ہر انسان کی زندگی کم و بیش پانچ حصوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ پیدائش، بچپن، جوانی، بڑھاپا اور موت کے بعد کی زندگی۔ آئین الہیہ نے اس کے مفید یا غیر مفید ہونے کا انحصار انسان کے اعمال پر رکھا ہے۔ لہذا میں اپنی تحریر کی مرکزی شخصیت کی زندگی کے جسمانی مراحل کی تفصٰل میں جانے سے پہلے اعمالِ حسنہ کے حوالے سے ان کے بارے میں اُن کی ہم عصر جلیل القدر شخصیتوں کی آراء سے اُن کے تعارف کا آغاز کرتا ہوں۔
حافظ ذہنی فرماتے ہیں:
"جید عالم، قیادت کی صلاحیتوں کا مالک، مصنف اور محی السنۃ تھے۔"
علامہ سبکی نے ان کے اوصاف حمیدہ کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا ہے:
"علامہ بغوی رحمۃ اللہ علیہ محی السنۃ کے لقب سے پکارے جاتے تھے۔ دین کے معیار کی جھلک ان کے اقوال و افعال میں پائی جاتی تھی۔ علمِ تفسیر، حدیث اور فقہ میں انہیں غیر معمولی ملکہ حاصل تھا۔
متدین آباؤ اجداد کی دعاؤں کا ثمر تھے۔ اپنے والدین کی تمناؤں کے مطابق انہوں نے تمام زندگی تقویٰ اور کثرتِ نوافل کو اپنا شعار بنائے رکھا۔ وہ جامع القرآن والسنۃ تھے۔ فقہ پر بھی انہیں عبور تھا۔"
ابن العماد حنبلی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"امام بغوی رحمۃ اللہ علیہ خراسان کے بڑے نامور محدث، مفسر اور مصنفین میں سے تھے۔"
ابن خلکان ان کے بارے میں لکھتے ہیں:
"تفسیر میں اُنہیں خصوصی ملکہ حاصل تھا۔ احادیث کے مشکل مقامات اور ابہامات کی وضاحت میں اُنہیں کمال حاصل تھا۔ درسِ قرآن و حدیث کے اوقات میں باوضو رہنے کی پابندی کے علاوہ ہر وقت باوضو رہنا ان کی فطرتِ ثانیہ تھی۔ سادگی، خلوص، قناعت اور استقلال ان کا شعار تھا۔"
ان کے علاوہ علامہ ابن کثیر، علامہ سیوطی، ابن تغری بردی، یافعی اور طیبہ جیسی جلیل القدر اہل علم و قلم شخصیتوں نے ان کے علم و فضل اور اخلاقِ حمیدہ کی توثٰق اپنی تحریروں میں ثبت کرتے ہوئے لکھا ہے:
"علامہ بغوی رحمۃ اللہ علیہ اہل خراسان کی بلند پایہ علمی شخصیت تھے۔ علم التفسیر اور حدیث پہ انہیں غیر معمولی عبور حاصل تھا۔ فقہ میں ان کا تدبر و تفکر انتہائی نکتہ آفریں تھا۔ صحیح العقیدہ ہونے کے علاوہ راسخ العقیدہ اور صاحب عمل، عالم تھے۔ حافظِ قرآن ہونے کے علاوہ حافظہ غیر معمولی تھا۔ اظہار بیان اور تحریر میں پوری قدرت رکھتے تھے۔"
علم و عمل کے درخشاں مینار امام بغوی رحمۃ اللہ علیہ کے اخلاق فاضلہ کے مختصر تعارف کے بعد اب ان کی پیدائش، حصولِ علم اور اس کے بعد بحیثیت معلم اور مصنف اُن کے کارناموں کا اجمالی فائدہ۔
وطن:
خراسان کے مشہور شہر ہرات اور مرد کے درمیان ایک گاؤں، جس کا نام بعض مؤرخین نے "بغشور" لکھا ہے اور بعض نے "بغ" (قرینِ قیاس "بغ" ہی صحیح ہے) اسی نسبت سے آپ کو "بغوی" لکھا جاتا ہے۔
تاریخِ پیدائش:
مؤرخین انتہائی کوشش کے باوجود ان کی تاریخ پیدائش تک رسائی حاصل نہ کر سکے۔ ہاں! ابن خلکان نے اُن کی تاریخِ وفات 510ھ لکھی ہے۔ اسی حوالے سے آپ یہ سمجھ لیجئے کہ چوتھی صدی ہجری کا نصف آخری حصہ اور پانچویں کا آغاز ان کی زندگی پر مشتمل رہا۔
خاندان:
پوری تفصیل تو نہیں ملتی، مگر اتنا ضرور ہے کہ ان کا خاندان جید علمائے دین سے ہی ہے۔ علامہ بغوی رحمۃ اللہ علیہ کے آباؤ اجداد کی سب سے بڑی تمنا یہی تھی کہ ان کے گھرانے کا یہ چشم و چراغ علمِ دین کا مثالی عالم باعمل بنے اور اس علم بالوحی کا نور دنیا میں پھیلانے کا سبب بنے۔ ان کی اسی تمنا اور دعاؤں کو زادِ راہ بنا کر ہوش سنبھالتے ہی گاؤں چھوڑا اور "مردروذ" نامی شہر مین اس وقت کی انتہائی بلند پایہ علمی شخصیت، حسین بن محمد المروزی القاضی کے حلقہ تلامذہ میں شامل ہو گئے اور انتہائی مختصر عرصہ میں ہی اپنی محنت، ذہانت اور خلوص کی بناء پر اپنے مشفق، مربی و معلم کی نگاہوں میں پسندیدگی کا اعلیٰ مقام حاصل کر لیا۔ علمِ حدیث اور فقہ کا خزانہ دن رات سمیٹا۔ جتنا حاصل کر سکتے تھے ، کیا۔ اس کے بعد اور زیادہ علم کے حصول کی پیاس لئے خراسان میں جہاں کہیں بھی علم و حکمت کے مخزن کی خبر ملی، وہیں پہنچے۔
اساتذہ عظام:
1۔ امام کبیر ابوعلی حسین بن محمد بن احمد المروزی، فقہیہ خراسان کہلاتے تھے۔ علمِ اصول میں یکتا عالم شمار ہوتے تھے۔
2۔ مسند مرو ابوعمر عبدالواحد بن احمد بن القاسم الملیحی المروی۔
3۔ ابوالحسین علی بن یوسف الجوینی بلند پایہ فقہیہ وقت اور شیخ کے نام سے ملقب تھے۔
4۔ مسند ابوبکر یعقوب بن احمد الصیر فی نیشا پوری
5۔ ابو علی ھسان بن سعید المینحی مروزی رئیس کبیر
6۔ ابوبکر محمد بن عبدالصمد ترابی مروزی
7۔ شیخ کراسان ، عالم و زاہد امام ابوالقاسم عبدالکریم بن عبدالمالک بن طلحہ نیشا پوری
8۔ ابوصالح احمد بن عبدالملک بن علی بن احمد نیشا پوری، حافظ اور خراسان میں اپنے وقت کے بہت بڑے محدث گزرے ہیں۔
9۔ مفتی نیشا پور ابوتراب عبدالباقی بن یوسف بن علی بن صالھ بن عبدالملک مراغی شافعی فقہیہ تھے۔
10۔ امام اجل، فقہیہ عمر بن عبدالعزیز، فاشانی، جنہوں نے سنن ابی داؤد، قاضی ابوعمر قاسم بن جعفر الہاشمی سے سنی۔ ابوعلی لؤلوی نے ان سے اور امام بغوی نے مرو میں ابوعلی سے سننے کا شرف حاصل کیا۔
11۔ شیخ الحدیث شیخ خراسان ابوالحسن عبدالرحمن بن محمد بن محمد بن المظفر داؤدی جیسی جلیل القدر علمی شخصیتوں سے اکتسابِ علم کے بعد اپنے وطنِ ثانی مرو الروز واپس ہوئے اور یہی علمِ دین کا جتنا بھی خزانہ سمیٹ کر لائے تھے، اسی شہر میں لے کر بیٹھ گئے۔ چاروں طرف سے آئینِ الہیہ قرآن اور حدیث کے علم سے سیراب ہونے کی تمنا میں لوگ آنے لگے۔ علامہ مجدالدین ابومنصور محمد بن اسد بن محمد اپنے زمانے کے مشہور واعظ اور علمِ اصول میں ماہر، انہیں کے تلامذہ میں سے تھے۔ شرح السنۃ انہی سے مروی ہے۔
ابوالفتوح محمد بن محمد بن علی طائی ہمدانی بہت بڑے محدث "(عربی)" جیسی عظیم الشان تالیف انہی کے افکارِ عالیہ کی ترجمان ہے۔ ان کے علاوہ اور بہت سے علماء نے انہی سے علم حاصل کیا۔ ابوالمکارم فضل اللہ بن محمد النوفانی آخری عالم تھے، جنہوں نے امام بغوی رحمۃ اللہ علیہ سے اجازت لے کر روایت کیا ہے اور چھ سو ہجری تک زندہ رہے۔
عادات و خصائل:
لوگوں کے دل میں ان کے احترام کا یہ عالم تھا کہ ان کا نام لینے کی بجائے انہیں "محی السنۃ" یا "شیخ الاسلام" کے نام سے پکارتے۔ ان کے اس مقامِ توصیف تک پہنچنے کا سبب ان کا عمل تھا۔ ان کا رویہ تھا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمۃ اللہ علیہم کی اتباع ان کے ہر عمل کی خصوصیت تھی۔ قرآن حکیم کی تفسیر بیان کرتے ہوئے، لکھتے ہوئے احادیث اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اعمال کو ہی اپنے فکر و خیال کا راہنما بناتے، حافظ الحدیث تھے، سند و متن کی معرفت ان کا خاصہ تھا۔ شافعی فقہ کے ماہر تھے۔ دیگر مسالک کے اختلاف اور وجہ اختلاف سے بھی اچھی طرح واقف تھے۔ روایت کرتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھتے تھے کہ حدیث ثقہ اور مستند راویوں سے مروی ہو۔ دیگر آئمہ کے دلائل کا بڑی دیانت داری سے تجزیہ کیا کرتے تھے۔ اپنا دامنِ خیال ہمیشہ تعصب سے بچا کر رکھتے تھے۔ دوسروں کے دلائل پر بدکتے نہیں تھے بلکہ تحمل سے سنتے تھے اور جواب دیتے تھے۔ کتاب و سنت کی ترویج ان کی زندگی کا بنیادی مقصد تھا عقیدے اور صفاتِ باری تعالیٰ میں بہت محتاط رہتے۔ دنیا کی چمک دمک سے کبھی متاثر نہیں ہوئے۔
دنیاوی ضرورتوں کے حصول یا عدمِ حصول کو اپنے لئے کبھی بھی مسئلہ نہیں سمجھا، بلکہ اپنی اور بیوی کی ضروریات سے جو بھی بچ جاتا، اللہ کی مخلوق پر خرچ کر دیتے، طبعا سخی تھے، نیک نیت تھے، حلیم اور منکسر المزاج تھے۔ آپ کی تالیفات امتِ مسلمہ میں بہت سی مقبولیت حاصل کر چکی ہیں، بلکہ یوں کہئے کہ آپ کا امتِ مسلمہ پر گراں قدر علمی احسان ہے۔
تالیفاتِ امام بغوی رحمۃ اللہ علیہ:
امام بغوی رحمۃ اللہ علیہ نے تفسیر، حدیث، فقہ پہ جتنی کتابیں تصنیف و تالیف کی ہیں ان میں سے چند مشہور اور اہم حسبِ ذیل ہیں:
1۔ مجموعہ فتاویٰ: اس میں بعض فقہی مسائل مندرج ہیں، جو اس زمانے میں ان سے پوچھے جاتے رہے۔
2۔ التہذیب فی الفقہ للامام الشافعی رحمۃ اللہ علیہ: امام بغوی رحمۃ اللہ علیہ نے یہ کتاب اپنے استاد قاضی حسین بن محمد کی ایک تصنیف کی تلخیص اور اپنی آراء کے اضافے کے ساتھ ترتیب دی ہے، شوافع کے ہاں یہ کتاب بہت مشہور اور مستند ہے۔ استنباطِ احکام کے لئے اسی پر اعتماد کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب "روضۃ الطالبین" میں اس کتاب کے حوالوں کو بڑی اہمیت دی ہے۔
3۔ معالم التنزیل: قرآن حکیم کی تفسیر ہے۔ تفسیر و تاویل میں سلف کے اقوال کو تصدیق کے طور پر جمع کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ امام صاحب نے حشو و زوائد اور دور ازکار تاویلات سے اجتناب کرتے ہوئے صرف احادیث کے ذریعہ آیات کے مفہوم کا تعین کرنے کا خاص اہتمام رکھا ہے۔
چنانچہ امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ سے کسی نے پوچھا کہ تفاسیر میں سے کون سی تفسیر کتاب و سنت کے زیادہ قریب ہے؟ زمخشری ، قرطبی یا بغوی۔۔۔یا ان کے علاوہ کوئی اور؟" تو امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے تقابلی جائزہ میں ان کی تفسیر کو ترجیح دیتے ہوئے فرمایا:
"بدعات، ضعیف احادیث سے پاک اور صحیح و سالم تفسیر، تفسیر بغوی ہے"
4۔ مصابیح السنۃ: امام بغوی رحمۃ اللہ علیہ اس کتاب میں بہت سی ایسی احادیث لائے ہیں جن کی سند حذف کر کے، دوسرے آئمہ سے لیا ہے۔ مزید برآں اِن احادیث کو "صحاح" اور "حسان" میں تقسیم کیا ہے یا دونوں میں سے کسی ایک نے۔ حسان سے مراد وہ احادیث ہیں جنہیں اصحاب سنن نے اپنی کتابوں کی زینت بنایا ہے۔ یہ مشہور متداول کتاب، جس کی تدریس عام ہے۔ اس پر بہت سی تعلیقات لکھی گئیں ہیں۔ علامہ خطیب تبریزی نے اس میں مزید احادیث کا اضافہ کر کے اس کا نام "مشکوٰۃ المصابیح" رکھا ہے۔ ترکستان اور ہند میں کئی مرتبہ چھپ چکی ہے۔ ملا علی قاری نے اس کی شرح لکھی ہے، جو مرقاۃ کے نام سے مشہور ہے۔ علامہ عبیداللہ رحمانی نے مرعات المفاتیح کے نام سے مشکوٰۃ کی پہلی جلد کی شرح لکھی ہے۔ بڑی جامع اور لاجواب شرح ہے۔
برصغیر میں سب سے پہلی شرح شیخ عبدالحق محدث دہلوی نے لکھی، جو فارسی اور عربی میں طبع ہوئی۔ فارسی کی شرح "اشعۃ اللمعات" اور عربی کی شرح "لمعات التنقیح" کے نام سے ہے۔
5۔ شرح السنہ: کتبِ سنت میں یہ کتاب بھی اپنا الگ اور بلند مقام رکھتی ہے، حسنِ ترتیب اور صحتِ احادیث اس کے امتیاز کا خصوصی معیار ہے۔ تقریبا تمام شرعی مسائل، روایات کی درائیت اور علتوں کی وجاحت کرتے ہوئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین کے مسلک کی نشاندہی بھی کرائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ مجتہدین اور آئمہ کرام کے دلائل بھی نقل کئے گئے ہیں۔
غرض امام بغوی رحمۃ اللہ علیہ نقل اور تحقیق میں دیانتدار تجزیہ کار کہلاتے ہیں۔ عادل اور ضابط راویوں کی احادیث تک ان کی رسائی مسلم ہے۔
بقول ابن قاضی شبہ:
"محی السنۃ شیخ الاسلام امام  حسین بن مسعود الفراء البغوی رحمۃ اللہ علیہ، بہترین مفسر، محدث اور پایہ کے فقہیہ ہیں۔ ان کے علمی شہ پارے، کتاب و سن کے طالب علموں کے لئے آج بھی مشعل راہ ہیں۔ ان کا علمی احسان ہے، جو انہوں نے آنے والی ملتِ اسلامیہ کے لئے وراثت میں چھوڑا ہے"