8۔ "﴿ لا تَجعَلوا دُعاءَ الرَّ‌سولِ بَينَكُم كَدُعاءِ بَعضِكُم بَعضًا...﴿٦٣﴾... سورةالنور

یعنی "رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی پکار کو آپس میں ایک دوسرے کی پکار کی طرح نہ قرار دو۔" آگے فرمایا:

﴿ قَد يَعلَمُ اللَّهُ الَّذينَ يَتَسَلَّلونَ مِنكُم لِواذًا فَليَحذَرِ‌ الَّذينَ يُخالِفونَ عَن أَمرِ‌هِ أَن تُصيبَهُم فِتنَةٌ أَو يُصيبَهُم عَذابٌ أَليمٌ ﴿٦٣﴾... سورةالنور

"بلاشبہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جانتا ہے جو تم میں سے پناہ لیتے ہوئے کھسک جاتے ہیں، پس چاہئے کہ ڈریں وہ لوگ جو اس (نبی صلی اللہ علیہ وسلم) کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں کہ مبادا ان کو کوئی فتنہ دبوچ لے یا دردناک عذاب آ گھیرے۔"

اس آیت میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت (پکار) کو آپس میں ایک دوسرے کی پکار کے برابر قرار دینے سے روکا گیا ہے۔ اب اگر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت صرف صاحبِ امر کی مان لی جائے تو پھر "﴿ كَدُعاءِ بَعضِكُم بَعضًا﴾" کے کیا معنی ہوں گے؟ کیوں کہ صاحبِ امر بھی تو امت ہی کا ایک فرد ہوتا ہے۔ اس سے واضح ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات، امت کے تمام افراد کے اقوال سے بالاتر ہیں۔ ہر امتی سے خطا ہو سکتی ہے، لیکن نبی اپنے قول و فعل میں خطا سے پاک ہوتا ہے۔ اگر کبھی اس سے اجتہاد میں لغزش ہو بھی جاتی ہے تو فورا وحی الہی اس کی رہنمائی کرتی ہے۔

"﴿وَما كانَ لِمُؤمِنٍ وَلا مُؤمِنَةٍ إِذا قَضَى اللَّهُ وَرَ‌سولُهُ أَمرً‌ا أَن يَكونَ لَهُمُ الخِيَرَ‌ةُ مِن أَمرِ‌هِم...﴿٣٦﴾... سورةالاحزاب

"اور کسی مومن مرد اور مومن عورت کے لیے جائز نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کسی معاملہ کا فیصلہ کر دیں تو ان کے لیے اختیار کی گنجائش باقی رہ جائے۔"

اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے فیصلے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کو الگ الگ واؤ عطف کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ دونوں کے مصداق بھی علیحدہ علیحدہ ہیں۔ یعنی قضاءاللہ سے قرآن اور قضاء الرسول سے سنت مراد ہیں۔

10۔ "﴿وَإِذا قيلَ لَهُم تَعالَوا إِلىٰ ما أَنزَلَ اللَّهُ وَإِلَى الرَّ‌سولِ رَ‌أَيتَ المُنـٰفِقينَ يَصُدّونَ عَنكَ صُدودًا ﴿٦١﴾... سورةالنساء

"جب ان سے کہا جائے کہ آؤ اس چیز کی طرف جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی ہے اور رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی طرف، تو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) دیکھیں گے کہ منافقین کس طرح آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے اعراض کیے چلے جاتے ہیں۔"

اس آیت میں الفاظ "﴿ إِلىٰ ما أَنزَلَ اللَّهُ وَإِلَى الرَّ‌سولِ ﴾" قابلِ غور ہیں۔ "﴿ما أَنزَلَ اللَّهُ﴾" سے مراد تو قرآن مجید ہے۔ اب "﴿إِلَى الرَّ‌سولِ﴾" کے کیا معنی ہیں؟ کیا اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کے سوا بھی کچھ مراد لیا جا سکتا ہے؟ قرآن مجید میں اس قسم کی بیسیوں آیات ہیں، آخر کہاں کہاں واؤ عاطفہ کو واؤ تفسیریہ قرار دے کر اطاعتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اطاعتِ قرآن ہی ٹھہرایا جائے گا؟ کس کس جگہ "الرسول" سے "مرکزِ ملت" مراد لے کر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی امتیازی حیثیت کو ختم کیا جائے گا؟ جب حقیقی معنیٰ بنتے ہوں تو مجازی اور بناوٹی معنیٰ پر اصرار کرنا آخر کون سی زباندانی ہے؟ مجازی معنی کے لیے بھی قرائن کی ضرورت ہوتی ہے۔ یوں ہی حقیقت کو چھوڑ کر مجاز کا راگ الاپا نہیں جا سکتا۔

خبرِ واحد کی حجیت :

﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا إِن جاءَكُم فاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنوا...﴿٦﴾... سورة الحجرات

"ایمان والو، اگر تمہارے پاس کوئی فاسق کسی قسم کی خبر لے آئے تو تحقیق کر لیا کرو"

اس آیت میں فاسق کی خبر کے بارے میں چھان بین کا حکم دیا گیا ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ اگر راوی (خبر دینے والا) ثقہ ہو تو اس کی خبر قابلِ اعتماد ہو گی۔ اسی آیت کو سامنے رکھتے ہوئے محدثین نے رواۃِ حدیث کی امکانی حد تک خوب تحقیق کی، اور اسماء الرجال جیسا عظیم الشان فن مدون کر ڈالا۔

﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا قـٰتِلُوا الَّذينَ يَلونَكُم مِنَ الكُفّارِ‌ وَليَجِدوا فيكُم غِلظَةً وَاعلَموا أَنَّ اللَّهَ مَعَ المُتَّقينَ ﴿١٢٣﴾... سورةالتوبة

عربی زبان میں طائفہکا اطلاق فرد اور گروہ دونوں پر ہوتا ہے۔ مثلا قرآن مجید میں ہے:

﴿ وَليَشهَد عَذابَهُما طائِفَةٌ مِنَ المُؤمِنينَ ﴿٢﴾... سورةالنور

"اُن دونوں (زانیہ اور زانی) کو عذاب کے وقت مومنوں کا ایک طائفہ حاضر ہو۔"

اس کی تفسیر میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "الواحد فما فوقه" اسی طرح "﴿ وَإِن طائِفَتانِ مِنَ المُؤمِنينَ اقتَتَلوا...﴿٩﴾... سورةالحجرات"

"اگر مومنوں میں سے دو جماعتیں باہم لڑ جائیں" میں طائفہ سے فرد اور طائفہ دونوں مراد ہیں۔

اس وضاحت کی بناء پر مذکورہ بالا آیت اس بارے میں صریح طور پر ناطق ہے کہ دینی معاملات میں ایک فرد یا دو تین افراد کی خبر یا روایت قابلِ اعتماد ہو گی۔

﴿ وَجاءَ رَ‌جُلٌ مِن أَقصَا المَدينَةِ يَسعىٰ قالَ يـٰموسىٰ إِنَّ المَلَأَ يَأتَمِر‌ونَ بِكَ ...﴿٢٠﴾... سورةالقصص

"شہر کے پرلے کنارے سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا اور کہا کہ موسیٰ (علیہ السلام)، سردارانِ قوم تیرے قتل کا ارادہ رکھتے ہیں۔"

چنانچہ اس ایک شخص کے خبر دینے سے حضرت موسیٰ علیہ السلام گھر چھوڑ کر نکل کھڑے ہوتے ہیں۔

﴿ قالَت إِنَّ أَبى يَدعوكَ لِيَجزِيَكَ أَجرَ‌ ما سَقَيتَ لَنا...﴿٢٥﴾... سورةالقصص

"اس لڑکی نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا، میرے والد آپ کو بلاتے ہیں تاکہ آپ کو پانی پلانے کی مزدوری ادا کریں۔"

تو آپ علیہالسلام نے اس بات پر اعتماد کیا، کیونکہ دینی معاملات ہوں یا دنیاوی کاروبار، خبرِ واحد پر اعتماد کیے بغیر چارہ نہیں ہے۔ ہاں اگر کہیں شک کی صورت ہو تو دوسرے قرائن کو بھی تلاش کیا جا سکتا ہے۔ محدثین نے اصولِ روایت میں اس پہلو کو بھی ملحوظ رکھا ہے۔

﴿وَأَشهِدوا ذَوَى عَدلٍ مِنكُم...٢﴾... سورة الطلاق

"اور تم میں سے دو عدل والے گواہی دیں"

قرآن حکیم نے متعدد مقامات پر عادل شاہدوں کی گواہی کو قابلِ اعتماد ٹھہرایا ہے۔ اگرچہ شہادت اور روایت میں بہمہ وجوہ یکسانیت نہیں ہے، تاہم اس حکم سے یہ تو معلوم ہوتا ہے کہ بڑے بڑے اہم معاملات کے بارے میں محض دو عادل گواہوں کی شہادت پر قاضی فیصلہ دے سکتا ہے۔ اسی طرح انہی صفات سے متصف عادل راویوں کی روایت کیوں نہ قبول ہو گی۔

آیات متعلقہ انکارِ حدیث کی صحیح تاویل:

"﴿تَفصيلًا لِكُلِّ شَىءٍ﴾" 2۔ "﴿تِبيـٰنًا لِكُلِّ شَىءٍ﴾"

کہا جاتا ہے کہ جب قرآن کا خود اعلان ہے کہ ہر مسئلہ کی تفصیل اس میں موجود ہے تو پھر قرآن سے باہر جانے کی ضرورت ہی کیا ہے؟

حالانکہ ان آیات کا صحیح مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید نے دین کے بنیادی اصول اور مہماتِ شریعت کو بغیر کسی ایچ پیچ کے پوری وضاحت و تفصیل سے بیان کر دیا ہے کہ اشتباہ و ابہام کا شائبہ تک بھی باقی نہیں رہا ہے۔

یہاں لفظِ "کل" حقیقی استغراق (ایسا عموم جو تمام افراد کو شامل ہو) کے لیے نہیں ہے، بلکہ یہ "کُل" ایسا ہی ہے، جیسا مندرجہ ذیل آیات میں ہے:

(الف) "﴿ثُمَّ كُلى مِن كُلِّ الثَّمَر‌ٰ‌تِ ...٦٩﴾... سورة النحل"

"پھر تو کھا ہر قسم کے پھلوں میں سے۔"

(ب) "﴿وَأَذِّن فِى النّاسِ بِالحَجِّ يَأتوكَ رِ‌جالًا وَعَلىٰ كُلِّ ضامِرٍ‌ يَأتينَ مِن كُلِّ فَجٍّ عَميقٍ ﴿٢٧﴾... سورة الحج"

"اور لوگوں میں حج کا اعلان کر دیجئے، وہ آپ کی طرف پیدل اور اونٹوں پر سوار ہو کر آئیں گے۔"

(ج) "﴿وَأوتِيَت مِن كُلِّ شَىءٍ...﴿٢٣﴾... سورة النمل"

"اور اسے ہر چیز میسر ہے"

ظاہر ہے کہ یہاں تمام قسم کے پھل، اونٹوں کے تمام افراد اور ہر قسم کی تمام چیزیں مراد نہیں ہیں۔ آخری آیت "﴿وَأوتِيَت مِن كُلِّ شَىءٍ﴾" پر مزید غور کر لیا جائے۔ یہاں ملکہ سباء کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اسے ہر قسم کی چیزوں میں سے عطا کیا گیا تھا، یعنی امورِ سلطنت سے متعلق تمام بنیادی لوازمات اس کے پاس موجود تھے۔

حالانکہ یہ لفظِ "کُل" اس موقع پر استعمال ہو رہا ہے جب کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس لوازماتِ حکومت و مملکت، ملکہ سباء سے کہیں زیادہ تھے۔

باقی رہا یہ دعویٰ کہ قرآن مجید تمام اصول و فروع اور کلیات و جزئیات کو تفصیلا بیان کرتا ہے، تو یہ ایسی خام خیالی ہے کہ جو حقیقت اور مشاہدے کے یکسر خلاف ہے۔ قرآن مجید نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتا ہے مگر ان سے متعلق مسائل تفصیلا تو کجا، اجمالا بھی قرآن میں نہیں ملتے، عقلا بھی یہ درست نہیں ہے کہ قرآن ہر قسم کی تفصیلات پر مشتمل ہوتا، پھر تو اس کی یہ خوبی بھی بیان نہ کی جا سکتی تھی کہ:

﴿بَل هُوَ ءايـٰتٌ بَيِّنـٰتٌ فى صُدورِ‌ الَّذينَ أوتُوا العِلمَ...﴿٤٩﴾...سورة العنكبوت

"بلکہ وہ روشن نشانیاں ہیں ان لوگوں کے سینوں میں جو علم کی نعمت سے نوازے گئے ہیں۔"

﴿ ما فَرَّ‌طنا فِى الكِتـٰبِ مِن شَىءٍ...﴿٣٨﴾... سورة الانعام

"ہم نے کتاب میں کسی چیز کو بھی نہیں چھوڑا ہے۔"

صحیح مفہوم کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ پوری آیت کو سامنے رکھا جائے:

﴿وَما مِن دابَّةٍ فِى الأَر‌ضِ وَلا طـٰئِرٍ‌ يَطيرُ‌ بِجَناحَيهِ إِلّا أُمَمٌ أَمثالُكُم ما فَرَّ‌طنا فِى الكِتـٰبِ مِن شَىءٍ ثُمَّ إِلىٰ رَ‌بِّهِم يُحشَر‌ونَ ﴿٣٨﴾... سورةالانعام

"زمین میں کوئی جانور نہیں ہے اور نہ کوئی پرندہ جو اپنے بازؤں سے اُڑتا ہو مگر یہ کہ وہ تمہاری طرح امتیں ہیں۔ پھر تم اپنے رب کی طرف جمع کیے جاؤ گے۔"

سیاق و سباق بتلا رہے کہ یہاں "الکتاب" سے مراد علمِ الہی ہے۔ جیسا کہ دوسری آیت میں ہے:

﴿وَيَعلَمُ ما فِى البَرِّ‌ وَالبَحرِ‌ وَما تَسقُطُ مِن وَرَ‌قَةٍ إِلّا يَعلَمُها وَلا حَبَّةٍ فى ظُلُمـٰتِ الأَر‌ضِ وَلا رَ‌طبٍ وَلا يابِسٍ إِلّا فى كِتـٰبٍ مُبينٍ ﴿٥٩﴾... سورة الانعام

"اور جانتا ہے جو کچھ خشکی اور تری میں ہے۔ کوئی پتہ نہیں جھڑتا مگر اللہ اسے جانتا ہے، اور نہ کوئی دانہ ہے زمین کی تاریکیوں میں اور نہ کوئی تر چیز اور نہ خشک۔ مگر یہ کہ وہ کتاب مبین میں موجود ہے۔"

نیز ملاحظہ ہو سورہ سباء آیت 3۔

بالفرض اگر یہاں "الکتاب" سے قرآن ہی مراد لیا جائے، تب بھی اس سے سنت کا انکار لازم نہیں آتا۔ اس کا مطلب وہی ہو گا جو "﴿تِبيـٰنًا لِكُلِّ شَىءٍ﴾" کے ذیل میں بیان کیا گیا ہے۔

"﴿أَوَلَم يَكفِهِم أَنّا أَنزَلنا عَلَيكَ الكِتـٰبَ يُتلىٰ عَلَيهِم إِنَّ فى ذ‌ٰلِكَ لَرَ‌حمَةً وَذِكر‌ىٰ لِقَومٍ يُؤمِنونَ﴿٥١﴾... سورة العنكبوت "

'کیا ان کے لیے کافی نہیں ہے کہ ہم نے آپ پر کتاب نازل فرمائی ہے جو ان پر پڑھی جاتی ہے، اور جس میں ایمان والوں کے لیے رحمت اور نصیحت ہے"

اس آیت کی بناء پر کہا جاتا ہے کہ جب قرآن ہمارے لیے کافی ہے اور سراپا رحمت و نصیحت ہے تو پھر سنت و حدیث کے سہارے کی کیا ضرورت ہے؟ حالانکہ آیت کو اصل سیاق و سباق سے علیحدہ کر کے پیش کیا جاتا ہے۔ یہ استدلال ﴿لا تَقرَ‌بُوا الصَّلو‌ٰةَ﴾ سے کم مضحکہ خیز نہیں ہے۔

اس سے پہلے کی آیت میں مشرکینِ مکہ کے اس مطالبہ کو نقل کیا گیا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نشانیاں کیوں نہیں دکھلاتے؟

﴿وَقالوا لَولا أُنزِلَ عَلَيهِ ءايـٰتٌ مِن رَ‌بِّهِ قُل إِنَّمَا الءايـٰتُ عِندَ اللَّهِ وَإِنَّما أَنا۠ نَذيرٌ‌ مُبينٌ﴿٥٠﴾... سورةالعنكبوت

"انہوں (مشرکینِ مکہ) نے کہا اس (نبی صلی اللہ علیہ وسلم) پر اس کے رب کی طرف سے نشانیاں کیوں نہیں نازل ہوتیں؟ آپ فرما دیجئے، نشانیاں اللہ کے اختیار میں ہیں۔ میں تو بس صرف کھلا ڈرانے والا ہوں۔"

اس کے بعد فرمایا "﴿أَوَلَم يَكفِهِم﴾" یعنی یہ مشرکین (حِسی) نشانیاں کیوں طلب کرتے ہیں؟ ان کے پاس تو سب سے بڑی نشانی اللہ کی کتاب آ چکی ہے، کیا وہ کافی نہیں ہے؟ اس روشن اور عظیم ترین معجزے کے ہوتے ہوئے، جو کہ سراپا رحمت و نصیحت ہے، دوسرا معجزہ طلب کرنا بے عقلی نہیں تو اور کیا ہے؟ سیاق و سباق سے صاف ظاہر ہے کہ یہاں سنت و حدیث سے کوئی بحث نہیں ہے۔ اصل مقصود تو مشرکین کے مطالبہ کا جواب دیتا ہے۔

"﴿وَأوحِىَ إِلَىَّ هـٰذَا القُر‌ءانُ لِأُنذِرَ‌كُم بِهِ وَمَن بَلَغَ...﴿١٩﴾... سورةالانعام"

"اور میری طرف یہ قرآن اُتارا گیا ہے تاکہ میں تم کو اس کے ذریعے سے آگاہ کر دوں اور ان کو بھی جن تک یہ پہنچے۔"

دوسری جگہ ہے:

﴿قُل إِنَّما أُنذِرُ‌كُم بِالوَحىِ...﴿٤٥﴾... سورةالانبياء

"کہہ دیجئے کہ میں تم کو وحی کے ذریعے سے آگاہ کرتا ہوں۔"

ان آیات کی تشریح میں حافظ اسلم صاحب جیراج پوری لکھتے ہیں:

"حصر ہے کہ سرمایہ انذر صرف قرآن ہے، اور وہی لوگوں کے آگاہ کرنے کے لیے وحی کیا گیا ہے۔ اُسی کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھوایا اور لوگوں کو یاد کرایا۔" (علم حدیث ص 34 شائع کردہ طلوعِ اسلام)

یہاں بڑی ہوشیاری سے دونوں آیات کے مطالب خلط ملط کر کے یہ معنی لیے گئے ہیں کہ سرمایہ انذار صرف قرآن ہے۔ پہلی آیت میں بغیر کسی حصر کے یہ کہا گیا ہے کہ میری طرف قرآن وحی کیا گیا ہے، تاکہ اس کے ذریعے میں تم کو اور جن کو یہ آواز پہنچے ڈرا دوں۔ اس آیت میں اس بات کی تصریح نہیں ہے کہ قرآن کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی دوسری وحی نازل نہیں ہوئی تھی۔ ہاں دوسری آیت میں حصر کا لفظ "﴿اِنَّمَا﴾" موجود ہے، لیکن وہاں قرآن کے بجائے وحی کا لفظ ہے، جو سلف سے خلف تک پوری امت کے نزدیک سنت کو بھی شامل ہے۔

اب سوال یہ رہ جاتا ہے کہ بغیر کسی مغالطہ آمیزی کے، کیا قرآن میں کوئی ایسی واضح آیت دکھائی جا سکتی ہے جو واضح طور پر یہ بتلائے کہ وحی کے طور پر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم پر سوائے قرآن کے اور کوئی چیز نازل نہیں ہوئی؟ ۔۔۔ہرگز نہیں۔

قرآن میں معنوی تحریف:

مذکورہ بالا تفصیلات کے بارے میں تو کسی حد تک یہ باور کیا جا سکتا ہے کہ ممکن ہے کہ کسی غلط فہمی کی بناء پر ان آیات سے سنت کے خلاف استدلال کیا گیا ہو، لیکن مندرجہ ذیل استدلال تو قرآنی تحریفِ اور حدیث دشمنی کا کھلا ہوا شاہکار ہے۔ اس طرزِ عمل کو سامنے رکھتے ہوئے تو باور نہیں کیا جا سکتا کہ سنت کی مخالفت دیانتدار طور پر محض غلط فہمی کی بناء پر کی جا رہی ہے:

﴿وَمِنَ النّاسِ مَن يَشتَر‌ى لَهوَ الحَديثِ لِيُضِلَّ عَن سَبيلِ اللَّهِ...﴿٦﴾... سورة لقمان

اس آیت کا ترجمہ حافظ اسلم کے قلم سے اس طرح شائع ہوا ہے:

حالانکہ "حدیث" کے معنی عربی زبان میں "بات" کے ہیں۔ اس لغوی معنی کے اعتبار سے "حدیث" کا لفظ اللہ تعالیٰ کی بات، رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بات، صحابہ رضی اللہ عنہم اور عام مسلمانوں کی بات، بلکہ کافروں کی بات اور شیطان کی بات پر بھی بولا جا سکتا ہے۔۔۔مثالیں ملاحظہ ہوں:

﴿اللَّهُ نَزَّلَ أَحسَنَ الحَديثِ كِتـٰبًا مُتَشـٰبِهًا...﴿٢٣﴾... سورةالزمر

"اللہ نے ملتے جلتے مضامین والی بہترین حدیث نازل فرمائی ہے۔"

یہاں قرآنِ مجید کو احسن الحدیث کہا گیا ہے۔

(ب) "﴿وَإِذ أَسَرَّ‌ النَّبِىُّ إِلىٰ بَعضِ أَزو‌ٰجِهِ حَديثًا ...﴿٣﴾... سورةالتحريم"

اس آیت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سرگوشی کو حدیث سے تعبیر کیا گیا ہے۔

(ج) "﴿وَلا مُستَـٔنِسينَ لِحَديثٍ...﴿٥٣﴾... سورةالاحزاب"

"اور نہ مشغول ہوتے ہوئے باتوں میں۔"

یہاں صحابہ رضی اللہ عنہم اور عام مسلمانوں کی گفتگو پر لفظِ حدیث کا اطلاق کیا گیا ہے۔

(د) "﴿ حَتّىٰ يَخوضوا فى حَديثٍ غَيرِ‌هِ ...﴿١٤٠﴾... سورةالنساء"

یعنی "کافر مشرک اگر اپنی مجالس میں اسلام کا مذاق اڑاتے ہوں تو ان کی ہم نشینی سے اجتناب کیا جائے الا یہ کہ وہ کسی دوسری بات میں مشغول ہو جائیں۔"

اس مقام پر اعداء اسلام اور کفار و مشرکین کی گفتگو پر حدیث کا لفظ بولا گیا ہے۔

(ہ) "﴿ وَمِنَ النّاسِ مَن يَشتَر‌ى لَهوَ الحَديثِ ...﴿٦﴾... سورةلقمان"

یہاں ان تمام شیطانی باتوں اور ہتھکنڈوں کو "لہو الحدیث" قرار دیا گیا ہے، جن میں مشغول ہو کر انسان اللہ تعالیٰ سے غافل ہو کر انسانیت کے لیے گمراہی اور فساد کا باعث بن جاتا ہے۔

اس آیت کو حدیث کے اُس اصطلاحی معنیٰ سے دور کا بھی تعلق نہیں، جو محدثین اور فقہاء کے توسط سے امت میں شروع سے منقول ہوتا چلا آیا ہے، پھر یہ بھی واضح رہے کہ سورہ لقمان مکی سورتوں میں ہے۔ مکی دور میں مسلمان، مشرکین مکہ کے ظلم و ستم کا نشانہ بنے ہوئے تھے۔ ان کو حدیث تو کجا قرآن کی کتابت و ترتیت کا موقع بھی بسہولت فراہم نہ ہوتا تھا۔ ان حالات میں یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ مکی زندگی کے پُرآشوب زمانہ میں مسلمان حدیث کے مجموعے یا "مشغلے" خریدتے پھرتے تھے۔۔۔ "﴿يُحَرِّ‌فونَ الكَلِمَ عَن مَواضِعِهِ﴾" کی اس سے بدترین مثال اور کیا ہو گی؟ ۔۔۔اور ایسے لوگوں کے بارے میں اس کے سوا اور کیا کہا جا سکتا ہے کہ:

﴿ فَمالِ هـٰؤُلاءِ القَومِ لا يَكادونَ يَفقَهونَ حَديثًا ﴿٧٨﴾... سورة النساء

جناب غازی عزیر

استدراک

محترم غازی عزیر صاحب نے محدث ستمبر 87ء میں شائع ہونے والے اپنے مضمون "کیا جنت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح حضرت مریم علیہ السلام سے ہو گا؟" کے بعض مقامات پر کچھ تسامحات کو دیکھ کر خود ہی ایک تصحیح نامہ مرتب کر کے آٹھ ماہ قبل دفتر محدث کو ارسال کیا تھا، جو کاغذات میں اِدھر اُدھر ہو گیا۔ اب جبکہ اس مضمون پر مولانا شعیب اللہ صاحب مفتاحی کے تعاقب کی پہلی قسط شائع ہوئی ہے، تو انہوں نے اس تصحیح نامہ کی نقل دوبارہ اس شکایت کے ساتھ روانہ فرمائی ہے کہ محدث نے اسے شائع نہ کر کے ان کے ساتھ بڑی زیادتی کی ہے۔ نیز یہ کہ اسے مولانا موصوف کے تعاقب کی آئندہ قسم سے قبل یا اس کے ساتھ ہی ضرور شائع کیا جائے۔

ادارہ محدث، محترم غازی صاحب سے معذرت چاہتے ہوئے یہ تصحیح نامہ شائع کر رہا ہے۔۔قارئین کرام اگلے صفحہ سے شروع ہونے والے مضمون کو پڑھتے وقت اس تصحیح نامہ کو ذہن میں رکھیں۔ (ادارہ)

(1)صفحہ 15 پر سطور 9-10-23 میں "اشعرت" (کیا تم محسوس کرتی ہو؟) اور "اما عملت" (کیا تم کو معلوم نہیں ہے؟) نیز ص 16 پر "اما تعلمين" (کیا تم نہیں جانتی ہو؟) کے ترجموں میں سہوا "میں تمہیں اس بات کی خبر دیتا ہوں" "کیا میں تمہیں نہ بتاؤں؟" اور "کیا تمہیں نہ بتاؤں؟" لکھ دیا گیا ہے۔ قارئین کرام اس کی تصحیح فرما لیں۔ اگرچہ اس سہو سے ان احادیث کے مفہوم و مدعیٰ سمجھنے میں کوئی خلل واقع نہیں ہوتا ہے، تاہم بہرحال یہ خطا ہے۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے یہ عبارتیں مولانا محمد اسماعیل سنبھلی مرحوم کی "سیرت الرسول" مطبوعہ آگرہ ص 121، 123 سے عجلت میں اور ترجمہ کی زحمت سے بچنے کے لیے اسی طرح نقل کر دی تھیں۔ فانا للہ (2) ص18 پر سطور نمبر 12-13 اس طرح پڑھی جائیں۔ "آسیہ بنتِ مزاحم کا تذکرہ نہیں ہے۔ علامہ ہیثمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ابکیر کے رجال صحیح کے رجال ہیں بجز محمد بن مروان الذھلی کے، لیکن ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی بھی توثیق کی ہے۔" (3) اسی ص 18 پر سطر 2 میں سے یہ عبارت حذف سمجھی جائے: محمد بن مروان الذھلی ابوجعفر الکوفی کے متعلق علامہ ہیثمی رحمۃ اللہ علیہ کو سہو ہوا ہے۔" (4) ص 19 پر سطر 2 اسی طرح پڑھی جائے: "سب کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔" (مجمع الزوائد للہیثمی رحمۃ اللہ علیہ ج9، ص 223)

 حاشیہ

1. محدثین کی اصطلاح میں حدیث متواتر کے علاوہ تمام روایات کو خبرِ واحد ہی شمار کیا جاتا ہے۔ اگرچہ اس کے مختلف اقسام عزیز، غریب، مشہور، قوت و یقین کے اعتبار سے الگ الگ مدارج رکھتے ہیں۔ خبرِ متواتر وہ ہے جس کے راوی ہر دور میں اتنے ہوں کہ عادتا ان کا اتفاق کذب پر محال سمجھا جائے۔

2. یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ ایک مسلمان کی جان و مال کی حرمت قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہے، جس کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن یہ قطعیت اس شکل میں باقی نہیں رہتی جب کہ عدالت میں دو گواہوں کے ذریعے اس کا قاتل ہونا ثابت کر دیا جائے۔ ظاہر ہے کہ دو گواہوں کی شہادت ظن اور گمانِ غالب سے آگے نہیں بڑھ سکتی، غور کیا جائے، کیا یہاں ایک قطعی الثبوت حکم کی تخصیص ظنی الثبوت معاملہ کے ذریعہ نہیں کی جا رہی ہے؟

3. یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ ایک مسلمان کی جان و مال کی حرمت قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہے، جس کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن یہ قطعیت اس شکل میں باقی نہیں رہتی جب کہ عدالت میں دو گواہوں کے ذریعے اس کا قاتل ہونا ثابت کر دیا جائے۔ ظاہر ہے کہ دو گواہوں کی شہادت ظن اور گمانِ غالب سے آگے نہیں بڑھ سکتی، غور کیا جائے، کیا یہاں ایک قطعی الثبوت حکم کی تخصیص ظنی الثبوت معاملہ کے ذریعہ نہیں کی جا رہی ہے؟

(1) بعض اہم مقامات کی صحیح تاویل و تشریح قارئین کرام کے سامنے آ جائے گی۔

(2) منکرینِ حدیث کی علمی صلاحیت و دیانت کی حقیقت بھی بے نقاب ہو جائے گی کہ کس طرح انہوں نے خدمتِ قرآن کے پردے میں حقائقِ قرآنی کو توڑا موڑا ہے اور اپنے مقاصد کی خاطر آیات کی معنوی تحریف سے بھی باز نہیں آئے ہیں۔