تحریر: حافظ ابن رجب              
آداب دین و دنیا                        قسط 3 (آخری)
دوسری قسم اس شخص کی ہے، جو اپنے علم و عمل اور زہد و تقویٰ کی نمائش کے ذریعہ دوسروں پر اپنے آپ کو بالاتر ہونے کی چھاپ بٹھانے کی کوشش کرے۔ لوگوں کو اپنا مطیع، فرمانبردار، سرنگوں اور ہر وقت اپنی طرف مودبانہ متوجہ دیکھنا چاہے۔ دوسروں پر اپنے علمی تفوق کی دھاک بٹھانے کے لئے ہر ایک سے اپنی ہمہ دانی کا چرچا کرتا پھرے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ وہ اعمال تھے، جو اسے صرف اللہ کی رضا کے لئے کرنا چاہئے تھے، مگر اس نے انہیں دنیا کی جاہ و دولت کے لئے استعمال کیا، ایسے مجرموں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
" مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ لِيُجَارِيَّ بِهِ الْعُلَمَاءَ ، أَوْ لِيُمَارِيَ بِهِ السُّفَهَاءَ ، أَوْ يَصْرِفَ بِهِ وُجُوهَ النَّاسِ إِلَيْهِ ، أَدْخَلَهُ اللَّهُ النَّارَ "
"جو بھی شخص جاہلوں سے مقابلہ کرنے کے علماء سے جھگڑنے یا لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی نیت سے علم حاصل کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے جہنم میں داخل کریں گے۔"
اس حدیث کو امام احمد رحمۃ اللہ علیہ اور امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے حجرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے بیان کیا۔ امام ابن ماجہ رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہما کے حوالے سے "(فهو فى النار)" کے الفاظ بیان کئے ہیں، یعنی ایسا شخص جہنم میں ہو گا۔
اسی طرح امام ابن ماجہ رحمۃ اللہ علیہ اور ابن حبان نے اپنی "الصحیح" میں بروایت حضرت جابر رضی اللہ عنہ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث بیان کی ہے:
«لَا تَعَلَّمُوا الْعِلْمَ لِتُبَاهُوا بِهِ الْعُلَمَاءَ، وَلَا لِتُمَارُوا بِهِ السُّفَهَاءَ، وَلَا تَخَيَّرُوا بِهِ الْمَجَالِسَ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَالنَّارُ النَّارُ»
"علم، علماء پر رعب جمانے، جاہلوں سے بحث کرنے اور مجالس میں دوسروں پر چھا جانے کی نیت سے حاصل نہ کرو۔ اگر ایسا کرو گے، تو تمہارے لئے آگ ہے آگ"
اس حدیث کو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے ابن عدی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے " ولکن تعلموہ لوجه الله  والدار الآخرة " کے الفاظ بیان فرماتے ہیں۔ یعنی علم محض اللہ کی رضا اور آخرت کی کامیابی کے لئے حاصل کرو۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
" لا تعلموا العلم لثلاث : لتماروا به السفهاء، أو لتجادلوا به الفقهاء، أو لتصرفوا وجوه الناس إليكم ، وابتغوا بقولكم و فعلكم ما عند الله فإنه يبقى ويفنى ما سواه "
ان تین اغراض کے لئے علم حاصل نہ کرو:
1۔ جہلاء سے جھگڑنے کے لئے 2۔ اہل علم سے مقابلہ کرنے کے لئے 3۔ لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے، بلکہ اپنے اقوال و افعال کے لئے اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرو، کیونکہ یہی چیز باقی رہنے والی ہے۔ اس کے علاوہ سب فنا ہونے والا ہے۔"
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث پر غور فرمائیے:
"إن  أول الخلائق تعسر به  النار يوم القيامة ثلاثة منهم العالم الذى قراء القرآن ليقال له قج قيل ذلك و أمر به  فسحب على وجهه حتى ألقى  فى النار"
قیامت کے دن سب سے پہلے تین قسم کے آدمیوں پر جہنم کی آگ جلائی جائے گی۔ (1)وہ قاری، جو قرآن صرف اس نیت سے پڑھتا ہے کہ لوگ اسے قاری صاحب کہہ کر پکاریں (2) وہ شخص علم محض اس نیت سے حاصل کرے کہ لوگ اس کو علامہ صاحب کہیں۔ ایسے ہر شخص کو قیامت کے دن اللہ جل شانہ فرمائیں گے۔ تمہاری نیت کے مطابق دنیا میں تمہیں دے دیا گیا (تم ان القابات سے نوازے جا چکے) اب حکم جاری ہوتا ہے کہ اس کو چہرے کے بل گھسیٹ کر جہنم میں پھینک دیا جائے۔"
چنانچہ دیگر احادیث میں ایسی ریاکارانہ نیت کے تحت صدقہ کرنے والے یا جہاد کرنے والے اشخاص کو بھی اس فیصلہ سے متنبہ کیا گیا ہے۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا:
اصحاب علم، علم کی نعمت سے بہرہ یاب ہو تو اس پر عمل بھی کرو۔ کیونکہ حقیقت کی زبان میں عالم وہی کہلائے گا، جو اپنے علم کی بساط کے مطابق عمل بھی کرے گا اور ہاں، عنقریب ایسے لوگ نمودار ہوں گے جو صاحب علم کہلائیں گے، لیکن ان کا علم سینہ کی ہڈیوں سے آگے نہیں اترے گا (یعنی ان کے دل اس علم کی لذت سے ناآشنا ہوں گے) ان کا عمل، علم کے خلاف ہو گا۔ یہ لوگ حلقے بنا کر بیٹھیں گے۔ ایک دوسرے پر اپنی اپنی قابلیت، فخر اور بڑھائی کے لئے اظہار کریں گے۔ یہاں تک کہ ایک شخص اپنے ساتھی اور ہم مجلس پہ محض اس لئے برہم ہو گا کہ وہ اسے چھوڑ کر دوسرے کے پاس کیوں چلا گیا۔ ایسے لوگوں کے ان محافل و مجالس میں کئے ہوئے اعمال کی بارگاہِ الہیٰ میں قبولیت کے لئے رسائی نہیں ہو گی۔"
حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
"کسی صاحب علم کی یہ نیت نہیں ہونا چاہئے کہ لوگ ایسے عالم کہہ کر پکاریں۔"
بعض روایات میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا:
"وہ شخص صاحب علم کیسے کہلا سکتا ہے، جو علم عمل کے لئے نہیں بلکہ صرف اپنی مطلب برآوری کے لئے حاصل کرتا ہے۔"
ایک بزرگ کا قول ہے:
"کہ جو شخص احادیث محض بیان کرنے کے لئے پڑھتا ہے، وہ جنت کی خوشبو تک نہ پائے گا۔"
واضح بات کہی جائے تو وہ محدث جو دوسروں کو حدیث پڑھاتے ہیں۔ وہ علماء جو ہر بات پہ احادیث کے حوالے دیتے ہوں، ان کا اپنا نامہ اعمال ان احادیث کے عملی فیض سے مھروم ہو گا، تو ان کا یہی حشر ہو گا۔
فتویٰ دینے میں احتیاط:
فتویٰ دینے میں جلدی کرنا یا فتویٰ دینے کا منصب (یعنی مفتی) حاصل کرنے کی طلب ہو یا مفتی کہلانے کی چاہت۔ دونوں صورتوں کے بارے میں ابن لہتیہ نے مرسلا بروایت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روایت کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
" أجرؤكم على الفتيا  أجرؤكم على النار "
"تم میں سے فتویٰ دینے کی جراءت کرنے والا جہنم میں کودنے کی دلیری کرنے والے کی مانند ہے۔"
علقمہ فرماتے ہیں، اسلاف فرمایا کرتے تھے:
"تم میں سے فتویٰ دینے کی جراءت کرنے والا سب سے کم تر علم والا ہے۔"
حضرت براء رضی اللہ عنہ کا بیان ہے:
"میں نے ایک سو بیس انصاری صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو دیکھا  ان میں سے کسی ایک سے بھی مسئلہ پوچھا جاتا، تو ہر ایک یہی چاہتا کہ اس کا جواب دوسرا بھائی دے۔"
ایک اور روایت میں یوں ہے کہ:
"جب کسی سے کوئی مسئلہ پوچھا جاتا، تو وہ دوسرے کے سپرد کر دیتا اور وہ تیسرے کی طرف یہاں تک سائل پہلے شخص کے پاس آجاتا۔"
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
"جو شخص لوگوں کے ہر سوال کا جواب دے، وہ پاگل ہے۔"
حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ سے کوئی مسئلہ دریافت کیا گیا، تو انہوں نے فرمایا:
"میں فتویٰ دینے کی جراءت نہیں کر سکتا،" آپ نے اپنے کسی عامل کو لکھا:
"خدا کی قسم! جس حد تک ممکن ہو، میں فتویٰ دینے کی کوشش نہیں کرتا۔"
یہ طرزِ عمل اس شخص کا ہے جو لوگوں کو اپنا محتاج دیکھنا پسند نہ کرتا ہو، بلکہ وہ یہ چاہتا ہے کہ یہ ذمہ داری کوئی اور سنبھال لے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ ہی فرماتے ہیں:
"لوگوں میں سب سے برا عالم وہ ہے جو خاموش رہے اور سب سے زیادہ بولنے والا سب سے بڑا جاہل ہے۔"
سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"ہم نے اکثر فقہاء کو مسائل کا جواب یا فتویٰ دینے سے اس وقت نہ گریز کرتے دیکھا، جب تک جواب کے سوا ان کے لئے کوئی دوسری راہ ہی نہ ہو اور انہیں سب سے زیادہ خوشی اس وقت ہوتی جب کوئی سائل جواب نہ ملنے پر آسانی سے اُن کا پیچھا چھوڑ دیتا۔"
امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں:
"جو شخص اپنے آپ کو مفتی قرار دے لیتا ہے، حقیقت میں وہ اپنے آپ کو انتہائی عظیم ذمہ داری کا اسیر بنا لیتا ہے۔ یہ ایک دوسری بات ہے کہ بعض حالات میں کسی عالم کو فتویٰ دینا لازمی ہے۔" کسی نے امام احمد سے پوچھا: "بولنا بہتر ہے یا خاموشی؟" فرمایا: "مجھے خاموشی زیادہ پسند ہے۔" کسی نے امام احمد رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا: "اگر بولنے کی ضرورت متقاضی ہو تو؟" فرمای"ضرورت۔۔۔ضرورت۔۔۔"تھوڑے تفکر کے بعد فرمانے لگے۔ خاموشی اس لئے کہ اس میں سلامتی مضمر ہے۔ فتویٰ دینے سے گریز اس لئے کہ یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے مفتی کو یہ احساس ہونا چاہئے کہ وہ اللہ جل شانہ کے اوامر و نواہی کی مماثلت کے عمل کو بجا لانے والا ہے، جس کا وہ پوری طرح ذمہ داری ہے (اگر تو وہ درست ہے تو بہتر اگر غلطی ہو گئی) تو قیامت کے دن اس سے سوال کیا جائے گا۔"
ربیع بن خثیم کہتے ہیں: فتویٰ دینے والو ذرا خیال کرو، فتویٰ کیسے دیتے ہو۔"
حضرت قتادہ رحمۃ اللہ علیہ جب ایک موقع پر فتویٰ دینے لگے تو حضرت عمرو بن دینار نے ان سے کہا: "فتویٰ کا یہ پہلو مناسب اور دوسرا نامناسب ہے۔"
ابن النکور کا بیان ہے کہ صاحب علم مخلوق اور اللہ تعالیٰ کے درمیان واسطہ ہوتا ہے۔ اس واسطہ کی اہمیت ہمیشہ ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے اچھی طرح سوچ لینا چاہئے کہ میں اس عظمت کا کتنا اہل ہوں۔"
ابن سیرین سے جب کوئی حلال اور حرام کا مسئلہ دریافت کرتا، تو ان کا رنگ اس طرح فق ہو جاتا کہ ان پر موت کا گمان ہونے لگتا۔
حضرت ابراہیم نخعی سے جب کوئی مسئلہ دریافت کیا جاتا، تو ان کے چہرہ پہ ناپسندیدگی کے آثار واضح نظر آنے لگتے اور جواب دیتے: "تجھے میرے سوا کوئی دوسرا نہیں ملا۔" اس سے پوچھ لیا ہوتا۔" بحالت مجبوری اگر کسی کو جواب دے بھی دیتے، تو ساتھ ہی کہہ دیتے "اگر مجھ سے ممکن ہوتا تو نہ بتاتا۔"
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق بیان کیا جاتا ہے۔ انہوں نے بڑے واشگاف الفاظ میں یہ فرمایا:
"ہم سوال کرنے والوں کو جواب (فتویٰ) تو دیتے ہیں، لیکن ہمارا دل چاہتا ہے کہ لوگ ہم سے یہ سوال نہ ہی کریں تو بہتر ہو۔"
محمد بن واسع فرماتے ہیں:
"قیامت کے روز سب سے پہلے فقہاء کو حساب کتاب کے لئے حاضر کیا جائے گا۔"
حضرت امام مالک کے متعلق کہا جاتا ہے، ان سے جب کوئی مسئلہ پوچھا جاتا تو ان کی کیفیت یوں ہو جاتی جیسے وہ جنت اور دوزخ کے درمیان کھڑے ہیں۔
کسی عالم نے کسی مفتی سے پوچھا:
"جب آپ سے کوئی مسئلہ دریافت کیا جائے، تو مسئلہ سے جان چھڑانے سے پہلے (یعنی جواب دینے سے پہلے) ہمیں اپنی جان چھڑانے کی فکر کرنی چاہئے۔" اور دوسرے آدمی سے فرمایا: "اگر آپ سے کوئی مسئلہ پوچھے تو خوب غور کریں۔ اول تو کوشش کریں سوال کرنے والا ٹل جائے۔اگر جواب دینا ناگزیر ہو جائے تو جواب دیں ورنہ خاموش رہیں۔"
اس سے متعلق اسلاف کے اقوال تو بہت ہیں مگر میں ان پر ہی اکتفاء کرتا ہوں۔
حکمران اور علماء
اتہائی خطرناک دروازہ۔۔جہاں سے علماء دنیاوی عزت و وقار اور مناصب کی حرص کا شکار ہو سکتے ہیں۔ امام احمد، ابوداؤد، ترمذی اور نسائی نے بروایت حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«مَنْ سَكَنَ الْبَادِيَةَ جَفَا، وَمَنِ اتَّبَعَ الصَّيْدَ غَفَلَ، وَمَنْ أَتَى السُّلْطَانَ افْتُتِنَ»
"جو شخص دیہات میں سکونت پذیر ہوا، سخت مزاج (جفاکش) ہوا، جو شکار کا عادی بنا وہ غفلت شعار بنا، جو شخص حکمرانوں کے دروازوں پہ آںے جانے لگا وہ فتنوں میں مبتلا ہوا۔"
امام احمد اور ابوداؤد نے اسی قسم کی ایک حدیث بروایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا ہے:
«وَمَا ازْدَادَ عَبْدٌ مِنَ السُّلْطَانِ دُنُوًّا إِلَّا ازْدَادَ مِنَ اللَّهِ بُعْدًا»
"جو شخص کسی بادشاہ یا حکمران کے قریب تر ہو جاتا ہے، تو اللہ تعالیٰ سے اتنا ہی دور ہو جاتا ہے۔"
امام ابن ماجہ نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
" إِنَّ أُنَاسًا مِنْ أُمَّتِي سَيَتَفَقَّهُونَ فِي الدِّينِ، وَيَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ، وَيَقُولُونَ: نَأْتِي الْأُمَرَاءَ فَنُصِيبُ مِنْ دُنْيَاهُمْ، وَنَعْتَزِلُهُمْ بِدِينِنَا، وَلَا يَكُونُ ذَلِكَ، كَمَا لَا يُجْتَنَى مِنَ الْقَتَادِ إِلَّا الشَّوْكُ، كَذَلِكَ لَا يُجْتَنَى مِنْ قُرْبِهِمْ إِلَّا " قَالَ: مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، كَأَنَّهُ يَعْنِي الْخَطَايَا"
"میری امت کے کچھ لوگ علمِ دین حاصل کریں گے۔ قرآن پڑھیں گے اور کہیں گے ہمیں حکمرانوں کے پاس جانا چاہئے تاکہ ان سے مال و دولت حاصل کیا جا سکے اور دین کے معاملہ میں ان سے دُور رہیں گے (یعنی ان کی باتوں سے متاثر ہو کر ان کے معمولات کو بدلیں گے نہیں) لیکن ایسا نہیں ہو گا۔ جس طرح خار دار درختوں سے کانٹوں کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ ایسے ہی ان حکمرانوں اور بادشاہوں کی قربت سے گناہوں کے سوا کچھ نصیب نہیں ہوتا۔"
امام ترمذی، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ جُبِّ الحَزَنِ»، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ: وَمَا جُبُّ الحَزَنِ؟ قَالَ: «وَادٍ فِي جَهَنَّمَ تَتَعَوَّذُ مِنْهُ جَهَنَّمُ كُلَّ يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ». قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَنْ يَدْخُلُهُ؟ قَالَ: «الْقَرَّاءُونَ الْمُرَاءُونَ بِأَعْمَالِهِمْ»
"تم اللہ تعالیٰ سے غم کے کنوئیں (حَب الحزن) سے پناہ مانگو۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا "حب الحزن سے کیا مراد ہے؟" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: "جہنم میں ایک وادی ہے، جس سے جہنم بھی روزانہ سو دفعہ پناہ مانگتا ہے۔" پھر دریافت کیا: "یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اس وادی میں کون داخل و گا؟" فرمایا: "وہ قاری لوگ، جو اپنے اعمال دکھلاوے کے لئے کرتے ہیں۔"
اسی قبیل کی حدیث امام ابن ماجہ نے بھی اضافہ کے ساتھ بیان کی ہے:
«وَإِنَّ مِنْ أَبْغَضِ الْقُرَّاءِ إِلَى اللَّهِ الَّذِينَ يَزُورُونَ الْأُمَرَاءَالْجَوَرَةَ»
"اللہ جل شانہ کے نزدیک سب سے مبغوض قاری وہ ہیں، جو ظالم حکمرانوں کے ہاں آمدو رفت رکھتے ہیں۔"
اسی طرح ایک حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔
"یعنی جو لوگ ظالم حکمرانوں کے ہاں آنا جانا رکھتے ہیں۔ ان کے لئے سب سے زیادہ خدشہ اس بات کا ہے کہ وہ ظالم حکمرانوں کے ہر کذب کی تصدیق پہ مجبور ہوں، دوسرے معنوں میں وہ ان ظالموں میں معاون و مددگار ہوں۔ اس تصدیق کی عملی صورت چاہے صرف خاموش رہنے کی حد تک ہی کیوں نہ و۔ خصوصا اگر ان حکمرانوں کے ہاں جانے کا مقصد ہی دنیاوی جاہ و دولت حاصل کرنا ہو تو پھر حکمرانوں کی کسی بات کی نفی کر ہی نہیں سکتے بلکہ زیادہ تر امکان اس بات کا ہے کہ ان حکمرانوں کی نگاہوں میں پسندیدگی کا مقام پیدا کرنے کے لئے ان کے ہر بَد سے بدترین اعمال کی مدح و توصیف کرنے سے بھی گریز نہ کریں۔
امام احمد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے اپنی "الصحیح" میں حضرت کعب بن عجرۃ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بیان کیا ہے۔
« سَيَكُونُ بَعْدِي أُمَرَاءُ؟ فَمَنْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ فَصَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ وَلَيْسَ بِوَارِدٍ عَلَيَّ الحَوْضَ، وَمَنْ لَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهِمْ وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ وَلَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ فَهُوَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ وَهُوَ وَارِدٌ عَلَيَّ الحَوْضَ»
"میرے بعد ایسے حکمران آئیں گے جن کے پاس جا کر جتنے لوگ بھی ان کی ہر جھوٹی بات کی تصدیق کریں گے۔ ان کے صریحا ظالم ہونے کے باوجود ان کے ظلم میں ان کی اعانت کریں گے۔ ان کا مجھ سے اور میرا ان سے کوئی واسط نہیں اور نہ وہ (قیامت کے دن) میرے پاس (پانی پینے کے لئے) حوضِ کوثر پر آ سکیں گے اور وہ لوگ جو ظالم حکمرانوں سے قطع تعلقی کر لیں گے۔ ان کے کذب و ظلم سے تعاون نہیں کریں گے، تو وہ میرے ہیں۔ میں ان سے ہوں اور یہی لوگ (قیامت کے دن) میرے پاس (پانی پینے کے لئے) حوضِ کوثر پر آئیں گے۔"
امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے، حضرت حذیفہ، ابن عمر، خباب بن ارت، ابوسعید خدری، نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہم اجمعین۔ سب سے بھی اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے۔
چنانچہ بت سے اسلاف، بزرگ علماء کو حکمرانوں کے پاس جانے سے منع کیا کرتے تھے یہاں تک کہ انہیں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی غرض سے بھی ملنے سے منع کرتے۔
حضرت عمر بن عبدالعزیز ، ابن مبارک، سفیان ثوری رحمہم اللہ اور بہت سے آئمہ کرام سبھی امراء کے پاس جانے سے منع کرتے تھے۔
ابن مبارک فرماتے ہیں:
"ہماری نظروں میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا عامل وہ نہیں، جو حکمرانوں کے پاس جاتا ے بلکہ حقیقی معنوں میں اس عظیم فریضہ کو وہ ادا کرتا ہے، جو اُن سے دُور رہتا ہے۔"
اس کی وجہ یہ ہے کہ حکمرانوں کے پاس آنے جانے سے فتنوں میں مبتلا ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ ان میں سب سے بڑا فتنہ انسان کے دل میں سامانِ تعیش اور خواہشِ منصب پیدا ہونا ہے۔ اس کے برعکس اس سے جتنا دور رہے گا، نہی عن المنکر اور امر بالمعروف جیسے عظیم شان عمل کو زیادہ بہتر طریقہ سے ادا کر سکتا ہے۔
انسانی جبلتوں میں عزت و منزلت پوشیدہ ہے، جو ذرا سا موقع پاتے ہی خلوصِ عمل پہ غالب آسکتی ہے۔
عالم اس حربہ کا شکار خصوصا اس وقت ہوتا ہے۔ جب اُمراء یا حکمران اس کی عزت و توقیر کریں۔ خصوصی مراعات سے کام لیں۔ جن کے ردِ عمل میں عالم ان کا ہمنوا نہ ہو یہ ہو نہیں سکتا۔ اسی سلسلہ میں ان طاؤس اپنے ذاتی مشاہدہ کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:
"میں اپنے والد محترم کے ساتھ کسی حاکم کی مجلس میں شریک ہوا جہاں میں نے بالکل ایسی ہی نوعیت کا مشاہدہ کیا۔ اور والد محترم کو نفس کی اس انجانی یلغار سے خبردار کیا۔"
حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کا وہ خط، جو انہوں نے عباد بن عباد کو لکھا۔ اس کی عبارت ملاحظہ فرمائیے:
"امراء کی قربت اور اختلاط دونوں سے بچنا، خصوصا فریبِ نفس سے بچنا۔ ابلیس کی چالوں سے ہوشیار رہنا، یہ تمہیں کبھی کسی کی سفارش، کبھی کسی مظلوم کی داد رسی اور کبھی ظلم کا ہاتھ روکنے کے بہانے اپنا شکار کرنا چاہے گا۔ جتنے علماء ابلیس کی اس سازش کا شکار ہوئے وہی فاجر کہلائے، تمہیں مسائل اور فتووں سے لوگ جتنا دور رکھیں اپنے لئے اتنا ہی غنیمت سمجھنا۔ جن لوگوں کا عوام الناس پر حکم چلتا ہے انہیں دیکھ کر دل میں خود ویسا بننے کے مذموم خیال سے بچنا۔ ایسے لوگ ہوسِ اقتدار اور شہرت کے بیمار چاہتے ہیں کہ ہر زبان پر ان کا ہی تذکرہ ہو، ان کی تعریف ہو۔ ان کی ہر بات پہ "جی" کا جواب ملے اور اگر ان کی کسی بات پر توجہ نہ دی جائے تو ان کے چہروں پر غصہ کے آثار نظر آنے لگتے ہیں۔ خصوصا ہوسِ اقتدار سے بچو۔ عام طور پر لوگ دولت سے بھی زیادہ اس سے محبت کرتے ہیں۔ یہ ایسا خفیہ دشمن ہے، جس کے اصلی خدوخال کو صرف اصحابِ بصیرت علماء ہی دیکھ سکتے ہیں۔ غرض اپنے دل کو محاسبہ کی گرفت میں رکھو، خلوصِ نیت سے ہر عمل کرو۔ یاد رکھو، لوگوں پر ایسا دور آ چکا ہے کہ انسان اب زندگی سے زیادہ موت کو ترجیح دینے لگا ہے۔"                      "والسلام"
اسی ضمن میں یہ بات بھی ہمیں ملحوظِ خاطر رکھنی چاہئے کہ ہم علم، دین اور زُہد کے حوالے سے اپنی شہرت پسند نہ کریں۔ اچھے اعمال و اقوال اور کرامات کا اظہار نہ کریں۔ ایسے ہر بَد نیت عمل سے بچیں جس کا مقصد یہ ہو کہ لوگ اس کی زیارت کرنے یا اس سے برکت حاصل کرنے آئیں۔ اس کو مستجاب الدعوات سمجھ کر دعائیں کروانے آئیں۔ اس کے ہاتھوں کو بوسے دیں اور ہمیں چاہئے اس قسم کے عمل کو مزید بڑھانے میں کوشاں نہ رہیں۔
یہی وجہ ہے کہ سلف صالحین شہرت کو بے حد ناپسند کرتے تھے۔ ایوب، نخعی، سفیان اور احمد جیسے بزرگ علمائے دین کے علاوہ فضیل اور داؤد طائی جیسی زاہد و عارف ہستیاں بھی ہیں۔ ان کے معمول میں یہ بات بھی تھی کہ وہ زیادہ سے زیادہ خود اپنی مذمت کرتے اور اپنے اچھے اعمال کو انتہائی مخفی رکھتے۔
ایک شخص داؤد طائی کے پاس آیا۔ انہوں نے اس سے پوچھا: "کیا کام ہے؟" اس نے جواب دیا: "آپ کی زیارت کے لئے حاضر ہوا ہوں۔" آپ نے فرمایا: "تو نے اللہ کے لئے میری زیارت کر کے ثواب پا لیا۔ لیکن ذرا سوچو، کل میرا کیا حال ہو گا جب مجھ سے پوچھا جائے گا، تیری حیثیت کیا تھی؟ جو لوگ تیری زیارت کے لئے آتے تھے۔ کیا تو بہت بڑے زاہدوں میں سے ہے؟ اور میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں۔ نہیں۔ جب سوال ہو گا کہ کیا تو بہت بڑے عبادت گزاروں میں سے ہے؟ میں کہتا ہوں قسم بخدا ہرگز نہیں۔ جب پوچھا جائے گا، تو نیک بندوں میں سے ہے؟ میں قسم کھا کر کہتا ہوں ہرگز ایسا نہیں۔"
اسی طرح انہوں نے بہت سارے اعمال گِنا گِنا کر اپنی مذمت کی اور اپنے آپ کو ڈانٹتے آئے۔ اور آخر میں خود کو کہنے لگے۔ داؤد، تو جوانی میں فاسق تھا۔ بڑھاپے میں دکھلاوا کرتا ہے اور تو جانتا ہے ریاکار تو فاسق سے بھی زیادہ بُرا ہے۔
محمد بن واسع فرمایا کرتے تھے:
"اگر گناہوں کی بدبو ہوتی تو کوئی میرے قریب تک نہ پھٹکتا۔"
ابراہیم نخعی کے پاس جب کوئی آتا۔ وہ تلاوت کر رہے ہوتے، تو مصحف بند کر دیتے۔
اویس قرنی جیسے زاہد لوگ جب کسی علاقہ میں اپنے زُہد کے حوالے سے مشہور ہو جاتے، تو چپکے سے کسی دوسری انجانی جگہ چلے جاتے۔
بہت سے اسلاف یہ پسند نہ کرتے تھے کہ ان سے کوئی دعا کی درخواست کرے۔ اگر انہیں کوئی دعا کرنے کے لئے کہتا بھی تو فورا کہتے، "میں کیا ہوں؟"
حضرت عمر بن خطاب، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہا اور مالک بن دینار کا دعا کے سائلوں کو یہی جواب ہوتا۔
حضرت ابراہیم نخعی کا رویہ بھی ایسا ہی ہوتا تھا۔ ایک شخص نے امام احمد کو خط لکھ کر دعا کی درخواست کی، تو انہوں نے فرمایا: "ہم تو اس کے لئے دعا کریں لیکن ہمارے لئے کون دعا کرے گا۔"
کسی نیک بزرگ کی عبادت و ریاضت کا کسی بادشاہ کے سامنے کسی نے ذکر کیا۔ بادشاہ نے اس بزرگ کی زیارت کا فیصلہ کیا۔ تیاری شروع ہوئی، لیکن اُس کے آنے سے پہلے اس بزرگ کو بھی اطلاع مل گئی۔ جونہی وہ اس کے بسیرے کے قریب پہنچا تو یہ بزرگ رستے ہی میں بیٹھ کر کھانا کھانے لگے۔ بادشاہ نے قریب ہو کر سلام عرض کیا۔ بزرگ نے سلام کا جواب دیا۔ پھر کھانے میں مصروف ہو گئے، بادشاہ کی طرف توجہ تک نہیں کی۔ بادشاہ نے ان کا یہ رویہ دیکھ کر کہا کہ: "اس میں تو کوئی زاہدوں جیسی بات ہی نہیں" اور وہ واپس چلا گیا۔ اس کے جاتے ہی بزرگ نے اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لاتے ہوئے کہا: "اللہ تعالیٰ! آپ کا شکر ہے کہ یہ دنیا کا بادشاہ میری مذمت کرتے ہوئے واپس ہو گیا۔
اس قسم کے اور واقعات بھی ہیں، مگر یہاں ایک اور "نکتہ" بھی نمایاں ہو کر ابھرتا ہے وہ یہ ہے کہ کبھی کبھی بعض انسان لوگوں میں بیٹھ کر خود اپنی مذمت محض اس نیت سے کرتے ہیں کہ لوگوں میں اپنی تواضع پسند اور منکر المزاجی کا تاثر پیدا ہو۔ اس طرح وہ لوگوں میں اسی حوالے سے ایسی شہرت اور نام پیدا کر لیں کہ ہر شخص کی زبان پر ان کی تعریف ہو۔
خود نمائی یا ریاکاری کا یہ طریقہ انتہائی باریک بین نظروں کے علاوہ ہر ایک کو نظر نہیں آتا۔ بزرگوں نے اس سے بچنے کے لئے بہت تاکید کی ہے۔
مطرف بن عبداللہ بن الشخیر نے فرمایا:
"یہ بھی فخر و ریا ہی ہے کہ تم لوگوں کے سامنے اپنے آپ کو برا کہو۔ اپنی مذمت کی آڑ میں دوسروں کے سامنے اپنے آپ کو صاف گو اور امتیازی خصوصیت کا مالک ثابت کرنا چاہو۔ اللہ جل شانہ کی نظر میں اس قسم کی ریاکاری، حماقت کے مترادف ہے۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(فصل)
سابقہ معروضات سے ثابت ہو چکا۔ ہوسِ جاہ اور جلب زر کی حرص انسانوں کو تباہی اور ہلاکت کے سوا کچھ نہیں دے سکتی۔
آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"دولت اور اقتدار سے محبت ہی دنیا کی محبت کی بنیاد ہے اور دنیا سے محبت کی بنیاد انسان کی اپنی نفسانی خواہشات کی غلامی ہے۔"
حضرت وہب بن منبہ فرماتے ہیں:
"دنیا کی چاہت دراصل خواہشات کی پیروی کا نام ہے۔ دنیا کی چاہت یعنی مال و دولت کی محبت اگر اس کی ایک قسم ہے، تو اس کی دوسری قسم اللہ تعالیٰ کے حرام اُمور کو حلال سمجھنا ہے۔"
اس لئے دنیا کی محبت میں گرفتار انسانوں کو حضرت وہب نے تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا:
"دنیا کی محبت نفسانی خواہشات کی پیروی تمہاری عاقبت کو برباد کر دیتی ہے۔"
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿فَأَمَّا مَن طَغَىٰ ﴿٣٧﴾ وَآثَرَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا ﴿٣٨﴾ فَإِنَّ الْجَحِيمَ هِيَ الْمَأْوَىٰ ﴿٣٩﴾ وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ ﴿٤٠﴾ فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَىٰ ﴿٤١﴾...النازعات
"جس نے سرکشی کی اور دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دی، تو دوزخ ہی اس کا ٹھکانہ ہو گی اور جس نے اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے خوف کیا۔ نفس کو بری خواہشات سے روکے رکھا، تو جنت اس کا ٹھکانہ ہو گی۔"
اللہ تعالیٰ نے بیشتر مقامات پر اہل جہنم کی اکثریت کا مال و اقتدار کے ہوس کاروں سے تعلق واضھ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے:
﴿وَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِشِمَالِهِ فَيَقُولُ يَا لَيْتَنِي لَمْ أُوتَ كِتَابِيَهْ ﴿٢٥﴾ وَلَمْ أَدْرِ مَا حِسَابِيَهْ ﴿٢٦﴾ يَا لَيْتَهَا كَانَتِ الْقَاضِيَةَ ﴿٢٧﴾ مَا أَغْنَىٰ عَنِّي مَالِيَهْ ۜ ﴿٢٨﴾ هَلَكَ عَنِّي سُلْطَانِيَهْ ﴿٢٩﴾...الحاقة
"اور جس کا نامہ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں دیا گیا۔ وہ کہے گا کاش میرا نامہ اعمال نہ دیا گیا ہوتا۔ اور میں نہیں جانتا کہ میرا حساب کیا ہو گا۔ کاش میری وہی موت (سابقہ) فیصلہ کُن ہوتی۔ آج میرا مال میرے کچھ کام نہ آیا اور میرا سارا اقتدار ختم ہو گیا۔"
یاد رکھو! جیسے ہی انسان کے دل میں اپنے آپ کے بارے میں دوسروں کے مقابلہ میں بڑے پن کا احساس پیدا ہوتا ہے اسی وقت سے ہی تکبر اور حسد کا بھی آغاز ہو جاتا ہے۔ لیکن عقل مندی کا تقاضا یہ ہے کہ آدمی ہمیشہ کی سربلندی کا طالب ہو۔ جس میں اللہ تعالیٰ کی رضا مضمر ہے، قرب ہے۔ اس کے برعکس دنیاوی عزت وجاہ کی طلب کا نتیجہ اللہ کا غضب ، ناراضگی، درجات میں کمی، ذلت و رسوائی اور اللہ سے دوری ہے۔ یہاں کی عزتیں فانی، زندگی فانی، اس پہ اترانا اور تکبر کرنا انتہائی حماقت ہے۔ ہاں اللہ کی اطاعت میں سربلندی یا اس عمل میں بے حد شوق قابلِ تعریف ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَفِي ذَٰلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُونَ ﴿٢٦﴾...المطففين
"جو لوگ (اعمالِ حسنہ میں) دوسروں پر بازی لے جانا چاہیں، تو انہیں چاہئے وہ ایسا کرنے میں جدوجہد کریں۔"
حضرت حسن فرماتے ہیں:
"اگر تم کسی کو دنیوی معاملات میں اپنا مقابلہ کرتے دیکھو تو تم اس کا مقابلہ اخروی معملات کو مدِنظر رکھ کر کرو۔"
حضرت وہب بن الورد فرماتے ہیں: "اگر تمہارے لئے یہ ممکن ہو کہ تمہارے سوا کوئی اور اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے میں سبقت نہ لے جا سکے تو تم ایسا ضرور کرو۔"
حضرت محمد بن یوسف اصبہانی عابد فرماتے ہیں:
"اگر کوئی شخص کسی دوسرے شخص کے بارے میں یہ سنے کہ وہ اس سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا فرماں بردار اور اطاعت گزار ہے۔ یہ سن کر اس کا دل شق ہو جائے تو کوئی تعجب کی بات نہیں۔"
ایک شخص نے حضرت مالک بن دینار سے کہا:
"میں نے خواب میں ایک اعلان کرنے والے کو یہ اعلان کرتے ہوئے سنا:
"لوگو! سفر کی تیاری کر لو، سفر کی تیاری کر لو" تو میں نے حضرت محمد بن واسع کے سوا کسی کو بھی تیاری کرتے نہیں دیکھا۔ اتنا سننے کے بعد مالک بن دینار چونک کر جاگے اور ان پر غشی کا عالم طاری ہو گیا۔"
ثابت ہوا وہ زندگی، جسے ہمیشہ رہنا ہے اس میں حاصل شدہ درجات بھی ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ ان کے حصول کے لئے کسی سے مقابلہ کرنا، درجات میں بلندی کی خواہش کرنا، حرص کرنا، قدرت ہوتے ہوئے کم درجات پر قانع نہ ہونا سب شرع میں جائز ہے۔ آخرت میں رسا کر دینے والے اعمال سے بچنا کیوں ضروری ہے؟ یہ سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ آپ کے ذہن میں اُن کا تقابلی جائزہ ہو۔ آپ کو علم ہو کہ قیامت کے دن دنیا کی عزت اور عظمت طلب کرنے والوں "حقوق اللہ اور حقوق العباد" ادا نہ کرنے والوں کا حشر کیا ہو گا۔
انسان اس پر غور کرے کہ اس دنیا میں ظالموں، اللہ جل شانہ کے احکامات سے بغاوت کرنے والوں، اللہ تبارک و تعالیٰ کی کبریائی کا مقابلہ کرنے والوں کا انجام کیا ہو گا۔
کُتبِ احادیث میں امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت عمرو بن سعیب عن ابیہ عن جدہ کی روایت سے آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان روایت کیا ہے:
«يُحْشَرُ المُتَكَبِّرُونَ يَوْمَ القِيَامَةِ أَمْثَالَ الذَّرِّ فِي صُوَرِ الرِّجَالِ يَغْشَاهُمُ الذُّلُّ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ، فَيُسَاقُونَ إِلَى سِجْنٍ فِي جَهَنَّمَ يُسَمَّى بُولَسَ تَعْلُوهُمْ نَارُ الأَنْيَارِ يُسْقَوْنَ مِنْ عُصَارَةِ أَهْلِ النَّارِ طِينَةَ الخَبَالِ»
"قیامت کے دن تکبر کرنے والوں کو انسانی صورتوں میں چیونٹیوں کی مانند بنا کر جمع کیا جائے گا۔ ان پر ہر طرف سے ذلت مسلط کر دی جائے گی۔انہیں جہنم میں بولس نامی جیل کی طرف ہانکا جائے گا۔ شدید قسم کی آگ انہیں اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ "طنیۃ الخبال" یعنی اہل جہنم کے جسموں سے نکلنے والے خون اور پیپ کی آلائش انہیں پینے کو دی جائے گی۔
دوسرے محدثین کی سندوں میں اس حدیث میں یہ الفاظ بھی وارد ہیں:
" يطأهم الناس بأقدامهم"
"لوگ انہیں پاؤں تلے روندیں گے۔"
ایک دوسری سند سے ملنے والی دوسری حدیث میں ہے:
" يطأهم الجن والإنس والدواب بأرجلهم حتى يقضى الله بين عباده"
"یعنی ان متکبرین کو، جن انسان اور چوپائے اپنے پاؤں تلے روندتے رہیں گے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ بندوں کے درمیان فیصلے فرمائیں گے۔
ایک شخص نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے لوگوں کو وعظ و نصیحت کرنے کی اجازت طلب کی تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
"مجھے خطرہ ہے کہیں تم وعظ و نصیحت کرتے کرتے بزعم خود دوسروں کے مقابلہ خود کو عزت والا سمجھنے کے خبط میں مبتلا نہ ہو جاؤ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمہیں انہیں کے پاؤں تلے روندنے کا حکم صادر فرمادیں۔"
دنیا میں سربلندی کے لالچ سے بچنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ انسان ہر وقت اپنے دھیان میں ان لوگوں کے اعمال رکھے، جو اللہ تعالیٰ کے لئے اس دنیا میں تواضع اپنا شعار بنا لیتے ہیں۔ انہیں قیامت کے دن اللہ کن بلندیوں سے نوازے گا۔ اس بات کا یقین ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے تمام وعدے سچے ہیں۔
اس دنیا میں اقتدار کی طلب سے بچنے کا ایک خصوصی ذریعہ ایسا بھی ہے جس کا حصول انسان کے اپنے بس کی بات نہیں۔ بلکہ اس کا مکمل انحصار اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم پر ہے۔ اس بخشش و عنایت کا نام تقویٰ ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی معرفت رکھنے والے بندوں۔ دنیا میں جلد ملنے والی دولت اور عزت سے بچنے والوں میں سے کو چاہیں اس دولت سے نواز دیں۔ اس دولت سے بہرہ یاب شخصیتوں کے ظاہر و باطن سے عام مخلوق خدا خود بخود مرعوب ہونے لگتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی معرفت ایمان و یقین اور اس کی اطاعت کا ثمر زندگی کا خوش گوار ہونا ہے، جس کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے ہر اس مرد اور عورت سے کیا ہے، جو ہر حالت میں ایمان و یقین کا دامن تھامے رکھیں اور عمل صالح بجا لائیں۔
یہ خوشگوار زندگی، ایسی بہترین اور شاندار ہے کہ دنیا کے بڑے بڑے بادشاہ رئیس اور جاہ و اقتدار رکھنے والے بھی اس سے محروم ہیں۔
جیسا کہ حضرت ابراہیم بن ادھم رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:
"ہم لوگوں کو اطمینان اور خوشی کی جو عظیم نعمت حاصل ہے۔ دنیا کے بادشاہوں اور ان کی اولاد کو اگر اس کا پتہ چل جائے، تو اسے ہم سے چھیننے کے لئے تلواریں سونتے ہوئے ہم پر یلغار کر دیں۔"
بلاشبہ جسے اللہ تعالیٰ اطمینان اور حقیقی مسرت سے بہرہ یاب فرما دیں۔ وہ اس فانی دنیا کی شہنشاہی ہو یا کوئی دوسری صورت، سب سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔
ارشاد ربانی ہے:
﴿وَلِبَاسُ التَّقْوَىٰ ذَٰلِكَ خَيْرٌ ... ٢٦﴾...الأعراف
"اور بہترین لباس تقویٰ کا لباس ہے۔"
نیز فرمایا:
﴿مَن كَانَ يُرِيدُ الْعِزَّةَ فَلِلَّـهِ الْعِزَّةُ جَمِيعًا... ١٠﴾...فاطر
"جو عزت کا خواہاں ہو، اسے معلوم ہونا چائے کہ تمام عزت کا مستحق صرف اللہ جل شانہ ے۔"
اسی مضمون پر مشتمل ایک حدیث قدسی ملاحظہ فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
" أنا العزيز  فمن أراد العزة فليطع العزيز ومن أراد  عز الدنيا  و الأخرة فعليه بالتقوى"
"میں ہی عزتوں کا مالک ہوں۔ (تم میں سے جو شخص) عزت کا طلب گار ہے اسے عزت کے مالک کی اطاعت کرنا چاہئے اور جسے دنیا اور آخرت کی عزت مطلوب ہو، وہ تقویٰ اختیار کرے۔"
حجاج بن ارطاۃ کہا کرتے تھے:
"مجھے عزت و وقار کی ہوس نے ہلاک کر ڈالا۔"
ایک دن حضرت سواد نے فرمایا:
"اگر آپ تقویٰ اختیار کرتے، تو حقیقی غیر فانی عزت پا جاتے۔"
اسی مضمون پر مشتمل شعر ملاحظہ ہوں:
"الا إنما التقوى هى العز وابكرم        وحبك  للدنيا هو الذل والسقم"
"خبردار! تقویٰ اصل عزت و شرافت ہے اور تمہاری دنیا سے محبت، ذلت اور بیماری کے سوا کچھ بھی نہیں۔"
" وليس على عبد تقى نقيصة         إذا حقق التقوى و إن حاك أو جحم"
"تقویٰ اختیار کرنے والا بندہ دنیا والوں کی نگاہوں میں وہ حجام یا پچھنے لگانے والا ہماری نگاہوں میں بے عیب اور معزز ے۔"
حضرت صالح باجی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:
"حقیقی حکومت یا سرداری اللہ تبارک و تعالیٰ کی اطاعت ہی میں مضمر ہے، اللہ کی اطاعت کرنے والا ہی امیروں کا امیر کہلاتا ہے۔ تم نے دیکھا نہیں دنیا کے حکمرانوں کے دلوں میں متقیوں کی کتنی ہیبت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ جو کہہ دیتے ہیں۔ لوگ اسے قبول کرتے ہیں، جو حکم کرتے ہیں، لوگ اس پر عمل کرتےہیں۔"
نیز فرمایا:
"جو بھی اللہ تعالیٰ کی اطاعت بجا لائے، اللہ اس سے محبت کریں، تو بڑے سے بڑے جابر لوگوں کے دلوں پہ ان کی ہیبت طاری و جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے ان نیک بندوں کے دلوں میں اللہ جل شانہ کی ہیبت کا جاگزیں ہونا ے۔ جس کی بناء پر جابر لوگ ان سے ڈرتے ہیں۔ اللہ کی اطاعت اور اللہ ہی کی دوستی اور رفاقت ان کی ہر بھلائی اور بہتری کا اصل سبب ہوتی ہے۔"
ایک صالح بزرگ نے کہا ہے:
"مطیع سے بڑھ کر اطاعت سے کون زیادہ بہرہ مند ے۔"
یاد رکھو! ہر قسم کی خیر اور بھلائی اطاعت میں پوشید ہے۔ خبردار بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے والا ہی دنیا اور آخرت میں بادشاہ ہے۔
حضرت ذوالنون رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:
"جو شخص ہر چیز سے منہ موڑ کر صرف اللہ کا ہو گیا۔ اس سے بڑھ کر معزز و مکرم کون ہو سکتا ہے۔
بصرہ کے امیر محمد بن سلیمان، حماد بن سلمہ کے ہاں گئے اور ان سے روبرو سوالات کئے۔
"ابوسلمہ! آخر کیا بات ہے۔ میں جب بھی آپ کو دیکھتا ہوں، تو آپ کی ہیبت اور خوف سے لرز جاتا ہوں؟"
حماد نے جواب دیا: عالم جب اپنے علم کا مقصود صرف اللہ تعالیٰ کی رضا طے کر لیتا ہے، تو اس سے ہر چیز ڈرتی ہے اور اگر عالم اپنے علم کو دنیا کی دولت و عزت حاصل کرنے کا ذریعہ بنا لے، تو وہ خود ہر چیز سے ڈرتا ہے۔
اسی لئے بعض علماء کا قول ہے:
"تو جس قدر اللہ سے ڈرے گا، اسی قدر اللہ کی مخلوق تجھ سے ڈرے گی۔ اور تجھے اللہ کے ساتھ جس قدر محبت ہو گی، اسی قدر مخلوق بھی تجھ سے محبت کرے گی۔"
غرض جو بھی جس نوعیت کا اللہ تبارک و تعالیٰ کی اطاعت میں رویہ رکھے گا۔ اسی قسم کا رویہ اللہ کی مخلوق بھی اس سے رکھے گی۔
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ایک روز کہیں جا رہے تھے۔ ان کے پیچھے مہاجرین کی جماعت جا رہی تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اچانک پلٹ کر دیکھا تو سبھی کے سبھی آپ کی ہیبت سے گھٹنوں کے بَل جھک گئے۔ اس واقعہ سے متاثر ہو کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ رو پڑے اور فرمایا:
"یا اللہ! تو جانتا ہے۔ یہ لوگ جس قدر مجھ سے ڈرتے ہیں۔ میں ان سے بڑھ کر تجھ سے ڈرتا ہوں۔ پس میری مغفرت فرما۔"
العمری، خلیفہ راشد کو وعظ و نصیحت کرنے اور منکرات سے روکنے کے لئے کوفہ روانہ ہوئے، تو خلیفہ رشید پر ان کے آنے کی خبر سنتے ہی ایسا رُعب طاری ہوا کہ اگر ایک لاکھ جری فوج بھی مقابلہ میں آ جاتی تو اتنے مرعوب نہ ہوتے۔
حضرت حسن کی ہیبت کا یہ عالم تھا کہ ان سے کسی کو سوال کرنے کی جراءت نہ ہوتی تھی ان کے خاص احباب بھی جمع ہوتے، تو ایک دوسرے کو مسئلہ دریافت کرنے کے لئے کہتے۔ بسا اوقات تو ان کی ہیبت کی وجہ سے ایک سال تک بھی مسئلہ پوچھنا محال ہوتا۔ ایسے ہی مالک بن انس تھے، جن کے رُعب و جلال کا نقشہ کسی شاعر نے یوں کھینچا ہے۔
" يدع الجواب ولا يراجع هيبة       والسائلون نواكس الأذقان
نور الوقار وعز سلطان التقى     فهو المهيب وليس ذا سلطان"
آپ سوال کا جواب تو دیتے ہیں مگر ان کے رُعب کے سبب دوبارہ اُن سے پوچھنا ممکن نہیں ہوتا۔ سوال کرنے والے ٹھوڑیاں جھکائے رہ جاتے ہیں۔ آپ وقار کے نور اور شاہانِ تقویٰ کے لئے باعثِ عزت ہیں۔ آپ بادشاہ نہ ہونے کے باوجود بڑے ہی بارُعب ہیں۔"
حضرت یزید عقیلی کہا کرتے تھے:
"جو شخص اپنے علم کو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا ذریعہ بنائے اور یہی اس کی منزلِ مقصود ہو تو اللہ تعالیٰ بذاتِ خود اس پر توجہ فرماتے ہیں۔ لوگوں کے دل اس کی طرف موڑ دیتے ہیں اور جو کوئی غیراللہ کے لئے عمل کرے اللہ تعالیٰ اس سے اعراض فرما لیتے ہیں۔" اور لوگوں کے دلوں کو بھی اس طرف سے پھیر دیتے ہیں۔ حضرت محمد بن واسع فرماتے ہیں:
"انسان جب سچے دل سے اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے، تو اللہ تعالیٰ مومنوں کے دلوں کا رخ بھی اس کی طرف موڑ دیتے ہیں۔"
حضرت ابویزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:
"میں نے دنیا کو تین "مکمل طلاقیں" دے دی ہیں۔ اب مجھے اس کی طرف رجوع کرنے کا کوئی حق نہیں رہا۔ اب میں صرف اور صرف اپنے رب کا ہو کر رہ گیا ہوں۔ میں نے اسے مدد کے لئے پکارا اور کہا: "اے میرے رب! اے میرے اللہ! میں تجھے اس آدمی کی طرح پکارتا ہوں جس کا تیرے سوا کوئی نہیں۔ جب اس نے جان لیا کہ میری دعا میری پکار سچی ہے۔ دل کی گہرائیوں سے نکلی ہے اور میں اپنی خارجی دنیا سے تو تعلق توڑ ہی چکا ہوں اب اپنے آپ سے بھی ناامید ہو گیا ہوں، تو میری دعا کی مقبولیت کا پہلا مرحلہ، جو میرے مشاہدہ میں آیا۔ وہ یہ تھا کہ میں مکمل طور پر اپنے آپ سے غیر متعلق ہو گیا۔ میرا شعور، خودی فنا ہو گیا۔ تو میرے کترانے کے باوجود لوگوں کو میرے سامنے لا کھڑا کیا۔ لوگ دور دراز سے میرے پاس آنے لگے۔ اپنے آپ کو لوگوں، کے اژدہام میں دیکھا، تو چلا اٹھے۔
"لیتنی صرت شیئا  من غیر شیء أعدا"
کاش! میں کچھ نہ ہونے سے ہی کچھ بن جاؤ۔ (یعنی قابل ذکر بن سکوں)
"أصبحت للكل مولى لأننى لك عبدا"
سب کی سرداری مجھے تری بندگی سے ہی عطا ہوئی ہے۔
" وفى الفؤاد أمور ما تستطاع تعدا"
میرے دل میں گو خیالات کا بے حد و شمار طوفان ہے۔
" لكن كتمان حالى أحق ما بى و أسدى"
لیکن میرا اپنے حال کو چھپانا، میری ضروریات اور ھاجات کو پورا کرانے کا حق زیادہ رکھتا ہے۔
حضرت وہب بن منبہ نے حضرت مکحول کو لکھا:
اما بعد!
آپ نے اپنے ظاہری علم کے ذریعہ لوگوں میں عزت و منزلت حاصل کر لی ہے۔ اب آپ باطنی علم کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کا قُرب حاصل کریں اور یاد رکھیں دونوں مراتب ایک دوسرے کے مخالف ہیں۔
بات یوں واضح ہوتی ہے کہ احکام، فتاویٰ، قصص اور وعظ علم کے اظہار کا ذریعہ بنتے ہیں۔ نتیجہ کے طور پر واعظ، مفتی اور علامہ لوگوں میں عزت و مرتبہ پا جاتا ہے، لیکن اس کے بالمقابل ہر وقت دل میں اللہ تعالیٰ کی خشیت، محبت، اس کی معرفت کے حصول کا شوق رکھنا۔ ہر لمحہ، یقین، توکل اور اس کے ہر فیصلہ پر سرتسلیمِ خم، اس دنیا کی چاہت سے گریز اور آخرت کے دائمی اور باقی رہنے والے گوہر مقصود پہ نظر رکھنا باطنی علوم کا سرمایہ ہے۔ جس کی وساطت سے انسان کو اللہ تعالیٰ کے ہاں بلند مراتب بھی حاصل ہوتے ہیں اور قربت باری تعالیٰ بھی۔ ثابت ہوا کہ دونوں علوم۔ ایک دوسرے کی مخالف سمت رکھتے ہیں۔
جو شخص ظاہری علوم سے لوگوں کی نظروں میں عزت و وقار حاصل کر لیتا ہے، تو اس کے مسلسل اضافہ اور اس کے ساتھ اس حاصل شدہ مرتبہ کے تحفظ کا خوف اس کے دل میں پیدا ہی نہیں، بلکہ روز بروز بڑھتا ہی جاتا ہے اور ایسا عالم نتیجہ کے طور پر اتنا ہی اللہ سے دور ہو جاتا ہے۔ کسی کہنے والے نے اس خیال کا اظہار ان الفاظ میں کیا ہے:
"اس کے لئے ہلاکت ہے، ہلاکت ہے جو اللہ کی بجائے دنیا پر ہی اکتفاء اور قناعت کرے گا۔"
سری السقطی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت جنید رحمۃ اللہ علیہ کے علم، حسنِ گفتگو اور فی البدیہہ جواب کی شہرت سے متاثر تھے۔ ایک دن ملاقات پہ کوئی سوال کیا۔ حضرت جنید رحمۃ اللہ علیہ نے فورا جواب دیا اور اچھا جواب دیا:
"تو فرمانے لگے، جنید! مجھے خدشہ ہے کہ دنیا میں آپ کا حصہ صرف حسن، کلام (زبان) ہی نہ ہو۔" اس کے بعد حضرت اس بات کو یاد کر کے ہمیشہ روتے رہتے تھے۔
یہ حقیقت ہے کہ جو شخص مذکورہ اوصاف اعمال، جو باطنی علوم کا سرچشمہ ہیں۔ ان کے تسلسل اور خلوص سے اللہ تعالیٰ کی قربت حاصل کرتا رہے۔ وہ بلند مرتبوں سے فیضیاب ہوتا ہے۔ اللہ کی ذات کی اطاعت و رضا کے سوا ہر ایک سے لاپرواہ ہو جاتا ہے اس کے ساتھ ہی ساتھ خود اللہ تعالیٰ اس دنیا میں بھی اپنی مخلوق کے دلوں میں اس کا وقار پیدا فرما دیتے ہیں۔ حالانکہ وہ خود ان کا طالب نہیں ہوتا، بلکہ ان سے قصد دور بھاگتا ہے اسے ہر لمحہ یہ ڈر رہتا ہے کہ کہیں مخلوق اللہ جل جلالہ سے اس کے تعلق کو توڑنے میں کامیاب نہ ہو جائے۔
ارشاد خداوندی ہے:
﴿إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمَـٰنُ وُدًّا ﴿٩٦﴾...مریم
"یقینا جو لوگ ایمان لے آئے اور صالح اعمال کر رہے ہیں، عنقریب (ان کا رب) رحمان ان کے لئے محبت پیدا فرما دے گا (یعنی اپنے بندوں کے دلوں میں)
ایک حدیث میں یوں ہے:
" إِنَّ اللهَ إِذَا أَحَبَّ عَبْدًا دَعَا جِبْرِيلَ فَقَالَ: إِنِّي أُحِبُّ فُلَانًا فَأَحِبَّهُ، قَالَ: فَيُحِبُّهُ جِبْرِيلُ، ثُمَّ يُنَادِي فِي السَّمَاءِ فَيَقُولُ: إِنَّ اللهَ يُحِبُّ فُلَانًا فَأَحِبُّوهُ، فَيُحِبُّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ، قَالَ ثُمَّ يُوضَعُ لَهُ الْقَبُولُ فِي الْأَرْضِ،"
"بلاشبہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتے ہیں، تو جبریل علیہ السلام کو پکار کر فرماتے ہیں مجھے فلاں بندے سے محبت ہے تو جبریل علیہ السلام بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہین۔ پھر آسمان والی مخلوق بھی اس بندے سے محبت کرنا شروع کر دیتی ہے۔
اس کے بعد اس دنیا میں سب اہل زمین کی نظروں میں اسے مقبولیت حاصل ہو جاتی ہے۔ یہ حدیث مشہور ہے اور "الصحیح" میں درج ہے۔
بہرحال جسے آخرت کی عزت و سربلندی ملی۔ دنیا میں بھی عزت و سرداری اس کا مقدر بن جاتی ہے۔ چاہے انسان خود اس دنیا کی عزت چاہے یا نہ چاہے، لیکن یہ بات ملحوظِ خاطر رہے کہ دنیا کی عزت و سرداری آخرت کے شرف و اکرام کا سبب ہرگز نہیں بن سکتی۔ یقینا وہ شخص خوش نصیب ہے جو فانی چیزوں کے مقابل ہمیشہ باقی رہنے والی اشیاء کو ترجیح دیتا ہے۔ جیسا کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
"من أحب دنياه أضر بآخرته ومن أحب أخرته أضر بدنياه  فأثروا ما يبقى على ما يفنى "
"جو شخص دنیا سے محبت کرے، وہ آخرت کا نقصان کرتا ہے، جو شخص آخرت سے محبت کرے اسے دنیا کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ پس فانی چیزوں پر دائمی چیزوں کو ترجیح دو۔" اس حدیث کو امام احمد نے بیان کیا ہے۔
ابوالفتح نے کیا خوب کہا:
أمر إن مفترقان لست تراهما  يتشوقان لخلطة  وتلاق
طلب المعاد مع الرياسة  و العلى  فدع الذى يفنى لما هو باق
آخرت کی کامیابی اور دنیوی سرداری و سربلندی دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ تم ان دونوں کو یکجا پا سکو گے۔ پس فانی چیزوں کی بجائے باقی رہنے والی چیزوں کو اختیار کرو۔