بدعات کے خلاف جنگ کرنا فرض ہے

بدعت خواہ کتنی چھوٹی ہو، اس کا انکار کرنا اور اس سے لوگوں کو ڈرانا چاہئے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو بدعت سے ڈرایا اور اس کی مذمت بیان فرمائی تو اس کی اقسام میں کوئی فرق نہیں بتلایا۔ بلکہ ہر بدعت پر ضلالت کا اطلاق کیا ہے۔ بناء برین بدعت کا ہر کام مطلقا ممنوع اور حرام ہے اور اس کی مذمت بیان کرنا ضروری، نیز بدعت کا کام خواہ کتنا ہی معمولی اور چھوٹا کیوں نہ ہو،اس پر عمل نہ کرنا واجب ہے۔ کیونکہ یہ گمراہی ہے اور ہر گمراہی بموجبِ فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم، جہنم کی نذر ہو گی۔۔۔ جس کا واضھ مطلب یہ ہے کہ بدعتی کا ہر کام اسے جہنم کی طرف لے جائے گا۔ چنانچہ اس کے خلاف نبرد آزما ہونا لازمی ہے۔ درج ذیل احادیث و آثار اس امر کی تائید کرتے ہیں:

1۔ صحیح بخاری میں ایک شخص کا واقعہ مذکور ہے، جو دھوپ میں کھڑا ہوا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا اور لوگوں سے پوچھا کہ اس کا کیا ماجرا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ ابو اسرائیل ہے، اس نے نذر مانی ہوئی ہے کہ روزک رکھ کر دھوپ میں کھڑا رہے گا اور سایہ میں نہیں بیٹھے گا، نہ ہی کسی سے بات چیت کرے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر ارشاد فرمایا، "اسے کہو کہ سایہ میں جا کر بیٹھے، لوگوں سے باتیں کرے اور اپنے روزے کو پورا کرے۔

2۔ صحیح بخاری میں یہ واقعہ بھی مذکور ہے کہ ایک مرتبہ تین شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے دروازے پر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف نہ رکھتے تھے۔ لہذا وہ ازواج مطہرات رضی اللہ عنہم سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کے متعلق سوال کرنے لگے۔ جب انہیں اس کے متعلق بتلایا گیا تو انہوں نے کہا، کہاں ہم اور کہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم؟ ۔۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تو اللہ تعالیٰ نے سب اگلے پچھلے گناہ معاف فرما رکھے ہیں (لہذا ہمیں اس سے بڑھ کر عبادت کرنی چاہئے) چنانچہ ایک نے کہا کہ میں ہمیشہ رات بھر جاگ کو اللہ کی عبادت کیا کروں گا۔ دوسرے نے یہ عہد کیا کہ میں ہمیشہ روزہ رکھا کروں گا جبکہ تیسرا بولا، میں آئندہ عورتوں سے کوئی تعلق نہ رکھوں گا۔ یعنی ازدواجی زندگی سے الگ تھلگ رہ کر عبادت میں مصروف رہوں گا۔ جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی باتوں کی اطلاع دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلا کر پوچھا، کیا تم نے فلاں فلاں بات کہی ہے؟ انہوں نے اعتراف کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، "بخدا میں تم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں۔ تم سے زیادہ متقی ہوں، بایں ہمہ روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں، رات کو کبھی نماز پڑھتا ہوں اور کبھی سو جاتا ہوں۔ میں نے متعددد عورتوں کو اپنے ازدواجی رشتے میں منسلک کر رکھا ہے۔۔۔چنانچہ جو شخص میری سنت سے روگردانی کرتا ہے، میری امت سے خارج ہے۔"

3۔ بدعت کے متعلق حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کا موقف ان کے اس خطبہ سے واضح ہے جس میں آپ نے فرمایا:

"لوگو، خدا کی قسم اگر میں کسی مردہ سنت کو زندہ نہ کروں اور کسی رائج شدہ بدعت کو ختم نہ کروں تو ایسی بے کار زندگی کی مجھے ہرگز ضرورت نہیں اور میں ایک لمحہ کے لیے بھی زندہ رہنا پسند نہیں کروں گا"

4۔ یحییٰ بن یحییٰ کہا کرتے تھے کہ:

"سنت کا دفاع کرنا افضل ترین جہاد ہے۔"

۔۔۔اور اس جہاد کی صورت یہی ہے کہ سنت کو فروغ دیا جائے اور بدعت کے خلاف جہاد قائم کرتے ہوئے اس کا قلع قمع کیا جائے۔

مذکورہ حدیث و آثار سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ بدعت کے خلاف نزرد آزما دینی فریضہ ہے اور اس میں سستی و غفلت ہرگز ہرگز جائز نہیں۔

بدعت کے اسباب:

بدعت کے اسباب پہنچاننے سے، بدعت کے خلاف نبرد آزما ہونا آسان ہو جاتا ہے، یا کم از کم یہ بات بدعات کو کم کرنے اور مسلمانوں میں اسے پھیلنے سے روکنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ لہذا اس کے اسباب ذیل میں درج کئے جاتے ہیں:

1۔ سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے عدمِ واقفیت:

بدعت کے اسباب میں سے ایک بڑی وجہ سنتِ نبوی سے جہالت ہے۔ کیونکہ جو شخص سنت سے ناواقف ہوتا ہے، گمراہی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اور گمراہ لوگ ہی عموما بدعات جاری کرتے ہیں۔

2۔ سنت پر عدمِ عمل:

سنت پر عمل نہ کرنا بھی بدعات میں مشغولیت کا سبب بنتا ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے:

﴿وَمَن يَعشُ عَن ذِكرِ‌ الرَّ‌حمـٰنِ نُقَيِّض لَهُ شَيطـٰنًا فَهُوَ لَهُ قَر‌ينٌ ﴿٣٦﴾ وَإِنَّهُم لَيَصُدّونَهُم عَنِ السَّبيلِ وَيَحسَبونَ أَنَّهُم مُهتَدونَ ﴿٣٧﴾... سورة الزخرف

"جو شخص اللہ کی یاد سے غافل ہو جاتا ہے، ہم اس کے لیے شیاطین کو ساتھی مقرر کر دیتے ہیں۔ یہ شیاطین ایسے لوگوں کو (اللہ کی) راہ سے روکتے ہیں لیکن وہ یہی سمجھتے رہتے ہیں کہ وہ ہدایت یافتہ ہیں۔"

3۔ دینی بصیرت کے بغیر نیکی کے امور میں وافر جذبہ اطاعت:

اضافی بدعات کا یہ سب سے بڑا سبب ہے۔ کیونکہ ایک ایسا شخص جو اطاعت میں رغبت اور وافر شوق کا اظہار کرتا ہے، لیکن دینی بصیرت نہیں رکھتا تو یہی شوق و رغبت ایسے بدعات پر آمادہ کریں گے اور وہ دین میں اضافہ کا مرتکب ہو گا۔

4۔ خشیتِ الہی میں افراط و تفریط:

کہا جاتا ہے کہ ڈر ایک ایسا کوڑا ہے جو سبھی کو ہانکتا ہے، جبکہ امید ایک حدی خواں رہنما ہے۔۔ خوفِ الہی کی ایسی شدت بھی، جو امیدِ رحمت سے خالی ہو، بعض اوقات انسان کو اطاعت و عبادت میں افراط و تفریط پر آمادہ کر دیتی ہے، جو فعلی بدعت پرمنتج ہوتی ہے۔ جیسا کہ ابواسرائیل کا واقعہ اوپر گذر چکا ہے، اور ان تین اشخاص کا بھی، جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کو کمتر جانتے ہوئے ایسا ارادہ کر لیا جو دین میں رہبانیت کے اجراء کا باعث بن سکتا تھا۔

5۔ اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ مکروفریب:

آج بہت سے لوگ حُبِ اہل بیت کا مسئلہ کھڑا کر کے دین میں نئی نئی باتوں کو رواج دے رہے ہیں اور یوں لوگوں کی گمراہی کا سبب بن رہے ہیں۔۔۔غالی صوفیوں کے مختلف طریقے بھی اسی ذیل میں آتے ہیں۔ درحقیقت یہ سب کچھ اسلام کو ملیامیٹ کرنے اور مسلمانوں کا وجود ختم کرنے کی سازش ہے، لیکن جو خیر اور نیکی کی آڑ میں کی جا رہی ہے۔ چنانچہ یہ مکروفریب بھی بدعات کے اجراء کا سبب بن رہا ہے۔

6۔ اصحابِ اقتدار کے ہاں منصب و جاہ کے حصول کی تمنا:

کتنی ہی ایسی بدعات ہیں جو صرف بادشاہوں اور حکمرانوں کی خوشنودی کی خاطر ایجاد کی گئیں۔ تاکہ جاہ و منصب کا حصول ممکن ہو سکے۔ چنانچہ قرآن مجید کی بعض آیات کی تفسیر ان کی مرضی کے مطابق کی گئی، اپنی طرف سے احادیث وضع کی گئیں، حتیٰ کہ اسی جلبِ منفعت کی خاطر حلال کو حرام اور حرام کو حلال بنا ڈالا گیا۔۔۔خلقِ قرآن کا مسئلہ بھی ایک ایسی بدعت تھی جو محض بادشاہوں کے ہاں اپنی قدر و منزلت بڑھانے کی خاطر ایجاد کی گئی اور جو بدعات کے لئے بدترین مثال ہے۔

7۔ اپنے منصب و مرتبہ پر برقرار رہنے کی خاطر بدعت کا اجراء:

ہمارے معاشرے میں ایسے لوگ بکثرت پائے جاتے ہیں جو شریعت کے امور سے جاہل ہونے کے باوجود شیخِ طریقت کی مسند پر براجمان ہوتے یا جماعت کی امامت کا عہدہ سنبھالے ہوتے ہیں۔ حالانکہ اس عہدہ اور منصب کی ان میں اہلیت نہیں ہوتی۔ لیکن چونکہ اس عہدہ پر فائز رہنا ان کی ضرورت ہوتی ہے، لہذا اپنی طرف سے کچھ اور ادواذکار و ظائف جاری کر کے اپنے مریدوں اور اخوانِ طریقت کو سکھاتے ہیں۔ بدعت کا یہ سبب آج کل اس قدر پایا جاتا ہے کہ اس کا احاطہ کرنا ناممکنات میں سے ہے اور جس کی زد میں عقائد و عبادات وغیرہ سبھی آجاتے ہیں۔

8۔ کسی بدعت کا مصالح مرسلہ کے مشابہ ہونا:

بدعت جاری کرنے، پھیلانے اور ان پر عمل پیرا ہونے کا یہ بھی ایک بہت بڑا سبب ہے، کیونکہ مصالح مرسلہ کی اپنی ایک حیثیت ہے اور مسلمان انہیں کارِ خیر تصور کرتے ہیں جبکہ قاعدہ یہ ہے کہ جس بات کو مسلمان اچھا تصور کریں وہ اچھی ہو گی۔ بناء بریں ان سے مشابہ بدعات کو فروغ ملتا ہے۔ لہذا ضروری ہے کہ بدعت اور مصالح مرسلہ کی پہچان کے بغیر ممکن نہیں۔۔۔یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ اہل بدعت، عموما بدعت کے جواز میں مصالح مرسلہ کی حجیت پیش کرتے ہیں۔ چنانچہ بدعت کے ابطال کے لیے مصالح مرسلہ کے متعلق جاننا انتہائی ضروری ہے اور اصول فقہ میں یہ ایک مستقل موضوع ہے۔

مصالح مرسلہ

اسلامی شریعت بندوں کے مصالح کو پورا کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔ مصالح، مصلحت کی جمع ہے اور جس کے دو پہلو ہیں۔ ایک مثبت پہلو اور دوسرا منفی پہلو۔ کسی منفعت کا حصول اس کا مثبت پہلو ہے، جبکہ دفع مضرت، یعنی کسی خرابی یا نقصان کو دور کرنا اس کا منفی پہلو ہے۔

مصالح میں بعض وہ ہیں کہ جن کا شارع نے اعتبار کیا ہے۔ اعتبار سے مراد یہ ہے کہ شارع نے ایسے احکام دیے ہیں جن کے ذریعے ان مصالح تک رسائی ہو سکتی ہے۔ مثلا جان کی حفاظت کے لیے شریعت نے قصاص کا حکم دیا، دین کی حفاظت کے لیے جہاد کا حکم دیا، عقل کی حفاظت کے لیے شراب نوشی پر حد مقرر کی اور مال کی حفاظت کے لیے چوری کی حد مقرر کی۔

یہ تمام مصالح، مصالح معتبرہ کہلاتی ہیں۔ اور ان کی ضرورت یہ ہے کہ کوئی ایسا واقعہ، جس کے بارے میں شارع کی طرف سے کوئی منصوص حکم موجود نہ ہو، لیکن علت میں یہ کسی ایسے دوسرے واقعہ سے مساوی ہو کہ جس کے بارے میں شارع کا منصوص حکم موجود ہو، تو اس اول الذکر غیر منصوص واقعہ پر، ثانی الذکر منصوص واقعہ کے حکم کا اطلاق ہو گا۔

مصالح معتبرہ کے مقابلے میں بعض ایسی مصالح بھی ہیں جو محض باطل خیال یا وہم پر مبنی ہوتی ہیں اور سرے سے ان کی کوئی حقیقت ہی نہیں ہوتی۔ چنانچہ شریعت نے نہ تو انہیں درخورِ اعتناء جانا اور نہ ہی انہیں معتبر سمجھا، بلکہ انہیں لغو قرار دیا۔ یہ مصالح مصالح نلغاۃ کہلاتی ہیں۔ مثلا میراث میں قرآن مجید کے حکم سے ماخوذ یہ قاعدہ مقرر ہے کہ مرد کو عورت سے دوگنا حصہ ملے گا۔ اب اگر کوئی شخص یہ کہے کہ مصلحت تو یہ ہے کہ مرد و عورت دونوں کو برابر حصہ ملنا چاہئے، تو یہ ایسی مصلحت ہے کہ جسے شریعت نے لغو قرار دیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿ یُوْصِیْكُمُ اللّٰهُ فِیْۤ اَوْلَادِكُمْ ۗ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ ...﴿١١﴾... سورةالنساء

"اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی اولاد کے بارے میں حکم دیتا ہے (یعنی تقسیم ترکہ کا) کہ مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے۔"

اس کی دوسری مثال یہ ہے کہ سود خوار، اپنے مال کے اضافہ کے لیے سود کا سہارا لیتا ہے۔ لیکن شریعت نے سود کو حرام قرار دے کر اس مصلحت کو بھی لغو قرار دیا ہے۔

اسی طرح اگر کچھ لوگ اپنی بزدلی یا جان بچانے کی خاطر جہاد سے بیٹھ رہیں، تو ان احکام کے پیشِ نظر، جو شریعت نے جہاد کے سلسلہ میں دیے ہیں، یہ مصلحت لغو قرار پائے گی۔۔۔چنانچہ ایسی مصالح پر احکام کی بنیاد نہیں رکھی جا سکتی۔

مصالح معتبرہ (جن کا شریعت نے اعتبار کیا ہے) اور مصالح نلغاۃ (جنہیں شریعت نے لغو قرار دیا ہے) کے پہلو بہ پہلو کچھ ایسی مصالح بھی ہیں کہ جنہیں نہ تو شارع نے لغو قرار دیا اور نہ ہی ان کے معتبر ہونے کے بارے میں کوئی وضاحت فرمائی۔ بلکہ یہ ایسے واقعات سے متعلق ہوں کہ جن کے بارے میں شریعت نے سکونت اختیار کیا ہو، یا کسی منصوص حکم سے ان کی نظیر نہ ملتی ہو، تاہم ان میں کوئی ایسا وصف موجود ہوتا ہے کہ جو کسی معین حکم کے استنباط کے لیے مناسب ہوتا ہے۔ اور نتیجۃ حصولِ منفعت یا ازالہ نقصان کا سبب بنتا ہے۔۔۔تو ایسی مصالح، مصالح مرسلہ کہلاتی ہیں۔۔مصلحتِ مرسلہ کی ایک آسان سی تعریف فقہاء نے یوں کی ہے کہ جس کام کے بغیر واجب یا فرض کی تکمیل نہ ہوتی ہو، وہ بھی واجب یا فرض ہوتا ہے۔ مثلا نماز و طواف کے لیے طہارت فرض ہے جبکہ طہارت کی تکمیل پاک پانی کے بغیر ممکن نہیں۔۔۔اب پاک پانی کا حصول بذاتِ خود فرض یا واجب نہیں، لیکن چونکہ فرضیت طہارت اس پر موقوف ہے، لہذا پاک پانی کا حصول بھی فرض ہے۔ پس یہ وہ قاعدہ ہے جو مصالح مرسلہ میں استعمال ہوتا ہے۔ اور جو دین کے سلسلہ میں لوگوں کے لیے مفید اور نتیجہ خیز ثابت ہوتا ہے۔۔۔مصالح مرسلہ کی مزید مثالیں ہم ذیل میں درج کرتے ہیں تاکہ ان میں اور بدعات میں امتیاز نکھر کر سامنے آ جائے۔

1۔ ایک کاریگر کے پاس لوگوں کا جو سامان ہوتا ہے، اس کے تلف اور ضائع ہونے کی صورت میں وہ اس کا ضامن ہوتا ہے اور اس کی ادائیگی کا پابند ہوتا ہے۔ لیکن اس ضمانت کے متعلق شریعت میں کوئی ذکر نہیں۔ شریعت نے نہ اس کا اعتبار کیا ہے اور نہ اسے لغو قرار دیا ہے۔ البتہ خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ کاریگر کے پاس سے اگر لوگوں کا مال ضائع ہو جائے تو وہ اسے ادا کر لے گا۔ چنانچہ علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

"اس کے بغیر لوگوں کے امور درست نہیں رہ سکتے"

کیونکہ صانع کے پاس لوگوں کے جانے کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا اور وہ اپنا سامان صانع کو دے کر چلے جاتے ہیں۔ اگر صانع کو اس سامان کا ضامن نہ بنایا جائے تو وہ اُس سامان کی حفاظت و نگہداشت نہیں کرے گا، اس کا نتیجہ صرف یہی نہیں ہو گا کہ لوگوں کا نقصان ہو گا، بلکہ لوگ اپنا سامان صانع کے پاس نہ چھوڑیں گے تو صنعت گری کا کاروبار ہی ٹھپ ہو کر رہ جائے گا۔۔۔ظاہر ہے لباس سلوانے کے لیے ایک درزی کو دیا جانے والا کپڑا ہی درزی غائب کر دے تو دوبارہ اس کے پاس لباس سلوانے کے لیے کون جائے گا؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اس فرمان کا یہی مطلب ہے کہ "اس کے بغیر لوگوں کے امور درست نہیں رہ سکتے"

اس استدلال کی ضرورت یوں پیش آئی ہے کہ صانع کی ذمہ داری کے متعلق شریعت نے کوئی ذکر نہیں کیا، اس کو واجب قرار دیا نہ ضروری اور نہ اسے لغو قرار دیا۔ لیکن صانع کا ذمہ دار ہونا چونکہ مصلحتِ عامہ پر مبنی تھا، جو اُن کی خاص مصلحت سے اہم تھا، لہذا شریعت کے تصرفات میں یہ ضمانت اور ذمہ داری مناسب ہے، جس میں مصلحتِ عامہ کو مصلحتِ خاصہ پر مقدم رکھا گیا اور مصلحتِ عامہ کی مصلحتِ خاصہ پر ترجیح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے واضح ہے کہ:

"کوئی شہری باشندہ، کسی دیہاتی سے شہر میں پہنچنے سے پہلے کوئی چیز نہ خریدے"

2۔ اس کی دوسری مثال قرآن مجید کا جمع کرنا اور اسے کتابی صورت دینا ہے۔ چنانچہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں قرآن مجید کو جمع کیا گیا اور کتابی صورت میں اسے تحریر کیا گیا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اس پر اجماع اور یہ کام کر دیا گیا۔۔۔جبکہ اس سے قبل قرآن مجید الگ الگ سورتوں میں اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس متفرق حصوں میں موجود تھا۔۔۔یہ بھی مصالح مرسلہ کی ایک قسم ہے۔ کیونکہ شارع علیہ السلام نے نہ تو اس کے جمع کرنے کا حکم دیا اور نہ ممانعت فرمائی۔ ہاں امت کی مصلحت اور دین کا یہ تقاضا تھا کہ قرآن پاک کی کتابت ہو کر اسے کتابی صورت دے دی جائے تاکہ یہ تلف ہونے سے محفوظ ہو جائے اور کوئی اس کا انکار نہ کر سکے۔۔۔حفاظ کی وفات یا نسیان سے قرآن مجید ضائع نہ ہو جائے۔

3۔ مصالح مرسلہ کی ایک مثال حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ اقدام بھی ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے تقسیمِ وظائف اور مسلمانوں کو جہاد میں بھیجنے کے لیے رجسٹر بنانے کا حکم دیا۔

4۔ کسی تہمت لگانے والے کو مارنا، چنانچہ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ اسے ضروری قرار دیتے ہیں۔

5۔ ایسے جرائم پر مالی سزا دینا جن میں حد نہیں اور نہ ہی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے تاوان اور جرمانہ کے متعلق کچھ وضاحت فرمائی۔

6۔ اگر کوئی جماعت کسی ایک آدمی کو قتل کر دے تو اس کے قصاص میں پوری جماعت کا قتل کیا جانا۔

7۔ مرض الموت میں جو خاوند اپنی بیوی کو محض اپنے ورثہ سے محروم کرنے کے لیے طلاق دے۔ طلاق کے بعد بھی اس کو خاوند کے ورثہ میں سے حصہ دلوانا۔

8۔ ایسے امام کی بیعت کرنا جو علومِ شرعیہ کی روشنی میں فتویٰ دینے سے قاصر ہو، جبکہ ایسا آدمی میسر نہ ہو جس میں امامت کی تمام شرائط موجود ہوں۔

9۔ اسی طرح منصبِ قضاء سب سے افضل ترین شخص کا حق ہے، لیکن اگر اس کی کامل اہمیت رکھنے والا شخص موجود نہ ہو تو کسی دوسرے کمتر شخص کو اس منصب پر مقرر کرنا۔۔۔کیونکہ امت کو شتر بے مہار کی طرح تو نہیں چھوڑا جا سکتا، ورنہ برائی کثرت سے پھیلے گی اور شر و فساد و فتنہ عام ہو جائے گا۔

یہ وہ مثالیں ہیں جن میں سے اکثر کا ذکر علامہ شاطبی نے تفصیل سے کیا ہے۔۔آئندہ نشست میں ہم ان کے علاوہ کچھ اور مثالوں کا تذکرہ کریں گے۔۔ان شاءاللہ (جاری ہے)