ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

آن لائن مطالعہ
  • دسمبر
1988
عبد الرحمن مدنی
پاکستان میں 16 اور 19 نومبر 1988ء کو بالترتیب قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات مکمل ہوئے۔ ان کے آزادانہ اور منصفانہ ہونے پر جہاں ملک اور بیرون ملک سے تحسین و آفرین کے پیغامات مل رہے ہیں، وہاں ملک میں جمہوریت کا سہرا لگنے پر مبارک بادیں بانٹی جا رہی ہیں۔ عموما تبصروں میں فتح و شکست کی سیاسی وجوہ پیش کی جا رہی ہیں۔ ہماری نظر میں کامیابی اور ناکامی کے کچھ دوسرے اہم پہلو بھی ہیں اور اسباب و وجوہ کے اسلامی پیمانے بھی جو قرآن کریم اور سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں سامنے آتے ہیں۔ قرآن مجید کوئی اساطیر الاولین (گئی گزری کہانیاں) نہیں، بلکہ دنیا بھر میں پیش آنے والے واقعات پر پیشگی تبصرہ اور مکمل ہدایت ہے۔ علاوہ ازیں شریعت کی نظر میں کامیابی کے اپنے اصول ہیں، جو اللہ کے نزدیک حقیقی فتح و شکست ہے۔ لہذا ہم سطورِ ذیل میں جمہوریت کے بالمقابل وحی الہیٰ کی روشنی میں معاملات کا جائزہ لینا چاہتے ہیں۔ اسی سلسلے میں مدیرِ اعلیٰ "محدث" نے کلیۃ الشریعہ لاہور کی جامع مسجد میں قومی اسمبلی کے انتخابات کے بعد اور صوبائی اسمبلی کے انتخابات سے قبل 18 نومبر کو خطبہ جمعہ دیا جس میں جنگِ حنین کے حوالے سے گفتگو کی اور پھر 25 نومبر کے خطبہ میں سورہ دم کی ابتدائی آیات کی روشنی میں جمہوریت اور انتخابات پر تبصرہ کیا۔ انہی دو خطبوں سے یہ تحریر تیار کر کے فکرونظر کے کالموں میں پیش کی جا رہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حقیقی خوشیاں نصیب کرے۔ آمین۔۔۔۔۔ادارہ
  • دسمبر
1988
سعید مجتبیٰ سعیدی
تحریر: حافظ ابن رجب              

آداب دین و دنیا                        قسط 3 (آخری)
دوسری قسم اس شخص کی ہے، جو اپنے علم و عمل اور زہد و تقویٰ کی نمائش کے ذریعہ دوسروں پر اپنے آپ کو بالاتر ہونے کی چھاپ بٹھانے کی کوشش کرے۔ لوگوں کو اپنا مطیع، فرمانبردار، سرنگوں اور ہر وقت اپنی طرف مودبانہ متوجہ دیکھنا چاہے۔ دوسروں پر اپنے علمی تفوق کی دھاک بٹھانے کے لئے ہر ایک سے اپنی ہمہ دانی کا چرچا کرتا پھرے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ وہ اعمال تھے، جو اسے صرف اللہ کی رضا کے لئے کرنا چاہئے تھے، مگر اس نے انہیں دنیا کی جاہ و دولت کے لئے استعمال کیا، ایسے مجرموں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
" مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ لِيُجَارِيَّ بِهِ الْعُلَمَاءَ ، أَوْ لِيُمَارِيَ بِهِ السُّفَهَاءَ ، أَوْ يَصْرِفَ بِهِ وُجُوهَ النَّاسِ إِلَيْهِ ، أَدْخَلَهُ اللَّهُ النَّارَ "
"جو بھی شخص جاہلوں سے مقابلہ کرنے کے علماء سے جھگڑنے یا لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی نیت سے علم حاصل کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے جہنم میں داخل کریں گے۔"
اس حدیث کو امام احمد رحمۃ اللہ علیہ اور امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے حجرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے بیان کیا۔ امام ابن ماجہ رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہما کے حوالے سے "(فهو فى النار)" کے الفاظ بیان کئے ہیں، یعنی ایسا شخص جہنم میں ہو گا۔
  • دسمبر
1988
غازی عزیر
﴿قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ ... ٣٠﴾...النور
"اور آپ مومنوں سے کہہ دیجئے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں۔"
قرآن کریم کی یہ آیت اصحاب سماع کے تسامح اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی صریح مخالفت پر دلیل ہے۔ اس آیت کے آگے ارشاد ہوتا ہے:
﴿وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ... ٣٠﴾...النور"اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔"
لیکن جو شخص پہلے حکمِ ربانی کی مخالفت کا ارتکاب کرے۔ اس کے لئے دوسرے حکم کی خلاف ورزی بالفعل عین ممکن ے۔ پس یہ امور انسانوں کے لئے باعث تزکیہ نفس کیونکر ہو سکتے ہیں؟ جو ان برائیوں میں مبتلا ہو چکا  ہو، اس کے لئے راہِ نجات صرف یہ ہے کہ:
﴿وَتُوبُوا إِلَى اللَّـهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ﴿٣١﴾...النور
"اور اے مومنو! (اگر تم سے احکام میں کوتاہی ہو گئی ہو تو) تم سب اللہ کے سامنے توبہ کرو، تاکہ تم فلاح پا سکو۔"
اس نظر میں جو خطرات اور مفردات پوشیدہ ہیں ان کے پیش نظر بعض تابعین نے فرمایا ہے:
"میں کسی نو عمر زاہد کے متعلق جس کے پاس امرد لڑکا بیٹھتا ہو سات گنا زیادہ ڈرتا ہوں۔"
  • دسمبر
1988
پروفیسر محمد دین قاسمی
پاکستان کی مذہبی فضا  میں غلام احمد پرویز ایک ایسی شخصیت واقع ہوئے ہیں جس نے اسلامیت اور مغربیت کی کشمکش میں مغربی افکار و کردار کو اصل قرار دے کر قرآن کے نام پر اجتہاد کی قینچی سے اسلام کی کتربیونت میں وہ کچھ کیا ہے جو پاکستان میں کوئی اور شخص نہیں کر سکا۔ یہاں تک کہ اشتراکیت کو من و عن قبول کر کے، اسے عین اسلام ثابت کرنے کے لئے قرآن کریم کو جس طرح عمر بھر تکتہ مشق بنائے رکھا اس کی مثال کہیں نہیں ملتی۔ پرویز صاحب نے مارکسزم کو قرآن کریم کے جعلی پرمٹ درآمد کرنے کے لئے جو پاپڑ بیلے ہیں اور جو اشتراکیت کو بہا لانے کے لئے قرآنی تعلیمات میں مسخ و تحریف کی راہ میں جو کوہ کنی کی ہے، پروفیسر محمد دین قاسمی صاحب نے اس کا خوب جائزہ لیا ہے، انہوں نے اس طویل جائزے میں اس امر کو بے نقان کر دیا ہے کہ پرویز صاحب نے کس طرح تصریفِ آیات کے نام پر صرفِ آیات سے کام لیا ہے اور محاورات عرب کی پابندی کے التزام کا دعویٰ کر کے کس طرح اس سے گریز کیا ہے اور قرآنی الفاظ کے قطعی ہونے کی دہائی دے کر کس طرح ان الفاظ میں اپنے خود ساکتہ معانی داخل کئے ہیں۔ پروفیسر صاحب نے یہ جائزہ منکرینِ حدیث کی مخصوص ذہنی ساخت کے پیشِ نظر صرف قرآن کریم کی روشنی میں لیا ہے۔ اس ماہ سے ہم ماہنامہ "محدث" میں اس جائزے لے کر بالاقساط پیش کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ادارہ
0
ملک ظفر اقبال
ہر انسان کی زندگی کم و بیش پانچ حصوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ پیدائش، بچپن، جوانی، بڑھاپا اور موت کے بعد کی زندگی۔ آئین الہیہ نے اس کے مفید یا غیر مفید ہونے کا انحصار انسان کے اعمال پر رکھا ہے۔ لہذا میں اپنی تحریر کی مرکزی شخصیت کی زندگی کے جسمانی مراحل کی تفصٰل میں جانے سے پہلے اعمالِ حسنہ کے حوالے سے ان کے بارے میں اُن کی ہم عصر جلیل القدر شخصیتوں کی آراء سے اُن کے تعارف کا آغاز کرتا ہوں۔
حافظ ذہنی فرماتے ہیں:
"جید عالم، قیادت کی صلاحیتوں کا مالک، مصنف اور محی السنۃ تھے۔"
علامہ سبکی نے ان کے اوصاف حمیدہ کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا ہے:
"علامہ بغوی رحمۃ اللہ علیہ محی السنۃ کے لقب سے پکارے جاتے تھے۔ دین کے معیار کی جھلک ان کے اقوال و افعال میں پائی جاتی تھی۔ علمِ تفسیر، حدیث اور فقہ میں انہیں غیر معمولی ملکہ حاصل تھا۔
متدین آباؤ اجداد کی دعاؤں کا ثمر تھے۔ اپنے والدین کی تمناؤں کے مطابق انہوں نے تمام زندگی تقویٰ اور کثرتِ نوافل کو اپنا شعار بنائے رکھا۔ وہ جامع القرآن والسنۃ تھے۔ فقہ پر بھی انہیں عبور تھا۔"
ابن العماد حنبلی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"امام بغوی رحمۃ اللہ علیہ خراسان کے بڑے نامور محدث، مفسر اور مصنفین میں سے تھے۔"
ابن خلکان ان کے بارے میں لکھتے ہیں:
"تفسیر میں اُنہیں خصوصی ملکہ حاصل تھا۔ احادیث کے مشکل مقامات اور ابہامات کی وضاحت میں اُنہیں کمال حاصل تھا۔ درسِ قرآن و حدیث کے اوقات میں باوضو رہنے کی پابندی کے علاوہ ہر وقت باوضو رہنا ان کی فطرتِ ثانیہ تھی۔ سادگی، خلوص، قناعت اور استقلال ان کا شعار تھا۔"