حدیث کی تحقیق

اب اس باب کی باقی ماندہ روایات کے تمام طریق اسناد اور ان کے جملہ رواۃ کا محدثین و ائمہ جرح و تعدیل کے نزدیک مرتبہ و مقام کا جائزہ بھی لیتا چلوں جو حضرات علی بن ابی طالب ، ابن مسعود، ابن عباس، ابوسعید الخدری، جابر اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے مروی ہیں۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جو حدیث بیان کی جاتی ہے اس کے تین طرق وارد ہوئے ہیں:

طریقِ اول:

«اخبرنا القزاز قال انا احمد بن على قال اخبرنا ابن شهريار قال انا سليمان بن احمد قال نا احمد بن يحي بن ابى العباس الخوارزمى قال نا سليمان بن عبد العزيز فذكره (رواه حسين بن على فى مسنده واخرجه الخطيب والطبرانى وذكره الهيثمى وابن الجوزى عن الحسين بن على»

اس روایت کے ناقابل اعتبار ہونے کی وجوہات یہ ہیں: اس طریق میں راوی عبدالعزیز موجود ہے جس کے متعلق حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ وہ "متروک" ہے۔ کیونکہ "اس نے اپنی تمام کتب جلا ڈالی تھیں اور اپنی یادداشت کے مطابق حدیثیں بیان کیا کرتا تھا، لہذا شدید غلطیوں کا مرتکب ہوتا تھا۔" علامہ ہیثمی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اسے "متروک" بیان کیا ہے۔ ابن معین کا قول ہے: "ليس بثقة" حافظ عراقی رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ "عبدالعزیز متروک ہے"۔ جیسا کہ اس کی تضعیف میں امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ سے منقول ہے۔ اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے: "لا يكتب حديثه"۔ علامہ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کے ترجمہ میں اسے "غیر ثقہ" بتایا ہے۔ امام دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ وہ "متروک" ہے، ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے: "عبدالعزيز يروى المناكير عن المشاهير" یعنی عبدالعزیز مشاہیر سے مناکیر روایت کرتا ہے۔ جیسا کہ امام ابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ نے موضوعات میں بیان کیا ہے۔ اس طریق میں دوسرا مجروح راوی خوارزمی ہے جس کے متعلق امام دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ وہ "متروک" ہے۔ طبرانی رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ یہ حدیث حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے کسی نے روایت نہیں کی، مگر اس اسناد کے ساتھ کہ جس میں سلیمان کا تفرد ہے۔ امام ابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی خوارزمی کی تضعیف میں امام دارقطنی کا قول بیان کیا ہے۔

طریقِ دوم:

«انا محمد بن عبدالملك قال اخبرنا ابن مسعدة قال اخبرنا حمزة قال نا ابن عدى قال نا محمد بن الحسين بن حفص قال نا عباد بن يعقوب قال نا عيسى بن عبدالله قال اخبرنى ابى عن ابيه عن جده عن على عن النبى ﷺ قال: طلب العلم.... الخ»(ذكره الخطيب و ابن الجوزى)

یہ طریق اسناد بھی کھرا نہیں ہے۔ کیونکہ اس میں راوی عیسی بن عبداللہ تمام آفت کی بنیاد ہے۔ اس کے دادا کا نام محمد بن عمر بن علی بن ابی طالب ہے۔ ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے: "يروى عن ابيه عن " یعنی اپنے والد اور آباء سے "عن" کے ساتھ موضوع چیزیں روایت کرتا ہے۔ امام دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے: " هو متروك الحديث" یعنی وہ متروک الحدیث ہے۔ علامہ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی ان احادیث کو جمع کیا ہے جو موضوع ہیں۔ امام ابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ عیسیٰ بن عبداللہ "ضعیف" ہے۔ ایک دوسرے راوی عباد بن یعقوب کے متعلق ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے: "المشاهير فاستحق الترك" یعنی مشاہیر سے منسوب کرکے مناکیر روایت کرتا ہے، پس ترک کئے جانے کا مستحق ہے۔

طریقِ سوم:

«انا ابو منصور القزاز قال اخبرنا ابوبكر احمد بن على بن ثابت قال اخبرنا الحسن بن الحسين النعالى قال اخبرنا عمر بن محمد بن عبدالله البندار قال نا ابونصر محمد بن ابراهيم السمرقندى قال نا ابو عبدالله محمد بن ايوب قال نا جعفر بن محمد قال نا سليمان بن عبدالعزيز بن عمران قال حدثنى ابى عن محمد بن عبدالله بن الحسن عن على بن الحسين ان عليا عليه السلام قال قال رسول اللهﷺ..... الخ» (اخرجه الخطيب وذكره ابن الجوزي)

یہ روایت بھی صحیح نہیں ہے، کیونکہ امام ابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ "اس طریق میں سمرقندی راوی ہے جو "مناکیر بیان کرتا ہے۔" اور محمد بن ایوب اور جعفر بن محمد دو ایسے راوی ہیں جن میں غایت درجہ ضعف ہے۔"

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث کا صرف ایک طریق ہے، جو اس طرح ہے:

«فاخبرنا ابن خيرون قال نا اسماعيل بن مسعدة قال اخبرنا حمزة بن يوسف قال اخبرنا ابن عدى قال نا ابويعلى قال نا هزيل بن ابراهيم الجمانى قال نا عثمان ابن عبدالرحمان عن حماد بن ابى سليمان عن ابى وائل عن عبدالله بن مسعود قال قال رسول الله ﷺ: طلب العلم... الخ»(اخرجه ابويعلى ورواه الطبرانى فى الكبير ولاوسط وذكره الهيثمى والحافظ والخطيب وابن الجوزى)

یہ طریق ناقابلِ اعتماد ہے، کیونکہ اس طریق میں ایک راوی عثمان بن عبدالرحمن القرشی "ضعف" ہے۔ امام ابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے: "وعثمان لا يحتج به" یعنی عثمان حجت نہیں ہے۔ حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے عثمان کے ترجمہ میں درج کیا ہے: "عثمان صدوق اكثر الرواية عن الضعفاء والمجاهيل" یعنی عثمان صدوق ہے لیکن اکثر روایتیں ضعفاء اور مجہول راویوں سے روایت کرتا ہے۔ ابن معین رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے "يكذب"۔ ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے: "يروى عن الثقات الاشياء الموضوعات لا يجوز الاحتجاج به" یعنی ثقات سے موضوع چیزیں روایت کرتا ہے، پس اس سے احتجاج جائز نہیں۔ ابن مدینی نے بھی اس کی بہت "تضعیف" کی ہے۔ ابن عدی رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے: "منكر لم يتابعه الثقات" یعنی منکر ہے اور ثقات میں سے کوئی اس کی اتباع نہیں کرتا۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے: "سكتوا عنه" عبدالحق نے درج کیا ہے کہ وہ "متروک" ہے۔ ہیثمی نے بھی اسے "متروک" درج کیا ہے۔ علامہ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ "عثمان بن عبدالرحمن القرشی، جو حماد بن ابی سلمان سے روایت کرتا ہے، کے متعلق امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ وہ "مجہول" ہے۔ اور حماد کی حدیث قبول نہیں کی جاتی مگر وہ جو اس سے قدماء (مثلا شعبہ و سفیان ثوری اور دسلوانی وغیرہ) نے روایت کی ہو۔ عثمان بن عبدالرحمن پر امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ و امام دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ نے "متروک" ہونے کا حکم لگایا ہے اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ سے بھی اس کا "ترک" کرنا منقول ہے۔ امام ابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ اس کے ایک اور راوی ہزیل کے متعلق بیان کرتے ہیں کہ "وہ غیر معروف ہے اور اس سے کوئی دوسرا روایت نہیں کرتا۔"

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث بھی صرف ایک طریق سے وارد ہوئی ہے جو یہ ہے:

«فانبانا عبدالوهاب قال نا ابن المظفر قال نا العتيقي قال نا ابن الدخيل قال نا العقيلى قال نا محمد بن موسى قال نا جعفر بن محمد الصائغ قال نا عبدالله ابن عبدالعزيز بن ابى رواد قال نا عائذ بن ايوب رجل من اهل طوس قال نا اسماعيل ابن ابى خالد عن الشعبى عن ابن عباس قال قال رسول اللهﷺ: طلب العلم.... الخ» (ساقه العقيلى فى ترجمة عائذ واورده الحافظ ورواه الطبرانى فى الاوسط وذكره الهيثمى وابن الجوزى)

اس طریق کے ایک راوی عبداللہ بن عبدالعزیز کے متعلق ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ "ضعیف" ہے۔ امام عقیلی کا قول ہے کہ: "اخطا فى السند والمتن وقلب اسم الراوى" یعنی سند و متن میں بہت خطا کار ہے اور راوی کا نام از خود گھڑ لیتا ہے۔ ابوحاتم رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے: "احاديثه منكرة" یعنی اس کی احادیث منکر ہوتی ہیں۔ امام عقیلی رحمۃ اللہ علیہ کا ایک اور قول ہے: "له احاديث مناكير" ابن جنید رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے: "لا يساوى فلسا" یعنی ایک پیسہ کے برابر بھی نہیں ہے اور: "يحدث باحاديث كذب" یعنی جھوٹی احادیث بیان کرتا ہے۔ امام ابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی عبداللہ بن عبدالعزیز کے متعلق ابن جنید رحمۃ اللہ علیہ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ: "لا يساوى فلسا" " ہیثمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ: "ضعيف جدا" یعنی وہ بہت زیادہ ضعیف ہے۔ اس طریق کے ایک دوسرے راوی عائذ بن ایوب کے متعلق امام ابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ابن ایوب "مجہول" ہے۔ لیکن حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ: عائذ بن ایوب کچھ پر گناہ نہیں ہے، بلکہ اس کا تو وجود ہی نہیں ہے۔ البتہ ایوب بن عائذ رجال التہذیب میں سے ہے۔

حضرت ابوسعید الخدری رضی اللہ عنہ سے بھی یہ حدیث صرف ایک طریق سے وارد ہوئی ہے، جو اس طرح ہے:

«فانبانا به محمد بن عبدالباقى قال انبانا ابو عبدالله القضاعى قال نا ابو مسلم محمد بن احمد بن على الكاتب قال حدثنا عبدالله بن يحى الاصفهانى قال نا عبدالله بن محمد بن زكريا الاصفهانى قال نا اسماعيل بن عمرو البجلى قال نا مسعر عن عيطة العوفى عن ابى سعيد الخدرى قال قال رسول اللهﷺ: طلب العلم..... الخ» (ذكره ابن الجوزى)

یہ روایت بھی قابلِ اعتبار نہیں ہے، کیونکہ اس طریق میں ایک راوی عطیہ العوفی ہے۔ جس کے متعلق حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں: "صدوق يخطئ كثيرا كا شيعيا مدا" یعنی وہ صدوق ہے لیکن کثرت کے ساتھ غلطیاں کرتا ہے اور وہ مدلس شیعہ تھا۔ ائمہ جمہور نے اس کے "ضعف" پر جرح کی ہے جن کے اقوال حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ اور علامہ ذہبی نے جمع کئے ہیں۔ علامہ ہیثمی رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ عطیہ "ضعیف" ہے، علامہ سخاوی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس کی "تضعیف" بیان کی ہے۔ امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے: "عطية واة"۔ امام ابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ عطیہ کی "تضعیف" ابن عدی رحمۃ اللہ علیہ، رازی رحمۃ اللہ علیہ اور دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ کی ہے۔ اور ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے: "لا يحل كتب حديثه الا على التعجب" یعنی اس کی حدیث لکھنا جائز نہیں ہے مگر صرف تعجب کے لیے۔

اگرچہ عطیہ العوفی کی بعض احادیث کی تحسین امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے کی ہے، لیکن حق یہ ہے کہ امام ابوعیسیٰ ترمذی کی کسی حدیث کے بارے میں تصحیح یا تحسین کرنا حجت نہیں ہے، کیونکہ اس سلسلہ میں آں رحمہ اللہ کچھ متساہل واقع ہوئے ہیں۔ چانچہ امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ کا ایک مشہور قول ہے کہ "لا يعتمد العلماء على تصحيح الترمذي" یعنی علماء امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ کی تصحیح پر اعتماد نہیں کرتے۔

اس طریق اسناد میں ایک دوسرا مجروح راوی اسماعیل بن عمرو ہے، جو امام دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ، رازی رحمۃ اللہ علیہ، ابن عدی رحمۃ اللہ علیہ اور ابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک "ضعیف" ہے۔

حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث بھی صرف ایک طریق سے ہی وارد ہوئی ہے، جو حسب ذیل ہے:

«فاخبرنا محمد بن عبدالملك قال نا اسماعيل بن مسعدة قال اخبرنا حمزة بن يوسف قال اخبرنا ابواحمد ابن عدى قال نا عبدالله بن محمد بن مسلم قال حدثنا عباس بن الوليد الخلال قال نا يحى بن صالح قال نا محمد بن عبدالملك قال نا محمد بن المنكدر عن جابر قال قال رسول اللهﷺ : طلب العلم..... الخ» (ذكره ابن الجوزى)

یہ روایت بھی صحیح نہیں ہے، کیونکہ امام ابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ: "اس طریق میں محمد بن عبدالملک ہے، جس کا ذکر ہم نے آنفا کیا ہے اور عباس بن ولید راوی "مطعون" ہے۔"

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے جو حدیث بیان کی جاتی ہے وہ چار طرق سے وارد ہوئی ہے اور وہ حسب ذیل ہیں:

طریقِ اول:

«انبانا اسماعيل بن احمد قال اخبرنا ابن مسعدة قال اخبرنا حمزة بن يوسف قال انا ابو احمد بن عدى قال انا القاسم بن الليث قال نا معانى بن سليمان قال نا ابوالبخترى قال نا محمد بن ابى حميد عن نافع عن ابن عمر قال قال رسول اللهﷺ: طلب العلم فريضة على كل مسلم مؤمن»(ذكره ابن الجوزى)

یہ روایت بھی ساقط الاعتبار ہے، کیونکہ اس طریق میں ایک راوی ابوالبختری ہے جس کا نام وہب ابن وہب المدنی القاضی ہے۔ اس کے متعلق ابن معین کا قول ہے: "كان يكذب عدو الله" یعنی وہ اللہ کا دشمن جھوٹ بولتا تھا۔ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے: "كا يضع الحديث وصنعا" یعنی وہ جھوٹی حدیثیں گھڑا کرتا تھا۔ امام ابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ نے اسے مقدمہ "موضوعات" میں "انه من كبار الوضاعين" یعنی وہ کبار وضاعین میں سے تھا، لکھا ہے۔ اس طریق کا دوسرا راوی محمد ابن ابی حمید ہے، جس کے متعلق امام ابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ کا قول نقل کرتے ہیں: "ليس بشئ" کا قول ہے: "لا يحتج به" یعنی حجت نہیں ہے۔ محمد ابن ابی حمید کو ذہبی نے بھی "ضعیف" بتایا ہے۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس پر "منکر الحدیث" ہونے کا حکم لگایا ہے۔ امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے: "ليس بثقة" یعنی ثقہ نہیں ہے۔ علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے: "اس کی حدیث سے کوئی استشہاد نہیں ہے۔" حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ محمد بن ابی حمید "متروک" ہے۔ ایک اور مقام پر کہا ہے کہ وہ "ضعیف الحدیث" اور"سیئی الحفظ" ہے۔ امام عقیلی رحمۃ اللہ علیہ نے اسے "ضعفاء" میں شمار کیا ہے۔

طریقِ دوم:

«انبانا عبدالوهاب بن المبارك قال اخبرنا محمد بن المظفر قال اخبرنا العتيقى قال نا ابن الدخيل انا العقيلى قال نا محمد بن احمد الانطاكى قال نا روح بن عبدالواحد القرشى قال حدثنا موسى بن اعين عن ليث بن ابى سليم عن مجاهد عن ابن عمر قال قال رسو ل اللهﷺ: طلب العلم...... الخ» (ذكره العقيلى فى ترجمة الروح وابن الجوزي)

یہ طریقِ اسناد بھی قوی نہیں ہے، کیونکہ اس میں ایک راوی لیث بن ابی سلیم ہے جو "ضعیف" ہے۔ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کے ترجمہ میں درج کیا ہے: "صدوق اختلط اخيرا ولم يتمز فترك" یعنی صدوق ہے۔ آخر عمر میں اختلاط کا شکار ہوا اور تمیز نہ کر پاتا تھا، پس ترک کر دیا گیا۔ علامہ ہیثمی نے بھی اس کے "ضعف" کی یہی علت بیان کی ہے۔ حافظ عراقی رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے: "اسناده لين" یعنی اس کی اسناد میں لچک ہے۔ ابن ابی حاتم رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ "عیسیٰ بن یونس روایت کرتے ہیں: "میں نے اسے لکھا ہے وہ اختلاط کا شکار تھا۔"

امام ابن الجوزی نے بھی کتاب "الموضوعات" میں اس کے "ضعف" کو بیان کیا ہے۔ ابن عدی کا قول ہے: "وتفرد به موسى عن ليث" یعنی اس میں موسیٰ کا لیث سے روایت میں تفرد ہے۔ لیث کو امام احمد رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ نے ترک کیا ہے، اگر ابن معین نے اس کے متعلق "لا باس به" کہا ہے، لیکن اس کے ضعف کے لیے اس کا اختلاط کرنا ہی کافی ہے۔ ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اسے "ضعیف" شمار کیا ہے۔ ابن عدی کا ایک اور قول ہے: "وعامة حديثه غير محفوظ" یعنی عموما اس کی حدیث غیرمحفوظ ہوتی ہے۔ امام دارقطنی کا قول ہے: "فغاية فى الضعف" یعنی حد درجہ ضعیف ہے۔ ابن خراس کا قول ہے: "هو متروك يضع الحديث" یعنی وہ متروک ہے اور حدیث گھرا کرتا ہے۔ علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ اور علامہ ابن عراق نے بھی اس کی "تضعیف" سے اتفاق کیا ہے۔ امام ابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ: لیث بن ابی سلیم کے متعلق ابوزرعہ رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے: "لا اشتغل به" اور ابن حبان کا قول ہے: ۔۔۔آخر عمر میں وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا، اسانید از خود گھڑ لیا کرتا تھا اور مراسیل کو مرفوع کر دیتا تھا۔ اس کو ابن مہدی و یحییٰ و احمد نے ترک کیا ہے۔ علامہ محمد ناصر الدین الالبانی نے بھی ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ کے اس قول کو نقل کیا ہے۔

لیث بن ابوسلیم کے علاوہ اس طریق میں روح بن عبدالواحد بھی ہے، جس سے یہ حدیث بیان کرنے کے بعد امام عقیلی فرماتے ہیں: "لا يتابع عليه" یعنی کوئی اس کی اتباع نہیں کرتا، اورابوحاتم رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے: "ليس بالمثين روى احاديث متناقضة" یعنی وہ متین نہیں ہے، متناقض احادیث روایت کرتا ہے۔ ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی توثیق کی ہے۔ ابن عدی رحمۃ اللہ علیہ نے خلید بن دعلج کے ترجمہ میں اس کی احادیث پر تعقب کیا ہے۔

طریقِ سوم:

«انا ابو منصور ابن خيرون قال اخبرنا ابن مسعدة قال نا حمزة قال نا ابن عدى قال نا عبدالله بن محمد بن مسلم قال نا عباس بن الوليد الخلال قال نا يحيى بن صالح (قال نا) محمد بن عبدالملك قال حدثنا نافع عن ابن عمر قال قال رسول اللهﷺ: طلب العلم.... الخ» (ذكره ابن الجوزى)

یہ روایت بھی صحیح نہیں ہے، کیونکہ اس طریق کے متعلق امام ابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس میں محمد بن عبدالملک ہے، جس کے متعلق امام احمد کا قول ہے: "قدرأيته و كان يضع الحديث ويكذب" یعنی میں نے اس کو دیکھا ہے وہ حدیث گھرا کرتا اور جھوٹ باندھا کرتا تھا۔ ابن حبان کا قول ہے: "لا يحل ذكره فى الكتب الا على جهة القدح فيه" یعنی اس کا ذکر کتابوں میں کرنا جائز نہیں ہے مگر صرف اس پر جرح و قدح کے لیے۔"

طریقِ چہارم:

«انبانا محمد بن عبدالملك قال انبانا الجوهرى عن الدارقطنى عن ابى حاتم ابن حبان قال اخبرنا ابوبكر ابن ابى شيبه قال نا احمد بن منيع قال نا مهنأ بن يحي الرملى عن احمد بن ابراهيم بن موسى عن مالك عن نافع عن ابن عمر عن النبى ﷺ: طلب العلم.... الخ» (ذكره ابن حبان والدارقطنى والحافظ وابن الجوزى)

اس روایت پر بھی بھروسہ نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اس کے راوی احمد بن ابراہیم بن موسیٰ کے متعلق امام ابن الجوزی، ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ کا قول نقل فرماتے ہیں: "يروى عن مالك مالم يحدث به قط" یعنی مالک سے "عن" کے ساتھ روایت کرتا ہے، حالانکہ انہوں نے اس سے کوئی حدیث بیان نہیں کی ہے اور فرمایا: "هذا الحديث لا اصل له من حديث ابن عمر ولا من حديث نافع ولا من حديث مالك" یعنی اس حدیث کی نہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث سے، نہ نافع کی حدیث سے اور نہ ہی مالک کی حدیث سے کوئی اصل ہے۔

اس روایت کے ایک دوسرے راوی مہناء کے متعلق امام دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے:

"میں نے مہناء کا احتساب کیا ہے، اس میں وہم پایا جاتا ہے۔ ایک طرف وہ مالک موسیٰ بن ابراہیم المروزی سے روایت کرتا ہے پھر اسی روایت کو طریق موسیٰ بھی روایت کرتا ہے، خطیب بغدادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "محمد بن بیان، جس نے مہناء سے اور اس نے موسیٰ بن ابراہیم سے روایت کی ہے اس نے اسی طرح مالک سے بھی روایت کی ہے جس سے ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ: "لا يثبت شئ من القولين معا" یعنی ان دونوں اقوال میں کچھ بھی ثابت نہیں ہوتا۔"

اختتام پر اس باب کی جملہ احادیث کی تصحیح و تضعیف میں کبار محدثین و علمائے نقد و جرح محققین کے جو مختلف اقوال و آراء ذخیرہ کتب میں ملتی ہیں، ان میں سے چند یہاں پیش کی جاتی ہیں۔

عراقی کا قول ہے کہ "قد صح بعض الائمة بعض طرقه" یعنی بعض ائمہ نے اس کے بعض طرق کی تصحیح کی ہے۔ علامہ مزی رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے: "ان طرقه تبلغ به رتبة الحسن" یعنی اس روایت کے طرق حسن کے رتبہ تک پہنچتے ہیں۔ امام بیہقی کا قول ہے: "متنه مشهورواسناده ضعيف وقد روى من اوجه كلها ضعيف" یعنی اس کا متن مشہور لیکن اس کی اسناد ضعیف ہیں۔ اور روایت کی گئی ہے کہ بوجوہ یہ تمام ضعیف ہیں۔ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کا مشہور قول ہے: "لا يثبت عندنا فى هذاالباب شئ" یعنی ہمارے نزدیک اس باب میں کوئی چیز ثابت نہیں ہے۔ ایسا ہی ایک قول ابن راھویہ سے بھی منقول ہے۔ ابوعلی نیشاپوری کا قول ہے: "انه لم يصح عن النبىﷺ فيه اسناد، ومثل به الحاكم للمشهور ليس بصحيح" یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسے روایت کرنا صحیح نہیں ہے۔ اس میں (ضعیف) اسناد ہیں۔ اور ایسا ہی حاکم سے منقول ہے کہ یہ روایت مشہور ہے، صحیح نہیں ہے۔ ابن الصلاح نے بھی اس بارے میں اسی رائے کی اتباع کی ہے۔ علامہ ابوالحسن علی بن محمد عراق الکنانی رحمۃ اللہ علیہ اور علامہ سخاوی رحمۃ اللہ علیہ نے ان تمام اقوال کو اپنی تصانیف میں ترجیحا نقل کیا ہے۔

امام ابن الجوزی نے "العلل المتناہیہ فی الاحادیث الواہیہ" میں اس روایت کے اکثر طریقِ اسناد جمع کرنے کے بعد ان میں سے ہر ایک کو فنِ اسماء الرجال کی کسوٹی پر پرکھا اور ان تمام روایات کی قلعی کھول کر تحقیق کا حق ادا کر دیا ہے۔ فجزاہ اللہ، اختتام پر آں رحمہ اللہ ان تمام روایات کے متعلق فیصلہ کن انداز میں فرماتے ہیں: "هذه الاحاديث كلها لا يثبت" یعنی تمام احادیث ثابت نہیں ہیں۔ آں رحمہ اللہ نے اس بارے میں امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کا یہ مشہور قول نقل فرما کر بحث کا خاتمہ فرمایا ہے: "لا يثبت عندنا فى هذا الباب شئ" جو اپنی جگہ ایک سند اور حتمی فیصلہ کا مقام رکھتا ہے۔
حوالہ جات

1. اخرجہ الخطیب رحمۃ اللہ علیہ ج5 ص 204 والمعجم الصغیر للطبرانی ج1 ص 92 طبع المکتبۃ السلفیۃ المدینۃ المنورۃ و مجمع الزوائد للہیثمی ج1 ص 120 طبع مکتبۃ القدسی 1352ھ والعلل المتناہیہ لابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ ج1 ص 54

2. مجمع الزوائد للہیثمی ج1 ص 52، 53

3. المحجۃ للحافظ العراقی رحمۃ اللہ علیہ ج1 ص 56

4. میزان الاعتدال للذہبی رحمۃ اللہ علیہ ج2 ص 632

5. سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ للالبانی ج1 ص 194

6. العلل المتناہیہ لابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ ج1 ص 62

7. المعجم الصغیر للطبرانی رحمۃ اللہ علیہ ج1 ص 92 واخرجہ الخطیب البغدادی رحمۃ اللہ علیہ ج5 ص 204

8. العلل المتناہیہ لابن الجوزی ج1 ص 62

9. الفقیہ والمتفقہ للخطیب رحمۃ اللہ علیہ ج1 ص 44

10. والعلل المتناہیہ لابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ ج1 ص 55

11. ابن حبان ج2 ص 119

12. سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ للالبانی ج2 ص 149

13. العلل المتناہیہ لابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ ج1 ص 62

14. اخرجہ الخطیب رحمۃ اللہ علیہ ج1 ص 407 والعلل المتناہیہ لابن الجوزی ج1 ص 54

15. العلل المتناہیہ لابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ ج1 ص 62

16. مجمع الزوائد للہیثمی ج1 ص 119 والمطالب للحافظ رحمۃ اللہ علیہ ج3 ص 130 والموضوع للخطیب ج2 ص 270 والعلل المتناہیہ لابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ ج1 ص 56

17. موضوعات لابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ ج2 ص 232 والعلل المتناہیہ لابن الجوزی ج1 ص 62

18. تقریب التہذیب للحافظ رحمۃ اللہ علیہ: ترجمہ عثمان بن عبدالرحمن

19. الاحکام الکبریٰ للشیخ عبدالحق رحمۃ اللہ علیہ ج2 ق 138

20. مجمع الزوائد للہیثمی ج4 ص 269

21. میزان الاعتدال للذہبی ج3 ص 43

22. العلل المتناہیہ لابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ ج1 ص 63

23. لسان المیزان للحافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ ج3 ص 225 و مجمع الزوائد للہیثمی رحمۃ اللہ علیہ ج1 ص 120 والعلل المتناہیہ لابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ ج1 ص56

24. لسان المیزان للحافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ ج3 ص 31

25. العلل المتناہیہ لابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ ج1 ص 64

26. مجمع الزوائد للہیثمی ج1 ص 120

27. العلل المتناہیہ لابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ ج1 ص 64

28. لسان المیزان لابن حجر رحمۃ اللہ علیہ ج3 ص 225،226

29. العلل المتناہیہ لابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ ج1 ص 62

30. تقریب التہذیب للحافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ، ترجمہ عطیہ العوفی

31. تہذیب التہذیب للحافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ و میزان الاعتدال للذہبی رحمۃ اللہ علیہ۔ تراجم عطیہ العوفی

32. سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ للالبانی ج2 ص 15

33. العلل المتناہیہ لابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ ج1 ص 65-66

34. مقالات للکوثری ص311

35. العلل المتناہیہ ج1 ص 65-66

36. ایضا ج1 ص 57

37. ایضا ج1 ص64

38. ایضا ج1 ص 55

39. کتاب الموضوعات لابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ ج1 ص 47

40. العلل المتناہیہ لابن الجوزی ج1 ص 63

41. تدریب الراوی

42. المطالب العالیہ

43. الضعفاء للعقیلی رحمۃ اللہ علیہ ج7 ص 42

44. العلل المتناہیہ لابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ ج1 ص 56

45.تقریب التہذیب لابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ: ترجمہ لیث بن ابی سلیم

46. مجمع الزوائد للہیثمی ج1 ص 134

47. تخریج الاحیاء لابن عراق رحمۃ اللہ علیہ ج1 ص 143

48. ابوحاتم رحمۃ اللہ علیہ ج2-3 ص 178

49. موضوعات لابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ ج3 ص 250 والعلل المتناہیہ لابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ ج1 س 63

50. اللالی للسیوطی رحمۃ اللہ علیہ ج1 ص 101،102 و میزان الاعتدال للذہبی رحمۃ اللہ علیہ والتہذیب التہذیب لابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ

51. کتاب المجروحین لابن حبان رحمۃ اللہ علیہ ج1 ص 57 و ج2 ص 231

52. اللالی للسیوطی رحمۃ اللہ علیہ ج2 ص 450

53. تخریج الاحیاء لابن عراق رحمۃ اللہ علیہ ج1-2 ص 392

54. العلل المتناہیہ لابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ ج1 ص 63

55. سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ للالبانی ج1 ص 436۔ 437

56. ابن عدی ج2 ص 120

57. لسان المیزان لابن حجر رحمۃ اللہ علیہ ج2 ص 466

58. العلل المتناہیہ لابن الجوزی ج1 ص 55

59. ایضا ج1 ص 63

60. مجروحین لابن حبان رحمۃ اللہ علیہ ج1 ص 141 طبع دارالوعی بحلب 1396ھ ولسان المیزان للحافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ ج1 ص 132 والعلل المتناہیہ لابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ ج1 ص 55

61. العلل المتناہیہ لابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ ج1 ص 63

62. لسان المیزان للحافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ ج1 ص 132

63. تخریج الاحیاء لابن عراق رحمۃ اللہ علیہ

64. تنزیۃ الشریعۃ المرفوعۃ عن الاخبار الشنیعۃ والموضوعۃ لابن عراق رحمۃ اللہ علیہ ج1 ص 258 طبع مطبعۃ العاطف 1378ھ والمقاصد الحسنہ للسخاوی رحمۃ اللہ علیہ ص 275