ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

آن لائن مطالعہ
  • مئی
2000
ادارہ
جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالنے کے چند ہی دنوں بعد جب مصطفیٰ کمال پاشا المعروف اتاترک (ترکوں کا باپ) کو اپنا قومی ہیرو قراردیا تھا۔ تو اسی وقت ہی دائیں بازو کے اہل بصیرت کے دلوں کی دھڑکنیں تیز ہو گئی تھیں کہ کہیں نواز شریف کی کرپٹ حکومت کے خاتمہ کے بعد برپا ہونے والا فوجی انقلاب درحقیقت لادینی انقلاب کی صورت اختیار نہ کرلے ۔مگر شروع شروع میں فوجی حکومت کا ایک تورعب ودبدبہ ہی اتنا تھا کہ کو ئی ان کے خلاف زبان کھولنے کی جرات نہ کرسکتاتھا دوسرے لوگ نوازشریف کی حکومت کے خاتمے پر ہی اس قدر خوش تھے۔کہ وہ باقی نتائج کے متعلق غور وفکر کرنے کے لیے تیار ہی نہ تھے۔
جنرل پرویز مشرف کے مذکورہ بیان کے خلاف قاضی حسین احمد کی نحیف سی آواز اٹھی تھی جس میں انھوں نے پاکستان میں کمال ازم کے نفاذ کے خلاف سخت مزاحمت پیش کرنے کا عندیہ ظاہر کیا تھا ۔اس وقت تو جنرل پرویز مشرف نے بھی وضاحت میں بیان دیا تھا –کہ ان کے بیان کا وہ مقصد نہیں ہے ۔جو سمجھا گیا ہے مگر گزشتہ 6/ماہ کے دوران جنرل پرویز مشرف نے جو اقدامات اٹھائے ہیں ان پر غور کیا جا ئے تو معلوم ہو گا کہ جوبات انھوں نے اتاترک کے بارے میں کی تھی وہی ان کے دل کی آوازتھی ۔
  • مئی
2000
خالد ظفراللہ
(((مذہبی روایات عام طور پر کسی معاشرے میں مختلف مذہبی رجحانات کی بنیاد پر رواج پاتی ہیں۔ضروری نہیں کہ ان کی پشت پر صالح اور محققانہ  فکرہی موجود ہو۔یہی وجہ ہے کہ جو لوگ مسلم معاشروں کے تعامل کو سنت یا روایت متواترہ کا نام دے کر احادیث صحیحہ کو ان پرپیش کرناضروری سمجھتے ہیں ہم انہیں فن حدیث سے ناواقف سمجھتے ہیں۔اس کے بالمقابل فن  روایت ایک نہایت ذمہ دارانہ فن ہے جس کے پیچھے نہایت گہری علمی بنیادیں موجود ہیں۔
درحقیقت عہد نبوت اور متصلہ قرون خیر میں اسلامی سوسائٹی میں جو اسلامی اقدار مسلم معاشرے نے محفوظ کیں،ان کے اندر تغیر وتبدل کے علاج کے لئے ہی ایک طریق کار زبانی روایت کو فروغ دینے کا بھی اختیار کیا گیا جس نے اسلامی قدروں کی مضبوطی میں نہایت اہم کردار ادا کیا جو محدثین کا ایک بڑا کارنامہ ہے۔گویا یہ انسانی کردار اور معاشرتی رویے اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم   کی زبانی روایات سے تائید پاکر اعلیٰ میعار حاصل کرتے رہے۔
فن روایات کے سلسلہ میں دوسری بات جو عموماً نظر انداز ہوجاتی ہے وہ یہ ہے کہ قرآن کی روایت میں اصل اہتمام الفاظ کا ہوتا ہے اسی لئے وہاں سا رازور "زبانی تلقی" پر ہوتاہے اگرچہ یہ بھی روایت کی ہی ایک قسم ہے لیکن سنت کا زیادہ تر تعلق چونکہ مراد الٰہی سے ہوتا ہے جو رسول  صلی اللہ علیہ وسلم   کے اسوہ عمل سے تشکیل پذیر ہوئی،اس لئے اس کے تحفظ وبقا میں اصل مقصود بھی تعبیر شریعت ہے۔چنانچہ اس میں الفاظ کی بجائے زیادہ اہتمام مفہوم ومراد کا ہے۔
  • مئی
2000
حافظ ثناء اللہ مدنی
سوال:۔ شوہر کے مرتد ہوجانے کی صورت میں تجدید نکاح کیا جائے گا یانہیں؟
جواب:۔اس مسئلہ میں اہل علم کا اختلاف ہے۔اور راجح مسلک وہ ہے جس کو حافظ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ  نے زاد المعاد (3/15) اور حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ  نے البدایہ والنھایۃ(3/359)میں اختیار کیا ہے۔چنانچہ فرماتے ہیں کہ:
"اس صورت میں قصہ زینب  رضی اللہ تعالیٰ عنہا      میں اس امر کی دلیل ہے کہ عورت جب مسلمان ہوجائے اور اس کا خاوند تاخیر سے مسلمان ہو یہاں تک کہ اس کی عدت ختم ہوجائے تو صرف اسی وجہ سے اس کا نکاح فسخ نہیں ہوگا(کہ اس کا خاوند غیر مسلم ہے) بلکہ اس میں اختیار ہے اگر عورت چاہےتو دوسرے سے نکاح کرلے اور اگرچاہے تو اپنے خاوند کے مسلمان ہونے کے انتظار میں بیٹھی رہے کہ کب وہ اسلام لاتاہے اور تب تک عورت اس کی بیوی سمجھی جائے گی جب تک آگے نکاح نہ کرلے۔"
  • مئی
2000
وحید بن عبدالسلام
(3)۔سحر تخیل(وہم میں مبتلا کرنے والا جادو)
فرمان الٰہی:۔
 قَالُوا يَا مُوسَى إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ أَوَّلَ مَنْ أَلْقَى قَالَ بَلْ أَلْقُوا فَإِذَا حِبَالُهُمْ وَعِصِيُّهُمْ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ مِنْ سِحْرِهِمْ أَنَّهَا تَسْعَى (87)
"کہنے لگے کہ اے موسیٰ علیہ السلام  ! یا تو پہلے ڈال یا ہم پہلے ڈالنے والے بن جائیں ،جواب دیا کہ نہیں،تم ہی پہلےڈالو۔اب موسیٰ علیہ السلام   کو یہ خیال گزرنے لگا کہ ان کی رسیاں اور لکڑیاں ان کے جادو کے زور سے دوڑ بھاگ رہی ہیں"
سحر تخیل کی علامات:۔
1۔منجمد چیز کو متحرک اور متحرک کو منجمد دیکھنا۔
2۔چھوٹے کو بڑا اور بڑے کو چھوٹا سمجھنا۔
3۔مختلف چیزوں کو ان کی حقیقت سے ہٹ کردیکھنا،جیسا کہ لوگوں نے دیکھا کہ رسیاں اورلکڑیاں دوڑتے ہوئے سانپ ہیں۔
  • مئی
2000
عبدالجبار سلفی
"ایک بہتی ہوئی بڑی نہر کے کنارے میں چھوٹا سا شگاف پڑجائے تو اسے فوراً ہی مٹھی بھر مٹی سے بند کردینا عین دانش مندی ہے۔اگر اس موقع پر سستی یالا اُبالی پن کامظاہرہ ہوجائے تو وہ شگاف چند گھنٹوں بعدبڑا اور گہرا ہوجائےگا اور نہر  کے کنارے کو تیزی سے بہالے جائےگا اور آن کی آن میں بستیاں غرقاب ہوجائیں گی"
اس مثال کی روشنی میں آپ بخوبی سمجھ جائیں گے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے پیارے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم   نے کمال مہربانی سے نہ صرف یہ کہ امت مسلمہ کو مہلک اعمال سے روکابلکہ ان راستوں کو بھی بند کردیا جو ہلاکت گاہوں کی طرف لے جاتے ہیں۔ارشادنبوی صلی اللہ علیہ وسلم   ہے:
ما تركت شيئاً يقربكم إلى الله إلا وأمرتكم به، وما تركت شيئاً يبعدكم عن الله ويقربكم إلى النار إلا وقد نهيتكم عنه(مشکوٰۃ)
"میں نے ایسی کوئی چیز نہیں چھوڑی جو تمھیں اللہ کے قریب کرتی ہو مگر میں تمہیں بتا چلا ہوں اور کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑی جو تمھیں جہنم کے قریب کرتی ہواور اللہ سے دور کرتی ہو مگر تمھیں اس سے روک چلاہوں۔"
  • مئی
2000
حسن مدنی
(ہمارے فاضل رفیق مجلس التحقیق الاسلامی جناب پروفیسر عبد الجبار شاکر نے اپنے ادارہ بیت الحکمت کی نومبر 1998ءمیں افتتاحی تقریب کا اہتمام کیا تو صرف ایک رسمی تقریب کے بجائے اس کو ایک تعلیمی سیمینار کی شکل دے دی اور مختلف ماہرین تعلیم کو ملک بھر سے عصری اور دینی تعلیم کے اصلاح احوال کے بارے میں اظہار خیال کی دعوت دی گئی دن بھر جاری رہنے والے اس سیمینار میں ادارہ محدث سے منسلک جامعہ لاہور الاسلامیہ کے شعبہ کلیہ القرآن الکریم والعلوم الاسلامیہ کے پرنسیل یگانہ روزگار شخصیت  قاری محمد ابراہیم میر محمدی کو تجوید قرآءت کی تعلیم کے موضوع پر اظہار خیال کی دعوت دی گئی ۔جناب قاری محمد ابراہیم صاحب بو جوہ اس سیمینار میں کلمات نہ کہہ سکے لیکن انھوں نے سیمینار سے ایک روز قبل راقم الحروف کو اپنی دیرینہ دلچسپی اور محنت سے حاصل ہونے والے گراں قدر تجربات سے نواز اور مجھے اس موضوع پر لکھنے کو ارشاد فرمایا راقم الحروف چونکہ حفظ کا خود تجربہ رکھتا ہے کچھ عرصہ قاری صاحب موصوف سے سبعہ عشرہ قرآءت سیکھتا رہا ہے علاوہ ازیں محترم قاری صاحب کی معیت میں چند سال کلیہ القرآن کے مدیر کے طور پر خدمت انجام دینے کا موقع بھی ملا ہے اس لیے ذمہ داری کو قبول کیا۔ سیمینار کے روز ہی چند گھنٹوں میں لکھے جانے والا یہ مقالہ آخری وقت میں پہنچے کی بناپر سیمینار میں تونہ پڑھا جا سکا لیکن اب سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے بعد اسے محترم قاری صاحب  کی پسند کے ساتھ بعینہ محدث کے قارئین کی نذر کیا جارہا ہے اس مقالہ میں خطاب کے نقطہ نظر سے جو بعض مشکلات محسوس ہوں قارئین سے نظرانداز کرنے کی گذارش ہے(حسن مدنی)
  • مئی
2000
حافظ محمد ایوب
روزنامہ جنگ لاہور مؤرخہ 6/مارچ 1998ء کے شمار ے میں بی بی سی کے حوالے سے ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے۔جس کی شہ سرخیاں درج ذیل ہیں ۔
1۔ٹھنڈےدل سے غور کریں ۔۔۔۔پاکستانی معاشرہ کس طرف جارہا ہے؟
2۔مسائل نے پاکستانیوں کو چڑچڑا بنادیا کوئی کسی کو برداشت نہیں کرتا؟
3۔انفرادی اور اجتماعی دونوں صورتوں میں دوسروں پرغصہ نکالنے اور توہین کرنے کا رجحان ہے۔ فرقہ واریت اور امن وامان کی بگڑتی ہوئی صورت حال اس بیماری کی علامتیں ہیں ۔
4۔جب رواداری ختم ہو جا ئے تو معاشرہ ایک بے ربط ہجوم میں بدل جاتا ہے اور معاملہ آنکھ کے بدلے آنکھ کی بجائے ناک تک جاپہنچتا ہے۔
ان سرخیوں کے ذیل میں لاہور (مانیٹرنگ سیل) یہ رپورٹ پیش کرتا ہے۔
  • مئی
2000
ادارہ
1۔برصغیر میں مطالعہ قرآن صفحات :603قیمت : 100
ادارہ تحقیقات اسلامی کے زیر اہتمام 28اپریل تایکم مئی 1997ءکو اسلام آباد میں ایک چار روزہ سیمینار (مذکرہ علمی) کا انعقاد ہوا موضوع تھا"برصغیر(پاک و ہند) میں مطالعہ قرآن "یعنی قرآن پاک کے تراجم و تفاسیر اور قرآن فہمی کی کوششوں کا جائزہ ۔۔۔اس سیمینار میں ملک بھر کی جامعات دینی مدارس اور دیگر علمی حلقوں کے محققین نے کافی تعداد میں شرکت فرمائی اور تقریباً 23مقالات پڑھے گئے۔
"فکرو نظر "نے جو ادارہ تحقیقات اسلامی کا ترجمان ہے انہی مقالوں کو جمع کر کے ایک خصوصی اشاعت کا اہتمام کیا ہے اس میں سولہ مقالات شامل ہیں یوں گویا یہ مذکورہ بالا عنوان کا پہلا حصہ ہے۔ بقیہ مقالات کے لیے دوسرے حصے کا انتظار کیا جا نا چاہیے ۔۔۔اس خصوصی اشاعت کو تین بابوں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔باب اول علوم القرآن اس میں شامل مقالات کے عنوانات ہیں۔
1۔قرآن فہمی کے اصول (علمی کام کا جائزہ) (2)برصغیر میں مطالعہ قرآن  تراجم و تفاسیر (3)برصغیر کے حوالے سے خدمت لغات القرآن کا تحقیقی جائزہ (4)برصغیر میں مطالعہ قرآن بحوالہ شیعیت (5)اعجاز القرآن (6)مضامین قرآن کے اشاریے۔