﴿قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ ... ٣٠﴾...النور
"اور آپ مومنوں سے کہہ دیجئے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں۔"
قرآن کریم کی یہ آیت اصحاب سماع کے تسامح اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی صریح مخالفت پر دلیل ہے۔ اس آیت کے آگے ارشاد ہوتا ہے:
﴿وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ... ٣٠﴾...النور"اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔"
لیکن جو شخص پہلے حکمِ ربانی کی مخالفت کا ارتکاب کرے۔ اس کے لئے دوسرے حکم کی خلاف ورزی بالفعل عین ممکن ے۔ پس یہ امور انسانوں کے لئے باعث تزکیہ نفس کیونکر ہو سکتے ہیں؟ جو ان برائیوں میں مبتلا ہو چکا  ہو، اس کے لئے راہِ نجات صرف یہ ہے کہ:
﴿وَتُوبُوا إِلَى اللَّـهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ﴿٣١﴾...النور
"اور اے مومنو! (اگر تم سے احکام میں کوتاہی ہو گئی ہو تو) تم سب اللہ کے سامنے توبہ کرو، تاکہ تم فلاح پا سکو۔"
اس نظر میں جو خطرات اور مفردات پوشیدہ ہیں ان کے پیش نظر بعض تابعین نے فرمایا ہے:
"میں کسی نو عمر زاہد کے متعلق جس کے پاس امرد لڑکا بیٹھتا ہو سات گنا زیادہ ڈرتا ہوں۔"
ابوسہل کا قول ہے:
"اس امت میں ایک ایسی قوم ہو گی، جو لائطون کہلائے گی، ان کی تین قسمیں ہوں گی۔ ایک وہ جو نظر کے ذریعہ اس کی مرتکب ہو گی، دوسری وہ جو مصافحہ کے ذریعہ اور تیسری وہ قسم ہو گی، جو بالفعل اس بدکاری میں مبتلا ہو گی۔"
اور حسن بن ذکوان فرماتے ہیں:
"اولادِ اخنیاء کو اپنے پاس نہ بٹھاؤ، کیونک ان کی شکل عورتوں کی صورت جیسی ہوتی ہے اور وہ کنواری دوشیزاؤں سے زیادہ  شدید فتنہ ہیں۔"[1]
پس کسی شخص کو یہ حق حاصل نہیں کہ اپنی مرضی، خیال اور خواہش کے مطابق جس چیز کو بہتر گمان کرے اسے اپنا دین بنا لے یا اسے صلابتِ دین اور قوتِ ایمان تصور کرنے لگے، کیونکہ جو حدوداللہ کی مخالفت کرے اور ایسی صورتوں کی طرف نظر کرے جن کی طرف دیکھنا ازروئے شریعت اس پر حرام کیا گیا ہے، تو اس سے عصمت دُور ہو جاتی ہے۔ پھر وہ نفس کی اتباع اور وکالت کرنے لگتا ہے۔ ایک ذی ہوش اور دانا شخص ایسا کیسے کر سکتا ہے؟
یہ بات بھی معروف ہے کہ حضرت داؤد علیہ السلام اعبدالبشر اور اللہ کے نبیوں میں سے ایک برگزیدہ نبی تھے۔ ان کے پاس آسمانوں کی خبریں آتی تھیں اور ملائک ان کے پاس وحی لانے میں ایک دوسرے پر سبقت لینے کی کوشش کرتے تھے مگر ان تمام صفات کے باوجود وہ فقط ایک عورت کی طرف نظر کرنے کے سبب گنہگار ہو گئے تھے۔ [2]اسی طرح بنی اسرائیل کے بعض عابد جنہوں نے ستر سال اللہ تعالیٰ کی عبادت میں زندگی صرف کی تھی۔ محض ایک عورت کی طرف دیکھنے سے اس کے فتنہ میں گرفتار ہو گئے تھے[3] اور برصیصا جو کہ انتہائی عابد شخص تھا اسی نظر کے سبب ہلاک ہوا تھا۔[4] ان تمام مضمرات کے باعث ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بار بار کسی غیر عورت کی طرف دیکھنے سے منع فرمایا تھا۔ کیونکہ پہلی نظر پڑ جانا بجا اور درست ہے، لیکن دوسری نظر کی اجازت نہیں ہے۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں:
(لا تتبع النظرة  النظرة  فإنما لك  الأولى  وليست لك الأخرى)[5]
حضرت علی رضی اللہ عنہ، جو امت کے سادات میں سے یں۔ دین و علمِ شریعت، معرفتِ حق اور حلت و حرمت کی تمیز میں نہایت اعلیٰ و ارفع مقام رکھتے ہیں۔ جب ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار اس نظر کی اجازت نہیں دی، تو اے مغرور، جاہل اور اپنے نفس پر ظلم کرنے والے انسان! تیرا کیا مقام ہے؟ آپ خود ہی فیصلہ فرمائیں کہ آپ اور یہ صوفیاء، دین کے کس مقام پر ہیں۔
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"ما تركت فتنة بعدى أضر على الرجال من النساء"
"میں نے اپنے بعد مردوں کے لئے عورتوں سے بڑھ کر مضر کوئی فتنہ نہیں چھوڑا"
ایک اور اثر میں وارد ہے:
"إن النظرة سهم مسموم من سهام إبليس"
"بے شک نظر ابلیس کے تیروں میں سے ایک زہریلا تیر ہے۔"
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا ہے:
" ألعينان تزنيان وزناهم ا النظر"
"آنکھیں بھی زنا کرتی ہیں اور ان کا زنا نظر ہے۔"
غناء کے متعلق حضرت فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے:
"ألغناء رقية الزنا"
"غناء زنا کا منتر ہے۔"
پس اگر زنا کا منتر اور اس کا داعیہ ایک ساتھ جمع ہو جائیں تو اس کے اسباب کی تکمیل بھی ہو جاتی ہے۔
حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے:
"میرے پاس بعض ثقات کہ جو علم کے ستون ہیں، کی یہ خبر پہنچی ہے کہ معازف و موسیقی کا حضور، استماع غناء اور اس کے ساتھ دلچسپی اور لگاؤ دل میں نفاق کو اگاتا ہے جس طرح کہ پانی گھاس کو اگاتا ہے۔"[6]
پس کل جو شخص یومِ قیامت کو اپنی نجات پسند کرے اور چاہے کہ اس کی مصاحبت آئمہ ہدایت کے ساتھ ہو اور تمام مردود و غیر شرعی راہوں سے محفوظ و سلامت رہے، تو اس کے لئے کتاب اللہ کافی ہے، جو کچھ کتاب اللہ میں مذکور ہے، اس پر عمل کرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی اتباع کے لئے ان کی سنت کی طرف رجوع کرے کہ وہ کن معاملات میں کس طرح عمل پیرا تھے، اپنے قول و فعل سے اپنے آپ کو اس اسوہ حسنہ سے دور نہ رکھے، اپنی عبادات اور اپنے اجتہادات کو ان کی سنن کے مطابق پورا کرے اور اپنا راستہ ان کے طریق زندگی سے جوڑ دے کیونکہ ان کا راستہ ہی صراط مستقیم ہے جس کے متعلق اللہ سبحانہ نے قرآن کریم میں ہمیں تعلیم فرمائی ہے، ہم سے اس کا مطالبہ کیا ہے اور ہماری عبادات میں سے ہر نماز کی صحت کو اپنی تعلیم فرمودہ اس دعاء پر موقوف فرمایا ہے:
﴿اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ﴿٦﴾ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ ﴿٧﴾...الفاتحة
"اور ہماری ہدایت فرما سیدھے راستے کی، ان لوگوں کا راستہ کہ جن پر تو نے انعام فرمایا ہے، نہ کہ ان لوگوں کا راستہ کہ جن پر غضب کیا گیا ہے اور نہ ہی ان لوگوں کا راستہ کہ جو (راہِ راست سے) بھٹک گئے ہیں۔"
پس جس نے اس امر میں شک کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صراطِ مستقیم پر نہ تھے، تو وہ دین سے نکل گیا اور تمام مسلمانوں کے دائرہ سے بھی خارج ہو گیا۔ مگر جس نے اس بات کی ٹصدیق کی، اللہ تعالیٰ کو اپنا رب، اسلام کو اپنا دین اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا نبی ماننے پر راضی ہوا اور اس بات کو بھی مانا کہ اسے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی اتباع کرنے کا حکم دیا ہے تو اس نے فلاح پائی۔ نبی کی اتباع سے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿...وَاتَّبِعُوهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ ﴿١٥٨﴾ ... الأعراف
"اور نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کا اتباع کرو تاکہ تم راہِ راست پر آجاؤ۔"
اس آیت کے علاوہ بعض اور آیات میں بھی اسی بات کا حکم دیا گیا ہے، نیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:
فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الْمَهْدِيِّينَ الرَّاشِدِينَ، تَمَسَّكُوا بِهَا وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ، وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ، فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ»
"میرا اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء کا طریقہ اختیار کرو، اس کو اچھی طرح پکڑے رہو اور اس کو دانت سے دبائے رہو۔ البتہ نئی باتوں سے بچنا، کیونکہ ہر نئی بات بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔"
نیز ایک ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح بھی ہے:
" خير الهدى هدى محمد و شر الأمور محدثاتها"
"بہترین ہدایت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت ہے اور اس میں نئی باتیں شرالامور ہیں۔"
پس حق کے اس سیدھے راستہ سے اِدھر اُدھر التفات کرنا یقینا باعث وبال ہے جو شخص اس صراط مستقیم سے پھر کر اللہ سبحانہ تک پہنچنا چاہے، تو اس کا وصال الی الحق ناممکن ہے، اگر اس کی رضا کا طالب ہو، تو اس کے لئے فقط اللہ کی نفرت اور اس سے بُعد ہی ہے۔ کیا اب بھی تم اُس کے ہدایت یافتہ راستہ کی جستجو نہیں کرتے؟ اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اچھی اتباع کو حجت نہیں بناتے؟ جو شخص ان کا طالب نہ ہو، تو جان لے کہ اللہ سبھانہ کے راستہ کے علاوہ تمام راستے شیطانی ہیں، جو رحمن کے غضب کے علاوہ کسی اور جگہ نہیں لے جاتے، اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
﴿وَأَنَّ هَـٰذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ ۖ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَن سَبِيلِهِ ۚ ذَٰلِكُمْ وَصَّاكُم بِهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ﴿١٥٣﴾....الأنعام
"اور یہ کہ یہ دین میرا راستہ ہے جو کہ مستقیم ہے سو اس راستہ پر چلو اور دوسری راہوں پر مت چلو کہ وہ راہیں تم کو اللہ کی راہ سے جدا کر دیں گی۔ اس کا تم کو اللہ تعالیٰ نے تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم اس راہ کے خلاف کرنے سے احتیاط رکھو۔"
ایک اور حدیث میں مروی ہے کہ:
"نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سیدھا خط کھینچا اور فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا راستہ ہے۔ پھر اس کط کے اِدھر اُدھر مختلف خطوط کھینچے اور فرمایا کہ یہ شیطان کے راستے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک راستہ پر ایک شیطان ہے، جو اپنی طرف بلاتا ہے۔ پس جو ان کے بلانے پر اِدھر اُدھر جائے، تو اس کا ٹھکانا جہنم میں ہے۔"[7] یا اس سے ملتے جلتے الفاظ وارد ہوئے ہیں۔
پس جان لو کہ سبیل اللہ کے سوا جتنی بھی راہیں ہیں، وہ سب شیطانی ہیں، جو ان سے اپنا ناتا جوڑے گا اس کا ٹھکانا جہنم میں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا راستہ وہ ہے جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، آپ کے اولیاء رحمۃ اللہ علیہم، صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین، سابقون الاولون اور بعد میں یوم الدین تک احسان میں ان کی اتباع کرنے والے قائم تھے اور تا قیام قیامت قائم رہیں گے "رضى الله عنهم ورضوا عنه"[8] (ترجمہ: اللہ تعالیٰ ان سب سے راضی ہوا اور وہ سب اس سے راضی ہوئے) اور:
﴿أَعَدَّ اللَّـهُ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا ۚ ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ﴿٨٩﴾...التوبة
"اللہ تعالیٰ نے اُن کے لئے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے سے نہریں جاری ہیں، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ بڑی کامیابی ہے۔"
جس شخص نے اس سبیل اللہ سے اپنا ناتا جوڑا، وہ سعادت مند، خوش بخت اور بڑے نصیبوں والا ہے اور جس نے اس راستہ کو ترک کیا وہ باری تعالیٰ کی ان تمام رحمتوں اور نعمتوں سے محروم رہے گا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا راستہ کوئی مخفی شے نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور وہ تمام چیزیں جن پر آپ کی عبادات کا انحصار تھا اور ان کی کیفیات اہل علم حضرات ، ان کی اتباع و اقتداء کو محبوب رکھنے والوں اور ان کے منہج کو اپنا راستہ بنانے والوں کے نزدیک واضح اور مشہور ہیں۔ یہ بات بھی اپنی جگہ حق ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی جس کی ہدایت و سلامتی چاہے وہی ہدایت پا سکتا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے:
﴿مَن يَهْدِ اللَّـهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ ۖ وَمَن يُضْلِلْ فَلَن تَجِدَ لَهُ وَلِيًّا مُّرْشِدًا ﴿١٧﴾ ...الکهف
"جس کو اللہ تعالیٰ ہدایت دیتا ہے، سو وہی ہدایت پاتا ہے اور جس کو وہ گمراہ کر دے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لئے کوئی مددگار راہ بتانے والا نہ پائیں گے۔"
اختتام: الحمدللہ، اللہ تعالیٰ نے ہمیں اور آپ کو صراط مستقیم پر ثبت فرمایا ہے۔ ہمیں اور آپ کو اپنی رحمتوں اور جنتوں کے باغات کی بشارت دی ہے۔ جس میں ان شاءاللہ تعالیٰ ہمیں ہمیشہ رہنا ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ کا اجر بہت لاانتہا اور عظیم ہے۔ پس اے مسکین المخلوق آدمی کہ جس کے لئے جہنم و جناتِ نعیم تخلیق کی گئی ہیں۔ کتنا قابل غور اور عظیم امر ہے کہ اگر تو غناء اور آلاتِ لہو و لعب کو سنے گا، اللہ کے حرام کردہ نفوس کو دیکھے گا۔ مشتبہ غذائیں کھا کر انہیں اپنے بطن میں داخل کرے گا، رقص اور وجد سے اپنے نفس کو راضی کرے گا، اپنے قیمتی اور عزیز اوقات کو ان احوال خسیسہ میں گنوائے گا، اپنی عمر ایسی باتوں میں کہ جن کی کوئی قیامت و وقعت نہیں یا ان خصالِ ذمیمہ کے کسب میں یا اپنے مخلوق جسم کو ایسی عبادات و ریاضت میں مشغول رکھ کر، جن کی اللہ تعالیٰ نے ممانعت فرمائی ہے یا بطالوں کی مجلسوں میں بیٹھ کر یا فاسقوں اور جاہلوں جیسے اعمال کر کے ضائع کرے گا، تو تجھے اس وقت معلوم ہو گا جب ان سب چیزوں سے پردہ اٹھایا جائے گا۔
اللہ تعالیٰ نے ہم سب کو اس غفلت سے جاگنے کا موقع عنایت فرمایا ہے تاکہ ہم اس کی ان رحمتوں سے کہ جن کو اس نے ہم سب کے لئے تخلیق فرمایا ہے۔ فائدہ اٹھا سکیں۔
[1] علامہ ابن الجوزی فرماتے ہیں: "شریعت میں اَمردوں کی ہم نشینی سے ممانعت آئی ہے اور علماء نے اس سے احتراز رکھنے کے لئے وصیت فرمائی ہے۔" انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "کہ تم شہزادوں کے پاس نہ بیٹھو کیونکہ ان کا فتنہ دوشیزہ لڑکیوں کے فتنے سے بھی سخت ہے۔" حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی ایسا ہی منقول ہے۔ وفد عبدالقیس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے۔ ان میں سے ایک اَمرد لڑکا روشن چہرہ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اپنی پشت مبارک کے پیچھے بٹھایا۔۔۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ آدمی کسی اَمرد لڑکے کو نظر جما کر دیکھے۔" امردوں کی ہم نشینی اور ان کی طرف بغرضِ تلذذ دیکھنے سے احتراز کرنے کے سلسلہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور بعض اسلافِ اُمت سے انتہائی شدید اقوال موجود ہیں جن میں سے چند عبرت کے لئے نیچے درج کئے جاتے ہیں: "عمر بن خطاب نے فرمایا کہ مجھ کو عالم پر ایذا رساں درندے کا بھی اس قدر خوف نہیں جتنا امرد لڑکے کی طرف سے ڈر ہے۔ عبدالعزیز ابن ابی السائب نے اپنے باپ سے روایت کی کہ وہ کہتے تھے کہ "میں ایک عابد شخص پر ایک امرد لڑکے کے بارے میں ستر باکرہ لڑکیوں سے بھی زیادہ ڈرتا ہوں۔" ابوعلی روزباری رحمۃ اللہ علیہ نے کہا کہ میں نے جنید رحمۃ اللہ علیہ سے سنا، کہتے تھے کہ احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کے پاس ایک شخص آیا اس کے ساتھ ایک خوب صورت لڑکا تھا۔ پوچھا: "یہ لڑکا کون ہے؟" جواب دیا: "میرا بیٹا ہے" کہنے لگے کہ اب دوبارہ اس کو اپنے ہمراہ نہ لانا۔"
[2] یہاں علامہ ابن قدامہ مقدسی سے یقینا خطا ہوئی ہے کیونکہ اس سلسلہ میں جو تین چار روایتیں کتبِ احادیث، کتب قصص الانبیاء، کتبِ تواریخ اور کتب تواسیر میں ملتی ہیں وہ قطعی موضوع، باطل اور ناقابل اعتماد ہیں۔ یہ روایات اللہ تعالیٰ کے ایک برگزیدہ نبی کی عصمت کو تار تار کر دینے کے درپے ہیں۔ اصلا ان کا ماخذ بے بنیاد اسرائیلی قصص ہیں جو ہمارے یہاں مشہور ہو گئے ہیں۔ فانا للہ۔ الخ
[3] یہ تمام بنی اسرایلی قصص ہیں جو بعد میں مسلمانوں کے درمیان مشہور ہو گئے تھے۔ برصیصا کا قصہ علامہ ابن الجوزی نے بھی "تلبیس ابلیس" کے اوائل میں ذکر کیا ہے۔ (ملاحظہ ہو تلبیس ابلیس ص 345، مترجم) لیکن ان تمام روایات کی صحت کا حال تو صرف اللہ ہی کو معلوم ہے۔
[4] یہ حدیث حسن ہے اور حضرت بریدہ سے مروی ہے۔ امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی "جامع" (مع تحفۃ الاحوذی، ج4، ص14) میں۔ ابوداؤد رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی "سنن" (مع عون المعبود ج2 ص 212) دارمی نے اپنی "سنن" کی کتاب الرقاق باب 3 میں اور امام احمد نے اپنی "مسند' ج5، ص351،353،357 میں۔حاکم نے "مستدرک" ج3 ص 194 میں۔بیہقی نے "سنن الکبریٰ" ج7 میں اور طحاوی نے "شرح الآثار" ج2، ص8-9 و "مشکل الآثار" ج2 ص352 میں اس کی تخریج کی ہے۔ امام ترمذی نے اس کو "حسن غریب" بتایا ہے۔
[5] یہ حدیث صحیح ہے اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ،شیخان رحمۃ اللہ علیہم، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے اس کی تخریج کی ہے۔ علامہ سخاوی نے مقاصد الحسنہ ص 364 میں، علامہ شیبانی نے تمیز الطیب ص 161 میں، علامہ عجلونی رحمۃ اللہ علیہ نے کشف الخفاء ج2، ص 239 میں، حوت بیروتی رحمۃ اللہ علیہ نے اسنی المطالب ص 268 میں اور علامہ ناصر الدین الالبانی نے صحیح اجعم الصغیر و زیادتہ ج2، ص 980 اور تخریج مشکوٰۃ للمصابیح حدیث 3085 وغیرہ میں اس کو وارد کیا ہے۔
[6] سورۃ الفاتحہ: 6-7
[7] سورۃ المائدہ 9/1، سورۃ التوبہ 100، سورۃ المجادلہ 22، سورۃ البینہ 8۔
[8] سورۃ الکہف: 17