2۔ "«عن سعد بن جنادة قال قال رسول اللهﷺ عزوجل قد زوجنى فى الجنة مريم بنت عمران وامراة فرعون واخت موسىٰ»(رواه الطبرانى كذا فى مجمع الزوائد ص218ج9)"

"حضرت سعد بن جنادہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جنت میں مریم بنت عمران اور فرعون کی عورت اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بہن کو میری زوجہ بنایا ہے۔"

علامہ ہیثمی مجمع الزوائد میں اس روایت کو نقل کر کے فرماتے ہیں کہ "اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن کو میں نہیں جانتا" (ص 218 ج9) اور علامہ سیوطی نے الجامع الصغیر ص 59 میں اس کو نقل کر کے اس کے ضعیف ہونے کا نشان بنایا ہے۔ مگر چونکہ علامہ سیوطی نے جامع صغیر میں یہ التزام کیا ہے کہ اس میں کسی کذاب و وضاع کی روایت نہیں نقل کریں گے۔ جیسا کہ خود جامع صغیر کے مقدمہ میں فرمایا کہ:

«وصنته عما تفرد به وضاع او كذاب»(ص1)

یعنی "میں نے اس کتاب کو ان روایتوں سے محفوظ رکھا ہے جن کو صرف وضاع اور کذاب نے روایت کیا ہے۔"

اس لیے یہ روایت کذب و وضع راوی کی وجہ سے نہیں، بلکہ جہالت یا سوء حافظہ وغیرہ کی وجہ سے ضعیف ہو گی، اور ایسی ضعیف تائید و تقویت کے لیے کھپ سکتی ہے، جیسا کہ علماء اصول نے بیان کیا ہے۔ پس یہ روایت پہلی روایت کے ثابت ہونے پر شاہد ہے۔ اور دونوں روایتوں کے ملنے سے ایک دوسرے کو تقویت پہنچی اور معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت مریم بلکہ حضرت آسیہ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بہن سے نکاح ہونا بے اصل اور غلط نہیں بلکہ ایک ثابت شدہ امر ہے۔

«وَعَنْ أَبِي رَوَّادٍ قَالَ: «دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى خَدِيجَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - فِي مَرَضِهَا الَّذِي تُوُفِّيَتْ فِيهِ، فَقَالَ لَهَا..... أَمَا عَلِمْتِ أَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - زَوَّجَنِي مَعَكِ فِي الْجَنَّةِ مَرْيَمَ بِنْتَ عِمْرَانَ، وَامْرَأَةَ فِرْعَوْنَ، وَكَلْثَمَ أُخْتَ مُوسَى »

"ابورواد سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس، ان کے مرض الموت میں تشریف لائے اور فرمایا "کیا تو نہیں جانتی کہ اللہ تعالیٰ نے جنت میں تیرے ساتھ مریم بنت عمران، فرعون کی عورت اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بہن کلثم کو میری زوجہ بنا دیا ہے۔"

علامہ ہیثمی نے اس روایت کو منقطع الاسناد اور محمد بن حسن بن زبار کی وجہ سے ضعیف قرار دیا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ تائید و اعتبار کے لیے قبول کی جا سکتی ہے۔ ان محمد بن حسن بن زبار سے ابوداؤد نے، جو کہ اصحابِ صحاح میں سے ہیں، روایت کی ہے (کشف الاحوال فی نقد الرجال ص 97) پس یہ روایت بھی پہلی دو روایتوں کے ثبوت پر شاہد ہے۔ ہمارے معترض نے بھی انہی محمد بن حسن کی ایک روایت کو اعتبار کے لیے پیش کیا ہے (دیکھیے رسالہ محدث ص 19 ماہِ محرم 1498ھ)

«عن امامة رضى الله عنه قال قال رسول اللهﷺ يا عائشة اما تعلمين ان الله تعالى زوجنى فى الجنة مريم بنت عمران وكلثم اخت موسىٰ وامرأة فرعون»(ابوالشيخ)

"حضرت ابوامامۃ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ رضی اللہ عنہا، کیا تو نہیں جانتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنت میں مریم بنت عمران، موسیٰ علیہ السلام کی بہن کلثم اور فرعون کی عورت کو میری بیوی بنا دیا ہے۔"

اس روایت کو معترض نے تاریخ ابوالشیخ ص 288 کے حوالے سے نقل کر کے، اس کے راوی عبدالنور بن عبداللہ اور یونس بن شعیب کی وجہ سے اس کا ضعیف ہونا، امام عقیلی، امام بخاری، ابن عدی سے نقل کیا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ ذہبی نے میزان الاعتدال میں اس کو ابن عدی سے بطریق ابراہیم بن محمد بن عرعرۃ ثنا عبدالنور بن عبداللہ عن یونس بن شعیب عن ابی امامۃ نقل کیا ہے (ص 629 ج2) گویا ذہبی اس کو یونس بن شعیب کی منکر روایت قرار دیتے ہیں۔

یہ روایت اگرچہ ضعیف و منکر ہے، لیکن مندرجہ بالا روایت کے ہوتے ہوئے اولا تو اس کا منکر ہونا ہمارے لیے یا اصل مسئلہ کے لیے مضر نہیں، ثانیا وہ روایات اس کے متن کے صحیح ہونے کی دلیل ہیں، اگرچہ سند صحیح نہ ہو، جیسا کہ اہل علم جانتے ہیں۔

الغرض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حضرت مریم علیہا السلام اور فرعون کی عورت آسیہ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بہن کلثوم سے نکاح کی بات ایسی روایات سے ثابت ہے جو قابلِ احتجاج و لائقِ اعتبار ہیں، کیونکہ ایک روایت تو اس سلسلہ کی، جیسا کہ اوپر معلوم ہو چکا ہے، حسن ہے۔ اور پھر اس کے ساتھ دوسری ضعیف روایات اس کے ثبوت میں تقویت دیتی ہیں اور اگر ہم معترض کے بیان کے مطابق یہ بھی تسلیم کر لیں کہ ان میں کوئی روایت حسن نہیں، سب کی سب ضعیف ہیں، تب بھی معلوم ہونا چاہئے کہ جب ایک باب میں متعدد و ضعیف روایات وارد ہوں تو سب مل کر درجہ حسن کو پہنچ جاتی ہیں۔ جبکہ ان ضعیف روایات کے راوی کذاب و وضاع نہ ہوں، اور ان روایات میں سے پہلی اور دوسری روایت میں بلاشبہ کوئی راوی ایسا نہیں۔ اور تیسری روایت میں اگرچہ محمد بن حسن بن زبار کی اور چوتھی روایت میں عبدالنور بن عبداللہ کی تکذیب کی گئی ہے، لیکن جیسا کہ آگے چل کر معلوم ہو گا، یہ بھی کچھ نہ کچھ تقویت کا باعث بن سکتے ہیں۔

امام العارفین والمحدثین عبدالوہاب شعرانی اپنی کتاب المیزان ص 63 میں فرماتے ہیں:

«وقد احتج جمهور المحدثين بالحديث الضعيف اذا كثرت طرقه والحقوه بالصحيح تارة وبالحسن اخرىٰ»

یعنی "جمہور محدثین نے حدیث ضعیف سے حجت پکڑی ہے، جبکہ اس کے کئی طرق ہوں اور وہ ایسی حدیث کو کبھی صحیح کے ساتھ ملاتے ہیں اور کبھی حسن کے ساتھ"

اور علامہ سیوطی تدریب الراوی میں فرماتے ہیں:

«ولا بدع فى الاحتجاج بحديث له طريقان، لو الفرد كل منهما لم يكن حجة»

یعنی "ایسی حدیث سے حجت پکڑنے میں کوئی بدعت کی بات نہیں ہے، جس کے دو طریق ایسے ہوں کہ ان میں سے تنہا کوئی بھی حجت نہ ہو۔"

اس عبارت میں غور کر کے دیکھیے، کیا کہا جا رہا ہے کہ ایسی حدیث جس کے صرف دو طرق ہوں، اور وہ بھی ایسے کہ ان میں سے تنہا کوئی بھی قابلِ احتجاج نہ ہو، تو ایسی حدیث سے بھی احتجاج کرنا درست ہے۔ علامہ شوکانی اپنی کتاب "السیل الجرار" میں ابن القیم پر رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"اسی طرح وہ احادیث کہ ان میں سے ہر ایک ضعیف ہے اور اس کے طرق کی کثرت اس کے لیے قوت کی موجب ہے، پس یہ حسن لغیرہ کی قسم سے ہوں گی۔" (السیل الجرار ص 90)

اس سلسلہ میں ایک اور بزرگ کی تصریح نقل کر کے، اس بحث کو ختم کرتا ہوں، حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ مقدمہ مشکوٰۃ میں فرماتے ہیں:

«وما اشتهر ان الحديث الضعيف معتبر فى فضائل الاعمال لا فى غيرها المراد مفرداتها لا مجموعها لانه داخل فى الحسن لا فى الضعيف»(مقدمة مشكوة ص)

"اور یہ جو مشہور ہے کہ ضعیف حدیث صرف فضائلِ اعمال میں معتبر ہے، اس کے علاوہ (احکام وغیرہ) میں معتبر نہیں۔۔۔اس سے مراد اس کے مفردات ہیں نہ کہ ان سب کا مجموعہ، کیوں کہ یہ (مجموعہ) حسن میں داخل ہے نہ کہ ضعیف میں۔"

بہرحال اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ یہ روایات ضعیف ہیں تو بھی سب کا، یا کم از کم پہلی دو روایات کا مجموعہ حسن ہو گا، جس سے احتجاج درست ہے۔

اور اگر اس کو بھی تسلیم نہ کیا جائے تو میں کہتا ہوں، ان سب روایات کا مجموعہ کم سے کم اس بات کی دلیل ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مذکورہ عورتوں سے جنت میں نکاح کی بات بے اصل نہیں۔ کیوں کہ علماء اصول حدیث نے بیان کیا ہے کہ اگر ضعیف روایات متعدد ہوں اور ان کے راوی محض جہول یا سئی الحفظ نہیں بلکہ کذاب و وضاع ہوں، تو ان سب کا مجموعہ اگرچہ حسن نہ ہو گا، مگر ان سے اتنا معلوم ہو جائے گا کہ اس حدیث کی کچھ اصل ہے۔

علامہ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ تدویب الراوی میں لکھتے ہیں:

"واما الضعيف لفسق الراوى او كذبه فلا يؤثرفيه موافقة غيره له اذا كان الآخرمثله لقوة الضعف وتقاعد هذا الجابر، نعم يرتقى بمجموع طرقه عن كونه منكرا اولا اصل له صرح به شيخ الاسلام"

"اور جو روایت راوی کے فسق یا کذب کی وجہ سے ضعیف ہو، اس میں دوسرے کا اس کی موافقت کرنا موثر نہیں۔ جب کہ دوسرا بھی (پہلے) ہی جیسا (فاسق یا کاذب) ہو۔ ہاں البتہ ان متعدد طرق کے مجموعہ سے وہ بے اصل اور منکر ہونے سے نکل جائے گا۔ شیخ الاسلام (یعنی حافظ ابن حجر) نے اس کی تصریح کی ہے۔"

یہی بات علامہ شوکانی نے گردن کے مسح کی روایات کے بارے میں فرمائی ہے، چنانچہ کہتے ہیں کہ:

"لم يثبت في ذلك شيء يوصف بالصحة أو الحسن وقد ذكر ابن حجر في التلخيص أحاديث وهي وإن لم تبلغ درجة الاحتجاج بها فقد أفادت أن لذلك أصلا "(السيل الجرار ص90)

"اس (گردن کے مسح) کے بارے میں کوئی شی ثابت نہیں، جس کو صحیح یا حسن کہہ سکیں۔ اور ابن جریر نے تلخیص جیر میں کئی حدیثیں ذکر کی ہیں۔ اور وہ اگرچہ حجت ہونے کے درجہ کو نہیں پہنچتیں، مگر اتنا معلوم ہوا کہ اس کی اصل ہے۔"

نوٹ: گردن کا مسح کرنا وضو میں کیا درجہ رکھتا ہے، اس پر احقر نے اپنے رسالہ "عرف الزهرة فى اثبات مسح الرقبة" میں سیر حاصل بحث کر دی ہے۔ یہ رسالہ شائع تو نہیں ہوا، ہاں اس کی تلخیص، رسالہ "علم و ادب" بنگلور میں قسط وار آ چکی ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ اول تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ان عورتوں سے نکاح ہونا، بعض حسن و ضعیف روایات سے ثابت ہے۔ علی التنزل سب کو اگر ضعیف مان لیں تو ان کے مجموعہ سے، جو کہ حسن ہے، یہ ثابت ہے۔ اور اس سے بھی اگر نیچے آئیں تو ان روایات سے اتنا ضرور ثابت ہے کہ اس کی کچھ اصل ہے۔

اب سوچ لیا جائے کہ معترض صاحب کا اس سے بالکل انکار کرنا اور یہ کہنا کہ:

"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت مریم علیہا السلام سے نکاح ہونے والا قصہ قطعی بے بنیاد، من گھڑت اور حد درجہ ناقابلِ اعتماد ہے۔" (ماہنامہ محدث محرم الحرام ص 17)

کہاں تک اپنے اندر واقعیت رکھتا ہے؟ کیا جس طرح غیر ثابت شدہ امر کو ثابت ماننا مذموم ہے، اسی طرح ثابت شدہ امر کا انکار مذموم نہیں؟ معلوم ہوا کہ معترض نے محض اٹکل سے اولا ایک بات ذہن میں بٹھالی اور پھر اسی پر سارا مضمون لکھ مارا ہے۔

اس سے زیادہ حیرت و تعجب کی بات یہ ہے کہ معترض نے یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ:

"جن باتوں سے کسی حدیث کے موضوع ہونے کا پتہ چلتا ہے، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ صحیح شہادتوں سے اس کا بطلان واضح ہو جائے۔" (محدث ص 18)

جن روایتوں کو پیش کیا ہے، ان میں سے ایک سے بھی اوپر کی روایتوں کا بطلان ظاہر نہیں ہوتا۔ بلکہ اس کے برخلاف ان روایتوں کی تائید ہوتی ہے۔ مثلا معترض نے طبرانی ہی کی یہ روایت پیش کی ہے کہ:

"حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، مریم بنت عمران کے بعد جنتی عورتوں کی سردار حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا و خدیجہ رضی اللہ عنہا، پھر فرعون کی عورت آسیہ بنت مزاحم ہیں۔"

مگر یہ روایت معترض کے دعویٰ کی تائید کرنے کے بجائے ہماری مؤید ہے، کیونکہ اس روایت کا حاصل یہ ہے کہ جنتی عورتوں میں سب سے افضل تو حضرت مریم ہیں۔ پھر حضرت فاطمہ و خدیجہ، پھر حضرت آسیہ۔ اس سے یہ کہاں ثابت ہوا کہ حضرت مریم اور حضرت آسیہ یا حضرت کلثوم کا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں ہو گا؟ اس کو ہر معمولی پڑھا لکھا بھی سمجھ سکتا ہے۔ بلکہ غور کیجئے تو یہ روایت پہلی روایتوں کے صحیح ہونے کا ایک معنوی قرینہ ہے، کہ ان عورتوں کی اسی فضیلت کے پیشِ نظر ان کو افضل الخلائق صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت میں دیا جا رہا ہے۔ پھر جنت میں ان کو کسی نہ کسی کی زوجیت میں جانا ہی ہے تو ان کی فضیلت کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا نکاح ہونا کون سی مستعبد بات ہے؟ اور اس روایت سے اس کا بطلان کہاں سے ثابت ہو رہا ہے؟ معترض نے اس روایت کے بعد اس معنی کی دو اور روایتیں پیش کی ہیں، جن کا مفاد بھی وہی ہے جو اس روایت کا ہے۔ لہذا یہ سب روایات پہلی روایتوں کے صحیح و ثابت ہونے کا معنوی قرینہ ہیں۔ ہاں البتہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بہن کا ان میں تذکرہ نہیں ہے، مگر اس سے صرف اتنا ثابت ہوا کہ وہ جنت کی عورتوں کی سردار نہیں، لیکن ان کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح ہونا پہلی روایات سے ثابت ہو چکا ہے۔

یہاں تک اصل مسئلہ سے متعلق بحث تھی۔ معترض نے اصل مسئلہ کے بعد راقم الحروف کی بعض غلطیوں کی اصلاح کا بیرا بھی اٹھایا ہے۔ لہذا یہاں نہایت اختصار سے اس پر بھی کچھ عرض کرنا ہے۔ معترض نے لکھا ہے کہ:

"مسئولہ عبارت میں حضرت مریم "علیہ السلام" لکھا گیا ہے، حالانکہ۔۔۔"علیہا السلام" ہونا چاہئے تھا۔ اسی طرح حضرت خدیجۃ الکبریٰ "رضی اللہ عنہا" میں "رضی اللہ عنہ" ۔۔۔ کے بجائے ۔۔ "رضی اللہ عنہا" لکھنا چاہئے تھا۔" (محدث ص 20)

راقم عرض کرتا ہے کہ سبقتِ قلم سے اس طرح ہو جانا بعید نہیں، اور خاص طور پر اخبارات ورسائل میں اس کا دن رات مشاہدہ ہوتا ہی رہتا ہے۔ چنانچہ دور جانے کی ضرورت نہیں، خود ہمارے محترم معترض نے اس سے بھی سخت عربی قواعد کی غلطی کا ارتکاب کیا ہے۔ آپ نے تاریخ ابوالشیخ سے ایک روایت نقل کر کے اس پر علماء کا کلام نقل کیا ہے، پھر اس پر کتابوں کا حوالہ دیتے ہوئے حافظ ابن حجر کی ایک کتاب کا حوالہ اس طرح دیا ہے: ۔۔۔ "واللسان الميزان لابن حجر" (محدث ص 17)

حالانکہ یہ لسان المیزان ہے، جو ترکیب میں مضاف و مضاف الیہ ہو رہے ہیں اور نحومیر پڑھنے والا بھی جانتا ہے کہ مضاف پر الف لام داخل نہیں ہوتا۔ مگر ہم اس کو عربی قواعد کی غلطی قرار دینے کے بجائے، سبقتِ قلم کا نتیجہ قرار دیتے ہیں، کہ مسلمان اور عالم سے حسنِ ظن ہی رکھنا چاہئے۔ مگر عجیب بات ہے کہ معترض کے کلام میں اس کے علاوہ بعض غلطیاں معنوی بھی ہیں، اور ان سے معلوم ہوتا ہے کہ معترض غالبا علمِ حدیث سے پوری طرح واقف نہیں ہیں۔ مثلا ایک اور جگہ علامہ ہیثمی رحمۃ اللہ علیہ کا یہ کلام مجمع الزوائد سے نقل کرتے ہیں، جو معترض کے الفاظ میں یہ ہے:

"علامہ ہیثمی فرماتے ہیں کہ الکبیر کے رجال صحیح ہیں بجز محمد بن مروان الذہلی کے، لیکن ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی توثیق کی ہے۔" (محدث ص 18)

اس کے بعد معترض نے علامہ ہیثمی پر یہ کہہ کر اعتراض کیا ہے کہ:

"محمد بن مروان الذہلی ابوجعفر الکوفی کے متعلق علامہ ہیثمی کو سہو ہوا ہے، ابن حبان نے ابن مروان کا ذکر اپنی ثقات میں کیا ہے۔ الخ" (ص 18)

حالانکہ یہی معترض صاحب جو علامہ ہیثمی کو سہو کا شکار قرار دے رہے ہیں، ایک عربی کی معمولی عبارت سمجھنے میں غلطی کر مرتکب ہو رہے ہیں، جس کی خود ان کو خبر نہیں ہے۔ بات یہ ہے کہ علامہ ہیثمی نے اصل میں یہ فرمایا تھا:

"رِجَالِ الْكَبِيرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ الا محمد بن مروان ، وثقه ابن حبان"

"معجم کبیر کے رجال، صحیح کے رجال ہیں۔ سوائے محمد بن مروان کے، ابن حبان نے ان کی بھی توثیق کر دی ہے، لہذا سب راوی ثقہ ہیں۔"

یعنی یہ کہنا چاہتے ہیں کہ طبرانی کی معجم کبیر کے سب راوی ثقہ ہیں، اور ان راویوں میں سوائے محمد بن مروان کے سب کے سب صحیح بخاری کے رجال ہیں۔ اور ان میں محمد بن مروان کی بھی ابن حبان نے توثیق کر دی ہے، لہذا سب راوی ثقہ ہیں۔

اب معترض کی کم فہمی یا کم علمی دیکھیے کہ اول تو "رِجَالُ الصَّحِيحِ" کا ترجمہ کیا "رجال صحیح ہیں۔" حالانکہ یہ ترجمہ ہی درست نہیں۔ مضاف، مضاف الیہ کا ترجمہ ایسا کیا ہے جیسے موصوف صفت کا کرتے ہیں۔ پھر"صحیح" کا مطلب "ثقہ" لے لیا، جب کہ اس سے مراد "صحیح بخاری" ہے۔ اور علامہ کی عبارت کا یہ مطلب گھڑ لیا کہ علامہ ہیثمی، ابن مروان کو ثقہ ہونے سے نکال رہے ہیں، حالانکہ وہ خود ابن حبان سے اس کی توثیق کر رہے ہیں، اور محمد کو بخاری کے رجال سے مستثنیٰ قرار دے رہے ہیں۔۔۔اس فہم پر معترض، علامہ ہیثمی پر سہو کا بھی الزام لگائیں؟ تعجب کا مقام نہیں تو اور کیا ہے؟ اور اسی طرح کی غلطی اس کے بعد (ص19) پر بھی کی ہے۔ کہتے ہیں:

"علامہ ہیثمی فرماتے ہیں کہ ان سب کے رجال صحیح ہیں۔"

حالانکہ "رجال صحیح ہیں" کے بجائے "صحیح (بخاری) کے رجال ہیں" کہنا چاہئے۔ پھر ص 15 پر "اشعرت" کا ترجمہ (میں تمہیں اس بات کی خبر دیتا ہوں) اور اسی صفحہ پر "اما علمت" کا ترجمہ (کیا تمہیں نہ بتاؤں) اور ص 16 پر "اما تعلمين" کا ترجمہ (کیا میں تمہیں نہ بتاؤں) معنوی غلطیوں کی مثالیں ہیں۔ بہرحال بتانا یہ ہے کہ یہ سب اغلاط ہیں، جن کی اصلاح کر لینا چاہئے۔

معترض نے ایک اور غلطی کی نشاندہی کی ہے۔ فرماتے ہیں:

"جواب میں ایک تاریخی غلطی یہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بہن کا نام حکیمہ یا کلیمہ لکھا گیا ہے، حالانکہ جو احادیث اوپر بیان کی جا چکی ہیں ان میں ۔۔۔ کلثم مذکور ہے۔" (ص20)

راقم کہتا ہے کہ حکیمہ یا کلیمہ جو لکھا گیا ہے وہ بھی اس حدیث ہی میں آیا ہے، جس کو قرطبی نے معاذ بن جبل کی روایت سے نقل کیا ہے۔ تعجب ہے کہ جب معترض کے نزدیک یہ سب روایات جن میں کلثم نام آیا ہے موضوع ہیں، تو اس سے یہ کیسے معلوم ہوا کہ کلثم نام صحیح ہے، اس کے علاوہ دوسرا نام صحیح نہیں؟ ایسا لگتا ہے کہ اعتراض و تنقید کے شوق میں آگے پیچھے کی خبر نہیں رہی، حالانکہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان کے نام متعدد ہیں، یا ایک علم ہے، دوسرا صفاتی نام ہے۔ اور پھر جب کہ علماء نے ان کا نام، جو یقین کے ساتھ لکھا ہے، وہ مریم ہے۔ چنانچہ علامہ آلوسی رحمۃ اللہ علیہ روح المعانی میں لکھتے ہیں کہ ان کا نام مریم ہے۔ پھر لکھتے ہیں کہ ان کا نام کلثم بھی کہا گیا ہے (ص 190 ج 16) اور علامہ سیوطی "الاتقان فی علوم القرآن" میں اسی طرح کہتے ہیں (ص 147 جلد2) اور "جامع صغیر" کی شرح "سراجِ منیر" کے محشی علامہ شیخ محمد الغنی رحمۃ اللہ علیہ بھی لکھتے ہیں کہ ان کا نام مریم تھا، پھر کہتے ہیں کہ بعض روایات میں ان کا نام کلثوم بھی آیا ہے۔ (ص 357 جلد اول)

اس سب کو سامنے رکھنے اور دیکھنے سے کیا سمجھ میں آتا ہے؟ ہماری تو عقل یہی کہتی ہے کہ ان کا نام مریم یا کلثوم ہے یا دونوں ہیں، اور حکیمہ یا کلیمہ صفاتی نام ہے۔ پھر اس کو بے دلیل، تاریخی غلطی قرار دینا کیسے صحیح ہو سکتا ہے؟

بہرحال اصل تو مسئلہ کی تحقیق تھی، جس کو شروع حصہ میں بیان کر چکا ہوں، یہ چند باتیں موضوع سے ہٹ کر اس لیے عرض کرنا پڑیں کہ حقیقت واضح ہو جائے، آخر میں علماء کرام سے درخواست ہے کہ اس میں سہو و خطا پائیں تو اصلاح فرما کر مشکور ہوں۔