبر ہوجاتی کہ بخاری کے تحریری مآخذ بھی تھے۔جیسے کہ شاہ صاحب نے فرمایا ہے"بخاری کی اکثر  روایات اہل شام سے بطریق مناولہ میں(یعنی تحریری تبادلہ روایت کاطریقہ)(10)
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ  (245ھ) کی الصحیح کے رجال میں سے عبدالرزاق (211ھ) کی مصنف (مطبوع) معمر بن راشد(152ھ) کی الجامع(مخطوط) کتب حدیث کے علاوہ ہمام بن منبہ(101ھ) کا صحیفہ(مطبوع) حضرت ابوہریرۃ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے الصحیفۃ الصحیفۃ سے نقل کردہ ہے۔حضرت ابوہریرۃ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی وفات 58ھ میں ہے۔لا محالہ یہ صحیفہ 58ھ یااس سے قبل نقل کیا گیاہے۔ 58ھ کے قریبی دور میں تحریر میں محفوظ ہے۔گویا دو سوسالہ جو تحریری خلا منکرین حدیث دکھاتے چلے آرہے ہیں،درحقیقت وہ خلا اس صحیفے سے لے کر امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ  تک تاریخی  تسلسل کے ساتھ کتب حدیث   مطبوع یا مخلوط میں سرے سے باقی نہیں بلکہ اس دور کی نمائندہ  کتب حدیث میں بھی احادیث رسول تحریری شکل میں موجود ہیں۔
اس کے باوجود اگر یہی رٹ لگائی جائے کہ بخاری سے پہلے احادیث کاکوئی تحریری مجموعہ موجود نہیں تھا تو سوائے جہل مرکب کے اسے اور کیا کہیے۔۔۔وقت اور وسائل کی کمی آڑے ہے ورنہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ  سے متقدم محدثین کی دیگر کتب حدیث سے تفصیلی موازنہ پیش کرکے اس اعتراض کاتاریخی طور پر ٹھوس رد سامنے لایاجاسکتاہے۔تاکہ بعض کم علم مسلمان اس اعتراض کی وجہ سے انکارحدیث کی جس راہ پر چل نکلتے ہیں تو بچ جاتے اور اس کے بعد بھی اگر کسی کو اصرار ہوتو:
لِّيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَن بَيِّنَةٍ وَيَحْيَىٰ مَنْ حَيَّ عَن بَيِّنَةٍ (الانفال:42)
صحیح بخاری سے دو سو سال قبل تحریر کی جانے والی کتاب حدیث یعنی صحیفہ ہمام بن منبہ میں صحیح بخاری کی 47 روایات کے متون میں مطابقت کا پایا جانا صحیح بخاری کے متون کی صداقت کے علاوہ احادیث کی صحیح بخاری سے قبل تحریری شہادت کا دو سو سالہ قدیم ثبوت ہے۔درمیانی عرصہ کی چند کتب کا موازنہ بھی اس کا بین ثبوت ہے۔
احادیث رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم   کےجو الفاظ دو سو سال پہلے تھے،وہی امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ  تک پہنچے جنھیں امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ  نے اپنی کتاب میں  نقل کیا۔لہذا زبانی روایت ک بہانے حدیث رسول  صلی اللہ علیہ وسلم   کے الفاظ بدل جانے کا الزام بھی بلادلیل ہے۔کہتے ہیں دیگ سے ایک چاول دیکھ کر باقی کا فیصلہ کیاجاتاہے۔یہاں تو صحیح بخاری کی 47 روایات کے متون اپنے سے دو سو سالہ قدیم مآخذ سے مطابقت  رکھتے ہیں۔یہ تحریری وتاریخی ثبوت مل جانے کے بعداہل قرآن کو قرآنی حکم() پر عمل پیرا ہوکرعدل وانصاف سے کام لینا چاہیے۔انکار حدیث کی راہ ترک کرکے محدثین کے میعار پر پوری اترنے والی احادیث کی اتباع کی روش اختیار کرنی چاہیے تاکہ قیامت کے روز یوں پچھتانا نہ پڑے:
"يَا لَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِيلا "
حوالہ جات:۔
1۔پرویز غلام احمد ،مقام حدیث (لاہور 1992ء) ص 13،15،17۔
2۔راقم نے اس تحقیقی مقالے کا ترکی سے اردو ترجمہ شروع کررکھا ہے۔
3۔ابو عبیدہ ،معمر بن مثنی التیمی(210ھ) مجاز القرآن(قاہرہ ،1954،عارض باصولہ وعلق علیہ ڈاکٹر محمد فواد سیزگین)
4۔ابو زکریا یحییٰ بن زیاد الفراء(215ھ) معانی القرآن (مکتبہ سلیمانیہ ،استنبول) کتاب نمبر66(حصہ بغداد لی وھی)
5۔فوادسیزگین مصادر البخاری ص305تا317۔
6۔ڈاکٹر علی آک یوز عبدالرزاق بخاری باہمی  تعلق(ترکی) استنبول،1997ء) ص41۔
7۔معمر بن راشد الجامع(انقرہ یونیورسٹی مکتبہ لسان جغرافیہ وتاریخ فیکلٹی کتاب نمبر 2164(حصہ اسماعیل صاحب سنجر)
8۔ڈاکٹر علی آک یوز عبدالرزاق بخاری باہمی تعلق،ص263۔
9۔صحیفہ ہمام بن منبہ(فیصل آباد ،1983ء،تحقیق :ڈاکٹر حمیداللہ ،ترجمہ،پروفیسر غلام احمد حریری)
10۔شاہ عبدالعزیز بستان المحدثین (کراچی ترجمہ:مولانا عبدالسمیع ،ص178)